19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsفہم القرآن

Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

” اور عیسیٰ نے کہا تھا۔ اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ پس تم اس کی ہی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو کسی نے جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی کسی نے اس سے جنم لیا ہے۔ وہ تو پوری مخلوق کا خالق ومالک اور بادشاہ ہے۔ اس بنا پر اس کا فرمان ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو۔ حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت اور حقیقت بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قدرت کے بارے میں بتلایا ہے کہ اسے کسی کو بیٹا یا شریک بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ قادر مطلق ہے اس کا صرف حکم چلتا ہے۔ اس کی ذات کسی حوالے سے بھی کسی کی محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ ” اللہ “ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ صرف اسی ایک کی عبادت کرنی چاہیے یہی صحیح عقیدہ اور صراط مستقیم ہے۔ یاد رہے ” رَبّ “ کا معنٰی ہے، ہر چیز کو پیدا کرنے والا، ہر ذی روح کو روزی پہنچانے والا، اور زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک، بادشادہ اور ہر چیز پر ہر اعتبار سے مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ایک ہی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔ یاد رہے کہ وہ میرا اور تمہارا باپ نہیں کہتے تھے جس طرح انجیل میں ان کی طرف بار بار اللہ تعالیٰ کے بارے میں باپ کے الفاظ منسوب کیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ میرا اور تمہارے رب کے مقدس اور واضح الفاظ استعمال فرماتے تاکہ لوگوں کو عیسیٰ اور ان کی والدہ کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہ پیدا ہو۔ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور صرف اسی ایک کی عبادت کرنا صراط مستقیم ہے۔ پرانے عہد نامہ کی کتاب استثناء میں مرقوم ہے قوم اسرائیل کا مشہور کلمہ شمع (Shama) (عربی : اسمع) اپنے مفہوم کے اعتبار سے اسلام کے کلمۂ شہادت اور قرآن مجید کی سورة اخلاص کی پہلی آیت سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ خصوصًا اپنے عربی و عبرانی متن میں اس کے الفاظ مبارک اس آیت کی باز گشت ہیں ملاحظہ فرمائیے : عربی : اِسْمَعْ یَااِسْرَاءِیْلُ اِن الرَّبَ اِلٰہُنَا رَبَّ وَاحِدٍ عبرانی :Shama Yisrael Adonoielohem.Adonoiehod شمع یاسرائیل ادونائی الوھیم ادونائی احاد [ بائبل عبرانی واردو، کتاب استثناء 6: 4۔ الکتاب المقدس عربی 0 اط۔ بیروت 1899 ء) پرانے اور نئے عہد نامہ کی وضاحت کے لیے دیکھئے باب ہفتم۔] ” سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا ایک ہی خدا ہے۔ “ کتاب استثناء میں دوسری جگہ ہے : ” خدا وند ہی خدا ہے اور اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ “ [ استثناء : 4، 35] پرانے عہد نامہ میں ہے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی دعا میں یہ الفاظ موجود ہیں : ” تو ہی واحد خدا ہے۔ “ [ زبور : 86: 10] عہد نامہ قدیم میں ایک اور جگہ لکھا ہے : ” خدا وند فرماتا ہے میں ہی خدا ہوں مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہے اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔۔ “ [ یسعیاہ : 43: 10، 12] یعنی اوّل وآخر اس کی ذات ہے۔ نیز فرمایا :” میں خدا وند سب کا خالق ہوں، میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے اور زمین کو بچھانے والا ہوں، کون میرا شریک ہے۔ “ [ یسعیاہ : 44: 24] برناباس۔ باب 11 میں ہے : تو اس خدا کی عبادت کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے اور وہی تجھے صحت عطا کرے گا کیونکہ میں ویسا ہی ایک انسان ہوں جیسا تو ہے۔ اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلّل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے کہ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو نا صرف زبان سے اقرار کرے بلکہ اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے رہا ہو کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے۔ دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ یہ میرا مال ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ تفسیر بالقرآن صراط مستقیم : 1۔ کیا صراط مستقیم پر چلنے والا اور نہ چلنے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ (النحل : 76) 2۔ جس شخص نے اللہ کی رسی کو پکڑلیا اس نے صراط مستقیم کی رہنمائی پالی۔ (آل عمران : 101) 3۔ صراط مستقیم یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ (آل عمران : 51) 4۔ اللہ واحد کی عبادت کرنے والا ہی صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس : 61)
Ayahs 19:37–40

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

” پھر کچھ گروہ آپس میں اختلاف کرنے لگے پس جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے بربادی ہوگی۔ وہ بڑے دن کا سامنا کریں گے۔ (37)

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ اس دن ان کے کان خوب سن رہے ہوں گے اور ان کی آنکھیں بھی اچھی طرح دیکھ رہی ہوں گی مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (38)

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اے نبی انہیں اس دن سے ڈراؤ۔ جب ان کے اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس حالت میں جب کہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لا رہے اور اس دن پچھتاوے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔ (39)

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

آخر کار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے۔ “ (40)

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت واضح ہونے کے باوجود عیسائی اور یہودی اختلاف کرتے ہیں۔ عیسائیوں، یہودیوں اور حق کا انکار کرنے والوں کا انجام۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات، کردار اور عقیدہ کے بارے میں علمی، عقلی اور تاریخی حقائق کے حوالے سے کھول کر بیان کیا ہے کہ مریم [ کے ماں باپ کون اور کس قدر صالح کردار لوگ تھے۔ حضرت مریم [ کی پیدائش، ان کی تربیت، ان کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی ذات کے بارے میں وضاحت کرنے کے ساتھ، اپنا عقیدہ بتلا تے ہوئے لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی دعوت دینا، اس کے باوجود عیسائی اور یہودی ان کی ذات اور عقیدہ کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ لوگ حقائق کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان کے لیے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ حقائق کے منکر آج سچ سننے اور اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن جس دن اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو اس دن سب کچھ دیکھ لیں گے اور ہر بات اچھی طرح سنیں گے۔ انھیں پتہ چل جائے گا اور پوری طرح یقین ہوجائے گا۔ کہ آج کے دن تباہی ہی تباہی ہے۔ اے پیغمبر ! ان کے انکار کے باوجود انھیں اس دن کے حسرت و نقصان سے ڈرائیے کیونکہ وہ اپنی غفلت کی وجہ سے آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ انھیں اس حقیقت سے بھی آگاہ فرمائیے کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم ہی اس کے حقیقی وارث ہیں لہٰذا کوئی ایمان لائے یا نہ لائے سب نے ہماری بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ وَیَطْوِی السَّمَاءَ بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ ) [ رواہ البخاری : باب یقبض اللّٰہ الارض ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے گا اور آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں آج زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔ ؟ “ مسائل 1۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ 2۔ قیامت کے دن کفار کے لیے ِ حسرت بربادی ہوگی۔ 3۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا حقیقی اور دائمی وارث صرف ” اللہ “ ہے۔ 5۔ زمین اور اس کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ 6۔ ہر کسی کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی وارث ہے : 1۔ زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : 89) 2۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم اس کے وارث ہیں اور وہ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : 40) 3۔ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے زمین میں خلیفہ بناتا ہے۔ (الانعام : 133)
Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

