17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ خدا جملہ عیوب سے منزہ ہے جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا وہ مسجد اقصیٰ جس کے گردا گرد ہم نے ہر قسم کی برکتیں رکھی ہیں اس بندے کو لے جانے سے مقصد یہ تھا کہ ہم اس کو اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھائیں بیشک خدا بڑا سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے

- 1 ہر قسم کے عیوب سے وہ اللہ تعالیٰ پاک اور منز ہ ہے جو اپنے بندے محمد ﷺ کو راتوں رات مسجد حرام یعنی کعبہ کی مسجد سے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس تک لے گیا وہ مسجد اقصیٰ جس کے چاروں طرف اور جس کے اردگرد ہم نے ہر قسم کی ظاہری اور باطنی برکتیں رکھی ہیں ہم اس کو اس لئے لے گیء تاکہ ہم اس کو اپنے عجائبات قدرت میں سے کچھ دکھلا دیں۔ بلاشبہ وہ بڑا سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔ واقعہ معراج کا یہاں اجمالی ذکر فرمایا ہے کعبہ کی مسجد سے بیت المقدس تک جانے کو ” آسریٰ “ کہتے ہیں اور بیت المقدس سے عرش تک کے سفر کو ” معراج “ کہتے ہیں اگرچہ ایک کا اطلاق دوسرے پر یا مجموعہ پر ہوا کرتا ہے چونکہ واقعہ میں ندرت ہے اس لئے لفظ سبحان سے ابتدا فرمائی جو تنزیہ تقدیس اور تغجیب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ رات کے تھوڑے وقت میں اس طویل سفر کا طے ہونا واقعی عجیب ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اعتبار سے کچھ مستبعد نہیں مسجد اقصیٰ کے چاروں طرف ظاہری اور باطنی برکتیں ہیں یعنی ملک شام کی زمین پھلوں اور میووں سے لبریز ہے اور بیشمار انبیاء اس سر زمین میں دفن ہیں۔ عجائبات قدرت اور حضرت حق کی خاص نشانیاں ان گنت ہیں ان میں سے کچھ دکھا دیں اور یہ واقعہ ہے کہ اس سفر میں جو واقعات پیش آئے اور حضور ﷺ نے جن باتوں کو ملاحظہ فرمایا وہ سب آیات الٰہی تھیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ اپنے رسول کو معراج کی رات لے گیا مکہ سے بیت المقدس براق پر اور آگے لے گیا آسمانوں پر یہاں اتنا ہی ذکر ہے باقی سورة نجم میں ہے۔ 12
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی توریت عنایت کی اور ہم نے اس توریت کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت بنایا اور ان سے کہہ دیا کہ میرے سوا تم کسی کو اپنا کار ساز مقرر نہ کرنا۔

-2 اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اثبات ہے ۔ آگے اس کی مزید تائید فرمائی اور ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب یعنی توریت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس توریت کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا اور بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا وکیل اور کار ساز نہ بنایا۔ یعنی ہم نے موسیٰ کو اسی طرح توریت عطا کی جس طرح نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو قرآن مجید عطا کیا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے رسول تھے اسی طرح یہ پیغمبر بھی ہمارے رسول ہیں اور شرک کا رد ہر پیغمبر نے کیا ہے۔ چنانچہ ہم نے بنی اسرائیل کو بھی یہ حکم دیا تھا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا کار ساز مقرر نہ کرنا اور میرے علاوہ اپنا کام کسی اور کے حوالے نہ کرنا۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے اولاد ان لوگوں کی جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا یعنی حام سام وغیرہ بیشک وہ نوح بڑا شکر گزار بندہ تھا

-3 اے اولاد ان لوگوں کی جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی پر سوار کیا تھا بلاشبہ وہ نوح (علیہ السلام) بڑا شکر گزار بندہ تھا۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد چونکہ نسل انسانی ان لوگوں سے چلی جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ حام سام، یافث سے نوع انسانی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس لئے فرمایا کہ تم سب کشتی والوں کی اولاد ہو۔ اگر کشتی و الے نجات نہ پاتے تو تم کو بھی یہاں آنا نصیب نہ ہوتا۔ نوح (علیہ السلام) چونکہ بڑا شکر گزار بندہ تھا لہٰذا تم بھی حضرت حق کے احسان کا شکر بجا لائو اور کفران نعمت کر کے کافر مت بنو۔ بعض مفسرین نے یہ خطاب سام کی اولاد کے ساتھ فرمایا ہے جس میں اہل عرب ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تم سب جن لوگوں کی اولاد میں سے ہو تمہارے بڑوں پر جو احسان ہم نے کیا تھا اس کا شکر بجا لائو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے نقش قدم پر چلو۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے اس کتاب توریت میں بنی اسرائیل کو یہ بات صاف بتادی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو دفعہ فساد برپا کرو گے اور تم بڑی سخت سرکشی کرو گے

-4 اور ہم نے بنی اسرائیل پر کتاب میں یہ بات واضح کردی تھی اور ان کو یہ بات بتادی تھی کہ تم یقینا ملک میں دوبارہ فساد برپا کرو گے اور چڑھ جائو گے بری طرح کا چڑھنا اور تم بڑی سخت سرکشی کا ارتکاب کرو گے۔ یعنی توریت میں یا لوح محفوظ میں یہ بات بنی اسرائیل کو صاف طور پر بتادی تھی کہ بخدا تم ملک میں دو دفعہ فساد برپا کرو گے اور صحیح تعلیم سے ہٹ جائو گے اور تکبر کے مرتکب ہو کر بہت اونچے ہو جائو گے اور اپنے کو بہت بلند سمجھنے لگو گے۔ اور جب دنیا کی قوموں میں نافرمانی، کفران نعمت، غیر اللہ پرستی اور خصائل قبیحہ مذمومہ پیدا ہوجاتے ہیں تو اس قوم پر مختلف عذاب نازل ہوتے ہیں اسی کا آگے ذکر فرمایا۔
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب ان دو بد میں سے پہلی کا وقت آیا تو ہم نے تمہارے مقابلہ میں اپنے دو بندے بھیجے جو بڑے سخت جنگجو تھے سو وہ تمہارے شہروں میں پھیل پڑے اور وہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔

