17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 17:72–77

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) راستے سے بہت دور۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم تم کو زندگی میں بھی (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا عذاب چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین میں (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کردیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے انکا (اور انکے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔

قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے۔

نمازوں کے اوقات کا ذکر قول باری ہے (اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل ۔ نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک) حضرت ابن مسعود اور ابو عبدالرحمٰن تسلمی سے مروی ہے کہ دلوک شمس سے غروب آفتاب مراد ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوبرزہ، سلمی، حضرت جابر اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ دلوک شمس سے زوال آفتاب مراد ہے۔ تابعین کی ایک جماعت سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان صحابہ کرام کا قول ہے کہ دلوک، میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اس بارے میں ان کی رائے قابل قبول ہے اس لئے کہ یہ تمام تمام اہل زبان تھے ۔ جب بات اس طرح ہے تو یہ درست ہے کہ دلوک سے وہ جھکائو مراد لیا جائے جو زوال آفتاب کے وقت ہوتا ہے اور وہ جھکائو بھی جو غروب آفتاب کے موقع پر ہوتا ہے۔ اگر اس سے زوال آفتاب مراد لیا جائے تو آیت ظہر، عصر، مغرب اور عشاء چاروں نمازوں کو متضمن ہوگی اس لئے کہ ان اوقات کا تعلق مذکورہ بالا فرض نمازوں کے ساتھ ہے ، اس صورت میں غسق اللیل ان نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کی انتہا قرار پائے گا۔ ابوجعفر سے مروی ہے کہ آدھی رات کو غسق اللیل، کہتے ہیں اس سے یہ دلالت ہوگی کہ نصف شب، عشاء کی نماز کے مستحب وقت کی انتہا ہے اور اسکے بعد تک عشاء کو مئوخر کرنا مکروہ ہوگا اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے غروب آفتاب مراد لیا جائے اس صورت میں آیت مغرب کی نماز کے وقت کے لئے بیان ہوگی کہ اس کا وقت غروب آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک رہتا ہے۔ غسق اللیل کی تشریح غسق اللیل کی تشریح میں اختلاف رائے ہے۔ امام مالک نے دائود بن الحصین سے روایت کی ہے، انہوں نے ایک راوی سے اور اس راوی نے حضرت ابن عباس سے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ ” غسق اللیل رات کی تاریکی اور اس کے چھا جانے کو کہتے ہیں۔ “ لیث بن سعد نے مجاہد سے اور انہوںں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آپ فرماتے تھے۔ ” دلوک شمس جب سورج ڈھل جائے تا غسق اللیل جب سورج غروب ہوجائے۔ “ مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے۔ ” دلوک شمس جب سورج غروب ہوجائے تو غسق اللیل جب شفق غائب ہوجائے۔ “ حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ بھی مروی ہے کہ جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے کہا۔” یہ غسق اللیل ہے۔ “ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ ” سورج کے غائب ہوجانے کو غسق اللیل کہتے ہیں۔ “ حسن بصری سے مروی ہے کہ غسق اللیل مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ غسق اللیل عشاء کی نماز کا نام ہے ابوجعفر کا قول ہے کہ نصف شب کا نام غسق اللیل ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جن حضرات نے دلوک شمس کے معنی غروب آفتاب لئے ہیں ان کے نزدیک غسق اللیل کے معنی غروب آفتاب ہونا درست نہیں ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دلوک شمس کو ابتدا قرار دے کر غسق اللیل کو اس کی انتہا بنادیا اور یہ بات درست نہیں کہ ایک چیز خود اپنی ذات کی انتہا بھی قرار دی جائے اور اس طرح ایک ہی چیز ابتدا بھی ہوجائے اور انتہا بھی ۔ اس لئے اگر دلوک سے غروب آفتاب مراد لیا جائے گا تو اس صورت میں غسق اللیل یا تو شفق ہوگا جو مغرب کی نماز کا وقت آخر ہوتا ہے۔ یا اجتماع ظلمت یعنی رات کا اندھیرا ہوگا اور اجتماع ظلمت خود شفق کے غائب ہونے کا نام ہے اس لئے رتا کا اندھیرا اس وقت چھا جاتا ہے جب سفیدی غائب ہوجاتی ہے یا غسق اللیل عشاء کی نماز کے مستحب وقت کی انتہا ہوگا یعنی آدھی رات۔ اس صورت میں غسق اللیل دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو متضمن ہوگا۔ قول باری ہے (وقرآن الفجر ان قران الفجر کان مشھوداً اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ فقرہ قول باری (اقم الصلوۃ لدلوک الشمس) پر معطوف ہے۔ ترتیب کلام اس طرح ہے ”(قم قرآن الفجر (قرآن فجر کو قائم کرو) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ نماز فجر میں قرأت واجب ہے اس لئے کہ امر کا صیغہ وجوب کے معنوں پر محمول ہوتا ہے اس وقت صرف نماز کے اندر ہی قرأت کا وجوب ہوسکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ قرآن فجر کے معنی فجر کی نماز کے ہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات و وجوہ سے غلط ہے۔ اول یہ کہ لفظ قرأت سے نماز کی تعبیر درست نہیں ہے کیونکہ اس سے کلام کو اس کے حقیقی معنی سے ہٹا کر کسی دلیل کے بغیر مجازی معنی کی طرف پھیر دینا لازم آت ا ہے۔ دوسری وجہ نسق تلاوت میں یہ قول باری ہے (ومن اللیل فتھجدبہ نافلۃ لک اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لئے نفل ہے) فجر کی نماز کے ساتھ رات کے وقت تہجد محال ہے جبکہ قول باری (بہ) میں ضمیر قرآن فجر کی طرف راج ہو جس کا ذکر اس سے پہلے ہوا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قرآن فجر سے قرأت کے حقیقی معنی مراد ہیں اس لئے کہ قرآن کے ساتھ تہجد ممکن ہے جس کی فجر کی نماز کے اند رقرأت کی جاتی ہے جبکہ نماز فجر کے ساتھ تہجد محال ہے۔ علاوہ ازیں اگر قرآن فجر سے نماز فجر مراد لینا درست بھی ہوجائے جس کا معترض نے ذکر کیا ہے تو بھی نماز میں قرأت کے وجوب پر قرآن فجر کی دلالت بحالہ قائم رہتی ہے وہ اس طرح کہ قرأت سے نماز کی تعبیر صرف اس لئے کی گئی ہے کہ قرأت نماز کے ارکان اور اس کے فرائض میں داخل ہے۔
Ayahs 17:79–83

