19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیص۔

- 1 کھیعص
Ayah 19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

اے پیغمبر ! یہ آپ کے رب کی اس مہربانی کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

-2 اے پیغمبر یہ آپ کے پروردگار کی اس رحمت و مہربانی کا تذکرہ ہے جو اس نے اپنے مقبول بندے زکریا نامی پر فرمائی تھی یعنی یہ قصہ جو آگے بیان کیا جاتا ہے یہ اس رحمت کا تذکرہ ہے جو اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر فرمائی تھی۔
Ayah 19:3

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب اس نے اپنے رب کو پست اور خفیہ آواز سے پکارا۔

-3 جبکہ اس زکریا نے اپنے پروردگار کو پست اور خفیہ آواز سے پکارا اور ندا کی۔ شاید اس لئے دعا کو پوشیدہ رکھا ہو کہ بڑھاپے میں اولاد مانگی تھی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دل میں دعا کی یا پکارا ہو اکیلے مکان میں چھپی پکار اس واسطے کو بوڑھی عمر میں بیٹا مانگتے تھے مانگے تو لوگ ہنسیں۔ 12
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

زکریا نے عرض کی اے میرے رب میری ہڈیاں بڑھاپے سے ضعیف ہوگئیں اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے چمک اٹھا اور میرے رب تجھ سے دعا کر کے میں کبھی محروم نہیں رہا

-4 زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے سے کمزور اور ضعیف ہوگئیں اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے چمک اٹھا اور اے میرے پروردگار میں آپ سے کوئی چیز طلب کر کے اور مانگ کر کبھی محروم اور ناکام نہیں رہا۔ یعنی جو مانگا وہ ملا اور جو دعا کی وہ قبول ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ڈیک بڑھاپے کی یعنی بال سفید 12 بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ تیری طلب اور تیرے بلانے پر میں کبھی محروم نہیں رہا یعنی جس خدمت کے لئے آپ نے حکم دیا میں فوراً بجالایا اور کبھی آپ کے حکم کی تعمیل سے محروم نہیں رہا۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے سو تو مجھ کو اپنے پاس سے ایک ایسا وارث عطا کر۔

-5 اب وجہ بیان کرتے ہیں بیٹا مانگنے کی اور میں اپنے مرنے کے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے سو آپ مجھ کو اپنے پاس سے کوئی ایسا وارث یعنی بیٹا عطا کریں۔
Ayah 19:6

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا بھی وارث ہو اور اولاد یعقوب کا بھی وارث ہو اور تو اس وارث کو اے میرے رب اپنا پسندیدہ اور مقبول بنائیو۔

-6 جو میرا بھی وارث ہو اور اولاد یعقوب کا بھی وارث ہو اور آپ اس وارث کو اے میرے پروردگار اپنا پسندیدہ اور مقبول بنائیو۔ یعنی مرنے کے بعد میرے رشتہ دار شاید ملت ابراہیمی کی حفاظت نہ کرسکیں اور دین کو بجا نہ لائیں اور بظاہر بیٹے کے اسباب عادیہ بھی مفقود ہیں میں بھی بوڑھا اور میری بیوی بھی بوڑھی اور بانجھ سو ان اسباب عادیہ کے مفقود ہونے کے باوجو داپنے پاس سے اور اپنی رحمت خاص سے کوئی بیٹا عطا فرما۔ جو میرے بھی علم کا وارث ہو اور جو علم اولاد یعقوب (علیہ السلام) میں منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے اس کا بھی وارث اور نگہبان ہو اور وہ وارث تیرا پسندیدہ اور مقبول بھی ہو یعنی عالم باعمل ہو ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ بھائی بند راہ نیک نہ بگاڑیں یہ ڈر ہوگا اور فرماتے ہیں اللہ نے ان کو قائم مقام ان کا اور اگلے پیغمبروں کا کردیا لیکن روبرو ہی قائم مقام رہا ان کے پیچھے نہیں رہا۔ 12
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

جو اب دیا گیا اے زکریا ہم تجھ کو ایک ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحی ہوگا اس سے پہلے ہم نے کسی کو اس کا ہم نام نہیں پیدا کیا۔

