17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 17:1–6

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، بیشک نوح (ہمارے) شکر گذار بندے تھے

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی اور تم کو جماعت کثیر بنایا

سفر معراج کا آغاز قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
Ayahs 17:7–11

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو (ان کا) وبال بھی تمہاری جانوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (پہلا سا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

قول باری ہے (وان اساتم فلھا) اور اگر تم نے برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی) ایک قول کے مطابق فلھا بمعنی فالیھا ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” احسن الی نفسہ اس نے اپنے ساتھ بھلائی کی) یا اساء الی انفسہ (اس نے اپنے ساتھ برائی کی) حرف اضافت جب معنی کے لحاظ سے متقارب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (بان ربک اوحی لھا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا) معنی کے لحاظ سے (اوحی لھا) اوحی الیھا ہے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو، اور ہم نے ہر چیز کی (بخوبی) تفصیل کردی ہے

قول باری ہے (فمحونا ایۃ اللیل رات کی نشانی کو ہم نے نور بنادیا) یعنی ہم نے اسے اس طرح کردیا کہ وہ بےنور ہوگئی جس طرح کتاب کے لئے ہوئے الفاظ بےنور ہوتے ہیں، فقرے میں بلاغت اپنے انتہا کر پہنچی ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ ” ہم نے رات کی نشانی یعنی اس تاریکی کو مٹا دینا جو چاند کے اندر ہے۔ “
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے،

قول باری ہے (وکل انسان الزمناہ طائرۃ فی عنقہ ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے) ایک قول کے مطابق طائر سے مراد ایک انسان کے اپنے عمال خیر و شر میں جس طرح عربوں کا دستور تھا کہ اگر پرندہ دائیں جانب سے آ جاتا تو اسے بربرکت سمجھتے اور نیک شگون قرار دیتے جبکہ بائیں جانب سے آنے والے پرندے کو نحوست قرار دیتے اور اس سے بدشگونی لیتے۔ اس بناء پر طائر کو خیر و شر کے لئے اسم قرار دیا گیا اور ان دونوں کے ذکر کی بجائے صرف پرندے کے ذکر پر اکتفا کیا گیا اس لئے کہ یہ لفظ دونوں باتوں پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ ہر انسان کا شگون اس کے گلے میں اس طرح آویزاں ہے جس طرح طوق اس کے گلے میں آویزاں ہا ہے اور کبھی اس سے الگ نہیں ہوتا دراصل یہ طرز بیان کسی کو نصیحت کرنے خدا کے عذاب سے ڈرانے صلاح کی دعوت دینے اور گناہ روکنے کے لئے انتہائی بلیغ ہے۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

سمعی حجت ضروری ہے قول باری ہے (وما کنا معذبین حتی نبعت رسولاً اور ہم عذاب دینے والے نہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لئے ایک پیغام بر نہ بھیج دیں) اس کی تقیہ میں دو قول ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ان امور کی بنا پر جن کے اثبات کا تعلق سمعی دلائل سے ہے، عقل نسائی سے نہیں ہے اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جب تک رسول کے ذریعے سمعی حجت قائم نہ ہوجائے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اہل حرب میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے لیکن نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے بارے میں وہ سمعی احکامات سے آگاہ نہ ہو سکے تو ان احکامات کے بارے میں علم ہوجانے کے بعد اس پر ان کی قضا لازم نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ ان عبادت کا اس پر لزوم سمعی حجت کے قیام کے بعد ہی ہوا۔ اہل قبا کے واقعہ میں سنت کا درود بھی اس کے مطابق ہے اہل قبانماز کے اندر تھے کسی نے آ کر اضلاع دی کہ قبلہ بدل گیا ہے، وہ لوگ نماز کے اندر ہی بیت اللہ کی طرف مڑ گئے لیکن انہوں نے نئے سرے سے نماز نہیں شروع کی اس لئے کہ فسخ قبلہ کی سمعی حجت سے وہ ابھی آگاہ نہیں ہوئے تھے اس لئے ان کی نماز کا وہ حصہ درست رہا جو انہوں نے پہلے ادا کرلیا تھا۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ جو شخص دار الحرب میں مسلمان ہوگیا ہو لیکن اسے وجوب صلوۃ کا کوئی علم نہ ہ وتو ان نمازوں کی اس پر قضا لازم نہیں ہوگی۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص دارالاسلام میں مسلمان ہوگیا ہو لیکن کسی وجہ سے نماز کی فرضیت کا علم نہ ہو سکے تو استحسان کے طور پر ان نمازوں کی قضا اس پر لازم ہوگی جبکہ قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ اس صورت کا بھی نہ ہی حکم ہونا چاہیے جو پہلی صورت کا تھا اس لئے کہ علت یعنی سمعی حجت سے عدم واقفیت یہاں بھی موجود ہے ، استحسان کی د لیل یہ ہے کہ اس نو مسلم نے مسلمانوں کو اذان و قا امت کے ساتھ مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا یہی چیز اسے نماز کی طرف بلانے کا سبب ہے اس لئے اس کی حیثیت یہ ہوگی کہ گویا اس کے لئے وجوب صلوۃ کی دلیل قائم ہوگئی اور مسلمانوں نے اسے اس کی فرضیت کے لزوم سے آگاہ کردیا اس لئے اس دلیل سے کام نہ لینے کی بنا پر ان نمازوں کی فرضیت اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک لوگوں کو ان کی جڑ کاٹ دینے والے عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جب تک رسول کے ذریعے ان پر سمعی حجت قائم نہیں ہوجاتی۔ نیز یہ کہ عقل انسانی کے رو سے واجب ہونے والے احکامات کی خلاف ورزی کی بنا پر اللہ کے حکم میں جڑ کاٹ ڈالنے والا عذاب واجب نہیں ہوتا جب تک رسول کے ذریعے سمعی حجت قائم نہیں ہوجاتی۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا، تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے، پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