” اور اس کتاب میں ابراہیم کا واقعہ بیان کیجیے یقیناً وہ سچے نبی تھے۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : تین شخصیات میں قدر مشترک یہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولاد پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکے تھے۔ حضرت مریم [ کا معاملہ سب کے سامنے ہے کہ وہ کنواری تھیں انہیں بیٹا پیدا ہونے کا تصور بھی نہیں آسکتا تھا۔ اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور مریم [ کے تذکرہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت، ان کی بےمثال قربانیاں اور عظیم جدوجہد کا تذکرہ کرنے سے پہلے انھیں صدیق کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ نبی تمام کے تمام صدیق ہوتے ہیں مگر ابراہیم (علیہ السلام) کی صداقت سب سے اونچے مقام پر ہے۔ کیونکہ ہر نبی کسی ایک خوبی میں دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) سے ممتازہوا کرتا تھا۔ جس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے، کہ یہ رسول ہیں جنہیں ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت دی البقرۃ : 253۔ صدیق کے کئی معانی ہیں جن میں امتیازی معنٰی یہ ہے کہ قول و فعل میں یکسانیت ہونے کے ساتھ اس کے دل میں اپنے عقیدہ اور مشن کے بارے میں کسی لچک کا خیال نہ آئے۔ قول و فعل کی یکسانیت کے ساتھ دل کی صداقت کا یہ منفرد مقام ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بدرجہ اتم سرفراز فرمایا تھا۔ شاید اس لیے بھی انھیں صدیق کا لقب عطا کیا گیا کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی میں تین باتیں ایسی کہی تھیں جن کا مفہوم بظاہر الفاظ کے کچھ خلاف دکھائی دیتا ہے اس بنا پر بالواسطہ تردید کی گئی ہے۔ امت کے اکثر اہل علم نے اس روایت کے ان الفاظ کو تعریض اور توریہ پر محمول کیا تاکہ حدیث کی اسناد پر اعتماد بحال رہے اور قرآن و سنت میں تعارض پیدا کیے بغیر خلیل خدا کی صداقت پر آنچ نہ آنے پائے بلکہ اس روایت سے بھی ان کی تائید و تصدیق ہوجائے۔ بعض علماء نے ان الفاظ ” لَمْ یَکْذِبْ اَبْرَاہِیْمُ اِلَّا ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ “ کی حقیقی معنوں میں لیا ہے اور پھر اس کی وضاحت فرمائی ہے جو کہ عنقریب آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ چند علماء ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو جھوٹا کہنے کی بجائے راوی کو جھوٹا کہنا زیادہ آسان اور بہتر ہے۔ ظاہر ہے تمام علماء نے نیک نیتی اور حضرت خلیل کی صداقت کی خاطر یہ انداز اختیار فرمایا ہے نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق اجتہاد کرنے والے کو دو میں سے ایک ثواب ضرور مل جائے گا۔ بشرطیکہ نیک نیتی سے یہ کام کیا گیا ہو۔ قرآن مجید کا حضرت خلیل (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر تفصیلی روشنی ڈالنے کا منشا یہ ہے کہ اہل عرب بالعموم اور قریش بالخصوص حضرت والا کی ذات بابرکات کے ساتھ اپنا تعلق بڑے فخریہ انداز میں بیان کرتے اور انکے متبع ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کرتے کہ صرف ہم ہی ملت حنیف کے فدائی اور شیدائی ہیں۔ مشرکین عرب کے علاوہ یہود و نصاری بھی اپنی اپنی جگہ ان کو اپنا پیشوا گردانتے اور مانتے ہیں۔ (قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْامِلَّۃَاِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًاوَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) [ آل عمران : 95] ” آپ اعلان فرما دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے۔ آپ یکسو ہو کر عبادت کرنے والے ابراہیم کے طریقہ کی اتباع کرتے جائیں۔ ابراہیم شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔ “ (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاوَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) [ آل عمران : 67] ” ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک سو مسلمان تھے اور نہ ہی وہ مشرکین میں سے تھے۔ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صدیقیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ لوگوں کے سامنے بیان کرنا لازم ہے تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ قرآن مجید میں (63) مرتبہ ہوا ہے۔ 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے۔ (مریم : 58) 2۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے سے ہی ہدایت نواز رکھا تھا۔ (الانبیاء : 51) 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اکیلے ہی ایک جماعت تھے۔ (النحل : 120) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور متحمل مزاج تھے۔ (التوبۃ : 114) 5۔ یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) بڑے متحمل مزاج، نرم دل اور اللہ تعالیٰ کی رجوع کرنے والے تھے۔ (ھود : 75) 6۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) امت محمدیہ کے مقتدیٰ ہیں۔ (آل عمران : 95)
Ayahs 19:42–45

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

” جب اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اے ابا جان آپ کیوں ان چیزوں کی عبات کرتے ہیں ؟ جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کوئی کام آسکتی ہیں (42)

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے ابا جان میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ آپ میرے پیچھے چلیں میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ (43)

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے ابا جان آپ شیطان کی بندگی نہ کریں شیطان تو رحمان کا نافرمان ہے۔ (44)