-5 پھر جب ان دوبارہ میں سے پہلی بار کا موقع آیا تو ہم نے تم پر اپنے ان بندوں کو مسلط کردیا اور تمہارے مقابلے اور تمہاری سزا کے لئے اپنے و ہ بندے بھیجے جو بڑے جنگ جو تھے سو وہ تمہارے شہروں اور گھروں میں پھیل پڑے اور وہ وعدہ ایسا تھا جو ضرور پورا ہونا ہی تھا۔ فساد برپا کرنا یہی کہ شریعت موسوی کی اعتقاداً اور عملاً مخالفت کرو گے اور سزا یہی کہ تمہارے اوپر بےرحم کافروں کو مسلط کردیا جائے گا اور وہ تمہاری انتہائی تذلیل و بےآبروئی کریں گے جیسا کہ جالوت کا ان پر غلبہ ہوا اور وہ عبادت گاہوں کی توہین کے ساتھ ساتھ بیشمار یہود کو گرفتار کر کے لے گیا اور قتل بھی کیا۔ آسمانی شریعت کے ماننے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے اور جیسا کہ امت محمدیہ ﷺ کے ساتھ ہو رہا ہے۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر تم کو ان دشمنوں پر حملہ نے دوبارہ غلبہ دیا اور تمہاری مال سے اور بیٹوں سے مدد کی اور تم کو لشکر کے اعتبار سے زیادہ کردیا۔

-6 پھر ان دشمنوں پر ہم نے تم کو دوبارہ غلبہ دیا اور تمہاری باری اور تمہارے دن پھر دیئے یعنی تمہاری توبہ کرنے کے بعد اور تمہاری مال سے اور بیٹوں سے مدد کی اور تم کو لشکر کے اعتبار سے زیادہ کردیا یعنی دوسروں کی غلامی کے بعد جب تم کو احساس ہوا اور تم نے توبہ کی اور ناشائستہ اعمال ترک کردیئے تو ہم نے تمہارے نقصانات کی تلافی کردی اور تمہاری باری لوٹا دی اور مال و اولاد کی فراوانی سے نواز دیا اور جب اولاد بڑھی تو لشکر کی زیادتی ہوگئی۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم اچھے عمل کرو گے تو اس کا فائدہ تمہارے ہی لئے ہوگا اور اگر تم بڑے کام کرو گے تو بھی اپنے اسی لئے کرو گے پھر جب دوسری بار کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے بندے بھیجے تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی مرتبہ کے حملہ آور مسجد میں گھس گئے تھے اسی طرح یہ بھی مسجد میں گھس پڑیں اور نیز اس لئے اس لئے کہ جس چیز پر وہ حملہ آور قابو پالیں اس کو بالکل برباد کر ڈالیں

-7 اگر تم نے اچھے کام اور نیک کام کئے تو اپنے ہی بھلے کے لئے اور ان اعمال کا فائدہ تم ہی کو پہنچے گا اور اگر تم نے برے کام کئیتو بھی اپنے ہی لئے کرو گے اور دین و دنیا میں ان اعمال کی سزا بھگتو گے پھر جب دوسری بار کا وقت آیا یعنی بنی اسرائیل نے مکرر فساد کیا اور شریعت موسوی کی مخالفت کی تو ہم نے دوسرے بندوں کو تم پر غلبہ دے دیا اور تم پر مسلط کردیا تاکہ وہ تم کو مار مار کر تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی مرتبہ کے حملہ آور لوگ مسجد میں گھس گئے تھے اسی طرح یہ پچھلے بھی مسجد یعنی بیت المقدس میں گھس جائیں نیز اس لئے کہ جس چیز پر یہ حملہ آور قابو پالیں اس کو بالکل برباد کر ڈالیں اور تہیس نہیس کردیں۔ یعنی تم نے دوبارہ شرارت کی تو اب کی دفعہ دوسرے لوگوں نے تم کو اسی طرح لوٹا اور مارا اور تمہاری مسجد کی بےحرمتی کی جس طرح پہلے بندوں نے لوٹا اور مارا تھا اور قتل و غارت گری کی تھی اور بیت المقدس کی توہین کا ارتکاب کیا تھا اور جس طرح پہلوں نے شہروں میں پھیل کر اور گھروں میں گھس کر ہر قابو یافتہ چیز کو تباہ اور برباد کر ڈالا تھا۔ اسی طرح ان دوسرے چڑھائی کرنے والوں نے بھی کیا کہتے ہیں کہ یہ دوسرا حملہ آور طیطس رومی تھا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم نے پھر وہی کیا تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے۔

-8 عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر ان شرارتوں کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی قسم کی سزا کا اعادہ کریں گے اور آخرت میں تو ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنا ہی رکھا ہے۔ یعنی اس کے نافرمانوں کو دنیا میں بھی سزا دی جائے گی اور آخرت میں تو بہرحال جہنم کا قید خانہ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے بنا ہی رکھا ہے۔ مفسرین نے حملہ آوروں کی تعین میں بہت سے اقوال نقل کئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تو رات میں کہہ دیا تھا کہ دو بار بنی اسرائیل شرارت ریں گے اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک میں غالب ہوں گے اسی طرح ہوا ہے ایک بار جالوت غالب ہوا ہے پھر حق تعالیٰ نے اس کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ہلاک کیا پیچھے بنی اسرائیل کو اور قوت زیادہ دی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت میں دوسری بار فارسی لوگوں میں سے بخت نصر غالب ہوا تب سے ان کی سلطنت نے قوت نہ پکڑی اب فرمایا کہ اللہ مہربانی پر آیا ہے اگر اس نبی کے تابع ہو تو وہی سلطنت اور غلبہ پھر کر دے اور اگر پھر وہی شرارت کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے یعنی مسلمانوں کو ان پر غالب کیا اور آخرت میں دوزخ تیار ہے۔ 12
Ayah 17:9

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن کریم اس راستہ کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک عمل کیا کرتے ہیں اس بات کی خوش خبری دیتا ہے اور ان کو بہت بڑا اجر ملے گا

-9 بلاشبہ یہ قرآن کریم اس راستے اور طریقے کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ایسی راہ بتاتا ہے جو سب سے سیدھی راہ ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کے پابند ہیں اس بات کی بشارت اور خوش خبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر وثواب ہے۔ سب سے سیدھی راہ یعنی اسلام جو ہر قسم کی افراط وتفریط سے مبرا ہے اور ان اہل ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہیں یہ بشارت سناتا ہے کہ ان کو بڑا اجر وثواب حاصل ہوگا۔
Ayah 17:10

