20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 20:1
- 1 طہ -
Ayah 20:2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے یہ قرآن کریم آپ پر اس لئے نہیں اتارا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔

2 حروف مقطعات کی ابتداء میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ ان کے معنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہم نے یہ قرآن کریم آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ محنت میں پڑجائیں اور تکلیف اٹھائیں۔
Ayah 20:3

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ یہ تو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو ڈرتا ہے

-3 بلکہ اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خدا سے ڈرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ریاضت اور تہجد میں قرآن کریم کی تلاوت کو دیکھ کر کفار کہا کرتے تھے کہ قرآن کریم کے اترنے سے یہ شخص محنت اور مشقت میں پڑگیا ہے اس کا جواب دیا گیا کہ یہ تو ایک نصیحت ہے جو اس لئے نازل کی گئی ہے کہ جو لوگ خدا کا ڈر رکھتے ہیں وہ اس کو قبول کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔
Ayah 20:4

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ قرآن کریم اس خدا کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور اونچے اونچے آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔

-4 یہ قرآن کریم اس ذات اقدس کی جانب سے اتارا گیا ہے جس نے زمین کو اور اونچے اونچے اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ یعنی جو زمین اور بلند آسمانوں کا خلاق ومالک ہے اسی کی جانب سے یہ کلام نازل کیا گیا ہے اور یہ اسی کا کلام ہے۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بےحد مہربان اور عرش پر اپنی شان کے موافق قائم ہے۔

-5 وہ بےحد مہربان اور عرش پر اپنی شان کے لائق قائم اور جلوہ گر ہے۔ یعنی عرش سے جملہ امور کی تدبیر فرماتاے۔ عرش ایک جسم عظیم ہے جو تمام آسمانوں پر ایک قبہ کی طرح ہے تمام آسمان اور کرسی اس کے نیچے ہیں وہ تمام آسمان و کرسی سے بڑا ہے اس کے پایوں کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ چار فرشتے ہیں۔ احادیث میں ان کی تسبیح بھی منقول ہے دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہے۔ سبحانک الھھم وبحمدک للک الحمد علی حلبک بعد علمک اور دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہے سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدربک ۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے مابین ہے اور جو کچھ زمین کی تہ میں گیلی مٹی کے نیچے ہے سب اسی کی ملک ہے۔

-6 جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور جو کچھ زمین کی تہ میں گیلی مٹی کے نیچے ہے یہ سب چیزیں اسی حق تعالیٰ کی مملوک ہیں۔ گیلی مٹی یا سیلی مٹی زمین کے نیچے کا وہ حصہ جہاں سے پانی شروع ہوتا ہے یہ حصہ پانی کی نمی کی وجہ سے سیلا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات کا وہی مالک و قابض ہے خواہ وہ بالائی عالم ہو یا سفلی عالم ہو آسمان و زمین کے درمیان عالم ہو یا ہوا اور بادل اور پرندے وغیرہ یا کوئی دوسری مخلوق۔
Ayah 20:7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اے مخاطب اگر تو کوئی بات پکار کر کہے تو خدا اس کا محتاج نہیں کیونکہ وہ تو پوشیدہ بات اور پوشیدہ سے پوشیدہ بات کو بھی جانتا ہے۔

-7 اور اے مخاطب اگر تو کوئی بات پکار کر کہے تو اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک پوشیدہ بات اور پوشیدہ سے پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ یعنی اگر کوئی بات جہر سے اور پکار کر کہی جائے تو اس کے سننے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا جبکہ اس کے احاطہ علمی کی یہ حالت ہے کہ وہ ہر ایک مخفی اور پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ بات بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں چھپا ہوا آہستہ بولے اور اس سے چھپا جو دل میں ہو۔ 12
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا ہے جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے خاص ہیں۔