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو یہ شب خیزی) تمہارے لئے (سبب) زیادت (ثواب) ہے اور قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہو کے اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور و قوت کو میرا مددگار بنائیو۔

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو بھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔

نماز تہجد قول باری ہے (ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک اور رات کو تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے) حضور ﷺ کے صحابی حضرت حجاج بن عمرو انصاری سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” تم میں سے جب کوئی شخص رات کی ابتداء سے آخر شب تک قیام کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے تہجد کی نماز ادا ک رلی ہے۔ نہیں اس نے تہجد کی نماز ادا نہیں کی۔ تہجد وہ نماز ہے جو تھوڑی دیر سونے کے بعد اٹھ کر ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے۔ حضور ﷺ کی نماز تہجد کی نماز اس طرح ہوتی تھی۔ “ اسود اور علقمہ کا قول ہے کہ تہجد کی نماز سو کر اٹھنے کے بعد ہوتی ہے۔ لغت میں نما ز تہجد کے لئے یا اللہ کے ذکر کے لئے بیدار ہونے کو کہتے ہیں۔ ہجود نیند کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ تہجد اس بیداری کا نام ہے جو نیند کی نفی کرنے والے عمل کے ساتھ کی جائے۔ قول باری (نافلۃ لک) کی تفسیر میں مجاہد کا قول ہے کہ حضور ﷺ کے لئے یہ نماز اس لئے نفل قرار دی گئی تھی کہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے گئے تھے اس لئے آپ کی طاعات بیاں معنی نفل تھیں کہ ان کے ذریعے آپ کے ثواب میں اضافہ ہوتا تھا جبکہ دوسروں کے لئے یہ گناہوں کا کفارہ بنتی تھیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ نافلۃ بمعنی تطوع اور فضیلت ہے۔ سلیمان بن حیان نے روایت بیان کی، انہیں ابو غالب نے اور انہیں حضرت امامہ نے کہ ” جب تم درست طریقے سے وضو کرلو تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور اگر اس کے بعد کھڑے ہو کر نماز ادا کرلو تو یہ چیز تمہارے لئے اجر اور فضیلت کا ذریعہ بن جائے گی۔ “ ایک شخص نے پوچھا۔” ابو امامہ، آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اٹھ کر نماز پڑھ لے تو آیا یہ نماز اس کے لئے نافلہ بن جائے گی ؟ “ حضرت ابوا امہ نے جواب میں فرمایا نہیں۔ یہ نماز حضور ﷺ کے لئے نفل تھی، دوسرے انسان کے لئے یہ کس طرح نفل بن سکتی ہے جبکہ وہ گناہ کرنے اور غلطیوں کے ارتکاب میں کوشاں رہتاے۔ البتہ یہ اس کے لئے اجر اور فضیلت کا ذریعہب ن جائے گی۔ “ اسی طرح حضرت ابوامامہ نے حضور ﷺ کے سوا دوسروں کے لئے اس کو نفل قرار دینے سے انکار کردیا۔ عبداللہ بن الصامت نے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابوذر سے فرمایا : ابوذر ! تمہاری کیفیت اس وقت کیا ہوگی جب کہ تم پر ایسے لوگ حاکم ہوں گے جو فرض نمازیں مئوخر کر کے پڑھیں گے ؟ “ حضرت ابوذر نے عرض کیا :” اللہ کے رسول، پھر ایسے وقت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ “ آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، اس کے بعد اگر حاکموں کو نماز کی حالت میں پائو تو تم بھی دوبارہ ان کے ساتھ نماز ادا کرلینا، یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ “ قتادہ نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے حضرت ابوامامہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔” وضو اپنے ماقبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور اس کے بعد اگر نماز پڑھی جائے تو وہ نفل بن جاتی ہے۔ “ لوگوں نے حضرت ابو امامہ سے دریافت کیا کہ آپ نے خود یہ بات حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا :” ہاں، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، چار دفعہ نہیں، پانچ دفعہ نہیں۔ “ ان دونوں روایتوں میں حضور ﷺ نے دوسروں کے لئے نافلہ کا اثبات کردیا۔ نافلہ فرض سے زائد کو کہتے ہیں یہ تطوع اور فضیلت ہے۔ اسی سے مال غنیمت میں نفل کا لفظ نکلا ہے۔ نفل اس زائد حصے کو کہتے ہیں جو امام المسلمین لشکر اسلام کے بعض افراد کے لئے ان کے اصل حصوں سے زائد یہ کہہ کر مقرر کردیتا ہے کہ ” جو شخص دشمن کے کسی آدمی کو قتل کرے گا اسے اس کا سارا سامان مل جائے گا “ یا ” کسی کو اگر کوئی سامان ہاتھ لگ جائے وہ اس کا ہوگا۔ “
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔

