Ayahs 20:5–11خدا کا استوا علی العرش ہونا
قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔
قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات وہ ہے جو سرے سے ہوتی نہیں اور نہ ہی کوئی شخص اپنے دل میں اسے چھپائے رکھتا ہے۔
Ayahs 20:12–13وادی طویٰ میں موسیٰ کو جوتے اتارنے کا حکم کیوں دیا گیا ؟
قول باری ہے (فاخلع نعلیک اپنی جوتیاں اتار دو ) حسن اور ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جوتے اتار دینے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ وہ اپنے قذموں کے ذریعے وادی مقدس کی برکت سے براہ راست فیض یاب ہوجائیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس پر بعد کی آیت دلالت کرتی ہے جو یہ ہے (انک بالوادی المقدس طویٰ تو وادی مقدس طویٰ میں ہے) عبارت کی ترتیب اس طرح ہے ” اخلع نعلیک لانک بالوادی المقدس (اپنی جوتیاں اتار دو اس لئے کہ تم وادی مقدس میں ہو) کعب اور عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ایک مردہ گدھے کے چمڑے کی بنی ہوئی تھیں اس لئے انہیں اتار دینے کا حکم دیا گیا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور طواف کرنے کی کراہت پر کوئی دلالت نہیں ہے اس لئے کہ اگر پہلی تاویل اختیار کی جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ وادی مقدس کی برکت سے فیض یاب ہونے کے لئے قدموں کو براہ راست اس سے ملانے کا حکم دیا گیا جس طرح ججز اسود سے برکت حاصل کرنے کی غرض سے اسے ہاتھ لگانے اور بوسہ لینے کا حکم ہے۔ اس صورت میں جو تایں اتارنے کا حکم صرف اسی وادی تک اور اس حالت تک محدود رہے گا۔ اگر دوسری تاویل اختیار کی جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ مردہ گدھے کا چمڑا پہننا ممنوع تھا خواہ وہ کمایا ہوا کیوں نہ ہوتا۔ اگر یہ بات ہے تو یہ حکم اب منسوخ ہوچکا ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (ایما اھاب دبع فقد طھر جس کچے چمڑے کو کما لیا جائے وہ پاک ہوجاتا ہے۔
جوتوں سمیت نماز پڑھانا جائز ہے
آپ ﷺ نے ایک دفعہ جوتوں سمیت نماز شروع کی اور پھر نماز کے دوران انہیں اتار دیا یہ دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنے اپنے جوتے اتار دیئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیئے۔ “ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے جو اپنے جوتے اتار دیئے تھے اس لئے ہم نے بھی اتار دیئے۔ اس پر آپ نے فرمایا۔” میں نے اپنے جوتے اس لئے اتار دیئے تھے کہ جبرئیل نے آ کر مجھے بتایا تھا کہ اس میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ “ اس روای ت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آپ نے جوتوں سمیت نماز پڑھنے کو مکروہ نہیں سمجھا بلکہ جوتے اتار دینے والوں کے اس فعل پر انہیں ٹوکا اور ساتھ ہی یہ بتادیا کہ میں نے جوتے جو اتار دیئے تھے تو اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ جبرئیل نے مجھے بتایا تھا کہ اس میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اس پر محمول ہے کہ گندگی کی مقدار قلیل تھی، اگر گندگی کی مقدار زیادہ ہوتی تو آپ نئے سرے سے نماز پڑھتے۔
Ayahs 20:14–16بھولی ہوئی نماز جب یاد آئے اسی وقت ادا کی جائے نہ کہ اگلے روز والی نماز کے وقت میں