-8 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ جس کے سوا اور کو ئیم عبود برحق ہونے کا مستحق نہیں ہے اور نہ اس کے سوا کوئی بندگی اور عبادت کے قابل ہے اور سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے خاص ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر جب رحمان سنتے تو کہتے تم ایک کو ٹھہرائو کبھی کسی کو پکارتے ہو کبھی کسی کو 12 خلاصہ ! یہ کہ حضرت حق جل مجدہ کے صفاتی ناموں پر یہ کہتے کہ مسلمان بھی متعدد خدا مانتے ہیں اس کا جواب دیا گیا کہ اس مجمع صفات کمالیہ کے اور اچھے اچھے نام ہیں اس کو رحمان یا رحیم کہنا توحید الٰہی کے منافی نہیں ہے تعدد اسماء سے تعدد ذات لازم نہیں آتا۔
Ayah 20:9

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور اے پیغمبر بھلا آپ تک موسیٰ کا وہ واقعہ بھی پہنچا ہے

-9 اور اے پیغمبر ! کیا آپ کو موسیٰ کی بات اور اس کی خبر پہونچی ہے۔ یعنی استفہام تشویق کی بنا پر پوچھا گیا تاکہ شوق دلا کر واقعہ ذکر کیا جائے اور وہ واقعہ سنایا جائے جس میں ان کو نبوت دینے کا ذکر ہے اور یہ واقعہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور آپ کی نبوت پر ایک دلیل ہو۔
Ayah 20:10

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب کہ اس کو ایک آگ نظر آئی تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا ٹھہر جائو میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں اس آگ میں سے شاید تمہارے لئے کچھ آگ لے آئوں یا اس آگ کے پاس میں کوئی راستہ بتانے والا پالوں

- 10 وہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ موسیٰ نے مدین کی واپسی پر رات کو طور پر ایک آگ دیکھی اور آگ کو دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا تم ذرا یہیں ٹھہر جائو میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں شاید اس آگ میں سے تمہارے پاس کوئی انگارا لے آئوں یا وہاں آگ کے پاس کوئی راستہ بتانے والا پالوں گا یعنی یہ سمجھے کہ پہاڑ کے لوگوں نے آگ جلا رکھی ہے وہاں جا کر آگ بھی لے آئوں گا تاکہ اس سے سردی میں تاپنے کا کام لیا جاسکے اور آگ کے پاس جو شخص ہوگا اس سے راستہ کا پتہ بھی معلوم کرلوں گا تردید بطور مانعتہ الخلو تھی دونوں باتیں ہوجائیں یا دونوں میں سے کوئی ایک ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ قصہ سورة قصص اور طہ اور اعراف میں سے پورا معلوم ہو جب حضرت موسیٰ مدین سے مصر کو آنے لگے عورت اور بکریاں ساتھ لیکر جنگل میں رات کی سردی میں راہ بھولے اور عورت کو جننے کا درد ہوا دور سے آگ نظر آئی وہ آگ نہ تھی اللہ کا نور تھا ان سے کالم کیا اور نبی بنا کر فرعون کی طرف بھیجا پیچھے عورت اپنے باپ کے گھر پہنچ رہی۔ 12 کوہ طور پر دونوں ہی باتیں مل گئیں آگ بھی ایسی ملی جو بجھائے نہ بجھے اور ہادی مطلق سے ملاقات ہوگئی جس کی راہ بتانے کے بعد کوئی بےراہ نہ کرسکے۔
Ayah 20:11

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

سو جب موسیٰ آگ کے پاس پہنچا تو اس کو آواز دی گئی اے موسیٰ

- 1 1 سو جب موسیٰ آگ کے پاس پہنچا تو اس کو آواز دی گئی اور اس کو پکارا گیا اے موسیٰ یہ ندا حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے آئی۔
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

یقینا میں تیرا رب ہوں سو تو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے کیونکہ تو ایک طویٰ نامی مقدس میدان میں ہے