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے ابا جان مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو رحمان کا عذاب آپہنچے اور آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔ “ (45)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعوت کا آغاز اپنے گھر سے فرمایا یہی بہترین اور فطری طریقہ ہے کہ داعی اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے والد آذر بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ چناچہ باپ کے مرتبہ کا خیال رکھتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اے والد گرامی ! آپ بتوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اے والد گرامی ! یقیناً میرے پاس ایساعلم آیا ہے جو آپ کے پاس موجود نہیں۔ میری بات مانیں میں آپ کو سیدھے راستے کی رہنمائی کروں گا۔ اے میرے والد آپ شیطان کی عبادت نہ کریں شیطان رب رحمن کا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ ! مجھے ڈر ہے کہ شرک کی وجہ سے رب رحمن کا آپ پر عذاب نازل نہ ہوجائے اور آپ شیطان کے ساتھی قرار پائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا علم عطا فرمایا ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ مرادنبوت کا علم ہے۔ نبی کی نبوت اور اس کی اتباع کے بغیر کوئی شخص حقیقی رہنمائی حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے ہدایت یافتہ قرار دیا جاسکتا ہے جو شخص اس راستہ سے ہٹے گا وہ شیطان کا ساتھی قرار پائے گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی چیز بچا نہیں سکتی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرتے ہوئے جو پہلی بات فرمائی وہ یہ تھی کہ پتھر اور مٹی کی بنی ہوئی مورتیاں نہ سن سکتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی کسی کو کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ بتوں کے سامنے جھکنے اور ان کے سامنے اپنی حاجات پیش کرنے والوں سے بات کی جائے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اِ ن کی عبادت نہیں کرتے۔ چونکہ اِ ن میں ہمارے بزرگوں کی روح حلول کرچکی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ جس وجہ سے یہ ہماری فرمادیں رب کے حضور پہنچاتے اور ہمیں رب تعالیٰ کے قریب کردیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ ہم ان کے وسیلہ اور برکت سے مانگتے ہیں۔ ایسے لوگ کا یہ بھی نظر یہ ہے کہ اس طرح ذکر اور عبادت کرنے میں سکون ملتا اور یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ عبادت کو شیطان کی عبادت قرار دیا ہے۔ یہی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو سمجھائی تھی۔ اسی طریقۂ عبادت سے نبی آخر الزماں ﷺ اہل مکہ اور لوگوں کو روکا کرتے تھے۔ فرق یہ ہے کہ مکہ کے لوگ بتوں کو عبادت کا ذریعہ بناتے، یہودی اور عیسائی انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو قرب کا ذریعہ بناتے تھے۔ جبکہ فوت شدگان کے بارے میں قرآن مجید دو ٹوک الفاظ میں وضاحت کرتا ہے کہ یہ نہ کوئی بات سنتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مدد کرسکتے ہیں انہیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ انہیں موت کے بعد کب اٹھا جائے گا۔ (وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ ۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) [ النحل : 20] ” اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا غیر اللہ کو پکارتے ہیں انہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں اور انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔ “ جہاں تک بتوں یا مدفون لوگوں کے وسیلہ کا معاملہ ہے یہی بات تو کفار مکہ کہا کرتے تھے۔ (وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہِ أَوْلِیَاءَ مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا إِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی )[ الزمر : 3] ” وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے علاوہ کار ساز بنا رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ “ (وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَا أَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَاءَ نَا) [ البقرۃ : 170] ” اور جب کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں نہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ “ مسائل 1۔ توحید کی دعوت ہر چھوٹے، بڑے کو دینا چاہیے۔ 2۔ دعوت کا آغاز اپنے اقرباء سے کرنا چاہیے۔ 3۔ نبی آخر الزّماں ﷺ کی اتباع کے بغیر کوئی شخص ہدایت نہیں پاسکتا۔ 4۔ توحید اور رسالت کا انکار کرنے والا شیطان کا ساتھی ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان کے ساتھی کون ؟: 1۔ اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کرو یقیناً شیطان رحمن کا نافرمان ہے اے میرے باپ مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو رحمن کا عذاب آلے اور آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں۔ (مریم : 44۔ 45) 2۔ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ (بنی اسرائیل : 27) 3۔ یقیناً شیطان تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے ان سے نہ ڈرو۔ (آل عمران : 175) 4۔ جس کا ساتھی شیطان ہوا وہ بدترین ساتھی ہے۔ (النساء : 38) 5۔ تم شیطان کے دوستوں سے لڑائی کرو یقیناً شیطان کی تدبیر کمزور ہے۔ (النساء : 76) 6۔ جس نے شیطان کو اپنا دوست بنایا وہ خائب و خاسر ہوا۔ (النساء : 119) 7۔ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ (البقرۃ : 168) 8۔ شیطان کی رفاقت کا بدترین انجام۔ (الفرقان : 27، 29)
Ayahs 19:46–47

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

” باپ نے کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔ بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔ “ (46)

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

” ابراہیم نے کہا آپ کو سلام ہو میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو بخش دے۔ میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ (47)

فہم القرآن ربط کلام : باپ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب۔ غور فرمائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کس قدر ادب و احترام اور سوز مندی کے ساتھ اپنے والد کو توحید سمجھائی اور بحیثیت نبی اپنی اتباع کی دعوت دی مگر باپ نے کہا کہ میری آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجا۔ ورنہ میں تمہیں پتھر مار مار کر سنگسار کر دوں گا۔ ” مَلِیَّا “ کا معنی ہے کسی کو ہمیشہ کے لیے دور کردینا ہے۔ ہر معاشرے میں یہ مقولہ ہے کہ اولاد ماں باپ کو چھوڑ سکتی ہے لیکن ماں باپ اولاد کو نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن مشرک اس قدر سخت مزاج، بداخلاق اور کم ظرف ہوتا ہے کہ توحید قبول کرنا تو درکنا توحید کی دعوت سننے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتا۔ مشرکین نے ہمیشہ انبیاء (علیہ السلام) اور توحید کی دعوت دینے والے مبلّغینکے ساتھ یہی روّیہ اختیار کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کے متبعین کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مشرکوں نے اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقرباء کے ساتھ مظالم کی انتہا کردی اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ مسائل 1۔ والد نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ 2۔ مشرک بڑ امتشدد ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء (علیہ السلام) اور ایمان والوں کو مشرکوں کی دھمکیاں : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کردوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔ (مریم : 46) 2۔ مشرکوں کی حضرت نوح (علیہ السلام) کو دھمکی اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کردیا جائے گا۔ (الشعراء : 116) 3۔ مشرکوں کی حضرت لوط (علیہ السلام) کو دھمکی کہ اگر تو باز نہ آیا تو تمہیں شہر بدر کردیں گے۔ (الشعراء : 167) 4۔ فرعون کی ایمانداروں کو دھمکیاں کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھا دوں گا۔ (طٰہٰ : 71) 5۔ مشرکوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اور تیرے ساتھ ایمان لانے والوں کو شہر سے نکال دیں گے۔ (الاعراف : 88)
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