-7 جواب دیا گیا اے زکریا ہم تجھ کو ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری اور بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے ہم نے کسی کو اس ہمنام نہیں بنایا اور ہمنام نہیں پیدا کیا۔ یعنی دعا قبول ہونے کی بشارت دی گئی اور اس کے پیدا ہونے سے پہلے کوئی اس کا ہمنام یا ہم صفت نہیں کیا یا خاص اوصاف میں وہ یگانہ ہوگا اس سے پہلے کوئی اور ان اوصاف خاصہ سے متصف نہ ہوا ہوگا۔ حضرت یحییٰ کی ولادت سے قبل ان کا نام بھی تجویز کردیا گیا۔
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا اے میرے رب مجھے لڑکا کیوں کر عطا ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کے انتہائی درجہ کو پہونچ چکا ہوں۔

-8 حضرت زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھے لڑکا کیونکر اور کہاں سے عطا ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کے انتہائی درجہ کو پہونچ چکا ہوں اور بڑھاپے کی وجہ سے خشک ہوگیا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں انوکھی چیز مانگتے تعجب نہیں آیا جب سنا کہ ہوگا تب تعجب کیا ۔ 12 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے اس سوال کا مطلب یہ ہے کہ اسی حالت میں ہوگا۔ یا ہم میاں بیوی جوان کردیئے جائیں گے یا مجھے کسی دوسرے نکاح کا حکم ہوگا آخر صورت کیا ہوگی۔
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

جواب دیا اسی طرح ہوگا تیرے رب نے کہا ہے یہ بات یعنی بڑھاپے میں اولاد کا دینا مجھ پر آسان ہے اور میں اس سے قبل خود تجھ کو پیدا کرچکا ہوں حالانکہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔

-9 فرشتے نے جواب دیا اسی طرح ہوگا یعنی موجودہ حالت یوں ہی رہے گی تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ بڑھاپے میں اولاد عطا کرنا مجھ پر سہل اور آسان ہے اور میں اس سے پہلے خود تجھ کو پیدا کرچکا ہوں حالانکہ تو کوئی چیز نہ تھا۔ یعنی جب معدوم کو موجود کرسکتے ہیں تو موجود میں سے کسی کو موجود کردینا ہمارے لئے کیا مشکل ہے کیونکہ ان کی قدرت کے مقابلہ میں اسباب عادیہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ بعض حضرات نے کذالک کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ جس طرح تو کہتا ہے بات تو اسی طرح ہے لیکن تیرا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ کام اسباب عادیہ کے موجود نہ ہونے کے باوجود بھی مجھ پر آسان ہے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ فرشتے نے کہا۔ 12
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا اے میرے رب میرے لئے کوئی علامت مقرر کر دے خدا نے فرمایا تیرے لئے علامت یہ ہے کہ تو تین رات تک لوگوں سے کلام نہ کرسکے گا حالانکہ تو صحیح سالم ہوگا

- 10 زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دیجیے یعنی وقوع حمل کے قرب کی۔ ارشاد ہوا تیرے لئے علامت یہ ہے کہ تو تین رات اور تین دن تک لوگوں سے کلام نہ کرسکے گا۔ حالانکہ تو صحیح سالم اور تندرست ہوگا یہاں تین راتوں کا ذکر اور آل عمران میں تین دن مذکور ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ تین دن اور تین رات یہ حالت رہے گی کہ بجز اشارے کے زبان میں گویائی کی طاقت نہ ہوگی۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر زکریا اپنی عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو اشارے سے سمجھایا کہ تم لوگ حسب معمول صبح و شام عبادت کرتے رہو۔

- 1 1 پھر زکریا (علیہ السلام) اپنی عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو اشارے سے سمجھایا گیا کہ تم لوگ حسب معمول صبح اور شام خدا تعالیٰ کی عبادت اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ یعنی جو طریقہ تمہاری عبادت کا مقرر ہے اس کو صبح و شام بجا لاتے رہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں منہ سے بول نہ سکے نشان ہوا کہ وہ وقت آیا ۔ 12 کہتے ہیں ذکر الٰہی کے لئے زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ سکتے تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت دائود کی چوتھی پشت میں تھے ان کی بیوی کی عمر اٹھانوے اور ان کی ننانوے سال تھی ۔ غرض ! حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سن شعور کو پہنچے تو ان کو ارشاد ہوا۔
Ayah 19:12

