14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsفہم القرآن

Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

” ان لوگوں کی مثال جو اپنے رب کے منکر ہوئے، ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے آندھی کے دن تیز ہوا نے اڑا دیا ہو۔ اور وہ اپنے کیے میں سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے جو انہوں نے کمایا، یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔ “ (18)

فہم القرآن ربط کلام : ظالموں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہوگا۔ مشرک اور کافر دنیا میں جو نیک عمل کرتے رہے کفر و شرک کی وجہ سے ان کی حیثیت راکھ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ کفر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی ذات اور صفات کا انکار کرنا۔ یہ ایسا گناہ اور جرم ہے کہ اگر اس کا مرتکب شخص کوئی اور گناہ نہ بھی کرے تو کفر و شرک سے بڑا گناہ اور گمراہی کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا انکار کرنے والے کچھ لوگ انسانی اقدار کے اعتبار سے شریف النفس اور دنیا میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے عظیم کار نامے سرانجام دیتے ہیں۔ خلق خدا ان کے کار ناموں سے صدیوں تک فائدہ اٹھاتی ہے۔ دنیوی اعتبار سے یہ بےمثال اور بھلے کام ہوتے ہیں چونکہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے منکر ہوتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لیے عدل اور عقل و انصاف کا تقاضا ہے کہ انہیں قیامت کے دن کچھ صلہ نہ دیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عادل اور مہربان ہے۔ اس لیے آخرت کے منکروں کو دنیا میں اچھی شہرت، وسائل واسباب کی فراوانی اور کئی مشکلات سے بچاؤ کی صورت میں صلہ دیتا ہے۔ کیونکہ یہ کفر جیسے سنگین گناہ اور جرم میں ملوث تھے۔ اس لیے آخرت کے حوالے سے ان کے اچھے اعمال کی حیثیت راکھ کے ڈھیر کی مانند ہوگی۔ جس طرح آگ کسی چیز کے وجود کو جلا کر راکھ بنا دیتی ہے اور اس راکھ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بیشک وہ کتنا بڑا ڈھیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہی حالت قیامت کے دن کفار کے اچھے اعمال اور کار ناموں کی ہوگی۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّہٗ لَیَأْتِی الرَّجُلُ الْعَظِیْمُ السَّمِیْنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لاَ یَزِنُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ وَقَالَ اقْرَءُ وْا (فَلاَ نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا )[ رواہ البخاری کتاب التفسیر، باب قولہ أولئک الذین حبطت أعمالہم فی الحیاۃ الدنیا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک موٹا تازہ آدمی لایا جائے گا۔ اس کا وزن اللہ کے نزدیک مچھرکے پر کے برابر بھی نہ ہوگا اور آپ نے فرمایا پڑھو (فَلاَ نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) ” ہم قیامت کے دن ان کے لیے ترازو قائم نہیں کریں گے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِیْ خَطِیْٓءَتِی یَوْمَ الدِّیْنِ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب الدلیل علی أن من مات علی الکفر لاینفعہ عمل ] ” حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اے اللہ کے رسول ! ابن جدعان زمانۂ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ چیز اسے نفع دے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کام اسے نفع نہیں دیں گے کیونکہ کبھی اس نے یہ نہیں کہا اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف کردینا۔ “ مسائل 1۔ کفار کے اعمال غارت جائیں گے۔ 2۔ کفار کو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کے اعمال غارت کردیے جائیں گے : 1۔ کفار کے اعمال اس طرح غارت ہوجائیں گے جیسے تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے (ابراہیم : 18) 2۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال تباہ کردیے گئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبۃ : 17) 3۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں تباہ و برباد کردیے گئے۔ (التوبۃ : 69) 4۔ جو لوگ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر ہیں ان کے اعمال ضائع ہوں گے۔ (الکھف : 105) 5۔ جو لوگ ہماری آیات کی اور آخرت میں ملاقات کی تکذیب کرتے ہیں ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ (الاعراف : 147) 6۔ ایمان نہ لانے والے کے اعمال غارت جائیں گے اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (المائدۃ : 5)
Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

” کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ یقیناً اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔ “ (19) ”

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں ہے۔ “ (20)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کے اعمال کی حیثیت اور انجام بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا اظہار کرتا ہے۔ عربی زبان میں ” تَرٰی “ کا معنی صرف ” دیکھنا “ نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ غور کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اکثر اہل علم نے ” اَلَمْ تَرَ “ کا معنی ” اَلَمْ تَعْلَمْ “ یعنی کیا ہے۔ کہ کیا آپ نہیں جانتے یا تو نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے حق کے ساتھ پیدا کرنے کے دو مفہوم ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بلاوجہ اور بےمقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ زمین و آسمان اور ان میں بیشمار مخلوق کو پیدا فرما کر انہیں وسیع ترین نظام کے ساتھ مربوط کردیا ہے۔ جو اپنے اپنے مقام پر اللہ تعالیٰ کی تفویض کردہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے ساتھ اس کی حمدوثنا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ 2۔ دوسرا مفہوم یہ ہے جس قادر مطلق نے زمین و آسمان کو وجود بخشا اور اس لامحدود نظام کو کنٹرول کر رکھا ہے اے انسان ! تجھے غور کرنا چاہیے کہ اس لامحدود نظام کے اندر تیری بغاوت کی کیا حیثیت ہے ؟ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تیرے وجود کو ناپید کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے۔ کیونکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے مقابلے میں تمہیں ختم کر کے دوسری نسل یا مخلوق پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک معمولی بات ہے۔ سورة یٰس میں ارشاد فرمایا : (أَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلآی أَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ بَلٰی وَہُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ ۔إِنَّمَآ أَمْرُہٗٓ إِذَآ أَرَادَ شَیْءًا أَنْ یَّقُولَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ )[ یٰس : 81] ” بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو ویسے ہی پیدا کردے کیوں نہیں ! وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ مَالاً فَقَالَ لِبَنِیْہِ لَمَّا حُضِرَ أَیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّیْ لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ ، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُوْنِیْ ثُمَّ اسْحَقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّونِیْ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوْا، فَجَمَعَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہٖ )[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ] ” حضرت ابو سعید ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مال کی فراوانی عطا کی تھی۔ جب اس کا آخری وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ہوں ؟ انہوں نے کہا بہترین ! اس نے کہا کہ میں نے کبھی نیک عمل نہیں کیا۔ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا کر میری راکھ ہواؤں میں اڑا دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ زندہ کر کے دریافت فرمایا۔ تجھے ایسا کرنے پر کس بات نے ابھارا تھا ؟ وہ کہنے لگا آپ کے ڈر نے ! اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت میں لے لیا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ساری مخلوق تباہ کر دے اور نئی مخلوق کو بسا دے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز پیدا کرنا مشکل نہیں : 1۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے۔ یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (ابراہیم : 19۔ 20) 2۔ اگر اللہ چاہے تو تم کو فنا کر کے دوسری مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے مشکل نہ ہے۔ (فاطر : 16۔ 17) 3۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ (انساء : 123) 4۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے لے آئے۔ (الانعام : 133) 5۔ اے ایمان والو ! اگر تم دین سے مرتد ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہارے جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ (المائدۃ : 54)
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

” اور وہ سب کے سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، کمزور لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ یقیناً ہم تمہارے تابع تھے، کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ کام آسکتے ہو ؟ بڑے کہیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم ضرور تمہاری راہنمائی کرتے، ہم پر برابر ہے کہ ہم جزع فزع یا صبر کریں، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔ “ (21)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح زمین و آسمانوں اور انسانوں کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا ہے اسی طرح دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا جس کے لیے لفظ ” بَرَزُوْا “ استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے پردے سے نکلنا۔ پردے سے مراد عالم برزخ ہے جسے عرف عام میں قبر کی زندگی کہا جاتا ہے۔ قیامت کے پہلے مرحلہ میں ساری مخلوق موت کے گھاٹ اتار دی جائے گی۔ یہاں تک کہ زمین و آسمان بھی ختم کردیے جائیں گے۔ پھر ایک خاص مدت کے بعداللہ تعالیٰ اسرافیل کو پیدا کر کے اسے صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ جب اسرافیل صور پھونکے گا تو انسان اور ہر جاندار زندہ ہو کر اپنے اپنے مقام سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے۔ جس کی تفصیل احادیث کی کتب میں موجود ہے اس کے بعد حساب و کتاب ہوگا۔ جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ جب جہنمی جہنم میں اکٹھے ہوں گے تو مرید گمراہ پیروں، ور کر اپنے لیڈروں اور کار کن اپنے رہنماؤں سے پوچھیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تمہاری وجہ سے گمراہ ہوئے۔ اب بتاؤ کہ عذاب سے چھٹکارا پانے کی کوئی صورت ہے ؟ گمراہ پیر اور رہنما انتہائی درماندگی اور ذلت کے لہجہ میں جواب دیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم ضرور تمہاری رہنمائی کرتے۔ آج ہم اسی طرح لاچار اور مجبور ہیں جس طرح تم لاچار اور مجبور ہو۔ لہٰذا ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم جزع وفزع کریں یا صبر کریں۔ جہنم سے نکلنے کے لیے ہمارے لیے کوئی راستہ اور طریقہ نہیں ہے۔ جہاں تک رہنماؤں کا یہ کہنا ہے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہاری ضرور رہنمائی کرتے۔ یہ بھی ان کا مجرمانہ جواب اور جھوٹ ہوگا۔ ورنہ اگر وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی توفیق مانگتے تو انہیں ضرور ہدایت نصیب ہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم تک ہدایت پہنچانے کا وعدہ اور بندوبست کر رکھا ہے۔ اس نے یہ وعدہ انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے سچے متبعین کے ذریعے پورا کردیا ہے۔ جہنم میں داخل ہونے والے لیڈروں اور مذہبی پیشواؤں نے اپنی ذات اور مفاد کے لیے گمراہی اختیار کی اور اسی سبب اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں کو گمراہ کیا تھا۔ ایک وقت آئے گا جس کا جہنم میں برملا اعتراف کریں گے۔ جہاں تک ور کروں اور عقیدت مندوں کا تعلق ہے ان کا عذر قیامت کے دن اس لیے قبول نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و شعور بخشا تھا جس سے ہدایت اور گمراہی، غلط اور صحیح رہنماؤں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرسکتے تھے۔ مذہی لوگوں نے اندھی تقلید اور ور کروں نے ذاتی اور پارٹی مفادات کی خاطر غلط رہنماؤں کی پیروی کی تھی جس کی وجہ سے ان کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ مسائل 1۔ سبھی لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے۔ 2۔ جہنم میں جہنمیوں کا چیخنا چلانا اور صبر کرنا کسی کام نہ آئے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی، گمراہ پیر اپنے مریدوں اور لیڈر اپنے کارکنوں کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ تفسیر بالقرآن شیطان کی عبادت کرنے والوں کا انجام : 1۔ جہنم میں مرید، پیروں، ور کر، لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ دور کرسکتے ہو۔ (ابراہیم : 21) 2۔ وہ کہیں گے ہمارا چیخنا چلانا اور صبر کرنا برابر ہے۔ (ابراہیم : 21) 3۔ جہنم میں چھوٹے، بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم ہمارے عذاب سے کچھ کم کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے ہم سب جہنم میں رہیں گے۔ (المومن : 47۔ 48) 4۔ جب پہلے لوگوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : 38) 5۔ مجرم اپنے اہل و عیال کو پیش کریں گے تاکہ ہماری نجات ہوجائے۔ (المعارج : 11 تا 3)
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

