18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 18:41

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس ناگہانی آفت سے اس باغ کا پانی اتنا زمین کے اندر اتر جائے کہ تو اس کو کسی طرح تلاش نہ کرسکے۔

-4 1 یا اس ناگہانی اور بلا سے اس باغ کا پانی زمین کے اندر اتنا اتر جائے کہ تو اس کو کسی طرح تلاش نہ کرسکے اور اس کو نکالنے کی کوشش بھی نہ کرسکے۔ یعنی تجھ کو باغ میں داخل ہوتے وقت چاہئے تھا کہ باغ کو اچھی حالت میں دیکھ کر کہتا۔ ماشآء اللہ لاقوۃ الا باللہ۔ رہی یہ بات تو مجھ کو اپنے سے مال اور اولاد میں کم دیکھتا ہے کہ میرے پاس مال کم ہے اور جتھا بھی زیادہ شاندار نہیں ہے تو اس کا مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ سے یہ بات کچھ بعید نہیں ہے اور امید ہے کہ وہ مجھے تیرے باغ سے بھی اچھا اور بہتر باغ عنایت کر دے اور اس تیرے باغ پر کوئی آسمانی آفت اور لو کا کوئی جھوکا بھیج دے جس سے یہ باغ ایک ٹپٹ پر میدان اور بنجر زمین ہو کر رہ جائے یا خلاف توقع یہ نہر کا پانی زمین میں اتنا نیچے اور گہرا اتر جائے کہ تو اس کو تلاش اور حاصل نہ کرسکے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب آدمی کو اپنے گھر بار میں آسودگی نظر آئے تو یہی لفظ کہے۔ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ کو ٹوک نہ لگے۔ 12
Ayah 18:42

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے تمام پھل آفت ناگہانی سے گھیر لئے گئے پھر جو مال اس نے اس باغ کے بنانے میں خرچ کیا تھا اس پر صبح کو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اور اس باغ کی حالت یہ ہوئی کہ وہ اپنی ٹٹیوں پر ڈھیا ہوا پڑا تھا اور وہ کہنے لگا اے کاش کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا

-42 اور اس کے تمام پھل اور جملہ سا مان تمول آفت آسمانی سے گھیر لیا گیا اور جو اس نے اس باغ پر روپیہ خرچ کیا تھا اور باغ کی درستی پر جس قدر روپیہ خرچ ہوا تھا یہ اس پر صبح کو ہاتھ ملتا رہ گیا اور اس باغ کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اپنی ٹٹیوں پر گرا اور ڈھیا ہوا پڑا تھا اس حالت سے متاثر ہو کر کہنے لگا اے کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا۔
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کی مدد کے لئے کوئی ایسی جماعت نہ ہوئی جو خدا کے سوا اس کی مدد کرسکتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لے سکا۔

-43 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مال تو اللہ کی نعمت تھی پر اترانے سے اور کفر بکنے سے آفت آئی اور اس کے لئے کوئی جماعت ایسی نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی مدد کرسکتی اور نہ وہ خود ہی اپنا بدلا لے سکا یعنی نہ اپنے میں بدلہ لینے کی سکت اور نہ کوئی اور جتھا اور مال و اولاد کی کثرت اس کے کام آسکی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آخر اس باغ پر وہی ہوا جو اس نیک کی زبان سے نکلا رات کو آگ لگ گئی آسمان سے سب جل کر ڈھیر ہوگیا مال خرچ کیا پونجی بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ 12
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے موقع پر مدد کرتا خدائے برحق ہی کا کام ہے وہی باعتبار انعام کے بہتر ہے اور وہی باعتبار انجام کے بہتر ہے۔

-44 ایسے موقع پر مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہے اسی کا انعام سب سے اچھا ہے اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کا انجام اور نتیجہ اچھا ہے۔ یعنی اس کا دیا ہوا ثواب اور بدلہ بھی سب سے بہتر اور اسی کی اطاعت کا نتیجہ اور انجام بھی سب سے بہتر۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کے لئے دنیوی زندگی کی حالت بیان کردیجیے کہ یہ زندگی ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے زمین کا سبزہ خوب گنجان ہو کر بڑھا اور پھر وہ سبزہ اس طرح ریزہ ریزہ ہوگیا کہ اس کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ کو ہر شئی پر پورا اقتدار ہے

-45 اور اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان کردیجیے کہ یہ زندگی ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی کے ذریعہ سے زمین کا سبزہ خوب گنجان ہو کر بڑھا اور سا پانی کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ سبزہ خشک ہو کر اس طرح چورا اور ریزہ ریزہ ہوگیا کہ ہوائیں اس کو اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔ یعنی اس عارضی دنیا کی زندگی میں جو رونق اور بہار نظر آتی ہے اس کی اور زوال کی یہ حالت ہے۔ جیسے ہم نے آسمان سے پانی اتارا اس پانی سے زمین کی روئیدگی کو توقیت پہنچی اور کھیتی خوب ہری بھیر اور خوب گنجان ہو کر بڑھی اور وہ کھیتی یکایک خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوگئی کہ ہوائیں اس کو اڑاتی پھریں یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے کہ آج ہری بھری ہے اور کل کچھ بھی نہیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر شئی پر قدرت حاصل ہے جب چایں کسی کو پیدا کریں اور جب چاہیں فنا کردی۔ قوموں کے عروج وزوال سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جب چاہے پھر جلا دے۔ 12
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے تو دنیوی زنگدی کی رونق ہیں اور جو اعمال صالح باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک باعتبار ثواب کے بھی بہتر ہیں اور ازروئے امید کے بھی بہتر ہیں۔