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحیٰ اس کتاب توریت کو پوری قوت سے سنبھالے رہنا اور ہم نے اس کو بچپنے ہی میں دین کی سمجھ

- 12 اے یحییٰ (علیہ السلام) اس کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ سنبھال کرلو اور ہم نے اس کو بچپنے ہی میں دین کی سمجھ
Ayah 19:13

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس سے رحم دلی اور پاکیزگی عطا کی تھی اور وہ بہت پرہیز گار

- 13 اور اپنے پاس سے رحم دلی اور پاکیزگی عطا کی تھی اور وہ بہت پرہیز گار۔
Ayah 19:14

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور اپنے ماں باپ کا بڑا خدمت گزار تھا اور وہ سرکشی کرنے والا نافرمانی کرنے والا نہ تھا

- 14 اور اپنے ماں باپ کا بڑا خدمت گزار تھا اور وہ سرکشی کرنے والا اور نافرمانی کرنے والا نہ تھا۔ یعنی دین کا فہم اور رحم دلی اخلاق کی پاکیزگی ، پرہیز گاری والدین کا اطاعت گزارا اور خدمت گزار اور سرکش نہیں، نافرمان نہیں گویا تمام خوبیوں سے اس کو نوازا تھا خواہ وہ حقوق العباد ہوں یا حقوق اللہ ہوں سب باتیں ان اوصاف میں داخل ہوگئیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی علم کتاب لوگوں کو سکھانے لگے اپنے باپ کی جگہ زور سے یعنی باپ ضعیف تھے اور وہ جوان 12 ایک لڑکے نے ان کو بلایا کھیلنے کو کہا ہم کو اس واسطے نہیں بنایا 12 یعنی آرزو کے لڑکے ایسے ہوتے ہیں وہ ایسا نہ تھا۔ 12
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ میرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے ہر حال میں اس پر سلامتی ہے

- 15 اور اس یحییٰ (علیہ السلام) پر سلامتی ہو جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔ یعنی ہر حال میں اس پر سلامتی نازل ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اللہ جو بندے پر سلام کہے اور اس کے معنی یہ کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔ 12 خلاصہ :- یہ کہ دنیا میں آفات سے محفوظ برزخ میں ہر قسم کی سختی سے محفوظ قیامت کے دن کے عذاب سے محفوظ۔
Ayah 19:16

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور اس کتاب میں مریم کا بھی ذکر کیجیے جب کہ وہ مریم اپنی قوم کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر ایک ایسے مکان میں گئی یعنی غسل کے لئے جو جانب مشرق میں واقع بھلا

- 16 اور اے پیغمبر ! اس کتاب یعنی قرآن کریم میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے قصے کا بھی ذکر کیجیے وہ قصہ اس وقت کا ہے جب کہ حضرت مریم (علیہ السلام) اپنے گھر والوں اور اپنی قوم کے لوگوں سے علیحدہ اور یک سو ہو کر ایک ایسے مکان میں گئیں جو مشرق کی جانب تھا۔ یعنی وہ مکان بیت المقدس کی مشرقی جانب تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی غسل حیض کرنے کو یہی پلہا حیض تھا تیرہ برس کی عمر تھی یا پندرہ برس کی کنارے ہوئیں شرم سے وہ مکان مشرق کو تھا اب نصاریٰ قبلہ کرتے ہیں مشرق کو۔ 12
Ayah 19:17

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

اور اس نے ان لوگوں کے سامنے پردہ ڈال لیا یعنی غسل کرنے کی وجہ سے تو ہم نے اس مریم کے پاس اپنے ایک فرشتہ کو بھیجا اور وہ فرشتہ ان کے سامنے ایک صحیح الخلقت آدمی کی شکل بن کر ظاہر ہوا

