18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور سا کتاب میں ذرا سی بھی کوئی کجی نہیں رکھی۔

- 1 سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں جس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل فرمائی اور اس کتاب میں ذرا سی بھی کوئی کجی نہیں رکھی اور اس کو کسی طرح کی کجی سے موصوف نہیں بنایا۔
Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بالکل سیدھی اور ٹھیک اتاری تاکہ وہ ایک سخت عذاب سے جو خدا کی طرف سے ہوگا لوگوں کو ڈرائے اور ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے رہیں ہیں اس بات کی بشارت دے کہ ان کو اچھا صلہ اور اجر ملے گا۔

-2 بالکل سیدھی اور ٹھیک اتاری اس لئے نازل کی اور اتاری تاکہ وہ ایک سخت عذاب سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا لوگوں کو ڈرائے اور ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری اور بشارت دے کہ ان کو اچھا اجر ملے گا۔
Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

-3 جس میں وہ ایمان والے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور تاکہ ان کو بھی ڈرائے جو یوں کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے

-4 اور تاکہ یہ کتاب یہ کتاب ان کو بھی ڈرائے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اس بات کی کوئی دلیل نہ تو ان کے پاس ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ سراسر جھوٹ ہے۔

-5 حالانکہ اس لغو دعوے کی کوئی دلیل نہ تو ان کے پاس ہے اور نہ ان کے بڑوں اور ان کے باپ دادوں کے پاس کوئی دلیل تھی جو ان کے منہوں سے نکلتی ہے بڑی بھاری بات ہے جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ سراسر کذب اور جھوٹ ہے۔ یعنی اپنے خاص اور مقرب بندے پر اس کتاب کو نازل فرمایا اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں نہ لفظاً نہ معنی عبارت نہایت سلیس اور شستہ معنی میں کوئی تناقص نہیں قیم سیدھی افراط تفریط سے پاک یا دیگر کتب سماویہ کی صحت و تصدیق کرنے والی اور ان کی تعلیمات کو دنیا میں قائم رکھنے والی یا بندوں کی ضروریات اور ان کی مصالح کی کفالت کرنے والی اور ان کی دنیا اور دین کو سنوارنے والی وغیرہ۔ ہم نے سیدھی اور ٹھیک کے ساتھ ترجمہ کیا ہے، سخت عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے کہ یہ کتاب اس سے ڈراتی اور خوف دلاتی ہے اور ایمان والوں کو آخرت کے اجر وثواب اور بیکراں انعامات کی خوشی سناتی ہے جن انعامات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ابدی راحت سے مستفید ہوں گے اور علاوہ دیگر منکرین کے ان لوگوں کو بھی یہ کتاب ڈرائے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں جیسے یہود و نصاریٰ اور عرب کے بعض مشرک یہ اولاد تجویز کرنا ایک ایسا نامعقول دعویٰ ہے جس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ ان کے بڑے بھی دلیل سے خالیا ور تہیدست تھے اور یہ اولاد کی بات جو ان کے منہوئوں سے نکلتی ہے بہت ہی بھاری اور خطرناک بات ہے اور چونکہ یہ عقلاً اور نقلاً ہر اعتبار سے غلط ہے اس لئے یہ کہنا ان کا سراسر کذب ہے اور یہ جو کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ ہے۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

سوائے پیغمبر اگر یہ لوگ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے تو کہیں آپ ان کے پیچھے غم کھاتے کھاتے اپنی جان کھو بیٹھیں گے۔

-6 سو اے پیغمبر شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے تو غم کھاتے کھاتے اپنی جان دے دیں گے۔ اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ اس قدر غم نہ کیجیے اور کڑھئے نہیں کہ آپ کی زندگی خطرے میں پڑجائے یہ عالم دار الابتلا ہے یہاں اقرار اور انکار سب ہی چلتا ہے آپ کا کام تبلیغ کرنا ار ان تک صحیح چیز کا پنچا دینا ہے۔ باقی یہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے اس کی فکر آپ کو نہ ہونی چاہئے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے ساتھ بہت شغف اور بےانتہا محبت تھی اس لئے آپ کو لوگوں کے ایمان نہ لانے پر بہت رنج ہوتا تھا اور آپ بےچین رہا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سمجھایا کہ تم افسوس کرتے کرتے کہیں اپنی جان کھودو گے اتنا غم نہ کھائو ایمان پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سمجھایا کہ تم افسوس کرتے کرتے کہیں اپنی جان کھودو گے اتنا غم نہ کھائو ایمان ہماری مشیت پر موقوف ہے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو کچھ زمین پر ہے ہم نے ان تمام چیزوں کو زمین کے لئے موجب زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے ازروئے عمل کے کون اچھا ہے

-7 جو کچھ زمین پر ہے یقینا ہم نے اس سب کو زمین کے لئے موجب زینت اور موجب رونق بنایا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں با اعتبار عمل کے کون زیادہ اچھا ہے۔ یعنی دیکھنا ہے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے کون یہاں کی رونق میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے اور کون اس کو مانتا اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس کی رونق پر دوڑتا ہے یا اس کو چھوڑ کر آخرت کو پکڑتا ہے 12 غرض یہ دارالابتلا ہے کوئی کفر پر اڑتا ہے اور کوئی اسلام کو قبول کرتا ہے یہ دونوں ہی باتیں ہوتی ہیں اس لئے ان پر غم کھانا بیکار ہے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور یقینا ہم زمین پر کی تمام چیزوں کو ایک چٹیل میدان کرنے والے ہیں۔

-8 اور یقینا ہم زمین کے اوپر کی تمام چیزوں کو ایک صاف اور چٹیل میدان کرنے والے ہیں۔ یعنی ایک دن ایسا ہوگا کہ جو کچھ زمین پر ہے خواہ وہ پہاڑوں یا اشجار ہوں یا عمارات اور محلات ہوں سب کو صاف کر کے زمین کو ایک میدان کردیا جائے گا۔ قاعاً صفصفا لاتری فیھا عوجا ولا امتاً ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گھاس اور درخت چھانٹ کر۔ 12
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ غار اور کھوہ والے ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے کچھ تعجب کی چیز تھے۔