-46 مال اور بیٹے تو دنیوی زندگی کی رونق اور بہار میں اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے پروردگار کے نزدیک اس دنیا سے باعتبار ثواب کے بھی بدرجہا بہتر ہیں اور ازروئے امید کے بھی بدرجہا بہتر ہیں۔ یعنی مال ہوا یا بیٹے ہوئے یہ تو صرف یہاں کی رونق ہیں ان کے ساتھ نہ کوئی امید وابستہ کی جاسکتی ہے اور نہ یہ چیزیں امید کے قابل ہیں اور نہ ان پر بھروسہ کیا جائے البتہ اعمال صالحہ جو باقی رہنے والے ہیں وہ ثواب کے اعتبارے بھی دنیا کے مقابلے میں بہتر اور امیدوار بھروسہ کے اعتبار سے بھی بہتر اور بدرجہا بہتر ہیں یہاں کی بےثباتی کسی اعتبار سے بھی آخرت سے بہتر نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رہنے والی نیکیاں یہ کہ علم سکھا جاوے جو جاری رہے یا نیک رسم چلا جاوے مسجد کنواں سرائے باغ کھیت وقف کر جاوے یا اولاد کو تربیت کر کے صالح چھوڑ جاوے۔ 12 ابنکثیر نے باقیات الصالحات کے سلسلے میں بہت سی روایتیں نقل کی ہیں۔ سعید بن مسیب کے نزدیک سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ کا پڑھنا باقیات الصالحات میں سے ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حدیث میں مذکور ہے۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم تمام پہاڑوں کو ہٹا دیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ وہ ایک کھلا ہوا میدان ہے اور ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے

-47 اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور وہ اپنی جگہ قائم نہ رہیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ وہ ایک صاف کھلا ہوا میدان ہے اور ہم سب لوگوں کو میدان حشر میں جمع کرلیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ یعنی ابتداء میں پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور آخر کو ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ فقل ینسفھا ربی نسفاء اور زمین بالکل صاف ہوجائے گی۔ لاتری فیھا عوجاً ولا امتا ۔ صاف میدان ہوجائے کے بعد سب کو قربوں سے اٹھا کر جمع کیا جائے گا اور کسی ایک شخص کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے گا۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب لوگ آپ کے رب کے روبرو وصف بستہ پیش کئے جائیں گے ان سے کہا جائیگا جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح تم ہمارے سامنے حاضر ہوئے بلکہ تم تو یوں سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے لئے وعدے کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں کریں گے

-48 اور سب لوگ اپنے پروردگار کے سامنے صف بستہ اور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے ارشاد ہوگا۔ جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح تم ہمارے پاس آگئے بلکہ تم تو یوں سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے لئے وعدے کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں کریں گے۔ یعنی منکرین حشر کو کہا جائے گا کہ تم تو منکر تھے لیکن تم نے دیکھ لیا کہ جس طرح اول بار ہم نے تم کو پیدا کیا تھا اسی طرح آج بھی زندہ ہو کر ہمارے روبرو آہی گئے تم تو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے کے لئے کوئی وقت موعود لائیں گے ہی نہیں یعنی قیامت آئے گی ہی نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ ان کی تنبیہ کو فرمائے گا اور جیسا بنایا تھا پہلی بار یہ بھی ہے کہ بدن میں کچھ زخم و نقصان نہ رہے گا ختنہ بھی نہ رہے گا۔ 12
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہ عمل رکھ دیا جائے گا تو اس وقت آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو اس نامہ عمل میں لکھا ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور یہ کہتے ہوں گے اے ہماری بدقسمتی اس نامہ عمل کی کیسی عجیب حالت ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا اور نہ کوئی بڑا گناہ چھوڑا مگر یہ کہ اس نے سب گناہوں کو گھیر رکھا ہے اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا ان سب اعمال کو موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔

-49 اور نامہ عمل رکھ دیا جائے گا تو اس وقت آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو اس نامہ عمل میں لکھا ہوگا اس کے انجام اور اس کی سزا سے ڈر رہے ہوں گے اور یوں کہتے ہوں گے ہائے ہماری مصیبت اور بدقستمی اس کتاب کو کیا ہوگا اور اس کی کیسی عجیب حالت ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا اور نہ کوئی بڑا گناہ چھوڑا مگر یہ کہ سب ان کو شمار کر رکھا ہ اور ان سب کو گھیر رکھا ہے اور جو کچھ دنیا میں انہوں نے کیا تھا ان سب اعمال کو موجود پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ یعنی نامہ اعمال ہر شخص کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں کھلا ہوا دیدیا جائے گا اور اس کو دیکھ کر گنہگار افسوس اور تعجب کا اظہار کریں گے کہ یہ کیسا نامہ عمل ہے کہ کوئی ایسی چھوٹی بڑی چیز نہیں ہے جو اس میں نہ ہو اور جو اعمال کئے تھے وہ سب اس نامہ عمل میں موجود پائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہ گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رب جو کرے سو ظلم نہیں سب اسیک ا مال ہے پر ظاہر میں جو کچھ نظر آوے وہ بھی نہیں کرتا بےگناہ کو دوزخ میں نہیں ڈالتا اور نیکی ضائع نہیں کرتا اور جو کوئی کہے گا میں ہمارا کیا اختیار ہے سو بات نہیں اپنے دل سے پوچھ لے جب گناہ پر دوڑتا ہے اور اپنے قصد سے دوڑتا ہے اور جو کوئی کہے قصد بھی اسی ن دیا۔ سو قصد دونوں طرف لگ سکتا ہے اور جو کہے اسی نے ایک طرف لگا دیا سو بندے کی دریافت سے باہر ہے بندے سے معاملہ ہوتا ہے اس کی سمجھ پر بندہ بھی پکڑے گا اسی کو جو اس سے بدی کرے یہ نہ کہے گا کہ اس کا کیا قصور اللہ نے کردیا۔ 12
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا وہ ابلیس جنات کی قسم میں سے تھا سو وہ اپنے رب کے حکم کو بجا لانے سے نکل بھاگا تو کیا پھر بھی تم ایسے نافرمان کو اور اس کی اولاد کو اپنا دوست بناتے ہو مجھے چھوڑ کر حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں ظالموں کے لئے یہ خدا کی بجائے شیطان کی دوستی بہت برا بدل ہے۔