- 17 پھر اس نے ان لوگوں کے درے اور ان کے بالمقابل ایک پردہ ڈال لیا پس ہم نے اس مریم کے پاس اپنے ایک فرشتے کو بھیجا وہ فرشتہ اس کے سامنے ایک صحیح الخلقت آدمی کو شکل و صورت اختیار کر کے ظاہر ہوا۔ حضرت مریم نے اپنے اہل سے دور نکل جانے کے باوجود پھر پردہ ڈال لیا جب نہانے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ایک نوجوان خوب روکھڑا ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جو ان خوش صورت 12 خلاصہ :- کہ فرشتہ اپنی اصلی حالت میں نہیں آیا کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو وحشت نہ ہو اور وہ ڈر نہ جائیں اس لئے بشر بن کر آئے یہ فرشتہ بقول مفسرین حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔
Ayah 19:18

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

اس کو دیکھ کر مریم نے کہا میں تجھ سے رحمٰ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا سے ڈرنے والا ہے

- 18 حضرت مریم (علیہ السلام) اس بشری صورت کو دیکھ کر کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا سے ڈرنے والا ہے۔ یعنی اگر تو متقی ہے تو مجھے ایذا مت دے اور یہاں سے ہٹ جا اور یہ مطلب بھی بعض نے بیان کیا ہے کہ اگر تو خدا ترس ہے تب بھی تجھ سے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں اور متقی نہیں ہے تو پھر اور بھی تجھ سے پرہیز کرنا ضروری ہے اور تجھ سے خدا کی پناہ کیسے نہ مانگوں۔
Ayah 19:19

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

اس نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں اس لئے بھیجا گیا ہوں تاکہ تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔

- 19 اس بشری صورت نے جواب میں کہا میں تو تیرے پروردگار کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں اور اس لئے آیا ہوں تاکہ تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا دے دوں۔ یعنی میں تو خدا کا فرستادہ ہوں تاکہ تیرے گریبان میں پھونک ماروں اور تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا دے دوں اور تجھ کو حمل رہ جائے اور تیرے ہاں بیٹا ہوجائے۔
Ayah 19:20

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے جواب دیا میرے ہاں لڑکا کیوں کر ہوسکتا ہے حالانکہ مجھ کو کسی آدمی نے چھوا تک نہیں اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔

-20 حضرت مریم (علیہ السلام) نے جواب دیا میرے ہاں لڑکا کیونکر اور کس طرح ہوجائے گا حالانکہ مجھ کو کسی آدمی نے چھوا بھی نہیں اور میں کبھی بدکاری کی مرتکب بھی نہیں ہوئی اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔ یعنی حضرت مریم نے تعجب سے فرمایا کہ لکڑا کس طرح ہوگا لڑکا پیدا ہونے کے دو ہی سبب ہوسکتے ہیں یا میرا نکاح ہوا ہوتا اور مجھ سے کسی مرد نے مباشرت کی ہوتی اور مجھ کو حمل قرار پاتا کس طرح ہوسکتا ہے۔
Ayah 19:21

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

فرشتے نے کہا یوں ہی ہوگا تیرے رب نے فرمایا ہے یہ بات مجھ پر آسان ہے اور اس کو اس لئے پیدا کریں گے تاکہ ہم لوگوں کے لئے اس کو اپنی قدرت کی ایک نشانی بنائیں اور اس کو اپنی رحمت کا ذریعہ بنائیں اور یہ بات ایک طے شدہ امر ہے