- 12 یقینا میں تمہارا پروردگار ہوں سو تو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے کیونکہ تو اس وقت ایک مقدس وادی میں ہے جس کا نام طویٰ ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں میدان شاید پہلے سے بزرگ تھا یا اب ہوگیا ان کی پاپوش ناپاک تھیں یہودیہ نہیں سمجھتے پاک موزہ پاپوش بھی نماز میں اتارتے ہیں ہمارے پیغمبر نے فرمایا تم نماز پڑھو موزے سے پاپوش سے اگر پاک ہوں۔ 12 کہتے ہیں حضرت موسیٰ کی جوتیاں گدھے کی کھال کی تھیں اور کھال غیر مدبوغ تھی یا یہ کہ اشارہ ہو بیوی اور بچے کا خیال دل سے نکال دو ۔ جیسا کہ امام رازی نے کہا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تجھ کو نبوت کے لئے منتخب کیا ہے سو جو حکم کیا جاتا ہے اس کو کان لگا کر سن

- 13 اور میں نے تجھ کو منجملہ دوسرے لوگوں کے نبوت کے لئے پسند فرمایا ہے اور منتخب کیا ہے۔ لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اور جو وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن۔ یعنی میں نے تجھ کو اپنی پیغمبری کے لئیپ سند فرمایا ہے اب میں تجھ پر جو وحی بھیجتا ہوں اس کو غور سے سن۔
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

یقین کر کہ میں ہی اللہ ہوں میرے سا کوئی معبود نہیں سو تو میری ہی عبادت کیا کر اور میری ہی یاد کے لئے نماز پڑھا کر۔

- 14 بلاشبہ ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں لہٰذا میری ہی عبادت اور بندگی کیا کر اور میری ہی یاد کے لئے نما زپڑھا کر ۔ یعنی جب کوئی دوسرا میرے سوا معبود ہونے کے قابل ہی نہیں تو میری ہی عبادت کر اور میری ہی یاد کے لئے نماز ادا کر۔
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو جو کچھ وہ کرت ا ہے اس کے کہنے کا بدلا دیا جائے۔

- 15 بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اس کے وقت کو جملہ خلائق سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے کئے کا بدلا دیا جائے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر کو بھی ور بک فکبر اور قیامت کو چھپاتا ہوں یعنی وقت کسی کو نہیں بتاتا۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ توحید کی تعلیم اور عبادات میں سے اہم عبادت کا ذکر فرمانے کے ساتھ قیامت کا ذکر کیا جو معاد کے عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے اس کی علت بیان فرمائی کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلا دیا جائے اور نیک کو نیکی کا پھل ملے اور بد کو بدی کی سزا دی جائے لہٰذا قیامت کا یقین اور اس کا فکر کرو۔
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

کہیں ایسا نہ ہو کہ جو شخص قیامت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے وہ تجھ کو اس قیامت کی فکر سے روک دے اور تو ہلاک ہوجائے

- 16 کہیں ایسا نہ ہو کہ جو شخص قیامت کا یقین نہیں رکھتا وہ اپنی نفسانی خواہش اور چائو کی پیروی کرتا ہے وہ تجھ کو قیامت پر اعتقاد رکھنے اور اسکے فکر کرنے سے روک دیا ور تو ہلاک ہوجائے۔ یعنی قیامت کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے ایسا نہ ہو کسی بد اعتقاد آدمی کی صحبت سے تم قیامت کے اعتقاد میں ڈھیلے ہو جائو تو یہ تو بات تم کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دے گی اور تم ہلاک ہو جائو گی کیونکہ قیامت کا عقیدہ نہ ہو تو حرام و حلال کی تمیز باقی نہیں رہتی اور عذاب وثواب کا خیال بھی نہیں آتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نہ روک دے اس سے یعنی قیامت کے یقین لانے سے یا نماز سے جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کیا ہے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ عنھا کی ضمیر کا مرجع قیامت ہے اور ہوسکتا ہے کہ نماز ہو۔
Ayah 20:17