-50 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو ۔ پس سب نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا وہ ابلیس جنات کی قسم میں سے تھا سو اس نے اپنے پروردگار کی حکم عدولی کی اور نافرمانی کا مرتکب ہوا تو کیا تم مجھے چھوڑ کر میرے نافرمان کو اور اس کی اولاد و اتباع کو اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ شیطان اور اس کی اولاد سب تمہارے دشمن ہیں اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے۔ یعنی شیطان میں آگ اور عناصر کے مقابلے میں زیادہ تھی اسی وجہ سے اس کو جنتا میں سے فرمایا اور تکبر و انانیت کے باعث اس نے آدم کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا جیسا کہ پہلے پارے میں تفصیل گزر چکی ہے اس پر تعجب ہے کہ آدم کی اولاد پھر بھی شیطان اور اس کی اولاد و اتباع کو اپنا دوست اور مددگار سمجھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ رکھا ہے اور دشمن کو دوست بنا رکھا ہے اللہ تعالیٰ جیسے محسن کو چھوڑ کر شیطان جیسے کھلے دشمن کو دوست بنانا بہت برا بدل ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ کے بدلے شیطانوں کو پکڑتے ہیں اور جتنے بت پجے جاتے ہیں اسی کی اولاد ہیں۔ 12 یعنی جن چیزوں سے شیطان کو تقویت پہنچے اور اس کی تحریکات کامیاب ہوں وہ سب ابلیس کی اولاد ہیں۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے نہ تو آسمانوں اور زمین کے بناتے وقت ان شیاطین کو بلایا اور نہ خود ان شیاطین کو پیدا کرتے وقت انہیں بلایا اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بناتا

51 میں نے ان شیاطین کو نہ تو آسمان و زمین کو پیدا کرتے وقت بلایا اور نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت میں نے ان کو بلایا اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنیوالوں کو اپنا بازو اور مددگار بناتا۔ بلانا ہوتا ہے مدد کے لئے یا مشورے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کسی کی مدد کا محتاج ہے اور نہ کسی کے مشورے کا آسمان و زمین کی ایجاد کے وقت نہ کسی کے بلانے کی ضرورت محسوس ہوئی نہ خود ان کے پیدا کرتے وقت ان شرکاء سے مشاورت کی ضرورت پڑی اور میں کچھ ایسا گیا گذرا تو نہ تھا کہ بلا ضروتر و احتیاج کسی کو مددگار بناتا اور خاص کر ان شیاطین اور گمراہ کرنیوالوں کو اپنا دست وبازو بنانا میری شان سے بالکل بعید تھا۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو کہ خدائے تعالیٰ کہے گا کہ جن کو تم میرا شریک سمجھا کرتے تھے ان کو پکارو پس وہ کافران کو پکاریں گے مگر وہ شریک ان کافروں کو کوئی جواب ہی نہ دیں گے

-52 اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ نے شریک کرنے والوں سے فرمائے گا جن کو میرا شریک سمجھا کرتے تھے ان کو آج اپنی حمایت کے لئے پکارو پس وہ مشرک ان کو پکاریں گے سو وہ شریک ان مشرکوں کو کوئی جواب ہی نہیں دیں گے اور ہم ان کافروں کی اور ان شرکا کے درمیان ایک مہلک آڑحائل کردیں گے۔ یعنی قیامت میں ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اہل شرک کو حکم دے گا کہ جن کو تم نے میرا شریک سمجھ رکھا تھا ان کو پکارو تاکہ آج وہ کچھ تمہاری مدد کریں اور تم کو عذاب سے بچائیں یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ اپنی پریشانی میں مبتلا ہوں گے ان کو جواب ہی کیا دیتے پھر اللہ تعالیٰ ایک مہلک اور خطرناک آڑ حائل کردیں گے تاکہ ان کی امداد سے بالکل مایوس ہوجائیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی خندق ہے آگ سے بھری۔ 12
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور ہم ان کافروں اور ان شرکاء کے مابین ایک مہلک آڑ حائل کردیں گے اور گنہگار دوزخ کو دیکھیں گے تو اس وقت اس امر کا یقین کریں گے کہ وہ اس آگ میں گرنے والے ہیں اور وہ مجرم اس آگ سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے

-53 اور گنہگار جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو اس وقت اس امر کا یقین کریں گے کہ وہ مجرم اس آگ میں گرنیوالے ہیں اور وہ اس آگ سے بچنے اور پلٹ آنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے یعنی جب مشاہدہ ہوجائے گا تو یقین آجائے گا لیکن اس وقت یقین بیکار ہوگا۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کے لئے ہر قسم کے عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کئے ہیں اور انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو واقع ہوا ہے۔

-54 اور بلاشبہ ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کے لئے ہر قسم کے عمدہ مضامین نئے نئے پیرایہ سے بیان کئے ہیں اور انسان سب جھگڑنے والوں سے زیادہ جھگڑنے والا واقع ہوا ہے۔ یعنی اور مخلوق بھی جھگڑا کرتی ہے لیکن منکر انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور جب وقت لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو ان کو ایمان لانے اور اپنے رب سے بخشش طلب کرنے سے بجز اس انتظار کے اور کوئی مانع نہیں رہا کہ ان کو بھی گزشتہ لوگوں کا سا معاملہ پیش آئے یا عذاب آخرت ان کے روبرو آموجود ہو۔