-9 آگے اصحاب کہف کے قصہ کی تمہید ہے یہود کے مشورے سے کافر عرب نے حضور ﷺ سیت ین سوال کئے تیھ ایک روح کی حققیت دوسرے اصحاب کہف کا حال تیسرے ذوالقرنین چناچہ روح کا جواب گزر چکا۔ ذوالقرنین کا حال سورت کے آخر میں آئے گا اور اصحاب کہف کا بیان یہاں ہوتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور کھو والے ہماری قدرت کے نشانات میں سے کچھ تعجب اور اچنبھے کی چیز تھے۔ شاید یہود نے کہا تھا کہ اصحاب کہف کا حال عجیب و غریب ہے اس لئے فرمایا ہو کہ اصحاب کہف کے واقعہ سے زیادہ تو تم روزمرہ اس کے نشانات دیکھتے ہو ان کے مقابلے میں تو کہف والوں کا حال کچھ زیادہ تعجب انگیز نہیں ہے۔ آسمان و زمین میں جو قدرت کارفرما ہے اور قوموں کے عروج وزوال اور حق و باطل کے نشیب و فراز جو تمہاری نگاہوں سے گزرتے رہتے ہیں وہ بہت عجیب و غرب ہیں۔ اصحاب کہف اور اصحاب الرقیم اکثر مفسرین کے نزدیک ایک ہی ہیں ابن کثیر نے کہا رقیم یا توایلہ کے پاس کی دادی کا نام ہے یا اس عمارت کا نام ہے جو اس جگہ تعمیر کی گئی تھی یا پہاڑ کا نام ہے یا کسی اور آبادی کا نام۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ رقیم کو میں نہیں جانتا کہ رقیم کتاب کا نام ہے یا اس بنا کا جو وہاں تعمیر کی گئی۔ بعض نے کہا رقیم بمعنی مرقوم ہے چونکہ ایک تختی پر ان لوگوں کے حالات لکھ کر شاہی خزانے میں رکھ دیئے تھے اس لئے ان کو اصحاب رقیم کہتے ہیں۔ بعض نے اصحاب رقیم ان تین شخصوں کو کہا جن کے غار میں چھپنے اور غار کے منہ پر پتھر گر جانے کا واقعہ بخاری میں آتا ہے۔ (واللہ اعلم) رومی بادشاہوں میں سے کوئی بادشاہ بت پرست ہوگیا تھا ہوسکتا ہے کہ اس کا نام دقیانوس ہو، بہرحال وہ لوگوں کو زبردستی بتوں کی پرستش پر مجبور کرتا تھا۔ یہ چند نوجوان جو اعیان سلطنت میں سے تھے اپنے ایمان کو بچانے اور دقیانوس کے ظلم سے بچنے کے لئے پہاڑ کے کسی غار اور کھوہ میں جا چھپے تھے جن کی تفصیل انشاء اللہ آگے آئے گی ان کا کتا بھی ان کے ساتھ تھا جس کا نام ابن کثیر نے حمران بتایا ہے۔
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

وہ وقت قابل ذکر ہے جب ان نوجوانوں نے پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی اور اپنے رب سے یوں کہا اے ہمارے رب تو اپنے پاس سے ہم کو رحمت عطا کر اور ہمارے لئے ہمارے کام میں صحیح رہنمائی کا سامان مہیا کر دے۔

- 10 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ان چند نوجوانوں نے ایک ظالم اور کافر بادشاہ سے بچنے کے لئے پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی اور اپنے پروردگار سے یوں کی۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا کر اور ہمارے لئے ہمارے کام میں صحیح رہنمائی کا سامان مہیا کر دے۔ ابن کثیر نے کہا یہ دعا اس طرح کی تھی جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اے خدا جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے اسے انجام کے لحاظ سے بہتر کر۔ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ اللھم احسن عاقبتنا فی الامور لکلھا واجر نامن خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ۔ یا اللہ ! ہمارے تمام کاموں کا انجام بہتر کر اور ہم کو دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ چناچہ ابتداء ایک شخص ان میں سے بھیس بدل کر شہر جایا کرے اور ضرورت کا کچھ سامان بھی لے آیا کرے اور خبر بھی معلوم کیا کرے۔ چناچہ اس شخص نے ایک دن آ کر کہا شہر میں ہماری تلاش ہو رہی ہے اور ہمارے رشتہ داروں کو تنگ کیا جا رہا ہے کہ بتائو وہ پوری جماعت کہاں ہے۔ جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کردی اور یہ سب کے سب سو گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

پھر ہم نے اس پہاڑ کو کھوہ میں ان کے کانوں پر کتنے ہی برسوں کے لئے نیند کا پردہ ڈال دیا۔

- 1 1 پھر ہم نے اس پہاڑ کی کھوہ میں ان نوجوانوں کے کانوں پر سالہا سال کے لئے پردہ ڈال دیا۔ یعنی ان کو گہری نیند سلا دیا۔
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اٹھا دیا تاکہ ہم اس بات کو معلوم کریں کہ غار میں رہنے کی مدت ہر دو فریق میں سے کس نے زیادہ یاد رکھی۔

- 12 پھر ہم نے ایک مدت دراز کے بعد ان کو نیند سے جگا دیا تاکہ ہم اس بات کو معلوم کریں کہ غار میں ٹھیرے رہنے کی مدت ہر دو فریق میں سے کس نے زیادہ یاد رکھی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دو فرقے تاریخ لکھنے والوں میں کہ کوئی کتے برس لکھتے ہیں کوئی کتے یا وہی اصحاب کہف جاگ کر تجویز کرنے لگے کہ ہم ایک دن سوئے بعضے کہنے لگے اس سے کم 12 بہرحال برس ہا برس کے بعد جب اٹھے اور شہر میں آئے تو باہم اختلاف ہونا قدرتی امر تھا ان میں آپس میں بھی اختلاف ہو اور دیکھنے والوں میں تاریخیں دیکھی جانے لگیں ہم معلوم کرلیں کہ ایک طویل مدت کے بعد اٹھنا قیامت کے یقین اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر لوگ ایمان لاتے ہیں یا نہیں آگے آجائے گا کہ ایک فرق کہتا تھا لبنا یوماً اور بعض یوم اور ایک فریق کہتا تھا ربکم اعلم بما لبثتم۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان اصحاب کہف کا واقعہ آپ کو صحیح صحیح سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ازروئے ہدایت ان کو اور بڑھا دیا

- 13 ہم ان اصحاب کہف کی خبر اور ان کا واقعہ آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کرتے اور سناتے ہیں چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت کے اعتبار سے اور زیادہ کردیا۔ یعنی یہ نوجوان خاندانی تھے ان کو بت پرستی سے نفرت تھی اور یہ دین عیسوی یا دین موسوی کی شریعت پر ایمان لے آئے تھے۔ ابن کثیر کی رائے یہ ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کا واقعہ یہ نوجوان اپنے بزرگوں کے ساتھ بت پرستوں کا کوئی میلہ دیکھنے گئے تھے وہاں ان کو بت پرستی سے نفرت ہوئی اور یہ موحد ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ایمان سے زیادہ درجہ دیا اولیاء کیا۔ 12
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے قلوب کو اس وقت استوار و مضبوط کردیا جس وقت وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے اور اگر ہم ایس بات کہیں گے تو یقینا ہم بہت ہی بےجا بات کہیں گے۔