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر اعتقاد نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے سخت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

- 10 اور یہ قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اور آخرت کے منکر ہیں ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یعنی جہنم اور اس کا عذاب۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان برائی کی دعا بھی اسی طرح مانگتا ہے جس طرح بھلائی کی دعا کیا کرت ا ہے اور انسان بڑا جلد باز واقع ہوا ہے۔

- 1 1 اور انسان شر کی اور برائی کی دعا بھی اسی طرح کرتا ہے جس طرح خیر کی اور بھلائی کی دعا کرتا ہے اور انسان بہت جلد باز واقع ہے۔ یعنی بھلائی کی دعا میں جس طرح قبولیت دعا کا تقاضا کرتا ہے اسی طرح شر کی دعا کو بھی چاہتا ہے جلد قبول ہوجائے اگر تاخیر ہوجائے تو بگڑتا اور بدگمانی کرتا ہے۔ شر کی دعا کا مطلب یہ ہے جیسے کفار کا عذاب مانگنا یا جیسے حوادثات سے تنگ آ کر موت مانگنا یا نادانستہ طور پر کسی دعا پر اصرار کرنا اور اس کی قبولیت کا تقاضا کرنا مگر حضرت حق کے علم میں اس دعا کی قبولیت میں جو نقصان اور خرابیاں پیدا ہونیوالی ہیں وہ موجود ہیں اور وہ ان برائیوں کو جانتا ہے لیکن جاہل انسان مانگے جاتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ میری دعا قبول فرما۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گھبراتا ہے کہ میری دعا شتاب کیوں قبول نہیں ہوتی اور اس کی دعا بعض اس کے حق میں بری ہے اگر قبول ہو تو انسان خراب ہو سو ہر طرح اللہ بہتر دانا ہے چاہے کہ اس کی رضا پر شاکر رہے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کود و نشانیاں بنایا ہے پھر رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن اور دیکھنے کا سبب بنایا تاکہ تم دن میں اپنے رب کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور نیز یہ کہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے۔

- 12 اور ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی دو نشانیاں بنایا اور مقرر کیا ہے پھر ہم نے رات کی نشانی کو رات ہی ہے مٹا دیا اور ماند کردیا اور تاریک کردیا اور دن کی نشانی کو جو دن ہی ہے روشن بنایا دیکھنے کو تاکہ اپنے رب کی روزی کو تلاش کرو اور نیز اس لئے کو تم برسوں کی گنتی اور مختلف قسم کے حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کو مفصل اور خوب تفصیل کے ساتھ بیان کردیا۔ یعنی رات دن میں فرق رکھا رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا اور ان سے جو فوائد مرتب ہوتے ہیں رات دن کا باری باری آنا۔ چھوٹا بڑا ہونا۔ غرض ہر کام کی مصلحت نمایاں ہے دن میں عام طور سے ہر شخص روزی کماتا ہے اور رات کو آرام یا خفیہ امور انجام دیئے جاتے ہیں اور تمام حسابات خواہ وہ قمری ہوں یا شمسی، اسی گردش لیل و نہار سے انجام پاتے ہیں اور یہ جو فرمایا ہے ہر شئے کو مفصل کیا ہے یا لوح محفوظ ہیں یا قرآن کریم میں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ گھبرانے سے فائدہ نہیں ہر چیز کا وقت و اندازہ مقرر ہے جیسے رات اور دن کسی کے گھبرانے سے اور دعا سے رات کم نہیں ہوجاتی اپنے وقت پر آپ صبح ہوتی ہے اور دونوں نمونے اس کی قدرت کے ہیں۔
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کی گردن کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے اور ہم قیامت کے دن انسان کا نامہ اعمال نکال کر اس کے لئے رکھ دیں گے جس کو وہ کھلا ہوا پائے گا۔

- 13 اور ہم نے ہر انسان کی برائی اور بھلائی کو اس کی گردن کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے خواہ یہ برے بھلے اعمال ہوں یا شقاوت وسعادت ہو اور ہم قیامت کے دن انسان کا نامہ اعمال اس کے لئے نکال کر رکھ دیں گے جس کو وہ کھلا ہوا پائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔” عملہ وما قدر علیہ “ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال جو وہ اپنے اختیار سے کرنے والا ہے اور اس کا مقدر اور اس کی قسمت گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔ بعض حضرات نے فقط قسمت اور بعض نے فقط اعمال لئے، مفسرین کے چند اقوال میں سے ہم نے بعض قول کو اختیار کرلیا ہے۔ خلاصہ :- یہ ہے کہ انسان جو آئندہ عمل کرنے والا ہے اور جو باتیں اس کو پیش آنے والی ہیں سب اس کی گردن میں لٹکی ہوئی ہیں جو اس سے جدا ہونے والی نہیں اور وہ ہو کر رہیں گی اور قیامت کے دن ہر شخص کے روبرو اس کا نامہ اعمال پیش ہوگا جو لپٹا ہوا نہیں بلکہ کھلا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بری قسمت کے ساتھ برے عمل ہیں کہ چھوٹ نہیں سکتے وہی نظر آئیں گے قیامت میں۔
Ayah 17:14

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

کہا جائے گا تو اپنا نامہ اعمال پڑھ لے آج اپنی ذات کا حسا ب لینے کو تو خود ہی کافی ہے۔

- 14 ارشاد ہوگا تو خود اپنا نامہ اعمال پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے یعنی نامہ اعمال میں ہر عمل لکھا ہوا موجود ہے کسی کو یاد دلانے کی رضورت نہیں۔ گنتا جا اور خود ہی قائل ہونا جا۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص سیدھی راہ پر چلا تو وہ اپنے ہی فائدہ کو چلا اور جو سیدھی راہ سے بےراہ ہوا وہ اپنے ہی نقصان کو بےراہ ہوا اور کوئی بوجھ اٹھانے الا کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں کیا کرتے جب تک کسی رسول کو اتمام حجت کے لئے نہ بھیج دیں