-55 اور لوگوں کے پاس جس وقت ہدایت آچکی تو ہدایت آجانے کے بعد ان کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے استغفار کرنے اور بخشش طلب کرنے سے کوئی امر مانع نہیں رہا سوائے اس انتظار کے کہ ان لوگوں کو بھی گزشتہ لوگوں کی طرح کا معاملہ پیش آئے یا یہ کہ عذاب آخرت ان کے روبرو آموجود ہو اور عذاب ان کے سامنے آجائے۔ یعنی ہدایت کا مقتضایہ تھا کہ ہدایت آنے کے بعد ایمان لے آتے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو پہلی قوموں کے ساتھ جو معاملہ ہلاکت وغیرہ کا ہو اور وہ ان کے ساتھ بھی ہو اس عذاب استیصال کا انتظار کر رہے ہیں یا شاید اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ عذاب الٰہی ان کے سامنے آکھڑا ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کچھ اور انتظار نہیں رہا مگر یہی کہ پہلوں کی طرح ہلاک ہو ویں یا قیامت کا عذاب آنکھوں سے دیکھیں۔ 12 خلاصہ یہ کہ ہدایت کے آجانے کے بعد ایمان لانے سے کوئی امر مانع تو رہا نہیں بجز اس کے کہ پہلی نافرمان قوموں کی طرح عذاب میں مبتلا کردیئے جائیں یا قیامت کے عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں جب شاید مانیں تو گویا ان دونوں باتوں میں سے کسی ایک بات کے وقوع کا انتظار ہے۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو تو صرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا کرتے ہیں اور کافر لوگ لغو شبہات پیدا کر کے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس جھگڑے کے ذریعہ سے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں اور ان کافروں نے میری آیتوں کو اور اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ایک مذاق بنا رکھا ہے۔

-56 اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا کرتے ہیں اور کافر لوگ لغو اور ناحق کی باتیں اور رکیک شبہات پیدا کر کے جھگڑے کرتے ہیں تاکہ اس جھگڑے کی وجہ سے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں اور بچلا دیں اور ان کافروں نے میری آیتوں اور اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا گیا ہے ایک مذاق اور دل لگی بنا رکھا ہے۔ یعنی رسولوں کا عذاب کے آنے یا نہ آنے سے کوئی تعلق نہیں ان کا کام تو صرف بشارت اور انداز ہے یعنی جھوٹی باتیں نکال کر جھگڑا کرتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ جھوٹے جھگڑوں سے حق کو ڈگمگا دیں اور حق کی آواز کو پست کردیں تو ایسا ہونے والا نہیں اور کلام الٰہی اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑانے کا انہوں نے شیوہ اختیار کر رکھا ہے۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے کہ جس کو اس کے رب کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی گئی پھر اس نے ان آیتوں سے منہ پھیرلیا اور جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان کو فراموش کردیا یقینا ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ اس کلام کو سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے اور اگر آپ ان کو راہ راست کی طرف بلائیں تو وہ ایسی حالت میں ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔

-57 اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم اور بےانصاف ہوسکتا ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی گئی پھر اس نے ان آیتوں سے اعراض کیا اور منہ پھیرلیا اور جو اس کے ہاتھ گناہ سمیٹ سمیٹ کر آگے بھیج رہے ہیں ان کو اور ان کی جزا کو فراموش کر رکھا ہو یقینا ہم نے اس کلام کو سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے اور اگر آپ ان کو صحیح راہ کی طرف بلائیں بھی تو ایسی حالت میں ہرگز راہ راست پر نہ آئیں گے۔ یعنی ان کے عناد اور ان کی سرکشی کے باعث ان کے دلوں پر پردے اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا گیا ہے نہ سمجھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور ان کے ہاتھ جو کچھ کما رہے ہیں اس کے انجام کو بھول چکے ہیں تو ان کے راہ راست پر آنے کی کیا امید اور ایسے لوگوں سے بڑھ کر اور ظالم بھی کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے کلام کا اور عذاب کا تمسخر کریں اور مذاقاڑائیں۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر خدا لوگوں کو ان کے کئے پر پکڑتا تو ان پر فوراً ہی عذاب بھیج دیتا مگر ان کے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے اس وقت یہ لوگ عذاب سے درے کوئی جگہ پناہ کی نہ پائیں گے

-58 اور عذاب میں تاخیر ہونے کی وجہ سے یہ سمجھتے ہوں کہ عذاب آئے گا ہی نہیں تو یہ غلط ہے بلکہ تاخیر کی وجہ یہ ہ کہ اے پیغمبر آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا ہے اور رحمت و مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر دارد گیر کرتا اور ان کے کئے پر پکڑتا تو فوراً ہی عذاب بھیج دیتا اور عذاب نازل کرنے میں جلدی اور تعجیل سے کام لیتا مگر ان کے عذاب کے لئے ایکم عین وقت ٹھہرا رکھا ہ اور عذاب کا ایک وقت موعود ہے اس وقت یہ عذاب سے درے اور عذاب سے پہلے کوئی سرک جانے کی جگہ نہ پائیں۔ یعنی تاخیر کی وجہ محض شفقت اور اس کا غفور ہونا ہے اس کا یہ طریقہ نہیں کہ گنہگاروں کی گرفت میں عجلت سے کام لے۔ ہر مجرم کے لئے ایک وقت مقرر ہے اس طرح کفار مکہ کی تعذیب کا ایک وقت موعود ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو سوائے اللہ تعالیٰ کے یا سوائے عذاب کے کوئی اور جگہ بچ جانے اور سرک جانے کو نہ پائیں گے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ ہیں وہ سب بستیاں کہ جب ان کے باشندوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان بستیوں کو تباہ کردیا اور ان کے بھی ہلاک ہونے کا ہم نے ایک وقت مقرر کردیا تھا۔