- 14 اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت استوار اور مضبوط و مستحکم کردیا جس وقت وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے اور اگر ہم نے ایسا کیا تو یقینا ہم بڑی بےجا اور عقل سے دور بات کہیں گے۔ ربط قلب، ثبات و صبر کا ایک مرتبہ ہے جس سے دل جم جاتا ہے اور مضبوط ہوجاتا ہے جب وہ کھڑے ہوئے یعنی دقیانوس کے سامنے یا لوگوں کے سامنے گفتگو کرنے کھڑے ہوئے تو انہوں نے بیدھڑک ہو کر کہہ دیا کہ ہمارا معبود تو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اگر ہم اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کا اقرار کریں گے تو عقل سے بہت دور کی بات کہیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک شہر کا بادشاہ تھا ظالم جو اس کے بتوں کو نہ پوجتا تھا اس کو عذاب سے مارتا یا بت پجاتا یہ کئی جوان اس کے نوکروں کے بیٹے تھے کوئی نان بائی کا کوئی باورچی کا اسی طرح کسی نے ان کی چغلی کی۔ اس نے روبرو ہلا کر پوچھا اس وقت حق تعالیٰ نے ان کے دل پر گرہ دی یعنی ثابت رکھا کہ اپنی بات صاف کہہ دی اس وقت بادشاہ نے موقوف رکھا اور شہر سے پھر کر آئوں تو ان سے بت پوجنا قبول کروائوں یا عذاب وہ گیا اور شہر کو یہ چھپ کے نکل گئے۔ 12
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ جو ہماری قوم کے لوگ ہیں انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود قرار دے رکھے ہیں۔ یہ لوگ ان غیر اللہ کے معبود ہنے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے

- 15 یہ جو ہماری قوم کے لوگ ہیں انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان غیر اللہ کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے تو بھلا ایسے شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے جھوٹ افترا یہی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی کو معبود بتائیں اگر یہ ہماری قوم کے لوگ مدعی ہیں تو کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے جس طرح موحدین اور قائل توحید لوگ پیش کرتے ہیں اور بےدلیل ہونے کے باوجود غیر کی عبادت کا اقرار اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات پر محض افتراء ہے۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم اپنی قوم سے اور قوم کے ان معبودوں سے جن کو وہ خدا کے سواپوجتی ہے کنارہ کش ہوگئے تو اب تم پہاڑ کی کھوہ میں چل بیٹھ جہاں تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے اس کام میں تمہارے لئے سہولت کا سامان مہیا کر دے گا

- 16 اور اس جواب کے بعد ان نوجوانوں نے آپس میں کہا کہ جب تم ان لوگوں سے عقیدے اور دین میں جدا ہی ہوگئے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے ان کے تمام معبودوں سے بھی الگ ہوگئے اور کنارہ کشی اختیار کرچکے تو اب تم پہاڑ کے کسی غار میں چل بیٹھو جہاں تم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے اس کام میں تمہارے لئے آرام و سہولت مہیا کر دے گا۔ یعنی جب تم اپنی قوم کی بد عقیدگی اور ان کے جھوٹے معبودوں سے کنارہ کش ہی ہوگئے تو اب تم اپنی فکر کرو اور کسی پہاڑ کی کھوہ میں چل بیٹھو وہاں تم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت اور مہربانی پھیلائے گا اور تمہارے کام میں بھی سہولت و آسانی مہیا فرما دے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرماتے ہیں اس شہر سے نکل کر پاس ایک پہاڑ میں کھوہ تھی آپس میں مشورت کر کر وہاں جا بیٹھے ، نیند غالب ہوئی سو گئے کسی کو معلوم نہ ہوا اب تک سوتے ہیں بیچ میں ایک بار اللہ تعالیٰ نے جگایا تھا جس سے لوگوں پر خبر کھلی پھر سو رہے۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو دیکھے گا کہ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو دھوپ ان کی کھوہ سے دائیں جانب بچ کر جاتی ہے اور جب آفتاب غروب ہوتا ہے تو دھوپ ان سے بائیں جانب کترا جاتی ہے اور ان اصحاب کہف کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کھوہ کے کشادہ میدان میں ہیں یہ بات کہ باوجود میدان میں ہونے کے دھوپ سے محفوظ ہیں خدا کی قدرتوں میں سے ایک قدرت ہے جن کو اللہ تعالیٰ راہ دکھائے وہی ہے راہ یافتہ اور جس کو وہ بےراہ رکھے تو آپ کا کوئی ایسا مددگار نہ پائیں گے جو اس کی رہنمائی کرسکے

- 17 اور اے مخاطب جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو تو دیکھے گا کہ دھوپ ان کے غار سے دائیں جانب کو بچتی رہتی ہے اور جب آفتاب غروب ہوتا ہے تو دھوپ ان سے بائیں جانب کترا جاتی ہے اور ان اصحاب کہف کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کھوہ کے کشادہ اور فراخ میدان میں ہیں یہ بات باوجود میدان میں ہونے یک وہ آفتاب کی تمازت اور دھوپ کی گرمی سے محفوظ ہیں اللہ تعالیٰ کے نشان ہائے قدرت میں سے ایک نشانی ہے جس کی رہنمائی اللہ تعالیٰ فرمائے اور جس کو ہدایت دے وہی ہے راہ یافتہ اور جس کو وہ بےراہ رکھے اور جس سے وہ دست کش ہوجائے تو آپ اس کا کوئی ایسا مددگار نہ پائیں گے جو اس کی رہنمائی کرسکے۔ یعنی اس کھوہ کا جائے وقوع کچھ ایسا واقع ہوا ہے اور شمال رویہ یا جنوب رویہ کچھ اس طور سے وہ کھوہ واقع ہوئی ہے کہ غروب آفتاب اور طلوع آفتاب کے وقت دھوپ ان اصحاب کہف سے بچ کر نکل جاتی ہے اور ان کو تکلیف نہیں ہوتی وہ ایک کشادہ میدان میں ہیں یعنی پہاڑ کے اندر کھوہ میں بعض حصے تنگ اور بعض کشاد ہ ہوتے ہیں تو وہ اصحاب کہف ایک ایسے حصے میں ہیں جو فراخ اور کشادہ ہے جہاں روشنی بھی ہے اور ہوا بھی یہ باوجود کم زوری اور ضعف کے ان کو ایسی جگہ کامل جانا اور دشمنوں سے ان کو محفوظ رکھنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں سے ایک قدرت اور نشان ہے، اللہ تعالیٰ جس کی رہنمائی اور سرپرستی فرمائے تو اس پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جس سے پردہ ہاتھ اٹھا لے اور بےراہ چھوڑ دے اس کا کوئی مددگار اور رہنما نہیں ہوسکتا اور نہ تم کو اس کا کوئی سرپرست اور مرشد مل سکتا ہے۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو انہیں دیکھ کر یہ سمجھتا کہ وہ جاگتے ہیں حالاں کہ وہ سوتے تھے اور ہم ان کو دائیں اور بائیں جانٹ کروٹ بدل دانے تھے اور ان کا کتا گھر کی چوکھٹ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا تھا اگر تو ان اصحاب کہف کو جھانک کر دیکھتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا اور ان کی دہشت تجھ میں بھر جاتی

