17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاحکام القرآن

Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

مال یتیم کی حفاظت کا حکم قول باری ہے (ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلخ اشدہ اور مال یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے) مجاہد کا قول ہے کہ (التیھی احسن) کی صورت تجارت ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ مال یتیم کے ذریعے اللہ کا فضل تلاش کیا جائے اور تلاش کرنے والے کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یتیم کا خصوصی طور پر ذکر ہو) اگرچہ تمام لوگوں کے اموال کے بارے میں یہی حکم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یتیم کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس کے مال میں لوگ دندان حرص و آز زیادہ تیز کرتے ہیں۔ قول باری (الا بالتیھی احسن) یتیم کے مال میں اس کے سرپرست کے ایسے تمام تصرفات کے جواز کو متضمن ہے جن سے یتیم کو فائدہ پہنچ سکتا ہو خواہ یہ سرپرست یتیم کا وادا ہو یا یتیم کے باپ کا مقرر کردہ وصی۔ اس لئے کہ احسن طریقہ وہی ہوگا جس کے ذریعہ ایک طرف اس کے مال کی حفاظت ہوتی رہی اور دوسری طرف اس میں اضافہ ہوتا رہے۔ اس لئے یتیم کا سرپرست یتیم کے لئے ایسے طریقے سے خرید و فروخت اور کاروبار کرسکے گا جس سے یتیم کو کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑے۔ اسی طرح وہ بازاری قیمت پر اور بازاری سے کم قیمت پر ایسے سودے کرسکتا ہے جن میں عام طور پر لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ لوگوں کو ایسے سودوں میں منافع کمانے اور نفع حاصل کرنے کی امید ہوتی ہے اور جب یہ امید پوری نہیں ہوتی تو وہ اسے گھاٹا سمجھ لیتے ہیں۔ نیز نقصان کی اس مقدار کے متعلق قیمتیں لگانے والوں کی آراء باہم مختلف ہوتی ہیں اس لئے حقیقت کے لحاظ سے ایسے سودوں میں کوئی گھاٹا نہیں ہوتا لیکن سرپرست کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ یتیم کے لئے بازاری قیمت سے زائد دے کر کوئی چیز خریدے جس میں عام طور پر لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھانا نہیں پڑتا ہے۔ اس لئے کہ خریداری کی یہ صورت یتیم کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ نقصان بالکل واضح اور یقینی ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے مال کے قریب پھٹکنے سے منع فرما دیا ہے مگر یہ کہ احسن طریقہ اختیار کیا جائے۔ یتیم کے مال کو اجارہ پر دینے اور مضاربت میں لگانے کے جواز پر بھی آیت دلالت کر رہی ہے اس لئے کہ یتیم جس منافع کا حقدار بنے گا وہ منافع اسے مضارب کے عمل کے ذریعے حاصل ہوگا اس لئے اس مال کو یونہی پڑا رہنے دینے سے مضاربت میں لگانا بہتر ہوگا۔ عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے، انہوں نے عمرو کے داد اسے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ابتغوا ب اموال الایتام خیراً تاکلھا الصدقۃ یتیموں کے اموال کے ذریعے خیر یعنی منافع تلاش کرو ان اموال کو صدقہ نہ کھاجائے) ایک قول کے مطابق اس کا مفہوم یہ کہ یتیم کا نفقہ یعنی اخراجات اس کے مال کو ختم نہ کر دے اس لئے کہ نفقہ کو بھی صدقہ کہا اجتا ہے۔ حضور ﷺ سے یہ مروی ہے کہ انسان جو کچھ اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔ حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت عائشہ اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وصی یتیم کے مال میں تجارت کرسکتا ہے اور اسے مضاربت میں بھی لگا سکتا ہے۔ اس میں دلالت پائی جاتی ہے کہ باپ نابالغ کا مال اپنی ذات کے لئے خرید سکتا اور فروخت بھی کرسکتا ہے۔ اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ وصی یتیم کا مال خود خرید سکتا ہے بشرطیکہ اس میں یتیم کے لئے فائدہ کا پہلو موجود ہو۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام صاحب نے یہ فرمایا کہ اگر وصی یتیم کا مال پوری قیمت پر خریدے گا تو اس کی یہ خریداری جائز نہیں ہوگی۔ جواز کی صورت صرف یہ ہے کہ یتیم کو ملنے والا مال قیمت میں زیادہ ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (الا بالتیھی احسن) امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ کسی بھی صورت میں اس کا جواز نہیں ہے۔ قول باری (حتی یبلغ اشدہ) کی تفسیر میں زید بن اسلم اور ربیعہ کا قول ہے کہ وہ بالغ ہوجائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ایک اور مقام پر قول باری ہے صولا تاکلوھا اسرافاً وبداراً ان یکبروا ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اس خوف سے ان کے مال جلدی جلدی کھا جائو کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے) اس آیت میں کبر یعنی یتیم کے بڑے ہوجانے کا ذکر ہے اور آیت زیر بحث میں اشد یعنی شباب کو پہنچ جانے کا ذکر ہے۔ نیز یہ ارشاد بھی ہے صوابتلوا لیتا می حتی اذا بلغوا النکاح فان انستم منھم رشداً فاد فعولا الیھم اموالھم اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہے یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ۔ ) ایک آیت میں علی الاطلاق کبر یعنی بڑے ہوجانے کا ذکر کیا۔ دوسری آیت میں اشد یعنی شباب کو پہنچ جانے کا ذکر کیا اور تیسری آیت میں اہلبیت پائی جانے کے ساتھ نکاح کی عمر کو پہنچ جانے کا ذکر فرمایا۔ عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے (حتی اذا بلغ اشدہ) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ جب اس کی عمر تینتیس سال ہوجائے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ (واستوی اور اس کا نشو و نما مکمل ہوگیا) چالیس برس کی عمر ہے۔ قول باری صاولم نعمرکم کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی) کی تفسیر میں آپ نے فرمایا کہ عمر کی جس حد پر اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے عذر کو ختم کردیا وہ ساٹھ برس ہے۔ نیز فرمایا (حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ قال رب او زعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی ۔ یہاں تک کہ جب اپنے شباب کو پہنچ جاتا ہے اور اس کی عمر چالیس برس ہوجاتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے اس پر مداومت دے کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ کو اور میرے والدین کو عطا کی ہیں) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بلوغ الاشد (شباب کو پہنچ جانے اور استواء (نشو و نما کی تکمیل) کا ذکر کیا۔ اس آیت زیر بحث میں بلوغ الاشد کا اور دوسری آیت میں بلوغ الاشد اور بلوغ اربعین سنۃ (چالیس سال کی عمر کو پہنچ جانے) کا ذکر کیا۔ ہوسکتا ہے کہ بلوغ الاشد سے ایک قول کے مطابق چالیس برس کی عمر مراد ہو اور ایک قول کے مطابق استوار مراد ہو جب بات اس طرح ہے تو عرف اور عادت میں اللہ کی کوئی مقدار معین نہیں ہوسکتی کہ جس میں کمی یا جس پر اضافہ ممکن نہ ہو۔ اشد یعنی شباب کو پہنچنے کے لحاظ سے لوگوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں بعض لوگ اتنی مدت میں شباب کو پہنچ جاتے ہیں جتنی مدت میں دوسرے نہیں پہنچ سکتے۔ اس لئے کہ اگر بلوغ الاشد بالغ ہونے کے بعد عقل کی پختگی اور سمجھداری پیدا ہوجانے کا نام ہے تو اس لحاظ سے بھی عادۃ لوگوں میں اختلاف ہوتا ہے اگر اس کے معنی جسمانی قویٰ کے نشو و نما پا کر مکمل ہوجائے کے ہیں تو اس لحاظ سے بھی لوگوں کے احوال ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ دراصل جو چیز عرف اور عادت پر مبنی ہو اس کے متعلق قطعیت کے ساتھ کوئی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے لئے وقت کا اس طرح تعین ہوسکتا ہے کہ جس میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ سکے۔ اس کا تعین صرف توقیف یعنی شرعی رہنمائی اور دلالت کے ذریعے یا پھر اجماع امت کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں فرمایا (ولا تقربوا مال الیتیم الا بلتیھی احسن حتی یبلغ اشدہ) تو یہ اس امر کا مقتضی ہوگیا کہ جب ” بلوغ الاشد “ ہوجائے تو یتیم کا مال اس کے حوالے کردیا جائے اور اس میں ” ایناس الرشد “ یعنی اہلیت پائی جانے کی شرط نہ لگائی جائے۔ دوسری آیت میں فرمایا (حتی اذا بلغوا النکا ح فان اتستم منھم رشداً فادفعوا الیھم اموالھم) س میں یتیم کا مال اس کے حوالے کرنے کے لئے نکاح کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اہلیت پائی جانے کی شرط لگا دی جب کہ یہ شرط بلوغ الاشد (ثبات کو پہنچ جانے) نیز بلوغ الکبر (بڑے ہوجانے) کی صورتوں میں نہیں لگائی گئی جس کا ذکر اس آیت میں ہے صولا تاکلوھا اسرافاً بدا راً ان یکبروا) آیات کے اس پورے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ بالغ ہوجانے کے بعد یتیم کو اس کا مال اس وقت تک حوالے نہیں کیا جائے گا جب تک اس میں اہلیت پیدا نہ ہوجائے اور جب تک وہ بڑا ہو کر شباب کو نہ پہنچ جائے۔ اس کی حد امام صاحب نے پچیس برس مقرر کی ہے۔ اس عمر پر پہنچ جانے کے بعد اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے گا بشرطیکہ وہ عاقل ہو دیوانہ اور پاگل نہ ہو۔ ہوسکتا ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک پچیس برس کی عمر عہد شباب کو پہنچ جانے کی مدت ہو۔ وعدہ کی پاسداری قول باری ہے (واوفوا بالعھد اور عہد کی پابندی کرو) یعنی …… واللہ اعلم …… ایک انسان اپنے اوپر اللہ کے ساتھ کوئی عہد باندھ لے مثلاً کوئی نذر مان لے یا تقرب الٰہی کی نیت سے کوئی عبادت شروع کر دے اس پر اسے پورا کرنا واجب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کا اتمام اس پر لازم کردیا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ومنھم من عاھد اللہ لئن اتاتامن فضلہ لتصدقن ولنکونن من الصالحین فلما اتاھم من فضابہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون ۔ اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیاتو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پرواہ نہیں ہے) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یتیم کے مال کی حفاظت کے سلسلے میں اپنے عہد کو پورا کرو جبکہ اس کے مال کی حفاظت کے وجوب کی حجت تم پر قائم ہوچکی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کے سلسلے میں جس چیز کی حجت قائم ہوجائے وہ عہد کہلاتی ہے۔ قول باری ہے (ان العھد کان مسئولاً بیشک عہد کے بارے میں تمہیں جواب دہی کرنی ہوگی) اس کے معنی ہیں ” جزا و سزا کے لئے جواب دہی کرنی ہوگی۔ “ دلالت حال پر نیز اس کی مراد کے متعلق مخاطب کے علم پر اکتفا کرتے ہوئے اسے محذوف رکھا گیا ۔ ایک قول ہے کہ عہد سے سوال کیا جائے گا کہ تجھے کیوں توڑا گیا جس طرح زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس جرم کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔ اس دوسری تفسیر کا مفہوم بھی پہلی تفسیر کے مفہوم کی طرف راجع ہے اس لئے کہ اس کے ذریعے عہد توڑنے والے کو آگاہ کردیا گیا ہے اور اس سے بات منوا لی گئی ہے جس طرح زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے سوال کے ذریعے اس کے قاتل کو آگاہ کردیا جائے گا اور اس سے یہ بات منوا لی جائے گی کہ اس نے اسے ناحق اور کسی جرم کے بغیر قتل کردیا تھا۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

