17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے اس قرآن کریم میں طرح طرح سے سمجھایا تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلیں۔ مگر ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو ہمارے سمجھانے سے اور نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔

-4 1 اور یقینا ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کو ہر پرایہ سے بار بار سمجھایا اور طرح سے طرح بیان کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور سوچیں مگر ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو ہمارے بیان کرنے اور سمجھانے سے اور نفرت کرنا اور ان کا بدکنا بڑھتا جاتا ہے۔ یعنی ہم نے توحید کے دائل اور شرک کی مذمت نئے نئے پیرایہ اور مختلف دلائل اور شواہد ان کے روبرو بیان کئے تاکہ یہ لوگ کفر و عصیان سے باز آجائیں اور دین حق کو قبول کریں لیکن ان بدبختوں کو اس سمجھانے سے نفرت و وحشت ہی بڑھی او بدک بدک کر بھاگتے ہی رہے۔ جیسے کسی مریض کو دوا اور غذا الٹا اثر کرتی ہے وہی ان کے روحانی مرض کی حالت ہے اور یہی وہ حالت ہے کہ جس کو مریض کی آخری حالت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر خدا کے ساتھ جیسا یہ لوگ کہتے ہیں اور معبود بھی ہوتے ہیں تو اس صورت میں یہ سب مل کر صاحب عرش تک غلبہ پانے کی کوئی راہ نکال چکے ہوتے

-42 اے پیغمبر ! آپ فرمائے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے ہیں جیسا کہ یہ مشرک کہتے ہیں تو اس حالت میں انہوں نے صاحب عرش تک معاندانہ طور پر غلبہ حاصل کرنے کا راستہ تلاش کرلیا ہوتا۔ یعنی جیسا کہ عام طور سے کم اختیار لوگ آپس میں مل کر اقتدار سے اعلیٰ بغاوت کرتے ہیں اور جو اقتدار اعلیٰ کا مالک ہوتا ہے اس سے اقتدار چھین لیتے ہیں تو اسی طرح یہ چھوٹے چھوٹے معبود مل کر اس معبود حقیقی کے خلاف دور پڑتے اور صاحب عرش پر غلبہ پا کر اس کے اختیار اور اقتدار کو چھین لیتے ہیں اور اس کے محکوم نہ رہتے اور چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ تعدد الہ کا قول باطل اور شرک ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی پرایا محکوم رہنا کیوں قبول کرتے تخت کے مالک کو الٹ ڈالتے۔ 12 بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بھی ہوتے تو ان کو بجز اس کے اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بھی معبود برحق کی طرف تقرب و توسل کا طریقہ اختیار کرتے اور تلاش کرتے۔ واللہ اعلم بالصواب عافلیہ المر جع و آلماب
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

جس قسم کی باتیں یہ خدا کے متعلق کہتے ہیں وہ ان سب سے پاک اور برتر اور بہت ہی دور ہے ۔

-43 یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور برتر ہے اور بہت بلند اور دور ہے۔ یعنی حضرت حق جل مجدہ کی جناب میں یہ مشرک جو گستاخیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ان عیوب سے منزہ اور بلند تر ہے۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان آسمانوں میں زمین میں موجود ہے۔ سب اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو خدا کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو مگر ہاں تم لوگ ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں اس میں شک نہیں کہ خدا بڑا تحمل والا بڑا بخشنے والا ہے ۔

-44 وہ ایسا پاک ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اس کی پاکی اور تقدیس بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی نہ بیان کرتی ہو مگر تم ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے تحمل والا بخشنے والا ہے۔ یعنی زبانوں کے اختلاف کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کی زبان سمجھنے سے قاصر ہے۔ اسی طرح تم دوسری مخلوق کی لسانی تسبیح کے سمجھنے سے قاصر ہو اور بعض مخلوق جو خاموش ہے اس کے حال سے اللہ تعالیٰ کی پاکی منتزع ہوتی ہے جو سوائے اہل اللہ کے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ بہرحال ! تسبیح زبان حال سے ہو یا زبان قال سے ہر ایک شخص کو اس کا ادراک نہیں ہوس کتا بالخصوص وہ جو سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرے۔ تحمل اور غفران کا مطلب یہ ہے کہ وہ مخلوق کے کفر وعناد کی وجہ سے ان کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا اور توبہ کرنے والوں کو معاف کردیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرماتی ہیں یعنی ایسی بری باتوں پر تم کو شتاب نہیں پکڑتا اور توبہ بخشتا ہے۔ 12
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جب آپ قرآن کریم پڑھتے ہیں تو ہم آپ کسے اور ان لوگوں کے مابین جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک غیر مرئی پردہ حاصل کردیتے ہیں۔