” اور جب پورے کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا بیشک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا سچا وعدہ ہوا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی زور نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تم کو بلایا تم نے میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو، یقیناً میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا۔ یقیناً جو لوگ ظالم ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جمع ہو کر شیطان کے پاس جانا۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق سے معلوم ہو رہا ہے کہ چھوٹے بڑے جہنمی آپس میں بحث و تکرار اور جھگڑنے کے بعد شیطان اکبر کے پاس جائیں گے۔ اس کے سامنے آہ وزاریاں کرتے ہوئے فریادیں کریں گے کہ ہم سب تیری وجہ سے گمراہ ہوئے اور جہنم میں پہنچے۔ تو دنیا میں ہمیں بڑی امیدیں دلایا کرتا اور ہمارے دلوں میں جھوٹی تسلیاں پیدا کرتا تھا، اب بتا کہ ہمارے لیے جہنم سے نکلنے کا کوئی راستہ ہوسکتا ہے اس حال میں تو ہماری کیا مدد کرسکتا ہے ؟ شیطان اکبر سب سے زیادہ اذیتوں اور عذاب میں مبتلا ہوگا۔ وہ ان سے بھی زیادہ درماندگی اور ذلت و رسوائی کے لہجے میں جواب دے گا کہ میں اپنے اور تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اللہ احکم الحاکمین نے حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے لیے جنت اور جہنمیوں کے لیے جہنم کا جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور اسے سچ کر دکھایا۔ جہاں تک میرے وعدے اور امیدیں دلانے کا تعلق ہے وہ امیدیں فریب تھیں اور میرے وعدے سب جھوٹے تھے۔ یہ سنتے ہی جہنمی اس پر پھٹکار کریں گے جب جہنمی اس پر لعنتیں بھیجیں گے تو وہ یہ کہتے ہوئے ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا کہ میں نے تمہارا ہاتھ کھینچ کر یا کسی جبر کے ذریعے اپنے پیچھے نہیں لگایا تھا۔ میں تمہارے دل میں برے خیالات، جھوٹی امیدیں اور تسلیاں پیدا کرتا تھا۔ تم نے یقین کیا اور ان کے پیچھے لگے لہٰذا آج مجھے ملامت کرنے کی بجائے اپنے آپ کو لعن طعن اور ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں اور نہ تم میرے کام آسکتے ہو۔ دنیا میں میرے وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے جو تم مجھے اللہ کا شریک بناتے اور میری پیروی کرتے رہے اس کا میں آج کھلم کھلا انکار کرتا ہوں۔ اس گفتگو کے دوران ملائیکہ ان پر لعنتیں برسائیں گے۔ اعلان ہوگا کہ ظالموں کے لیے اذیت ناک عذاب ہے۔ جہنم میں شیطان اکبر اپنی براءت کا اظہار کرتے ہوئے جہنمیوں کے شرک کو اپنی طرف منسوب کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کفر و شرک کرنے والے بظاہر جس کسی کے سامنے جھکیں یا سجدہ کریں اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں ان کا ایسا کرنا شیطان کے حکم اور وسوسہ کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے سوابظاہر کسی کی بھی عبادت کی جائے درحقیقت وہ شیطان کی عبادت ہوتی ہے۔ اس لیے قیامت کے دن ایک موقع ایسا بھی آئے گا جب اللہ تعالیٰ مجرموں کو الگ کر کے خطاب فرمائیں گے کہ اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے مگر شیطان نے تم میں بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ تم نے کچھ بھی عقل سے کام نہ لیا۔ لہٰذا یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ اپنے کفر کی وجہ سے اس میں داخل ہوجاؤ۔ ( یٰس : 59 تا 64) مسائل 1۔ قیامت کے دن شیطان اللہ تعالیٰ کے وعدے کو سچا قرار دے گا۔ 2۔ شیطان کے وعدے جھوٹے ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن شیطان شرک اور اپنی شرارتوں سے صاف انکار کرے گا۔ 4۔ ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

” اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وہ ایسے با غوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، اس میں ان کا آپس کا تحفہ سلام ہوگا۔ “ (23)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے بعد جنتیوں کے مرتبہ و مقام کا تذکرہ۔ قرآن مجید کا کتنا مؤثر اور دلکش انداز ہے کہ جب کفار کا ذکر کرتا ہے تو ان کے ساتھ جنتیوں کے اوصاف کا بیان ہوتا ہے۔ جنت کے ذکر کے بعد جہنم کا بیان اور جہنم کے بیان کے بعد جنت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اسی دلربا اسلوب کے پیش نظر جہنمیوں کے ذکر کے بعد جنتیوں کا تذکرہ شروع ہوا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے انہیں ایسے باغوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ اپنے رب کے حکم سے ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ وہاں ان پر ہر طرف سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی۔ وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دیں گے ” تحیّۃ “ کا معنی ہے بہترین ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرنا۔ دنیا میں بھی یہ لوگ ایک دوسرے کی سلامتی اور خیر خواہی کے طالب تھے۔ کیونکہ انہیں حکم تھا کہ ایک دوسرے کو السلام علیکم کہا کریں خیر سگالی کے جذبات، عقیدۂ توحید اور نیک اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ صرف انہیں اپنی جنت میں داخل کرے گا بلکہ انہیں ہر قدم اور مقام پر چاروں طرف سے سلام اور سلامتی کی صدائیں اور پیغام آئیں گے۔ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؓ أَنَّ رَجُلاً جَآءَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ عَشْرٌ ثُمَّ جَآءَ آخَرُ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ عِشْرُوْنَ ثُمَّ جَآءَ آخَرُ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ ثَلاَ ثُوْنَ ) [ رواہ الترمذی : باب ماذکر فی فضل السلام ] ” حضرت عمران بن حصین ؓ کا بیان ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس نے السلام علیکم کہا۔ آپ نے فرمایا دس نیکیاں ہیں۔ پھر دوسرا آدمی آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا آپ ﷺ نے فرمایا اس کیلیے بیس نیکیاں ہیں پھر تیسرا آدمی آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا آپ ﷺ نے فرمایا اس کیلیے تیس نیکیاں ہیں۔ “ (عن أبیْ ہُرَیْرَۃَ قال قال رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَی صُورَتِہٖ طُولُہٗ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَہٗ قَالَ اذْہَبْ فَسَلِّمْ عَلٰٓی أُولَءِکَ النَّفَرِ وَہُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلاآءِکَۃِ جُلُوْسٌ فَاسْتَمِعْ مَا یُجِیْبُونَکَ فَإِنَّہَا تَحِیَّتُکَ وَتَحِیَّۃُ ذُرِّیَّتِکَ قَالَ فَذَہَبَ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ فَقَالُوْا السَّلاَمُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ قَالَ فَزَادُوہُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ قَالَ فَکُلُّ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُورَۃِ آدَمَ وَطُولُہٗ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ یَزَلِ الْخَلْقُ یَنْقُصُ بَعْدَہٗ حَتَّی الآنَ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَقْوَامٌ أَفْءِدَتُہُمْ مِثْلُ أَفْءِدَۃِ الطَّیْرِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر تخلیق فرمایا۔ ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی تخلیق سے فارغ ہوا تو حکم فرمایا : آدم اس جماعت کے پاس جاکر سلام کہو۔ وہ فرشتوں کی مجلس ہے۔ وہ جو جواب دیں اسے سنو، وہی جواب تیرا اور تیری اولاد کا ہوگا۔ جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے جاکرالسلام علیکم کہا تو انہوں نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ سے جواب دیا۔ نبی محترم ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ آپ فرماتے ہیں : جنت میں داخل ہونے والا ہر شخص آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت پر ہوگا اور ہر جنتی کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد انسانی قد میں مسلسل کمی ہوتی رہی یہاں تک کہ انسان کا قد اتنا رہ گیا۔ “ مسائل 1۔ صاحب ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ 2۔ جنت کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ 3۔ مومن جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ 4۔ جنتی با ہم ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔ تفسیر بالقرآن نیک لوگوں کے لیے موت کے بعد سلامتی ہی سلامتی ہے : 1۔ قیامت کے دن نیک لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے اس میں ان کی دعا سلام ہوگا۔ (ابراہیم : 23) 2۔ جب فرشتے نیک لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو۔ (النحل : 32) 3۔ حکم ہوگا کہ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ (ق : 34) 4۔ جنت کا دربان کہے گا تم پر سلامتی ہو۔ (الزمر : 73) 5۔ ان کے لیے اللہ کے ہاں سلامتی والا گھر ہے۔ (الانعام : 127)
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال بیان فرمائی ہے، جو ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں ہے۔ “ (24) ”