راہنمائوں کی اکثریت فاسق ہوجائے تو عذاب الٰہی آتا ہے قول باری (واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا متردیھا فصسقوا فیھا جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، سعید کا قول ہے کہ انہیں طاعت کا حکم ملتا ہے لیکن وہ نافرمانیوں پر اتر آتے ہیں عبداللہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی قبیلہ کے افراد کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے تو ہم کہتے کہ اب اس کی شامت آنے والی ہے حسن، ابن سیرین اور ابو العالیہ نیز عکرمہ اور مجاہد سے (امرنا) بمنی اکثرناً (ہم نے تعداد بڑھا دی) مروی ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بستی والوں کی نافرمانیوں سے پہلے انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ الٰہی وجود میں آ جاتا ہے۔ اس لئے کہ کسی بستی کو ہلاک کرنا دراصل اللہ کی طرف سے دی جانے والی سزا کی ایک صورت ہوتی ہے اور نافرمانی نہ کرنے والوں کو ہلاک کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (جداراً یرید ان ینقض ایک دیوار جو گراہی چاہتی تھی ، اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ گرنے کا ارادہ وجود میں آگیا تھا بلکہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ جلد ہی گر جانے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش حالی لوگوں کا خصوصیت سے اس لئے ذکر فرمایا کہ یہی لوگ سرداران قوم ہوتے ہیں اور باقی ماندہ لوگ ان کے پیروکاروں کا درجہ رکھتے ہیں جس طرح فرعنہ مصر میں سے ہر فرعون اپنی قوم کا سردار ہوتا اور قوم اس کی پیروکار ہوتی یا جس طرح حضور ﷺ نے قیصر روم کو دعوت نامہ تحریر کرتے ہوئے لکھا تھا (العلم والا فعلیک اثم الاریسین) اسلام لے آئو ورنہ تم پر تمام کاشتکاروں کا گناہ لازم آئے گا ) اسی طرح آپ نے کسریٰ کو نامہ تحریر فرمایا (فان لم تسلم فعلیک اثم الا کارین۔ اگر تم اسلام نہ لائے تو تمام کسانوں کا گناہ تمہارے سر ہوگا)
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

قرن کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکم اھلکنا من اقرون من بعد نوح دیکھ لو کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں) حضرت عبداللہ بن ابی ادنٰی سے مروی ہے کہ قرن ایک سو بیس برس کو کہتے ہیں۔ محمد بن القاسم المازنی کا قول ہے کہ سو سال کو ایک قرن کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق دن چالیس برسوں کا ہوتا ہے۔
Ayahs 17:18–19

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے، جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

خد ا اپنی مرضی سے جتنا چاہے طالبان دنیا کو نوازتا ہے قول باری ہے (من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرید جو عاجلہ کا خواہشمند ہو اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں) عاجلہ سے مراد دنیا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (کلا بل تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ) ہرگز ایسا نہیں، اصل یہ ہے کہ تم دنیا سے تو محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جس شخص کی ساری تگ و دو دنیا کی طلب تک محدود ہو اور اس کے دل میں آخرت کی نہ کوئی فکر ہو اور نہ چاہت اسے یہیں جتنا وہ چاہے مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سے دینے کو دو باتوں کے ساتھ معلق کردیا ہے۔ ایک پر یہ قول دلالت کرتا ہے (عجلنا لہ فیھا ھا نشآء) اسی بنا پر دی جانے والی چیز میں (ما نساء) کے ذریعے استثناء کردیا جو اس چیز کی مقدار، اس کی جنس اور اس کے دوام یا انقطاع کو متضمن ہے پھر اس پر ایک اور استثنا داخل کرتی ہوئے فرمایا (لمن نرید) یعنی حصول دنیا کی کوششیں کرنے والے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ دنیا نہیں دیتا بلکہ ان میں سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے، اسی لئے درج بالا قول کے ذریعے دنیا پانے والوں کے اندر بھی استثناء کردیا ۔ اس طرح طالبان دنیا کو دنیا دینے کے سلسلے میں دو استثنائوں کا ذکر فرمایا تاکہ دنیا کے طلبگار اس بھروسے پر نہ بیٹھے رہیں کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں انہیں ضرور بالضرور دنیا مل کر ہی رہے گی۔ پھر فرمایا (ومن ادادا الآخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مرمن فاولئک کان سعیھم مشکوراً اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لئے سعی کرے جیسی کہ اس کے لئے سعی کرنی چاہیے اور ہو وہ مومن تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کوئی استثناء نہیں کیا۔ درست طریقے سے سعی کرنے کے بعد طالبان آخرت کی جزاء کے لئے کسی اسثناء نہیں کیا۔ درست طریقے سے سعی کرنے کے بعد طالبان آخرت کی جزاء کے لئے کسی استثناء کی ضرورت نہیں رہی تاہم آخرت کی سعی کے لئے یہ شرط ضرور لگا دی گئی کہ سعی کرنے والا مومن ہو اور اس کے پیش نظر آخرت کا ثواب ہو۔ جنت میں داخلہ تین باتوں سے مشروط ہے محمد بن عجلان کا قول ہے کہ جس شخص کے اندر تین باتیں نہیں ہوں گی وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا اول درست نیت، دوم سچا ایمان اور سوم صحیح عمل۔ “ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ تینوں باتیں کہاں سے اخذ کی ہیں۔ انہوں نے جواب میں فرمایا، اللہ کی کتاب سے، ارشاد ربانی ہے (ومن ارادا الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن) اللہ تعالیٰ نے ثواب کے استحقاق کے سلسلے میں آخرت کے لئے سعی کو چند اوصاف کے ساتھ معلق کردیا اور مقصود کے اندر کسی چیز کا استثناء نہیں کیا دوسری طرف طلب دنیا کو کسی وصف کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اسے مطلق رہنے دیا لیکن دنیا میں سے حاصل ہونے والی چیز اور دنیا حاصل کرنے والوں کے سلسلے میں دو استثنائوں کا ذکر فرمایا۔
Ayahs 17:20–22

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ان کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں، اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اور) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بیکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