-45 اور اے پیغمبر ! جب آپ قرآن شریف پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک غیر مرئی اور پوشیدہ پردہ حائل کردیتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس قرآن کریم میں ایسی تاثیر ہے اور کافروں پر اثر نہیں ہوتا یہی واسطہ ہے کہ اوٹ میں ہیں آفتاب سے جہاں روشن ہے اور جس کی اس طرف پیٹھ ہے اس کے حساب میں کہیں نہیں۔ 13
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور وہ یہ کہ ہم ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ اس قرآن کریم کو سمجھ نہ سکیں اور ہم ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں اور جب قرآن کریم میں آپ صرف اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کافر پیٹھ پھیر کر نفرت کرتے ہوئے چل دیتے ہیں۔

-46 اور وہ یہ کہ ہم ان کے دلوں پر پردے ڈالتے ہیں تاکہ وہ اس قرآن کریم کو سمجھ نہ سکیں اور ہم ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں اور جب آپ قرآن کریم میں صرف اپنے پروردگار کی خوبیاں اور اس کے اوصاف و کمالات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کافر پیٹھ پھیر کر نفرت ظاہر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ یعنی کفر و عصیان موجب ہوتا ہے۔ عدم فہم اور عدم ارادئہ فہم کا اسی کو پر وہ اور ثقل فرمایا ہے یہ باتیں مومنین پر بھی کبھی ظاہر ہوتی ہیں۔ جب کوئی غلطی اور گناہ ہوجاتا ہے تو عبادت کی لذت سلب ہوجاتی ہے یا جماعت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ اور جہاں بالکل ہی عناد اور سرکشی ہو اور دین کا مقابلہ ہو اس کا اثر بھی اتنا سخت ہونا چاہئے جہاں صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے نفرت ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کی تعریف و توصیف کی خواہش ہو اور جہاں یہ دعوے ہوں۔ ” وقالوا قلوبنا فی آکنہ مما تدعونآ الیہ وفی آذاننا و قرومن م بیننا و بینک حجاب “۔ وہاں جتنے بھی پردے ہوں اور جتنی بھی رکاوٹ ہو وہ کم ہے۔ بہرحال ! انسان کی نافرمانی اور طغیانی اور سرکشی ہی کا نام پردہ ہے اور اسی کا نام ثقل ہے۔ اعاذنا اللہ منہ،
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جس وقت یہ کافر آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو جس غرض کے لئے یہ قرآن کریم کو کان لگا کر سنتے ہیں اس کو ہم خوب جانتے ہیں اور ہم ان کی سرگوشیوں کو بھی خوب جانتے ہیں جب یہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ محض ایسے شخص کے کہنے پر چل رہے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے

-47 جس وقت یہ کافر سننے کے لئے اے پیغمبر آپ کی جانب کان لگاتے ہیں تو جس غرض کے لئے یہ اس قرآن کریم کو کان لگا کر سنتے ہیں اس کو ہم خوب جانتے ہیں اور جس وقت یہ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں اس کو بھی ہم خوب جانتے ہیں جب یہ ظالم اپنی سرگوشیوں میں یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ پیروی نہیں کر رہے ہو مگر ایک ایسے شخص کی جو سحر زدہ ہے اور جس پر جادو کیا گیا۔ کفار کو جو کبھی پیغمبر کی مجلس میں رسول کی باتیں یر قرآن کریم کان لگا کر اور متوجہ ہو کر سنتے تھے اس کو فرمایا کہ جس غرض سے یہ سنتے ہیں اس کو ہم خوب جانتے ہیں یعنی اعتراض و طعن تشنیع کی غرض سے توجہ کے ساتھ سنتے ہیں پھر سننے کے بعد جو سرگوشیاں آپس میں بیٹھ کر کرتے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور سرگوشیوں میں یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم یعنی اہل عرب جو اس رسول کی پیروی کر رہے ہو وہ محض ایک سحر زدہ شخص ہے یعنی مجنون و پاگل کی پیروی کر رہے ہو۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

اے پیغمبر ذرا دیکھئے تو آپ کے متعلق یہ کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں سو یہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور اب یہ راہ حق نہیں پاسکتے