-59 اور یہ ہیں وہ بستیاں کہ جب ان کے رہنے والوں نے شرارت اور ظلم کا شیوہ اختیار کیا تو ہم نے ان بستیوں کو ہلاک و برباد کردیا اور ان کے بھی ہلاکک ہونے کا ایک وقت ہم نے مقرر اور معین کردیا تھا مراد کعبہ کے آس پاس کی بستیاں ہیں عاد وثمود وغیرہ وہاں بھی یہی قاعدہ برتا گیا کہ وہ لوگ پیغمبروں سے عذاب کا مطالبہ کرتے رہے لیکن عذاب کا جو وقت مقرر ہوچکا تھا اس سے پہلے عذاب نہیں آیا اور تاخیر ہونے کی وجہ سے عذاب ان پر سے ٹلا نہیں اسی طرح کفار عرب بھی عذاب کی تاخیر سے یہ قیاس نہ کریں کہ عذاب نہیں آئے گا۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا کہ میں اس وقت تک باز نہ آئوں گا جب تک دو دریائوں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جائوں یا میں یونہی سالہا سال تک چلتا رہوں گا

-60 اوپر کی آیتوں میں کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ ہم غرباء کے ساتھ بیٹھ کر قرآن کریم سننے کو تیار نہیں ہیں اور چونکہ اس اعتراض کا منشا دولت پر غور اور تکبر تھا اس کی مناسبت سے دو بھائیوں کا ذکر فرمایا جس میں ایک کو اپنے باغوں پر اور اپنے حمایتوں پر گھمنڈ تھا پھر اس کے آگے ابلیس کی امانیت اور غرور وتکبر کا ذکر فرمایا۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس میں اسی قسم کی ایک بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے منہ سے نکل گئی بات بظاہر صحیح تھی لیکن اس کا اظہار حضرت حق جل مجدہ، کو پسند نہیں آیا وہ بات یہ کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے مجمع میں تقریر فرما رہ تھے مجمع میں سے ایک شخص نے سوا ل کیا ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا زمین پر آپ اپنے سے کسی کو زیادہ عالم پاتے ہیں آپ نے جواب دیا نہیں یہ بات اگرچہ صحیح تھی کیونکہ ایک اولوالعزم پیغمبر سے کون شخص علم میں بڑھ کر ہوسکتا ہے مگر حضرت حق کو یہ الفاظ پسند نہ آئے شاید پسندیدہ یہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے سپر د کردیتے اور یوں فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے مقرب اور مقبول بندے ہیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس کا علم زیادہ ہے وہی خوب جانتا ہے چناچہ ارشاد ہوا کہ جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں ہمارا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) کو اس بندے سے ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے خادم خاص کو ہمراہ لے کر سفر اختیار کیا۔ یہ خادم خاص حضرت یوشع (علیہ السلام) تھے جو بعد میں نبی اور حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔ اسی واقعہ کو یہاں ذکر کیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا کہ میں اس وقت تک اپنے سفر سے باز نہ آئوں گا اور برابر چلتا رہوں گا جب تک کہ میں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جائوں یا میں یونہی سالہا سال تک اور مدت دراز تک چلتا رہوں گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اوپر ذکر ہوا تھا کہ کافر اپنی دنیا پر مغرور مفلس مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر حضرت سے چاہتے تھے کہ ان کو اپنے پاس نہ بٹھائو تو ہم بیٹھیں اسی پر دو بھائیوں کی کہاوت بیان کی اور ابلیس کا خراب ہونا اپنے غرور سے اب قصہ فرمایا موسیٰ اور خضر کا کہ اللہ والے لوگ بہتر ہوں تو آپ کو کسی سے بہتر نہیں کہتے۔ رسول نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نصیحت فرماتے تھے ایک شخص نے پوچھا کہ یا موسیٰ تم سے بھی زیادہ کسی کو علم ہے کہا مجھ کو م علوم نہیں یہ بات تحقیق تھی پر اللہ کی خوشی تھی کہ یوں کہتے کہ مجھ سے بندے اللہ کے بہت ہیں سب کی خبر اسی کو ہے تب وحی آئی کہ ایک بندہ ہمارا ہے دو دریا کے ملاپ پاس اس کو علم زیادہ ہے تجھ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی مجھ کو اس کی ملاقات میسر ہو حکم ہوا کہ ایک مچھلی تل کر ساتھ لو جہاں مچھلی گم ہو وہاں وہ ملے یہ جوان فرمایا یوشع کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم خاص تھے پیچھے ان کے روبرو پیغمبر ہوئے اور ان کے بعد خلیفہ ہوئے۔ 12
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں ان دریائوں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہ اپنی مچھلی وہاں بھول گئے اور اس مچھلی نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا۔

-6 1 پھر جب وہ دونوں کے دونوں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت یوشع (علیہ السلام) دو دریائوں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہ اپنی مچھلی وہاں بھول گئے اور اس مچھلی نے زندہ ہو کر دریا میں اپنا راستہ لیا اور سرنگ بناتی ہوئی چلی گئی۔ یعنی مجمع البحرین پر پہنچ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے حضرت یوشع وضو کرنے لگے انہوں نے دیکھا کہ وہ مچھلی جس کے وہ محافظ تھے اور اس کی حفاظت کو معمولی بات سمجھتے تھے وہ زندہ ہو کر پانی کو پھاڑتی ہوئی دریا میں گھس گئی اور اس کے جانے سے پانی میں ایک طاق سا بن گیا خواہ وہ مچھلی کے جانے کا راستہ کھلا رہ گیا ہو یا مل گیا ہو حضرت یوشع (علیہ السلام) کو بڑا تعجب ہو اور انہوں نے خیال کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب پیدا ہوں گے تو میں ان سے عرض کرو دوں گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وہاں پہنچ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سو رہے اور یوشع (علیہ السلام) دریا سے وضو کرنے لگے وہ تلی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں نکل پڑی اور پانی میں بیٹھ گئی۔ وہاں طاق سا کھلا رہ گیا۔ ان کو دیکھ کر تعجب آیا چاہا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) جاگیں تب ان سے کہوں وے جاگے تو دونوں آگے چل کھڑے ہوئے کہنا بھول گئے۔ 12
Ayah 18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب وہ آگے نکل گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا ہمارا کھانا ہمارے پاس لا ہم نے تو اپنے اس سفر میں بڑی تکلیف اٹھائی۔

