Ayah 18:81-8 1 لہٰذا ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ان دونوں ماپ کا پروردگار ان کو اس لڑکے کی بجائے کوئی اور اولاد دیدے جو پاکیزگی میں اس مقتول لڑکے سے بہتر اور محبت اور شفقت میں قرب تر ہو۔ یعنی کوئی ایسی اولاد عطا کر دے جو خصائل رذیلہ اور کفر و بد دینی کی آلائشوں سے پاک ہو اور بنی نوع انسان کی ہمدرد اور شفقت و محبت کرنے والی ہو۔ یہ دونوں خوبیاں ظاہر ہے کہ مسلمان میں ہی ہوسکتی ہیں یا جس میں یہ خوبیاں ہوں وہ مسلمان ہی ہوسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اسی ماں باپ کے گھر پیچھے ایک بیٹی پیدا ہوئی ایک نبی سے بیاہی گئی اس سے ایک نبی پیدا ہوئے جس سے ایک امت قائم ہوئی۔ 12
Ayah 18:82-82 اور رہی وہ دیوار سو وہ گائوں کے دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس قصبے میں رہتے تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ دبا ہوا تھا اور ان دونوں لڑکوں کا باپ جو مرگیا تھا ایک نیک آدمی تھا، لہٰذا آپ کے پروردگار نے اپنی مہربانی سے یہ چاہا اور یہ ارادہ کیا کہ وہ دونوں یتیم لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور خود اپنا دبا ہوا مال جو ان کو ورثہ میں ملا تھا نکال لیں اور یہ تمام کام اور ان تمام کاموں میں سے کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا بلکہ جو کچھ کیا وہ حضرت حق کے حکم اور الہام سے کیا ہے۔ یہ ان تمام باتوں کی صحیح حقیقت تھی جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا اور آپ ان پر صبر نہیں کرسکے۔ آخر میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے بات صاف کہہ دی کہ میں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کی جو حکم ہوتا گیا وہ کرتا رہا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جو کام خدا کے حکم سے کرنا ضرور ہے اس پر مزدوری نہیں لینی آگے قصہ فرمایا ذوالقرنین بادشاہ کا یہ بھی یہود کے سکھانے سے مکہ کے وگ پوچھتے تھے پیغمبر کے آزمانے کو جیسے اصحاب کہف کا قصہ۔ 12
خلاصہ :- یہ ہے کہ جب مکہ کے لوگ قرآنی دلائل کا جواب دینے سے عاجز ہوجاتے تو اہل کتاب سے مشورہ کرتے کہ تم پڑھے لکھے لوگ ہو کوئی ایسی بات اور کوئی ایسا سوال ہم کو بتائو جو ہم اس شخص سے دریافت کریں اور اس کو اس کا جواب بن نہ پڑے اور یہ زچ ہوجائے اور اہل کتاب وقتاً فوقتاً ان کو بتاتے رہتے چناچہ اس موقعہ پر انہوں نے تین سوال سکھائے تھے روح اصحاب کہف ذوالقرنین کے حلاتا چناچہ دو باتوں کا جواب گزر چکا تیسرے سوال کا جواب آگے مذکور ہے۔
Ayah 18:83-83 اور اے پیغمبر یہ منکرین مکہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ا بھی تم کو پڑھ کر سناتا ہوں اور اس کا واقعہ تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس بادشاہ کو ذوالقرنین کہتے ہیں اس واسطے کہ دنیا کے دونوں سروں پر پھر گیا تھا مشرق اور مغرب پر بعضے کہتے ہیں یہ لقب ہے سکندر کا بعضے کہتے ہیں کوئی بادشاہ پہلے گزرا ہے۔ 12
بعض حضرات نے کہا ہے ذوالقرنین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات اور معانقہ کیا ہے اور اس کو جب معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مکہ میں ہیں تو یہ سواری پر سوار نہ ہوا اور پیدل چل کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو دعا دی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) اس کے وزیر تھے اس پر بہت لوگوں نے اتفاق کیا ہے کہ یہ کوئی دین دار بادشاہ تھا جو نبی یا ولی ہو گزرا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بادشاہ اہل عرب میں سے تھا عرب کے شعراء اس کی بہت تعریف کرتے ہیں اور اس کا نام بہت ادب و احترام سے لیتے ہیں چونکہ یہ واقعہ تدوین تاریخ سے پہلے کا ہے اس لئے تاریخ میں کوئی اطمینان بخش تفصیل نہیں ملتی۔ (واللہ اعلم)
