19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاحکام القرآن

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص

Ayah 19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

Ayahs 19:3–4

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ بڑھاپے کی وجہ) سے شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

آداب دعا قول باری ہے (اذ نادی ربہ نداء خفیاً ۔ جب کہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) اللہ تعالیٰ نے چپکے چپکے دعا کرنے پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ چپکے چپکے دعا مانگنا بلند آواز سے دعا مانگنے سے افضل ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ادعوا ربکم تضرعاً وخفیۃ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو) حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ صخیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی بہترین ذکر، ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو ضروریات کے لئے کافی ہو) حسن بصری سے مروی ہے کہ ان کی رائے میں امام قنوت کے اندر دعا مانگے اور مقتدی آمین کہیں۔ انہیں آواز بلند کرنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ سفر میں تھے۔ آپ نے کچھ لوگوں کو با آواز بلند دعا مانگتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے ان سے فرمایا (انکم لا تدعون اصما ولا غائباً ان الذی تدعونہ اقرب الیکم من حبل الورید۔ تم کسی بہری اور غیر موجو د ذات کو نہیں پکار رہے ہو جس ذات کو تم پکار رہے ہو وہ تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے)
Ayahs 19:5–10

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری اولاد اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ! ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہے اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا (پیدا) ہوگا جس حال میں کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

قول باری ہے وانی خفت الموالی من ورائی مجھے اپنے پیھچے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے ) مجاہد، قتادہ، ابو صالح اور سدی سے مروی ہے کہ الموالی عصبہ کو کہتے ہیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بنو اعمام تھے۔ آپ کو دین کے بارے میں ان کی برائیوں کا خوف تھا اس لئے کہ وہ بنی اسرائیل کے بدترین لوگ تھے۔ نبوت کی میراث قول باری ہے (فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب ۔ تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک ورث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے) آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ ایک بیٹا عطا ہوجائے جو میری موت کے بعد دین کے امور کی نگہداشت کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے چچا زاد بھائی کہیں دین کو بدل نہ ڈالیں۔ قتادہ نے حسن بصری سے قول باری (یرثنی و یرث من ال یعقوب) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس سے مراد حضرت زکریا (علیہ السلام) کی نبوت اور ان کا علم ہے۔ خصیف نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) ہے اولاد تھے، آپ کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا تھا۔ آپ نے اپنے رب سے ایک بچے کا سوال کیا اور فرمایا کہ یہ بچہ میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے۔ یعنی اسے نبوت ملے۔ ابوصالح سے بھی اسی قسم کی تفسیر مروی ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ ذکر کیا کہ وہ بچہ مال کا وارث بنے گا اور آل یعقوب سے اسے نبوت کی میراث ملے گی۔ اس طرح حضرت ابن عباس نے نبوت پر میراث کے لفظ کے اطلاق کو درست قرار دیا ۔ اسی طرح یہ جائز ہے کہ قول باری (یرثنی) سے یہ مراد لی جائے کہ ” وہ میرے علم کا وارث بنے۔ “ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یور ثوا دینا لا ولا درھما وانما ورثوا العلم ۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے اپنی میراث میں دنیار و درہم نہیں چھوڑے انہوں نے اپنی میراث میں صرف علم چھوڑا ہے ) اسی طرح آپ کا ارشاد ہے (کونوا علی مشاعرکم … یعنی بعرفات … فانکم علی ارث من ارث ابراہیم۔ مناسک حج ادا کرنے کے مقامات پر پہنچو، یعنی عرفات میں، اس لئے کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث کے امین ہو۔ ) زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا۔” میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (لا نورث ماترکناصدقۃ، ہم کسی کو اپنی میراث کا وارث نہیں بناتے، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں گے وہ صدقہ ہوگا) زہری نے مالک بن اوس بن احدثان سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے چند صحابہ کرام کو جن میں حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف حضرت زبیر اور حضرت طلحہ تھے، یہ فرمایا : میں آپ حضرات کو اللہ کی قسم دے کر جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، پوچھتا ہوں کیا آپ لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا :” ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں گے وہ صدقہ ہوگا۔ “ ان حضرات نے حضرت عمر کے سوال کا جواب اثبات میں دای۔ صحابہ کی اس جماعت کی روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ انبیاء (علیہم السلام) کسی کو مال کا وارث نہیں بناتے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے قول یرثنی (میرا وارث بنے) سے مال کی وراثت مراد نہیں لی ہے۔ اللہ کے ایک نبی کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اس بارے میں پریشا ن ہوں کہ ان کی موت کے بعد ان کا مال کس طرح حق دار تک پہنچے گا۔ بلکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو حقیقی پریشانی یہ تھی کہ ان کے بنو اعمام ان کی موت کے بعد کہیں ان کے علوم اور ان کی کتاب پر قبضہ نہ جمالیں اور پھر ان میں تحریف و تبدیل کے ذریعے مال کمانا شروع کردیں اور اس طرح ان کے لائے ہوئے دین کو بگاڑ کر رکھ دیں اور لوگوں کو صحیح دین تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہوجائیں۔ نذر عہد قدیم میں قول باری ہے (انی نذرت للرحمن صوماً فلن اکلم الیوم انسیاً میں ن ے رحمان کے لئے روزے کی نذر مانی ہے اس لئے آج میں کسی سے نہ بولوں گی) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ترک کلام اور سکوت اختیار کرلینا اس زمانے میں عبادت میں شمار ہوتا تھا۔ اگر یہ بات اس طرح نہ ہوتی تو حضرت مریم (علیہ السلام) ترک کلام کی نذر نہ مانتیں اور نذر ماننے کے بعد اس پر عمل پیرا نہ ہوتیں۔ معمر نے قتادہ سے قول باری (انی نذرت للرحمٰن صوماً ) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ بعض قرأت میں ” صوما “ کی بجائے ” صمتاً “ ہے۔ صوم سے حضرت مریم کی مرادصمت یعنی خاموشی اور ترک کلام تھی۔ اس پر ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے جو قرآن کے الفاظ میں اس طرح بیان ہوا ہے (فلن اکلم الیوم انسیاً ) یہ حکم اب حضور ﷺ سے اس روایت کی بنا پر منسوخ ہے جس میں ذکر ہے کہ آپ نے دن بھر رات تک خاموش رہنے سے منع فرمایا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ اس زمانے میں جو شخص روزہ رکھتا وہ لوگوں سے گفتگو نہ کرتا تاہم حضرت مریم کو اپنے بارے میں اطلاع دینے کی اجازت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو تین دنوں تک کلام کرنے سے روک رکھا تھا اور اسی چیز کو ان کے لئے ان کے بچے کی پیدائش کے قوت کی نشانی قرار دیا تھا۔ اس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) کو کسی مرضی یا گونگے پن کے بغیر ہی بات کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
Ayahs 19:11–22