-62 پھر جب وہ دونوں اس جگہ سے اگٓے بڑھ گئے اور دور چلے گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا ہمارے چاشت کا کھانا اور ناشتہ ہمارے پاس لے آ، بلاشبہ ہم نے تو اپنے اس سفر میں بڑی مشقت اور تکلیف اٹھائی۔ یعنی جب دور نکل گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک معلوم ہوئی اور مشقت و تھکن بھی زیادہ محسوس ہوئی تب خادم سے ناشتہ طلب کیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ پہلے نہیں تھکے جب مطلوب چھوٹ رہا اس چلنے سے تھکے۔ 12 خلاصہ :- یہ کہ مجمع البحرین پر سونے کے بعد اٹھے تو بھوک نہ تھی جو کھانا مانگتے مچھلی کا کوئی ذکر نہیں آیا خادم کو بھی مچھلی کا واقعہ یاد نہیں آیا۔
Ayah 18:63

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے جواب دیا آپ نے ملاحظہ بھی کیا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو میں وہاں مچھلی رکھ کر بھول گیا اور مجھ کو یہ بات کہ میں آپ سے اس کا ذکر کرتا صرف شیطان ہی نے بھلائی اور اس مچھلی نے کچھ عجیب طور پر دریا میں اپنا راستہ کرلیا۔

-63 خادم نے کہا آپ نے ملاحظہ بھی کیا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو میں وہاں مچھلی رکھ کر بھول گیا اور مجھ کو یہ بات کہ میں آپ سے اس کا ذکر کرتا اور اس کے واقعہ کو بیان کرتا سوائے شیطان کے اور کسی نے نہیں بھلایا اور اس مچھلی نے زندہ ہو کر عجیب طریقہ سے اپنا راستہ دریا میں کرلیا اور دریا میں داخل ہوگئی۔ خادم کے تعجب کی وجہ یہ ہوئی کہ اول تو مچھلی کا زندہ ہوجانا پھر تھیلے میں سے نکل کر دریا میں گھس جانا پھر دریا میں گھسنا بھی اس انداز سے کہ سرنگ سی بناتے ہئے دریا میں چلا جانا اور بطور خرق عادت دریا میں نشان کا بن جانا۔
Ayah 18:64

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا وہی تو جگہ ہے جس کو ہم تلاش کر رہے تھے پھر وہ دونوں اپنے نشان ہائے قدم کو ڈھونڈتے ہوئے الٹے پھرے۔

-64 موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ تمام ماجرا سن کر فرمایا وہی تو وہ جگہ ہے جس کو ہم تلاش کر رہے تھے پھر وہ دونوں اپنے نقشہائے قدم کو تلاش کرتے اور کھوج لگاتے ہوئے واپس ہوئے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خادم کو ساتھ لئے ہوئے واپس ہوئے اور راستہ بھول نہ جائیں اس لئے اپنے نقشہائے قدم کی کھوج لگاتے ہوئے واپس آئے۔
Ayah 18:65

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

پس انہوں نے ہمارے بندوں میں اس بندے کو پا لیا جس کو ہم نے اپنے پاس سے ایک خاص رحمت دی تھی اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو ایک خاص علم سکھایا تھا۔

-65 پس انہوں نے وہاں پہنچ کر ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پا لیا جس کو ہم نے اپنے پاس سے ایک خاص رحمت عنایت کی تھی اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو ایک خاص علم سکھایا تھا۔ یعنی حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی رحمت یعنی نبوت یا ولایت خاص علم یعنی اسرار کو نیہ کا علم نہ اسرار الٰہیہ کا علم جو موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے خاص تھا اور وہ قرب الٰہی حاصل کرنے کا صحیح ذریعہ اور موجب تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وہ بندہ خضر (علیہ السلام) تھا مل کر سبب پوچھا آنے کا موسیٰ (علیہ السلام) نے بتایا خضر (علیہ السلام) نے کہا تم کو اللہ نے تربیت فرمائی پر بات یوں ہے کہ اللہ کا ایک علم مجھ کو ہے تم کو نہیں اور ایک تم کو ہے مجھ کو نہیں۔ ایک چڑیا دکھا دی دریا میں سے پانی پیتے کہا سارا علم سب خلق کا اللہ کے علم میں سے اتنا ہے جتنا دریا میں سے چڑیا کے منہ میں 12 حضرت خضر (علیہ السلام) کے ولی یا نبی ہونے میں علماء کا اختلاف ہے راجح یہ ہے کہ علماء حام طور پر ان کے نبی ہونے کے قائل ہیں۔ چڑیا دکھائی سمجھانے کو ورنہ مخلوق کے علم کو خلاق کے علم کے ساتھ اتنی بھی نسبت نہیں جتنی چڑیا کے چونچ کے پانی کو سمندر سے۔
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے یعنی خضبر سے کہا کہ کیا میں تیرے ساتھ اس شرط سے رہ سکتا ہوں کہ جو مفید اور بھلی چیز تجھ کو سکھائی گئی ہے اس میں سے تو کچھ مجھ کو بھی سکھا دے۔

-66 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ جو مفید اور راہ یابی اور بھلی چیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے سکھائی گئی ہے اس میں سے کچھ مجھ کو بھی آپ سکھا دیں یعنی میں آپ کی خدمت میں رہوں مگر اس شرط پر کہ آپ کو بدون کسب و اکتساب کے محض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوا ہے اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھا دیں۔
Ayah 18:67