- 15 جو شخص سیدھی راہ چلا وہ اپنے ہی فائدے اور نفع کو چلا اور جو سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور بےراہ ہوا تو وہ اپنے ہی نقصان کو بےراہ اور گم کردہ راہ ہوا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم اس وقت تک عذاب کرنے اور سزا دینے والے نہیں جب تک کسی رسول کو نہ بھیج لیں۔ یعنی راہ یافتہ ہونا اپنے بھلے کو اور گم راہ ہونا اپنے ضرر کو ظاہر ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کے بوجھ کو اٹھانا تو کیسا ہاتھ بھی نہیں لگائے گا کیونکہ اس دن ہر ایک کو اپنے بوجھ سے فرصت کہاں ؟ قاعدہ یہ ہے کہ پہلے ہدایت دے کر رسول کو بھیجا جاتا ہے پھر اگر کوئی بستی نہیں مانتی تو وہ عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے یہ رسول بلا واسطہ تشریف لائیں یا کسی واسطے سے ان کی خبر آئے اور ان کی ہدایت آئے۔ مثلاً کسی مرکزی مقام پر رسول کو بھیج دیا گیا اور اس پاس کے مقام پر لوگوں نے اس کی اطلاع پہونچائی اور لوگوں نے نافرمانی کی اور نہیں مانا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی برے عمل آفت لاتے ہیں پر حق تعالیٰ بن سمجھائے نہیں پکڑتا رسول بھیجتا ہے اسی واسطے۔ 12
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس بستی کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں یعنی ایمان اور اطاعت کا پھر وہ بجائے حکم ماننے کے اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں تب اس بستی پر عذاب کی بات ثابت ہوجاتی ہے پھر ہم اس بستی کو بالکل تباہ ویران کردیتے ہیں

- 16 اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک اور تباہ و برباد کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس بستی کے عیش پسند لوگوں کو ایمان اور فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں پھر وہ بجائے حکم ماننے کے نافرمانی کرتے اور شرارت برپا کرتے ہیں تب اس بستی پر عذاب کی بات ثابت ہوجاتی ہے اور ان پر حجت پوری ہوجاتی ہے۔ پھر اس بستی کو ہم تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بستی کے لوگوں کو ان کی نافرمانی کے باعث بمقتقائے حکمت تباہ کرنے کا ارادہ فرماتاہیتو اس بستی کے لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے خاص طور پر مرذ الحال اور خوش عیش لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لائو اور حضرت حق کی فرمانبرداری بجا لائو رئوسا اور عیش پسند لوگوں کو اس لئے خاص طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی اصلاح ہوجائے اور یہ ایمان پر آمادہ ہوجائیں تو عوام جو ان کے عام طور پر تابع ہوتے ہیں وہ بھی ایمان لے آئیں گے لیکن یہ امرا اور رئوساء رسول کا کہنا نہیں مانتے اور بستی میں شرارت اور فساد بند نہیں ہوتا تب کلمہ عذاب ان پر ثابت ہوجاتا ہے اور اس بستی کی تباہی کے ساتھ ارادے کا تعلق ہوجاتا ہے اور وہ بستی غارت اور تباہ و برباد کردی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے …… ” امرنا “ کے معنی زیادہ کردینے کے کئے ہیں یعنی اس بستی کے خوش عیش لوگوں کے لئے سامان عیش زیادہ کردیتے ہیں۔ بعض نے امر تکوینی کے ساتھ توجیہہ کی ہے۔ بہرحال ! بعثت رسل اور کافی مہلت دینے کے بعد گرفت ہوتی ہے۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ہے اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے الا اور دیکھنے والا کافی ہے

- 17 اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کیا ہے اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے الا اور دیکھنے والا کافی ہے۔ یعنی قاعدہ مذکورہ کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد بھی بہت سی امتیں اپنے فسق و فجور کے باعث ہم نے ہلاک کی ہیں اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہ جاننے کو اور دیکھنے کو بس ہے۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

اور جو کوئی عاجلہ یعنی دنیا ہی چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا ہی میں جتنا چاہتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں۔ جلد دے دیتے ہیں پھر ہم اس کے لئے دوزخ مقرر کردیتے ہیں جس میں وہ برا سن کر راندئہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا۔

- 18 جو شخص عاجلہ یعنی دنیا ہی چاہتا ہے اور دار دنیا ہی کا طلب گار ہے تم ہم اس کو دنیا میں جتنا چاہتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں جلد اور فی الحال دے دیتے ہیں پھر ہم اس کے لئے جہنم مقرر کردیتے ہیں اس جہنم میں وہ برا سن کر اور بدحال دراندئہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا۔ عاجلہ فرمایا دنیا کو چونکہ انسان پہلے دنیا ہی میں آتا ہے لہٰذا جو شخص دنیا ہی کا طلب گار ہوتا ہے تو وہ بھی ہر شخص کو نہیں ملتی بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس کو دے دیتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ جتنی وہ چاہے اتنی ہی دے دے بلکہ جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اتنی دیتا ہے لیکن آخرت سے محروم کردیا جاتا ہے اور وہاں جہنم میں ملوم و مدحور بنا کر داخل ہوتا ہے اور اس کو جہنم میں دھکیل دیا جاتا ہے دنیا بھی پوری نہ ملی اور آخرت بھی ہاتھ سے گئی۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو کوئی آخرت کا خواستگار ہو اور اس آخرت کے لائق اس کی کوشش بھی کرے بشرطیکہ وہ مومن بھی ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی سعی و کوشش مقبول ہوگی۔

- 19 اور جو شخص آخرت اور دار آخرت چاہتا ہے اور آخرت کے لئے جیسی سعی اور کوشش کرنی چاہئے وہ کوشش بھی کرتا ہے درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی سعی اور کوشش مقبول و مشکور ہوگی۔ یعنی عمل میں نیت ٹھیک ہو اور عمل بھی شریعت کے موافق ہو اور اعتقاد بھی درست اور صحیح ہو تو سمجھ لو کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اس کی کوشش نیگ لگ گئی دو خیال کے لوگوں کا بیان فرمایا ایک وہ جن کے ہر عمل میں دنیا مطلوب ہو اور ریا کاری اور شہرت اور دنیوی نفع مقصود ہو۔ دوسر سے وہ لوگ جن کا ہر عمل مخلصانہ ہو صحیح ہو اور مقصد عمل سے آخرت ہو اور اعتقاد صحیح ہو اور تمام دوڑ دھوپ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے ہو تو ایسوں کی دوڑ دھوپ نیگ لگتی ہے۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم آپ کے رب کی عطا میں سے ہر فریق کی امداد کرتے ہیں ان کی بھی اور ان کی بھی اور آپ کے رب کی یہ عطا کسی پر بند نہیں ہے۔