Ayah 18:84-84 بلاشبہ ہم نے اس کو روئے زمین پر اقتدار دیا تھا اور ہم نے اس کو ملک میں جمایا تھا اور ہم نے اس کو ہر قسم کا ضروری ساز و سامان دیا تھا۔
Ayah 18:85-85 لہٰذا وہ ایک سامان کے پیچھے لگا اور وہ ایک راہ پر ہو لیا۔ یعنی فتوحات کے قصد سے سامان سفر کی تیاری کرنے لگا اور مغرب کی راہ ہو لیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سر انجام کرنے لگا سفرکا۔ 12
Ayah 18:86-86 یہاں تک کہ وہ چلتے چلتے جب غروب آفتاب کے موقع پر پہونچا تو اس نے آفتاب کو ایک سیاہ کیچڑ اور دلدل کے چشمے اور کنڈا اور ندی میں ڈوبتا ہوا پایا اور اس نے چشمہ کے نزدیک ایک قوم کو آباد پایا۔
ہم نے کہا اے ذوالقرنین ان لوگوں کو خواہ تو کوئی سزا دے یا ان کے ساتھ حسن سلوک کا طریقہ اختیار کر۔ یعنی ذوالقرنین چلتے چلتے اور فتوحات کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں اس نے آفتاب کو ایک سیاہ دلدل میں غروب ہوتا ہوا پایا گویا اس کو سمندر کا آخری حصہ ایسا معلوم ہوا جیسے دلدل میں آفتاب غروب ہو رہا ہے حالانکہ آفتاب غروب نہیں ہوتا مگر سمندر میں ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ عام طور سے سمندر میں سفر کرنے والوں کو معلوم ہوا کرتا ہے اقصاء مغرب میں اس نے ایک قوم کی بستی پائی جس پر اس نے قبضہ کرلیا وہاں جو قوم آباد تھی وہ کافر اور بت پرست ہوگی اس کے متعلق بذریعہ الہام ارشاد ہوا کہ اے ذوالقرنین تجھ کو ان پر حاکمانہ اقتدار حاصل ہے تو ان کے ساتھ چاہے سزا کا رویہ اختیار کر اور چاہے حسن سلوک کا طریقہ اختیار کر۔ یعنی اول اسلام کی دعوت دو پھر نہ مانیں تو سزا دو ۔ یا یہ مطلب ہو کہ ان کے ساتھ زیادتی کرو یا منصفانہ برتائو کرو کہتے ہیں کہ اس نے پہلے اسلام کی دعوت دی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ذوالقرنین کو شوق ہوا دیکھے دنیا کی بستی کہاں تک بستی ہے سو مغرب کیطرف اس جگہ پہونچا کی دلدل تھا نہ گذر آدمی کا نہ کشتی کا اللہ کے ملک کی حد نہ پاسکا اس کو یہ کہا یعنی دونوں بات کی قدرت دی ہر بادشاہ کو ہر حاکم کو قدرت ملتی ہے چاہے وہ خلق کو ستاوے چاہے اپنی خوبی کا ذکر جاری رکھے۔ 12
Ayah 18:87-87 ذوالقرانین نے کہا ان لوگوں میں سے جو کفر کا مرتکب رہے گا اور ظلم پر قائم رہے گا تو اس کو ہم سزا دیں گے پھر وہ قیامت میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اس کو سخت انہوئی سزا دے گا۔
Ayah 18:88-88 اور ان لوگوں میں سے جو ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کو آخرت میں بھی بدلے میں بھلائی ملے گی اور ہم بھی اپنے برتائو میں اس کے ساتھ آسانی کریں گے اور اس کو نرم اور آسان بات کہیں گے۔ یعنی ہم کسی پر زیادتی نہیں کریں گے بلکہ جو سلوک کا مستحق ہوگا اس کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہماری دعوت سے روگردانی کرے گا وہ سزا کا مستوجب ہوگا یہاں بھی اور وہاں بھی اور ہماری دعوت کو قبول کر کے بھلی راہ اختیار کرے گا اس کو وہاں بھی بھلا صلہ اور یہاں بھی نرمی اور آسانی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حاکم جو عادل ہو اس کی یہی راہ ہے بروں کو سزا دے برائی کی اور بھلوں سے نرمی کرے اس نے یہ بات کہی یہ چال اختیار کی۔ 12