فہم القرآن ربط کلام : نیا خطاب۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت فرمائی ہے کہ اسے کوئی بات مثال دے کر سمجھائی جائے تو نہ صرف اسے سمجھ آجاتی ہے بلکہ وہ بات اسے زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہم ترین مسائل کو امثال کے ذریعے سمجھایا ہے۔ پہلے پارے میں دین اسلام کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی۔ بارش میں فوائد بھی ہیں اور کچھ نقصان کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ گویا کہ دین میں فوائد کے ساتھ قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔ (البقرۃ : 19) دین اسلام بارش کی طرح فائدہ مند چیز ہے لیکن جس طرح اچھی زمین بارش کا فائدہ اٹھا کر نباتات اگاتی ہے اور خراب زمین اس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتی یہی مثال دین اسلام کی ہے سعادت مند اور عقلمند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دنیا کے طالب اور لاپروا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ عقیدۂ توحید سمجھانے کے لیے مکھی کی مثال دی کہ اگر وہ کھانے سے کوئی چیز اٹھا کے لے جائے تو معبودان باطل اور ان کو مشکل کشا سمجھنے والے اس سے وہ چیز واپس نہیں لے سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدد مانگنے والے اور جن سے مدد طلب کی جاتی ہے دونوں ہی کمزور ہیں۔ (الحج : 73) شرکیہ عقیدہ کی کمزوری کو واضح کرنے کے لیے مکڑی کی مثال دی کہ جس طرح مکڑی مضبوط چھت کے نیچے اپنے لیے جالا بن کر اسے محفوظ سمجھتی ہے یہی مشرک کی حالت ہے کہ وہ قادر مطلق پر یقین کرنے کی بجائے کمزور سہارے تلاش کرتا ہے اور ان پر بھروسہ کرتا ہے۔ (العنکبوت : 41) حالانکہ وہ کسی وقت بھی سہارا نہیں بن سکتے۔ سورۃ ابراہیم کے اس مقام پر عقیدہ توحید کو ایک درخت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! کیا تم غور نہیں کرتے کہ کلمہ طیبہ کو اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ درخت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے سمجھاتا ہے کہ یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی جڑیں زمین میں جمی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان کی بلند یوں میں لہرا رہی ہیں۔ یہ درخت اپنے رب کے حکم سے ہر موسم میں پھل دے رہا ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جا رہی ہے تاکہ لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔ حقیقت ہے کہ ہر درخت کا ایک بیج ہوتا ہے بیشک وہ بیج کی شکل میں ہو یا جڑ کی صورت میں درخت اسی کی بنیاد پر زمین میں جڑ پکڑتا، فضا میں پھیلتا اور پھل دیتا ہے۔ جس طرح کا بیج ہوگا اسی طرح کا درخت اور اس کا پھل ہوگا۔ یہی انسان کے عقیدہ اور اس کے کردار کی مثال ہے۔ اگر عقیدہ باطل یا کمزور ہے تو اس کا کردار بھی گھناؤنا اور کمزور ہوگا۔ اگر عقیدہ توحید پر مبنی اور مضبوط ہے تو اس کے کردار اور گفتار میں نکھار اور پختگی ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کو ایک ایسے درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین میں پھیلی ہوئی اور مضبوط ہیں اگر اسے پانی نہ بھی مل سکے تو اس کی جڑیں زمین سے پانی جذب کر کے درخت کی ہر یالی کو سدا بہار رکھتے ہوئے اسے ہر موسم میں بار آور بناتی ہیں۔ اس کی شاخیں فضا میں ہر سو لہلہاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کا سایہ گھنا اور پھل میٹھا ہوتا ہے۔ یہی مثال عقیدۂ توحید کی ہے۔ جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے جس میں آدمی یہ اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی چیز دینے والا ہے اور نہ کوئی چیز لینے والا ہے۔ اسی بنیاد پر مواحد کے عقیدہ وعمل میں نکھار اور کمال ہوتا ہے۔ اس کے تعلقات میں اخلاص، معاملات میں نکھار، کردار میں عدل و انصاف، گفتار میں وقار اور اخلاق اعلیٰ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ حاکم ہے تو رعایا پروری کرے گا، مال دار ہے تو صدقہ و خیرات کرے گا، طاقتو رہے تو دوسرے کی مدد کرے گا، علم و لیاقت کا مالک ہے تو لوگوں کے لیے علم و معرفت کا ذریعہ بنے گا، رات کو اٹھے گا تو اپنی اور امت کی خیر مانگے گا، صبح کو گھر سے نکلے گا تو اپنوں بیگانوں کا بھلا کرے گا۔ گویا کہ جلوت وخلوت، رات اور دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں ہوگی جس میں یہ اپنے رب سے غافل اور اس کا ضمیر اپنے رب کے حضور جو ابدہی کے تصور سے خالی ہو۔ مصیبت آئے گی تو ثابت قدم رہے گا، نعمت چھن جائے تو صبر کرے گا۔ کچھ حاصل ہوگا تو اپنے رب کا شکر گزار ہوگا۔ مسائل 1۔ کلمہ طیبہ کی مثال پاکیزہ درخت کی سی ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں اونچائی میں ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی نصیحت کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔
Ayahs 14:25–26

