20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 20:1–11

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآں اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لیے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

(یعنی خدائے) رحمن جس نے عرش پر قرار پکڑا

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چھپتے بھید اور نہایت پوشیدہ بات کو جانتا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کے (سب) نام اچھے ہیں

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے ؟

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھیرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا راستہ معلوم کرسکوں

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا کیو کہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے اس لئے فرمایا : (الا تذکرۃ لمن یخشی) یہ اس لئے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاصر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ” تذکرہ “ موجود ہوتا ہے البتہ اناسن خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ” تذکرہ “ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے (لمن یخشی) ” جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سیذکر من یخشی، ویتجنبھا الاشقی، الذی یصلی النار الکبری) (الاعلی :12-10/88) ” جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بےخوف اناسن) اس سیپ ہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دھکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔ “ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خلاق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جو تمام ائنتا کی تدبیر کرتا ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ (اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خلق) اور (امر) کو مقرون ( ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جی اس کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جی اس کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : (الا لہ الخلق والامر) (الاعراف :35/8) ” آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔ “ جی اس کہ فرمایا : (آیت) ” اللہ ہی تو ہے جس نے استوں آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی (است) زمینیں، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلاق میں اس کی تدبیر کوفی و قدیر جاری و اسری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کار فرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسیر طح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احاسن پر مبنی ہو اور صرف عدل و احاسن اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔ جب یہ حقیت واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (الرحمٰن علی العرش) ” رحمٰن عرش پر “ جو تمام کائنتا سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنتا سے وسیع ہے (استوی) ” مستوی ہے “ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔ (لہ ما فی السموت وما فی الارض وما بینھما) ” اسی کے لئے ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین ” میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ “ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات (وماتحت الثری) ” اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے “ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیر اور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ (وان تجھر بالقول فانہ یعلم السر) ” اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔ “ یعنی پوشیدہ کلام کو (واخفی) ” اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔ “ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو اناس ن کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السر) سے مراد وہ خیال ہے جو اناسن کے دل میں آتا ہے اور (اخفی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اور ابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اس لئے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔ جب یہ بات متحقق ہوگئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرو نہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے، تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہرتای ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لئے فرمایا : (اللہ لا الہ الا ھو) یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی (لہ الآسمآء الحسنی) ” اسی کے لئے ہیں اچھے نام “ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انہیں یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وللہ الاسمآء الحسنی فاد عوہ بھا) (الاعراف :180/8) ” اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انہی ناموں سے پکارو۔ “
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتارو تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طوٰی میں ہو

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ اسے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہ مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے : (وھل اتک حدیث موسی) ” کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی ؟ “ یعنی جناب موسیٰ کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی اسدت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انہیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کرسکیں۔ (فقال لاھلہ امکثوا انی انست ناراً ) ” تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آپ دیکھی ہے “ اور یہ آگ کو وہ طور کے دائیں جانب تھی۔ (لعلی اتیکم منھا بقیس) ” شاید میں تمہارے پاس اس میں سے ایک انگارا لاؤں۔ “ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو (اوجد علی النار ھدی) یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتادے۔ موسیٰ کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدیات تھا۔ مگر انہوں نے وہاں معنوی نور یعنی نور وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انہیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حاسب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ (فلما اتھا) یعنی جب حضرت موسیٰ اس آگ کے پاس پہنچے جو انہوں نے دور سے دیکھی تھی۔۔۔ جو دلالت کرتا ہے (آیت) (1) ” اس کا حجاب نور ہے۔ ایک روایت میں ہے : آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔ “ جب موسیٰ وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ندادی جی اس کہ ارشاد فرمایا : (ونادینہ من جانب الطور الایمن وقربنہ نجیاً (مریم :52/19) ” ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لئے اس کو قریب کیا۔ “ (انی انا ربک فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طوی) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰ کا رب ہے اور حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لئے تیار اور اس کا اہتمام کرلیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں۔ اگر وادی کی تقدیس کے لئے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو مناجات کے لئے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جوتے اتارنے کا اس لئے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گندھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے جو حکم دیا جائے اسے سنو

