Ayahs 19:61–63فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے چند اوصاف کا تذکرہ۔
جنت کی جمع جنات ہے۔ جس کا معنٰی باغات ہیں۔ جنت وہ مقام ہے جس کے حسن و جمال اور نعمتوں کا کوئی شخص تصور نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اس میں اپنے بندوں کو داخل فرمائے گا۔ جس کا وعدہ ہر صورت مومنوں کے ساتھ پورا ہو کر رہے گا۔ اس جنت میں کسی قسم کا لغو، پریشانی اور تکلیف نہیں ہوگی۔ اس میں ہر جنتی ہر اعتبار سے سلامت اور خوش ہوگا۔ جنتی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے اور اس کی نعمتیں بھی سلامت رہیں گی۔ ان کے لیے صبح و شام اللہ تعالیٰ کی نعمتیں وافر ہوں گی۔ جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ جنتیوں کے لیے اعلان ہوگا جہاں چاہو جتنا چاہو، جس وقت چاہو کھاؤ اور پیو۔ صبح شام سے مراد یہ نہیں کہ انھیں صرف صبح و شام جنت کی نعمتیں دی جائیں گی۔ صبح وشام سے مراد رات اور دن کے پورے اوقات کا احاطہ کرنا ہے۔
جنت کی نعمتوں کا تصور کرنا محال ہے :
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے) ۔ “
خاتون جنت کا حسن و جمال :
(وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ]
” اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “
جنتی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے :
(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَتَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن) [ یونس : 9۔ 10]
” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کی رہنمائی کرے گا، ان کے نیچے سے جنت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔ ان کی دعا یہ ہوگی ” کہ اے اللہ تو پاک ہے ! “ اور ان کی آپس کی دعا سلام ہوگی اور ان کی دعاؤں کا خاتمہ اس بات پر ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “
(وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَتَحَدَّثُ ، وَعِنْدَہٗ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ ، اِنَّ رَجُلًا مِّنْ اَھْلِالْجَنَّۃِ اسْتَأذَنَ رَبَّہٗ فِیْ الزَّرْعِ فَقَالَ لَہٗ اَلَسْتَ فِیْمَا شِءْتَ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَزْرَعَ فَبَذَرَ فَبَادَ رَالطَّرْفَ نَبَاتُہٗ وَاسْتِوَاءُ ہٗ وَاسْتِحْصَادُہٗ فَکَانَ اَمْثَالَ الْجِبَالِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی دُوْنَکَ یَابْنَ اٰدَمَ فَاِنَّہٗ لَایُشْبِعُکَ شَیْءٌ فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ وَاللّٰہِ لَاتَجِدُہُ اِلَّا قُرَشِیًا اَوْ اَنْصَارِیًّافَاِنَّھُمْ اَصْحاَبُ زَرْعٍ وَاَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِاَصْحَابِ زَرْعٍٍٍ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ [ رواہ البخاری : باب کلاَمِ الرَّبِّ مَعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا آپ اس وقت فرما رہے تھے کہ جنتیوں میں سے ایک بندے نے اپنے رب سے کھیتی باڑی کی اجازت مانگی۔ اللہ رب العزت نے فرمایا۔ کیا تیرے پاس تیری پسند کی ہر چیز نہیں ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا کیوں نہیں ؟ لیکن مجھے یہ بھی پسند ہے کہ میں کھیتی باڑی کروں چناچہ وہ بیج ڈالے گا۔ پلک جھپکتے ہی فصل اگ آئے گی کھیتی تیارہو جائے گی ‘ اور کٹ جائے گی ‘ پہاڑ کے برابر انبار لگ جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے ابن آدم ! لے تیری خواہش پو ری ہوگئی۔ حقیقتاً تیرا پیٹ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ دیہاتی کہنے لگا ‘ اللہ کی قسم ! وہ شخص قریشی یا انصاری ہوگا کیونکہ وہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو کھیتی باڑی کرنے والے نہیں۔ نبی مکرم ﷺ مسکرادیے۔ “
جنت عدن کی تعریف :
جب کوئی چیز کسی جگہ ہمیشہ کے لیے اقامت گزیں ہوجائے تو عربی میں کہتے ہیں : ” عَدْنَ بِمَکَانِ کَذَا “ اسی لیے کان کو بھی معدن کہتے ہیں کیونکہ یہ جگہ اسی دھات کی قرار گاہ ہوتی ہے۔ جنت کے اعلیٰ درجہ کا نام بھی عدن ہے جو جنت کے وسط میں ہے اسی میں تسنیم کا چشمہ ہے۔ انبیاء کرام، شہداء، صدیقین کے لیے مخصوص ہے۔ ( وَقَالَ مَقَاتَلُ وَالْکَلْبِیْ عَدْنٌ اَعْلَی دَرَجَۃٍ فِیْ الْجَنْۃِ وَفِیْہَا عُیْنٌ تَسْنِیْمٍ وَالْجِنَانَ حَوْلَہَا) [ قرطبی : جلد 8]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جنت تیار کر رکھی ہے۔ جس کی نعمتوں کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔
2۔ صاحب ایمان اور نیک لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جنت کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
3۔ جنت میں کسی قسم کی لغویات، دکھ اور تکلیف نہیں ہوگی۔
4۔ جنتیوں کے لیے ہر وقت نعمتیں حاضر رہیں گی۔
تفسیر باالقرآن
جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے پھل ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30)
4۔ جنت کے پھل ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23)
5۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں چار قسم کی نہریں ہوں گی۔ ( محمد : 10)
Ayah 19:64فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز
مکہ معظمہ میں رسول کریم ﷺ تن تنہا کفار اور مشرکین کا مقابلہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت حمزہ کے اسلام لانے سے پہلے جتنے لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ شخصی قوت کے لحاظ سے انتہائی کمزور تھے دوسری طرف آپ ﷺ کے سب سے بڑے پشتی بان جناب ابو طالب بھی دنیا سے چل بسے تھے۔ گھریلو حالات یہ تھے کہ آپ ﷺ کی غم خوار بیوی حضرت خدیجہ ؓ بھی داغ مفارقت دے چکی تھیں۔ ان حالات میں ایک انسان ہونے کے ناطے سے آپ کا دل پسیج جاتا۔ جس پر اللہ تعالیٰ جبرئیل امین (علیہ السلام) کو بھیج کر تسلی دیتے۔ جب کبھی جبرئیل امین (علیہ السلام) کی آمد کا وقفہ زیادہ ہوجاتا تو آپ انتہائی رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ ایسی ہی صورت حال میں ایک دن آپ نے جبرئیل امین (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ جلدی تشریف لا یا کریں۔ جس کے جواب میں جبرئیل امین نے عرض کی کہ ” اے محبوب خدا ! ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے۔ “ جو کچھ ہمارے آگے اور جو ہمارے پیچھے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یعنی زمین کا زرّہ، زرّہ آسمانوں کا چپہ، چپہ اور جو کچھ ان میں ہے اور تمام ملائکہ آپ کے رب کے غلام اور سب کچھ ” رب “ کے اختیار میں ہے۔ آپ کا رب کوئی بات بھی بھولنے والا نہیں۔ آیت کے آخری الفاظ میں نبی اکرم ﷺ کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حالات سے غافل اور کوئی بات بھول جانے والا ہے۔ اسی بات کو قدرے تفصیل کے ساتھ گیارہویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