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔

- 17 اور اے موسیٰ ! یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔ بطور استفہام تقریری کے ارشاد ہوا۔
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یہ میری لکڑی ہے میں اس پر ہمارا لیا کرتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑا کرتا ہوں اور میری اور دوسری حاجتیں بھی اس سے وابستہ ہیں

- 18 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یہ میری لکڑی ہے میں کبھی اس پر ٹیک لگا کر سہارا لے لیتا ہوں اور کبھی اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑا کرتا ہے اور میری اور دوسری حاجتیں بھی اس سے وابستہ ہیں۔ یعنی سفر میں اس پر اسباب لٹکا لینا اور درندوں کو اس سے بھگانا اور بھی کام جو لاٹھی سے نکل سکتے ہیں۔
Ayah 20:19

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

خدا نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) اس لکڑی کو ڈال دے۔

- 19 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اس لکڑی کو ڈال دے اے موسیٰ (علیہ السلام) لکڑی کا پھینکنے کو فرمایا نبی بنانے اور دین تعلیم کرنے کے بعد آیات و معجزات عطا فرمائے۔
Ayah 20:20

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ڈال دی لکڑی کو پھینکتے ہی دیکھا وہ تو ایک دوڑتا ہوا سانپ ہے ،

-20 چناچہ حضرت موسیٰ نے لکڑی ڈال دی لکڑی زمین پر ڈالتے ہی یکایک وہ ایک دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا۔ یعنی ادھر لکڑی ڈالی اور ادھر وہ سانپ بنا اور حسب عادت وہ ادھر ادھر بھاگنے لگا حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ لاٹھی سانپ بن گئی تو حضرت موسیٰ ڈرے۔
Ayah 20:21

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

خدا نے فرمایا اس کو پکڑے اور ڈر نہیں ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹائے دیتے ہیں۔

-2 1 حضرت حق نے ارشاد فرمایا اس سانپ کو پکڑ لے اور ڈر نہیں ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹائے دیتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی پھر لاٹھی ہو جاوئے گی۔ 12
Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور تو اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دے لے وہ بلا کسی عیب کے چمک دار ہو کر نکلے گا یہ دوسرا معجزہ ہوگا۔

-22 اور اپنے ہاتھ کو اپنی بغل سے ملا دے وہ بغیر کسی برائی اور عیب کے روشن اور چمکدار ہو کر نکل آئے گا درآحالی کہ یہ دوسرا معجزہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی آزار سے سفید نہیں۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ دو معجزے ظاہر فرمائے ایک لاٹھی کا اژدھا ہو کر پھر لاٹھی ہوجانا دوسرے ید بیضا یعنی ہاتھ کو بغل سے ملا کر نکالنے پر اس کا چمکدار بن کر نکلنا اور یہ سفیدی کسی عیب سے یا مرض سے جیسے برص وغیرہ کی نہیں ہوگی۔
Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

ہم نے یہ اس لئے کیا تاکہ اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں تجھے دکھا دیں۔

-23 ہم نے یہ اس لئے کیا تاکہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھا دیں ۔ یعنی اس لئے تجربہ کرا دیا کہ معجزے کے ظہور کے وقت کوئی گھبراہٹ نہ ہو۔
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تو فرعون کے پاس جا کیونکہ وہ بہت حد سے نکال گیا ہے۔

-24 توحید اور نبوت کی تعلیم دینے کے بعد تبلیغ کے لئے ارشاد ہوا اے موسیٰ تو فرعون کی طرف جا کیونکہ وہ عبودیت کی حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔ یعنی بجائے بندگی کا اظہار کرنے کے خود خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ہے ۔ لہٰذا یہ نشانیاں لے کر اس کے پاس جا ۔
Ayah 20:25

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰ نے درخواست کی اے میرے رب میرا سینہ کشادہ کر دے۔

-25 حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ مجھ کو نبوت عطا کی گئی ہے اور فرعون کی طرف تبلیغ کی غرض سے بھیجا جا رہا ہے تو حضرت حق کی جناب میں عرض کیا۔ اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے اور کشادہ کر دے۔
Ayah 20:26