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

حضر نے جواب دیا یقینا میرے ساتھ رہ کر تجھ سے صبر نہ ہو سکے گا

-67 حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یقینا تو میرے ساتھ رہ کر صبر و ضبط نہ کرسکے گا۔
Ayah 18:68

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور ان امور پر تو صبر کر بھی کس طرح سکتا ہے جو تیرے احاطہ واقفیت سے باہر ہیں

-68 اور موسیٰ (علیہ السلام) تو اس پر صبر بھی کس طرح کرسکتا ہے جو تیرے احاطہ واقفیت سے باہر ہے اور تیری سمجھ اس پر قابو نہیں پاسکتی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اندازہ لگا لیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت اور اولوالعزم پیغمبر ہیں یہ ہر بات اپنے نقطہ نگاہ سے غور کریں گے ان کے نزدیک وہ شریعت کے خلاف ہوگی تو اس پر اعتراض کریں گے تو ان سے نباہ مشکل ہوگا اسرار کونیہ میں تو اشارہ پاتے ہی کام کردینا ہے ان سے بحث کون کرے گا اسرار کونیہ کسی جزئی بات کا علم جو عام قانون اور قاعدے سے مستثنیٰ اور علم شریعت کلیات کا علم جہاں ہر بات کی رعایت اور ہر بات کا ضابطہ یہ گھبرا کر اعتراض کریں گے پھر آخر تفریق اور جدائی ہو جائیگی۔
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا انشاء اللہ تو مجھ کو ضبط کرنے والا پائے گا اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کروں گا۔

-69 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا انشاء اللہ آپ مجھ کو صابر اور ضابطہ یعنی ضابطہ کا آدمی پائیں گے اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی اور نافرمانی نہ کروں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کہہ کر وعدہ کیا اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ کوئی بات ایسی کریں گے جو کبھی بھی شریعت موسوی کے خلاف ہوگی۔
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

خضر نے کہا اچھا اگر تو میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو مجھ سے اس وقت تک کسی چیز کے متعلق سوال نہ کیجیو جب تک میں خود تجھ سے اس کی بابت کوئی ذکر شروع نہ کروں۔

-70 حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو اس وقت تک آپ مجھ سے کوئی سوال اور روک ٹوک نہ کریں جب تک میں خود آپ سے اس کا ذکر شروع نہ کروں۔ یعنی اگر کوئی بات بظاہر ناحق نظر آئے تو آپ اس وقت تک مجھ سے کوئی سوال یا کسی قسم کی باز پرس نہ کریں جب تک میں خود ہی آپ سے اس کا ذکر نہ کروں۔
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو حضرت خفیر نے کشتی کا ایک تختہ توڑ کر سوراخ کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تو نے کشتی میں اس لئے سوراخ کردیا کہ کشتی والوں کو غر ق کر دیی بیشک تو نے عجیب انوکھی بات کی۔

-7 1 بہرحال ! اس گفتگو کے بعد دونوں روانہ ہوئے اور چل پڑے یہاں تک کہ یہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اترتے وقت کشتی کا ایک تختہ توڑ کر کشتی کو پھاڑ دیا اور کشتی میں سوراخ کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اترتے وقت کشتی کا ایک تختہ توڑ کر کشتی کو پھاڑ دیا اور کشتی میں سوراخ کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ نے کشتی کو اس لئے پھاڑ دیا کہ آپ کشتی کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں اور اس کا انجام یہ ہو کہ کشتی پر سوار ہونے والے ڈوب جائیں بیشک یہ آپ نے انوکھی اور بھاری بات کی ۔
Ayah 18:72

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

خضر نے کہا کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔

-72 حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر و ضبط نہ کرسکیں گے۔
Ayah 18:73

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ جو میں بھول گیا اس پر تو مجھ سے مواخذہ نہ کر اور میرے اس کام میں مجھ پر دشواری نہ ڈال۔

-73 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میری بھول چوک پر اور جو میں بھول گیا اس پر مجھ سے مواخذہ اور میری گرفت نہ کیجیے اور میرے اس کام میں مجھ پر سختی اور دشواری نہ ڈالئے۔ یعنی جب کشتی سے اترے تو اس میں سوراخ کردیا اسر پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ اس میں کشتی والوں کا ضرر تو ظاہر ہی ہے اور ڈوب جانے کا بھی خطرہ ہے تو یہ واقعی بڑی بھاری بات کی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب اس نائو پر چڑھنے لگے نائو والوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان کر مفت چڑھا لیا اس احسان کے بدلے یہ نقصان اور تعجب لگا لیکن کنارے کے نزدیک جا کر توڑا لوگ نہ ڈوبے توڑنا یہ کہ ایک تختہ نکال ڈالا۔ 12 پھر شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ پہلا پوچھنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول کر ہوا اور دوسرا اقرار کرنے کو اور تیسرا رخصت کو۔ 12
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو خضر نے اس لڑکے کو قتل کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تو نے بغیر کسی جان کے بدلے ایک بےگناہ جان کو مار ڈالا بیشک تو نے بڑی ہی ان ہوتی اور بےجا بات کی۔

-74 پھر دونوں بزرگ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب ان دونوں نے ایک کم سن اور نابالغ لڑکے سے ملاقات کی تو حضرت خضر نے اس لڑکے کو مار ڈالا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ نے ایک پاکیزہ اور بےگناہ جان کو قتل کردیا اور وہ بھی بغیر کسی جان کے بدلے قتل کیا بلاشبہ تو آپ نے بڑی ان ہوئی اور بےجا حرکت کی۔ یعنی اس نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا جو قصاص کے طور پر قتل کرتے اس سے بڑھ کر اور کیا بےجا اور ان ہوئی حرکت ہوسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ستھری یعنی بےگناہ جب تک لڑکا بالغ نہ ہو اس پر کچھ گناہ نہیں ایک گائوں پاس لڑکے کھیلتے تھے ایک لڑکے کو مار ڈالا اور چل کھڑے ہوئے۔
Ayah 18:75