Ayah 18:89-89 پھر وہ ایک ساز و سامان کے پیچھے لگا اور ایک دوسری راہ ہو لیا۔ یعنی ساز و سامان درست کر کے اب کے مشرقی سمت اختیار کی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اور سفر کا انجام کیا۔ 12
Ayah 18:90-90 یہاں تک کہ جب وہ چلتے چلتے طلوع آفتاب کی جگہ پہونچا تو اس نے آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے پایا کہ ہم نے ان کے لئے آفتاب سے بچائو کی کوئی اوٹ اور کوی پردہ نہیں رکھا تھا۔ یعنی اقصاء مشرق میں پہونچا تو وہاں منتہائے مشرق میں ایک قوم کو پایا جو برہنہ اور بےخانماں تھی۔ مکان وغیرہ بنانا نہیں جانتی تھی جو سایہ کا کوئی انتظام کرتی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں شاید وہ لوگ جنگلی سے ہوں گے کہ گھر کا بنانا اور چھت ڈالنا ان میں دستور نہ ہوگا۔ 12
Ayah 18:91-9 1 یہ واقعہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو ساز و سامان تھا اس کا ہم کو پورا پورا علم تھا اور ہم نے ازروئے علم و خبر اس کا احاطہ کر رکھا تھا۔ یعنی مشرق و مغرب کی جو تفصیل بیان کی گئی یہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کی فتوحات اور اس کے ساز و سامان کا سب کا ہم کو پورا پورا علم تھا ہوسکتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو سلوک اہل مغرب سے کیا تھا وہی اہل مشرق سے کیا ہو اور کذالک سے ادھر ہی اشارہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تاریخ والے شاید اس جگہ کچھ اور کہتے ہوں گے۔ فی الحقیقت اتنا ہے جو فرمایا۔ 12
Ayah 18:92-92 پھر وہ ایک اور سفر کے ساز و سامان کے پیچھے لگا اور ایک راہ ہو لیا۔ یعنی پھر مشرق کے سفر سے فارغ ہو کر اور ایک سفر کا ساز و سامان کرنے لگا اور ساز و سامان مہیا کر کے ایک تیسرا سفر اختیار کیا یہ سفر غالباً شمال کی جانب ہوگا جیسا کہ عام مفسرین کا خیال ہے لیکن قرآن کریم میں کوئی تصریح اس سفر کے سمت کی نہیں ہے۔
Ayah 18:93-93 یہاں تک کہ جب وہ چلتے چلتے دو پہاڑوں کے درمیان پہونچا تو اس نے ان پہاڑوں سے درے ایک ایسی قوم کو پایا جو کسی بات کو سمجھنے کے بالکل قریب نہ تھی۔ یعنی دو پہاڑ تھے اور ان کے قریب ہی ایک قوم ایسی آباد تھی جو ذوالقرنین اور اس کی فوج کی بات اور بولی سمجھتی دو پہاڑ شاید اس درے کو فرمایا جو پہاڑ میں واقع تھا پہاڑ کے درے اور گھاٹی کے دو سمت پہاڑ ہوتے ہیں اور بیچ میں راستہ ہوتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کسی کی بولی ان سے نہ ملتی تھی اور دو آڑ دو پہاڑ تھے اس ملک میں اور یاجوج ماجوج کے ملک میں وہی اٹکائو تھی ان پر چڑھائی نہ تھی مگر بیچ میں کھلا تھا ایک گھاٹا اس راہ سے یاجوج ماجوج آتے اور لوگوں کو لوٹ مار کر چلے جاتے۔ 12