آیت 13 (وانا اخترتک) یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احاسن ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لئے فرمایا (فاستمع لما یوحی) یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔ (1) صحیح مسلم، الایمان، باب فی قولہ (ان اللہ لاینام) ح :129
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں خدا ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو

آیت 14 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کتے ہوئے فرمایا : (اننی انا اللہ لا الہ الا انا) ” بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء، وصفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔ (فاعبدنی) ” پس میری ہی عبادت کر “ عبادت کی ظاہری اور باطنی، اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے۔ پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضا کی عبادت کو متضمن ہے۔ (لذکری) یہاں لام تعلیل کے لئے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر اناسن کی سعادت کا دار و مدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہوجاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں، خاص طور پر نماز، تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بیشک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔ “ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے، زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا صوف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت یقینا آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلہ پائے

آیت 15 (ان الاسعۃ اتیۃ) یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ (اکاداخفیھا) یعنی قیامت کی گھڑی خود آپ ﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جی اس کہ بعض قرأت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے : (یسئلک الناس عن الاسعۃ قل انما علمھا عند اللہ) (الاحزاب :63/63) ” آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔ “ اور فرمایا : (ان اللہ عندہ علم الاسعۃ) (لقمن :33/31) ” قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی مرسل۔ اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ (لجزی کل نفس بما تسعی) ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دواز ہے۔ (لیجزی الذین آساء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی) (النجم :31/53) ” تاکہ جن لوگوں نے برے کام کئے، انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کو اچھا بدلہ دے۔ “
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ

آیت 16 وہ شخص، جو قیامت کا انکار کرتا ہے اور اس کے واقع ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ آپ ﷺ کو قیامت اور جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہ دے۔ وہ اس بارے میں شک کرتا ہے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس بارے میں باطل دلائل کے ذریعے سے بحث کرتا ہے، خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے، مقدور بھر قیامت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے، “ اس کا مقصد حق تک پہنچنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی بات پر کان دھرنے اور اس کے اقوال و افعال کو، جو قیامت پر ایمان لانے سے روکتے ہیں، قبول کرنے سے بچئے۔ جس شخص کا یہ حال ہے اس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے صرف اس لئے حکم دیا ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جس کا دجل اور اس کی وسوسہ اندازی مومن کے لئے سب سے زیادہ ڈرنے کی چیز ہے اور نفوس اناسنی کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ابنائے جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔ اس میں تنبیہ اور اشارہ ہے کہ ہر اس شخص سے بچا جائے جو باطل کی طرف دعوت دیتا ہے، ایمان واجب یا اس کی تکمیل سے روکتا ہے اور قلب میں شبہات پیدا کرتا ہے، نیز ان تمام کاتبوں سے بچا جائے جو باطل نظریات پر مشتمل ہیں۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، آخرت پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ تینوں امور ایمان کی اساس اور دین کا ستون ہیں۔ اگر یہ امور کامل ہیں تو دین بھی کامل ہے اور ان امور کے فقدان یا ان کے ناقص رہنے سے دین بھی ناقص رہ جاتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جس میں ان گروہوں کی سعادت اور شقاوت کی میزان کے بارے میں خبر دی گئی ہے، جن کو کتاب عطا کی گئی تھی۔ فرمایا (آیت) ” بیشک جو لوگ ایمان لائے یا یہودی ہوئے یا صابی یا عیاسئی، جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل بھی کرے گا، ان کے لئے کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ “ ارشاد فرمایا : (فتردی) یعنی اگر آپ اس شخص کے راستے پر گامزن ہوئے جو مذکورہ امور سے روکتا ہے تو آپ ہلاک ہو کر بدبختی کا شکار ہوجائیں گے۔
Ayahs 20:17–35

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور موسیٰ یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈالدو

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگا لو وہ کسی عیب (و بیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھروالوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری وقت کو مضبوط فرما