میں آپ لوگوں کو چھوڑتا ہوں اور ان کو بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ میں اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہیں ہوں گا۔ “ (48)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کو مؤدبانہ جواب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو سخت جواب دینے کی بجائے نہایت ادب کے ساتھ فرمایا آپ میری دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو میرا آپ کو سلام ہو۔ میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا کیونکہ وہ بڑا ہی مہربان ہے۔ اب میں آپ اور جن کو بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ میں تو اپنے رب کو ہی پکارتا رہوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ میرا رب مجھے کبھی محروم نہیں کرے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ سے رخصت ہوتے ہوئے انھیں سلام کیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی شریعت میں مشرک کو سلام کرنے کی اجازت ہوگی یا پھر اس سلام سے مراد وہی سلام ہے جو جھگڑالو شخص کو کہنے کا حکم ہے۔ (وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَمًا) [ الفرقان : 63] ” اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر وقار کے ساتھ چلتے ہیں جب ان سے جاہل گفتگو کرتے ہیں تو وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تمہیں سلام۔ “ جہاں تک باپ کے حق میں دعا کرنے کا تعلق ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ میرا والد اللہ کا دشمن ہے تو وہ اپنے باپ سے پوری طرح بیزار ہوگئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کی سختی اور دھمکی کے باوجود اس لیے دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) دوسرے کا دکھ دیکھ کر تڑپ جانے والے اور بڑے ہی حوصلہ والے تھے۔ (التوبۃ : 114) نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کتنی مدت باپ اور اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ جب انھیں یقین ہوگیا کہ میرا باپ اور قوم میری دعوت ماننے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے باپ اور قوم سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ ( الصٰفٰت : 99) قرآن مجید کے اسلوب بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ اور قوم سے علیحدگی کا اعلان آگ میں جھونکے جانے کے بعد کیا۔ دوسرے الفاظ میں ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کا اعلان کیا۔ ایسے موقعہ پر کفار اور مشرکین کے ساتھ مقاطعہ کی اجازت ہوتی ہے تاکہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ان لوگوں کو دعوت دی جائے۔ جن تک پہلے دعوت نہ پہنچ پائی ہو۔ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ اور قوم سے کنارہ کش ہوگئے۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنی دعاؤں کے بارے میں اپنے رب پر پورا یقین تھا۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کے ساتھ مقاطعہ کرنے کا حکم : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں آپ لوگوں سے اور جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ (مریم : 47) 2۔ اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 51) 3۔ اے ایمان والو ! اگر تمہارے آباء اسلام پر کفر کو ترجیح دیں تو اپنے آباء اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ : 23) 4۔ اے ایمان والو ! کفار کو مومنوں کے مقابلہ میں دوست نہ بناؤ۔ (النساء : 144) 5۔ اے ایمان والو ! جن لوگوں نے تمہارے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے انہیں دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 57) 6۔ اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم ان سے دوستی کرو جنھوں نے تمہارے دین میں جھگڑا کیا اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ (الممتحنۃ : 9) 7۔ ابراہیم معبودان باطل کے انکاری اور براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : 4) 8۔ ھود (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ہود : 54 ) 9۔ آپ ﷺ فرما دیں اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : 108 ) 10۔ اے کافرو تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے۔ (الکافرون)
Ayahs 19:49–50

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

” جب ابراہیم ان سے اور ان کے معبود ان باطل سے الگ ہوگئے تو ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد سے نوازا۔ اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ (49)

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو نیک نامی عطا فرمائی۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور ان پر اللہ تعالیٰ کا انعام۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دعائیں کرتے ہوئے عراق کی سرزمین سے رخصت ہوئے۔ یہاں ان کی دو دعاؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پہلی دعا یہ تھی کہ میں اپنے رب کی خاطر سب کچھ چھوڑ رہا ہوں وہی ہجرت کے دوران میری رہنمائی فرمائے گا۔ ( الصّٰفٰت : 99) دوسری دعا انھوں نے یہ کی کہ میرے رب ! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ اس دعا کے صلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دی گئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا اور پوتا عنایت کرے گا اور دونوں کو نبی بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنی بےپناہ رحمت سے نوازا اور ان کے نام اور کام کو شہرت دوام بخشی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی تھی۔ میرے رب مجھے حکمت و دانائی اور قوت فیصلہ عطا فرمانے کے ساتھ نیک لوگوں کی رفاقت عنایت فرما۔ میری یہ بھی دعا ہے کہ موت کے بعد میرا تذکرہ دنیا میں خیر کے ساتھ ہوتا رہے۔ (الشعراء : 83، 84) اسی دعا کا صلہ ہے کہ دنیا کے تمام آسمانی مذاہب اور ہر دور کے مذہبی لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعلق کا اظہار کرنا اپنے لیے قابل افتخار سمجھتے ہیں اور ہر کوئی ان کا تذکرہ اچھے الفاظ میں کرتا ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ شاید اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ ان کا ذکر دو آیات کے بعد آرہا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نا صرف حضرت اسحاق سے عمر میں بڑے تھے بلکہ ان کا مرتبہ اور مقام بھی حضرت اسحاق سے بڑا ہے۔
Ayahs 19:51–52

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اس کتاب سے تذکرہ کیجیے موسیٰ کا وہ ایک مخلص شخص اور رسول نبی تھا۔ (51)