ناپ تول کے احکام قول باری ہے (واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور جب پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو) آیت میں یہ دلالت ہے کہ جو شخص کوئی چیز ناپ کر یا تول کر خریدے تو اس پر یہ امر واجب ہے کہ ناپ کر خریدی ہوئی چیز کو ناپ کرے اور تول کر خریدی ہوئی چیز کو تول کرے، نیز اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ کیل یا وزن کے ذریعے دی جانے والی چیز کو یونہی انداز سے لے لے اس مں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ مبیع اور ثمن میں جبکہ وہ ہم جنس ہوں تفاضل کی تحریم کا اعتبار کیل اور وزن کے اندر کیا جائے گا یعنی تمام مکیلات اور موزو نالت میں خواہ وہ ماکولات ہوں یا غیر ماکولات ہم جنس ہونے کی صورت میں تفاضل حرام ہوگا۔ اس لئے کہ آیت نے مکیل میں ایجاب کیل کو اور موزوں میں ایجاب وزن کو صرف ماکولات یعنی اشیائے خوردنی کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اس حکم میں تمام مکیلات اور تمام موزونات داخل ہیں۔ اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ جب کوئی شخص مکیلا ت اور موزونات کے تحت آنے والی اشیاء کی خریداری کرے اور مبیع اور ثمن ہم جنس ہوں تو کیل کے بدلے کیل اور وزن کے بدلے وزن کی صورت میں خریداری کرے۔ اٹکل اور اندازے سے خریداری کی صورت جائز نہیں ہوگی۔ مکیلات کے تحت آنے والی اشیاء کا تعلق خواہ کو لات یعنی اشیائے خوردنی کے ساتھ ہو یا غیر ماکولات کے ساتھ مثلاً گچ، چونہ، چونے کا پتھر وغیرہ اسی طرح موزونات کے تحت آنے والی اشیاء مثلاً ، لوہا ، سیبہ اور دیگر تمام موزونات۔ ناپ تول کی طرح اجتہاد بھی ظن غالب ہے آیت میں اجتہاد کے جواز پر نیز اس پر کہ ہر مجتہد درست رد ہوتا ہے دلالت پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ کرنا صرف اجتہاد اور ظن غالب کی بنا پر وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جب ایک شخص کسی دوسرے کو کوئی چیز ناپ کر یا تول کر دے رہا ہو تو اس کے لئے یہ دعویٰ کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ اس نے ناپ یا تول میں ایک حبہ برابر نہ کمی کی ہے نہ بیشی۔ بلکہ خریدار کو اس کا پورا پورا حق دینے کے لئے وہ اپنے اس غلبہ ظن سے کام لے گا کہ اس نے پورا بھر کرنا چاہے یا درست ترازو سے وزن کیا ہے۔ جب ایک کیل کرنے والا یا وزن کرنے والا صرف اپنے غلبہ ظن کی بنا پر مذکورہ بالا صورت میں کیل یا وزن کر کے اللہ کے حکم کو پورا کرسکتا ہے اور اسے حقیقی مقدار کے حصول کا مکلف نہیں بنایا جاسکتا جس کا علم صرف اللہ کو ہے تو پھر اجتہادی مسائل میں مجتہد کو بھی اپنے اجتہاد اور غلبہ ظن سے کام لینے کی بنا پر مصیبت یعنی درست قرار دیا جائے گا۔ قسطاط کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ میزان اور ترازو کا نام ہے خواہ یہ چھوٹا ہو یا بڑا حسن قول ہے کہ قسطاس قبان یعنی بھاری اشیاء کو تولنے کے آلے کا نام ہے۔ ہم نے مکیل اور موزون کا جو مفہوم بیان کیا ہے اس کے پیش نظر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی پر مکیل اور موزون کے تحت آنے والی اشیاء میں سے کوئی شے قرض ہو تو قرض خواہ کے لئے وہ چیز یونہی اٹکل اور اندازے سے وصول کرنا جائز نہیں ہوگا خواہ اس پر طرفین کی رضا مندی کیوں نہ حاصل ہوجائے ۔ آیت میں کیل اور وزن کا ظاہری امر اس بات کا موجب ہے کہ طرفین باہمی رضا مندی کے ذریعے بھی کیل اور وزن کو ترک نہیں کرسکتے اسی طرح دو شریکوں کے درمیان ایسی اشیاء کی اندازاً تقسیم بھی اس علت کی بنا پر جائز نہیں ہوگی جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر اشیاء کا تعلق تکیلات اور موزونات سے نہ ہو بلکہ کپڑوں اور سامان کی صورت ہو تو پھر باہمی رضا مندی سے اٹکل اور اندازے کے ذریعے ان کی خریداری بھی درست ہوگی اور شریکین کے درمیان تقسیم بھی اس لئے کہ دریں صورت ہم پر کیل اور وزن کو پورا کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ قول باری ہے (ذلک خیرو احسن تاویلاً یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے۔ ) مفہوم یہ ہے کہ یہ طریقہ اچھا ہے اور دنیا و آخرت میں انجام کے لحاظ سے بھی تمہارے لئے بہتر ہے۔ تاویل اس مفہوم کا نام ہ جو ایک چیز کا مرجع اور اس کی تفسیر ہو۔ جب کوئی شخص لوٹ کر آئے تو عرب کہتے ہیں ۔ ” ال یئول، اولاً ۔ “
Ayahs 17:36–44