Ayah 18:94-94 اس قوم کے افراد نے عرض کیا شاید کسی ترجمان کے ذریعے سے گفتگو ہوئی ہوگی ۔ اے ذوالقرانین یاجوج ماجوج کی قوم کے لوگ اس سر زمین میں بہت فساد برپا کرتے ہیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم تیرے لئے بطور امداد کچھ روپیہ اور مال جمع کردیں تاکہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک آڑ اور دیوار بنا دے۔ یاجوج ماجوج کوئی قوم غیر معمولی طاقت کی مالک ہوگی۔ اگرچہ اس وقت تک اس قوم کا پتہ اور اس دیوار کا سراغ نہیں مل سکا لیکن کیا عجب ہے کہ مستقل قریب میں یا بعید میں پتہ لگ جائے جس طرح بعض بر اعظم اب سے پہلے معلوم نہ تھے اور بعد میں معلوم ہوئے یہ قوم ان کی مدافعت کی طاقت نہ رکھتی تھی اس لئے ذوالقرنین کو بڑا بادشاہ سمجھ کر اس سے درخواست کی اور اس نے منظور کرلی اور اس درے کو جس سے یاجوج ماجوج نکل کر مار دھاڑ کرتے تھے بند کردیا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی آپس میں باچھ ڈال کر کچھ مال جمع کردیں اس کو دیکھا بادشاہ صاحب فوج و اسباب صاحب حکم جانا کہ اس سے یہ کام ہو سکے گا یا جوج ماجوج عرب کی زبان میں نام ہے ایک قوم کا دو دادوں کی اولاد ایک یاجوج ایک ماجوج نہیں معلوم کہ اس ملک میں ان کا کیا نام تھا ترکوں کے ملک سے لگتے تھے اور قوم میں ترکوں کے بھائی تھے۔ 12 حضرت شاہ صاحب نے مفسرین کے مختلف اقوال میں سے ایک قول کو اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 18:95-95 ذوالقرنین نے کہا کہ میرے پروردگار نے مجھے جس مال پر اقتدار اور اختیار دیا وہ بہتر اور کافی ہے یعنی چندہ جمع کرنے اور بچھ کا مال اکٹھا کرنے کی ضرورت نہیں البتہ تم اتنا کرو کہ ہاتھ پائوں سے میری امداد کروتو میں تمہارے اور … یاجوج ماجوج کے مابین ایک مضبوط دیوار بنا دوں اور اس درے کو بند کر دوں۔ یعنی میرے پروردگار نے مجھے جس مال پر تصرف کا اختیار دے رکھا ہے وہ کافی ہے مجھے تو ہاتھ بٹانے والوں کی ضرورت ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مال میرے پاس بہت ہے مگر ہاتھ پائوں سے ہمارے ساتھ تم بھی محنت کرو۔ 12
Ayah 18:96-96 اچھاتو میرے پاس لوہے کے تختے لے آئو یہاں تک کہ جب ان تختوں کو دونوں پہاڑوں کے درمیان اوپر تلے چن کر پہاڑوں کے بالائی حصہ تک برابر کردیا تو ذوالقرنین نے کہا کہ اب ان تختوں پر آگ جلا کر دھونکو یہاں تک کہ جب ان لوہے کی چادروں کو دھونکتے دھونکتے آگ کی طرح سرخ کردیا اور ان کو آگ بنادیا تو ذوالقرنین نے حکم دیا کہ اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لائو کہ میں اس گرم دیوار پر انڈیل دوں۔ یعنی بجائے اینٹوں کے لوہے کی چادریں اور تختے اوپر تلے رکھ کر چنے اور درے کو اسی طرح بند کیا جب یہ لوہے کے تختے اور چادریں اوپر تک چن دیئے گئے تو اسپر سے پگھلا ہوا تانبا ڈال دیا تانبا اور جوں میں گھس گیا اور وہ سب دیوار آپس میں مل کر ایک جان ہوگئی اور پہاڑ بن گئی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اول لوہے کے بڑے بڑے تختے بنائے ایک پر ایک دھرتا گیا کہ دو پہاڑوں کے برابر ملا دیا۔ پھر تانبا پگھلا اس کے اوپر سے ڈالا درجوں میں بیٹھ کر جمع گیا سب مل کر ایک پہاڑ ہوگیا۔ ہمارے پیغمبر پاس ایک شخص نے کہا میں سد تک گیا ہوں اور اس کو دیکھا۔ فرمایا اس کی طرح بیان کر اس نے کہا جیسے چارخانہ کی لنگی فرمایا ت و سچا ہے وہ لوہے کے تختے سیاہ لگتے ہیں اور درجوں کی لکیر تانبے کی سرخ 12
Ayah 18:97-97 لہٰذا وہ یاجوج ماجوج نہ تو اس لوہے کی دیوار پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں نقب لگانے کی قات رکھتے ہیں۔ یعنی باوجود کوشش کے دونوں باتوں کی قدرت نہیں رکھتے اگرچہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان میں ایسا بادشاہ صاحب عزم اور صاحب حکومت اس کام پر لگا نہیں اور تھوڑے لوگوں سے ہو نہیں سکتا۔ 12