” اور نہیں ہوتے آپ کسی حالت میں اور نہ اس کی طرف سے آنے والے قرآن میں سے کچھ تلاوت کرتے ہیں اور نہ آپ کوئی عمل کرتے ہیں مگر ہم آپ پر گواہ ہوتے ہیں،۔ تیرے رب سے کوئی ذرہ بھر چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی مگر واضح کتاب میں موجود ہے۔ “ (یونس : 61)
” وہ تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو۔ اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ [ الشعراء : 218 تا 220]
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا ماذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ جب آسمان پر کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اللہ کے حکم کے ڈر کی وجہ سے فرشتوں کے پروں میں آواز پیدا ہوتی ہے جیسے صاف پتھر پر لوہے کی زنجیر کھنچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دورہوتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں ‘ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ؟ اوپر والے ملائکہ اللہ کے ارشاد کو بیان کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ ہے اللہ کا ارشاد ہے جو بلند وبالا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی فرشتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔
2۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز اوجھل نہیں اور نہ ہی اس کے علم سے کوئی بات فراموش ہوتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کو ہر بات اور اس پر قدرت رکھنے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20)
2۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29)
3۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہے۔ ( الحدید : 4)
4۔ اللہ تعالیٰ آسمانون و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ( المجادلۃ : 7)
5۔ اللہ تعالیٰ حاضر اور غیب کو جاننے والا ہے۔ ( الرعد : 9)
6۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
7۔ اللہ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284)
Ayah 19:65فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں موجود ہے اور جو وہ پیدا کرنے والا ہے، سب کو جانتا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ ! مخالفوں کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی کی طرف توجہ کرنے کی بجائے میری عبادت میں مصروف رہیے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول کریم ﷺ کی ڈھارس بندھانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ جب بھی کفار اور مشرکین کی مخالفت اور ہٹ دھرمی کا ذکر ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی رسول کریم ﷺ کو نماز پڑھنے یا ذکر و اذکار کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ جس کا صاف معنٰی ہے کہ ان لوگوں سے الجھنے اور پریشان ہونے کی بجائے آپ اپنے رب کے ذکر و فکر میں مصروف ہوجایا کریں۔ تاکہ آپ پر اس کی رحمت نازل ہو جس سے آپ کا غم دور ہوجائے۔ اسی اسلوب اور ضرورت کے پیش نظر یہاں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی عبادت کریں اور اس کی عبادت کرنے پر قائم رہیں اسی کا نام لیتے رہیں۔ وہ ایسی لازوال اور بےمثال ہستی ہے جس کا ہمسر ہونا تو درکنار کوئی اس کا ہم نام ہی نہیں۔
اسم ” اللہ “ کی خصوصیت :
(اللہ تعالیٰ کے ننانوے سے زیادہ اسمائے گرامی ہیں۔ اس کا ہر نام اس کی خاص صفت کا ترجمان ہے لیکن قرآن مجید میں تین اسماء گرامی ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، وہ اسماء گرامی یہ ہیں اللہ، الٰہ، رب، ذات کبریا کا اسم اعظم ” اللہ “ ہے۔ باقی دو نام صفاتی ہیں قرآن مجید میں انہیں ناموں کے ساتھ ان تمام صفات کا ذکر پایا جاتا ہے جو اللہ کے نام کے ساتھ ذکر کئی گئی ہیں یہاں رب کا اسم استعمال ہوا ہے جس میں پہلی صفت ربوبیت ہے جس میں اللہ کا اپنے بندے کے ساتھ اپنا ئیت کا تعلق نمایاں ہوتا ہے کیونکہ رب کا معنٰی خالق اور پالنہار ہے اس کے سوا کوئی خالق اور مخلوق کی ضروریات پوری کرنے والا نہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ہمیشگی اختیار کرنے کے لیے ” وَاصْطَبِرْ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنی ہے ” مشکل اور پریشانی کے باوجود مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہنا۔ “ جس کے لیے یہ تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے اور جاننے والا ہے۔ اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ جب اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے تو اے پیغمبر ﷺ ! آپ کی ریاضت و عبادت، پریشانیوں اور مسائل سے آپ کا رب کس طرح غافل ہوسکتا ہے۔
کائنات کے رب نے اپنی مخلوق کی پرورش کا بندوبست ایسے مضبوط نظام کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہر چیز کو زندگی اور اس کی بقا کے لیے جو کچھ اور جس قد رچاہیے اسے اسی حالت اور مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔ پتھر کا کیڑا چاروں طرف بند چٹان کے اندر اپنی خوراک لے رہا ہے، مرغی کا بچہ انڈے میں پل رہا ہے، مچھلیاں دریا میں، پرندے ہوا میں، ستارے فضا میں، اور درندے صحرا میں اپنی اپنی خوراک اور ماحول میں مطمئن اور خوش وخرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر دانہ اپنی آغوش میں زندگی اور ہر بیج اپنے سینے میں نشوونما کا سامان لیے ہوئے ہے۔ زندگی کے لیے ہوا اور پانی اس قدر لازمی عناصر ہیں کہ ان کے بغیر زندگی لمحوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہ اتنے ارزاں اور وافر ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ پھول کی کلی کو جس ہوا اور فضا کی ضرورت ہے اسے مہیا کی جارہی ہے۔ اس لیے قرآن نے اللہ کی ہستی اور اس کے نظام ربوبیت سے بات کا آغاز کیا ہے تاکہ انسان کا وجدان پکار اٹھے کہ مجھے اس ہستی کا شکر ادا کرنا اور تابع فرمان رہنا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ ایک زندہ ضمیر شخص جب اپنے چاروں طرف رب کی ربوبیت کے اثرات و نشانات دیکھتا ہے تو اس کے دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے۔
(فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) [ المؤمنون : 14]
” اللہ تعالیٰ برکت والا اور بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
2۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں ہمیشگی ہونی چاہیے۔
4۔ جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور ہم نام نہیں۔
تفسیر بالقرآن
رب کا معنٰی اور اس کی صفات :
1۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1)
2۔ تمہارا رب ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (المومن : 62)
3۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : 147)
4۔ یہ تمہارا رب ہے اس کے سوا دوسرا کوئی خالق نہیں۔ (الانعام : 102)
Ayahs 19:66–67فہم القرآن
ربط کلام : انسان اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی عبادت سے قولاً یا فعلاً تبھی انکار کرتا ہے جب وہ آخرت کے عقیدہ کو بھول جاتا ہے۔
اسی بنا پر مکہ کے کافر نبی اکرم ﷺ سے بحث کرتے تھے کہ ہماری عقل نہیں مانتی کہ انسان جب مر کر مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا۔ اس عقیدہ کی تائید میں ایک دن ایک آدمی نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں ملتے ہوئے کہا کہ اس کو کس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟ جس کا ان الفاظ میں جواب دیا گیا۔
” ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہتا ہے کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا۔ کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی اور تم اس سے آگ نکالتے ہو۔ بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو پھر ویسے ہی پیدا کر دے کیوں نہیں اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ “ (سورۃ یٰس 78، 79 تا 82 )
دوسرا جواب یہاں یہ دیا گیا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اسے پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ اس کا وجود تک نہ تھا۔ انسان سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ان کی پیدائش سے پہلے انسان نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر انسان کی تخلیق کا یہی معاملہ ہے کہ اس کی پیدائش سے پہلے اسے اور اس کے ماں باپ کو بھی اس کی خبر نہیں تھی کہ بیٹا ہوگا یا بیٹی۔
مسائل
1۔ انسان کی پیدائش سے پہلے اسے کوئی نہیں جانتا۔ 2۔ انسان کی پیدائش اس کے دوبارہ اٹھنے کی دلیل ہے۔
Ayahs 19:68–70فہم القرآن
ربط کلام : کوئی قیامت کا انکار کرے یا اقرار کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب کو اپنی بارگاہ میں جمع کرے گا۔
مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہونے کی حقیقت اس قدر عقلی اور شرعی دلائل پر مبنی ہے جس کا انکار کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کے حوالے سے اسے سمجھایا ہے کہ انسان اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا جس رب نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے کہ وہ دوبارہ اسے کیونکہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ اس لیے رب ذوالجلال نے اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کا رب نہ صرف انھیں اپنے حضور اکٹھا کرے گا بلکہ جس شیطان نے انسان کو گمراہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی ہر مجرم کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔ مجرم جہنم کے پاس گھٹنوں کے بل کھڑے ہوں گے۔ یعنی جہنم کی ہولناکیوں اور اس کی چٹخار سن کر خوف کے مارے ان سے کھڑا نہیں ہوا جائے گا۔ شیاطین کے ساتھ کفر و شرک کے ان سرداروں اور نمائندوں کو بھی مجرم کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا جو رب رحمٰن کی نافرمانی میں دنیا میں آگے آگے تھے۔ یہ ائمۃ الکفر اپنے کارکنان اور مریدوں کے آگے آگے ہوں گے جب جہنم میں داخل ہونے والے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں رک جانے کا حکم دیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے۔ اسی بات کو قرآن مجیدنے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے۔
” جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ساتھیوں اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے سب کو جمع کرلو اور انہیں ان کو جہنم کے رستے پر چلا دو ۔ اور ان کو ٹھیرائے رکھو کہ ان سے پوچھنا ہے۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے بلکہ آج تو وہ فرمانبردار بنے ہوئے ہیں۔ “ (الصافات : 22 تا 27)
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ امْرُؤُ الْقَیْسِ صَاحِبُ لِوَاء الشُّعَرَاءِ إِلَی النَّارِ )
[ رواہ احمد : مسندابی ہریرہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کے شاعروں کا جھنڈا امراء القیس کے ہاتھ میں ہوگا وہ ان کو لے کر جہنم داخل ہوگا۔ “
مسائل
1۔ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔
2۔ قیامت کے دن مجرم کے ساتھ اس کو بہکانے والے شیاطین اور گمراہ رہنماؤں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔
3۔ مجرم جہنم کے کنارے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنّم میں داخلہ کے وقت جہنمیوں کی کیفیت :
1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری حکم کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم برے اعمال کی بجائے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
5۔ اے اللہ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا انہیں دوگنا عذاب کیا جائے۔ ( الاحزاب : 68)
6۔ جب بھی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے۔ (السجدۃ : 20)
7۔ ہر جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27 تا 28)
Ayahs 19:71–72فہم القرآن