- 18 اور اے مخاطب تو ان کو اگر دیکھتا تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرتا اور سمجھتا کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم ان کو دائیں جانب اور کھبی بائیں جانب کروٹ بدل داتے رہتے ہیں اور ان کا کتا چوکھٹ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا تھا اگر اے مخاطبتو ان کو دیکھتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا اور ان کی دہشت اور رعب تجھ میں بھر جاتی اور سما جاتی ہے۔ یعنی دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا کہ جاگ رہے ہیں اور وہ سوتے ہیں سونے کی علامت ان پر نمایاں نہ تھی ان کو رعب دیا تاکہ لوگ ان کو بےآرام نہ کریں۔ کتا ان کا چونکہ ان کے ساتھ چلا گیا تھا اس لئے وہ کھوہ کے دروازے پر اپنی عادت کے موافق پائوں پھیلائے ہوئے بیٹھا ہوا ہے یہ تمام سامان حضرت حق کی طرف سے ان کی حفاظت کے گئے تھے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہتے ہیں سونے میں ان کی آنکھیں کھلی ہیں اس سے کوئی جانے جاگتے ہیں اور حق تعالیٰ نے اس مکان میں دہشت رکھی ہے تاکہ لوگ تماشا نہ پکڑیں کہ وے بےآرام ہوں ان کے ساتھ ایک کتا بھی لگ گیا تھا وہ بھی زندہ رہ گیا اگرچہ کتا رکھنا برا ہے لیکن لاکھ میں ایک بھلا بھی ہے۔ 12 ہوسکتا ہے کہ جس شریعت پر وہ ایمان لائے تھے اس شریعت میں کتا رکھنے کی ممانعت نہ ہو۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور جس طرح ہم نے ان کو سلایا اسی طرح ہم نے ان کو اٹھا دیا تاکہ وہ آپ س میں ایک دور سے سے پوچھ گچھ کریں چناچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم کتنی مدت رہے ایک فرق نے جواب دیا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہوں گے دوسرے فریق نے کہا یہ تو تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنی مدت رہے اب تم اپنے میں سے ایک شخص کو یہ روپیہ دیکر شہر کو بھیجو پھر وہ جا کر دیکھتے کہ کون سا کھانا عمدہ یعنی حلال و پاکیزہ ہے سو اس پاکیزہ کھانے میں سے ہمارے پاس کچھ کھانا لے آئے اور یہ کام نرمی اور ہوشیاری سے کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

کیونکہ اگر تمہاری قوم کے لوگ تمہاری خبر پاجائیں گے تو یا تو تم کو سنگسار کردیں گے یا تم کو اپنے دین میں لوٹالیں گے اور اگر ایسا ہوا تو تم کو کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی۔

- 19 اور جس طرح ہم نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے سلایا اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا اور اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں چناچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم اس حالت میں یعنی نیند میں یا کھوہ میں کتنی مدت رہے ایک فریق نے جواب دیا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہوں گے دوسرے فریق نے کہا یہ تو تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنے عرصے اور کتنی مدت رہے۔ اب تم اپنے میں سے کسی شخص کو یہ روپیہ دے کر بھیجو وہ جا کر دیکھے کہ کون سا کھانا عمدہ اور حلال و پاکیزہ ہے سوا س حلال کھانے میں سے ہمارے پاس کچھ کھانا لے آئے اور یہ کام خوش تدبیری نرمی اور ہوشیاری سے کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔ یعنی جب آنکھ کھلی تو آپس میں یہ گفتگو کرنے لگے کہ تم کو سوتے ہوئے اور یہاں رہنے میں کتنا عرصہ گزرا۔ بعض نے کچھ کہا اور بعض نے کچھ اندازہ لگایا آخر میں ایک فریق نے بحث کو ختم کرتے ہوئے کہا ہوگا یہ تو تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے اور چونکہ جاگتے ہی بھوک محسوس ہوئی تو روپیہ نکال کردیا اور کھانے کے ساتھ حلال و پاکیزہ کی قید لگائی کیونکہ وہاں بتوں کے نام کاذبیحہ بکتا ہوگا اور تاکید کردی کہ بھیس بدل کر جائے اور کسی کو ہمارا معاملہ ظاہر نہ ہونے دے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سینکڑوں برس رہنا ان کو ایک دن معلوم ہوا مردہ اور سوتا برابر ہے۔ کیونکہ اگر تمہاری قوم کے لوگ کہیں تمہاری خبر پاجائیں گے تو تم کو سنگسار کردیں گے اور پتھر مار مار کر تمہیں قتل کردیں گے یا تم کو زبردستی اپنے دین میں لوٹالیں گے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا کہ تم نے کفر اختیار کرلیا تم کو تو کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی اور کبھی خیر میسر نہ ائٓے گی چونکہ وقت کا صحیح اندازہ نہ تھا اس لئے انہوں نے یہ خیال کیا کہ شہر میں دقیانوس اور اسی کی پارٹی حکمراں ہوگی اور وہی لوگ ہوں گے جن کے فتنہ سے ہم بچ کر نکلے تھے حالانکہ شہر کے تمام حالات بدل چکے تھے اور چونکہ وہ لوگ سخت سزائیں دینے اور قتل کرنے کے عادی تھے۔ اسی خیال سے یہ کہا کہ دیکھو ہماری خبر نہ ہو ورنہ یا قتل کئے جائو گے یا کافر بنا لئے جائو گے عود اس لئے فرمایا کہ جس بت پرستی سے نفرت ہوئی تھی اور ایمان لائی تھے وہی پھر اختیار کرنی پڑے گی خواہ جبراً ہی ہو لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد کفر سے آدمی مانوس ہوجاتا ہے اور ایمان کو بھول جاتا ہے اور یہ جو کہا کہ فلاح نصیب نہ ہوگی تو مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں تو خیر ہاتھ سے نکل جائے گی اور کفر کے عادی ہو جائو گے اور قیامت میں کفر کا جو انجام ہوگا وہ جانتے ہی ہو اس لئے نہ دنیا میں فلاح ملے گی نہ آخرت میں ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک ان میں روپیہ لے کر گیا وہاں سب چیز اوپری دیکھی اس مدت میں کئی قرن بدل گئے شہر کے لوگ اس روپیہ کا سکھ دیکھ کر حیران ہوئے کہ کس بادشاہ کا نام ہے اور کس عہد کا ہے جانا کہ اس شخص نے گڑا مال پایا قدیم کا۔ آخر پادشاہ تک پہنچا اس سے پوچھ کر سب احوال معلوم کیا اور اس وقت اس شہر میں دو مذہب کے لوگ تھے ایک آخرت میں جینے کے قائل دوسرے منکر جھگڑا پڑ رہا تھا پادشاہ منصف تھا چاہتا تھا کہ ایک طرف کی کوئی سند ہاتھ لگے تو دوسروں کو سمجھا دیوے اللہ تعالیٰ نے یہ سند بھیج دی پادشاہ آپ جا کر غار میں سب کو دیکھ آیا ہر ایک سے احوال سن آیا تب اس شہر کے لوگ آخرت پر یقین لائے کہ یہ قصہ بھی دوسرے بار جینے سے کم نہیں۔ 12
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور جس طرح ہم نے ان کو سلایا اور جگایا اسی طرح ہم نے ان کے حال سے اس زمانہ کے لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ وہ لوگ اس امر کا یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور نیز یہ کہ قیامت میں ذرا شک کی گنجائش نہیں وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اس زمانہ کے لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ان اصحاب کہف کی کھوہ پر کوئی عمارت بنادو ان کا رب ہی ان کے حالات کو خوب جانتا ہے جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے انہوں نے کہا ہم تو ان اصحاب کہف کی کھوہ پر یعنی اس کے قریب مسجد تعمیر کریں گے۔

