19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 19:65–91

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

یعنی آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب پروردگار کا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو بھلا تم کوئی اسکا ہم نام جانتے ہو ؟

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا ؟

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھنٹوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیے جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے ؟

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھے جاتے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے (موجب عزت و) مدد ہوں

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ معبودان باطل انکی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (و مخالف) ہوں گے

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں ؟

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو اور ہم تو ان کیلیے دن شمار کر رہے ہیں

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لاتے ہو

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ اس (افترا) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گرپڑیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا

قول باری ہے (ھل تعلم لہ سمیاً کیا ہے کہ کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟ ) حضرت بن عباس مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے کہ ” مثل اور مشابہ “ قول باری ہے (لم نجعل لہ من قبل سمیاً ہم نے اس نام کا کوئی اور آدمی اس سے پہلے نہیں پیدا کیا) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بانجھ عورتوں نے اس جیسا بچہ نہیں جنا۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس جیسا کوئی نہیں بنایا۔ قتادہ وغیرہ دیگر حضرات کا قول ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔ قول باری (ھل تعلم لہ سمیعاً ) کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو الہ کہلانے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔
Ayahs 19:92–95

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

اس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے

بیٹا باپ کا غلام نہیں ہوتا کہ جیسے چاہے غلام کی طرح اس پر تصرف کرے قول باری ہے (وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً ان کل من فی السموت و الارض الا اتی الرحمٰن عبداً ۔ رحمٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ والد کی اپنے ولد پر ملکیت باقی نہیں رہتی کہ اس کی وجہ سے وہ اس کا غلام بنا رہے اور وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے بلکہ مالک ہوتے ہی وہ اس پر آزاد ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے اور غلام میں فرق رکھا ہے اور عبودیت یعنی غلام ہونے کے اثبات کے ساتھ نبوت یعنی بیٹے ہونے کی نسبت کی نفی کردی ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (لا یجزی ولد والدہ الا ان یجدہ مملوکا فیشتر یہ فیعتقہ بالشری کوئی بیٹا اپنے باپ کے احسانات کا بدلہ چکا نہیں سکتا الا یہ کہ وہ اسے کسی کا غلام پائے اور اس سے خرید کر اس کے ساتھ ہی اسے آزاد کر دے ) یہ روایت آپ کے اس ارشاد کی طرح ہے (الناس غادیان فبائع نفسہ فموبقھا و مشتر نفسہ فمعتقھا ۔ تمام لوگ جب صبح نکلتے ہیں تو ان کے دو گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک تو وہ ہوتا ہے جو اپنی جان فروخت کر کے اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے اور ایک وہ ہوتا ہے جو اپنی جان خرید کر کے اسے آزاد کردیتا ہے) یہاں آپ کی یہ مراد نہیں ہے کہ خریداری کے بعد اپنی جان کو آزاد کرنے کی ابتدا کرتا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خریداری کے ساتھ ہی وہ اسے آزاد کردیتا ہے۔ اس طرح آپ کے قول (فیشتریہ فیعتقہ ) کا مفہوم بھی یہی ہے۔ آپ کا یہ قول اس قول کے ہم معنی ہے کہ ” فیشتر یہ فیمل کہ “ (وہ اسے خرید لیتا اور اس کا مالک بن جاتا ہے) اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ خریداری کے بعد نئے سرے سے کوئی اور ملکیت حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ مفہوم ہے کہ خریداری کے ساتھ ہی وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ نفس خریداری کے ساتھ ہی وہ اس پر آزاد ہوجاتا ہے اس امر پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ آزاد آدمی کا بیٹا جو اس کی لونڈی کے بطن سے پیدا ہوتا ہے اصل کے اعتبار سے آزاد ہوتا ہے ۔ اسے نئے سرے سے آزاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو اپنے بیٹے کو خرید لیتا ہے۔ اگر ایسا باپ اپنے بیٹے کو نئے سرے سے آزاد کرنے کا محتاج ہوتا تو اسے اپنی لونڈی کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے کی آزادی کے سلسلے میں بھی ضرورت پیش آتی کیونکہ اس کی لونڈی جو اس کے بیٹے کی ماں ہے اس کی ملکیت میں تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ لونڈی کے بطن سے پیدا ہونے والا بیٹا اصل کے اعتبار سے آزاد تھا اس لئے باپ کو اسے نئے سرے سے آزاد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی لیکن خریدا ہوا بیٹا غلام تھا اس لئے وہ نفس خریداری کی بنا پر آزاد نہیں ہوگا جب تک وہ اسے نئے سرے سے آزاد نہیں کرے گا اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس جہت سے دونوں بیٹوں میں اختلاف ہمارے دعوے کے حق میں اس استدلال کے لئے مانع نہیں ہے۔ یعنی یہ کہ بیٹے پر باپ کی ملکیت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ مالک ہوتے ہی اس پر اس کا آزاد ہوجانا واجب ہوجاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر بیٹے پر اس کی ملکیت کا باقی رہ جانا جائز ہوتا تو پھر لونڈی کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے کا غلام رہ جانا بھی اس وقت تک واجب ہوتا جب تک وہ اسے آزاد نہ کردیتا۔ لونڈی کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے اور خرید شدہ بیٹے میں اس جہت سے فرق ہے کہ پہلا بیٹا اصل کے اعتبار سے آزاد ہوتا ہے اور دوسرا بیٹا اس پر آزاد ہوجاتا ہے اور اس کی ولاء باپ کے لئے ثابت ہوتی ہے، اس فرق کی وجہ صرف یہ ہے کہ خریدشدہ بیٹا کسی اور کی ملکیت میں تھا اس لئے اس کے سوا اور کوئی چارئہ کار نہیں تھا کہ خریدنے کے ساتھ ہی باپ کی جانب سے اسے آزادی حاصل ہوجاتی تاکہ اس کی ملکیت کا استقرار ہوجاتا اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ملکیت میں اس پر آزادی کا وقوع پذیر ہونا جائز نہیں تھا کیونکہ اگر فروخت کنندہ کی ملکیت میں آزادی وقوع پذیر ہوجاتی تو اس صورت میں بیع باطل ہوجاتی۔ اس لئے کہ یہ بیع آزادی ملنے کے بعد ہوتی اور ظاہر ہے کہ ایک آزاد شخص کو فروخت کرد ینا جائز نہیں ہوتا۔ اس طرح بیع کی حلات میں آزادی کا وقوع پذیر ہونا بھی درست نہیں تھا اس لئے کہ آزادی کا حاصل ہوجانا اس حالت میں بیع کی صحت کے لئے مانع بن جاتا جس حالت میں اسے آزادی حاصل ہوئی تھی اس لئے ضرور یہو گیا کہ اسے دوسری ملکیت یعنی باپ کی ملکیت کے اندر آزادی حاصل ہو۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ ملکیت نہ ہونے کی حالت میں آزادی وقوع پذیر ہوجائے اس لئے کہ اس سے یہ لازم آئے گا کہ ملکیت کے اندر نہ ہونے کی حالت میں اسے آزادی دی گئی ہے۔ اس بنا پر یہ ضروری ہوگیا کہ اسے دوسری ملکیت کے اندر آزادی حاصل ہو۔ رہ گیا وہ بیٹا جو اس کی ملکیت کے اندر اس کی لونڈی کے بطن سے پیدا ہوا ہو تو اگر ہم اس پر اس کے باپ کی ملکیت کا اثبات کردیں تو اس ملکیت کی حالت میں ہی آزادی کا مستحق وار پائے گا اس لئے اس پر اس کی ملکیت کا اثبات جائز نہیں ہوگا جبکہ بیٹے کے اندر وہ بات موجود ہو جو باپ کی ملکیت کی منافی ہے اور وہ ہے اس حالت میں آزادی کا استحقاق اس بنا پر وہ اصل کے اعتبار سے آزاد قرار دیا جائے گا اور اس پر باپ کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی۔ اور اگر ابتداً اس پر اس کی ملکیت کا ثبوت ہوجاتا تو وہ اس حالت میں آزادی کا مستحق ہوجاتا جس حالت میں باپ اس کے اثبات کا ارادہ کرتا کیونکہ اس چیز کو واجب کرنے والا سبب موجود تھا اور وہ یہ تھا کہ باپ کے لئے بیٹے کی ماں کی ملکیت ثابت تھی اور ایسی ملکیت کا اثبات درست نہیں ہوتا جو وجود میں آنے کی حالت ہی میں منتقی ہوجائے۔ دونوں بیٹوں کے درمیان اس جہت سے اختلاف اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ دونوں حالتوں میں بیٹے پر اس کی ملکیت بیٹے کی آزادی اور اس کی حریت کی موجب بن جائے۔
Ayahs 19:96–98

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا انکی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کر دے گا

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچادو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو ؟

قول باری ہے (ان الذین امنوا وعملوا الصلحات سیجعل لھم الرحمٰن وداً ۔ یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان ا ن کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا) ان کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ آخرت میں یہ ایک دوسرے سے اسی طرح محبت کریں گے جس طرح والد کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ دوسرا قول حضرت ابن عباس اور مجاہد کا ہے کہ دنیا کے اندر محبت پیدا کر دے گا۔