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ اپنے رب کے حکم سے اپنا پھل ہر وقت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ “ (25)

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

” اور گندی بات کی مثال ایک گندے پودے کی طرح ہے، جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا گیا ہو، اس کے لیے کچھ بھی ٹھہرنا نہیں ہے۔ “ (26)

فہم القرآن ربط کلام : کلمہ طیبہ کے بعد کلمہ خبیثہ کی مثال۔ کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ ہے۔ جس طرح کلمہ طیبہ کے دنیاو آخرت میں فوائد وثمرات ہیں۔ اسی طرح دنیا اور آخرت میں کلمہ خبیثہ کے مضمرات اور نقصانات ہیں۔ اگر تعمق نگاہی کے ساتھ دیکھا جائے تو عقیدہ کا سب سے پہلا اثر انسان کی سوچ پر پڑتا ہے۔ اگر عقیدہ ٹھیک ہے تو اس کی سوچ مثبت اور ٹھیک ہوگی، اگر عقیدہ غلط ہے تو اس کی سوچ بھی منفی اور غلط ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں سوچ تبدیل ہوگی تو انسان تبدیل ہوگا۔ انسان تبدیل ہوگا تو پورا نظام تبدیل ہوگا۔ اس لیے دین سب سے زیادہ زورعقیدہ کی درستگی پر دیتا ہے، جسے قرآن و حدیث کی زبان میں ایمان کہا گیا ہے۔ ایمان کو درست رکھنے اور اس کو مضبوط کرنے کے لیے ارکان اسلام مقرر کیے گئے ہیں۔ ان کی ادائیگی سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ایمان کی مضبوطی سے کردار میں نکھار اور پختگی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کلمہ طیبہ کے ثمرات کے ذکر کے بعد کلمہ خبیثہ کی بات کی ہے۔ اگر عقیدہ باطل ہے تو سوچ بھی غلط اور باطل ہوگی، جب سوچ غلط ہوگی تو عمل لامحالہ غلط ہوگا۔ جس طرح اچھے بیج سے اچھا درخت اور اس سے میٹھا پھل حاصل ہوتا ہے، اسی طرح برے بیچ سے ناقص درخت پیدا ہوگا، اس کا پھل کڑوا اور بےفائدہ ہوگا، یہ ایسادرخت ہے جس کی نہ جڑیں مضبوط ہیں اور نہ ہی اس کا تنا۔ یہی باطل عقیدہ اور برے عمل کی مثال ہے۔ بیشک دیکھنے میں کتنا اچھا لگتا ہو، اس کا نتیجہ دنیا میں بھی برا ہوگا۔ آخرت میں تو ہر صورت اس کا انجام برا ہوگا۔ یہی اچھے اور برے عقیدہ کی مثال ہے۔ جیسے ایک پاکیزہ اور خبیثہ شجر کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ ذات کبریا کا خوف اور آخرت کا ڈر اٹھ جائے تو انسان درندہ بن جاتا ہے۔ ذات اقدس کی حیا نہ رہے تو انسان سے ہر برائی کی توقع ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید کھلے الفاظ میں بتلا رہا ہے کہ برائی کو قرار حاصل نہیں بشرطیکہ حق میں آگے بڑھنے کی ہمت ہو کیونکہ حق میں یہ خصوصیت ہے کہ اسے قرار اور ثبات ہے اور باطل میں یہ قوت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ (وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا )[ بنی اسرائیل : 81] ” اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ پر ایمان مضبوط ہے تو بڑی سے بڑی پریشانی میں بھی انسان دین اسلام پر قائم اور اپنے رب پر راضی رہے گا۔ اگر عقیدہ یعنی ایمان کمزور ہے تو چھوٹی سی آزمائش اور معمولی نقصان کے اندیشہ سے انسان دین کے اصول کو چھوڑ دے گا۔ جیسے قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے : ” اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کی طرف سپرد کردے اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو یقیناً اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا۔ تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔ “ (لقمان : 22) برے عمل اور بری سوچ کا برا نتیجہ : (وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَا شِءْتَ )[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء الباب الأخیر ] ” حضرت عبداللہ مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ لوگوں نے پہلے انبیاء کے کلام میں سے جو بھی پایا ہے ‘ اس میں یہ بات ہے کہ جب تجھ میں شرم نہیں تو جو چاہے کرتا رہ۔ “ مسائل 1۔ برے عقیدے کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کا پھل کڑوا ہے۔ 2۔ جس طرح زمین میں گہری جڑیں نہ رکھنے والا درخت قائم نہیں رہ سکتا، اسی طرح کمزور عقیدہ شخص آزمائش کے وقت دین پر قائم نہیں رہتا۔ تفسیر بالقرآن کفر و شرک کی مثال : 1۔ کفرو شرک کی مثال اس درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی اوپر کھڑا ہو۔ (ابراہیم : 26) 2۔ اے لوگو ! تمہارے لیے مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : 73) 3۔ کفار کے اعمال کی مثال تیز آندھی کی سی ہے جس طرح تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے ایسے ہی کفار کے اعمال غارت ہوجائیں گے۔ (ابراہیم : 18) 4۔ کفار کا حال تو اس شخص کا سا ہے جو ایسے جانور کے پیچھے چلا آرہا ہے جو پکارنے اور بلانے کے باوجود کچھ سنتا نہیں۔ (البقرۃ : 171) 5۔ حق کے فوائد ہمیشہ رہنے والے ہیں اور باطل مٹنے والا ہے۔ (الرعد : 17) 6۔ اس کی مثال کتے کی سی ہے اگر حملہ کرو تو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے اور اگر چھوڑدو پھر بھی وہی حالت۔ (الاعراف : 176)
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