-20 ہم دونوں قسم کے فریضوں میں سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان کی بھی مدد اور ان کی بھی آپ کے پروردگار کی بخشش سے اور آپ کے رب کی یہ بخشش اور عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ یعنی اے پیغمبر ! ہم آپ کے پروردگار کی عطا میں سے ان مقبولین کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان غیر مقبولین کی بھی امداد کرتے ہیں اور یہ واقعہی ہے کہ آپ کے پروردگار کی عطا کسی پر رو کی نہیں گئی ہے۔ خلاصہ ! یہ کہ دنیا کا کسی کے پاس زیادہ ہونا اور دنیا زیادہ مل جانے کو قبولیت اور عدم قبولیت میں کوئی دخل نہیں ہے اکثر کفار مومنین سے زیادہ مال دار اور سرمایہ دار ہوتے ہیں۔ سرمایہ کی بہتات صداقت کی دلیل نہیں ہے۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ دیکھ لیجیے ہم نے بعض آدمیوں کو بعض پر کس طرح افزونی اور برتری دے رکھی ہے اور یقینا آخرت باعتبار درجات کے بہت بلند ہے۔ اور با اعتبار فضیلت کے بہت بڑی ہے

21 اے پیغمبر آپ دیکھ لیجیے ہم نے اس عطا دنیوی میں کس طرح بعض لوگوں کو بعض پر فضیلت اور برتری دے رکھی ہے اور یقینا آخرت درجوں کے اعتبار سے بھی بہت بلند ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بڑی ہے۔ یعنی یہاں کا ایک دوسرے پر تفوق اور یہاں کی ایک دوسرے پر برتری ناقابل توجہ اور ناقابل استدلال ہے۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اے مخاطب خدا کے ساتھ کوئی اور مبعود مقرر کرو ورنہ تو مذمت کیا گیا اور بےیارو مددگار ہو کر بیٹھے رہے گا

-22 اے مخاطب تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو تجویز نہ کر اور نہ کسی دوسرے کو مقرر کر ورنہ مذمت کیا گیا اور بےکس و بےیارو مددگار ہو کر بیٹھ رہے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو برحق ہے اس کے ساتھ کوئی اور معبود قرار دینے پر تم کو الاہنا بھی ملے گا اور الزام بھی دیا جائے گا اور تم قابل نفریں قرار پائو گے اور تم بےکس اور بےیارو مددگار ہو کر رہ جائو گے۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تیرے رب نے یہ حکم دے دیا ہے کہ اس معبود برحق کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور تم والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تیرے سامنے بڑھاپے کو پہونچ جائیں تو اس وقت بھی کبھی ان کو ہوں تک نہ کہہ اور نہ کہہ اور نہ ان کو جھڑک اور انتہائی نرمی اور ادب کے ساتھ ان سے بات کرلو

-23 اور اے مخاطب تیرے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ بجز اس معبود برحق کے کسی کی پوجا نہ کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں کے دونوں تیرے پاس اور تیرے سامنے پڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اس وقت بھی ان کو ہوں تک نہ کہہ اور نہ ان کو جھڑک اور ان سے جو بات کہہ نہایت نرمی اور ادب سے کہہ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود بنانے کو منع فرمایا۔ اس آیت میں اسی کی تاکید فرمائی کہ سوائے معبود برحق کے کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو عبادت انتہائی تذلل کو کہتے ہیں۔ اس عبادت کا وہی مستحق ہے جو نہایت عظمت کا مالک ہو اور یہ ظاہر ہے کہ انتہائی عظمت کا وہی مالک ہے لہٰذا وہی عبادت کا مستحق ہے۔ دوسری بات ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے بڑھاپے میں چونکہ وہ خدمت کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں اور ان کی خدمت کرنی طبیعت کو بھاتی نہیں اس لئے بڑھاپے کا خاص طور سے ذکر فرمایا کہ خواہ طبیعت کو ناگوار ہو لیکن ان کو ہوں بھی نہ کہو۔ یعنی کوئی لفظ جھڑکی یا غصہ آمیز نہ نکلنے پائے پھر جھڑکنے کی ممانعت فرمائی پھر ہر بات میں نرمی اور ادب کا حکم دیا۔ غرض ماں باپ خواہ وہ ایک ہو یا دونوں ان کے حقوق کی بہت تاکید اور رعایت فرمائی آگے بھی ان ہی کے ساتھ نیک برتائو کا حکم ہے۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

ان کے سامنے تواضع کے باز و شفقت و مہربانی سے جھکائے رکھ اور ان کے حق میں یوں دعا کر اے میرے رب جس طرح انہوں نے بچپنے میں میری پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان دونوں پر رحم فرما

-24 اور ان کے سامنے تواضح اور عاجزی اور انکساری کے باز و شفقت اور نیاز مندی سے جھکائے رکھیو اور ان کے حق میں یوں دعا کیا کر کہ اے میرے پروردگار تو ان دونوں پر رحمت فرما جیسا انہوں نے مجھ کو بچپنے میں پالا اور پرورش کیا ہے۔ یعنی ان کی خدمت میں لگا رہ اور ان کے ساتھ پوری انکساری اور شفقت و مہربانی کا سلوک کر اور ان کے لئے دعا بھی کیا کر دعا میں بچپنے کی بات یاد دلائی تاکہ ماں باپ کے اس سلوک کا خیال آجائے جو وہ پرورش کی غرض سے چھوٹی اولاد کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا انداز تعلیم ہے۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب تمہارے مافی الضمیر کو خوب جانتا ہے اگر تم نیک مقصد رکھو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بڑا بخشنے الا ہے۔

-25 لوگو ! تمہارا پروردگار ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں۔ اگر تم نیک ہو گے اور تم اپنی نیت اور اپنے مقصد کو درست رکھو گے تو وہ توبہ کے ساتھ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والاے۔ یعنی ظاہری توقیر و تعظیم نہیں بلکہ دلوں میں بھی ان کی خدمت ان کا ادب اور ان کی اطاعت کا ارادہ رکھنا اور باوجود اس نیک ارادے اور صالح قصد کے پھر بھی کوئی کوتاہی اور قصور ہوجائے گا اور تم توبہ کرو گے اور ہماری طرف رجوع کرو گے تو بلاشبہ وہ ایسے سعادت مندوں کے لئے غفور ہے اور ان کی کوتاہیوں کو بخشنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کبھی دل میں آئے کہ بوڑھے ماں باپ سے یہ معاملہ نبھانا مشکل ہے تو فرما دیا کہ جس کی نیت نیکی پر ہے اگر خفا کرے پھر رجوع لادے تو اللہ بخشنے والا ہے۔ 2 ؎
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور قرابت دار کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین کو اور مسافر کو بھی دیا کرو اور بےجا و بےموقع نہ اڑایا کرو۔