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

ہم نے اس کو طور کے دائیں جانب سے بلایا اور رازدارانہ گفتگو کے لیے قریب کیا۔ (52)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ جس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت مریم [ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ بیان کرنے کا حکم ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صاحب کتاب رسول تھے۔ جنھیں مخلص ہونے کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں اس وقت قبول ہوئیں۔ جب وہ بےبس اور ظاہری اسباب سے مایوس ہوچکے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بھی اس وقت قبول ہوئی جب وہ غریب الوطن اور سفر کی صعوبتوں میں مبتلا تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ساتھ آٹھ یا دس سال کے عرصہ کے بعد مصر کی طرف انتہائی غم کے عالم میں واپس آرہے تھے۔ کیونکہ فرعون نے انھیں قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ جس بناء پر انھوں نے مصر چھوڑا تھا۔ واپس جب طور پہاڑ کے قریب آئے تو طور کی دائیں جانب سے ایک آواز آئی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آواز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے کوہ طور کی دائیں جانب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے قریب کیا اور اس سے سرگوشی کی۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی رحمت کے دامن میں جگہ دی اور اس کے بھائی کو بھی نبوت کے منصب پر فائز فرمایا۔ سفر کے دوران انھیں فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو عذر پیش کیے تھے۔ جن میں ایک یہ تھا کہ میرے رب ! خدشہ ہے کہ فرعون مجھے قتل نہ کر دے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بھائی ہارون کو میرا معاون بنایا جائے۔ کیونکہ وہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ صاحب زبان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے ان کے بھائی کو نبوت کا منصب عطا فرمایا۔ جس کا یہاں مختصر تذکرہ ہے۔ (الشعراء : 10 تا 14) یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک ایسے وصف کا ذکر کیا گیا ہے جس بناء پر وہ دوسرے انبیاء (علیہ السلام) سے منفرد اور ممتاز دکھائی دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سوائے موسیٰ (علیہ السلام) کے کسی پیغمبر کے ساتھ براہ راست گفتگو نہیں فرمائی۔ (النساء : 164) اسی بنیاد پر انھیں مُخْلَصًاکے لقب سے نوازا گیا ہے۔ جس کا اکثر اہل علم نے یہی معنٰی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ بات کرنے میں مخصوص فرمایا تھا۔ مخلص کا معنی ہے۔ خالص دوستی کرنا، نجات پانا، محفوظ رہنا، صاف ہونا۔ مسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت بیان کرنے کا حکم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ ہم کلامی کا شرف بخشا۔ 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے صلہ میں ان کے بھائی ہارون کو بھی نبی بنایا گیا۔ تفسیر بالقرآن موسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا مختصر تذکرہ : 1۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ قرآن مجید میں 135 مرتبہ آیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل سے نوازا۔ (النساء : 153) 3۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلام ہوئے۔ (النساء : 164) 4۔ اے موسیٰ میں نے تجھے اپنی رسالت اور کلام کے لیے چن لیا ہے۔ (الاعراف : 144) 5۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور واضح دلائل دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ (ھود : 96) 6۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو واضح نشانیاں دیں۔ (بنی اسرائیل : 101) 7۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نور ہدایت کی طرف بلاتے تھے۔ (ابراہیم : 5) 8۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے پردے میں بات کرتا تھا۔ ( الشورٰی : 51)
Ayahs 19:53–54

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنایا۔ “ (53)

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

” اور قرآن مجید سے اسماعیل کا ذکر خیر کیجیے وہ وعدے کا سچا اور رسول نبی تھا۔ “ (54)

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا بیان جاری ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے ہیں۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں تقریباً چھیاسی سال کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ واحد پیغمبر ہیں جنھیں ذبیح اللہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اسی بنیاد پر انھیں وعدے کا سچا اور بیک وقت نبی اور رسول کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ انھوں نے کسی آدمی سے ملاقات کا وعدہ فرمایا۔ اس کے نہ پہنچنے کی وجہ سے تین دن تک اس کا انتظار کرتے رہے۔ ایسی ہی روایت نبی آخر الزمان ﷺ کے بارے میں بھی موجود ہے۔ تین دن انتظار کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ آپ تین دن وہیں کھڑے رہے۔ اس کا مفہوم یہی ہوسکتا ہے کہ وقت مقررہ پر آپ وہاں موجود ہوتے تھے۔ [ رواہ ابوداؤد : باب فی العدۃ ] حضرت ہاجرہ[ اور آپ ( علیہ السلام) کے فرزند ارجمند : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری رفیقہ حیات حضرت ہاجرہ[ ہیں۔ جن کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو قرآن مجید نے اجاگر کرنے کے ساتھ ان کی زندگی سے وابستہ واقعات اور مقامات کو شعائرا اللہ قرار دیا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے فضائل ومناقب : یہودیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) ، نہیں بلکہ اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ حالانکہ تورات کتاب پیدائش باب 17 تا 30 میں موجود ہے۔ کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے بڑے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی۔ ظاہر ہے اسماعیل (علیہ السلام) ذبیح اللہ ہوئے ہیں نہ کہ اسحاق (علیہ السلام) ۔ نبی اکرم ﷺ کا خراج تحسین : (إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاہِیمَ إِسْمَعِیلَ )[ رواہ الترمذی : باب فی فضل النبی ﷺ ] ” اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں اسماعیل کو سب سے معزز فرمایا۔ “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر دوسرے انبیاء کے ساتھ : (وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِ کُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِیْن وَأَدْخَلْنَاہُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا إِنَّہُمْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ ) [ الانبیاء : 85، 86] ” اور اسماعیل وادریس اور ذوالکفل کا ذکر کرو، کہ سب صبر کرنے والے تھے۔ اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشک وہ نیکو کار تھے۔ “ اولاد اسماعیل (علیہ السلام) : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے اور ایک بچی تھی۔ جس کا نام مورخ نے بشامہ لکھا ہے۔ آپ کے بارہ بیٹوں کے مندرجہ ذیل نام ہیں۔ 1۔ نیا بوط، جن کو عرب نابت کہتے ہیں۔ 2۔ قیدار حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اس صاحبزادے نے بڑی شہرت حاصل کی نبی اکرم ﷺ اس قیدار کی نسل عدنان سے پیدا ہوئے۔ 3۔ ادبایل 4۔ بمشام۔ 5 سمع۔ 6 دومہ 7۔ مسا 8۔ حدود 9۔ یلتماد 10۔ جسطور 11۔ نفیس 12۔ قدمہ (توراۃ، پ 25) مسائل 1۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ کا امت کے سامنے تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ 2۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) قول کے سچے اور وعدے کے پکے پیغمبر تھے۔ تفسیر بالقرآن حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا مختصر تذکرہ : 1۔ حضرت اسماعیل کا تذکرہ قرآن مجید میں 12 مرتبہ آیا ہے۔ 2۔ اللہ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط ( علیہ السلام) کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ (الانعام : 86) 3۔ اسماعیل (علیہ السلام) وعدے کے سچے تھے۔ (مریم : 54) 4۔ اسماعیل، ادریس اور ذالکفل صبر کرنے والوں میں سے تھے۔ (الانبیاء : 85)
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