-48 اے پیغمبر ذرا دیکھئے تو آپ کے متعلق اور آپ کی شان میں یہ کیسی کیسی مثالیں گھڑتے اور بیان کرتے ہیں سو یہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور گمراہ ہیں تو اب یہ راہ حق اور صحیح راستہ نہیں پاسکتے۔ یعنی قرآن کریم کا استہزاء اور رسول اللہ ﷺ کی توہین کے سبب جو گمراہی ان کو میسر ہوئی ہے سو ان کے لئے راہ حق کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کیا جب ہم مرنے کے بعد ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔

-49 اور یہ دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ ہم جب مرنے کے بعد ہڈیاں اور ہڈیوں کا بھی چورا اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم از سر نو زندہ کر کے اٹھائیں جائیں گے۔ یعنی دوسری بار قیامت میں زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ تم خواہ پتھر ہو جائو یا لوہا

-50 آپ فرما دیجئے کہ تم ہڈیوں کے زندہ ہونے پر حیرت کرتے ہو تم خواہ پتھر ہو جائو یا لوہا بن جائو۔
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور ایسی چیز بن جائو جس کا زندہ ہونا تمہارے خیال میں بہت ہی بعید ہو مگر زندہ ضرور کئے جائو گے اس پر یہ یوں کہیں گے اچھا بتائو وہ کون ہے جو دوبارہ ہم کو زندہ کرے گا آپ فرما دیجیے وہی زندہ کرے گا جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا تو اس پر یہ لوگ آپ کے سامنے اپنے سر ہلانے لگیں گے اور کہیں گے اچھا یہ بتائو کہ یہ کب ہوگا آپ کہہ دیجیے عجب نہیں کہ اس کام کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو

-5 1 یا کوئی اور ایسی مخلوق اور چیز بن جائو جس کا زندہ ہونا تمہارے خیال میں بہت ہی بعید اور مشکل ہو کچھ بھی ہو جائو مگر زندہ ضرور ہو گے اس پر یہ یوں کہیں گے اچھا بتائو وہ کون ہے جو ہم کو دوبارہ زندہ کرے گا آپ ان سے فرما دیجیے وہی زندہ کرے گا جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اس پر یہ آپ کے سامنے اپنے سروں کو ہلانے اور مٹکانے لگیں گے اور کہیں گے۔ اچھا بتائو یہ دوبارہ زندہ ہونا کب ہوگا۔ آپ فرما دیجیے عجب نہیں کہ اس کام کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو۔ یعنی اول تو مر کر دوبارہ زندہ ہونا مشکل پھر جب محل حیات بھی باقی نہ رہے اور محل حیات کے تمام اجزا منتشر ہوجائیں۔ ارشاد ہواتم محل حیات پر شبہ کر رہے ہو کہتے ہیں تم پتھر یا لوہا بن جائو یا کوئی اور چیز جو تمہارے ذہن میں حیات اور زندگی سے بہت بعید ہو اور جس میں قبول حیات کی کوئی توقع ہی نہ ہو تم وہ چیزبن جائو اور یہ کوئی حکم نہیں بلکہ تعلیق ہے کہ اگر پتھر اور لوہا وغیرہ ہو جائو تب بھی محل قدرت ہی رہو گے اور جب پتھر اور لوہا جو کھبی حیات حیوانی سے آشنا ہی نہیں ہوئے ان کا زندہ ہونا ہوسکتا ہے تو اجزائے انسانی جو محل حیات رہ چکے ہیں ان کا زندہ ہوجانا تو بہت ہی اقرب ہے اور جب قابلیت ظاہر ہوگئی تو اب فاعل حیات کو پوچھیں گے جب اس کا جواب ہوگیا اور فاعل بتادیا گیا اور فاعل وہی ہے جس نے محض جما د کو زندگی بخشی۔ تو بطور انکار سر کو ہلاک کر وقت کا سوال کریں گے کہ آخر یہ دوبارہ زندہ ہونا ہوگا کب ؟ اس کا جواب دلوایا گیا۔ کیا عجب … ہے کہ اس کا وقت قریب ہی آگیا ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریباً ۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

یہ اس دن ہوگا جس دن خدا تم کو پکارے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے حاضر ہو جائو گے اور تم اس دن یہ خیال کرتے ہو گے کہ تم دنیا میں نہیں ٹھیرے مگر بہت ہی کم