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے لئے میرے کام کو آسان کر دے۔

-26 اور میرے تبلیغی کام کو میرے لئے آسان کر دے۔
Ayah 20:27

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

-27 اور میری زبان کی گرہ کھول دے یعنی میری زبان کی لکنت ہٹا دے اور دور کر دے۔
Ayah 20:28

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

-28 تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔
Ayah 20:29

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے اقرباء میں سے میرے لئے ایک مددگار مقرر کر دے۔

-29 اور میرے گھر والوں میں سے میرے لئے ایک مدد گار مقرر کر دے۔
Ayah 20:30

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

وہ مددگار ہارون کو بنا دے جو میرا بھائی ہے۔

-30 وہ مددگار ہارون کو بنا دے جو میرا بھائی ہے۔
Ayah 20:31

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس ہارون کے ذریعہ میری قوت کو مضبوط کر دے،

31 اس ہارون کے ذریعہ میری کمر کو مضبوط کر دے اور میری قوت کو مستحکم کر دے۔
Ayah 20:32

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس ہارون کو میرے کام میں شریک کر دے۔

-32 اور میرے تبلیغی کام میں اس کو شریک کردیجیے۔
Ayah 20:33

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم دونوں مل کر بکثرت تیری تقدیس اور پاکی بیان کریں۔

-33 تاکہ ہم دونوں مل کر بکثرت تیری تقدیس اور پاکی بیان کریں۔
Ayah 20:34

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور خوب کثرت سے تیرا ذکر کریں

-34 اور خوب کثرت سے آپ کا ذکر اور آپ کی یاد کریں۔
Ayah 20:35

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

یقینا تو ہمارے حال کو دیکھ رہا ہے۔

-35 بلاشبہ ! تو ہماری حال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ تبلیغ کی راہ میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں ان کے دور ہونے کے لئے حضرت موسیٰ نے دعا کی۔ شرح صدر کا مطلب یہ ہے کہ دل میں کشادگی پیدا ہو۔ برا کہنے والوں اور تکلیف پہنچانے والوں سے دل ملول نہ ہو۔ تبلیغ کے کاموں میں سہولت اور آسانی ہو زبان کی لکنت یا تو یہ لکنت پیدائشی تھی یا جھپٹنے میں ایک دفعہ فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی تھی اور وہ حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کے در پے ہوگیا تھا فرعون کی عورت نے سمجھایا کہ یہ بچہ ہے۔ فرعون نے کہا اس کے آگے ایک آگ کا طشت رکھو اور اس کا امتحان لو جب طشت رکھا گیا تو حضرت موسیٰ نے آگ اٹھا کر منہ میں رکھ لی اور حضرت موسیٰ کی زبان جل گئی اور اس کے اثر سے زبان کے ایک حصہ میں لکنت ہوگئی۔ بہرحال ! لکنت کے کھل جانے کی دعا کی تاکہ لوگ بات سمجھ لیں اسی قدر لکنت کے اثر کو زائل کردیا گیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو طلب کیا اور سورة قصص میں وجہ بھی بیان کی کہ اس کی زبان زیادہ فصیح ہے۔ نیز یہ کہ ایک سے دوسرے کو تقویت پہونچے گی اور ہم دونوں مل کر ہر عیب سے اور ہر نقص سے تیری تقدیس اور پاکی بیان کریں گے اور تیرے اوصاف کا خوب ذکر کریں گے۔ کیونکہ تبلیغ کے موقع پر احتمال ہے کہ فرعون اور اس کے حاشیہ نشین آپ کی شان میں گستاخی کریں تو ہم دونوں مل کر خوب اچھی طرح ان کا رد کریں گے یا یہ کہ جب ہم ایک دوسرے سے تقویت حاصل کریں گے اور مطمئن ہوں گے تو ذکر اور شغل خوب دل جمعی کے ساتھ ہوگا آپ ہماری حالت کو خوب دیکھ رہے ہیں اور تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم کو کس قدر آپ س میں ایک دوسرے کی احتیاج ہے اور موقع کس قدر نازک ہے اور معاملہ کیسے ظالم سے پڑنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سینہ کشادہ کر یعنی جلد خفا نہ ہوں اور زبان لڑکائی میں جل گئی تھی صاف نہ بول سکتے تھے۔ 12 اور فرماتے ہیں ایسے بڑوں پیغمبروں کو خلق کی طرف بہت خیال نہیں ہوتا ایک پیشکار چاہئے کہ خلق کو سہج میں سمجھا دے ہمارے پیغمبر کے آگے ابوبکر تھے اول پیغمبری کے وقت بہت لوگ ان کے سمجھائے سے ایمان لائے۔ 12
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