-26 اور ناتے والوں کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین اور مسافر کو بھی دیا کر اور مال کو بےموقع نہ اڑایا کر۔ یعنی قرابت دار کا حق مالی ہو یا غیر مالی جو حق بھی ہو اس کو ادا کرنا چاہئے اور مسکین اور مسافر کو بھی دیتے رہو اور بےموقعہ نہ اڑائو یعنی غیر شرعی مراسم میں اور محض شہرت کی غرض سے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بےجگہ خرچ کر کے خراب نہ کر۔ 12
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک مال کو بےموقع اڑانے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناسپاس ہے۔

-27 بلاشبہ مال کو بےجا اور بےموقعہ اڑانے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مال بڑی نعمت ہے اللہ کی جس سے خاطر جمع ہو عبادت میں اور درجے بڑھیں بہشت میں اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے ۔ 12 خلاصہ یہ کہ مال اڑانے والا بھی ناشکر اور شیطان بھی ناشکر پس ناشکری میں دونوں بھائی بن گئے۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر کبھی تجھے اپنے رب کی اس روزی کے تلاش کرنے کی وجہ سے تجھ کو توقع ہو ان مستحقین سے پہلو بچانا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دیا کر۔

-28 اور اگر کسی وقت مذکورہ اہل حاجت کے دینے کے لئیت یرے پاس کچھ نہ ہو اور تو اپنے رب کی اس روزی کی اور مال کی تلاش میں ہو جس کی توقع اور امید ہے اور اس مفلسی کی وجہ سے تجھ کو ان اہل حاجت سے پہلو بچانا اور اعراض کرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دیا کرو اور ان کی دل جوئی کا خیال رکھ۔ یعنی اگر کوئی ایسا موقعہ ہو کہ تمہارے پاس کچھ دینے کو نہ ہو اور تم خود اپنے رب کے اس مال کی یا روزی کی تلاش میں ہو جس کی تم کو اپنے پروردگار سے مل جانے کی امید ہو اور اس منتظرہ رزق یا مال کے آنے تک تو ان اہل حاجت سے پہلو بچانا چاہے تو اتنا ضرور کیا کر کہ اہل حاجت سے نرم بات کہہ دیا کر کہ اس وقت کچھ نہیں ایک جگہ سے آنے والا ہے اور مجھ کو امید ہے لہٰذا جب آجائے تو تیری خدمت کر دوں گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جو کوئی سخاوت کرتا ہے اور ایک وقت اس کے پاس نہیں تو اللہ کے ہاں امید والے کا محروم جانا خوش نہیں آتا اس محتاج کی قسمت سے اللہ سخیوں کو بھیج دیتا ہے۔ اس واسطے اگر ایک وقت تو نہ دے سکے تو میٹھا جواب کہہ کر اگلی جزائیں برباد نہ ہوں۔ 12 چونکہ اللہ تعالیٰ نے امید والے کا محروم جانا پسند نہیں کرتے اور وہ خود بھی امید والے کو خالی نہیں لوٹاتے۔ اسی لئے فرمایا ہے۔ “ ” ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا۔ “
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور بخل کی وجہ سے نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر رکھ لے اور نہ اس ہاتھ کو بالکل کھول دے ورنہ تو الزام خوردہ اور تہید ست ہر کر بیٹھ رہے گا۔

-29 اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے بادنھ لے یعنی بالکل بخیل بن جائے اور نہ اس ہاتھ کو بالکل ہی کشادہ کر دے اور کھول دے کر پھر تو الزام خوردہ اور تنگ دست و تہیدست ہو کر بیٹھ رہے۔ یعنی دینے اور نہ دینے میں طریقہ متوسط تعلیم فرمایا کہ نہ تو بالکل ہی کنجوس ہو جائو کسی محتاج کو کچھ دو ہی نہیں نہ اس قدر خرچ کرو کہ بقول ابن کثیر آمدنی سے زیادہ خرچ کر ڈالو کہ محتاج ہو جائو اور ہر کوئی طعنہ دے کہ اندھے بن کر کیوں خرچ کیا تھا۔ اگر اس خرچ سے مراد وہ ہے جو غیر شرع مراسم میں خرچ کیا جائے تب ظاہر ہے کہ اوپر کی آیت میں فرمایا تھا اس کی تاکید ہوگی اور اس کے انجام کی طرف اشارہ ہوگا اور اگر خیرات کا خرچ مراد ہو تب بھی اعتدال کا تقاضا یہی ہے کہ درمیانی راہ اختیار کرے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فعل سے حجت نہ پکڑے کہ ہر شخص ابوبکر کہاں ؟ عام طریقہ خیرات یہی ہے کہ صدقات نافلہ میں آمد و خرچ کا خیال رکھے کہیں اپنی ضروریات کے لئے بھیک نہ مانگنی پڑے۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے ماعال من اقتصد یعنی جس نے توسط اور اعتدال کی راہ اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سب الزام دیں کہ اتنا کیوں دیا کہ آپ محتاج ہوگئے۔ 12
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تیرا رب جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کی روزی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بلاشبہ وہی اپنے بندوں کے حق میں خوب دانا اور بینا ہے ۔

-30 بلاشبہ تیرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے اس کا رزق فراخ اور اس کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور وہی رزق کو تنگ اور روزی کو کس دیتا ہے بلاشبہ وہ اپنے بندوں کے حال سے پوری طرح واقف ہے اور ان کی حالت کو دیکھنے الا ہے۔ یعنی جس کی روزی کو چاہتے ہیں وسیع کردیتے ہیں اور جس کو چاہیں اس کی روزی تنگ اور نپی تلی کردیتے ہیں۔ حدیث قدسی میں ہے کہ میں اپنے کسی بندے کے رزق میں زیادتی کرتا ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ اگر اس کی روزی میں کمی کروں گا تو وہ کفر کا ارتکاب کر بیٹھے گا اور اگر کسی کی روزی میں کمی کرتا ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ اگر اس کی روزی فراخ کی جائے تو یہ کفر اور نافرمانی کرے گا۔ اسی لئے فرمایا۔ انہ کان بعبادہ خبیر ا بصیراً حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ محتاج کو دیکھ کر بےتاب نہ ہوجا اس کی حاجت تیرے ذمہ پر نہیں اللہ کے ذمہ پر ہے لیکن یہ باتیں پیغمبر کو فرمائیں جو بےحد سخی تھے جس کے جی سے مال نہ نکل سکے اس کو تقید ہے دینے کا حکیم بھی گرمی والے کے سر د دوا دیتا ہے اور سردی والے کو گرم 2 ؎
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے قتل نہ کرو ہم ہی ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی دیتے ہیں بیشک اولاد کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔

-3 1 اور اپنی اولاد کو ناداری اور افلاس کے خوف سے قتل مت کیا کرو ہم ہی ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں بلاشبہ ان کا قتل کردینا بڑا گناہ اور بڑی بھاری چوک ہے۔ دور جاہلیت میں غربت اور افلاس کی وجہ سے اولاد کو قتل کردیا کرتے تھے بیٹیوں کو تو عام طور سے زندہ درگور کردینے کی رسم تھی کوئی بیٹوں کو بھی قتل کردیتا ہوگا یا اولاد کا لفظ محض ترحم اور شفقت کی وجہ سے فرمایا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر بیٹیوں کو مار ڈالتے تھے کہ اس کا خرچ کہاں سے لائیں گے۔ 13
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو کیونکہ وہ زنا بڑی بےحیائی کی بات ہے اور وہ بہت بری راہ ہے ۔

-32 اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو اور قریب بھی نہ جائو بلاشبہ وہ بڑی بےحیائی کی بات ہے اور وہ بہت بری راہ ہے۔ یعنی فی حد ذات بیحیائی اور مفاسد کے اعتبار سے بری راہ ہے قریب نہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مبادی اور اس کے دواعی سے بھی دور رہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگر یہ راہ نکلے تو ایک دوسرے کی عورت پر نظر کرے کوئی اور اس کی عورت پر کرے۔ 12
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہ کرو مگر ہاں کسی حق شرعی کے ساتھ اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس مقتول کے وارث کو قصاص کا اختیار دیا ہے پھر وارث کو خون کا بدلہ لینے میں حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کو مدد دی گئی ہے

-33 اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہ کرو مگر ہاں کسی شرعی حق کے ساتھ اور جو شخص ناحق قتل کردیا جائے تو ہم نے اس مقتول کے وارث کو قصاص لینے اور بدلہ لینے کا اختیار دیا ہے سو بدلہ لینے والے کو قتل کے بارے میں حد شرع سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور آگے نہیں نکلنا چاہئے کیونکہ وہ قصاص حاصل کرنے والا وارث مدد دیا گیا ہے اور اس کی طرف داری کی گئی ہے۔ بےگناہ کو قتل کرنے کی مذمت فرمائی اور بنی نوع انسان میں سے کسی انسان کو بلا وجہ قتل کرنے کی ممانعت فرمائی مگر حق پر قتل کرنا درست ہے اگر حق شرعی کی بنا پر اس کا قتل واجب یا مباح ہو مثلاً اس نے کسی کو بدون حق شرعی کے قتل کردیا ہو یا محصن ہو کر زنا کا ارتکاب کیا ہو یا جماعت اسلام سے خاج ہوگیا ہو تو ایسا شخص ” حرم اللہ “ میں داخل نہیں۔ پھر فرمایا اگر کوئی شخص ناحق قتل کردیا جائے تو حضرت حق کی جانب سے ورثائے مقتول کو قصاص لینے کا اختیار دیا ہے کہ وہ امیر یا اس کے نائب سے کہہ کر اپنا انتقام قاتل سے لے لیں لیکن بدلہ لیتے وقت ورثاء کو حد سے تجاوز نہ کرنا چاہئے۔ تجاوز یہی کہ کسی بےگناہ کو پھنسانے کی کوشش یا قتل کیا ہو ایک نے اور نام لے دیں ایک سے زائد کا یا قاتل کے ہاتھ پائوں کاٹنے لگیں اور قتل سے پہلے اور اذیتیں دینے لگیں یہ سب اسراف فی القتل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکام کو متنبہ کیا ہو کہ صرف قاتل سے انتقا م دلوائیں اور کسی قسم کی زیادتی نہ کریں۔ بہرحال ! اگر قاتل کا وارث حد شرع سے تجاوز نہ کرے تو وہ حمایت اور طرف داری کا مستحق ہے اور اگر زیادتی کرے گا تو پھر دوسرا فریق مدد اور طرفداری کے قابل ہوجائے گا۔ اس لئے جو شرعی مدد حاصل ہوتی ہے اور جو منصوریت ملی ہے اس کو زیادتی کر کے مقتول کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہر کسی کو لازم ہے کہ خون کا بدلہ دلانے میں مدد کرے نہ الٹا قاتل کی حمایت کرے اور وارث کو بھی چاہئے کہ ایک کے بدلے دو نہ مارے یا قاتل ہاتھ نہ لگا تو اس کے بیٹے بھائی کو نہ مارے۔ 2 ؎
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال قریب بھی نہ جائو مگر ہاں اس طریقہ پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنی قوت یعنی بلوغ کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو بیشک عہد کی باز پرس کی جائے گی

-34 اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو ہاں مگر اس طریقہ کے ساتھ جو شرعاً بہتر ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنے بلوغ اور اپنی قوت کو پہنچ جائے اور عہد و پیمان کو پورا کیا کرو بلاشبہ عہد کی باز پرس کی جائیگی۔ یعنی یتیم کے مال کو ہاتھ بھی نہ لگائو مگر ہاں اگر یتیم کے مال کی حفاظت اور خیر خواہی مقصود ہو تو مضائقہ نہیں اور جب یتیم بالغ ہوجائے تو اس کا مال اس کے سپرد کردو۔ تفصیل کئی جگہ گزر چکی ہے سورة نساء میں ملاحظہ کرلیا جائے۔ عہد سے مراد عہد مشروع ہے خواہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہو یا اس کے بندوں سے ہو اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اس میں احکام الٰہی کی تعمیل بھی داخل ہوگئی اور بندوں کے حقوق اور عہد بھی آگئے البتہ غیر مشروع عہد نکل گئے قیامت کے دن بندے سے ایفائے عہد کی باز پرس ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مگر جس طرح بہتر ہو ینی اگر اس کے مال کو سنوار دے تو مضائقہ نہیں اور قرار کی پوچھ یعنی کسی سے قول وقرار صلح دیکر بدی کرنی اس کا وبال ضرور پڑتا ہے۔ 2 ؎ 1 نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو ذر ؓ سے فرمایا تھا خبردار کسی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور کبھی یتیم کے مال کا متولی نہ بننا۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ناپ کردو تو پیمانہ کو پورا بھرا کرو اور تولو تو سیدھی ترازو سے توالا کرو یہ پورا ناپنا اور تولنا اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہے۔