ہر ایک کا طریق عمل اپنا ہے قول باری ہے (قل کل یعمل علی نشاکلتہ اے نبی ! ﷺ ان لوگوں سے کہہ دو کہ ” ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے “ ) مجاہد کا قہلے کہ ” اپنی طبیعت کے مطابق “ ایک قول ہے اپنی عادت پر جس سے وہ مانوس ہے۔ “ آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو فساد کے عادی ہوگئے ہوں اور انہیں اس میں سکون ملتا ہو نیز وہ اس پر برقرار رہنا چاہتے ہوں۔ ایک قول کے مطابق ” ہر شخص اپنے اخلاق و کردار کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ (شاکلتہ ) سے مراد وہ طریقہ ہے جو ایک شخص کے مناسب اور لائق ہوتا ہے اور اس سے اس کی مشابہت ہوتی ہے۔ خیر صلاح کی مناسبت و مشکلات بھلے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے اور شر و فساد کی مناسبت شریر لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (الخبیثت للخبیثین) یعنی خبیث باتیں خبیث لوگ کرتے ہیں اور صوالطیبت للطیبین) پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگ کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گزر لوگوں کے ایک گروہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے آپ کو برے الفاظ سے خطاب کیا۔ آپ نے اچھے الفاظ میں اس کا جواب دیا، جب آپ سے اس پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے فرمایا :” ہر انسان ویہ کچھ خرچ کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے۔
Ayahs 17:85–87

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے۔ اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اسکا بڑا فضل ہے۔

روح کی کیفیت قول باری ہے (ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی۔ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو ” یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے۔ “ لوگوں نے کس روح کے متعلق حضور ﷺ سے سوال کیا تھا ؟ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ ایک فرشتہ تھا جس کے ستر ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ستر ہزار زبانیں ہیں جن سے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے جاندار کی روح مراد ہے۔ کلام سے بھی یہی بات ظاہر ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے روح کے متعلق سوال کیا تھا۔ جاندار کی روح اس جسم لطیف کا نام ہے جو حیوانی ڈھانچہ رکھتا ہے اور اس کے ہر جز میں زندگی ہوتی ہے۔ تاہم اس کے متعلق اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ہر جاندار ایک روح سے البتہ بعض جاندار ایسے ہیں کہ ان میں روح غالب ہوتی ہے اور بعض میں بدن غالب ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق حضور ﷺ نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس لئے کہ مصلحت اسی میں تھی کہ انہیں ان کی عقل و فہم کی اس دلالت کے حوالے کردیا جائے جو روح کے متعلق ان کے ادراک میں موجود تھی تاکہ انہیں اپنی عقل و فہمسے کام لے کر نتائج اخذ کرنے اور فوائد معلوم کرنے کی مہارت پیدا ہوجائے۔ یہود کی کتاب میں ایک روایت تھی کہ اگر وہ یعنی حضور ﷺ روح کے متعلق سوال کا جواب دے دیں تو پیغمبر نہیں ہوں گے اس لئے اللہ نے ان کے اس سوال کا جواب نہیں دیا تاکہ یہ صورت ان کی کتاب میں مذکورہ بات کے مطابق ہوجائے۔ روح کا اطلاق کئی چیزوں پر ہوتا ہے، قرآن کو روح کہا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے صوکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی یعنی اپنا حکم بھیجا) قرآن کو روح کا نام دیا گیا اس میں اسے جاندار کی روح کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی وجہ سے ایک جاندار زندہ رہتا ہے۔ اسی طرح حضرت جبرئیل امین اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی تشبیہ کی بنا پر روح کہا گیا ہے جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ قول باری اقل الروح من امر ربی ) کا مفہوم یہ ہے کہ روح ایک ایسا امر ہے جس کا علم میرے رب کو ہے۔ قول باری ہے (وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے) یعنی تمہیں اس علم سے بہت کم حصہ ملا ہے جو منصوص طریقے سے لوگوں کے لئے بیان کردیا گیا ہے، تمہیں صرف اتنا ہی حصہ دیا گیا ہے جس سے تمہارا کام چل جائے۔ رہ گیا روح کا معاملہ تو اس کا تعلق اس علم سے ہے جسے نصاً بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ مصلحت کی خاطر اسے بیان کے بغیر رہنے دیا گیا ہے۔ آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کوئی سائل کسی مسئلے کے متعلق کوئی سوال پوچھے تو اس مصلحت کی خاطر کہ وہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے اپنی سوچ اور تدبر سے کام لے کر مسئلے کا خود ہی اسخراج کرے، اسے جواب نہ دینا جائز ہے۔ بشرطیکہ سائل میں غور و فکر اور استخراج کی اہلیت موجود ہو۔ لیکن اگر سائل پیش آمدہ کسی مسئلے کا حکم معلوم کرنے کے لئے فتویٰ پوچھے اور وہ صاحب نظر نہ ہو تو اس صورت میں اس کے حکم کا علم رکھنے والے عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں اللہ کے حکم سے اسے آگا ہ کرے۔
Ayahs 17:88–105