-2 1 اور جس طرح ہم نے ان کو سلایا اور جگایا اسی طرح ان کے احوال سے اس زمانے کے لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ منجملہ اور فوائد کے اس شہر کے لوگ اور وہاں کی حکومت سب اس امر کا یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور وعدہ یہ کہ قیامت کے واقعہ ہونے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کی کھوہ اور غار کے منہ پر ایک عمارت تعمیر کرا دو ان کا پروردگار ہی ان کے حالات کو خوب جانتا تھا۔ بالآخر جو لوگ اپنے کام پر غالب اور قابو یافتہ تھے یعنی ذی اقتدار تھے انہوں نے کہا ہم تو اصحاب کہف کے غار پر یعنی اس کے قریب ایک مسجد تعمیر کر ادیں گے۔ یعنی جس طرح ان کو سلایا اور ان کے اجسام کی حفاظت کی اور ان کو ایک خاص موقعہ پر جب کہ دقیانوس کا نام و نشان نہ رہا ان کو زندہ کردیا اسی طرح ان کے حال سے اہل شہر کے باشندوں کو باخبر بھی کردیا کیونکہ قیامت کے وقوع اور عدم وقع کا قصہ چل رہا تھا ان کے حالات سے قائلین وقوع قیامت کو تقویت پہونچے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے وقت ان لوگوں کا حال معلوم ہوا جب کہ شہر میں ان کا چرچا بہت تھا اور لوگ ان کا تاریخی طور پر ذکر کرتے تھے۔ کوئی کہتا تھا ان کو تلاش کرو، کوئی کہتا تھا وہ مر کھپ گئے ہوں گے اب کہاں رکھے ہیں ان کو بھاگے ہوئے عرصہ ہوگیا۔ غرض ! جتنے منہ اتنی باتیں ان کا حال ظاہر ہوجانے سے وہ سب باتیں صاف ہوگئیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جھگڑا عمارت کے بنانے نہ بنانے میں ہوا ہو عمارت کا فیصلہ ہونے کے بعد نقشے کے تعین میں جھگڑا ہوا ہو اور ارباب حکومت اور اصحاب اقتدار نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ ہم یہاں ایک مسجد بنادیں گے تاکہ سب جھگڑا ختم ہو جو لوگ تعمیرچاہتے تھے ان کا منشا یا تو یادگار قائم کرنا ہوگا یا عوام سے حفاظت مقصود ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اصحاب کہف کا دین و مذہب اللہ کو معلوم ہے کہ فقط توحید پر قائم تھے اور کسی نبی کی شریعت پکڑنے نہیں پائے مگر جو لوگ ان کی خبر پا کر معتقد ہوئے اور پاس مکان زیارت بنادیا وے نصاریٰ تھے اصحاب کہف سب لوگوں کو رخصت کر کر پھر سو گئے۔ 12
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اب کچھ لوگ تو یوں کہیں گے کہ وہ اصحاب کہف تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور کچھ یوں کہیں گے کہ وہ پانچ ہیں اور چھٹا ان کا کتا ہے ان لوگوں کا کام بن دیکھے نشانہ پر تیر پھینکنا ہے اور بعض ان میں سے یوں کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے آپ ان اختلاف کرنیوالوں سے کہہ دیجیے کہ ان کی گنتی کو میرا رب خوب جانتا ہے ان کی صحیح تعداد کو نہیں جانتے مگر بہت کم لوگ اور اے پیغمبر ان اصحاب کہف کے بارے میں سوائے سرسری بحث کے زیادہ بحث نہ کیجیے اور نہ ان کے متعلق ان لوگوں میں سے کسی سے کچھ دریافت کیجیے اور آپ کسی کام کے متعلق یوں نہ کہا کیجیے کہ میں اس کو کل کر دوں گا۔

-22 اب کچھ لوگ تو یوں کہیں گے یعنی اصحاب کہف کا قصہ بیان کرتے وقت ان کی تعداد کے متعلق یوں کہیں گے کہ وہ تین ہیں اور چوتھا ان کا کتا ہے اور کچھ لوگ یوں کہیں گے کہ وہ پانچ ہیں اور چھٹا ان کا کتا ہے ان لوگوں کے نام بن دیکھے نشانے پر پتھر پھینکنا ہے یعنی محض اٹکل سے ان کا کہنا ہے اور کچھ لوگ ان میں سے یوں کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے اے پیغمبر آپ ان اختلاف کرنے والوں سے کہہ دیجیے کہ ان اصحاب کہف کی گنتی کو میرا پروردگار خوب جانتا ہے ان کی ٹھیک ٹھیک گنتی کو نہیں جانتے مگر بہت تھوڑے اور قلیل لوگ۔ لہٰذا اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے ان اصحاب کہف کی تعداد وغیرہ کے سلسلے میں سوائے بحث کے زیادہ جھگڑا نہ کیجیے اور نہ ان اصحاب کہف کے متعلق ان لوگوں میں سے کسی سے کچھ پوچھئے اور دریافت کیجیے۔ یعنی ان کے واقعات میں سے جس قدر ضروری تھا وہ وحی کے ذریعہ بتایا گیا۔ مزید تفصیل جو غیر ضروری تھی وہ نہیں بتائی گئی لہٰذا اب ان کے ابرے میں مزید گفتگو اور مزید بحث و مباحثہ یا سوال و جواب اور مزید تفصیل معلوم کرنے کی کوشش سب بےکار ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ان باتوں میں جھگڑا کرنا کچھ حاصل نہیں رکھتا۔ ابن عباس نے کہا کہ وہ سات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی دو باتوں کو بن دیکھا نشان کہا اور اس کو نہیں کہا۔ 12 ابن کثیر نے عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے کہ جن قلیل کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے ان ہی قلیل میں میں بھی ہوں۔
Ayah 18:23

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

مگر خدا کے چاہنے کو ملا کر کہا کیجیے یعنی انشاء اللہ کہہ دیا کیجیے

-23 اور آپ اے پیغمبر کسی کام کے متعلق یوں نہ فرما دیا کیجیے کہ اس کام کو یا اس بات کو کل کر دوں گا۔
Ayah 18:24

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

اور جب آپ بھول جائیں تو یاد آنے پر اپنے رب کا ذکر کرلیا کیجیے اور آپ ان سے کہہ دیجیے مجھے توقع ہے کہ میرا رب مجھے کوئی ایسی بات بتادے جو باعتبار دلیل نبوت کے اصحاب کہف کے قصے سے بھی قریب تر ہو