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

خضر نے کہا کیا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا

-75 حضرت خضر علیہ ال سلام نے فرمایا میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کرسکیں گے۔
Ayah 18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر میں اس واقعہ کے بعد تجھ سے کچھ پوچھوں تو تو مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھیو بیشک تو نے میری طرف سے عذر قبول کرنے میں انتہا کردی

-76 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں اس واقعہ کے بعد آپ سے پکچھ پوچھوں اور آپ سے کوئی سوال کروں تو آپ مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھیں بیشک آپ نے میری طرف سے عذر قبول کرنے میں انتہا کردی اور میری طرف سے آپ نے الزام اتار دیا۔ یعنی آپ نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ آپ پر کوئی الزام رکھا جاسکے۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گائوں والوں پر پہنچے تو گائوں والوں سے کھانا طلب کیا مگر ان گائوں والوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا لیکن ان دونوں نے اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو گراہی چاہتی تھی یہ دیکھ کر خضرنے اس دیوار کو سیدھا کردیا اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تو چاہتا تو اس دیوار کی درستی پر ان گائوں والوں سے کچھ مزدوری ہی لے لیتا۔

-77 پھر یہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب ایک گائوں والوں پر پہنچے تو بستی والوں سے کھانا طلب کیا مگر ان گائوں والوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی اور کھانا مہیا کرنے سے انکار کردیا پھر ان دونوں اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو اس قدر جھک گئی تھی کہ گراہی چاہتی تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس دیوار کو سیدھا کردیا۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر فرمایا اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کی درستی پر ان گائوں والوں سے کچھ مزدوری لے لیتے۔ یعنی آپ نے ایسے لوگوں کے ساتھ سلوک کیا جو اپنے بخل کی وجہ سے اس سلوک کے مستحق نہیں تھے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گائوں کے لوگوں نے مسافر کا حق نہ سمجھا کہ مہمانی کریں ان کی دیوار مفت بنانی کیا ضرور۔ 12
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

خضر نے کہا بس اس وقت میرے اور تیرے مابین علیحدگی ہوتی ہے میں تجھ کو ان چیزوں کی صحیح حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر تجھ سے صبر نہ ہوسکا

-78 حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ وقت میری اور آپ کی علیحدگی اور میرے اور آپ کے مابین جدائی کا ہے میں آپ کو ان چیزوں کی صحیح حقیقت سے آگاہ کئے دیات ہوں اور … بتائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا ۔ یعنی آپ کی شرط کے مطابق اس سوال کے بعد جدائی اور علیحدگی ہے۔ ہاں ! میں آپ کو ان تمام باتوں کی حقیقت اور تاویل بتائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اب کی بار موسیٰ (علیہ السلام) نے جان کر پوچھا رخصت ہونے کو سمجھ لیا کہ یہ علم میرے ڈھب کا نہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ علم تھا جس میں خلق پیروی کرے تو ان کا بھلا ہو۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا علم وہ کہ دوسرے کو اس کی پیروی بن نہ آوے۔ 12
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

بہرحال وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس سے محنت مزدوری کرتے تھے میں نے یہ ارادہ کیا کہ اس کشتی میں عیب پیدا کر دوں کیونکہ ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر بےعیب کشتی کو زبردستی چھین لیا کرتا تھا۔

-79 بہرحال وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب اور مساکین لوگوں کی تھی یہ مساکین دریا میں اس کشتی سے محنت مزدوری کیا کرتے تھے میں نے یہ چاہا اور ارادہ کیا کہ اس کشتی میں کوئی عیب پیدا کر دوں کیونکہ ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر بےعیب کشتی غصب کرلیا کرتا تھا اور زبردستی چھین لیا کرتا تھا۔ یعنی کشتی تھی مساکین کی اگر ظاہری طور پر ٹھیک رہتی تو ظالم بادشاہ چھین لیتا میرے عیب پیدا کردینے سے اس غاصب کے غصب سے ان کی کشتی محفوظ رہ گئی۔
Ayah 18:80

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور رہا وہ لڑکا تو اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ماں باپ دونوں ایمان والے تھے سو ہم اس بات سے ڈرے کہ کہیں یہ ان ماں باپ پر سرکشی اور کفر کا اثر نہ ڈال دے۔

-80 اور رہا وہ لڑکا تو اس کا حال یہ تھا کہ اس کے ماں باپ دونوں صاحب ایمان تھے پس ہم اس بات سے ڈرے کہ کہیں یہ ماں باپ پر سرکشی اور کفر کا اثر نہ ڈال دے۔ یعنی ماں باپ ہیں مومن اور اس لڑکے سے ان کو محبت بہت ہے یہ بڑا ہو کر کافر ہوگا کہیں ایسا نہ ہو کہ جو ان ہو کر ماں باپ کو مجبور کرے ۔ چونکہ یہ بات تحقیق تھی اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) کو ڈر ہوا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اگر وہ بڑا ہوتا تو موذی اور بد راہ ہوتا تو اس کے ماں باپ اس کے ساتھ خراب ہوتے بعضے آدمی کو بنیاد بری پڑتی ہے اور بعضے کی بھلی جیسے ککڑی کھیرا کوئی میٹھا پڑا کوئی کڑوا اسی طرح آدمی کی بنیاد بھی اصل بہتر ہے بگڑ کر کوئی پھل کڑوا نکلتا ہے اس کا علم اللہ کو ہے پیغمبر نے فرمایا ہر آدمی کی بنیاد مسلمانی پر ہے یہی معنی سمجھنے چاہئیں۔ 12