-52 یہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نے تم کو پکارے گا یا فرشتہ کے ذریعہ سے آواز دی جائے گی اور تم کو میدان حشر میں زندہ ہو کر حاضر ہوجانے کا حکم دیا جائے گا۔ اضطرار اس کی حمد بیان کرتے ہوئے تعمیل حکم کرو گے اور زندہ ہو کر حاضر ہو جائو گے اور تم اس دن یہ اندازہ کرو گے کہ تم دنیا میں نہیں رہے مگر بہت ہی کم۔ مطلب یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کا وہ دن ہوگا جس دن تم کو اللہ تعالیٰ یا اس کے حکم سے اس کا فرشتہ پکارے گا تو تم زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے پیش ہو جائو گے اور چونکہ یہ حمد اضطراری ہوگی اس لئے اس حمد پر کوئی فائدہ مرتب نہ ہوگا دنیا کی زندگی کو تھوڑا سمجھیں گے یا اس دن اتنا ہول اور خوف ہوگا کہ دنیا اور قبر کی مدت کو بہت کم خیال کریں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اب شتابی کرتے ہو تب جانو گے کہ دنیا میں کچھ دیر نہ رہے تھے۔ پچاس برس ان ہزاروں برس کے سامنے کیا معلوم ہوں۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور آپ میرے بندوں سے فرما دیجیے کہ وہ ایسی بات کیا کریں جو بہتر ہو کیونکہ شیطان لوگوں میں سخت بات کی وجہ سے فساد ڈلوا دیتا ہے۔ واقعی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

-53 اور اپنے پیغمبر آپ میرے بندوں سے فرما دیجیے کہ وہ مذاکرے اور مباحثے کے دوران میں مخالفوں سے گفتگو کا اچھا اور بہتر طریقہ اختیار کریں کیونکہ شیطان سخت بات کی وجہ سے لوگوں میں باہم فساد کرانا چاہتا ہے واقعی شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ یعنی کفار کی جہالت اور کٹ حجتی کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو حسن اخلاق کی تعلیم دی کہت م نرمی اور محبت سے ان منکروں کے ساتھ گفتگو کیا کرو اور مباحثے میں ایسا طریقہ اختیار کرو جو بہتر ہو اور اس میں کسی کی دل آزاری کا پہلو نہ ہو اور شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے اس کی مراد پوری نہ ہونے دو کیونکہ وہ شیطان تو آپس میں جھگڑا کرانے اور فساد ڈلوانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مذاکرے میں سخت بات نہ کہیں کہ شیطان لڑائی ڈالتا ہے جب لڑائی پڑی تو اگلا سمجھتا بھی ہو تو نہ سمجھے۔ 12
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تم سب کا حال تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر وہ چاہے تو تم کو عذاب کرے اور ہم نے آپ کو ان پر کوئی ذمہ دار مقرر کر کے نہیں بھیجا ہے

-54 تم سب کا حال تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تم پر رحم فرمائے اور اپنی رحمت تم پر فرما دے اگر وہ چاہے تو تم کو عذاب کر دے اور تم کو رحمت سے دور کر دے اور ہم نے اسے پیغمبر آپ کو ان پر کوئی مختار اور ذمہ دار مقرر کر کے نہیں بھیجا۔ منکروں کی ضد بحث پر کبھی کبھی تبلیغ کرنے والوں کو غصہ آجاتا ہے کہ یہ لوگ حق بات کو نہیں مانتے۔ اس کی اصلاح فرمائی کہ تم غصہ نہ کیا کرو ہر شخص کی اہلیت اور قابلیت کو تمہارا پروردگار جانتا ہے وہ اگر چاہے تو تم کو ہدایت کی توفیق دے کر رحم فرمائے اور چاہے تو ہدایت کی توفیق سے محروم کر دے اور عذاب کرے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کو خطاب فرما کر ذمہ داری کی نفی فرمائی کہ جب مبلغ اعظم جناب رسول کریم ﷺ کو بھی وکالت اور ذمہ داری نہیں دی گئی تو دوسرے لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ہے اس لئے نہ ماننے پر آزردہ ہونے اور بگڑنے کی ضرورت نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ مذاکرے میں حق والا جھنجھلاتا ہے کہ دوسرا صریح حق کو نہیں مانتا سو فرمایا کہ تم پر ان کا ذمہ نہیں اللہ بہتر جانے جس کو چاہے راہ سمجھا دے۔ 12
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور اپنے پیغمبر آپ کا رب ان سب کے حال سے بخوبی واقف ہے جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اور بلاشبہ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے اور ہم ہی نے دائود کو زبور عطا کی۔