” وہ اپنے گھروالوں کو نماز قائم اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے اور اپنے رب کے ہاں نہایت پسندیدہ انسان تھے۔ “ (55)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعوت کا خلاصہ : اللہ کی توحید کے بعد دین میں سب سے پہلے جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ نماز اور زکوٰۃ ہے انھی سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ان کا اہتمام اور ابلاغ کرنے کی بناء پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے رب کے مقرب ترین بندے بن گئے۔ نماز اللہ اور بندے کے درمیان عابد اور معبود ہونے کی ترجمان ہے۔ نماز سے بڑھ کر انسان کا اپنے رب کے قریب ہونے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ پنجگانہ نماز سے قلبی اطمینان، جسمانی طہارت اور یہ مسلمانوں کا آپس میں رابطے کا قریب ترین ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ طبیعت کے بخل اور سرمایہ داری کے خلاف ایک طرح کی سالانہ مہم ہے۔ جس سے ایک طرف مالدار کا مال پاک ہوتا ہے اور دوسری طرف غرباء، مساکین اور دیگر کمزور طبقات کے ساتھ مالی معاونت ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اسلام کا خزانہ کہا گیا ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلٰی اللّٰہِ ) [ رواہ بخاری : کتاب الایمان، باب فان کان تابوا ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کا رسول ہے۔ وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں جو یہ کام کریں گے انہوں نے اپنا خون اور مال مجھ سے بچا لیا سوائے اسلام کے حق کے اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ “ (اسلام کے حقوق سے مراد حدود اللہ ہیں )
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

” اور اس کتاب میں سے ادریس کا ذکر کیجیے وہ ایک سچا انسان اور نبی تھا۔ (56)

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھالیا۔ “ (57)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) کی سیرت کا بیان۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں کافی حد تک اہل علم کا خیال ہے کہ آپ نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث کیے گئے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نسل اور مدت کے اعتبار سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے قریب تر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی سچے نبی ہونے کے لقب سے نوازا ہے اور ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو بلند مقام پر اٹھا لیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے دو اوصاف بالخصوص ذکر کیے گئے ہیں۔ مسائل 1۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نہایت ہی سچے اللہ کے پیغمبر تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند ترین مقام عنایت کیا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت ادریس (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : حضرت ادریس کا قرآن مجید میں 2 بار تذکرہ ہوا ہے۔ 1۔ ادریس (علیہ السلام) نہایت سچے نبی تھے۔ (مریم : 56) 2۔ اسماعیل، ادریس، ذالکفل تمام صبر کرنے والوں میں سے تھے۔ (الانبیاء : 85) حضرت ادریس (علیہ السلام) قرآن عزیز میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر صرف سورة مریم اور سورة الانبیاء میں آیا ہے۔ نام ونسب اور زمانہ : حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نام ونسب اور زمانہ کے متعلق مورخین کو شدید اختلاف ہے۔ تمام اختلافی دلائل کو سامنے رکھنے کے بعد بھی کوئی فیصلہ کن یا کم از کم راجح رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔ قرآن عزیز نے رشد و ہدایت کے پیش نظر صرف ان کی نبوت رفعت مرتبت کا ذکر کیا ہے اور اسی طرح حدیث کی روایات بھی اس سے آگے نہیں جاتیں ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ نوح کے جد امجد ہیں اور ان کا نام اخنوخ ہے۔ اور ادریس لقب ہے یاعربی زبان میں ادریس اور عبرانی یاسریانی میں ان کا نام اخنوخ ہے اور ان کا نسب نامہ یہ ہے۔ خنوخ یا اخنوخ بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ ابن اسحاق کا رجحان اسی جانب ہے اور دوسری جماعت کا خیال ہے کہ وہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں اور الیاس وادریس ایک ہی شخصیت کے نام اور لقب ہیں ان دونوں روایات کے پیش نظر بعض علماء نے یہ تطبیق دینے کی کوشش کی ہے کہ جد نوح (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب اور بنی اسرائیل کے پیغمبر کا نام ادریس ہے اور الیاس لقب مگر یہ رائے بھی بےسند اور بےدلیل ہے۔ صحیح ابن حبان میں روایت ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم کو استعمال کیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکر ﷺ سے کسی نے رمل کے خطوط کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ علم ایک نبی کو دیا گیا تھا۔ اگر کسی شخص کے نقوش اس کے مطابق ہوجاتے ہیں تو اندازہ صحیح نکلتا ہے ورنہ نہیں۔ “ [ رواہ مسلم : باب تحریم الکہانۃ واتیان الکہان ] معراج کے واقعہ میں صرف اس قدر ذکر ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ادریس (علیہ السلام) سے چوتھے آسمان پر ملاقات کی۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ : اللہ کی ہستی اور اس کی توحید پر ایمان لانا، صرف خالق کائنات کی پرستش کرنا، آخرت کے عذاب سے رستگاری کے لیے اعمال صالحہ کو ڈھال بنانا، دنیا سے بےالتفاتی اور تمام امور میں عدل و انصاف کو پیش نظر رکھنا اور مقررہ طریقہ پر عبادت الٰہی ادا کرنا، اور ایام بیض کے روزے رکھنا، دشمنان اسلام سے جہاد کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، طہارت ونظافت سے رہنا، خصوصیت کے ساتھ جنات، کتے اور سور سے اجتناب کرنا ہر نشہ آورشے سے پرہیز کرنا ان کی تعلیم کا لب لباب ہے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا حلیہ مبارک : حضرت ادریس (علیہ السلام) کا حلیہ یہ ہے کہ گندم گوں رنگ، پورا قدوقامت، خوبصورت وخوبرو، گھنی ڈاڑھی، سرمگیں چمکدار آنکھیں، گفتگو باقار، خاموشی پسند سنجیدہ اور متین چلتے ہوئے نیچی نظر انتہائی فکر وخوض کے عادی حضرت ادریس (علیہ السلام) نے بیاسی سال کی عمر پائی۔ ان کی انگوٹھی پر یہ عبارت کندہ تھی۔ اَلصَّبْرُ مَعَ الْاِیْمَان باللّہِ یُوْرِثُ الظَّفَرَ ” اللہ پر ایمان کے ساتھ صبر فتح مندی کا باعث ہے۔ “ اور کمر سے باندھنے والے پٹ کہ پر یہ تحریر تھا۔ الَاَْعْیَادُ فِیْ حِِفْظِ الْفُرُوْضِ وَالشَّرِیْعَۃِ مِنْ تَمَام الدِّیْنِ وَتَمام الدِّیْنِ کَمَالُ الْمُرُوَّۃِ ” حقیقی عیدیں اللہ تعالیٰ کے فرائض کی حفاظت میں مضمر ہیں اور دین کا کمال شریعت سے وابستہ ہے اور مروت میں دین کی تکمیل ہے۔ “ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بہت سے پند ونصائح اور آداب واخلاق کے جملے مشہور ہیں جو مختلف زبانوں میں ضرب المثل ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں : اللہ کی بیکراں نعمتوں کا شکر یہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔ جو علم میں کمال اور عمل صالح کا خواہش مند ہو اس کو جہالت کے اسباب اور بد کرداری کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔ دنیا کی بھلائی ” حسرت “ ہے اور برائی ” ندامت “۔ اللہ کی یاد اور عمل صالح کے لیے خلوص نیت شرط ہے۔ نہ جھوٹی قسمیں کھاؤ، نہ اللہ تعالیٰ کے نام کو قسموں کے لیے تختہ مشق بناؤ اور نہ جھوٹوں کو قسمیں کھانے پر آمادہ کرو کیونکہ ایسا کرنے سے تم بھی شریک گناہ ہوجاؤ گے۔ اطاعت کرو اور اپنے بڑوں کے سامنے پست رہو اور ہر وقت ذکر الٰہی میں زبان تر رکھو۔ دوسروں کی خوشی پر حسد نہ کرو اس لیے کہ یہ مسرور زندگی چند روزہ ہے۔ جو ضروریات زندگی سے زیادہ طالب ہو اور وہ کبھی قانع نہیں ہوتا۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

” یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا جو آدم کی اولاد میں سے ہیں اور ان لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا اور ابراہیم کی نسل سے اور اسرائیل کی نسل سے اور یہ ان لوگوں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور منتخب فرمایا۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب ان کے سامنے رحمان کی آیات پڑھی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔ “ (58)

فہم القرآن ربط کلام : اس خطاب کے اختتام پر انبیاء اور ان کی صالح اولاد کی خاص الخاص خوبی کا ذکر۔ چند انبیاء اور ان کی اولادوں میں ممتاز اور پسندیدہ شخصیات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ تھے۔ جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کے بعد ان کا نسب حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ کشتی میں نجات پانے والوں کے ساتھ ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا اور اپنی جناب میں برگزیدہ بنایا۔ یہ ایسے باوفا اور صاحب تقویٰ لوگ تھے۔ جب ان کے سامنے ان کے رب کے ارشادات پڑھے جاتے تو وہ خوف اور شکر کے جذبات میں سجدہ ریز ہوجاتے تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کے وقت نسل انسانی بہت محدود تھی اور جو عرب کے علاقہ تک محدود تھی۔ جب نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں طوفان آیا تو صرف وہی لوگ بچ سکے تھے جو کشتی میں سوار تھے اور اسی سے نسل انسانی کی افزائش ہوئی تھی۔ (أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ ، ہَلْ نَرَی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ ہَلْ تُمَارُونَ فِی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَیْسَ دُونَہُ سَحَابٌقَالُوا لاَ یَا رَسُول اللَّہ قَالَ فَہَلْ تُمَارُونَ فِی الشَّمْسِ لَیْسَ دُونَہَا سَحَابٌقَالُوا لاَقَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَہُ کَذَلِکَ ۔۔ حَتَّی إِذَا أَرَاد اللَّہُ رَحْمَۃَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ ، أَمَرَ اللَّہُ الْمَلاَءِکَۃَ أَنْ یُخْرِجُوا مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللَّہَ ، فَیُخْرِجُونَہُمْ وَیَعْرِفُونَہُمْ بآثَار السُّجُودِ ، وَحَرَّمَ اللَّہُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَیَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، فَکُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْکُلُہُ النَّارُ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ ) [ رواہ البخاری : باب فَضْلِ السُّجُودِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نے بتلایا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم چودھویں رات کے چاند کے بارے میں شک کرسکتے ہو جب بادل نہ ہوں انہوں نے عرض کی نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے فرمایا کیا تم سورج کو دیکھنے میں شک کرسکتے ہو جب بادل نہ ہوں انہوں نے عرض کی نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے فرمایا اسی طرح اللہ کی رویت میں کوئی شک نہیں۔۔ یہاں تک کہ جب اللہ جہنمیوں کے ساتھ رحمت کا ارادہ فرمائیں گے اللہ فرشتوں کو حکم دیں گے ہر اس بندے کو جہنم سے نکال دو جو اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہنچانیں گے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سجدوں کے نشانات کو جلانا آگ پر حرام قرار دیا ہے۔ انہیں فرشتے آگ سے نکالیں گے۔ آدم کے بیٹے کو آگ کھائے گی مگر سجدے والے نشانات محفوظ رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہونگے جو عقیدۂ توحید پر قائم تھے مگر بڑے بڑے گناہ کرتے تھے۔ “ (حَدَّثَنِی مَعْدَانُ بْنُ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیُّ قَالَ لَقِیتُ ثَوْبَان َ مَوْلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ یُدْخِلُنِی اللَّہُ بِہِ الْجَنَّۃَأَوْ قَالَ قُلْتُ بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَی اللَّہِ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فَقَالَ عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ لِلَّہِ فَإِنَّکَ لاَ تَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَکَ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْکَ بِہَا خَطِیءَۃً قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِیتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ لِی مِثْلَ مَا قَالَ لِی ثَوْبَانُ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَیْہِ ] ” حضرت معدان بن طلحہ ؓ کہتے ہیں میں نبی ﷺ کے غلام ثوبان ؓ سے ملا اور عرض کی کہ مجھے ایسا عمل بتلائیے جو اللہ کو بہت پسند ہو۔ جس سے مجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمادے وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے پھر سوال کیا تب بھی انہوں نے خاموشی اختیار فرمائی۔ تیسری دفعہ میرے عرض کرنے پر فرمایا تجھے کثرت کے ساتھ اللہ کے حضور سجدے کرنے چاہییں۔ جب تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سجدے کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند اور تیرے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ جناب معدان ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ابودرداء ؓ سے ملاقات کی اور ان سے یہی سوال عرض کیا۔ اور انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو حضرت ثوبان ؓ نے دیا تھا۔ “ (حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ کَعْبٍ الأَسْلَمِیُّ قَالَ کُنْتُ أَبِیتُ مَعَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوءِہِ وَحَاجَتِہِ فَقَالَ لِی سَلْ فَقُلْتُ أَسْأَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ أَوَغَیْرَ ذَلِکَ قُلْتُ ہُوَ ذَاکَ قَالَ فَأَعِنِّی عَلَی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَیْہِ ] ” حضرت ربیعہ بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں میں رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا کرتا تھا۔ ایک دن ارشاد ہوا ربیعہ کچھ مانگنا چاہوتو مانگ لو۔ میں نے عرض کیا کہ میں جنت میں آپ کی رفاقت کا خواہش مندہوں فرمایا کچھ اور مانگنا چاہو ؟ میں نے عرض کیا پھر بھی یہی خواہش ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر کثرت سجود سے میری معاونت کرو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی سلسلہ نبوت جاری فرمایا۔ 2۔ صلحاء کی خوبی ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن مجید کی آیات پڑھی جائیں تو وہ اپنے رب کے حضور روتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن جن انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد کو نبی بنایا گیا : 1۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پیغمبروں میں سے فضل و کرم فرمایا یہ اولاد آدم میں سے ہیں۔ (مریم : 58) 2۔ ہم نے نوح اور پیغمبر بھیجے ہم نے ان کی اولاد کو نبوت عطا کی۔ (الحدید : 26) 3۔ ہم نے ابراہیم کو اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ان کو نبوت عطا کی۔ (العنکبوت : 27) 4۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت یوسف کو نبی بنایا گیا۔ ( یوسف : 22) 5۔ فرشتوں نے زکریا (علیہ السلام) سے کہا اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو نیکو کار اور پیغمبروں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : 39) 6۔ حضرت داؤد کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ ( النمل : 16)
Ayahs 19:59–60