قول باری ہے (واقیم الصلوۃ للذکری اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر) حسن اور مجاہد کا قول ہے تاکہ نماز کے اندر تو تسبیح و تعظیم کے ذریعے مجھے یاد کرے۔ “ ایک قول کے مطابق ” تاکہ میں تجھے تیری مدد و توصیف کے ساتھ یاد کروں۔ “ زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے ایک مرتبہ حضور ﷺ کی آنکھ صبح کی نماز کے لئے نہیں کھلی یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ آپ نے طلوع شمس کے بعد نماز اد ا کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اقم الصلوۃ لذکری) ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من نسی صلاۃ فلیصلھا اذا ذکرھا لاکفارۃ لھا الا ذلک۔ جس شخص کی کوئی نماز نسیان کی وجہ سے رہ جائے تو جب اسے یاد آئے نماز پڑھ لے اس پر اس کے سوا اس نماز کا اور کوئی کفارہ نہیں ہے) پھر اپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (اقم الصلوۃ لذکری) یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری (اقم الصلوۃ للذکری) میں اس نماز کی ادائیگی مراد ہے جو کسی کی رہ گئی ہو۔ تاہم اس سے ان دوسرے معانی کی نفی لازم نہیں آتی جن پر دوسرے حضرات نے آیت کی تا دیں کو محمول کیا ہے اس لئے کہ ان معانی کا آپس میں کوئی منافات نہیں ہے گویا یوں ارشاد ہوا۔” نماز قائم کرو جب تمہیں بھولی ہوئی نماز یاد آ جائے تاکہ اس نماز میں تم مجھے تسبیح و تعظیم کے ذریعے یاد کرو تاکہ میں بھی تمہیں مدح و توصیف کے ساتھ …… یاد کروں۔ “ اس طرح تمام معانی آیت کی مراد قرار پائیں گے۔ روایت میں یاد آ جانے پر بھلوی ہوئی نماز کی قضا کے ایجاب کا جو ذکر ہے اس میں فقہاء کے مابین کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ تاہم اس بارے میں سلف میں سے بعض سے ایک شاذ قول بھی مروی ہے جس پر کسی کا عمل نہیں ہے۔
شاذ قول
اسرائیل نے جابر سے انہوں نے ابوبکر بن موسیٰ سے اور انہوں نے حضرت سعد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی نماز کو ادا کرنا بھول جائے تو جس وقت اسے یاد ا ٓ جائے نماز ادا کرلے اور اگلے دن اس جیسی نماز پھر دوبارہ ادا کرے۔ “ الجریری نے ابو نفرہ سے اور انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سے روایت کی ہے کہ جب کسی شخص کی کوئی نماز ادا ہونے سے رہ جائے تو وہ اگلے دن اس نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کرے۔ ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : جس وقت تمہیں یاد آ جائے نماز ادا کرلو۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا دونوں قول شاذ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ روایت میں حضور ﷺ کا جو حکم وارد ہوا ہے اس کے بھی خلاف ہیں۔ آپ نے فوت شدہ نماز کو یاد آنے پر پڑھ لینے کا حکم دیا اور اس سلسلے میں اس نماز کے سوا کسی اور نماز کی ادائیگی کا حکم نہیں دی۔ فوت شدہ نماز کے ذک کے بعد اور اس ارشاد کے بعد کہ (من نسی صلوۃ فلیصلھا اذا اذکرھا) حضور اللہ علیہ وسلم کا آیت (واقیم الصلوۃ للذکری) کی تلاوت کرنا اس امر کا موجب ہے کہ آیت میں یاد آ جانے پر فوت شدہ کی قضا پڑھ لینا مراد ہے اور یہ چیز فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کی مقتضی ہے اس لئے کہ جب ایک شخص کو یاد آ جانے پر فوت شدہ نمازپڑھ لینے حکم دیا گیا ہے اور یہ یاد اسے کسی اور نماز کے وقت کے اندر آئی ہو تو لامحالہ ایسی حالت میں اسے اس وقت کی نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اگر وہ فوت شدہ نماز سے پہلے اس وقت کی نماز کی ادائیگی کرے گا تو یہ نماز فاسد ہوجائے گی اس لئے کہ نہی فساد صلوۃ کی مقتضی ہے حتیٰ کہ اس کے سوا کسی اور صورت کے لئے کوئی دلالت قائم ہوجائے۔
فوت شدہ نمازوں کو ادا کرنے پر فقہاء کا اختلاف رائے
اس مسئلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے فوت شدہ نمازوں اور وقتی نماز کے درمیان ایک دن اور رات اور اس سے کم وقت کی نمازوں کی صورت میں ترتیب واجب ہے بشرطیکہ وقت کے اندر فوت شدہ نماز اور وقتی نماز دونوں پڑھ لینے کی گنجائش ہو۔ لیکن اگر فوت شدہ نماز میں ایک دن اور ایک رات کی نمازوں سے پڑھ جائیں تو پھر ترتیب واجب نہیں رہتی۔ ان کے نزدیک فوت شدہ نماز کے سلسلے میں نسیان ترتیب کو ساقط کردیتا ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ ترتیب واجب ہے خواہ وہ فوت شدہ نماز کو بھول ہی کیوں نہ چکا ہو۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فوت شدہ نمازوں کی تعداد زیادہ ہو تو وہ وقتی نماز سے ابتدا کرے گا اور اس نماز کی ادائیگی کے بعد جو نمازیں وہ بھول چکا تھا انہیں پڑھے گا۔ اگر فوت شدہ نمازوں کی تعداد پانچ ہو اور صبح کی نماز سے پہلے یہ نمازیں یاد آ گئی ہوں تو صبح کی نماز ادا کرنے سے پہلے وہ ان نمازوں کی ادائیگی کیر گا خواہ صبح کی نماز کا وقت فوت کیوں نہ ہوجائے۔ اگر اس نے صبح کی نماز ادا کرلی اور پھر اسے چند نمازوں کی یاد آئی تو وہ انہیں ادا کرے گا اور جب ان کی ادائیگی سے فارغ ہوجائے گا تو صبح کی نماز کا اعادہ کرے گا ۔ بشرطیکہ صبح کی نماز کا وقت باقی ہو۔ اگر صبح کی نماز کا وقت نکل گیا ہو تو پھر اس صورت میں اعادہ نہیں کرے گا۔ سفیان ثوری نے بھی وجوب ترتیب کا قول کیا ہے تاہم فوت شدہ نمازوں کی تعداد کی کثرت اور قلت کے درمیان فرق کے متعلق ان سے کوئی قول مروی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان سے ایک دفعہ اس شخص کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تھا جس نے عصر کی ایک رکعت پڑھ لی پھر اسے یاد آیا کہ اس نے ظہر کی نماز وضو کئے بغیر ادا کرلی تھی۔ سفیان ثوری نے جواب دیا کہ وہ عصر کی ایک رکعت کے ساتھ ایک اور رکعت پڑھ لے گا پھر سلام پھیر کر ظہر کی نماز پڑھے گا اور اس کے بعد عصر کی ۔
اوزاعی سے اس سلسلے میں دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک روایت ترتیب کے اسقاط کو اور دوسری روایت ترتیب کے ایجاب کو بیان کرتی ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر ایک شخص امام کی اقتدار میں نماز پڑھ رہا ہو۔ ایک رکعت کے بعد اسے بھولی ہوئی نماز یاد آ گئی تو امام کے پیچھے اپنی نماز جاری رکھے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد بھولی ہوئی نماز ادا کرے گا اور امام کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ کرے گا۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر ایک شخص نے کئی نمازیں بغیر وضو پڑھ لی ہوں اور نیند کی وجہ سے یہ نمازیں رہ گئی ہوں تو فوت شدہ نمازیں ترتیب کے ساتھ اد اکرے گا۔ اگر اس دوران فرض نماز کا وقت آ جائے تو اسے چھوڑ کر فوت شدہ نمازیں ادا کرتا جائے گا یہاں تک کہ وقتی نماز تک جا پہنچے گا خواہ اس دوران اس نماز کا وقت نکل کیوں نہ جائے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ پسندیدہ بات یہ ہے کہ فوت شدہ نماز کی ادائیگی سے ابتدا کے گا۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور وقتی نماز ادا کرلیتا ہے تو اس کی ادائیگی ہوجائے گی۔ ان کے نزدیک فوت شدہ نمازوں کی تعداد خواہ قلیل ہو یا کثیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عمر سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو شخص کوئی نماز بھول گیا ہو اور امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے اسے وہ نماز یاد آ گئی ہو تو امام کے پیچھے اپنی نماز جاری رکھے جب فارغ ہوجائے تو اٹھ کر بھولی ہوئی نماز پڑھ لے اور اس کے بعد دوسری نماز کا اعادہ کرلے۔
عباد بن العوام نے ہشام سے، انہوں نے ابن سیرین سے اور انہوں نے کثیر بن افلح سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں۔ ” ہم مدینہ منورہ کی طرف آ رہے تھے جب ہم شہر سے قریب پہنچے تو سورج غروب ہوچکا تھا، اہل مدینہ مغرب کی نماز موخر کر کے پڑھتے تھے، اس لئے مجھے امید ہوگئی کہ میں مغرب کی نماز ا ن کے ساتھ پڑھ لوں گا جب میں وہاں پہنچا تو لوگ عشاء کی نماز میں مصروف تھے، میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ مغرب کی نماز پڑھی جا رہی ہے۔ جب امام نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے اٹھ کر پہلے مغرب کی نماز پڑھی اور پھر عشاء کی۔ جب صبح ہوئی تو میں نے لوگوں سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا ۔ سب نے کہا تم نے ٹھیک کیا ہے۔ اس زمانے میں صحابہ کرام کی بڑی تعداد مدینہ منورہ میں موجود تھی۔ “ سعید بن المسیب، حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح نے وجوب ترتیب کا قول کیا ہے۔