-24 مگر ہاں اللہ تعالیٰ کے چاہئے اور اس کی مشیت کے ساتھ معلق فرما کر کہا کیجیے یعنی انشاء اللہ تعالیٰ کہہ دیا کیجیے اور جب کبھی آپ اتفاق سے بھول جائیں تو یاد آنے پر اپنے پروردگار کا ذکر کرلیا کیجیے اور آپ ان سے فرما دیجیے مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے کوئی ایسی بات بتادے جو میری نبوت کی دلیل ہونے کے اعتبار سے اصحاب کہف کے قصے سیبھی قریب تر ہو۔ یعنی جب کوئی کام کرنے کے متعلق آپ وعدہ کریں تو انشاء اللہ یا اس سے ملتے جلتے کلمات فرما دیا کیجیے جیسے عسیٰ ان یھدین ربی۔ مثلاً پھر حضرت حق کے چاہنے کا ذکر کردیا جائے اور کبھی بتقاضائے بشریت یاد نہ رہے تو جب یاد آئے جب فرما دیا کیجیے کیونکہ انشاء اللہ کے فضل اور وصل کی بحث عقود میں ہے روزمرہ کے کلام اور وعدوں میں نہیں ے جب یاد آجائے جب ہی کہہ لیں روزمرہ کے کلام میں اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرنا مقصود ہے تاخیر سے ضررر نہیں ہوتا۔ اور یہ جو فرمایا (اقرب من ھذا رشدا) اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے جو روح کا سوال اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا سوال کیا تھا تو تمہارے نزدیک ان باتوں کا جواب میری نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل تھی حالانکہ یہ محض غیب کی خبروں میں سے ایک خبر تھی جو صبح سے شام تک میں تم کو وحی الٰہی کے ذریعے بتادیتا ہوں یہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی اور ایسی چیز میرے ہاتھ سے ظاہر کر دے جو اصحاب کہف کے واقعہ سیبھی واقعی عجیب و غریب ہو اور لوگوں کے لئے اس واقعہ سے زیادہ رشد ہو اور میری نبوت کے لئے اس واقعہ سے بھی قریب تر دلیل ہو اور اس کے بعد تم ایمان نہ لائو۔ جیسا کہ صدہا واقعات کو سن کر اور صدہا معجزات کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے تو تم پر وہ دلیل اور ایک حجت سا طعہ قائم ہوجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اصحاب کہف کا قصہ تاریخ کی کتابوں میں نادرات میں لکھا تھا ہر کسی کو خبر کہاں ہوسکتی کافروں نے یہود کے سکھانے سے حضرت کو پوچھا آزمانے کو حضرت نے وعدہ کیا کہ کل بتادوں گا اس بھروسہ پر کہ جبرئیل (علیہ السلام) آئیں گے تو پوچھ دوں گا جبرئیل نہ آئے اٹھارہ دن تک حضرت نہایت غمگین ہوئے آخر یہ قصہ لے کر آئے اور پیچھے یہ نصیحت کہ اگلی بات پر وعدہ نہ کرے بغیر انشاء اللہ کے اگر ایک قوت بھول جاوے تو پھر یاد کر کہہ لے اور فرمایا کہ امید رکھ کہ تیرا درجہ اللہ اس سے زیادہ کرے یعنی نہ بھولے۔ 12
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ اصحاب کہف اپنی اس کھوہ میں تین سو برس رہے اور نو برس اور اوپر۔

-25 اور وہ اصحاب کہف اپنے اس غار اور کھوہ میں تین سو برس رہے اور نو برس اوپر ینی اصحاب کہف جہاں جا کر چھپے تھے وہاں کے سونے اور جاگنے کی مدت تین سو نو برس تھی گویا صحیح بات یہ ہے کہ ان کی نیند کی مدت تین سو نو برس تھی اس کے بعد جاگے اگر اس میعاد پر بھی یہ اپنی عادت کے موافق اختلاف کریں تو آگے اس کا جواب ہے۔
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

اس پر بھی نہ مانیں تو کہہ دیجیے کہ خدا تعالیٰ ان کے رہنے کی مدت کو بہتر جانتا ہے آسمانوں اور زمین کا تمام علم غیب اسی کو ہے لہٰذا تعالیٰ کیا ہی دیکھنے والا اور کیا ہی سننے الا ہے اس کے سوا بندوں کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے

-26 آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے غار میں رہنے کی مدت کو بہتر اور خوب جانتا ہے یعنی تم سے زیادہ و ہ جانتا ہے تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی اللہ تعالیٰ کو ہے اللہ تعالیٰ کیا ہی دیکھنے والا اور کیا ہی سننے والا ہے اس کے سوا بندوں کا کوئی کار ساز اور بندوں پر کوئی مختار نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو ساجھی اور شریک کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جتنی مدت سو کر دے جاگے تھے تاریخ والے کئی طرح بتاتے تھے سب سے ٹھیک وہی جو اللہ تعالیٰ بتادے یہاں تک قصہ ہوچکا۔ 12 خلاصہ یہ کہ جس قدر تفصیل مقصود تھی اور ضروری تھی وہ پوری ہوگئی نہ اس کے سوا بندوں کا کوئی کار ساز و سی بات چھپی ہوئی ہے جو کچھ اس نے بتادیا وہی ٹھیک اور سچ ہے اس کے علاوہ جو کہا جائے وہ خرط القتاد ہے۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی جو کتاب آپ کے پاس وحی کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے اس کو پڑھ کر سناتے رہئے خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور آپ خدا کے سوا کہیں پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔

-27 اور اے پیغمبر ! آپ کا کام تو صرف اسی قدر ہے کہ آپ کے رب کی جو کتاب وحی کے ذریعے آپ کی جانب اتاری گئی ہے اور آپ کے پاس آئی ہے اس کو پڑھ کر سناتے رہئے اللہ تعالیٰ کی باتوں کو اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور آپ اس کے سوا کہیں پناہ کی اور چھپنے کی جگہ نہ پائیں گے۔ یعنی مجرموں اور نافرمانوں کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ فرمانبرداروں کے لئے البتہ اس کی رحمت وسیع ہے۔ جیسا کہ اصحاب کہف کی مدد اور حمایت کی گئی ہے کسی کے انکار کی جانب توجہ نہ کیجیے ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائیے خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح اور شام اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لئے کیا کرتے ہیں آپ ان کی ہم نشینی کا اپنے آپ کو پابند رکھیے اور یہ نہ ہو کہ دنیوی زندگی کی زینت و آرائش کے خیال سے آپ کی آنکھیں ان مخلصین سے پھرجائیں اور آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیے۔ جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے گذر چکا ہے۔