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

” پھر ان کے بعد ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات نفس کی پیروی کی۔ جلد ہی وہ گمراہی کے انجام کو پائیں گے۔ (59)

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور صالح عمل اختیار کریں۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرّہ برابر زیادتی نہیں ہوگی۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کرام کی اولاد میں ان کے خلف الرشید بھی ہوئے اور ناخلف بھی ہوئے۔ ناخلف اولاد کا انجام۔ اللہ تعالیٰ اپنے اصول کے مطابق دین کی نعمت اور حقیقی احترام اسی شخص دیتا ہے جو دین کی قدر اور اس پر عمل کرتا ہے۔ بیشک وہ کسی غیر معروف باپ کا بیٹا اور غریب کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں کوئی نبی کا صاحبزادہ ہو کر اللہ اور اس کے نبی کی اطاعت کا انکاری ہے تو وہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے نہیں بچ سکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہ پانی میں ڈبکیاں لینے لگا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت کی بناء پر اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ یہ میرا بیٹا ہے اور آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیری آل کو بچالوں گا جس کا جواب دیا گیا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تیرا بیٹا تیرے اہل میں نہیں رہا کیونکہ اس کے اعمال اچھے نہیں۔ اگر آئندہ آپ نے اس کے بارے میں سوال کیا تو ہم آپ کو جاہلوں میں شمار کریں گے۔ (سورۃ ہود : 46) اسی اصول کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ بعض انبیائے کرام (علیہ السلام) کی اولاد میں ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنھوں نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی بری خواہشات کے پیچھے لگے۔ عنقریب انھیں ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا۔ ” غیًا “ سے مراد جہنم کا ایک مخصوص گڑھا ہے۔ جس سے جہنم بھی پناہ مانگتی ہے جہنم سے ان لوگوں کو بچا لیا جائے گا۔ جنھوں نے کفر و شرک اور برے اعمال سے توبہ کی۔ اپنے رب پر سچے دل کے ساتھ ایمان لائے اور ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے صالح اعمال کیے انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا ان کے اعمال اور جزا میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ 1۔ جب الحزن سے پناہ مانگو (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ تَعَوَّذُوا باللَّہِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ قَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ قَالَ وَادٍ فِی جَہَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْہُ جَہَنَّمُ کُلَّ یَوْمٍ ماءَۃَ مَرَّۃٍ قُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ وَمَنْ یَدْخُلُہُ قَالَ الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُ ونَ بِأَعْمَالِہِمْ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی الرِّیَاءِ وَالسُّمْعَۃِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جب الحزن سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ نے عرض کی اللہ کے رسول ﷺ جب الحزن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ایک دن میں سو بار پناہ مانگتی ہے ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول اس میں کون داخل ہوگا آپ نے فرمایا قراء جو اپنے اعمال میں دکھلاوا کرتے ہیں۔ “ 2۔ نماز ضائع کرنے والے کا گناہ : (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ فیہِ إِلَی فِیَّ لاَ أَقُولُ حَدَّثَنِی فُلاَنٌ وَلاَ فُلاَنٌ خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَہُنَّ اللَّہُ عَلَی عِبَادِہِ فَمَنْ لَقِیَہُ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئاً لَقِیَہُ وَلَہُ عِنْدَہُ عَہْدٌ یُدْخِلُہُ بِہِ الْجَنَّۃَ وَمَنْ لَقِیَہُ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْہُنَّ شَیْئاً اسْتِخْفَافاً بِحَقِّہِنَّ لَقِیَہُ وَلاَ عَہْدَ لَہُ إِنْ شَاءَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُ ) [ رواہ احمد : مسند عبادۃ بن صامت ] ” حضرت عبادہ بن صامت ہُرَیْرَۃَبیان کرتے ہیں کہتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے فلاں، فلاں نے بیان کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے بذات خود مجھے فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کیں ہیں، جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے نمازوں میں سے کوئی نماز ضائع نہ کی ہوگی۔ جب اللہ سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس نے نماز ترک کر رکھی تھی۔ وہ اللہ سے ملے گا تو اللہ کا اس کے ساتھ کوئی عہد نہیں اگر چاہے اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف فرما دے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ 2۔ نیک لوگوں کی جزا میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونے پائے گی۔ 3۔ نماز ضائع کرنے اور اپنی خواہش کے پیچھے لگنے والوں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن نماز کی اہمیّت اور فضیلت : 1۔ نماز کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی۔ (البقرۃ : 238) 2۔ نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت : 45) 3۔ ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے نماز قائم کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والوں پر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ ( البقرۃ : 227)