-55 اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار ان کو بھی خوب جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو زمین میں ہیں اور بلاشبہ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور ہم نے دائود کو زبور عطا فرمائی تھی۔ یعنی منکروں کا یہ مطالبہ صحیح نہیں ہے کہ فرشتوں کو نبی بنایا جائے یا زمین والوں میں سے فلاں کو بنایا جائے اور فلاں کو نہیں ۔ تمام مخلوق کو آپ کا پروردگار ہی جانتا ہے اور وہی …… جس کو چاہتا ہے منصب نبوت عطا فرماتا ہے چناچہ ہم نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور آپ کو تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی اور تم کو قرآن کریم عطا فرمایا۔ ان باتوں پر تعجب اور انکار کی کوئی وجہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ بعض نبی تھے کہ جھنجھلاگئے ، تیرا حوصلہ ان سے زیادہ رکھا ہے اور دائود کا ذکر کیا کہ دونوں باتیں رکھنے تھے جہاد بھی اور زبور بھی سمجھانے کو وہی دونوں باتیں یہاں بھی ہیں۔ 13
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

آپ ان کافروں سے فرمائیے کہ تم جن کو خدا کے سوا معبود سمجھے بیٹھے ہو ذرا ان کو پکارو تو وہ فرضی معبود نہ تم سے کسی تکلیف کو دور کردینے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ تکلیف کے بدلنے کا اختیار ان کو حاصل ہے

-56 اے پیغمبر آپ اس دین حق کے منکروں سے کہہ دیجیے کہ تم جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود سمجھے بیٹھے ہو ان کو ذرا پکارو تو سہی سو وہ فرضی معبود نہ تم سے کسی تکلیف اور دکھ کے دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس تکلیف کو بدلنے کا اختیار ان کو حاصل ہے۔ یعنی وہ معبود جن ہوں یا ملائکہ یا اصنام ان کو کسی اپنی تکلیف کو دور کرنے کی غرض سے پکار دیکھو تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کو نہ تو تکلیف دور کرنے کا اختیار ہے نہ تکلیف کو بدلنے کا کہ تم سے ہٹا کر کسی دوسرے پر ڈال دیں یا سخت تکلیف کو کچھ ہلکا کردیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تم سے کسی اور پر ڈال دیں۔ 12
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

جن لوگوں کو یہ مشرک پکارا کرتے ہیں ا ن کی خود یہ حالت ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف پہونچنے کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اور وہ خدا کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف رہتے ہیں واقعی آپ کے رب کا عذاب ہے بھی ڈرنے کی چیز

-57 یہ مشرک جن لوگوں کو پکارتے ہیں ان کو خود یہ حالت ہے کہ وہ خود اپنے پروردگار تک پہونچنے کا ذریعہ تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ ان میں کون نزدیک تر ہے اللہ تعالیٰ سے جس کو وسیلہ بنائیں اور وہ پروردگار عالم کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے خوف کھاتے اور ڈرتے رہتے ہیں واقعی آپ کے پروردگار کا عذاب ہے بھی ڈرنے کے قابل یعنی اس آیت میں کئی قول ہیں ایک بھی ہے کہ یہ اس وسیلہ کی تلاش میں ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ مقرب بنتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جوان میں سے مقرب بنتا ہے وہ بھی ایسے وسیلے کی تلاش میں ہے جس سے اور زیادہ قرب حاصل ہو اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جو جنات اور ملائکہ کی پرستش کرتے تھے ملائکہ تو قرب خداوندی کے لئے وسیلہ کے متلاشی رہتے ہیں حسن اتفاق سے وہ جن بھی حضور ﷺ کی خدمت حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے اور ان کافروں کو جوان کے پجاری تھے انہیں خبر نہ ہوئی اس لئے ان کے عار دلانے کو فرمایا کہ تم ان کو اللہ کے سوا پکارتے ہو اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو کر قرب الٰہی حاصل کرنے کی غرض سے خدا کی عبادت اور ریاضت میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جن کو کافر پوجتے ہیں وے آپ ہی اللہ کی جناب میں وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ جو بندہ بہت نزدیک ہو اسی کا وسیلہ پکڑیں اور وسیلہ رب کا پیغمبر ہے آخرت میں انہیں سے شفاعت ہوگی۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی نافرمانوں کی بستی ایسی نہیں جس کے رہنے والوں کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا کسی اور سخت آفت میں مبتلا نہ کریں یہ بات یعنی ہلاکی یا عذاب کتاب میں لکھی جا چکی ہے