-28 اور اے پیغمبر جو لوگ صبح اور شام اپنے رب کی یاد اور اس کی عبادت محض اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی غرض سے کیا کرتے ہیں ان کی ہم نشینی اور ان کے ساتھ بیٹھنے کے پابند رہئے اور ایسا نہ ہو کہ دنیوی زندگی کی زینت و آرائش کے خیال سے آپ کی آنکھیں اور آپ کی توجہات خصوصی ان مخلصین سے پھرجائیں اور آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیئے اور اس کی اطاعت نہ کیجیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش پر چلتا اور نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا یہ کام حد سے گزر چکا ہے۔ ساتویں پارے میں مفصل بحث گزر چکی ہے واقعہ یہ ہے کہ مکہ کے دولت مند کافر غریب مسلمانوں کے ہمراہ بیٹھ کر قرآن کریم سننا پسند نہ کرتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ قرآن کریم سننے کے لئے ہماری مجلس کا تقرر ان سے علیحدہ کیا جائے اس پر آیت نازل ہوئی کہ غریبوں کی ہم نشینی اختیار کیجیے ار ئوسا اور سرمایہ داروں کی وجہ سے مسلمان غرباء کا ساتھ نہ چھوڑے یہ لوگ صبح و شام یعنی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت محض اس کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں ان کا مقصد صرف اس کی ذات ہے اور جو بھلائی کرتے ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کو راضی کرنے کی غرض سے کرتے ہیں ان کی اور کوئی دنیوی غرض نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو نظر انداز نہ فرمائیے اور کفار رئوسا کی دل جوئی کے لئے اپنی خصوصی توجہات سے غریب مسلمانوں کو محروم نہ کیجیے اور آپ ایسے شخص کا مشورہ قبول نہ کیجیے جو اپنی نفسانی خواہش کا تابع ہے اور جس بدنصیب کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے ایسے لوگ ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی خاطر ہے مخلصین کو چھوڑا جائے۔ یہ رئوساء مکہ تو وہ لوگ ہیں جو نفسانی خواہشات کی پیروی میں حد سے گزر چکا ہے اور افراط وتفریط میں ملوث ہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ نافرمانی اور کفر پر اصرار کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ قلب سے ذکر کی لذت سلب کرلی جاتی ہے بلکہ دل کو یاد الٰہی سے غافل کردیا جاتا ہے اور یہ حالت روحانی مرض کی انتہا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک کافر حضرت کو سمجھانے لگا اپنے پاس رذالوں کو نہ بیٹھنے دو کہ سردار تم پاس بیٹھیں رذالا کہا غریب مسلمانوں کو اور سردار دولت مند کافروں کو اسی پر یہ آیت اتری۔ 12
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور آپ ان سے کہہ دیجیے کہ یہ دین حق تمہارے رب کی جانب سے آیا ہے پس جو چاہے اس کو مانے اور جو چاہے نہ مانے بیشک ہم نے ظالموں کے لئے ایک ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس آگ کی قناتیں ان کافروں کو گھیرے ہوئے ہوں گی اور اگر وہ کافر فرمایا د کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایک ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبہ کی مثل ہوگا جو چہروں کو بھون ڈالے گا کیا ہی برا پانی ہے اور وہ آگ آسائش کے لحاظ سے کیا ہی بری آرام گاہ ہے ۔

-29 اور آپ ان سے کہہ دیجیے کہ یہ دین حق تمہارے پروردگار کی جانب سے آیا ہے سو جس کا جی چاہے اس کو مانے اور ایمان لائے اور جو چاہے اس کو نہ مانے اور کافر بنا رہے بلاشبہ ہم نے ایسے ظالموں اور نا انصافوں کے لئے ایک ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ آگ کی قناتیں ان ظالموں کو گھیرے ہوئے ہوں گی اور اگر وہ کافر پیاس کی وجہ سے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایک ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی مثل ہوگا جو اپنی حرارت کی وجہ سے ان ظالموں کے منہوں کو بھون ڈالے گیا کیا کیا ہی برا پانی ہوگا اور وہ دوزخ کیا ہی بری آرام گاہ ہوگی۔ یعنی دین حق پروردگار کی جانب سے آچکا اب اگر ایمان لائو گے تو تمہارا ہی فائدہ اور بھلا ہے ایمان نہ لائو گے تو تمہارا ہی نقصان اور ضرر ہے۔ چنانچہ اس نفع اور نقصان کی تفصیل بیان فرمائی جہن میک قناتیں جن سے اہل دوزخ کو گھیرا جائے گا وہ بھی آگ کی ہوں گی اور جب پانی مانگیں گے اور پیاس پیاس کریں گے تو ایسا پانی دیا جائے گا جیسے تیل کی تلچھٹ اور دوزخیوں کی پیپ اونٹی ہوئی اور گرم ایسا جیسے تانبا پھگلا ہوا جس کو منہ سے قریب کرتے ہیں منہ جھلس جائے پانی بھی برا اور جہنم کی آگ آسائش و آرام کے اعتبار سے کیا ہی بری آرام گاہ ہے۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ہم اس شخص کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو بھلا کام کیا کرتا ہے۔

-30 اب آگے ایمان لانے والوں کے نفع اور بھلائی کا ذکر ہ ارشاد ہوتا ہے یقینا جو لوگ ایمان لائے اور وہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال کے بھی پابند رہے تو ہم ایسے شخص کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کیا کرتے جو بھلا کا م کیا کرتا ہے۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے ہی نیک لوگوں کے رہنے کو دائمی باغ ہیں ان لوگوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان کو ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سبز رنگ کے باریک اور دبیز ریشمی کپڑے پہنیں گے ان باغوں میں یہ لوگ مسہری نما تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے کیا ہی اچھا بدلا ہے اور وہ جنت آسائش کے لحاظ سے کیا ہی خوب آرام گاہ ہے

-3 1 ایسے ہی نیک عمل کرنے والوں کے لئے رہنے کو دائمی باغ ہوں گے ان کے محلات و مکانات کے پاس نہریں بہ رہی ہوں گی ان لوگوں کو ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سبز رگن کے باریک اور دبیز ریشم کے کپڑے پہنیں گے یہ لوگ ان باغوں میں مسہری نما تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے کیا ہی اچھا صلہ اور بدلا ہے اور وہ جنت آسائش کے لحاظ سے کیا ہی خوب آرام گاہ ہے۔ ایمان نہ لانے کا نقصان بھی اور ایمان لانے کا فائدہ بھی مذکور ہوا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ہیں حضرت نے فرمایا سونا اور ریشمین کپڑے مردوں کو ملنا ہے بہشت میں جو کوئی یہاں پہنے یہ چیزیں وہاں نہ پہنے۔ 12
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کے لئے ان دو شخصوں کا حال بیان کیجیے ک ہہم نے ان دونوں میں سے ایک کو انگور کے دو باغ دیئے تھے اور ہم نے ان دونوں باغوں کو چاروں طرف سے کھجور کے درختوں سے گھیر رکھا تھا اور دونوں باغوں کے درمیان ہم نے کھیتی پیدا کی تھی