خدا نے فرمایا اے موسیٰ تیری سب درخواستیں پوری کردی گئیں۔

-36 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ ! ﷺ تمہاری درخواستیں اور تمہاری سب مانگیں پوری کردی گئیں۔ یعنی تم نے جو کچھ مانگا وہ تم کو عطا کردیا گیا اور رب اشرح لی صدی سے لیکر حضرت ہارون ﷺ کو نبی بنانے تک کی سب مانگیں تجھ کو دیدی گئیں اور ان درخواستوں کی قبولیت پر ہی کیا موقوف ہے ہم تو تم کو اپنے کر ہائے بےکراں سے نوازتے ہی رہے ہیں۔
Ayah 20:37

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم تو تجھ پر اور بھی ایک مرتبہ احسان کرچکے ہیں۔

-37 اور یقینا ہم تو تجھ پر بےمانگے ایک دفعہ اور بھی بہت بھاری احسان کرچکے ہیں۔ یعنی ہم تو بدون تمہاری درخواست کے تم پر احسان کرچکے ہیں آگے اس احسان کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 20:38

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

وہ احسان اس وقت کیا جبکہ ہم نے تیری ماں کو وہ بات الہام کی جو بات الہام کرنے کی تھی

-38 وہ احسان اس وقت کیا جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ بات الہام کی جو الہام سے بتانے کے قابل تھی۔ یعنی یا تو براہ راست موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو خواب میں تعلیم کی گئی یا کسی نامعلوم الاسم نبی کو وحی کی گئی ہو اور انہوں نے موسیٰ کی والدہ کو باخبر کیا ہو۔ بہرحال ! حضرت موسیٰ کی والدہ کا نبیہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان کی ماں کو یہ بات خواب میں کہی اس سے دو پیغمبر نہیں ہوگئیں۔ 12
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

وہ بات یہ تھی کہ موسیٰ کو صندوق میں رکھ دے پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دے پھر دریا اس صندوق کو کنارے جا لگائے گا تاکہ موسیٰ کو وہ شخص اٹھالے جو میرا بھی دشمن ہے اور موسیٰ کا بھی دشمن ہے اور موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی جانب سے محبت ڈال دی تاکہ جو تجھ سے محبت کرے اور تاکہ تو میری نگاہ کے سامنے پرورش کیا جائے۔