ربط کلام : جس جہنم میں مجرموں کو پھینکا جائے گا اس پر متقین کو بھی گزرنا ہوگا۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ وہ کفار، مشرکین کو جہنم میں داخل کرے گا اسی طرح ہی اس کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ نیک لوگوں کو بھی جہنم میں وارد کرے گا۔ پھر انہیں جہنم سے محفوظ فرمائے گا۔ جس جہنم میں مجرم گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ وَارِدْ کا معنی گرنا ہے سورة القصص آیت 23 میں وارِدْ کا معنی کسی کنویں یا گھاٹ کے قریب آنا ہے۔ حدیث میں وارِدْ سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے۔ جس کی کیفیت رسول اکرم ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔
(عَنْ حُذَیْفَۃَ ہُرَیْرَۃَ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَجْمَعُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی النَّاسَ فَیَقُوْمُ الْمُؤْمِنُؤْنَ حَتّٰی تُزْلَفَ لَھُمُ الْجَنَّۃُ فَیَأْتُوْنَ اٰدَمَ فَیَقُوْلُوْنَ یَا اَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُ وَھَلْ اَخْرَجَکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ اِلَّاخَطِیْءَۃُ اَبِیْکُمْ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَالِکَ اِذْھَبُوْااِلَی ابْنِیْ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِ اللّٰہِ قَالَ فَیَقُوْلُ اِبْرَاھِیْمُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَالِکَ اِنَّمَا کُنْتُ خَلِیْلًا مِنْ وَّرَاءٍ وَّرَاءٍ اِعْمِدُوْا اِلٰی مُوْسٰی الَّذِیْ کَلَّمَہٗ اللّٰہُ تَکْلِیْمًا فَیَاْتُوْنَ مُوْسٰی فَیَقُوْلُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَالِکَ اِذْھَبُوْا اِلٰی عِیْسٰی کَلِمَۃِ اللّٰہِ وَرُوْحِہٖ فَیَقُوْلُ عِیْسٰی لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَالِکَ فَیَاْتُونَ مُحَمَّدًا ﷺ فَیَقُوْمُ فَیُؤْذَنُ لَہٗ وَتُرْسَلُ الْاَمَانَۃُ وَالرَّحِمُ فَتَقُوْمَانِ جَنْبَتَی الصِّرَاطِ یَمِیْنًا وَّشِمَالًا فَیَمُرُّ اَوَّلُکُمْ کَالْبَرْقِ قَالَ قُلْتُ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ اَیُّ شَیْءٍ کَمَرِّ الْبَرْقِ قَالَ اَلَمْ تَرَوْااِلَی الْبَرْقِ کَیْفَ یَمُرُّ وَیَرْجِعُ فِیْ طَرْفَۃِ عَیْنٍ ثُمَّ کَمَرِّ الرِّیْحِ ثُمَّ کَمَرِّ الطَّیْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِیْ بِھِمْ اَعْمَالُھُمْ وَنَبِیُّکُمْ قَاءِمٌ عَلَی الصِّرَاطِ یَقُوْلُ یَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتّٰی تَعْجِزَ اَعْمَالُ الْعِبَادِحَتّٰی یَجِیْئَ الرَّجُلُ فَلاَ یَسْتَطِیْعُ السَّیْرَ اِلَّازَحْفًا قَالَ وَفِی حَافَتَیِ الصِّرَاطِ کَلَا لِیْبُ مُعَلَّقَۃٌ مَاْمُوْرَۃٌ تَاْخُذُ مَنْ اُمِرَتْ بِہٖ فَمَخْدُوْشٌنَاجٍ وَمَکْدُوْشٌ فِی النَّارِ وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہٖ اَنَّ قَعْرَ جَھَنَّمَ لَسَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔ ) [ رواہ مسلم : باب أَدْنَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً فیہَا ]
” حضرت حذیفہ اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو جمع کریں گے ‘ ایماندار شخص کھڑے ہوں گے ‘ جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا۔ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آکر کہیں گے اے ہمارے باپ ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوا دیجیے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) عذر پیش کرتے ہوئے کہیں گے کہ تمہیں جنت سے تمہارے باپ کی غلطی نے ہی نکلوایا تھا ‘ میں سفارش کرنے کا اہل نہیں ہوں۔ تم میرے بیٹے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے پاس جاؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے کہ میں اس شفاعت کا اہل نہیں ہوں ‘ میں تو آج سے پہلے پہلے خلیل تھا۔ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ ‘ جن سے اللہ تعالیٰ بلا واسطہ ہم کلام ہوئے چناچہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں وہ کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے آپ عرش کی جانب کھڑے ہوں گے ‘ آپ کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر امانت اور رشتہ داری کو لایا جائے گا وہ دونوں پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھڑی ہوں گی۔ پھر تم میں سے ایک طبقہ بجلی کی مانند گزر جائے گا۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ! بجلی کی مانند گزرنے کی صورت کیا ہوگی ؟ آپ نے فرمایا ‘ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آسمانی بجلی کس قدر تیزی کے ساتھ آتی ہے اور پلک جھپکنے میں واپس چلی جاتی ہے کچھ لوگ پرندوں کی طرح اور کچھ آدمیوں کے دوڑنے کی طرح گزریں گے ‘ ان کے اعمال ان کو چلائیں گے اور تمہارے نبی ﷺ پل صراط پر کھڑے ہوئے ‘ یہ کہے جا رہے ہوں گے اے رب ! سلامتی عطا کر ‘ سلامتی عطا فرما حتیٰ کہ لوگوں کے اعمال انہیں چلانے سے عاجز آجائیں گے ‘ آخر ایک شخص آئے گا ‘ وہ پل صراط پر سے اپنے کو لہوں کے بل سرکتا ہوا گزرے گا اس کے بعد آپ نے فرمایا ‘ پل صراط کے دونوں کناروں پر کنڈیاں لٹک رہی ہوں گی ‘ جنہیں حکم ہوگا کہ وہ ان لوگوں کو کھینچ لیں جو قابل گرفت قرار ہوں گے کچھ لوگ زخمی ہو کر نجات پاجائیں گے۔ اور کچھ لوگ دوزخ میں گرجائیں گے اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے بلا شبہ جہنم کی گہرائی ستر برس کی مسافت کے برابر ہے۔ “
مسائل
1۔ مجرموں کو جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ 2۔ متقین کو جہنم سے بچا لیا جائے گا۔
Ayah 19:73فہم القرآن
ربط کلام : مجرم اس لیے بھی جہنم میں پھینکے جائیں گے کیونکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دیتے اور اس پر اتراتے تھے۔
مجرموں کا جہنم میں داخل ہونے کا بنیادی سبب یہ بھی ہوگا کہ وہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دیتے ہوئے اس پر اتراتے ہیں۔ انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے مخالفین کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ جب ان کے سامنے ٹھوس اور واضح دلائل اور اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے لوگ رعونت کی بنا پر ایمانداروں سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ کہ دنیوی مقام و مرتبہ، اور رہنے سہنے میں ہم میں سے کون بہتر ہے ؟ یہی نبی ﷺ کے مخالفین کا رویہ تھا ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے ایسی قوموں کو تباہ و برباد کیا۔ جو شان و شوکت اور اسباب و وسائل کے اعتبار سے ان سے بہت آگے تھیں۔