-32 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کے لئے جو دنیا سے محبت کرتے ہیں اور آخرت اور عقبیٰ سے بےزار ہیں ان دو شخصوں کا حال بیان کردیجیے جن دو میں سے ہم نے ایک کو تو انگور کے دو باغ دیئی تھے اور ہم نے ان دونوں باغوں کو چاروں طرف سے کھجور کے درختوں سے گھیر رکھا تھا اور دونوں باغوں کے چاروں طرف کھجور کے درختوں کی باڑھ لگا رکھی تھی اور دونوں باغوں کے درمیان ہم نے کھیتی بھی پیدا کی تھی۔ یعنی انگوروں کے دو باغ چاروں طرف کھجوروں کی باڑ بیچ میں کھیتی اور اگٓے بہتا ہے نہر کا پانی یہ دونوں شخص یا تو قرابت دار تھے یا دونوں آپ میں ملاقات اور میل رکھتے تھے یہ دو باغ والا بد دین تھا اور دوسرا دین دار تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگلے زمانے میں ایک شخص مالدار مرگیا۔ دو بیٹے رہے برابر مال بانٹ لیا ایک نے زمین خرید کی دو طرف میوے کے باغ لگائے بیچ میں کھیتی اور ندی کاٹ کر ان میں ڈالی کہ مینہہ نہ ہو تو بھی نقصان نہ آوے اور عمدہ جگہ بیاہ کیا اولاد ہوئی اور نوکر رکھے تدبیر دنیا درست کر کے آسودہ گزران کرنے لگا۔ دوسرے نے سب مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا آپ قناعت سے بیٹھ رہا۔ 12
Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

وہ دونوں باغ اپنے پورے پھل لاتے تھے اور پھل لانے میں ذرا سی بھی کمی نہ کرتے تھے اور ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کر رکھی تھی۔

-33 وہ دونوں باغ اپنے پورے پھل لایا کرتے تھے اور پھل لانے میں ذرا سی بھی کمی نہیں کرتے تھے اور پھلوں کو گھٹاتے نہیں تھے اور ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کر رکھی تھی۔
Ayah 18:34

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس شخص کے پاس اور بھی بہت سے پھل تھے پھر اس شخص نے اپنے ایک ساتھی سے باتیں کرتے کرتے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور بلحاظ جتھے کے بھی تجھ سے زیادہ عزت دار ہوں۔

-34 اور اس کے پاس اور بھی بہت سے پھل تھے پھر اس مالدار مگر بد دین نے اپنے دوسرے ساتھی سیب اتیں کرتے کہا میں تجھ سے مال میں بھی بڑھا ہوا ہوں۔ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے کے اعتبار سے بھی میں تجھ سے زیادہ عزت دار اور غلبہ والا ہوں۔ یعنی ان باغوں میں علاوہ کھجور اور انگور کے اور پھل بھی تھے یا یہ مطلب کہ پھلوں کے علاوہ آمدنی کے اور بھی ذرائع تھے اور اقسام مال میں سے اور بھی انواع مال اس کے پاس تھے۔ بہرحال دوران گفتگو میں اس اپنے دین دار ساتھی سے کہنے لگا کہ تو میرے طریقے کو ناپسند کرتا ہے اور اپنے طریقہ کو اچھا کہتا ہے لیکن دیکھ اگر تیرا طریقہ اچھا ہوتا تو تیری حالت اچھی ہوتی اور میرا طریقہ برا ہوتا تو میرے ساتھ برا سلوک ہوتا حالانکہ میں مال کے لحاظ سے بھی اور ساتھیوں کے اعتبار سے بھی تجھ سے بہت زیادہ اور بڑی عزت اور غلبہ کا مالک ہوں۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اسی حالت میں کہ وہ اپنے حق میں برا کر رہا تھا اس اپنے باغ میں پہنچا اور پہنچ کر کہنے لگا میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی برباد ہو

-35 اور وہ اسی حالت میں کہ وہ اپنے حق میں برا کر رہا تھا اپنے ساتھی کو لئے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا باغ میں داخل ہونے کے بعد کہنے لگا کہ میں تو یہ خیال نہیں کرتا اور میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی برباد ہو۔
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میں یہ بھی یقین نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اتفاقاً اپنے رب کی طرف۔ لوٹایا بھی گیا تو بھی اپنے موقعہ بازگشت کو اس باغ سے بہتر ہی پائوں گا

-36 اور میں یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے یعنی اول تو قیامت کا مجھ کو یقین ہی نہیں اور اگر میں اتفاقاً اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی اپنے موقعہ بازگشت اور لوٹنے کی جگہ کو اس باغ سے بہتر ہی پائوں گا۔ یعنی نہ تو مجھ کو اس کا یقین ہے کہ میرے جیتے جی یہ باغ کبھی تباہ و ہلاک ہوگا اور نہ مجھ کو قیامت کے آنے کا گمان و یقین ہے اور اگر ایسا ہوا بھی کہ مجھے لوٹایا گیا تو وہاں بھی اس باغ سے بہتر باغ کا مالک بنوں گا اور لوٹنے کی جگہ یہاں سے اچھی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں منکر لوگ جانتے ہیں کہ جیسے دنیا میں عیش کرتے ہیں گناہوں کے ساتھ وہی بات ہوگی آخرت میں سو ہرگز ہوتا نہیں۔ 12
Ayah 18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اور اس کے ساتھی نے باتیں کرتے جواب دیا کیا تو اس ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو اول مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھ کو پورا آدمی بنایا۔

-37 اور اس کے ساتھی ایمان دار نے باتیں کرتے کرتے اس کو جواب دیا کیا تو اس پاک ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو ابتداء مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے جو اس مٹی کا جوہر تھا اس سے پیدا کیا پھر تجھ کو پورا اور صحیح وسالم آدمی بنایا۔
Ayah 18:38

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہی اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا

-38 لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ یعنی اس نے تیرے باپ آدم کو مٹی سے بنایا پھر آدم (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع کیا اور اسی مٹی کے نچوڑ اور سلاسلہ سے تجھ کو پیدا کیا اور تیرے تمام اعضاء کو ایک لیبل میں کر کے ایک بہترین شکل و صورت کا آدمی بنایا میں تو اسی کو اپنا حقیقی رب مانتا ہوں اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک قرار نہیں دیتا۔
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور تو جس وقت اپنے باغ میں پہونچا تھا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا کہ جو اللہ چاہ ہے وہ ہوتا ہے اور خدا کی مدد کے بغیر کوئی زور نہیں اگر تو مجھ کو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم ہوں۔

-39 اور تو جس وقت اپنے باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے یوں کیوں نہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے اور جو اس کو منظور ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد اور استعانت کے بغیر کسی میں کوئی زور اور قوت نہیں ہے اگر تو مجھ کو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم تر ہوں۔
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو میرے رب کی شان سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھ کو تیرے باغ سے بہتر باغ عطا کر دے اور تیرے اس باغ پر آسمان سے کوئی سخت آفت بھیج دے کہ دفعتاً وہ باغ ایک صاف چٹیل میدان ہ کر رہ جائے

-40 تو میرے رب کی شان سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھ کو تیرے باغ سے بہتر باغ عطا کر دے اور تیرے اس باغ پر آسمان سے کوئی سخت آفت بھیج دے کہ وہ باغ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