-2 1 فرشتہ نے جواب دیا یہ بچہ یوں ہی بلا مس بشر ہوجائے گا تیرا پروردگار فرمایا ہے یہ بغیر باپ کے لڑکا دے دینا مجھ پر آسان ہے اور بلا اسباب عادیہ وہ لڑکا ہم اس لئے دیں گے تاکہ ہم لوگوں کے لئے اس کو اپنی قدرت کا ایک نشان بنائیں اور اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے باعث رحمت بنائیں اور یہ بات یعنی بن باپ کے بچہ کا ہونا ایک طے شدہ بات ہے۔ قدرت خداوندی کا نشان یعنی وہ بچہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہوگا اور رحمتیہ کہ اس کو پیغمبر بنا کر ہدایت کا ذریعہ بنائیں گے امر مقضی فرمایا کہ یہ کام ہو کر ہی رہے گا۔ - 1 اولاد کے ہونے کی چار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ -2 بدون ماں کے پیدا ہو جیسے حضرت حوا -3 ماں باپ دونوں کے اشتراک سے پیدا ہو جیسے عام مخلوق کی پیدائش -4 بغیر باپ کے پیدا ہونا جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نشانی لوگوں کے لئے یعنی بن باپ کا لڑکا پیدا ہوا یہ اللہ کی قدرت ہے۔ 12
Ayah 19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر مریم (علیہ السلام) کو بیٹے کا حمل ہوگیا اور وہ اس حمل کو لئے ہوئے ایک دور جگہ علیحدہ چل گئی۔

-22 پھر مریم (علیہ السلام) کو لڑکے کا حمل ہوگیا اور بیٹے کا پیٹ رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ہوئے لوگوں سے علیحدہ اور یکسو ہو کر ایک دور جگہ چلی گئی ۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی پھونک سے حمل رہ گیا۔ پھر جب آثار وضع حمل ظاہر ہوئے تو وہ شرم کی وجہ سے کسی دور مقام پر چلی گئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جننے کے وقت 12۔ پھر مریم (علیہا السلام) کو حمل رہنے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت بقول عبداللہ بن عباس ؓ ایک گھڑی میں ہوئی، یعنی قیام حمل کے تھوڑیدیر کے بعد وضع حمل ہوگیا۔ بعض حضرات نے فرمایا ایک گھڑی حمل ٹھہرا اور دوسری گھڑی میں صورت بنی اور تیسرے گھنٹے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عام بچوں کی طرح نو ماہ میں پیدا ہوئے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 19:23

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ کی تکلیف اس کو کھجور کے ایک تنے کی طرف لے گئی۔ کہنے لگی کاش میں اس حالت سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور ایسی نیت و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہی ہوتی

-23 پھر حضرت مریم (علیہ السلام) کو دردزہ کی تکلیف کھجور کے ایک تنے کے پاس لے آئی درخت کے سہارے بیٹھ کر کہنے لگی اے کاش ! میں اس واقعہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور ایسی نیست و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہی ہوتی۔ یعنی جنگل میں دردزہ کی تکلیف پھر کوئی ہمدم پاس نہیں۔ ضرورت اور راحت کا سامان مفقود بدنامی اور بری شہرت کا خیال ان باتوں سے گھبرا کر ایک کھجور کے سوکھے ہوئے درخت سے کمر لگا کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی میں اس حالت سے پہلے مرجاتی اور بھولی بسری ہوجاتی۔ یعنی دنیا میں کوئی میرا نام لینے والا ہی نہ ہوتا اور میں بالکل نیست و نابود ہوچکی ہوتی۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت جبرئیل (علیہ السلام) نے مریم (علیہ السلام) کو ایک ایسے مکان سے جو نشیب میں واقع تھا پکار کر کہا اے مریم غمگین نہ ہو تیرے نیچے تیرے رب نے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

-24 اس وقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی حضرت مریم (علیہ السلام) جس ٹیلے پر بیٹھی تھیں اس کے نیچے سے پکار کر کہا اے مریم غمگین نہ ہو تیرے پائیں اور اس ٹیلے کے نشیبی حصہ میں تیرے پروردگار نے ایک چشمہ اور نہر کو جاری کردیا۔ یعنی حضرت مریم زمین کے ایک بالائی حصہ میں بٹھی تھیں فرشتہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ نشیب اور زیرین حصہ سے پکار کر کہا کہ غمگین نہ ہو غمگین اور پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں آپ کے نشیبی اور پائیں حصہ میں آپ کے پروردگار نے نہر جاری کردی ہے۔ یعنی ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے یہ پانی پینے اور نہانے کے کام آئے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ آواز دی فرشتہ نے اور زمین میں ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ 12
Ayah 19:25

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا اس ہلانے سے تجھ پر ترو تازہ کھجوریں جھڑیں گی۔