دنیا میں سامان زیست مومن و کافر سب کو نصیب ہے قول باری ہے (کلا نمد ھولآء وھو لاء من عطاء ربک ان کو بھی اور انکو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جا رہے ہیں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے) دنیا کے خواہشمند اور آخرت کے طلبگار کا ذکر پہلے گزر چکا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ارادہ اور قصد کے نتیجے میں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا حکم بھی بیان ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ دنیا میں اس کی نعمتیں نیکو کار اور بدکار دونوں تک پھیلی ہوئی ہیں البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نیکو کاروں کے لئے مخصوص ہوں گی ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ شمس و قمر ، ارض و سماء اور ان کے فوائد، آب و ہوا ، نباتات و حیوانات، غذائیں و دوائیں، جسمانی صحت و دعا فیت غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کا دائرہ نیکو کاروں اور بدکاروں سب تک وسیع ہے۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (کرتے رہو) ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا

والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان قول باری ہے (وقصی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احساناً تمہارے رب نے فیصلہ دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو۔ مگر صرف اس کی اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو) قول باری (اقضی ربک) کے معنی ہیں ” امر ربک تمہارے رب نے حکم دیا ہے ) اسی طرح تمہارے رب نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے۔ “ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ ” و اوصی بالوالدین احساناً (اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دونوں ہم معنی ہیں اس لئے کہ وصیت کے معنی بھی امر اور حکم کے ہیں۔ اللہ نے اپنی کتاب میں والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کی متعدد مقامات پر وصیت فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے) نیز فرمایا : (ان اشکرلی ولوالذیک الی المصیر، وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفاً کہ تم میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کرو میری ہی طرف واپسی ہے اور اگر یہ دونوں تم پر دبائو ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو تم ان کا کہا نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے گزارہ کرو) اللہ تعالیٰ مشرک والدین کے ساتھ خوبی سے گزارہ کرنے کا حکم اور ساتھ ہی ساتھ شرک کے معاملہ میں ان کی فرمانبرداری سے منع بھی فرما دیا اس لئے کہ کسی مخلوق کی ایسی طاعت ممنوع ہے جس سے خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ (ان من الکبائر عقوق الوالدین والدین کی نافرمانی کبائر یعنی بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔ ) والدین کو اف تک نہ کہو قول باری ہے (اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ۔ ) اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ” اگر تم بڑے ہو جائو یعنی بالغ ہو کر احکام الٰہی کے مکلف بن جائو اور اس وقت تمہارے والدین میں سے دونوں یا ایک زندہ ہوں اور تمہارے پاس رہتے ہوں تو انہیں اف تک نہ کہو “ لیث بن سعد نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کی اس لاچاری کی حالت کو پہنچ جائیں جو حالت کم سنی میں تم کو لاحق تھی اور وہ تمہاری دیکھ بھال کرتے تھے تو انہیں اف تک نہ کہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت کا لفظ دونوں معنوں کا احتمال رکھتا ہے اس لئے اسے ان دونوں معنوں پر محمو لکیا جائے گا ۔ اس لئے کہ بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دینے کی شرط یہ ہے کہ وہ بالغ ہو کیونکہ نابالغ کو مکلف بنانا اور اسے کسی حکم کا پابند کرنا سرے سے درست ہی نہیں ہے۔ جب لڑکا بلوغت کی حد میں داخل ہوجائے اور دوسری طرف اس کے والدین بڑھاپے اور ضعف کی سرحد پار کر جائیں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں ان کے ساتھ حسن سلوک اس پر واجب ہے۔ اسے اف کا کلمہ کہنے سے روکا گیا ہے اس لئے کہ یہ کلمہ بیزاری اور اکتاہٹ کی حالت پر دلالت کرتا جو آیت میں مخاطب شخص یعنی بیٹے کے دل میں اپنے والدین کے سلسلے میں پیدا ہوجاتی ہے۔ والدین سے توہین آمیز رویہ منع ہے ۔ قول باری ہے (ولا تتھوھما نہ انہیں جھڑک کر جواب دو ) اس کے معنی ہیں۔” ان پر سختی کرتے ہوئے نیز ا ن کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کر کے انہیں ڈانٹ نہ پلائو۔ “ والدین سے احترام کے ساتھ بات کرو قول باری ہے (وقل لھما قولاً کریماً بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو) قتادہ کا قول ہے کہ ” ان کے ساتھ نرمی سے بات کرو۔ “
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت) سے پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال) پر رحمت فرما