” جو ایمان لائے اللہ ان کو پختہ بات کے ساتھ قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہے کرتا ہے۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : باطل عقیدہ کی بےثباتی اور اس کی ناپائیداری کا ذکر کرنے کے بعد عقیدہ توحید کا دنیا اور آخرت میں فائدہ ذکر فرمایا ہے۔ عقیدۂ توحید اپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور موت کے وقت بھی اس کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ عقیدۂ توحید کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر خالص ایمان لاتے ہوئے خوشی اور غمی، عسر اور یسر میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ اس کا دنیوی زندگی میں فائدہ یہ ہے کہ آدمی خوشی کے وقت اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتا اور غم کے وقت مایوسی کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کلمہ توحید کی وجہ سے مسلمان کو دنیا اور آخرت کی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ آخرت کی پہلی منزل انسان کی موت ہے، دوسری منزل قبر ہے جسے عالم برزخ کہا گیا ہے اور تیسری منزل محشر کے میدان میں جمع ہو کر رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے۔ کلمہ توحید کے تقاضے پورے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ان منازل میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور جو لوگ اس توحید خالص پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ گمراہی میں آگے بڑھنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس نے اس کو انسان کی مرضی پر چھوڑ رکھا ہے۔ عقیدہ کو صحیح طور پر نہ سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے نہ کرنے والا شخص کسی آزمائش میں پورا نہیں اترسکتا۔ عقیدۂ توحید کے دنیا اور آخرت میں فائدے : (إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَآءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ نَحْنُ أَوْلِیَآؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَحِیْمٍ )[ حٰم السجدۃ : 30 تا 32] ” یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے خوف اور غم محسوس نہ کرو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہوگا جو تمہارا جی چاہے گا اور جو چیز تم طلب کرو گے موجود پاؤ گے یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔ “ اچھے اور برے عقیدہ کا نتیجہ : (عَنِ الْبَرَآءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَانْتَہَیْنَا إِلَی الْقَبْرِ وَلَمَّا یُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ کَأَنَّ عَلٰی رُءُ وْسِنَا الطَّیْرَ وَفِیْ یَدِہٖ عُودٌ یَنْکُتُ بِہٖ فِی الأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ اسْتَعِیْذُوْا باللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثاً........ قَالَ فَتُعَادُ رُوحُہٗ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہٖ فَیَقُوْلاَنَ لَہٗ مَنْ رَّبُّکَ فَیَقُوْلُ رَبِّیَ اللّٰہُ فَیَقُوْلاَنِ لَہُ مَا دِیْنُکَ فَیَقُوْلُ دینِیَ الإِسْلاَمُ فَیَقُوْلاَنِ لَہُ مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ فَیَقُوْلُ ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَیَقُوْلاَنِ لَہٗ وَمَا عِلْمُکَ فَیَقُوْلُ قَرَأْتُ کِتَاب اللَّہِ فَآمَنْتُ بِہٖ وَصَدَّقْتُ فَیُنَادِیْ مُنَادٍ فِی السَّمَآءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَافْتَحُوْا لَہٗ بَاباً إِلَی الْجَنَّۃِ قَالَ فَیَأْتِیْہِ مِنْ رَّوْحِہَا وَطِیْبِہَا وَیُفْسَحُ لَہٗ فِیْ قَبْرِہِ مَدَّ بَصَرِہٖ قَالَ وَیَأْتِیْہِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الثِّیَابِ طَیِّبُ الرِّیْحِ فَیَقُولُ أَبْشِرْ بالَّذِیْ یَسُرُّکَ ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِیْ کُنْتَ تُوعَدُ فَیَقُوْلُ لَہٗ مَنْ أَنْتَ فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْٓءُ بالْخَیْرِ فَیَقُوْلُ أَنَا عَمَلُکَ الصَّالِحُ فَیَقُوْلُ رَبِّ أَقِمِ السَّاعَۃَ حَتّٰی أَرْجِعَ إِلآی أَہْلِیْ وَمَالِیْ )[ رواہ أحمد وہو حدیث صحیح ] ” حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے کے لیے نکلے۔ ہم قبرستان گئے تو ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کرید رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ دو مرتبہ فرمایا .......... اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ دو فرشتے آکر اسے بٹھا لیتے ہیں۔ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیر ادین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ آدمی کون ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتے اس سے کہتے ہیں تجھے کیسے علم ہوا ؟ وہ کہتا ہے میں نے اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں پڑھا، اس پر ایمان لایا۔ میں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر اعلان کرنے والا آسمان میں اعلان کرتا ہے۔ میرے بندے نے سچ کہا۔ تم اس کے لیے جنتی بستر بچھا دو ، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے دروازہ کھول دو ۔ راوی کہتے ہیں اس کے پاس جنت کی خوشبوئیں اور ہوائیں آتی ہیں۔ اس کی قبر کو اس کی حد نگاہ تک کشادہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے پاس ایک خوبصورت چہرے اور بہترینلباس والاآدمی آئے گا۔ وہ کہے گا تو اس چیز سے خوش ہوجاؤ جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ آدمی اس سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں ؟ آپ کا چہرہ تو ایسا ہے جو بھلائی لانے والا۔ پس وہ کہے گا میں تیرا نیک عمل ہوں۔ بندہ کہے گا اے میرے رب قیامت قائم کر دے۔ یہاں تک کہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال کی طرف لوٹ جاؤں۔ “ عقیدہ اور دین پر استقامت کی دعا : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ یَا وَلِیَ الإِْسْلَامِ وَأَہْلِہٖ ثَبِّتْنِیْ حَتّٰی أَلْقَاکَ )[ رواہ الطبرانی : فی الأوسط وہوحدیث صحیح ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے کہ اے سلامتی کے مالک اور اس کے اہل ! مجھے اسلام پر ثابت قدم رکھ۔ یہاں تک کہ تجھ سے آملوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومن اور کافر کا فرق : 1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ (السجدۃ : 18) 2۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہیں۔ (الحشر : 20) 3۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ (ابراہیم : 27) 4۔ فرشتے مومن کی روح قبض کرتے وقت سلام کہتے ہیں۔ (النحل : 32) 5۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ : 39) 6۔ کفار کی روح قبض کرتے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہیں۔ (الانفال : 50) 7۔ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے جنت میں جائیں گے۔ (البقرۃ : 82) 8۔ موت کے وقت فرشتے فاسق کو کہتے ہیں کہ آج تجھے عذاب دیا جائے گا۔ (الانعام : 93)
Ayahs 14:28–30

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

” کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جنہوں نے اللہ کی نعمت کو نا شکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ڈال دیا۔ “ (28) ”