-25 اور اے مریم (علیہ السلام) اس سوکھی ہوئی کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا اور اس کو حرکت دے۔ اس حرکت دینے اور بلانے سیتجھ پر ترو تازہ اور پکی کھجوریں جھڑیں گی۔
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھجور کھا اور چشمے کا پانی پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ پھر اگر آدمیوں میں سے تو کسی کو دیکھے تو اشارہ سے کہہ دیجیو کہ میں نے رحمٰن کے لئے روزہ کی منت مان رکھی ہے لہٰذا میں آج کسی انسان سے کلام نہیں کروں گی۔

-26 اے مریم (علیہ السلام) ! تو یہ کھجوریں کھا اور اس چشمہ کا پانی پیتی رہ اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ پھر اگر تم آدمیوں سے کسی آدمی کو دیکھو تو اشارے سے کہہ دنیا کہ میں نے تو آج رحمٰن کے لئے خاموشی کے روزے کی منت مان لی ہے لہٰذا میں آج کسی انسان سے کلام نہیں کرں گی اور کوئی بات کسی سے نہیں کروں گی۔ یعنی کھانے پینے کا بھی انتظام کردیا گیا۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر بدنامی کا یہ علاج بتایا کہ کوئی آدمی آئے یا کوئی اعتراض کرے تو تم جواب نہ دینا تم تو صرف اتنا اشارہ کردینا کہ میں نے خاموشی کے روزے کی نذر کر رکھی ہے میں تو کسی آدمی سے بولوں گی نہیں اس قسم کا روزہ ان کی شریعت میں رکھنا جائز تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان کے دین میں یہ منت درست تھی کہ نہ بولنے کا بھی روزہ رکھتے ہمایر دین میں یہ منت درست نہیں۔ 12
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر مریم (علیہ السلام) اس لڑکے کو گود میں لئے ہوئے اپنی قوم کے پاس لائی لوگوں نے کہا اے مریم (علیہ السلام) یہ تو تو نے بہت ہی برا کام کیا ۔

-27 پھر حضرت مریم (علیہ السلام) اس مولود مسعود کو گود میں اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لائیں تو قوم کے لوگوں نے کہا اے مریم یہ تو تو نے بہت ہی برا کام کیا۔ یعنی شادی ہوئی نہیں اور بچہ ہوگیا یہ تو بڑے طوفان اور غضب کی بات ہوئی۔
Ayah 19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون (علیہ السلام) کی بہن نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی یعنی نیکوں کی اولاد ہو کر یہ حرکت

-28 اے ہارون (علیہ السلام) کی بہن نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔ یعنی ہارون (علیہ السلام) جو تیرے رشتہ کے بھائی ہیں اور ان کا نام حضرت ہارون (علیہ السلام) نبی کے نام پر رکھا گیا تھا تو ایسے بھلے آدمی کی بہن ہے پھر تیرا باپ بھی برا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بھی بدکار نہ تھی ایسے نیک اور بھلے آدمیوں کی اولاد ہو کر تیری یہ حرکت بہت ہی قابل افسوس ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بہن ہارون کی یعنی نبی ہارون کی بہن دادے کا نام بولتے ہیں قوم کو جیسے عاد اور ثمود یہ تھیں حضرت ہارون کی اولاد میں۔ 12 غرض ! یا تو ہارون (علیہ السلام) ان کے کسی بھائی کا نام تھا یا حضرت ہارون (علیہ السلام) کے خاندان سے ہوں ی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نبی ان کے مورث اعلیٰ ہوں گے۔ بہرحال ! حضرت مریم علی السلام نے اس تمام طعن وتشنیع کے بعد کوئی جواب نہیں دیا بلکہ بچہ کی طرف اشارہ کیا کہ ان سب باتوں کا جواب یہ دے گا کیونکہ میں تو روزے سے ہوں۔
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

اس پر مریم (علیہ السلام) نے بچہ کی طرف اشارہ کردیا وہ لوگ کہنے لگے بھلا ہم اس سے کس طرح بات کرسکتے ہیں جو ابھی گود کا بچہ ہے۔