قول باری ہے (واخضض لھما جناح الذل من الرحمۃ اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے بھک کر رہو) اس کی تفسیر میں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ جس چیز کے وہ خواہشمند ہوں ان سے وہ چیز نہ روکو۔ “ ہشام نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ والدین کے ساتھ نیکی کا کیا مفہوم ہے۔ حسن نے جواب میں فرمایا۔” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ان کے لئے خرچ کر ڈالو اور ان کے حکموں کی فرمانبرداری کرو بشرطیکہ کوئی حکم خدا کی نافرمانی کو مستلزم نہ ہو۔ “ عمرو بن عثما ن نے واصل بن سانب سے آیت زیر بحث کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ” اپنا ہاتھ بھی ان کے سامنے نہ جھاڑو۔ “ عروہ بن الزبیر کا قول ہے کہ جس شخص نے تیز نظروں سے اپنے والدین کو دیکھا اس نے ان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی۔ “ ابوالہیاج سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے سعید بن المسیب سے (قولاً کریماً ) کا مفہوم دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا :” ایک عاجز غلام کا طرز تکلم جو وہ اپنے درشت خو اور سخت مزاج آقا کے سامنے اختیار کرے۔ “ عبداللہ ! الرصافی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے عطاء نے آیت زیر بحث کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔” اپنے ماں باپ پر کبھی ہاتھ نہ اٹھائو اور ان کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے کبھی تیز نظروں سے ان کی طرف نہ گھورو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ) مجاز پر مبنی ہے اس لئے کہ ذلت یعنی نرمی کے پر نہیں ہوتے اور نہ ہی اسے اس وصف سے متصف کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تذلل یعنی عاجزی اور تواضع میں مبالغہ مراد ہے جسے ایک بیٹے کو والدین کے لئے اختیار کرنا چاہیے ۔ رات کی کیفیت بیان کرتے ہوئے امرئو القیس نے کہا ہے : فقلت لہ لما تمطی بصلبہ واردف اعجازاً وناء بکلکل جب رات نے اپنی پشت بچھا دی، اپنی سرینیں پھیلا دیں اور اپنا سینہ دراز کردیا تو میں نے اس سے کہا۔ حالانکہ رات کی نہ پشت ہوتی ہے نہ سرینیں اور نہ ہی سینہ اس لئے یہ انداز بیان مجاز پر مبنی ہے دراصل شاعر یہاں رات کی یکسانیت اور اس کی طوالت بیان کرنا چاہتا ہے۔ والدین کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا کرنی چاہیے قول باری ہے (وقل رب ارحمھما کما ریبا صغیراً اور دعا کیا کرو کہ ” پروردگار ! ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے شفقت و رحمت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا “ ) آی ت میں والدین کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا مانگنے کا حکم ہے بشرطیکہ دونوں مسلمان ہوں اس لئے کہ ایک مقام پر قول باری ہے۔ (ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ زیبا نہیں کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں) اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ والدین کے لئے دعا کا حکم مومن والدین کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم کو توحید کے حکم ساتھ مقرون کر کے گویا والدین کے حقوق کو اور مئوکد بنادیا ہے چناچہ ارشاد ہے (وقضی ربک الاتعبدوالا ایاہ و بالوالدین احساناً ) پھر ان کے ساتھ حسن سلوک کی کیفیت بیان فرمائی کہ قول و فعل کے ذریعہ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا جائے اور عاجزی اور تواضع کے ساتھ ان سے گفتگو کی جائے اور ان سے بیزاری اور اکتاہٹ کے اظہار سے منع کیا گیا چناچہ ارشاد ہوا (ولا تقل لھما اف) نیز ان پر سختی کرنے اور انہیں جھڑکنے سے بھی روکا گیا ۔ فرمایا (ولا تنھرھما) بیٹے کو ان کے ساتھ نرم گفتگو کرنے اور ان کے حکموں کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا بشرطیکہ ان کا کوئی حکم خدا کی نافرمانی کو مستلزم نہ ہوتا ہو۔ اس کے بعد پھر یہ حکم دیا گیا کہ ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد ان کے لئے دعا مانگی جائے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے باپ کے حق پر ماں کے حق کو فائق قرار دیا ہے۔ ابوزرعہ بن عمرو بن جویر نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا۔” اللہ کے رسول ﷺ ! میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر کون مستحق ہے۔ “ آپ نے فرمایا تمہاری ماں۔ “ اس نے عرض کیا۔” پھر کون “ آپ نے جواب دیا ” تمہاری ماں “ اس نے پھر عرض کیا پھر کون ؟ “ آپ ؐ نے جواب دیا ” تمہاری ماں “ جب اس شخص نے چوتھی مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا ” تمہارا باپ۔ “
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

اوابین کی تشریح قول باری ہے (فانہ کان للاوابین غفوراً وہ ایسے سب لوگوں کو درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں) سعید بن المسیب کا قول ہے کہ اواب اس شخص کو کہتے ہیں جو بار بار توبہ کرتا ہے اور اگر اس سے کوئی نافرمانی ہوجاتی ہے تو فوراً توبہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنے گناہ سے توبہ کے ذریعے رجوع کرے منصور نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اداب اس شخص کو کہتے ہیں جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ سے بخشش کا طلبگار ہوجائے۔ قتادہ نے قاسم بن عوف الشیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ قبا میں رہنے والوں کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ لوگ چاشت کے نوافل میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا (ان صلوۃ الاوابین اذا رمضت الفصال من الضحی اوا بین یعنی اللہ کی طرف توبہ کے ذریعے رجوع کرنے والوں کی نماز چاشت کے وقت ہوتی ہے جب گرمی کی شدت کی بنا پر اونٹنیوں اور گایوں کے بچوں کے تلوے گرم ریت پر جلنے لگتے ہیں۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