-39 وہ بات یہ کہ موسیٰ کو ایک صندوق میں رکھ دے پھر اس صندوق کو جس میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں دریا میں ڈال دو پھر دریا اس موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو کنارے جا لگائے گا کہ موسیٰ کو ایک ایسا شخص پکڑے اور اٹھا لے جو میرا بھی دشمن ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی دشمن ہے اور اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت ڈال دی تاکہ جو دیکھے وہ تجھ سے محبت کا برتائو کرے اور تاکہ تو میری نگرانی میں اور میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔ یعنی حضرت موسیٰ کی پیدائش جس سال ہوئی وہ سال وہ تھا جس میں فرعون پیدا شدہ بچوں کو قتل کراتا تھا ان کی والدہ کو خوف ہوا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ چناچہ ان کی والدہ نے صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا وہ فرعون کے پاس پہونچ گیا اس کی بیوی آسیہ نے صندوق اٹھا لیا فرعون ان کی پرورش پر آمادہ ہوگیا میرا دشمن اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن اللہ تعالیٰ کی دشمنی تو ظاہر ہی ہے کہ خدا کا دعویٰ کرتا تھا اور جیسا کہ ایسے لوگوں کا قاعدہ ہے کہ اللہ والوں سے بھی دشمنی کیا کرتے ہیں موسیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہونے والے تھے اور وہ ان کا دشمن ہونے والا تھا۔ اپنی جانب سے محبت ڈال دینا مقبول بندوں پر محبت کا ایک اثر ڈال دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مخلوق ان سے محبت کرتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہی معاملہ ہوا جو دیکھتا وہ محبت کرنے لگتا اپنی نگرانی میں تیار کرنے اور پرورش کا مطلب ی ہے کہ خاص نگرانی اور مہربانی کے ماتحت ان کی پرورش ہو اور ملکات نبویہ سے ان کو سرفراز کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرعون اس برس بنی اسرائیل کے بیٹے مارتا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے ان کی ماں ڈری کہ فرعون کے پیادے خبر پاویں تو مار بھی ڈالیں اور ماں باپ کو ستاویں کہ ظاہر یوں نہ کیا تب خواب میں یہ دیکھا، صندوق نہر میں ڈال دیا وہ فرعون کے باغ میں پہنچا اس کی بی بی نے اٹھایا ان کا نا م آسیہ تھا وہ تھیں بنی اسرائیل میں کی پھر فرعون کو بھی دیکھ کر محبت آئی اپنا بیٹاکر پالا۔ 12
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

یہ وہ وقت تھا جب تیری بہن چلتی ہوئی فرعون کے گھر آئی اور کہنے لگی تم کہو تو میں تم کوئی ایسی شخصیت بتائوں جو اس کی پرورش کرسکے۔ پھر ہم نے تجھ کو تیری ماں کے پاس لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو اور موسیٰ تو نے ایک شخص کو یعنی قبطی کو قتل کردیا تھا پھر ہم نے تجھ کو اس کی پریشانی سے نجات دی اور ہم نے تجھ کو کئی کئی طرح امتحان میں مبتلا کیا پھر تو مدین والوں میں کئی سال رہا اور آخر کار ایک وقت مقررہ پر جو مقدر تھا تو اے موسیٰ (علیہ السلام) یہاں آیا۔

-40 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب تیری بہن اجنبی بنی ہوئی فرعون کے گھر چلتی ہوئی آئی اور فرعون والوں سے کہنے لگی تم کہو تو میں تم کو ایک ایسی شخصیت باتئوں اور کسی ایسی شخصیت کا پتہ بتادوں جو اس کی پرورش اور کفالت کرسکے پس اس تدبیر سے ہم نے تجھ کو تیری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم نہ کھائے اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تو نے ایک شخص یعنی قبطی کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تجھ کو اس کی پریشانی اور غم سے نجات دی اور بچا لیا اور ہم نے تجھ کو کئی کئی طرح امتحان میں مبتلا کیا پھر تو مدین والوں میں کئی سال قیام پذیر رہا اور آخر کار ایک وقت خاص پر جو مقدر تھا تو یہاں آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے لے کر پہاڑ پر آنیتک کے تمام واقعات بطور احسانات یاد دلائے مزید تفصیل انشاء اللہ سورة قصص میں آجائے گی۔ بچپنے میں فرعن کے ہاتھوں انہی کی ماں کی گود میں پرورش کرائی اور جوانی میں بھی ان کی غلطی سے جو قبطی مارا گیا تھا فرعون کے شر سے محفوظ رکھا اور مدین کے راستے میں جو تکالیف برداشت کیں ان کو فرمایا۔ وفتنک فتوناً ایک وقت خاص جو مقرر تھا یعنی راستہ بھولے اور تقدیر یہاں لے آئی جس کا تم کو گمان بھی نہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ سارا قصہ سورة قصص میں ہے۔ 12