Ayah 18:98-98 دیوار کی تکمیل کے بعد ذوالقرنین نے کہا یہ دیوار میرے پروردگار کی مہربانی ہے پھر جس وقت میرے پروردگار کا وعدہ آجائے گا تو وہ اس دیوار کو برابر کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ برحق اور سچا ہے جو یقینا پورا ہوگا۔ یعنی اس وقت تو یاجوج ماجوج کے شر سے محفوظ کردیئے گئے ہیں لیکن جب فنا کا وقت آئے گا تو حق تعالیٰ اس کو گرا کر زمین کے برابر کر دے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت کے وقت میں روپیہ برابر سوراخ اس میں پڑگیا اور حضرت عیسیٰ کے وقت ان کے نکلنے کا وعدہ ہے سب دنیا کو لڑائی سے عاجز کردیں گے آسمان پر تیر چلا دیں گے وہ لہو بھرے آویں گے۔ آخر حضرت عیسیٰ کی بد دعا سے ایک بار سارے مر رہیں گے۔ ذوالقرنین ایسی محکم دیوار پر منتظر تھا کہ آخر یہ بھی فنا ہوگی نہ جیسے وہ باغ پر مغرور 12
Ayah 18:99-99 اور ہم اس دن ان کی ایسی حالت کردیں گے کہ وہ ایک دوسرے میں موجوں کی طرح گھس رہے ہوں گے اور صور پھونکا جائے تو ہم سب کو یکجا جمع کرلیں گے۔ یا تو یہ مطلب ہے کہ وہ اس دن اس کثرت سے نکلیں گے کہ ان کا اژدھام ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے میں موجوں کی مانند گھسے جاتے ہوں گے یعنی بیشمار ہوں گے یا پہلے نفخہ صور کی طرف اشارہ ہوگا کہ اس وقت اس کی خوفناک آواز کا یہ اثر ہوگا کہ سب گڈ مڈ ہوجائیں گے حتیٰ کہ درندے بھی آبادیوں میں بھاگ آئیں گے اور سب ختم ہوجانے کے بعد دوسری بار جب صور پھونکا جائے گا تو پھر ایک ایک کر کے سب کو جمع کرلیا جائے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ قیامت کے دن ہوگا جو رب کا وعدہ ہے۔ 12
Ayah 18:100- 100 اور ہم جہنم کو اس دن کافروں کے سامنے لے آئیں گے۔
Ayah 18:101- 10 1 وہ کافر جن کی آنکھیں ہمارے ذکر یعنی قرآن کریم سے پر دئہ غفلت میں تھیں اور وہ ہمارے کلا مکو سن بھی نہ سکتے تھے۔ یعنی آنکھوں پر غفلت کے پردے اور کانوں میں ثقل پھر ایمان کس طرح نصیب ہوتا ۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لا دیں اور کسی کی بات نہ سنتے ضد سے کہ سمجھائے سمجھیں 12 ذوالقرنین بادشاہ کے سلسلے میں متقدمین مفسرین کے باہمی اقوال مختلف ہیں۔ حضرات متاخرین نے اپنی تحقیق سے اس میں کچھ اور اضافہ کیا لیکن مسئلہ کو اور بھی الجھا دیا اور ہمارے زمانہ کے لوگوں نے تو یا جوج ماجوج اور سد اور ذوالقرنین کے واقعات میں ایسی ایسی تاویلات بعیدہ سے کام لیا کہ قرآن وحدیث کا مفہوم ہی مسخ کردیا اس بارے میں تین باتیں زیادہ موضوع بحث رہیں۔ اول یہ ذوالقرنین کو ن ہے دس کہاں ہے اور یاجوج ماجوج کون ہیں اور وہ آج کل کہاں ہیں ہم اس بارے میں ان اہل علم کی تحقیق کا ذکر کرتے ہیں جو اور حضرات سے راجح ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی تحقیق احادیث صحیحہ اور قرآن کریم سے زیادہ قریب ہے۔
سکندر ذوالقرنین کے متعلق عام طور پر اہل تاریخ کا خیال ہے کہ یہ سکندر وہ ہے کہ جس کا پایہ تخت یونان تھا اور یہی اسکندریہ کا بانی تھا یہ سکندر حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً تین سو برس پہلے ہوا تھا کسی نے کہا وہ ایک رومی جوان تھا کسی نے کہا اس کا نام عبداللہ بن ضحاک تھا لیکن سہیل (رح) نے فرمایا کہ دو ذوالقرنین ہوئے ایک وہ جو یونانی ہے اور ایک وہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا ہے اور ملت ابراہیمی کا پیرو تھا اور حضرت ابراہیم پر ایمان لایا تھا۔