رشتہ داروں کے حق کو ادا کیا جائے قول باری ہے (وات ذالقربی حقہ اور رشتہ دار کو اس کا حق دو ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں جس حق کا ذکر ہے وہ مجمل ہے اور اسے بیان و تفصیل کی ضرور ت ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وفی امرالھم حق للسائل والحزوم ان کے اموال میں سائل اور محروم کا بھی حق ہوتا ہے) اسی طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالا الہ الا اللہ فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم دامرالھم الابحقھا مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں اس وقت تک میں ا ن کے خلاف برسر پیکار ہوں لیکن جب وہ اس کلمہ کا اقرار کرلیں گے تو وہ میرے ہاتھوں سے اپنی جان و مال کو محفوظ کرلیں گے الایہ کہ کسی حق کی بنا پر ان کی جان یا مال پر ہاتھ ڈالا جائے ) آیت میں مذکور حق کے معنی واضح نہیں ہیں بلکہ اس کے معنی شریعت کی طرف سے آمدہ بیان اور وضاحت پر موقوف ہیں۔ اگر قرابت سے حضور ﷺ کے قرابت دار مراد ہوں تو ہوسکتا ہے کہ حق سے مراد ان کا وہ حق ہے جو انہیں مال غنیمت کے خمس میں سے ملتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حق سے صلہ رحمی کا حق مراد ہو۔ آیت زیر بحث میں مذکور رشتہ داروں کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس اور حسن بصری کا قول ہے کہ اس سے ہر انسا ن کے رشتہ دار مراد ہیں۔ علی بن الحسین سے مروی ہے کہ اس سے حضور ﷺ کے رشتہ دار مراد ہیں۔ ایک قول کے مطابق پہلی تفسیر ہی درست ہے اس لئے کہ والدین کے ذکر کے ساتھ قربات داروں کا ذکر متصلاً ہوا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تمام لوگوں کے لئے عام ہے اسی طرح اس پر عطف ہونے والا حکم یعنی رشتہ داروں کو ان کا حق دینا بھی تمام لوگوں کے لئے عام ہوگا۔ مسکین اور مسافر کا حق قول باری ہے (والمسکین وابن السبیل اور مسکین کو اور مسافر کو) ہوسکتا ہے کہ اس سے صدقات واجبہ مراد ہوں جن کا ذکر اس قول باری میں آیا ہے (انما الصدقات للفقرآء والمساکین) تا آخر آیت اور یہ بھی ہوسکتا ہے اس سے مراد وہ حق ہے جس کی بوقت ضرورت ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ ابن حمزہ نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (فی المال حق سوی الزکوۃ مال میں زکوۃ نے علاوہ بھی حق ہوتا ہے) اس موقعہ پر آپ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی (لیس البر ان تولوادجو ھکم) تا آخر آیت، سفیان نے ابو الزہیم سے انہوں نے حضرت جابر سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے اونٹوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔” ان میں بھی ایک حق ہے۔ “ صحابہ نے اس کی وضاحت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا (اطراق مخلھا و اعادۃ دلوھا دمنیحۃ سمیعنھا سانڈ کے ساتھ جفتی کی اجازت دینا۔ پانی لانے کے لئے اونٹ مع ڈول عاریت کے طور پر دینا اور پلا ہوا اونٹ سواری کے لئے عطا کرنا۔ فضول خرچی پر پابندی قول باری ہے (ولا تبذر تبذیراً اور فضول خرچی نہ کرو) حضرت عبداللہ مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس نیز قتادہ سے مروی ہے کہ بےجا مال خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اگر بلاوجہ ایک مد (ایک پیمانے کا نام جس کی مقدار دو یا اڑھائی رطل ہوتی ہے) بھی صرف کیا جائے تو وہ تبذیر کہلائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جو لوگ تبذیر کرنے والے پر پابندی لگانے کے قائل ہیں وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ آیت میں تبذیر کی ممانعت ہے اس لئے امام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تبذیر کرنے والے پر پابندی لگا کر اس کے مال کو ضائع ہونے سے بچا لے اور صرف اسے اتنا ہی دے جس سے اس کا خرچ پورا ہوجائے۔ امام ابوحنیفہ پابندی کے قائل نہیں ہیں اگرچہ متعلقہ شخص تبذیر کرنے والا کیوں نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ایسا شخص مکلف ہوتا ہے اور اسے اپنی ذات کے بارے میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اس لئے اس کا اقرار اور لین دین سب درست قرار دیئے جائیں گے جس طرح حد اور قصاص کے سلسلے میں اس کے اقرار کو درست قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حد اور قصاص شبہ کی بنا پر ساقط ہوجاتے ہیں جبکہ اقرار اور عقود، شبہ کی بنا پر ساقط نہیں ہوتے اس لئے ان کا جواز بطریق اولیٰ ہوگا۔ ہم نے قول باری (فان کان الذی علیہ الحق سفیھا اوضیعفاً ) کی تفسیر کے ذیل میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

قول باری ہے (ان المبذرینکانوا اخوان الشیاطین، فضول خرچ لوگ شیاھین نے بھائی ہیں) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں اول یہ کہ انہیں شیاطین کے بھائی بند اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ ایسے لوگ ان کے نقش قدم پر چلتے اور ان کے طریقوں کو اپناتے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ جہنم کے اندر ایسے لوگوں کو شیاطین سے قریب رکھا جائے گا۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

سائل کو نرمی سے جواب دیا جائے قول باری ہے (واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھوق لا میسوراً اور اگر ان سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو ) اس آیت کی تفسیر میں بھی دو قول ہیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہمارے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو اور ہم خالی ہاتھ ہوں تو ایسی حالت میں ہمیں ایک مسلمان سائل یا رشتہ دار یا مسافر کو جواب دینے کا کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ تمہارے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو اور تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے رزق کے منتظر ہو اور اس کی رحمت کے امیدوار ہو کہ اگر وہ مل جائے تو تم انہیں ضرور کچھ دو ، ایسی صورت میں تم انہیں بڑی نرمی سے جواب دے دو اور یہ کہو کہ ” اللہ رزق دے گا “ یہ تفسیر حسن بصری، مجاہد اور ابراہیم نخعی وغیرہم سے منقول ہے۔
Ayahs 17:29–30

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل ہی کھول دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ) ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