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب و غریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین میں سے چشمہ جاری کردو۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا لاؤ یا خدا اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لے آؤ۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے۔ میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کر کے بھیجا ہے ؟

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم ان کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے وہی اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا ان کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم ان کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو عذاب دینے کے لیے اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا کیے جائیں گے ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو اس نے چاہا کہ ان کو سرزمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بناکر بھیجا ہے۔

اعجاز قرآن قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے نابلد ہونے کی بنا پر نظم قرآنی یعنی الفاظ کے متعلق چیلنج نہیں دیا جاسکتا اس لئے ضروری ہے کہ انہیں قرآن کے معانی اور ان کی ترتیب و تنسیق کی جہت سے چیلنج کیا جائے، الفاظ کی ترتیب و نظم کی جہت سے چیلنج نہ کیا جائے۔ بعض حضرات قرآن کے اعجاز کو صرف نظم الفاظ کی جہت سے تسلیم کرتے ہیں یعنی الفاظ کی ترتیب اور عبارت کی فصاحت و بلاغت میں اعجاز کا ظہور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعجاز قرآن کے کئی وجوہ ہیں۔ جن میں سے نظم الفاظ کی خوبصورتی عبارت کی اعلیٰ فصاحت و بلاغت اور اس کا اختصار نیز قلیل الفاظ کے اندر معانی کثیرہ کا وجود وغیرہ ہیں۔ دوسری طرف پورے قرآن مجید میں ایک لفظ ایسا نہیں ہے جو معیار سے گرا ہوا ہو یا بھرتی کے طور پر لایا گیا ہو یا الفاظ و معانی میں کوئی تناقض یا اختلاف و تضاد ہو۔ ان تمام وجوہ کے لحاظ سے پورا قرآن ایک ہی منہاج اور معیار پر برقرار ہے۔ اس کے برعکس مخلوق کے کلام کی یہ خصویت ہے کہ طویل ہونے کی صورت میں یہ کلام غیر معیاری الفاظ ، گھٹیا معانی اور معانی میں تناقض سے پاک نہیں رہ سکتا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں اہل زبان کے کلام کے اندر مذکورہ بالا عیوب و نقائص موجود ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق صرف عربی زبان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ اہل عجم کو درج بالا معانی جیسے معانی پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہو جو ہمارے مذکورہ ان تمام عیوب و نقائص سے پاک ہو جن کی بنا پر ایک کلام غیر معیاری قرار دیا جاتا ہے۔ ایک اور جہت سے اسے دیکھیے ، فصاحت و بلاغت کا تعلق صرف عربی زبان کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس کا وجود دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی ہے اگرچہ عربی زبان دنیا کی فصیح و بلیغ ترین زبان ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قرآن فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین مقام پر جاگزیں ہے اس لئے ممکن ہے کہ اہل عجم کو اس بات کا چیلنج دیا گیا ہو کہ وہ ایسا کلام پیش کریں جو ان کی اپنی زبان میں فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچا ہوا ہو۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔

قرآن تدریجاً نازل ہوا قول باری ہے (وقراناً فوقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر ک را سے لوگوں کو سنائو) قول باری (فرقناہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے حق کو باطل سے الگ بیان کر کے اسے جدا جدا کر رکھا ہے۔ قول باری (لتقراہ علی الناس علی مکث ) کا مفہوم ہے کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر اور توقف کے ساتھ لوگوں کو اسے سنائیں تاکہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ لیں اور انہیں ان کے معانی پر غور و فکر کا موقع مل جائے نیز وہ اس قابل ہوجائیں کہ اپنی سمجھ سے کام لے کر اس میں موجود حکمت کی باتوں اور علوم عالیہ کا استخراج کرسکیں۔ ایک قول کے مطابق قرآن ک کچھ حصہ نازل ہوجاتا۔ جب صحابہ کرام کو اس پر پورا عبور ہوجاتا تو پھر کوئی اور حصہ نازل ہوتا ۔ یہی اس قول باری کا بھی مفہوم ہے (ورتل القرآن ترتیلاً ) اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر عمدہ طریقے سے پڑھو) سفیان نے عبید الملکتب سے روایت کی ہے کہ مجاہد نے کسی سے پوچھا کہ دو شخصوں میں سے ایک نے نماز میں سوئرہ بقرہ اور سورة آل عمران کی تلاوت کی جبکہ دوسرے نے صرف سورة بقرہ کی قرأت کی ۔ دونوں کی نماز، رکوع، سجود اور قعود کے لحاظ سے یکساں تھی۔ ان میں سے کونسا شخص افضل ہے، مجاہد نے جواب میں فرمایا کہ جس نے صرف سورة بقرہ کی قرأت کی تھی۔ پھر انہوں نے اپنے قول کی تائید میں یہ آیت تلاوت کی (وقراناً فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث) قرآن ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ کر پڑھنا چاہیے معاویہ بن قرہ نے حضرت عبید اللہ بن مغفل سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا : میں نے حضور ﷺ کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا تھا اس وقت آپ سورة فتح یا سورة فتح کی آیتیں تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ کی تلاوت بڑی واضح اور صاف تھی۔ حماد بن سلمہ نے ابوحمزہ الضبعی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے فرمایا :” میں اگر ترتیل کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر قرآن کی تلاوت کروں تو یہ مجھے قرآن کی صرف تلاوت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ “ اعمش نے عمارہ سے، انہوں نے ابوالاحوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا : تین دنوں سے کم میں پورے قرآن کی تلاوت نہ کرو بلکہ پورا قرآن سات دنوں میں تلاوت کرو۔ “ اعمش نے ابراہیم نخعی سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی ہے کہ وہ سات دنوں میں قرآن مجید ختم کرلیتے تھے جبکہ اسود چھے دنوں میں اور علقمہ پانچ دنوں میں ختم کرلیتے تھے۔ حضرت عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ آپ نے ایک رات میں قرآن مجید ختم کرلیا تھا۔ نماز بھی سمجھ کر پڑھنی چاہیے قاضی ابن ابی لیلیٰ نے صدقہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے لئے مسجد نبوی میں ایک کمرہ نما جگہ بنادی گئی اور آپ نے رمضان کے آخری عشرہ میں وہاں اعتکاف کیا۔ آپ اسی کمرہ نما جگہ میں نمازیں پڑھتے تھے۔ آپ نے باہر سر نکالا اور دیکھا کہ لوگ نماز میں مصروف ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا : جب نمازی نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے۔ اس لئے تم میں سے ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کس قسم کی سرگوشی کر رہا ہے۔ “ اس روایت میں یہ دلیل موجود ہے کہ تلاوت میں ترتیل مستحب ہے اس لئے کہ ترتیل کے ذریعے ہی پتہ چل سکے گا کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کیا سرگوشی کر رہا ہے اور جو کچھ پڑھے گا اسے خود بھی سمجھنے کے قابل ہوگا۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہٖ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔

چہرے کے بل سجدہ کرنا قول باری ہے (ان الذین اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلیٰ علیھم یخرون للاذقان سجداً جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ چہروں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ” چہروں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ “ معمر نے کہا حسن کا قول ہے ۔ جبڑے کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ “ ابن سیرین سے ناک کے بل سجدے کے متعلق پوچھا گیا ، تو انہوں نے جواب میں درج بالا آیت تلاوت کردی۔ سجدہ سات اعضاء پر کرنا چاہیے، نماز میں بالوں کو اکٹھا کیا جائے نہ کپڑوں کو طائوس نے حضرت ابن عباس سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم ولا اکف شعراً ولا ثوباً مجھے سات ہڈیوں کے بل سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے نیز یہ کہ میں نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ کپڑے کو) طائوس نے مزید کہا کہ آپ نے پیشانی اور ناک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دونوں ایک ہڈی ہیں۔ عامر بن سعد نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ” جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے ساتھ اعضاء بھی سجدہ ریز ہوتے ہیں اس کا چہرہ ، اس کے دونوں کف دست ، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم، حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی پیشانی اور ناک اچھی طرح زمین پر جما دو ۔ “ سجدہ میں ناک زمین پر لگنی چاہیے حضرت وائل بن حجر نے روایت کرتے ہوئے فرمایا :” میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ نے جب سجدہ کیا تو اپنی پیشانی اور اپنی ناک زمین پر رکھ دی۔ “ ابو سلمہ بن عبدالرحمٓن نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی ناک اور ناک کے بانسے پر سجدے کے نشان کے طور پر مٹی لگی ہوئی دیکھی تھی۔ اس رات بارش ہوئی تھی۔ عاصم احوال نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو سجدے میں دیکھ کر فرمایا : اس وقت تک نماز قبول نہیں ہوگی جب تک زمین پر ناک اس طرح نہ لگے جس طرح پیشانی لگتی ہے۔ یہ تمام روایات اس پر دال ہیں کہ سجدہ کی جگہ پیشانی اور ناک دونوں ہیں۔ عبدالعزیز بن عبداللہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : میں نے وہب بن کیسان سے پوچھا۔” ابونعیم، کیا بات ہے کہ آپ سجدہ کرتے وقت پیشانی اور ناک کو پوری طرح زمین پر نہیں جماتے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا۔” اس لئے کہ میں نے حضرت جابر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضور ﷺ کو پیشانی کے بل سر کے بالوں کے منتہی کے ساتھ سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ابو الشعثاء نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ نے سجدہ کرتے وقت اپنی ناک زمین پر نہیں رکھی تھی۔ آپ سے جب اسکی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا : میری ناک میرے چہرے کا عمدہ اور خالص حصہ ہے اور میں اس حصے کو بدنما کرنا پسند نہیں کرتا۔ “ قاسم اور سالم سے مروی ہے کہ یہ دونوں اپنی پیشانیوں پر سجدہ کرتے تھے اور ان کی ناک زمین پر نہیں لگتی تھی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جہاں تک حضرت جابر کی روایت کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ نے کسی عذر کی بنا پر سر کے بالوں کے منتہی کے بل سجدہ کیا ہو اور اس عذر کی وجہ سے ناک کے بل سجدہ کرنا مشکل ہوگیا ہو جن حضرات نے وجوہ یعنی چہروں کی تاویل جبڑے سے کی ہے ان کی یہ تاویل اس پر دلالت کرتی ہے کہ پیشانی کی بجائے صرف ناک کے بل سجدے پر اکتفا کرنا جائز ہے اگرچہ مستحب یہ ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں کے بل سجدہ کیا جائے۔ اس جواز کی وجہ یہ ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ تاویل کرنے والے حضرات نے ذقن یعنی ٹھوڑی کے بل سجدہ کرنا مراد نہیں لیا ہے اس لئے کہ کسی بھی اہل علم کا یہ قول نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس سے ناک مراد ہے اس لئے کہ یہ ٹھوڑی کے قریب ہے۔ امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی نے پیشانی کی بجائے صرف ناک کے بل سجدہ کرلیا تو اس کا سجدہ ہوجائے گا۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کا مسلک یہ ہے کہ سجدہ نہیں ہوگا۔ البتہ اگر اس نے ناک کی بجائے صرف پیشانی کے بل سجدہ کرلیا تو سب کے نزدیک اس کا سجدہ ہوجائے گا۔ العطاف بن خالد نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا :” جب تمہاری ناک زمین سے لگ جائیتو گویا تم نے سجدہ کرلیا۔ “ سفیان نے حنظلہ سے اور انہوں نے طائوس سے روایت کی ہے کہ پیشانی اور ناک ان سات اعضاء میں سے ہیں جن کے بل نماز میں سجدہ ہوتا ہے اور یہ دونوں ایک عضو ہیں۔ ابراہیم بن میسرہ نے طائوس سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ناک پیشانی کا حصہ ہے۔ نیز کہا کہ پیشانی کا بہترین حصہ ہے۔
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔

