18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاحکام القرآن

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

(بلکہ) سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ (لوگوں کو) عذاب سخت سے جو اسکی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی بہشت) ہے

Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ابد الآباد رہیں گے۔

Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔

Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں کہ) یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔

Ayahs 18:7–9

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کر کے) بنجر میدان کردیں گے۔

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے ؟

صعید (مٹی) کے بارے میں احکام قول باری ہے (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً ، وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزاً ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں) اس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نباتات و حیوانات وغیرہ سے زمین کی زینت کا جو سامان کیا ہے اسے ایک چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ صعید، زمین کو کہتے ہیں اور مٹی کو بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر قائم کی ہوئی زینت کو چٹیل میدان بنا دینے کا جو ذکر کیا ہے زمین کی طبعی حالت کی بنا پر۔ یہ ایک واضح اور روزمرہ کے مشاہدہ میں آنے والی بات ہے۔ اس لئے کہ زمین میں پیدا ہونے والی ہر چیز خواہ وہ پودا ہو یا حیوان یا لوہا ہو یا سیسہ یا جواہرات ہوں، بالآخر مٹی بن جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ زمین پر موجود تمام چیزیں چٹیل میدان کی صورت میں تبدیل ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے صعید یعنی مٹی کے ذریعہ تمیم کو جائز قرار دیا ہے تو اس کے عموم کی بنا پر مٹی کے ساتھ تمیم کا جواز واجب ہوگیا خواہ یہ مٹی پہلے پودا ہو یا حیوان یا لوہا یا سیسہ یا کوئی اور چیز ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے صعید کے ساتھ تیمیم کرنے کے حکم کو مطلق رکھا ہے ۔ اس میں ہمارے اصحاب کے قول کی صحت کی دلیل موجود ہے کہ نجاست اگر مٹی میں تبدیل ہوجائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے اس لئے کہ وہ اس صورت میں مٹی بن جاتی ہے نجاست نہیں رہتی۔ اسی طرح ہمارے اصحاب کا یہ بھی قول ہے کہ نجاست اگر جل کر راکھ ہو جائیتو وہ پاک ہوجاتی ہے اس لئے کہ راکھ فی نفسہ پاک ہوتی ہے نجس نہیں ہوتی۔ نجاست کی راکھ اور پاک لکڑی کی راکھ میں کوئی فرق نہیں ہوتا اس لئے کہ نجاست وہ ہوتی ہے جو ایک قسم کے استحالہ یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی کی بنا پر پیدا ہوتی ہے اور یہ استحالہ احراق یعنی آگ میں جلنے کی بنا پر زائل ہوجاتا ہے اور اس میں ایک اور استحالہ پیدا ہوتا ہے جو تنجیس کا موجب نہیں ہوتا۔ اسی طرح شراب اگر سرکہ بن جائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے اس لئے کہ اب وہ شراب نہیں ہوتی کیونکہ سرکہ بن جانے کی بناپر وہ استحالہ زائل ہوجاتا ہے جو اس کے شراب بننے کا موجب تھا۔
Ayahs 18:10–11

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) کا پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔

دین کے معاملے میں فتنے سے بچنا قول باری ہے (اذ اوی الفتیۃ الی الکھف فقالوا ربنا اتنا من لدنک رحمۃ وھتی لنا من امرنا رشداً ۔ ) جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزین ہوئے اور انہوں نے کہا۔ اے پروردگار ! ہم کو اپنی رحمت خاص سے نوازا اور ہمارا معاملہ درست کر دے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اگر کسی انسان کو اپنے دین کے معاملے میں فتنہ کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ اپنا دین بچانے کے لئے اس جگہ سے دور چلا جائے اور وہاں جا کر کلمہ کفر کے اظہار کی آزمائش میں اپنے آپ کو نہ پھنسا دے خواہ یہ اظہار تقیہ یعنی جان بچانے کی خاطر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز یہ دلالت بھی ہو رہی ہے کہ جب فتنہ سے بچنے کے لئے ایک شخص اپنا دین لے کر نکل جائے تو وہ اللہ سے دعا مانگے جس کی حکایت اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے سلسلے میں کی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو اصحاب کہف کا یہ فعل پسند آگیا تھا اور ان کی دعا قبول کرلی تھی۔ اسی پسندیدگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا سارا واعہ ہم سے بیان فرمایا۔
Ayahs 18:12–17

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کے حالات تم کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا جب وہ (اٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سواء اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے پر) کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سواء عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کر دے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کردے تو تم اسکے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ تو سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔

اصحاب کہف غار میں بارعب تھے قول باری ہے (لو اطلعت علیھم لولیت منھم فراراً ولملئت منھم رعباً اگر تم کہیں جھانک کر انہیں دیکھتے تو الٹے پائوں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی ) اس کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اردگرد ہیبت اور دہشت کا ایک ماحول پیدا کردیا تھا تاکہ کسی کو ان تک رسائی نہ ہو سکے یہاں تک کہ غار میں رہنے کی مقررہ مدت اختتام کو پہنچ جاتی اور وہ اپنی نیند سے بیدار ہوجاتے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کیفیت کی ہے وہ ان کے نوم کی حالت کی کیفیت تھی، بیداری کے بعد کی کیفیت نہیں تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ لوگ غار کے اندر ایک دہشتناک جگہ پر لیٹے ہوئے تھے، ان کی آنکھیں کلھی ہوئی تھیں، وہ سانس لیتے تھے، لیکن بولتے نہیں تھے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ غار میں پڑے ہوئے ان کے بال اور ناخن اس قدر بڑھ گئے تھے کہ انہیں دیکھ کر ڈر آتا تھا۔
Ayahs 18:19–22

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تم اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ بھی شک نہیں۔ اس وقت لوگ انکے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنادو ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے۔

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

(بعض لوگ) لوگ بظاہر کچھ کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا (اور بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملہ) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو اور نہ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

غار میں ان کی مدت قیام قول باری ہے (قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم۔ دوسروں نے کہا شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے) جب اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کرتے ہوئے اس کی تردید نہیں کی تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا اس لئے کہ ان کے اس قول کی بنیاد ان کے اپنے خیال کے مطابق وہ مدت تھی جس میں وہ نماز میں قیام پذیر رہے۔ انہوں نے یہ بات قیام کی حقیقی مدت کے متعلق نہیں کہی تھی کیونکہ یہ مدت تو ان کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہی مفہوم اس قول باری کا ہے (فاما تہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوماً او بعض یوم۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک موت کی حالت میں رکھا پھر اسے زندہ کیا اور پوچھا کتنے عرصے رہے ہو۔ اس نے جواب دیا شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہا ہوں گا) اللہ تعالیٰ نے اس کے اس قومل کی تردید نہیں کی، اس لئے کہ اس شخص نے اپنے خیال اور اعتقاد کے مطابق بات بیان کی تھی، اس بات کا اظہار نہیں کیا تھا جو اس کی نظروں سے پوشیدہ تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول بھی اسی مفہوم پر محمول ہے جو آپ نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہا تھا (اقتلت نفساً زکیۃ بغیر نفس لقد جبئت شیئاً نکراً ) آپ نے ایک بےگناہ کی جان لے لی حالانکہ اس نے کسی کا خون نہیں کیا تھا یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا) نیز فرمایا (لقد حیث شیئاً امراً ۔ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی) یعنی میرے خیال کے مطابق اسی طرح جب حضرت ذوالیدین نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ آیا نماز مختصر ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا (کل ذلک لم یکن ) ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی) بنا بریں مناہدئہ سفر جائز ہے قول باری ہے (فابعثوا بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا ازکی طعاماً فلیاتکم برزق منہ۔ چلو ، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکر دے کہ شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی جگہ لوگوں کی کوئی جماعت اپنے پیسے یکجا کرلے اور اس سے کھانا وغیرہ منگا کر سب اکٹھے ہو کر وہ کھانا کھالیں تو اس کا جواز ہے خواہ کھاتے وقت ان میں کچھ لوگ دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ کیوں نہ کھا لیں۔ لوگ اس طریقے کو مناہدہ کے نام سے پکارتے ہیں اور عام طور پر اکٹھے سفر کے دوران یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ جواز کی وجہ یہ ہے کہ اصحاب کہف نے کہا کہ ا ن میں سے ایک آدمی کو چاندی کا سکہ دے کر شہر کھانا لانے کے لئے بھیج دیا جائے۔ یہاں سکے کی نسبت پوری جماعت کی طرف کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (وان تخالطوا ھم فاخرانکم۔ اگر تم انہیں اپنے ساتھ شامل کرلو گے تو وہ تمہارے بھائی ہیں) اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے طعام کو اپنے طعام کے ساتھ ملا لینے کو مباح کردیا اور یہ جائز کردیا کہ یتیم بھی ان کے ساتھ مل کر کھائے جبکہ یہاں یہ بات ممکن تھی کہ کھانے والوں میں بعض افراد دوسروں کی بہ نسبت زیادہ کھالیتے۔ خریداری میں وکیل بنانا جائز ہے آیت میں خریداری کے لئے وکیل بنانے کے جواز پر بھی دلالت موجود ہے اس لئے کہ اصحاب کہف نے اپنے میں سے جس شخص کو شہر بھیجا تھا وہ ان کا وکیل اور کار پرداز بن کر گیا تھا۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر (انشاء اللہ کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