اخراجات میں میانہ روی ہونی چاہیے قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتفعد ملوما محسوراً اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو) یعنی …… واللہ اعلم …… ان حقوق کی ادائیگی میں بخل سے کام نہ نوجوان کے لئے واجب ہیں۔ یہ بطور مجاز بیان ہوا ہے اور اس سے مراد تر ک انفاق ہے۔ جائز خرچ سے ایک شخص ہاتھ روک کر گویا اسے اپنی گردن سے باندھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے مال میں سے کسی کو کچھ دے نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ نجیل انسان کو ہاتھ کی تنگی کے وصف سے موصوف کرتے تھے اور کہتے فلان جعد الکفین “ (فلاں شخص کے بازو بہت چھوٹے ہیں) اس کے بالمقابل سخی اور فیاض شخص کے لئے یہ فقرے کہے جاتے ” فلان رحب الذراع “ (فلاں شخص کے بازو بڑے کشادہ ہیں)” فلان طویل الیدین (فلاں شخص کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں) حضور ﷺ نے ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا (اسرعکن بی لحاقاً اطوالکن یداً تم میں سب سے پہلے میرے پاس پہنچنے والی وہ ہے جس کے بازو سب سے زیادہ دراز ہیں) اس سے آپ نے صدقہ و خیرات کی کثرت مراد لی تھی۔ وہ ام المومنین حضرت زینب بنت حجش ؓ نکلیں، وہی سب سے بڑھ کر صدقہ و خیرات کرنے والی تھیں اور حضور ﷺ کے بعد امہات المومنین میں سب سے پہلے ان کی وفات ہوئی تھی۔ شاعر کا قول ہے۔ وما ان کان اکثر ھم سواما ولکن کان ارحیھم ذراعاً میرا ممدوح اگرچہ ہونے والے مویشیوں کا سب سے بڑھ کر مالک نہیں تھا لیکن اس کے بازو سب سے زیادہ کشادہ تھے۔ یعنی وہ سب سے بڑھ کر سخی اور فیاض تھا۔ قول باری ہے (ولا تیسطھا کل البسط اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو ) یعنی تمہارے ہاتھ میں جتنا مال ہے وہ سارے کا سارا خرچ نہ کر ڈالو کیونکہ تمہیں اور تمہارے اہل و عیال کو اس کی ضرورت رہے گی اگر ایسا کرو گے تو ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو گے یعنی جو مال تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا اس کی تمہیں حسرت رہے گی۔ یہ خطاب حضور ﷺ کے سوا باقی ماندہ تمام لوگوں کو ہے۔ آپ آئندہ کے لئے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔ آپ فاقہ کرتے یہاں تک کہ بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لئے پیٹ سے پتھر باندھ لیتے۔ اسی طرح بعض جلیل القدر صحابہ کرام بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے لیکن حضور ﷺ انہیں کچھ نہ کہتے اس کی وجہ تھی کہ اللہ کی ذات پر انہیں پورا یقین ہوتا اور وہ بڑے روشن ضمیر ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے انفاق میں افراط سے کام لینے اور سارا مال دے دینے سے صرف ان لوگوں کو روکا ہے جن کے بارے میں یہ خطرہ ہو کہ مال خرچ کرلینے کے بعد انہیں ہمیشہ اس کا افسوس اور مال کی حسرت لاحق ہوجائے گی لیکن جو لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے ہوں اور ثواب عظیم کے امیدوار ہوں وہ اس آیت میں مراد نہیں ہیں۔ روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔ اس کے پاس انڈے کے برابر سونے کا ٹکڑا تھا۔ کہنے لگا :” اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے یہ ٹکڑا ایک کان سے دستیاب ہوا ہے، بخدا میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے، آپ ﷺ مجھ سے یہ لے لیجیے۔” حضور ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر اپنا رخ دوسری طرف پھیرلیا۔ اس شخص نے دوسری مرتبہ یہی بات عرض کی، آپ ﷺ نے پھر اپنا رخ بدل لیا۔ جب اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا تو آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ سے سونے کا وہ ٹکڑا لے کر اتنے زور سے پھینکا کہ اگر اس شخص کو لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا، پھر فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنا سارا مال میرے حوالے کرنے کے لئے لے آتا ہے اور پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا رہتا ہے۔ “ ایک اور روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں آیا اس کے جسم پر پھٹے پرانے کپڑے تھے۔ اس وقت حضور ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے اس شخص کو کھڑے ہوجانے کا حکم دیا۔ وہ کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے صدقہ کے طور پر اس کے لئے کپڑوں کے جوڑے جمع کردیئے، آپ نے ان میں سے دو کپڑے لے کر اسے دے دیئے، اس کے بعد خطبہ دیتے ہوئے آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی تلقین فرمائی جسے سن کر اس شخص نے اپنا ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا : لوگو ! اس شخص کو دیکھو، میں نے اسے کھڑا ہونے کے لئے کہا تھا تاکہ لوگوں کو اس کی بدحالی کا احساس ہوجائے اور اس طرح اس کی کچھ امداد ہوجائے۔ میں نے اسے دو کپڑے دیے تھے اور اب دیکھو اس نے ایک کپڑا صدقہ کے طور پر جمع کرا دیا ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے اس شخص کو حکم دیا گیا کہ کپڑا واپس لے لو۔ آیت میں دراصل ایسے ہی لوگوں کو اپنا سب کچھ دے دینے سے روکا گیا ہے۔ لیکن جو حضرات صاحب بصیرت اور روشن ضمیر تھے۔ انہیں حضور ﷺ اس سے نہیں روکتے تھے۔ حضرت ابوبکر کے پاس کافی مال تھا آپ نے سارا مال حضور ﷺ کی ذات پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کردیا حتی کہ جسم پر صرف ایک چادر رہ گئی تھی جس میں آپ گزارہ کرتے تھے لیکن حضور ﷺ نے اس مسئلے میں آپ کے ساتھ نہ کوئی سختی کی اور نہ ہی اس پر آپ کو ٹوکا۔ آیت میں خطاب حضور ﷺ کو نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کے سوا باقی ماندہ لوگ مخاطب ہیں اس کی دلیل یہ قول باری ہے (فتقعد ملوماً محسوراً ) حضور ﷺ کی ذات اقدس ایسی نہیں تھی کہ اللہ کی راہ میں سب کچھ خرچ کردینے کے بعد آپ کو افسوس ہوتا یا دل میں مال کی حسرت پیدا ہوجاتی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آیت میں آپ ﷺ کے سوا دوسرے تمام لوگ مراد ہیں۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (لئن اشرکت لیحبطن عملک اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے سال اعمال حبط ہوجائیں گے) آیت میں اگرچہ خطاب حضور ﷺ کو ہے لیکن مراد آپ ﷺ کے سوا دوسرے تمام لوگ ہیں اسی طرح قول باری (فان کنت فی شک مما انزلنا الیک۔ اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے تم پر اتاری ہے) میں حضور ﷺ مراد نہیں ہیں اس لئے کہ آپ کو اللہ کی نازل کردہ کتاب کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ قول باری (وقضی ربک) سے لے کر آیت زیر بحث تک جتنی آیات درج ہیں وہ مندرجہ ذیل امور کی مقتضی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، ا ن کے سامنے نیاز مندی کے اظہار اور ان کی فرمانبرداری نیز رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کرنے کا امر فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بےجا طور پر مال خرچ کرنے اور اللہ کی نافرمانی میں مال لگانے سے روکا گیا ہے۔ یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ اخراجات میں میانہ روی اختیار کی جائے، فضول خرچی سے پرہیز کی جائے اور حقوق کی ادائیگی میں کتواہی نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ ہاتھ خالی ہونے کی صورت میں مسکین اور سائل کو کس طریقے سے ٹالا جائے۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