-29 اس پر حضرت مریم نے اس مولود مسعود کی جانب اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو یہ جواب دیگا قوم کے لوگ کہنے لگے بھلا ہم اس بچے سے کس طرح کلام کرسکتے ہیں جو ابھی گود کا بچہ ہے اور ماں کی گود اس کا گہوارہ ہے۔ یعنی ایسے بچہ سے بات کرنے کو کہہ رہی ہے جو شیر خوار بچہ ہے اور ماں کی گود میں ہے۔ 12
Ayah 19:30

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

اتنے میں وہ گود کا لڑکا بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھ کو کتاب دی ہے اور اس نے مجھ کو نبی بنایا ہے

-30 اتنی دیر میں اس لڑکے نے ماں کا دودھ چھوڑا اور بولنا شروع کردیا اور کہنے لگا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھ کو کتاب عطا کی ہے اور اسی نے مجھ کو نبی بنایا ہے۔ پہلی بات میں اپنے بندے ہونے کا اعتراف کیا پھر کتاب ملنے کی خبر دی اور پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا اور بالکل یقین کی بنا پر مستقبل کی خبر ماضی کے صیغوں کے ساتھ دی۔
Ayah 19:31

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھ کو خدا نے با برکت کیا اور جب تک میں زندہ رہوں اس نے مجھ کو نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

-3 1 اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھ کو اسی اللہ تعالیٰ نے برکت والا بنایا ہے اور اسی نے مجھ کو جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی برکت والا یہ برکت تبلیغ کی ہوگی کہ میں جس حالت میں بھی ہوں اس کے دین کی تبلیغ کرتا رہوں گا یا عام برکت مراد ہوگی جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خاصہ ہے اور نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا جب تک میں مکلف زندگی یعنی دنیوی زندگی کے ساتھ مقید ہوں اور اگر کوئی اور صورت پیش آجائے اور یہ دنیوی زندگی کسی اور زندگی میں تبدیل ہوجائے اس کے احکام دوسرے ہوں گے اور وہاں کی نماز اور زکوۃ کسی اور طرح کی ہوگی۔
Ayah 19:32

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور اپنی ماں کا مجھ کو اس نے خدمت گزار بنایا اور اس نے مجھ کو سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔

-32 اور اس نے مجھ کو میری ماں کا خدمت گزار بنایا اور اس نے مجھ کو سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ ماں کا خدمت گزار بنایا باپ کا نام نہیں لیا اس لئے کہ ان کا کوئی باپ نہ تھا وہ محض کلمہ کن کا ظہور تھے نہ بدبخت کیا نہ سرکش حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تحمل اور ان کی نرمی ضرب المثل ہے اور ا ن کی طاقت برداشت سے ہر شخص واقف ہے۔
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر خدا کی جانب سے سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائوں گا۔

-33 اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس روز میں مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں گا۔ یعنی مجھ کو سلامتی کا پیغام دیا گیا ہے خواہ وہ پیدا ہونے کا دن ہو یا قیامت کے قریب مرنے کا دن ہو یا قیامت کو منے کے بعد جی اٹھنے کا دن ہو ۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ جس کا ذکر ہوا یہی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہے میں اس کی صحیح حقیقت بیان کر رہا ہوں جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔

-34 جس کا ذکر ہوا یہی تو عیسیٰ بن مریم ہے میں سچی بات کہہ رہا ہوں اور میں اس کی صحیح حقیقت بیان کر رہا ہوں جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں۔ یعنی افراط کرنے والے جیسے نصاریٰ اور تفریط کرنیوالے جیسے یہود، نصاریٰ ایک بندئہ خدا کو خدا کا شریک بناتے ہیں اور یہود اس کی تنقیص کرتے ہیں اور اس کو نبوت کے درجے سے گراتے ہیں۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ شایان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ تمام عیوب سے پاک ہے جب وہ کسی کام کے سر انجام کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے

-35 اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے اور کسی کو بیٹا بنائے وہ جملہ عیوب سے پاک اور بالکل منزہ ہے جب وہ کسی کام کے سر انجام کا ارادہ کرتا ہے اور جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھہرا لیتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے۔ یعنی صرف ارادہ کا تعلق شئی کے وجود کو مستلزم ہے۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