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ “ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں۔ (1) آدمی کے لئے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔ (2) بہائم کے لئے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے سے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں۔ یہ حضرت موسیٰ کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کی عنیات تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں چن کر اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ (ولی فیھا مارب اخری) ” اور میرے لئے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں۔ “ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد، یہ موسیٰ کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔۔۔ یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں، اس میں دونوں احتمالات ہیں۔۔۔ موسیٰ نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے ارشاد فرمایا : (القھا یموسی، فالقھا فاذاھی حیۃ تسعی) ” اے موسیٰ ! اسے زمین پر ڈال دے، تو انہوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا اسنپ بن گیا۔ “ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے اسنپ میں تبدیل ہوگیا اور موسیٰ خوف کھا کر بھاگ اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اس اسنپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک ہم کے ازالے کے لئے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ پس کے حرکت کرنے نے اس دہم کا ازالہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا : (خذھا ولاتخف) ” اسے پکڑ لے اور مت ڈر “ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ (سنعیدھا سیرتھا الاولی) یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہئیت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اسپن کو پکڑ لیا اور اسنپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہوگیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (واضمم یدک الی جناحک) یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگالے جو اناسن کے پر ہیں۔ (تخرج بیضآء من غیر سوآء) یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ (ایۃ اخری) یہ دوسرا معجزہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فذنک برھانن من ربک الی فرعون و ملاۂ انھم کانوا قوماً فسقین) (القصص :32/28) ” تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ “ (لنریک من ایتنا الکبری) یہ مذکور افعال۔۔۔ یعنی عصا کا اسنپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکدار ہوجانا۔۔۔ صرف اس لئے سر انجام دیئے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں، جو تیری راسلت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہوگا، تیرے علم میں اضافہ ہوگا اور تو اللہ تاعلیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 20:36–40

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا اور (موسی) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اسکو پالے تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آپہنچے

آیت 36 جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کر کے انہیں نبوت عطا کردی اور انہیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا : (اذھب الی فرعون انہ طغی) ” فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ، اپنے کفر و فاسد میں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتی کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کردیا۔۔۔ قبحہ اللہ۔۔۔ یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کردیتا۔ اس وقت موسیٰ کو معلوم ہوا کہ انہوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انہیں ایک جابر اور سرکش اناسن کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جب کہ موسیٰ نے تنہا تنہا ہیں، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سر زد ہوچکا تھا، لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چناچہ عرض کیا : (رب اشرح لی صدری) یعنی اے اللہ ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کرتا کہ میں قولی اور فعلی اذیتیں ربداشت کرسکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ اناسن کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرمایا : (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک) (آل عمران :159/3) ” یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ﷺ ان کے لئے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تند خو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔ “ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں۔ (ویسر لی امری) یعنی میرے لئے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول قح کے قریب تر ہو۔ (واحلل عقدۃ من لاسنی، یفقھوا قولی) موسیٰ کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جی اس کہ مفسرین کی رائے ہے اور جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا : واحی ہرون ھو الفصح منی لاسناً ) (القصص :33/28) ” اور میرا بھائی ہارون، مھ سے زیادہ فصیح اللاسن ہے۔ ‘ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گروہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہوسکے۔ (واجعل لی وزیرا من اھلی) یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مد کرے، جو میرا میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لئے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ اناسن کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا : (ھرون اخی، اشددبہ ازری) یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر، اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (سنشد عضدک باخیک ونجعل لکما سلطنا) (القصص :35/28) ” ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔ “ (واشر کہ فی امری) نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے۔ یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔ پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا : (کی نسبحک کثیراً ونذکرک کثیراً ) موسیٰ کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دار وم دار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کردے، وہ نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہوگا۔ (انک کنت بنا بصیراً ) اے اللہ ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں، تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (قد اوتیت سولک یموسی) اے موسیٰ ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کردیں گے، تیرے معاملے کو آسان کردیں گے، تیری زبان کی گروہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کردیں گے۔ (آیت) ” ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ مہاری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمہارے متبعین ہی کا ہوگا۔ “ موسیٰ کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ یک کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیر خواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا۔۔۔ خاص طور پر جب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں۔۔۔ کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت، زبان، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لئے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوبصورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی حق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لئے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لئے موسیٰ نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انہیں عطا کردیئے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کا مخلوق کی طرف بھیجا گیا، تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمد ﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلند ترین درجے پر فائز تھے۔ آپ ﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسرا امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر وبیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ وتابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیاں اس انداز سے میسر نہیں آئیں۔