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑو رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس دے شفقت اور پاکیزگی دی تھی اور وہ پرہیزگار تھے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلامتی اور رحمت (ہے)

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا (اس وقت) ہم نے ان کی طرف فرشتہ بھیجا تو وہ ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا یوں ہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور (میں اسے اسی طریقہ پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ اس (بچے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لیکر ایک دور جگہ چلی گئیں

محراب کیا ہے ؟ قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے اشارے نے اس مقام پر قول کی جگہ سے لی اس لئے کہ اشارے سے وہی کچھ بتادیا گیا جو قول کے ذریعے بتایا جاسکتا تھا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ گونگے کے اشارے پر عمل درآمد ہوسکتا ہے اور اس کا یہ اشارہ اس کے ذمہ عائد ہونے والے امور میں قول کے قائم مقام سمجھا جائے گا، تاہم فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک تندرست انسان کا اشارہ جسے گونگے پن کی کوئی بیماری نہ ہو، اس کے قول کے قائم مقام نہیں قرار دیا جاسکتا۔ گونگے انسان کے اشارے کو یہ حیثیت اس لئے دی گئی کہ گونگا اپنی مشق کی وجہ سے، نیز عادت اور ضرورت کی بنا پر اشارے سے وہ کچھ بتاسکتا ہے جو قول کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک تندرست انسان کی یہ مشق اور عادت نہیں ہوتی اس لئے یہ عملدرآمد کے قابل نہیں ہے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی شخص کی زبان میں رکاوٹ ہو اور زبان پوری طرح نہ چلتی ہو اور اس نے اشارے سے کسی وصیت وغیرہ کی بات کی ہو تو اس کی اس وصیت پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایسے شخص کی یہ مستقل عادت اور مشق نہیں ہوتی کہ اسے گونگے کی طرح تسلیم کرلیا جائے۔
Ayahs 19:23–30

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کجھور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تو نے برا کام کیا

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں ؟

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(بچے نے کہا) میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

موت کی تمنا جائز نہیں قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضرت مریم نے اس وجہ سے موت کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں معلوم تھا کہ لوگ ان پر زنا کاری کی تہمت لگائیں گے اور اس کی بنا پر گنہگار قرار پائیں گے۔ اس لئے یہ تمنا کی تھی کہ کاش ان کی وجہ سے لوگوں کے گناہ میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی وہ مرچکی ہوتیں !
Ayah 19:31

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے

قول باری ہے (وجعلنی مبارکاً اینما کنت اور مجھے بابرکت کیا جہاں کہیں بھی میں رہوں) مجاہد کا قول ہے ” مجھے اللہ نے نیکی اور بھلائی سکھانے والا بنایا ہے۔ “ دوسروں کا قول ہے۔ ” مجھے لوگوں کو نفع پہنچانے والا بنایا ہے۔ “ قول باری ہے (واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ما دمت حیاً اور نماز زکوۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں) ایک قول کے مطابق اس سے مال کی زکوۃ مراد ہے اور دوسرے قول کے مطابق گناہوں سے پاک کرنا مراد ہے۔