-36 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے لہٰذا اسی کی بندگی اور عبادت کیا کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ یعنی توحید اور دین کا سیدھا راستہ ہے۔ یہ رسول کو فرمایا کہ منکرین حق سے یہ بات کہو عبادت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی کرو اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر اہل کتاب کے فرقوں نے آپس میں اختلاف کیا سو جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان کے لئے ایک بڑے دن کے پیش آنے سے سخت تباہی ہے۔ جس دن یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے

-37 پھر اہل کتاب کے فرقوں نے آپ س میں اختلاف ڈال لیا پس جو لوگ کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے لئے ایک بڑے دن کے آنے سے سخت تباہی اور خرابی ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب کے فرقوں نے آپ س میں اختلاف کیا کوئی ان کو خدا کا بیٹا کہنے لگا کوئی اقانیم ثلاثہ کا قائل ہو۔ کسی نے ان کی نبوت کا انکار کیا اور ان کو ملعون و مردود قرار دیا۔ یوم عظیم قیامت کے دن کو فرمایا کیونکہ اس کی ہولناکی اور اس کی سختی کے باعث وہ دن بڑا ہوگا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت عام ہو اور یہ مطلب ہو کہ خدا کی عبادت میں لوگوں نے اختلاف ڈال لیا اور کفر و شرک کے مرتکب ہوگئے تو ایسے سب لوگوں کے لئے قیامت کے دن میں بڑی خرابی اور تباہی ہوگی۔
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اس دن یہ کیا ہی سننے والے اور کیا ہی دیکھنے والے ہوں گے لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں بڑے ہوئے ہیں

-38 جس دن یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے یعنی سزا اور حساب و کتاب کی غرض سے اس دن کیسے دیکھنے والے اور کیسے کچھ سننے والے ہوں گے لیکن آج یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے کیونکہ وہ سب باتیں جو پیغمبر فرماتے تھے سامنے آجائیں گی مگر آج بدبخت ظالم صریح گمراہی میں مبتلا ہیں نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو پشیمانی کے دن سے ڈرا دیجیے جب کام کا آخری فیصلہ کردیا جائیگا اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ غفلت میں مبتلا ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

-39 اور اے پیغمبر آپ ان کو حسرت و پشیمانی کے دن سے ڈرا دیجیے جب کام کا آخری فیصلہ ہوجائے گا اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ غفلت میں مبتلا ہیں اور یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی جس دن ہر ایک کا آخری فیصلہ ہوجائے گا اس دن دوزخیوں کو انتہائی حسرت و ندامت ہوگی اور جبکہ موت کے آنے کی بھی توقع نہ رہے اسی لئے اس دن کو یوم حسرت فرمایا۔ غرض ! اس حسرت و یاس کے دن یعنی قیامت سے ڈرائیے جبکہ اہل جہنم کا آخری فیصلہ کردیا جائے۔ یہ اس وقت غفلت میں اور بیخبر ی میں مبتلا ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

یقینا تمام زمین کے اور زمین کے اوپر بسنے والوں کے ہم ہی وارث ہوں گے اور یہ سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔

-40 اور بلاشبہ تمام زمین اور زمین کے اوپر رہنے والوں کے ہم ہی وارث اور مالک ہیں اور سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ یعنی آج ایمان نہیں لاتے لیکن ایک دن یہ سب مریں گے اور وہی باقی رہ جائے گا اس لئے تمام زمین کا وارث اور مالک وہی ہے اور سب کا مرجع اور بازگشت اسی کی طرف ہے نہ کسی کا ملک رہے گا نہ کسی کی ملک باقی رہے گی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب تک حشر کا دن ہے دوزخ سے مسلمان نکل نکل کر بہشت میں جاویں گے تب تک کافر بھی توقع میں ہوں گے پھر موت کو مینڈھے کی صورت لا کر دوزخ بہشت کے بیچ سب کو دکھا کر ذبح کریں گے اور پکاریں گے کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہ پڑے ہمیشہ کو وہ دن ہے کہ کافر ناامید ہوں گے۔ 12