سلف کے ان تمام حضرات سے ترتیب کے ایجاب کی روایت مقنول ہے جبکہ ا ن کے ہم عصر لوگوں میں سے کسی بھی اس کے خلاف کوئی روایت منقول نہیں ہے گویا ترتیب کے وجوب پر سلف کا اجماع ہوگیا۔ فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کے وجوب پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر سے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جنگ خندق کے دن حضرت عمر حضور ﷺ کے پاس آئے اور غصے میں کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ پھر حضور ﷺ سے عرض کرنے لگے کہ میں آج عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا (پھر جا کر مجھے موقعہ ملا) یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا۔” خدا کی قسم ! میں نے بھی آج ابھی تک عصر کی نماز نہیں پڑھی ہے۔ “ یہ کہہ کر آپ سواری سے اترے، وضو فرمایا اور غروب آفتاب کے بعد پہلے عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ حضور ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ کی چار نمازیں رہ گئیں۔ یہاں تک کہ رات بھیگ گئی۔ آپ نے پہلے ظہر کی نماز پڑھی، پھر عصر کی، پھر مغرب کی اور پھر عشاء کی۔ یہ روایت دو وجوہ سے ترتیب کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ کا ارشاد ہے (صلوا کما رأیتمونی اصلی۔ جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو اسی طرح تم بھی پڑھو) جب حضور ﷺ نے ان فوت شدہ نمازوں کو ترتیب کے ساتھ ادا کیا تو یہ امر ترتیب کے ایجاب کا متقاضی بن گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کتاب اللہ میں نماز کی فرضیت مجمل طریقے سے بیان ہوئی ہے اور ترتیب نماز کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے ایسی صورت میں حضور ﷺ کا فعل جب بیان کے طور پر وارد ہوا ہے تو اسے وجوب پر محمول کیا جائے گا۔ جب آپ ﷺ نے فوت شدہ نمازیں ترتیب سے پڑھیں تو آپ کا یہ فعل کتاب اللہ میں بیان شدہ مجمل فرض کے لئے بیان بن گیا۔ اس لئے اسے وجوب پر محمول کرنا ضروری قرار پایا۔ ترتیب کے وجوب پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں نمازیں فرض ہیں ان دونوں کو دن اور رات کے ایک وقت نے اکٹھا کردیا ہے اس لئے ان دونوں کی مشابہت عرفات اور مزدلفہ کی دو نمازوں کے ساتھ ہوگئی۔ جب ان دونوں نمازوں میں ترتیب کا اسقاط جائز نہیں تو اس سے یہ ضرو ریہو گیا کہ ایک دن اور رات سے کم مدت کی فوت شدہ نمازوں کا حکم بھی بھی یہی ہوجائے۔
حضرت عمر نے حضور ﷺ سے یہی عرض کیا تھا کہ مجھے عصر کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا ( اس وقت مجھے اسے پڑھنے کا موقعہ ملا) آپ نے حضرت عمر کی یہ بات سن کر انہیں نہیں ٹوکا اور نہ ہی عصر کی نماز کے اعادے کا حکم دیا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص غروب شمس کے وقت عصر کی نماز ادا کرے گا اس پر اس کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔
Ayahs 20:17–38سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں
قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض کیا کہ یہ میری لاٹھی ہے جس پر میں تھکاوٹ کے وقت ٹیک لگا لیتا ہوں، اپنی بکریوں کے لئے اس کے ذریعے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور اسی طرح کے کئی اور فائدے اٹھا لیتا ہوں تو یہ چیز واضح تھی کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ باتیں معلوم کرانے کی نیت سے نہیں کہی تھیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو لاٹھی کے متعلق اس سے بڑھ کر علم تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کیا گیا تھا جس کا جواب دینا ضروری تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ لاٹھی سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر کر کے اس سوال کا جواب دے دیں جس میں یہ پہلو بھی ہو کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان پر جو انعام کیا تھا اس کا اعتراف کیا جائے، اس کے فوائد گنوائے جائیں اور اس پر اس کا شکر بجا لانے کا التزام کیا جائے۔