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

وہ جہنم میں داخل ہوں گے، وہ برا ٹھکانہ ہے۔ “ (29) ”

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنا لیے، تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ فرما دیں کہ فائدہ اٹھا لو، پس یقینا تمہارا آگ کی طرف لوٹنا ہے۔ “ (30)

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید کو چھوڑنے والا نہ صرف گمراہ اور ظالم ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کو بدلنے کا جرم بھی کرتا ہے۔ عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عقیدہ کے ذریعے انسان کو اپنے سوا سب کی محتاجی اور در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچالیتا ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کو دینی اور دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ انسان کی خودی اور غیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو شخص اس عظیم عقیدہ کو چھوڑ کر شرک اختیار کرتا ہے۔ وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے کے ساتھ اپنی خودی بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اس شخص کے کردار اور زیادتی کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا آپ نے ایسے لوگوں کے بارے میں غور نہیں کیا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت یعنی عقیدۂ توحید کو کفر میں بدل ڈالا۔ نہ صرف خود گمراہ ہوئے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان اور قوم کو بھی ہلاکت کے گھر اتار دیا۔ ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے، ان کا ظلم یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنایا۔ ذاتی اور گروہی فائدے کی خاطر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے گمراہ کیا۔ اے نبی ﷺ ! ان سے فرمائیں دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھا لو، لیکن یاد رکھو آخر میں تمہیں جہنم میں جانا ہے۔ ند کی جمع انداد ہے جس سے مراد ہر وہ ذات یا چیز جسے اللہ تعالیٰ کا ساجھی یا اسے اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک سمجھا جائے۔ عقیدۂ توحید اختیار کرنا اور شرک کو چھوڑ دینا اللہ کا فضل ہے : ( إِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لاَّ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کَافِرُوْنَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِ یْٓ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ مَا کَانَ لَنَا أَنْ نُّشْرِکَ باللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ )[ یوسف : 37۔ 38] ” جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت کا انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں اور اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں ہمیں زیب نہیں دیتا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک بنائیں یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کَلِمَۃً وَقُلْتُ أُخْرٰی قَال النَّبِیُّ ﷺ مَنْ مَّاتَ وَہْوَ یَدْعُوْ مِنْ دُون اللّٰہِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ وَہْوَ لاَ یَدْعُو لِلَّہِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہٖ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُون اللَّہِ أَنْدَادًا )] ” حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بات ارشاد فرمائی اور میں نے دوسری بات کہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو فوت ہوگیا اس حال میں کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا رہاوہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں نے کہا جو بندہ اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ “ مسائل 1۔ عقیدۂ توحید سب سے بڑی نعمت ہے۔ 2۔ عقیدۂ توحید میں شرک کی آمیزش کرنا اس عظیم نعمت کو بدلنے کے مترادف ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو عیش پرستی کے لیے ڈھیل دیتا ہے۔ 5۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کی سزا : 1۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : 65) 2۔ اللہ مشرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا۔ (النساء : 48) 3۔ شرک کرنے والا راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ (النساء : 116) 4۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : 31) 5۔ شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72) 6۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (ابراہیم : 30) 7۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الزمہ ہے۔ (التوبۃ : 3)
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

” میرے بندوں سے فرمادیں جو ایمان لائے کہ نماز قائم کریں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور سرعام خرچ کریں، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تو کوئی خریدوفروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : توحید کے فوائد اور شرک کے نقصانات کا ذکر کرنے کے بعد توحید کے تقاضوں کا بیان ہے۔ مخلوق ہونے کے ناطے تمام انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں مگر جن لوگوں نے کفر و شرک اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے نکل کر شیطان کے بندے بن جاتے ہیں۔ قرآن مجید نے انہیں ” عبدالطاغوت “ قرار دیا ہے۔ ان کے مقابلے میں جنہوں نے عقیدۂ توحید اپنایا انہیں قرآن مجید آمنوا کے اعزاز سے نوازتا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے قرار دیتا ہے۔ جن کے بارے میں سرور دو عالم ﷺ کو ارشاد ہوا :” آپ انہیں فرمائیں کہ اے اللہ کے بندو ! توحید کا تقاضا ہے کہ پانچ وقت نماز قائم کرو جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا فرمایا اس میں پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتے رہو۔ تاآنکہ وہ دن آپہنچے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ کسی کی دوستی کام آئے گی۔ “ اس فرمان میں واضح اشارہ ہے کہ یقیناً توحید اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی کلید ہے مگر جو شخص جان بوجھ کر اس کے تقاضے پورے نہیں کرتا، جنہیں قرآن و حدیث میں ارکان اسلام کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ بیشک بالآخر جنت میں داخل ہوگا لیکن ارکان اسلام پورے نہ کرنے کی وجہ سے اسے جہنم میں جانا پڑے گا۔ نہ معلوم وہ کتنی مدت تک سزا بھگتتا رہے گا اس لیے ایمان یعنی عقیدۂ توحید کے بعد قرآن و حدیث میں بار بار اس بات پرزور دیا گیا ہے کہ ایمان لانے کے بعد انسان کو ارکان اسلام کی پاپندی کرنا ہوگی۔ یہاں ایمان کے بعد اسلام کے بنیادی ارکان میں سے نماز اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ نماز میں انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اور باجماعت نماز پڑھنے سے 27 گنا زیادہ ثواب پانے کے ساتھ اپنے بھائیوں کے قریب ہونے اور آپس کے حالات جاننے کا موقع ملتا ہے۔ نماز کے ساتھ زکوٰۃ انفاق فی سبیل اللہ کی لازمی صورت ہے اس سے صاحب ثروت حضرات کو حکم ہے کہ پانچ وقت مسجد میں اکٹھا ہونے والے ساتھیوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔ نماز کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ کا احساس اجا گر کرنے کے لیے فرمایا کہ اس دن کے آنے سے پہلے ان امورکا خیال رکھو، جس دن نہ لین دین ہوگا اور نہ مجرم کو کسی کا واسطہ اور دوستی کام آئے گی۔ (عن أُمَامَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ اتَّقُوا اللَّہَ رَبَّکُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ وَأَدُّوْا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ وَأَطِیْعُوْا ذَا أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ )[ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، الباب الأخیر وہو حدیث صحیح ] ” حضرت امامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر جاؤ جو تمہارا رب ہے۔ پانچ نمازیں پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، اپنے مالوں سے زکٰوۃ ادا کرو اور صاحب امر لوگوں کی اطاعت کرو۔ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ “ مسائل 1۔ ایمان والوں کو نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرنا چاہیے۔ 3۔ قیامت کے دن خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن دوستی کام آئے گی اور نہ رشوت چلے گی : 1۔ اس دن نہ دوستی کام آئے گی نہ لین دین ہوگا۔ (ابراہیم : 31) 2۔ قیامت کے دن سے ڈر جاؤ جس دن کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 48) 3۔ قیامت کے دن مجرم سونا بھر کر زمین دے، تب بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : 91) 4۔ مجرم خواہش کرے گا جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ دے کر عذاب سے بچ جائے۔ (المائدۃ : 36) 5۔ قیامت کے دن مجرم اپنے اہل و عیال بطور فدیہ پیش کرے گا۔ ( المعارج : 11 تا 13) 6۔ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو جس دن سفارش اور دوستی کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254)
Ayahs 14:32–34