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اسکا رتبہ) بلند ہے۔

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔

لاتقف کی تشریح قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے نزدیک یہ اسم اس خبر کے لئے وضع کیا گیا تھا جو کوئی شخص یونہی آ کر سنا دے اور اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ جب کوئی شخص باطل یعنی غلط بات کہتا تو اس موقعہ پر یہ فقرہ استعمال ہوتا۔ ” تقوف الرجل “ جریر کا شعر ہے۔ وطال حذاری خیفۃ البین والنوی واحد وثۃ من کاشح متقوف علیحدگی اور جدائی نیز ایک کینہ ور دروغ گو دشمن کی افواہوں سے ڈرتے ہوئے میں نے طویل عرصے تک محتاط رویہ اختیار کئے رکھا۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ جریر نے متقوف سے غلط باتیں کہنے والا مراد لیا ہے۔ ایک اور شاعر کا قول ہے : ومثل الدمی شم العرانین ساکن بھن الحیاء لایشعن التقافیا وہ ستواں ناک والی پتلیوں کی طرح خاموش ہیں۔ ان کے اندر حیا داری موجود ہے کہ ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالتی ہیں۔ یہاں تفافی تفاذف یعنی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے معنوں میں ہے۔ اس اسم کو تقاذف کے معنوں میں اس لئے استعمال کیا گیا کہ اس میں اکثر باتیں بےحقیقت اور غلط ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے قاذف یعنی زنا کی تہمت لگانے والے کو گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں کاذب قرار دیا ہے چناچہ ارشاد ہے (لوہ اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بانفسھم خیراً و قالوا ھذا افک مبین۔ جب تم لوگوں نے یہ افواہیں سنی تھی تو کیوں نہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے حق میں نیک گمان کیا اور یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو صریح جھوٹ ہے۔ قتادہ نے قول باری صولا تقف مالیس لک بہ علم) کی تفسیر کرتے ہوئے کہا۔” جو بات تم نے نہ سنی ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنی ہے۔ جو چیز تم نے نہ دیکھی ہو اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھی ہے اور جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ مجھے علم ہے۔ “ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ کے احکام کے متعلق اپنے گمان اور خیال سے علم کے بغیر کوئی بات کہنے کی ممانعت ہے نیز یہ کہ لوگوں کے متعلق کسی ایسی سنی سنائی بات کو زبان پر لانا ممنوع ہے جس کی صحت کا علم نہ ہو۔ نیز اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کوئی شخص علم کے بغیر کسی بات کی خبر دے گا وہ گنہگار قرار پائے گا۔ خواہ اس کی سنائی ہوئی بات سچی ہو یا جھوٹی اس لئے کہ اس نے علم کے بغیر یہ بات کہی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا ہے۔ قول باری ہے (ان السمع والبصر والفوادکل اولئک کان عنہ مسئولاً یقینا آنکھ کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہماری آنکھ، کان اور دل پر اللہ کا حق ہے اور انسان کو اپنے ان تمام اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی جو اس نے ان اعضاء کے ذریعے سر انجام دیئے ہوں گے۔ اسے یہ حساب دینا ہوگا کہ اس نے کون کون سی غلط باتیں سنی تھیں، کہاں کہاں غلط نظر ڈالی تھی اور کیسی کیسی غلط اور قبیح باتیں سوچی تھیں۔ بعض لوگ قول باری (ولا تقف مالیس لک بہ علم) سے شریعت کی فروعی مسائل میں قیاس کی نفی پر استدلال کرتے ہیں نیز خبرواحد کا ابطال کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قیاس اور خبر واحد دونوں ہمیں کسی مسئلے کے متعلق علم کی منزل تک پہنچاتے ہیں اس لئے جو شخص ان دونوں باتوں کی بنیاد پر کوئی مسئلہ بیان کرے گا وہ علم کے بغیر بات کرنے والا گردانا جائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جس شخص نے یہ کہا ہے اس نے غلط کہا ہے۔ اس لئے جس مسئلے کے بیان کے لئے شرعی دلالت قائم ہوجائے اس کے قائل کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے علم کے بغیر بات کی ہے۔ قیاس اور خیر واحد کے سلسلے میں ایسے دلائل قائم ہوچکے ہیں جو ان کی صحت کے موجب ہیں۔ اگرچہ ہمیں دی گئی خبر کی سچائی کا علم نہیں ہوتا لیکن خبر کی سچائی کا علم نہ ہونا اس خبر کو قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی راہ میں حائل نہیں ہوتا جس طرح اگر دو گواہوں کی ظاہری حالت ان کی عدالت یعنی سچائی، نیک روی وغیرہ پر والی ہو تو ان کی گواہی قبول کرلینا واجب ہوتا ہے اگرچہ ہمیں ان کی دی ہوئی گواہی کی سچائی کے بارے میں یقینی علم نہیں ہوتا۔ اسی طرح تمام اہل علم کے نزدیک معاملات سے متعلق دی گئی خبریں قابل قبول ہوتی ہیں اگرچہ ان خبروں کی صحت کا ہمیں یقینی علم نہیں ہوتا۔ قول باری (ولا تقف مالیس لک بہ علم) اخبار آحاد کو رد کرنے کا موجب نہیں ہے جس طرح یہ گواہیوں کو رد کردینا واجب نہیں کتا۔ جہاں تک قیاس شرعی کا تعلق ہے تو جو قیاس اجتہاد کے دائرے کے اندر کیا جاتا ہے اور جس قول میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے اس قیاس کے نتیجے میں ایسے قول کے قائل کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا ک ہ اس نے علم کے بغیر یہ بات کہی ہے بلکہ اس کا یہ قول علم پر بمین ہوتا ہے اس لئے کہ جس بات پر وہ اپنے اجتہاد کے نتیجے میں پہنچا ہے وہی اس کے لئے اللہ کا حکم قرار پاتا ہے۔ علم حقیقی اور علم ظاہری میں فرق ایک اور جہت سے اس پر نظر ڈالیے، علم کی دو قسمیں ہیں۔ علم حقیقی اور علم ظاہر۔ ہم جس علم کے مکلف ہیں وہ علم ظاہر ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ارشاد باری ہے ۔ (فان علمتموھن مومنات فلا ترجعوھن الی الکفار۔ اگر تمہیں ان عورتوں کے مومن ہونے کا علم ہوجائے تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو) اس علم سے علم ظاہر مراد ہے اس لئے کہ ان کے دلوں میں پوشیدہ باتوں کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جو کہا تھا قرآن میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ (وما شھد نا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بتایا کہ انہوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ علم ظاہر کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں

قول باری ہے (واذ قرأت القرآن جعلنا بینک وبین الذین لایومنون بالاخرۃ حجابا مستوراً اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں) ایک قول کے مطابق آیت کو تشبیہ کے معنوں پر محمول کیا جائے گا ۔ ان لوگوں کے ایسے شخص کے ساتھ مشابہت جس کے اور حضور ﷺ کی قرآن سے بیان کردہ حکمت کی باتوں کے درمیا نپردہ حائل ہے۔ اس طرح آپ کے اور منکرین آخرت کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس کی بنا پر وہ حکمت کی ان باتوں کا ادراک نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قتادہ سے یہی تفسیر مروی ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو حضور ﷺ کو اس وقت تنگ کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ رات کے دوران قرآن کی تلاوت فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ار ان بدبختوں کے درمیان حائل ہوجاتا اور اس طرح ان کے لئے آپ کو تنگ کرنا ممکن نہ رہتا ۔ حسن کا قول ہے کہ ان کافروں کے اعراض کی بنا پر ان کی حیثیت اس شخص جیسی ہے جس کے اور حضور ﷺ کے درمیان ایک پردہ حائل ہو۔
Ayahs 17:46–51

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور راستہ نہیں پاسکتے۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور چور چور ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا ہو کر اٹھیں گے۔

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جلائے گا ؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دو امید ہے کہ جلد ہوگا۔

قول باری ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رتا کے ایک خاص حصے میں اس بات سے روک دیا تھا تاکہ ان کے لئے حضور ﷺ کی ایذا رسانی ممکن نہ رہے۔ ایک قول کے مطابق ہم نے ان پر یہ حکم لگا کر کہ وہ گمراہی کے اسی مقام پر رہیں گے ان کے دلوں کو قرآن فہمی کے لئے ناکارہ بنادیا تھا۔ اس میں ان کی ایک طرح مذمت تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ نہ صرف حق کو سمجھنے اور اس کی طرف کان دھرنے سے پہلے بچاتے ہیں بلکہ اس سے منہ پھیر لیتے اور بدکتے بھی ہیں۔
Ayahs 17:52–59

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داوٗد کو زبور عنایت کی۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہو (کہ مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے انکو بلا دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کو بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب (ہوتا) ہے اور اسکی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اسکے عذاب سے خوف رکھتے ہیں بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کفر کرنے والوں کی کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جا چکا ہے۔

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لیے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔

دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔
Ayahs 17:60–63

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا بولا بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزاء جہنم ہے (اور وہ) بری سزا ہے۔

اس رئویا سے کیا مراد ہے۔ قول باری ہے (وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے اس کو ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) حضرت ابن عباس سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق ، نیز قتادہ حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رئویا بیت المقدس تک رات کے سفر یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس رئویا سے مراد ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔ شجرئہ ملعونہ کیا ہے قول باری ہے (والشجرۃ الملعونتہ فی القران۔ اور اس درخت کو (ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے) حضرت ابن عباس، حسن بصری، سدی، ابراہیم نخعی ، سعید بن جبیر، مجاہد، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ اس سے زقوم کا درخت ماد ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم بیشک زقوم کا درخت گنہگاروں کی خوراک ہے) قول باری (الملعونۃ) سے مراد سے کھانا قابل لعنت ہے۔ یہ درخت ان مشرکین کے لئے فتنہ اس لئے بن گیا تھا کہ ابوجہل نے یہ اعتراض کیا تھا کہ آگ تو درختوں کو جلا ڈالتی ہے پھر جہنم کی آگ میں یہ درخت کیسے اگا ہوگا۔
Ayahs 17:64–69

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر ﷺ تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا (اس سے) بےخوف ہو کہ تم کو دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔

شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔ قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی گانا بجانا ہے۔ ان دونوں باتوں کی ممانعت ہے اور ان کا تعلق شیطان کی آواز سے ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ وہ آواز ہے جس کے ذریعے شیطان لوگوں کو معصیت کی طرف بلاتا ہے۔ ہر وہ آواز جس کے ذریعے فساد کی دعوت دی جائے شیطانی آواز ہوتی ہے۔ قول باری ہے (واحلب علیھم اور ان پر چڑھالا) اجلاب ہانکنے کو کہتے ہیں جس میں ہانکنے والے کا شور و غل شامل ہوتا ہے۔ جلبہ زبردست شور و غل کو کہتے ہیں۔ قول باری ہے (بخیلک و رجلک اپنے سوار اور پیادے) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جن و انس میں سے اللہ کی معصیت کی طرف جانے والا ہر سوار اور پیادہ شیطان کا سوار اور پیادہ ہتا ہے۔ رجل راجل کی جمع ہے جس طرح تجرتا جد کی اور رکب راکب کی جمع ہے۔ قول باری ہے (وشارکھم فی الاموال و الاولاد اور مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” ان چیزوں میں تو ان کا شریک بن جا، ان میں سے کچھ وہ چیزیں ہیں جن کی لوگوں کو طلب ان کی اپنی نفسانی خواہشات کی بنا پر ہوگی اور کچھ چیزوں کو وہ تیرے اکسانے کی بنا پر طلب کریں گے۔ “ مجاہد اور ضحاک کا قول ہے۔ ” اولاد میں ان کے ساتھ سا جھا لگا ، یعنی اولاد زنا “ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مئو و وہ یعنی زندہ درگور کی جانے والی لڑکی مراد ہے۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو یہودی اور نصرانی ہوگئے تھے۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت کے مطابق اس سے لوگوں کا عبدالحارث اور عبدشمس نام رکھنا مراد ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں جب ان تمام وجوہ کا احتمال ہے تو اسے ان تمام وجوہ پر محمو لکیا جائے اور یہ تمام معانی مراد ہوں گے۔ اس لئے کہ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جن میں شیطان لوگوں کو اکسا کر اور ان کی دعوت دے کر اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

اولاد آدم کی تکریم قول باری ہے (ولقد کرمنا بنی ادم اور ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی) جنس بنی آدم پر اس کا اطلاق کیا گیا حالانکہ اس جنس میں ذلیل کافر بھی داخل ہے۔ اس کی دو توجیہیں ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعلایٰ نے بنی آدم پر انعام کر کے انہیں بزرگی عطا کی اور ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو انعام و اکرا م سے نوازے جانے والے انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے اکرام کی صفت میں مبالغہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ بنی آدم میں بزرگی کی اس صفت سے متصف لوگوں کی موجودگی کی بنا پر پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے) جب مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو اس صفت سے متصف قرار دیئے گئے تھے تو ان کی پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا ۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو انکے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

روز محشر امام کون ہوگا ؟ قول باری ہے (یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے) ایک قول کے مطابق یہ اعلا ن ہوگا کہ ابراہیم کے پیروکاروں کو لائو، موسیٰ کے پیروکاروں کو لائو، محمد ﷺ کے پیروکاروں کو لائو، یہ اعلا سن کر انبیاء (علیہم السلام) کے تمام پیروکار ایک ایک کر کے کھڑے ہوجائیں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑ لیں گے پھر پیشوا یان ضلال کے پیروکاروں کو نام بنام اسی طریقے سے پکارا جائے گا۔ مجاہد اور قتادہ کا قول کہ امام سے مراد نبی ہے۔ حضرت ابن عباس ، حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ امام سے مراد نامہ اعمال ہے ابوعبیدہ کے قول کے مطابق ہر گروہ کو اس شخص کے ساتھ بلایا جائے گا جس کی دنیا میں یہ اقتدا ر کرتے تھے۔ ایک قول کے مطابق امام سے مراد وہ کتاب ہے جس میں حلال و حرام اور فرائض کا ذکر ہے۔