قرآن کریم میں جس ذوالقرنین کا ذکر ہے یہ وہی ذوالقرنین ہے۔ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ البتہ امام رازی نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے۔ (واللہ اعلم) یہ ذوالقرنین نبی ہو یا نہ ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ سکندر ایک صالح۔ دیندار مومن اور منصف مزاج بادشاہ تھا اور اس کے وزیر حضرت خضر تھے اور یونانی سکندر کافر اور اس کا وزیر ارسطو تھا اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ ابراہیمی ذوالقرنین اولیاء اللہ میں سے ہو رہی ذوالقرنین کی سد اور دیوار جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے اس کے متعلق قرآن وحدیث سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔- 1 وہ دیوار لوہوے کی ہے۔ -2 اس دیوار کے دونوں سرے دو طرفہ پہاڑ سے ملے ہوئے ہیں جیسا کہ ہم نے کہا تھا کہ وہ ایک پہاڑی ذرہ اور گھاٹی ہے جو اس دیوار سے بند کردی گئی ہے۔-3 اس کا بنانے والا کوئی ذی مرتبت بادشاہ ہے۔ -4 اس دیوار کے اس پارجو یاجوج ماجوج ہیں وہ ابھی تک نہیں نکلے اور ظاہر نہیں ہوئے۔-5 وہ لوگ ہر روز اس کو چھیلتے رہتے ہیں مگر ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے صرف حضور ﷺ کے زمانے میں ایک سوراخ اس میں ہوگیا تھا جس قدر وہ چھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ رات کو پھر اسی طرح کردی جاتی ہے۔ قریب قیامت میں شام کو انشاء اللہ کہہ کر جائیں گے اور وہ رات کو درست نہ ہوگی اور دوسرے روز اس کو توڑ کر نکل آئیں گے۔-6 وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں نکلیں گے اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور طاقت میں بھی عام انسانوں سے بہت زیادہ ہوں گے۔-7 وہ دفعتاً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے مرجائیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہی طور پر پناہ گزیں ہوں گے اور دوسرے لوگ اپنے اپنے مکانوں میں بند ہوں گے۔
ظاہر ہے کہ باوجود ترقی کے اور جغرافیائی تحقیق کے لوگ اس کا پتہ نہیں لگا سکے اور وہ ابھی تک پردہ اخفا میں ہے جو کچھ قرآن کریم نے فرمایا ہے اور جو کچھ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کی تصدیق کرنی اور اس پر ایمان رکھنا چاہئے۔
Ayah 18:102- 102 کیا اب بھی منکرین دین حق کا یہ خیال ہے کہ وہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کار ساز اور اپنا حمایتی بنائیں اور میرے سوا میرے بندوں کو اپنا معبود و حاجت روا مقرر کریں۔
بلاشبہ ! ہم نے ان منکروں کی مہمانی کو دوزختیار کر رکھی ہے۔ یعنی میرے بندے مثلاً مسیح (علیہ السلام) اور فرشتہ وغیرہ جو میرے مملوک اور محکوم ہیں میرے مقابلہ میں ان کو اپنا معبود اور حمایتی پکڑیں۔ اس توقع پر کہ یہ قیامت میں ہم کو عذاب سے بچائیں گے تو یہ بات بالکل غلط ہے وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں اور وہ اس جہنم سے بچانے والے نہیں جو بطور مہمانی ان منکروں کیلئے ہم نے تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 18:103- 103 آپ ان سے فرمائے کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو با اعتبار اعمال کے سخت نقصان اور خسارے میں ہوں گے۔ یعنی جن کے تمام اعمال اکارت ہوجائیں گے اور اعمال کے اعتبار سے گھاٹے ہی گھاٹے میں رہیں گے۔