(وَکَأَیِّنْ مِنْ قَرْیَۃٍ ہِیَ أَشَدُّ قُوَّۃً مِنْ قَرْیَتِکَ الَّتِی أَخْرَجَتْکَ أَہْلَکْنَاہُمْ فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ ) [ محمد : 13]
” اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے بڑھ کر طاقتور تھیں، جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے۔ ہم نے انہیں ہلاک کیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔ “
(وَکَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَا اٰتَیْنَاہُمْ فَکَذَّبُوا رُسُلِی فَکَیْفَ کَانَ نَکِیرِ ) [ السبا : 45]
” ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا اور یہ لوگ اس ترقی کو نہیں پہنچے جو ہم نے انہیں عطا کی تھی پھر انہوں میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے ساتھ انکار کرنے کی وجہ سے انہیں کس انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ “
منکرین حق کی شروع سے یہ سوچ اور طریقہ رہا ہے کہ وہ ایمانداروں کے ساتھ صالح کردار کی بجائے دنیا کی ترقی اور اسباب کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں۔ اس منفی سوچ میں اس قدر گمراہی میں وہ آگے چلے جاتے ہیں کہ جس سے انھیں غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ دنیا میں جو مقام، شہرت اور ترقی ہمیں حاصل ہوئی ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر راضی ہے تبھی تو اس نے ہمیں دنیا میں ایک مقام اور یہ سہولتیں دے رکھی ہیں۔
مسائل
1۔ منکرین حق اور دنیا دار لوگ، ایمانداروں کے مقابلہ میں دنیا کی شہرت اور آسائش سے مقابلہ کرتے ہیں۔
2۔ دنیا کے اسباب پر اترانے والوں کو اللہ تعالیٰ تباہ کردیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور اس کے وسائل کی حقیقت :
1۔ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17)
2۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : 26)
3۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن : 39)
4۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں ہمیشہ رہنے والے نیک اعمال ہیں۔ ( الکہف : 46)
5۔ یقیناً دنیا کی زندگی عارضی فائدہ ہے اور آخرت کا گھر ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔ (المؤمن : 43)
6۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے اور آخرت متقین کے لیے بہتر ہے۔ (النساء : 77)
7۔ جو کچھ زمین میں ہے وہ باعث آزمائش ہے۔ (الکہف : 7)
8۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے۔ (آل عمران : 185)
9۔ دنیا کی زندگی کی مثال آسمان سے نازل ہونے والی کی طرح ہے۔ (یونس : 24)
10۔ دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے۔ (العنکبوت : 64)
11۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر ہے۔ (البقرۃ : 174)
12۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔ (التوبۃ : 38)
Ayahs 19:74–75فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کو دنیوی وسائل ملنے کی وجہ۔
حق والوں کی اکثریت دنیا کی ترقی کے اعتبار سے منکرین حق سے پیچھے رہتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حق والے شریعت کی حدود وقیود کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حق اور سچ کی پرواہ نہ کرنے والے دنیا کی ترقی میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس ترقی کی وجہ سے وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال اور معاملات پر راضی ہے جس وجہ سے اس نے ہمیں ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ انھیں متنبہ فرما دیں۔ رب رحمٰن انھیں اس لیے ڈھیل دیے جا رہا ہے تاکہ قیامت یا اس سے پہلے ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے انہیں اس سے دوچار کرے۔ جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ دنیا میں عذاب کی شکل میں یا قیامت کا دن آئے گا تو وہ ہر صورت دیکھ لیں گے کہ کون مقام اور افرادی قوت کے اعتبار سے کمزور ترین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے اسماء الحسنیٰ میں رحمٰن کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اس کی شفقت اور مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے منکرین کو نہ صرف ڈھیل دے رکھی ہے بلکہ انھیں دنیاوی وسائل سے بھی مالا مال کیا ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ہے۔ یہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے سامنے تکبر کا اظہار اور ایمانداروں کے ساتھ ظلم کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
(فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰٓی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) [ الانعام : 44]
” پھر جب وہ اس کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو وہ ناامیدہوگے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَعَنْ رَسُول اللَّہ ﷺ قَالَ إِنَّہُ لَیَأْتِی الرَّجُلُ الْعَظِیم السَّمِینُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لاَ یَزِنُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ وَقَالَ اقْرَءُ وا (فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) [ رواہ البخاری : باب (أُولَءِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بآیَاتِ رَبِّہِمْ وَلِقَاءِہِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ ) الآیَۃَ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : یقیناً روز قیامت ایک بڑا اور موٹا آدمی لایا جائے گا۔ لیکن اللہ کے ہاں اس کا مچھر کے پر کے برا بر بھی وزن نہ ہوگا۔ فرمایا : یہ آیت پڑھو ( قیامت کے دن ہم ان کافروں کے لیے ترازوقائم نہیں کریں گے) ۔ “
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بازار کی ایک طرف سے داخل ہوئے آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا چاہے گا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : ہم اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب یہ مرا ہوا ہے تو ہم کیسے اسے پسند کریں گے۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا ہی حقیر اور بےفائدہ ہے۔ اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ایک وقت معیّن تک ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔
2۔ اللہ کے عذاب یا قیامت کے دن مجرموں کو معلوم ہوگا کہ ان کی کیا حیثیت ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن منکرین کا حال :