-35 اور جب ناپ کردو تو پیمانہ پورا بھر کردو اور تولو تو سیدھی اور صحیح ترازو سے تول کردو۔ پورا ناپنا اور پورا تولنا اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھی ہے۔ یعنی جو چیز پیمانہ سے دی جاتی ہے اس میں پیمانہ پورا بھر کردیا جائے اور جو تول کردی جاتی ہے اس میں صحیح ترازو اور سیدھی ڈنڈی سے تولا جائے یہ بات دنیا میں بھی اچھی ہے یعنی نیک نامی اور اعتبار قائم ہوتا ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی کا سبب ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سیدھی ترازو سے یعنی جھوک نہ مارو اچھا انجام یعنی دغا بازی اول چلتی ہے پھر لوگ خبردار ہو کر اس سے معاملہ نہیں کرتے اور پورا حق دینے والا سب کو خوش لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تجارت خوب چلاتا ہے۔ 12
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور اے مخاطب جس بات کی تجھے تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ ہو لیا کر کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں ہر شخص سے باز پرس کی جائے گی۔

-36 اور اے مخاطب جس بات کی تجھ کو صحیح تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے خواہ قولاً خواہ فعلاً نہ ہو لیا کر کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں ہر ایک شخص سے باز پرس ہوگی۔ یعنی جب تک کسی چیز کی تحقیق نہ کرلو اس پر عمل نہ کرو اور اس کو زبان سے نہ کالو اس نہی میں تمام امور داخل ہوگئے۔ جھوٹی تہمت جھوٹی شہادت محض سنی سنائی باتوں پر کسی سے بغض و عداوت یا محض باپ دادا کی رسوم کفر یہ اور شرکیہ اختیار کرلینا۔ کیونکہ کان سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے ان سے کیا کیا سنا اور آنکھوں سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے ان سے کیا کیا دیکھا اور دل سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے اس میں کس کی محبت اور کس کی عبادت رکھی۔ غرض انسان کے تمام ہی قوائے جسمانی کے متعلق سوال کیا جائے گا اس لئے ہر فعل اور ہر عمل میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور ان چیزوں کو ان ہی باتوں میں استعمال کرنا چاہئے جو جائز ہوں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جو بات تحقیق معلوم نہ ہو اس کو دعویٰ کر کر نہ کہے کہ یوں ہی ہے اور ایسی ہی گواہی دیں۔ 12
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر متکبرانہ چال سے نہ چلا کر کیونکہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکے گا اور نہ تو تن کر چلنے سے پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکے گا۔

-37 اور زمین پر متکبرانہ چال سے اتراتا ہوا نہ چلا کر کیوں کہ نہ تو زمین کو اپنی چال سے پھاڑ سکے گا اور نہ تو اکڑ کر چلنے کی وجہ سے پہاڑوں کی لمبائی تک پہونچ سکے گا۔ یعنی یہ بھی۔ تیری قدرت سے باہر اور وہ بھی تیری قوت سے باہر پھر اترا کر چلنا عبث اور بےکار اور جن چیزوں پر بظاہر قدرت معلوم ہوتی ہے ان پر بھی حقیقی قدرت و اختیار نہیں لہٰذا جملہ امور میں تکبر اور اترانا ممنوع ہوا۔
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

یہ تمام مذکورہ برے کام تیرے رب کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہیں یہ مذکورہ احکام بھی اسی حکمت و دانائی کی باتوں میں سے ہیں۔

-38 یہ تما م کام اور یہ تمام بری عادتیں تیرے پروردگار کے نزدیک بالکل ناپسندیدہ اور لائق بیزاری ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جن باتوں کو منع کیا وہ رب کی بیزاری اور جن کو حکم کیا ان کا نہ کرنا بیزاری ہے۔ 12
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کے ذریعہ بھیجی ہیں اور اے مخاطب اللہ کے ساتھ کوئی اور دوسرا معبود مقرر نہ کر ور نہ تو الزام خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

-39 یہ باتیں جو مذکور ہوئیں اے پیغمبران ہی حکمت و دانائی کی باتوں میں سے ہیں جو آپ کے پروردگار نے آپ کی جانب وحی فرمائی ہیں اور وحی کے ذریعے آپ کی طرف بھیجیں ہیں اور اے مخاطب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور دوسرا معبود تجویز نہ کیجیو اور کوئی دوسرا معبود مقرر نہ کیجیو ورنہ تو الزام خوردہ اور الاہنا کھا کر راندہ درگاہ ہو کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یعنی یہ اوامرونواہی کی پندرہ باتیں جو مذکور ہوئیں یہ بھی ان ہی حکمت و دانش کی باتوں میں سے ہیں جو آپ کی جانب وحی کی جاتی رہی ہیں ۔ آخر میں پھر شرک سے منع فرمایا کہ شرک کی وجہ سے ملامت خوردہ بھی ہوگا اور دوزخ میں دھکیل کر اور راندہ ہو کر ڈال دیا جائے گا۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

اے مشرکو ! کیا تم کو تمہارے رب نے بیٹے دینے کے لئے چن لیا ہے اور خود فرشتوں میں سے اپنے لئے اس نے بیٹیاں کرلیں بلاشبہ یہ تم بڑی بھاری بات کہتے ہو۔

-40 اے منکرو کیا تمہارے پروردگار نے تم کو بیٹوں کے لئے خاص کرلیا ہے اور بیٹوں کے لئے چن لیا ہے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے بلاشبہ تم بہت بھاری اور بڑی سخت بات کہتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے لئے اول تو اولاد اور پھر اولاد بھی بیٹیاں جن کو خود اپنے لئے بھی پسند نہ کرو اس سے زیادہ اور بری بات کیا ہوسکتی ہوے۔ عرب کے بعض قبائل یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جن کو اس نے پردہ میں رکھ چھوڑا ہے۔ ” معاذ اللہ “