Ayah 18:104- 104 یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام دوڑ دھوپ اور کی کرائی محنت جو دنیوی زندگی میں انہوں نے کی تھی سب گئی گزری اور بےکار ہوگئی اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنے جہل کی وجہ سے برے کاموں کو اچھا سمجھ کر کرتے رہے اور اگر کوئی اچھا کام بھی کیا تو وہ کفر کی وجہ سے بیکار ہوگیا۔
Ayah 18:105- 105 یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی آیتوں کا اور اس کی پیشی میں حاضر ہونے کا انکار کرتے رہے لہٰذا ان کے تمام اعمال نیست و نابود اور اکارت ہوگئے۔ پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ یعنی جب عمل ہی نہیں رہے تو تلے کیا یا یہ کہ قیامت کے دن ان کا کوئی وزن اور ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وہ آخرت کو مانتے نہ تھے تو اس کے واسطے کچھ کام نہ کیا پھر ایک پلہ کیا تو لے۔ 12
Ayah 18:106- 106 ان لوگوں کا بدلہ وہی ہوگا جو اوپر مذکور ہوا یعنی جہنم بسبب اس کے کہ انہوں نے کفر کا ارتکاب کیا اور کافرانہ روش اختیار کی اور میری آیات کا اور میرا رسولوں کا مذاق اڑایا۔ یعنی ان کی جزا اور ان کا بدلہ جہنم ہے چونکہ یہ منکر رہے اور کفر پر قائم رہے اور میری قدرتوں کا اور میرے قرآن کریم کا اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔
Ayah 18:107- 107 یقینا جو لوگ ایمان لائے اور دعوت ایمانی کو قبول کیا اور نیک اعمال کے پابند رہے ان کی مہمانی کے لئے سایہ دار باغ ہوں گے۔
Ayah 18:108- 108 وہ حضرات ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کی خواہش نہ کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ بہشت کے باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے اکتا کر کسی دوسری جگہ جانے اور منتقل ہونے کی خواہش اور آرزو نہ کریں گے۔
Ayah 18:109- 109 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے اگر میرے پروردگار کی باتیں لکھنے اور منضبط کرنے کے لئے سمندر کا پانی سیاہی ہو تو میرے پروردگار کی باتیں ختم ہونے سے پہلے وہ سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس سمندر کی مدد اور امداد دینے کے لئے اسی جیسا ایک سمندر لے آئیں ۔ یعنی وہ عبارات اور وہ کلمات جو صفات الہیہ پر دال ہوں۔ پس ایسے کلمات لکھنے کے لئے ایک سمندر کے پانی کو روشنائی بنا لیا جائے تو وہ سمندر اس سے پہلے کہ وہ کلمات پورے ہوں ختم ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اوصاف سے تعبیر کرنے والے کلمات ختم نہ ہوں بلکہ اگرچہ ہم ایک سمندر اس کی مثل اور بھی لے آئیں تب بھی کلمات رب کے ختم ہونے سے پہلے وہ سمندر بھی ختم ہوجائے گا اور دو سمندر بھی ناکافی ہوں گے۔
Ayah 18:110- 1 10 آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی اور بشر ہوں مگر ہاں میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود حقیقی صرف ایک ہی معبود ہی تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملاقات کا امیدوار ہے اور اس سے ملنے کا آرزو مند ہے اس کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت اور بندگی میں کسی اور کو شریک نہ کرے۔ یعنی مجھے ملکیت یا اور کوئی مخلوق ہونے کا دعویٰ نہیں میں تو تم ہی جیسا ایک بشر ہوں اور مجھ پر یہ وحی ضرور آتی ہے کہ معبود تم سب کا صرف ایک ہی ہے لہٰذا اس سے ملاقات کا جو خواہش مند ہے اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ایک نیک اعمال کی پابندی اور دوسرے شرک سے احتراز۔
تم تفسیر سورة کھف