1۔ ہم مجرموں سے انتقام لیا کرتے ہیں۔ ( سجدہ : 22)
2۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : 11)
3۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ : 92)
4۔ جہنم میں جہنمی اس بات کا اقرار کریں گے کہ کاش عقل وفکر سے کام لیتے۔ ( الملک : 10)
Ayah 19:76فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو ہدایت میں زیادہ کرتا ہے۔
منکرین حق کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اچھے اعمال کرنے کی مزید توفیق عطا فرماتا ہے اچھے اعمال ہی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ایسے لوگ ہی آپ کے رب کے نزدیک اجر وثواب اور نتیجہ کے اعتبار سے بہتر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ منکرین حق کے مقابلہ میں نہ صرف ہدایت میں اپنے بندوں کو مضبوط اور زیادہ کرتا ہے۔ بلکہ انھیں صالح اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
(مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْآخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِی الْآخِرَۃِ مِنْ نَّصِیبٍ ) [ الشوریٰ : 20]
” جو شخص آخرت کا خواہاں ہے ہم اس کی آخرت کی کھیتی میں اضافہ کردیں گے اور جو دنیا کا طلب گار ہے ہم اسے دنیا عطا کریں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہٗٓ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ الاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَّدْعُوْ لَہٗ ) [ رواہ مسلم : باب مَا یَلْحَقُ الإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہٖ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول محترم ﷺ کا ارشاد ذکر کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا آدمی کے فوت ہونے سے اس کے عمل کا تسلسل ختم ہوجاتا ہے۔ مگر تین اعمال کے علاوہ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) ایساعلم جس سے لوگ مستفید ہوتے رہیں۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے۔ “
مسائل
1۔ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو نیکی کا بہترین صلہ عطا فرمائیگا۔
Ayahs 19:77–80فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں کفر اور سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کی جا رہی تھی۔ جس میں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ظالموں کو مہلت دیتا ہے اس کے بعد مختصر طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کا ذکر اور ان کے بہترین انجام کا بیان فرمایا۔ اب پھر کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ ذہن کی ترجمانی کی جا رہی ہے۔
کفر و شرک اور سرمایہ دارانہ خیال رکھنے والا شخص یہ سوچتا ہے کہ جس طرح دنیا میں اسے نوازا گیا ہے اسی طرح ہی آخرت میں اسے نوازا جائے گا۔ مکہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو نہ صرف یہ ذہن رکھتے تھے بلکہ اس بات کا برملا اظہار کرتے تھے جس بنا پر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کیا آپ نے اس شخص کی گفتگو نہیں سنی جو یہ کہتا ہے کہ میں آخرت میں بھی مال اور اولاد میں زیادہ ہوں گا۔ اس سے پوچھیے کیا اس نے پردہ غیب سے سب کچھ دیکھ لیا ہے یا رب رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے ؟ کہ وہ اسے آخرت میں بھی نوازے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ البتہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے ہم لکھ رہے ہیں اور ہم اس کے لیے عذاب کو بڑھائیں گے۔ جس مال اور اسباب کے بارے میں یہ غرور کرتا ہے اس کے ہم ہی حقیقی مالک ہیں اور وارث ہوں گے۔ قیامت کے دن اسے تنہا ہمارے پاس حاضر ہونا ہوگا۔ اس کا مال اور اولاد اسے کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ یہ بات عیاں ہے کہ اللہ کے ہاں انسان کا ہر اچھا اور برا عمل لکھا جاتا ہے، اس کے باوجود لکھنے کا کا ذکر کیا ہے۔ جس کا مقصد ایک تنبیہ اور دھمکی ہے۔
مسائل
1۔ کافر یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی طرح آخرت میں بھی نوازا جائے گا۔ 3۔ انسان جو کچھ بولتا اور کرتا ہے اسے لکھ لیا جاتا ہے۔
2۔ قیامت کے دن مجرم کو اس کا مال اور اولاد اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔
Ayahs 19:81–82فہم القرآن
ربط کلام : شرک کرنے کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کو کارساز، خود مختار اور ایک جاننے کی بجائے دوسروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے مشرک اور کافر اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے سامنے ہاتھ جوڑتے، جھکتے، سجدے کرتے اور نذ ونیاز پیش کرتے ہیں۔ ذات کبریا کا اصل نام ” اللہ “ ہے اس کا متبادل نام الٰہ ہے۔ جو متبادل نام ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تمام بڑی بڑی صفات کا ترجمان ہے۔ اس کا ایک معنٰی حاجت روا، مشکل کشا ہے۔ (النمل : 62)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات سے منع کیا ہے کہ لوگو ! اللہ کے سوا نہ کسی کی عبادت کرو اور نہ کسی کو پکارو اور نہ اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت کرو کیونکہ (تمھارا الٰہ ایک ہی ہے۔ وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ البقرۃ : 163) لیکن مشرک یہ بات ماننے اور سمجھنے کی بجائے ان بزرگوں کے سامنے اپنی حاجات پیش کرتے ہیں۔ جن کو یہ معلوم بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ جب انھیں اٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا تو نہ صرف وہ مشرکوں کے شرک سے انکار کریں گے بلکہ ان کے مخالف شہادت دیتے ہوئے کہیں گے کہ بارالٰہ نہ صرف ہم ان کے شرک کی مذمت اور انکار کرتے ہیں بلکہ ہماری درخواست ہے کہ شرک کرنے والوں کو جہنم میں جھونکا جائے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ جو علماء یہ کہہ کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ من دون اللہ سے مراد پتھر، مٹی اور لکڑی کے بت ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے قرآن و حدیث میں کہیں نہیں آیا کہ قیامت کے دن بتوں میں جان ڈالی جائے گی۔ البتہ جن پتھر کے بتوں کی پوجا کی جاتی تھی انھیں مشرکوں کے ساتھ ہی جہنم میں پھینکا جائے گا۔ یہاں من دون اللہ کا معنٰی وہ فوت شدگان بزرگ ہیں۔ جن کو لوگوں نے داتا، دستگیر، حاجت روا اور مشکل کشا بنالیا تھا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ کوئی عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔
2۔ جن انبیاء اور اولیاء کو لوگ حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے وہ قیامت کے دن پکارنے والوں کا صاف انکار کریں گے۔
Ayahs 19:83–84فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک کا بنیادی محرّک اور سبب شیطان ہوتا ہے۔ جب شیطان انسان پر مسلط ہوجائے تو انسان غیر اللہ کی عبادت کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ ہم شیاطین کو کفار کی طرف بھیجتے ہیں جو انھیں کفر و شرک پر ابھارتے ہیں۔ شیاطین سے مراد جناّت اور وہ انسان ہیں جو لوگوں کو برائی اور کفر و شرک پر آمادہ کرتے ہیں۔ ان میں وہ علماء، پیر اور حکمران بھی شامل ہیں جو لوگوں کو شرک و بدعت کا سبق دیتے ہیں یا ایساماحول بناتے ہیں جس سے شرک و بدعت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی سزا کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دے رکھی ہے لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر اور اس کے علم میں نہیں ہیں، ایسا ہرگز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال اور دن شمار کر رہا ہے۔ قیامت کے دن انھیں ایک ایک عمل کا حساب چکا دیا جائے گا۔ دن شمار کرنا ہر زبان میں ایک محاورہ ہے جو دھمکی کے معنٰی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان بھیجنے کا معنی ڈھیل دینے کے مترادف ہے۔
(وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ وَاِِنَّہُمْ لَیَصُدُّونَہُمْ عَنْ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُہْتَدُوْنَ )[ الزخرف : 36۔ 37]
” اور جو شخص اللہ کی یاد سے منہ موڑتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلّط کردیتے ہیں۔ وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔ اور یقیناً شیطان ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں۔ گمراہ لو گسمجھتے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر گامزن ہیں۔ “
مسائل
1۔ کفر و شرک اختیار کرنے والوں پر شیطان مسلّط ہوتا ہے۔
2۔ شیطان انسان کو شرک و بدعت اور برائی کے راستہ پر ڈالتا ہے۔
Ayah 19:85فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کا موازنہ جاری ہے۔
کفار اور مشرکین کے عقیدہ اور کردار کی وجہ سے ان پر شیطان مسلّط کردیے جاتے ہیں۔ کفر و شرک سے اجتناب اور کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کی اللہ تعالیٰ رہنمائی اور دستگیری کرتا ہے۔ جس بنا پر ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا۔ وہ دنیا میں اس طرح زندگی گزارتے ہیں جس طرح ان کے رب نے حکم دیا ہے۔ ایسے لوگوں پر ان کے رب کا یہ انعام ہوگا کہ جب وہ دنیا سے کوچ کریں گے تو موت سے پہلے ملائکہ انھیں ان الفاظ میں خوشخبری سنائیں گے۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر پکے ہوگئے ان پر ملائکہ کا نزول ہوگا جو انھیں تسلّی دیں گے اب تمہیں خوف اور غم کرنے کی بجائے اللہ کے کیے ہوئے وعدہ کے مطابق جنت پر خوش ہونا چاہیے۔ اللہ دنیا کی زندگی میں بھی تمہارا خیر خواہ اور کارساز تھا اور آخرت میں بھی ہوگا۔ تمہیں سب کچھ ملے گا جو تم چاہو گے۔ تمہاری مہمان نوازی تمہارا غفور رحیم رب فرمائے گا۔ (حٰم السجدۃ : 30 تا 32)
متقی لوگ اس تسلی اور خوشخبری کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں وفود کی صورت میں پیش ہوں گے انھیں ہر قسم کا سکون اور اطمینان نصیب ہوگا۔ یاد رہے کہ کفار، مشرکین اور اللہ کے باغیوں کو ملائکہ رنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کرینگے لیکن متقین کو ملائکہ بڑے ادب واحترام کے ساتھ رب رحمن کے سامنے پیش فرمائیں گے۔ متقین کو اس طرح پیش کرنے کو ازراہ کرم رب رحمن نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔
مسائل
1۔ متقی حضرات کی رب رحمٰن مہمان نوازی فرمائیں گے۔ 2۔ متقین کو موت کے بعد کوئی غم اور خوف نہ ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
متقین کا مقام اور مرتبہ :
1۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128) 2۔ متقین امن و سلامتی والے گھر میں ہوں گے۔ (الدخان : 51)
3۔ متقین کے لیے دنیا میں بھلائی ہے اور آخرت ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (النحل : 30)
4۔ متقین کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : 198)
5۔ اللہ تعالیٰ متقین کو قیامت کے دن گروہ در گروہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ (الزمر : 73)
Ayahs 19:86–87فہم القرآن
ربط کلام : متقین کے مقابلہ میں مجرمین کا انجام۔
ایک طرف متقین کو انعام و اکرام کے ساتھ نوازا جارہا ہوگا اور دوسری طرف مجرمین کو ملائکہ بیڑیوں میں جکڑ کر آگ کے کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہوں گے۔ مجرم خوف اور پیاس کی شدت کی وجہ سے ہلکان ہو رہے ہوں گے۔ کیونکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ مجرمین تانبے جیسی زمین پر کھڑے ہونگے جس پر سورج اپنی پوری تپش اور شدت کے ساتھ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ مزید یہ کہ مجرم جہنم کو اپنے سامنے دیکھیں گے۔ اس خوف اور سورج کی حدّت کی وجہ سے پیاس کے مارے ان کے کلیجے کٹ رہے ہوں گے اور زبانیں منہ سے باہر نکلی ہوں گی۔ اس کیفیت میں انھیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔ دنیا میں جن لوگوں پر یہ اعتماد اور بھروسہ کرتے تھے وہ ان کی کوئی سفارش نہیں کرسکیں گے۔ سفارش تو ان لوگوں کے حق میں وہی لوگ کرسکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ ظاہر ہے مشرک اور کافر کی کوئی بھی سفارش نہیں کرسکے گا اور نہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرسکیں گے۔ اَلرَّحْمٰنَ سے عہد لینے سے مراد اس کی طرف سے سفارش کی اجازت ملنا ہے۔
مسائل
1۔ مجرمین کو جہنم میں دھکیلا جائے گا۔ 2۔ مجرموں کی کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہوگا۔
3۔ سفارش وہی شخص کرسکے گا جس کو رب رحمٰن اجازت عنایت فرمائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن سفارش و شفاعت کے اصول :
1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس : 3)
2۔ صرف اللہ تعالیٰ کی اجازت سے سفارش ہو سکے گی۔ (البقرۃ : 255)
3۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے رحمن اجازت دے گا۔ (مریم : 87)
4۔ شفاعت اسی کے حق میں ہوگی جس پر رحمن راضی ہوا۔ (طٰہٰ : 109)
Ayahs 19:88–95فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کچھ بزرگ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات منواسکتے ہیں انھوں نے اسی وجہ سے ہی یہ عقیدہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اولاد رکھتا ہے۔
قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگوں کو یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی سفارش کا حق دیا جائے گا لیکن یہ لوگ اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ سفارش کرنے والی کتنی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو وہ اس حد تک ہی سفارش کرپائے گی جس حد تک اسے سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ عقیدہ اختیار کرلیا ہے کہ کچھ بزرگ اللہ تعالیٰ سے اپنی منوا سکتے ہیں بلکہ جسے چاہیں چھڑا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہودیوں نے حضرت عزیر کو اور عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرار دیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی اور کی بات رد کرسکتا ہے مگر اپنے چہیتے بیٹوں کی بات رد نہیں کرسکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں اور نہ اس کی ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے۔ کیونکہ نہ اس کی بیوی ہے نہ وہ محبت کرنے یا کسی سے خدمت کروانے کا محتاج اور نہ اسے سلسلہ نسب رکھنے کی حاجت ہے۔ زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اس کا تابع فرمان اور عاجز غلام ہے۔ اس نے ہر چیز شمار اور ہر بات کا اندراج کر رکھا ہے۔ ہر کوئی اس کی بارگاہ میں اکیلا ہی پیش ہوگا یعنی اس کے ساتھ کوئی حمایتی اور سفارشی نہیں ہوگا۔ اس کے خلاف عقیدہ رکھنا اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا سنگین جرم اور بڑا گناہ ہے۔ اس کے بارے میں فرمایا ہے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نیچے گرپڑیں۔ اولاد تو اسے رکھنے کی ضرورت ہے، جو سہارے کا محتاج ہو یا اسے کسی وارث کی حاجت ہو اللہ تعالیٰ ان ضرورتوں اور کمزوریوں سے مبّرا ہے وہ ہمیشہ سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم دائم رہے گا۔ اسے کسی لحاظ سے کوئی کمزوری لاحق نہیں ہوتی وہ ہر کمزوری سے پاک ہے۔ نہ ہی وہ کسی کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہے کہ وہ اسے بیٹا بنائے یا اسے اپنی خدائی میں کسی کو شریک کرے اس لیے آپ کو حکم ہوا
” کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس کا نام اللہ ہے ایک ہے وہ معبودِ برحق بےنیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ “ [ الاخلاص ]
مسائل
1۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد گرداننا سنگین ترین گناہ ہے۔ 2۔ کسی کو اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں۔
3۔ اس ظالمانہ اور مشرکانہ عقیدہ کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ زمین پھٹ جائے، آسمان شق ہوجائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرپڑیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں :
1۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے بےنیاز ہے۔ (یونس : 68)
2۔ انہوں نے کہا اللہ نے اولاد بنائی ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116)
3۔ مشرکین نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ سارے اسی کے بندے ہیں۔ (الانبیاء : 26)
4۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ (المومنون : 91)
5۔ ہمارے پروردگار کی شان بڑی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے نہ اس کی اولاد ہے۔ (الجن : 3)
Ayah 19:96فہم القرآن
ربط کلام : مجرم قیامت کے دن اکیلے اکیلے اپنے رب کے حضور پیش ہونگے اور ان کے درمیان کسی قسم کی کوئی محبت اور تعلق باقی نہیں رہے گا وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں ان کے مقابلے میں مومنوں کے دل میں محبت پیدا کردی جائے گی۔
قرآن مجید اپنے مؤثر ترین انداز کے مطابق یہاں بھی کفار اور مشرکین کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد ایماندار بندوں کا کردار اور ان کا صلہ ذکر کرتا ہے۔ ایمان سے مراد خالی خولی دعویٰ نہیں بلکہ ایمان ایک جامع لفظ ہے جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ انسان عقیدہ توحید، سرور ﷺ دو عالم کی اطاعت اور آخرت پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرئے۔ اس لیے قرآن مجید ایمان کے ساتھ صالح اعمال کا اکثر ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ اس طرح کا ایمان اور کردار اختیار کریں گے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ انھیں اپنی محبت کے دامن میں جگہ دے گا۔ بعض اہل علم نے اس کا یہ مفہوم بھی لینے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا کرے گا۔ گرائمر کے اعتبار سے اس کی گنجائش نہ بھی ہو۔ لیکن حقیقی ایماندار اور باکردار لوگوں کے درمیان محبت ہونا لازم اور فطری بات ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ راوی بیان کرتا ہے : پھر جبرائیل (علیہ السلام) اس شخص سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد آسمان پر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ سب اس کے ساتھ محبت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد زمین میں بھی اس کی محبت بڑھ جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو برا سمجھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر حکم دیتا ہے کہ میں فلاں شخص کو برا سمجھتا ہوں تم بھی اسے برا جانو۔ راوی نے بیان کیا ‘ پھر جبرائیل (علیہ السلام) اسے برا سمجھتے ہیں اور پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو برا جانتا ہے تم بھی اس سے بغض رکھو۔ چناچہ وہ اس سے بغض کرنا شروع کردیتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت پھیلا دی جاتی ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب إِذَا أَحَبَّ اللَّہُ عَبْدًا حَبَّبَہُ إِلَی عِبَادِہِ ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ صحیح عقیدہ اور صالح کردار اختیار کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