قتل اولاد کی ممانعت قول باری ہے (ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔ اور اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو) اس کلام میں اس سبب کا بھی ذکر موجود ہے جو اس کے نزول کا پس منظر ہے۔ وہ اس طرح کہ عرب کے اندر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو افلاس کے اندیشے سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے تاکہ ان کے اخراجات کا بوجھ ان پر نہ پڑے اور اس طرح بچ رہنے والی رقم ان کی ذات اور اہل و عیال کے کام آ جائے۔ عربوں میں اس کا عام رواج تھا اور اس بری رسم کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ ایسی لڑکیاں موئودۃ کہلاتی تھیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے (واذا الموودۃ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا) موئودہ اس لڑکی کو کہتے ہیں جسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا عرب کے لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے حضور ﷺ سے ایک مرتبہ دریافت کیا تھا کہ بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں، آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا تھا (ان تجعل للہ ندا وھو خلقک وان تقتل ولدک خشیۃ ان تاکل معک وان تزنی بحلیلۃ جارک یہ کہ تم کسی کو اللہ کا مدمقابل ٹھہرائو۔ حالانکہ اس نے ہی تمہیں پیدا کیا، نیز یہ کہ اس اندیشے کی بنا پر اپنی لڑکی کو قتل کر دو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے اور یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو) قول باری ہے (نحن نرزقھم و ایاکم ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے اسباب پید اکر دے گا جن کی بنا پر وہ اپنی ذات اور اولاد کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جاندار بھی پیدا کیا ہے اسے اس کی زندگی بھر رزق مہیا کرتا رہے گا۔ اس کے رزق کا سلسلہ صرف اس کی موت کے ساتھ منقطع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے بیان کردیا تاکہ حصول رزق کے سلسلے میں کوئی شخص کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے نہ ہی کسی کال مال ہتھیائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے رزق کے ایسے اسباب پیدا کردیئے ہیں جن کی بنا پر اسے دوسروں کے مال پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

زنا کے قریب نہ پھٹکو قول باری ہے (ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سجیلاً ۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہ براہ راستہ) اس میں زنا کی تحریم کی خبر دی گئی ہے نیز یہ کہ یہ بہت قبیح فعل ہے۔ اس لئے کہ فاحشہ اس فعل کو کہتے ہیں جس کی قباحت بڑی زبردست اور بڑی واضح ہو۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ سمعی حجت کے ورود سے پہلے ہی زنا عقل انسانی کے نزدیک ایک قبیح فعل تھا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو فاحشہ کا نام دیا، سمعی حجت کے ورود سے قبل یا اس کے بعد کی حالت کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ عقلی طور پر زنا ایک قبیح فعل ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ زانی عورت پیدا ہونے والے بچے کا نسب اس بچے کے باپ کی نسبت سے بیان نہیں کرسکتی اس لئے کہ اس کے ساتھ منہ کالا کرنے والے مرد ایک دوسرے سے بڑھ کر اس بچے کے نسب کے حق دار نہیں ہوتے۔ اس طرح زنا کے فعل قبیح کی وجہ سے نسب کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے اور مواریث، مناکحات صلہ رحمی کے سلسلے میں نسب سے متعلقہ حرمتوں کی مخالفت ہوجاتی ہے۔ ولد پر والد کا حق باطل ہوجاتا ہے اور اسی طرح کے بہت سے دوسرے حقوق بھی اس فعل قبیح کی بنا پر پامال ہوجاتے۔ عقل انسانی کے نزدیک یہ ایک گھنائونا فعل ہے اور عادۃ لوگ اسے قبیح سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر حضور ﷺ کا ارشاد ہے (الولد للفراش وللعاھرا لحجر بچے کے نسب کا تعلق بچھونے کے ساتھ ہے اور منہ کالا کرنے والے کے لئے پتھر ہے ) اس لئے کہ اگر نسب کو بچھونے کے اندر محدود نہ کردیا جاتا یعنی نسب کے اجرا کو صرف نکاح اور نکاح جیسی صورت مثلاً ملک یمین کے اندر محدود نہ کردیا جاتا تو پھر صاحب فرا ش یعنی شوہر، زانی سے بڑھ کر بچے کے نسب کا حق دار قرار نہ پاتا جس کے نتیجے میں اکتساب کا ابطال لازم آتا اور انساب سے تعلق رکھنے والے تمام حقوق و مراعات ساقط ہوجاتے ہیں۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