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

” اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس کے ساتھ تمہارے لیے پھلوں میں سے رزق نکالا اور تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا، تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لیے دریاؤں کو مسخر کردیا۔ “ (32) ”

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کردیا جو پے در پے چلنے والے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر کردیا۔ “ (33) ”

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور تمہیں ہر چیز عطا کی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہیں کرسکو گے۔ یقیناً انسان ظالم اور نا شکرا ہے۔ “ (34)

فہم القرآن ربط کلام : جس اللہ کی عبادت اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو انسان کو صرف حکم دیتا کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میری عبادت کرو۔ اس نے حکم دینے کی بجائے اپنی ذات پر ایمان لانے اور اپنی عبادت کے استحقاق کے بیشمار دلائل دیے ہیں۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اے لوگو ! اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہارے کھانے پینے کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ بس اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ تم جانتے ہو زمین و آسمان کو بنانے اور تمہارے رزق کا بندوبست کرنے میں کوئی دوسرا اللہ کے ساتھ شامل نہیں ہے۔ (البقرۃ : 21) یہاں جسمانی اور مالی عبادت کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے آٹھ دلائل دیئے ہیں۔ 1۔ اللہ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا۔ 2۔ اللہ ہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔ 3۔ اللہ ہی پانی کے ساتھ مختلف قسم کے پھل پیدا کرتے ہوئے لوگوں کے لیے رزق مہیا کرتا ہے۔ 4۔ اللہ ہی نے جہازوں اور کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیا جو اس کے حکم سے سمندر میں رواں دواں ہیں۔ 5۔ اللہ ہی نے تمہارے لیے دریاؤں کو مسخر کیا۔ 6۔ اللہ ہی نے چاند اور سورج کو مسخر فرمایا جو تمہاری خدمت کرنے کے لیے لگاتار ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں۔ 7۔ اللہ ہی نے رات اور دن کو تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیا۔ رات آرام اور دن کام کاج کے لیے ہے۔ 8۔ اللہ ہی تمہیں عطا کرتا ہے جو تم اس سے مانگتے ہو۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی عنایات کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کرسکتے، ہر چیز مسخر کرنے اور سب کچھ عنایت کرنے کے باوجود انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک کرکے زیادتی اور اس کی ناشکری کرتے ہیں۔ قرآن مجید کئی مقامات پر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لیل ونہار، شمس وقمر، دریاؤں، کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ : (وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ )[ الجاثیۃ : 13] ” زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے اللہ نے اسے انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔ اس میں عبرت آموزی کے لیے بڑے دلائل ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔ “ تسخیر کائنات کے دلائل دینے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیس وتحمید بیان کرنے کے علاوہ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے، اے انسان ! تجھے زیادتی اور ناقدری کرنے کی بجائے اپنے خالق ومالک کا تابع فرمان ہونا اور اس کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے مگر انسانوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ وہ بغاوت اور سرکشی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ کچھ ان میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرتے ہیں اور کچھ اس کی ذات اور صفات میں غیروں کو شریک کرتے ہیں، جو پرلے درجے کا ظلم اور ناقدری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ناقدری کا یوں شکوہ کیا ہے۔ (وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَالْأَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌمبِیَمِینِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ )[ الزمر : 67] ” لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں جانی، جس طرح قدر کرنے کا حق تھا حالانکہ قیامت کے دن زمین و آسمان اس کی مٹھی میں ہوں گے، وہ پاک اور بالا تر ہے ان سے جن کو لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ 2۔ آسمانوں سے اللہ تعالیٰ پانی نازل فرماتا ہے۔ 3۔ پانی سے پھل پیدا کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 4۔ کشتیاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسخر ہیں۔ ٍٍ 5۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نہروں کو مسخر کردیا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے سورج، چاند، دن اور رات کو مسخر کیا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ ہی عطا کرنے والا ہے۔ 8۔ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتا۔ 9۔ انسان اللہ تعالیٰ کی نا شکری کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن تسخیر کائنات : 1۔ اللہ نے کشتیوں، نہروں، چاند، سورج، دن اور رات کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ (ابراہیم : 32۔ 33) 2۔ اللہ نے تمہارے لیے رات اور دن، چاند اور سورج کو مسخر کردیا ہے۔ (النحل : 12) 3۔ اللہ نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کردیا تاکہ تم تازہ گوشت حاصل کرسکو۔ (النحل : 14) 4۔ اللہ نے تمہارے لیے چاند اور سورج کو مسخر کردیا ہے ہر ایک اپنے وقت پر آتا ہے۔ (لقمان : 29) 5۔ اللہ عرش پر مستوی ہے اور اس نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ (الرعد : 2) 6۔ اللہ نے سورج اور چاند کو مسخر فرمایا ہے دونوں اپنے وقت مقررہ میں چلتے ہیں۔ (الزمر : 5) 7۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے دریاؤں کو مسخر کردیا تاکہ اس میں اللہ کے حکم سے کشتیاں رواں دواں ہوں۔ (الجاثیۃ : 12) 8۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہے مسخر کردیا ہے۔ (الحج : 65) 9۔ اللہ نے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے مسخر کردیا ہے۔ (الجاثیۃ : 13)