بعض جاہلوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ ) فرما کر لاٹھی کی ماہیت دریافت کی تھی اس کے فوائد نہیں پوچھتے تھے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس سوال کا درست جواب نہ دے سکے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت کی درست توجیہ وہی ہے جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں وہ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو سوال کا (ھی عصای) کہہ کر جواب دیا پھر اس لاٹھی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اور اس عطیے پر اس کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کے فوائد گنوائے ایسے سوالات کے موقع پر انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اہل ایمان کے جواب کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیتے ہیں اور ان نعمتوں پر واضح طور پر شکر بجا لاتے ہیں۔ ارشاد باری ہے (واما بنعمۃ ربک فحدث۔ اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو) ۔
Ayah 20:39قول باری ہے (والقیت علیک محبۃ منی اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی) یعنی میں نے ایسی کیفیت پیدا کردی کہ جو شخص تمہیں دیکھتا اس کے دل میں تمہاری محبت پیدا ہوجاتی حتی کہ فرعون کی نظروں میں بھی تم محبوب قرار پائے تھے اور اس طرح تم اس کے شر سے محفوظ ہوگئے تھے۔ دوسری طرف اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں تمہارے لئے محبت پید اہو گئی تھی جس کی بنا پر اس نے تمہیں اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔
قول باری ہے (ولتصنع علی عینی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے) قتادہ کا قول ہے ” تاکہ میری محبت اور میرے ارادے کے سائے میں تیری پرورش ہو۔ “
Ayah 20:40موسیٰ پر آزمائشیں
قول باری ہے (وفتناک فتونا اور ہم نے تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا) سعید بن جبیر کا قول ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا۔” ابن جبیر ! دن کے وقت میں اس پر نئے سرے سے غور کر کے تمہیں بتائوں گا۔ “ پھر آپ ﷺ نے اس کا مفہوم یہ بتایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پے در پے آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان تمام آزمائشوں سے خلاصی عطا فرمائی۔ پہلے تو آپ کا استقرار حمل ان سالوں میں ہوا جن میں فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کروا دیا کرتا تھا۔ پھر آپ کو سمندر میں ڈالا گیا۔ پھر ماں کی چھاتی کے سوا کسی اور عورت کا دودھ پینے سے روک دیا گیا۔ پھر آپ نے فرعون کی داڑھی کھینچ لی جس سے وہ بھڑک اٹھا تھا اور آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ پھر آپ نے موتی کو اٹھانے کی بجائے انگارے کو اٹھا لیا تھا جسکی بنا پر فرعون کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گئے تھے (یہ واقعہ فرعون کے محل میں پیش آیا تھا جہاں آپ ایک شیر خوار بچے کی حیثیت سے پرورش پا رہے تھے) پھر آپ کے ہمدردوں میں سے ایک شخص نے آ کر آپ کو خبردار کیا تھا کہ فرعون ک کے درباری آپ کو قتل دینے کے مشورے کر رہے ہیں جس کی بنا پر آپ وہاں سے نکل آئے تھے۔ مجاہد نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ” ہم نے تمہیں پوری طرح چھٹکارا دلا دیا۔ “