قتل کی ممانعت قول باری ہے (ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق اور قتل کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ نے (الا بالحق) فرمایا اس لئے کہ قتل نفس حق نہ ہونے کے باوجود بھ یبعض دفعہ حق بن جاتا ہے جس کی صورتیں یہ ہیں۔ قصاص اور ارتداد کی بنا پر قتل اسی طرح غیر مسلموں سے قتال اور محاربت کی وجہ سے قتل، نیز محصن زانی کا رجم۔ مقتول کے قصاص کا حکم قول باری ہے (ومن قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطاناً اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے) حضرت ابن عباس ، سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ سلطان حجت کو کہتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے (اولیا تینی بسلطن مبین یا میرے سامنے کوئی واضح حجت اور دلیل پیش کرے) ضحاک کا قول ہے کہ سلطان سے مراد یہ ہے کہ مقتول کے ولی کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو قاتل کو قتل کر دے اور چاہے تو دیت قبول کرلے۔ نیز سلطان یعنی حاکم وقت کا یہ فرض ہے کہ وہ قاتل کو پکڑ کر ولی کے حوالے کر دے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلطان ایک مجمل لفظ ہے اور معنی، مراد کو واضح کرنے کے لئے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ ایک مشترک لفظ ہے جس کا کئی معانی پر اطلاق ہوتا ہے۔ اس کا ایک مفہوم حجت اور دلیل ہے، دوسرا مفہوم وہ سلطان اور حاکم ہے جو صاحب بست و کشاد ہوتا ہے تاہم سب کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت میں اس سے قصاص مراد ہے اس طرح اس آیت کے ذریعہ قصاص ایک منطوق حکم قرار پا گیا۔ آیت کا مفہوم یہ ہوگا ہم نے مقتول کے ولی کو سلطان یعنی قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ “ یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ آیت میں دیت مراد ہے۔ اس لئے ہم نے دیت کا اثبات نہیں کیا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ قصاص مراد ہے تو ظاہر آیت اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء ہیں کچھ بالغ ہوں اور کچھ نابالغ تو بالغ ورثاء نابالغ ورثاء کے بالغ ہونے سے پہلے قصاص لے سکتے ہیں اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک ولی ہوتا ہے جبکہ نابالغ ورثاء میں سے کوئی بھی ولی نہیں بن سکتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر نابالغ ولی قاتل کو معاف کر دے تو اس کا یہ اقدام جائز نہیں ہوتا۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک جب تک نابالغ ورثاء بالغ نہ ہوجائیں اس وقت تک بالغ ورثاء قاتل سے قصاص نہیں لے سکتے۔ جب وہ بالغ ہوجائیں تو پھر بالغ ورثاء کے ساتھ مل کر قاتل سے قصاص لیں گے یا معاف کردیں گے۔ ایک روایت کے مطابق امام محمد نے امام ابوحنیفہ کے قول کی طرف رجوع کرلیا تھا۔ قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہیے قول باری ہے (فلا یسرف فی القتل۔ پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے) عطاء حسن مجاہد، سعید بن جبیر، ضحاک اور طلق بن جلیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ مقتول کا ولی، قاتل کے سوا کسی اور کو قتل نہ کرے نیز قاتل کا مثلہ بھی نہ کرے۔ اس لئے کہ عرب کے لوگ قاتل ہاتھ نہ آنے پر اس کے دوستوں اور رشتہ داروں میں سے جو بھی ہاتھ آ جاتا اسے قتل کردیتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ولی کو قصاص لینے کا حق عطا کردیا تو اسے قتل میں حد سے گزرنے سے منع فرما دیا۔ انہی معنوں پر قول باری (کتب علیکم القصاص فی انقتلی الحر بالحر والعبد بالعبد والا نثی بالانثی مقتولین کا قصاص لنیا تم پر فرض کردیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور مئونث کے بدلے مئونث) بھی محمول ہے اس لئے کہ زمانہ جاہلیت میں بعض قبائل کو بعض پر فوقیت حاصل تھی اگر ان کا کوئی غلام قتل ہوجاتا وہ اس کے بدلے میں قاتل کے قبیلے کا آزاد آدمی قتل کردیتے، اس کے سوا وہ کسی اور بات پر رضا مند نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرما دیا کہ ولی قاتل کو قتل کرنے میں بایں معنی حد سے نہ گزرے کہ وہ قاتل کے سوا کسی اور کو قتل نہ کرے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ آیت زیر بحث میں بعض نے نہی کی بنا پر فعل کی مجزوم قرأت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع رکھا ہے کہ یہ مجازاً خبر ہے اور مفہوم یہ ہے کہ ” ولی کا قاتل کو قتل کردینا کوئی زیادتی نہیں ہے اس لئے کہ ولی کا اس کا حق حاصل ہوگیا تھا۔ مقتول منصور ہوگا قول باری ہے (انہ کان منصوراً ۔ اس کی مدد کی جائے گی) قتادہ کا قول ہے کہ ضمیر ولی کی طرف عائد ہے اور مجاہد کا قول ہے کہ یہ مقتول کی طرف راجع ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کی یا تو دنیا میں مدد کی جائے گی یا آخرت میں۔ اس کی مدد کی یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یعنی ولی کو قصاص لینے کا حکم دیا ہے ایک اور قول کے مطابق اس کی مدد کی یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اور تمام مسلمانوں کو اس کی اعانت کا حکم دیا ہے۔ قول باری (فقد جعلنا لولیہ سلطاناً ) عورتوں کے لئے قصا ص کے اثبات کا مقتضی ہے۔ اس لئے یہاں ولی سے مراد وارث ہے جس طرح یہ ارشاد ہے (والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں) نیز ارشاد ہے (ان الذین امنوا وھاجروا جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی) تاقول باری صاولئک بعضھم اولیاء بعض وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں) نیز فرمایا (والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھا جروا رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے دارالاسلام میں ) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔ ) اس حکم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس وقت تک کے لئے ان کے درمیان توارث کے اثبات کی نفی کردی جب تک وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔ پھر ارشاد ہوا (و اولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمھاجرین۔ اور اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار دوسرے مومنین اور مہاجرین کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں) اللہ تعالیٰ نے خون کے رشتہ داروں کو ایک دوسرے کا ولی قرار دے کر ا ن کے مابین میراث کا اثبات کردیا۔ نیز فرمایا (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض کافر لوگ ایک دوسرے کے ولی ہیں) ولایت کا ذکر کر کے کافروں کے مابین تو وارث کا اثبات کردیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فقد جعلنا لولیہ سلطاناً ) تو یہ تمام ورثاء کے لئے قصاص لینے کے اثبات کا مقتضی ہوگیا۔ مقتول کا خون یعنی قصاص وراثت کے طور پر اس کے رشتہ داروں یعنی وارثوں کو مل جاتا ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ خونبہا جو قصاص کا بدل ہوتا ہے وراثت کے طور پر ان مردوں اور عورتوں کو مل جاتا ہے جو اس کے وارث ہوتے ہیں۔ اگر عورتیں قصاص کی وارث نہ ہوتیں تو وہ اس کے بدل یعنی مال کی بھی وارث نہ ہوتیں۔ یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ بعض ورثاء میت کی میراث کے بعض حصوں کے تو وارث قرار دیئے جائیں اور یعض دوسرے حصوں کے وارث نہ بن سکیں۔ یہ بات نہ صرف ظاہر کتاب کے خلاف ہے بلکہ اصول شرعیہ کے بھی خلاف ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ عورتوں کے ساتھ قصاص کے حق کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ قصاص لینا صر مردوں کا ح ہے لیکن اگر یہی قصاص دیت کی بنا پر مال میں تبدیل وہ جائے تو اس صورت میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی اس مال کی وارث ہوں گی۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قصاص کا حق ہر وارث کے لئے میراث میں اس کے حصے کی مقدار کے مطابق واجب ہوتا ہے خواہ یہ وارث مرد ہو یا عورت یا بچہ۔