سجدے میں کیا پڑھا جائے قول باری ہے (ویقولون سبحان ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولاً اور پکار اٹھتے ہیں ” پاک ہے ہمارا رب، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔ “) سجدے میں یہ فقرہ کہنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ا ن کی تعریف کی جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ سجدے کی حالت میں مسنون ذکر تسبیح ہے۔ موسیٰ بن ایوب نے اپنے چچا سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے کہ جب آیت (فسبح باسم ربک العظیم اپنے رب عظیم کی تسبیح کر) نازل ہوئی تو حضو ر ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں کہا کرو، جب آیت (سبح اسم ربک الاعلی۔ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح کرو) تو حضور ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے سجدے میں کہا کرو۔ “) ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے ، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت خذیفہ سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ تینتین مرتبہ پڑھا کرتے تھے۔ قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن اشخیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ رکوع اور سجود میں سبوح قدوس رب الملائکۃ و الروح پڑھا کرتے تھے۔ ابن ابی ذئب نے اسحاق بن یزید سے، انہوں نے عون بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا صاذا رکع احد کم فلیقل فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلاثا فاذا فعل ذلک فقد تم رکوعہ جب تم میں سے کوئی رکوع میں جائے تو رکوع کے اندر تین دفعہ سبحان ربی العظیم پڑھے جب وہ یہ پڑھ لے گا اس کا رکوع مکمل ہوجائے گا) آپ نے سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر کیا۔ سجدہ میں قبولیت دعا حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (اما الرکوع فعظموا فیہ الرب و اما السجود فاکثر وافیہ الدعاء فانہ اخق ان یستجاب الکم رکوع میں رب کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگو اس لئے کہ سجدے میں دعائیں قبولیت کی زیادہ لائق ہوتی ہیں) حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور ﷺ میں یہ دعا پڑھتے تھے (اللھم لک سجدت وبک امنت اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لئے سجدہ کیا اور تجھ پر ہی ایمان لایا) اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایتیں ہیں۔ ممکن ہے کہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس نے جن دعائوں کی روایت کی ہے حضور ﷺ یہ دعائیں آیت (سبح اسم ربک الاعلی ) کے نزول سے قبل پڑھتے ہوں اور پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ہو تو آپ نے سجدے میں اس ی پڑھنے کا حکم دے دیا ہو جیسا کہ حضرت عتبہ بن عامر کی روایت سے ظاہر ہے۔ ہمارے اصحاب ، سفیان ثوری اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ نمازی رکوع کے اندر تین دفعہ سبحان ربی العظیم اور سجدے کے اندر تین دفعہ سبحان ربی الاعلی کی تسبیح کرے گا۔ سفیان ثوری کا قول ہے کہ امام کے لئے مستحب ہے کہ رکوع اور سجدے میں پانچ پانچ مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے تاکہ مقتدی آسانی سے تین تین مرتبہ یہ تسبیحات پڑھ لیں۔ ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ اگر نمازی کے لئے رکوع اور سجود میں تسبیحات پڑھنا ممکن ہول یکن وہ تسبیحات نہ پڑھے تو بھی اس کا رکوع اور سجدہ ادا ہوجائے گا۔ امام مالک تسبیحات کے لئے کوئی خاص تسبیح مقرر نہیں کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ لوگ رکوع اور سجدے کے اندر سبحان بری اعلظیم اور سبحان ربی الاعلی کی جو تسبیح کرتے ہیں اسے میں نہیں جانتا۔ اس طرح امام مالک نے ان تسبیحات کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی رکوع اور سجدے کے لئے کوئی خاص تسبیح مقرر کی ۔ رکوع اور سجدے کی کیفیت کے متعلق ان کا قول ہے کہ نمازی رکوع کے اندر اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھنٹوں پر پوری طرح جما دے گا اور سجدے میں اپنی پیشانی پوری طر زمین پر رکھ دے گا اس کے لئے بھی امام مالک نے کسی حد کی تعیین نہیں کی۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

نماز کی حالت میں گریہ کا بیان قول باری ہے (ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعاً اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور اسے سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے) اسی طرح یہ قول باری ہے (خروا سجداً ویکیاً وہ روتے ہوئے سجدے میں گرپڑے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ نماز کے اندر خشیت الٰہی کی بنا پر گریہ کرنے سے نماز منقطع نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور لوگوں کی اس بنا پر تعریف فرمائی ہے کہ وہ سجدے میں جا کر روتے ہیں۔ اللہ نے سجدئہ صلوۃ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کے درمیان اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ سفیان بن عینیہ نے روایت بیان کی ہے، انہیں اسماعیل بن محمد بن سعد نے، انہیں حضرت عبداللہ بن شداد نے، وہ کہتے ہیں کہ ایک متربہ میں نے باجماعت نماز ادا کی۔ میں آخری صف میں تھا ۔ حضرت عمر نماز پڑھا رہے تھے، مجھے حضرت عمر کی ہچکیوں کی آواز آئی۔ ایک دفعہ آپ نے صبح کی نماز میں سورة یوسف کی قرأت شروع کی جب آیت (انما اشکو ابنی وحزنی الی اللہ) پر پہنچے تو آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ آپ کی اقتدا میں صحابہ کرام نماز ادا کر رہے تھے لیکن کسی نے آپ کو اس پر نہیں ٹوکا۔ اس طرح اس مسئلے پر گویا صحابہ کرام کا اجماع ہوگیا۔ حضو ر ﷺ کے متعلق مروی ہے کہ آپ نماز پڑھتے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز نکلتی جیسی چولہے پر رکھی ہوئی دیگ سے۔ قول باری صویزیدھم خشوعاً ) س ے مراد یہ ہے کہ نماز کے اندر یہ جس قدر خشوع کرتے ہیں سجدے میں جا کر گریہ کرنے کی وجہ سے ان کے اس خشوع میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں میں موجود خوف خدا پر دلالت کرتی ہے۔ یہی خوف انہیں گریہ و زاری کی منزل تک پہنچا دیتا ہے اور اللہ کی اطاعت کا سبب بن جاتا ہے نیز اسی خوف خدا کی بن اپر ا ن کے اندر عبادت میں اس طرح کا اخلاص پیدا ہو جات ا ہے جیسا اخلاص اللہ تعالیٰ ٰکی دی ہوئی نعمتوں کا کما حقہ، شکر بجا لانے کے سلسلے میں عبادت کے اندر ہونا چاہیے۔
Ayahs 17:110–111

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم خدا کو اللہ (کے نام سے) پکارو یا رحمان (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔

نماز میں اونچی آواز سے قرأت کرنا اور دعا مانگا قول باری ہے (ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سجیلاً اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو) حضرت ابن عباس سے ایک روایت کے مطابق، نیز حضرت عائشہ مجاہد اور عطار سے مروی ہے کہ بہت زیادہ بلند آواز سے دعائیں نہ مانگو اور نہ ہی بہت آواز سے۔ “ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ جب اونچی آواز سے قرأت کرتے تو مشرکین آپ کو تنگ کرتے لیکن جب پست آواز سے قرأت کرتے تو مقتدیوں کو آواز سنائی نہ دیتی۔ یہ صورت حال مکہ میں تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی اور اس سے نماز کے اند رقرأت مراد لی حسن بصری نے آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :” اتنی بلند آواز سے نماز نہ پڑھیں کہ یہ آواز ان لوگوں کے کانوں میں پہنچ جائے جو آپ کو ستانے پر تلے ہوئے ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ دھیمی آواز سے نہ پڑھیں۔ “ گویا حسن بصری کے نزدیک ایک حالت میں ترک جہر مراد ہے اور دوسری حالت میں آواز پست نہ رکھنا مراد ہے۔ ایک تفسیر کے مطابق ” تمام نمازوں میں نہ آواز بلند رکھیں اور نہ پست بلکہ ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کریں وہ اس طرح کہ رات کی نماز بلند آواز سے پڑھیں اور دن کی نماز پشت آواز سے جیسا کہ ہم نے تمہیں حکم دیا ہے۔ “ عبادہ بن تسی سے مروی ہے، انہیں عفیف بن الحارث نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ آیا حضور ﷺ بلند آواز سے قرآن کی قرأت کرتے تھے یا پست آواز سے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ بعض دفعہ آپ بلند آواز سے قرأت کرتے اور بعض دفعہ پست آواز سے۔ ابو خالد الوالبی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ جب وہ رتا کو اٹھ کر نماز پڑھتے تو کبھی بلند آوا ز سے قرأت کرتے اور کبھی پست آواز سے اور فرماتے کہ حضور ﷺ کی قرأت بھی اسی طرح ہوتی تھی۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے لوگوں کو آخر رمضان میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس موقعہ پر آپ نے فرمایا :” نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے مناجات یعنی سرگوشی کرتا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کیا سرگوشی کر رہا ہے۔ اس لئے تم ایک دوسرے سے قرأت کی آواز کو بلند نہ کرو۔ “ ابو اسحاق نے حارث سے روایت کی ہے اور انہوں نے حضرت علی سے کہ حضور ﷺ نے منع فرما دیا تھا کہ کوئی شخص عشاء کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کر کے اپنے ساتھیوں کی نماز کو غلط کرنے کا سبب بن جائے۔ رتا کے وقت ادا کی جانے والی نماز میں بلند آواز سے قرأت کے سلسلے میں کئی روایات منقول ہیں۔ کریب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ حجرے کے اندر قرأت کرتے اور آپ کی آواز حجرے سے باہر تک سنائی دیتی تھی۔ ابراہیم نخعی نے علقمہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے ایک رتا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے بلند آواز سے قرات کی جس کی آواز پورے گھر والوں کو پہنچ رہی تھی۔ ایک روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ جب نماز پڑھتے تو اپنی آواز پست رکھتے اور حضرت عمر ؓ جب نماز پڑھتے تو آواز بلند رکھتے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے پوچھا کہ تم اپنی آواز پست کیوں رکھتے ہو تو انہوں نے عرض کیا :” میں اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہوں حالانکہ اسے میری حاجت کا علم ہے۔ “ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا ” مبہت خوب “ پھر آپ نے یہی سوال حضرت عمر ؓ سے کہا کہ تم اونچی آواز سے کیوں پڑھتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا : میں اس کے ذریعے اونگھنے والے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ “ آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا :” بہت خوب “ لیکن جب آیت زیربحث نازل ہوئی تو آپ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا :” اپنی آواز ذرا اونچی کرلو “ اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا : اپنی آواز ذرا پست کرو۔ “ زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ کی آواز سنی تو فرمایا :” ابو موسیٰ کو آل دائود (علیہ السلام) کا ترنم عطا ہوا ہے۔ “ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضو ر ﷺ نے آواز بلند کرنے کو ناپسند نہیں فرمایا۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (زینوا القرآن باصواتکم اپنی آوازوں سے قرآن کو مزین کرو) حماد نے ابراہیم سے اور انہوں نے حضرت عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ فرماتے تھے۔ ” تم اپنی آوازوں سے قرآن کو حسین بنادو ۔ “ ابن جریج نے طائوس سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کس شخص کے اندر سب سے زیادہ حسن قرأت پائی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا (الذی اذا سمعت قوأتہ رأیت انہ یخشی اللہ۔ اس شخص کے اندر جس کی قرأت اگر تم سنو تو اس کے سوزسے تمہیں یوں محسوس ہو گویا اس پر خشیت الٰہی طاری ہے)