قسم میں استناء کا بیان قول باری ہے (ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غداً الا ان یشآء اللہ اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کروں گا (تم کچھ نہیں کرسکتے) الا یہ کہ اللہ چاہے ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس قسم کا استثناء کلام کے حکم کو رفع کرنے کے لئے کلام میں داخل ہوتا ہے اور پھر کلام کے حکم کا وجود اور عدم دونوں یکساں ہوجاتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ استثناء کرنے کی تلقین فرمائی تاکہ آپ اپنی قسم میں کاذب نہ قرار دیئے جائیں یہ چیز ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ایسے کلام کے حکم کے متعلق ابھی بیان کی ہے۔ اس پر وہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول کو نقل کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے (ستجدنی ان شاء اللہ صابراً اگر اللہ چاہے تو آپ مجھے صابر پائیں گے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر نہیں کیا بلکہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے ہر فعل پر انہیں ٹوکا لیکن اس کے باوجود آپ کو جھوٹا قرار نہیں دیا گیا کیونکہ آپ کے کلام میں استثناء موجود تھا۔ یہ چیز ہماری درج بالا سطور میں بیان کردہ بات پر دلالت کرتی ہے کہ استثناء کا دخول کلام کے حکم کو رفع کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ اس کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے خواہ یہ قسم پر داخل ہوا ہو یا عتاق پر یا ایقاع طلاق پر ایوب نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من حلف علی یمین فقال ان شاء اللہ فلاح حنث علیہ جس شخص نے اپنی قسم کے ساتھ ان شاء اللہ کہہ دیا نہ وہ حانث نہیں ہوگا) روایت کے بعض طرق میں ہے (فقد استثنیٰ اس نے استثناء کردیا) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اس ارشاد میں یمین یعنی قسم کی مختلف صورتوں میں کوئی فرق نہیں کیا اس لئے اسے ان تمام صورتوں پر محمول کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے اس سلسلے میں اسی قسم کا قول منقول ہے ۔ عطاء ، طائوس، مجاہد اور ابراہیم نخعی کا قول ہے ہر چیز میں استثناء ہوسکتا ہے۔ ” انشاء اللہ تجھے طلاق “ والی روایت ضعیف ہے اسماعیل بن عیاش نے حمید بن مالک اللخمی سے، انہوں نے مکحول سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (اذا قال الرجل لعبدہ انت حران شاء اللہ فھو حر و اذقال لامرأتہ انت طالق ان شاء اللہ فلیست بمطابق ۔ جب کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ تو آزاد ہے اور ساتھ ہی انشاء اللہ بھی کہہ دے تو غلام آزاد ہوجائے گا اور اگر اپنی بیوی سے کہے کہ انشاء اللہ تجھے طلاق ہے تو اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ ایک شاذ و روایت ہے اس کی سند بھی انتہائی ضعیف اور اہل علم کے نزدیک یہ معمول بہ بھی نہیں ہے۔ استثناء کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے لیکن اس وقت کے بارے میں اختلاف ہے جس میں استثناء درست ہوتا ہے اس کے متعلق اہل علم کے تین اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس، مجاہد ، سعید بن جبیر اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اگر ایک شخص ایک سال کے بعد استثناء کرتا ہے تو اس کا استثناء درست ہوگا۔ حسن بصری اور طائوس کا قول ہے کہ جب تک اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے فقرہ کہا ہو اس وقت تک اس فقرے میں استثناء کرنا درست ہوگا۔ ابراہیم نخعی، عطاء بن ابی رباح اور شعبی کا قول ہے کہ صرف وہی استثناء درست ہوتا ہے جو کلام کے ساتھ متصل ہو۔ ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ ایک شخص قسم کھا کر کوئی بات کہتا ہے اور اپنے دل میں اس کے اندر استثناء کر لیت ا ہے تو اس کا یہ استثناء درست نہ ہ وگا جب تک وہ اونچی آواز میں اسے نہیں کہے گا جس طرح اس نے اونچی آواز میں قسمیہ فقرہ کہا تھا۔ ہمارے نزدیک ابراہیم نخعی کا یہ قول اس معنی پر محمول ہے کہ اگر یہ شخص یہ دعویٰ کرے گا کہ اس نے استثناء کرلیا تھا تو عدلات اس کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کرے گی جب کہ اس کی قسم کو لوگوں نے سنا تھا اور استثناء کسی نے نہیں سنا۔ ہمارے اصحاب اور دوسرے تمام فقہاء کا قول ہے کہ استثناء اسی وقت درست ہوگا جبکہ یہ کلام کے ساتھ متصل ہوگا اس لئے کہ استثناء کی حیثیت شرط جیسی ہوتی ہے اور شرط صرف ایسی صورت میں درست ہوتی اور اس کا حکم اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب یہ کسی فصل کے بغیر کلام کے ساتھ ملحق کردی جائے۔ طلاق کہنے کے انداز مثلاً کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے ” انت طالق ان دخلت السداد “ (اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق لیکن اگر اس نے پہلے ” انت طالق “ کہا پھر خاموش ہوگیا اور اس کے بعد ” ان دخلت الداد کیا تو اب طلاق کا تعلق گھر میں داخل ہونے کے ساتھ نہیں ہوگا۔ اگر یہ بات جائز ہوتی تو پھر اپنی بیوی سے یہ کہنا بھی جائز ہوتا ” ان طالق ثلاثاً (تمہیں تین طلاق) پھر ایک سال کے بعد کہتا ” انشاء اللہ “ اس صورت میں طلاق باطل ہوجاتی اور پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کی اباحت کے لئے اسے کسی اور مرد سے نکاح کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تین طلاقوں کی وجہ سے شوہر پر اس کی مطلقہ بیوی کو حرام کردیا اور تحلیل کی صورت یہ رکھی کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے طلاق حاصل کرنے کے بعد پھر پہلے شوہر کے عقد میں آئے، اس حکم میں سکوت کے بعد استثناء کے بطلان پر دلالت موجود ہے۔ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں جب یہ بات درست ہوگئی کہ اس میں استثناء صرف اس شکل میں درست ہوتا ہے جب یہ کلام کے ساتھ متصل ہو تو قسم کی صورت میں بھی اس کا یہی حکم ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے متعلق یہ قسم کھائی تھی کہ اگر بیماری سے صحت حاصل ہوجائے گی تو اس کی پٹائی کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ گھسا کا ایک مٹھا ہاتھ میں لے کر بیوی کو ماریں اور اپنی قسم نہ توڑیں ۔ اگر قسم کھانے کے بعد وقفہ ڈال کر استثناء کرنا درست ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو استثناء کرنے کا حکم دے دیتا اور انہیں اپنی بیوی کو گھاس کے میٹھے وغیرہ کے ذریعے مارنے کی ضرورت باقی نہ رہتی۔ قسم توڑنے کا بیان اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے (من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیراً منھا قلیات الذی ھو خیرولیکفرعن یمینہ جو شخص کسی چیز کے متعلق قسم کھا بیٹھے اور پھر اسے دوسری صورت بہتر نظر آئے تو اسے چائے کہ دوسری صورت اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے ) اگر قسم کھانے کے بعد وقفہ ڈال کر استثناء کرنا درست ہوتا تو آپ اسے استثناء کرلینے کا حکم دیتے اور پھر اسے کفارہ ادا کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ آپ نے یہ فرمایا ہے (انی ان شاء اللہ لا احلف علی یمین فاری غیرھا خیراً منھا الا اتیت الذی ھو خیرو کفرت عن یمینی، میں انشاء اللہ کسی چیز کے متعلق قسم کھانے کے بعد اگر دوسری صورت کو اسے بہتر دیکھتا ہوں تو یہ صورت اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں) آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” دوسری صورت کو بہتر دیکھ کر انشاء اللہ کہہ کے اسے اختیار کرلیتا ہوں۔ “ اگر یہ کہا جائے کہ قیس نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا :” بخدا میں قریش کے خلاف جنگ کروں گا، بخدا میں قریش کے خلاف جنگ کروں گا۔ “ اس کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور ایک گھڑی خاموش رہنے کے بعد فرمایا۔” انشاء اللہ “ آپ نے سکوت فرمانے کے بعد استثناء کیا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ، شریک نے یہی روایت سماک سے کی ہے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے تین دفعہ فرمایا :” بخدا میں قریش کے خلاف جنگ کروں گا تیسری دفعہ یہ فرماتے ہوئے آپ نے انشاء اللہ کہا۔ سماک نے یہ بتایا کہ آپ نے ان فقروں کے آخر میں استثناء کیا اور یہ چیز انشاء اللہ کو قسم کے ساتھ متصل ذکر کرنے کی مقتضی ہے۔ یہ روایت اس وجہ کی بن اپر جس کا ہم نے اپور ذکر کیا ہے اولیٰ ہے۔ اس روایت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ اگر کوئی شخص بہت سی قسمیں کھائے اور آخری قسم کے ساتھ استثناء کا ذکر کر دے تو یہ استثناء تمام قسموں کی طرف راجع ہوگا۔ حضرت ابن عباس اور آپ کے ہم مسلک حضرات نے قسم کھانے کے بعد وقفہ ڈال کر استثناء کرنے کے جواز پر قول باری صولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غداً الا ان یشآء اللہ واذکر ربک اذا نسیت) سے استدلال کیا ہے۔ ان حضرات نے قول باری (واذکر ربک اذا نسیت ) کو استثناء پر محمول کیا ہے لیکن یہ تاویل غیر ضروری ہے اس لئے کہ قول باری (واذکر ربک اذا نسیت) کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ اس کے ذریعے ایک نئے مضمون کی ابتداء کی گئی ہے اور یہ فقرہ ایک نئے کلام کی حیثیت رکھتا ہے اور ماقبل کے ساتھ اس کی تنظمین کے بغیر یہ مستقل بالذات ہے جس کلام کی یہ حیثیت ہو کسی اور کلام کے ساتھ اس کی تظمین جائز نہیں ہے۔ ثابت نے عکرمہ سے اس فقرے کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ” جب تمہیں غصہ آ جائے “ اس تفسیر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس فقرے کے ذریعے یاد الٰہی کے حکم کا ارادہ کیا ہے نیز یہ کہ سہو اور غفلت کی صورت میں یاد الٰہی کے اندر پناہ حاصل کی جائے۔ تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ قول باری صولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غداً الا ان یشاء اللہ ) کا نزول اس سلسلے میں ہوا تھا کہ قریش نے حضور ﷺ سے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کیا تھا اور آپ نے جواب میں فرمایا تھا کہ ” میں ت م لوگوں کو جلد اس بارے میں بتادوں گا۔ “ پھر یہ ہوا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کئی دنوں تک آپ کے پاس وحی سے کر نہیں آئے، کئی دن گزر جانے کے بعد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) قریش کے سوال کا جواب بصورت وحی لے کر آئے۔ اس کے بعد اللہ ت عالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ حکم دیا کہ آپ مستقبل کے کسی کام کے متعلق علی الاطلاق کوئی بات نہ کہیں۔ اگر کہیں تو اسے اللہ کی مشیت کے ساتھ مشروط و مقرون کر کے ہمیں اسی سلسلے کی ایک اور روایت ہے جسے ہشام بن حسا ن نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے نقل کی ہے کہ حضو ر ﷺ نے فرمایا : سلیمان بن دائود (علیہما السلام) نے ایک دفعہ کہا۔ آج رتا میں سو بیویوں کے ساتھ ہمبستری کروں گا، ہر بیوی کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو بڑا ہو کر اللہ کی راہ میں شمشیر زنی کے جوہر دکھائے گا۔ “ انہوں نے اس کے ساتھ انشاء اللہ نہیں کہا جس کے نتیجے میں صرف ایکبیوی کے سوا کسی بیوی سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہو اور جس بیوی کے ہاں ب چہ پیدا ہو ! وہ بھی آدھا انسان تھا۔ “ یعنی تام الخلقت نہیں تھا۔
Ayahs 18:25–38

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ چتنی مدت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے اس کے سوا انکا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسکی خوشنودی کے طالب ہیں ان کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انکو گھیر رہی ہوں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے انکی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) من ہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی انکو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کیے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (انکی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جبکہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (ایسی شیخیوں سے) اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔ قتادہ کا قول واضح نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی خبر کو کسی دلیل کے بغیر کسی اور کے قول کی حکایت قرار دینا درست نہیں ہے۔ نیز یہ قول اس امر کو بھی واج بکر رہا ہے کہ اصحاب کہف کے قیام کی مدت کا قرآن میں ذکر نہیں ہے جبکہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مدت کے بیان کے ذریعے یہ چاہا ہے کہ ہم عبرت حاصل کریں اور اس کی قدرت کی رنگا رنگی اور اس کی مشیت کے نفاذ پر اس سے دستدلال کریں۔