-58 اور منکروں کی کوئی بستی ایسی نہیں ہے جس کے رہنے والے کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا ان کو کسی سخت ترین عذاب میں مبتلا نہ کریں یہ بات کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی جا چکی ہے۔ یعنی کسی معمولی آفت سے تباہ کریں یا کسی سخت ترین عذاب سے برباد کریں ہوسکتا ہے کہ مختلف آفتوں سے ہلاکت قبل قیامت ہو اور سخت ترین عذاب بعد قیامت ہو۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تقدیر میں لکھ چکے ہیں شہر کے لوگ ایک کو بزرگ ٹھیرا کر پوجتے ہیں کہ ہم اس کی رعیت ہیں اور اس کی پناہ میں ہیں سو وقت آنے پر کوئی نہیں پناہ دے سکتا۔ 12
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم کو منہ مانگی نشانیاں بھیجنے سے صرف یہی بات مانع ہوئی کہ پہلے لوگ ان معجزوں کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم نے ثمود کی قوم کو دلیل کے طور پر اونٹنی دی تھی پھر انہوں نے اس اونٹنی کے ساتھ بڑی زیادتی کی اور ہم اس قسم کے معجزے نہیں بھیجا کرتے مگر عذاب سے ڈرانے کو

-59 اور ہم کو ان منکروں کی منہ مانگی نشانیاں اور ان … کی حسب فرمائش نشانیاں بھیجنے میں کوئی بات مانع نہیں ہوئی۔ مگر یہ کہ پہلے لوگ اس قسم کی نشانیوں کی تکذیب کرچکے ہیں اور ان نشانیوں کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم نے ثمود والوں کو دلیل کے طور پر اونٹنی دی تھی پھر انہوں نے اس اونٹنی کے ساتھ بڑا ظلم اور زیادتی کی اور ہم اس قسم کے معجزے اور نشانیاں نہیں بھیجا کرتے مگر عذاب سے ڈرانے اور خوف دلانے کو یعنی کفار طرح طرح کے معجزے طلب کیا کرتے تھے اس کو فرمایا کہ پہلے لوگوں نے بھی معجزے طلب کئے تھے پھر ایمان نہ لائے اور ان پر عذاب استیصال بھیجا گیا اور ان کو بالکل برباد کردیا گیا۔ جس امت کو بالکل ہلاک کرنا ہماری حکمت و مصلحت کے خلاف ہوتا ہے ہم ان کی اس قسم کی فرمائشوں کو پورا نہیں کرتے۔ ہدایت تو مشیت الٰہی پر موقوف ہے اور ہم کو معلوم ہے کہ یہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں اور خیر الامم کا استیصال ہماری مصلحت کے خلاف ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہدایت موقوف نہیں نشانی پر۔ 12
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کیجیے جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ بیشک آپ کے رب نے سب لوگوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور ان عجائبات قدرت کا دیکھنا جو ہم نے آپ کو دکھائے تھے اس کو اور اس درخت کو جس کی مذمت قرآن کریم میں کی گئی ہے ان دونوں چیزوں کو ہم نے محض لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنایا اور ہم ان کو ڈراتے رہتے ہیں مگر ہمارے ڈرانے سے ان کی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی اور زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے ۔

-60 اور وہ وقت یاد کیجیے جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے پروردگار کی قدرت اور اس کے علم نے تمام لوگوں کو احاطہ میں لے رکھا ہے اور سب کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہ دکھاوا جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا یعنی معراج کی شب میں جو عجائبات قدرت آپ کو دکھائے تھے اس دکھاوے کو اور اس درخت کو جس کی مذمت قرآن کریم میں کی گئی ہے یعنی زقوم کا درخت جو دوزخی کھائیں گے۔ ان دونوں چیزوں کو ہم نے محض لوگوں کی آزمائش و ابتلاء کا ذریعہ بنایا اور ان کو خوف دلاتے اور ڈراتے رہتے ہیں مگر ہمارا ڈرانا ان کی سرکشی اور طغیانی کو بہت بڑھاتا ہے اور ان کی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یعنی جو چیز ہدایت میں دخل رکھتی ہے اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی تو نشانیاں جن کو ہایت میں دخل نہیں ان کے دکھانے سے ان کو کیا ہدایت ہوسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جب کہ دیا کہ رب نے گھیر لئے ہیں لوگ تو آخر سب مسلمان ہوں گے پھر تو نشانی کیوں مانگی اور وہ دکھاوا معراج ہے کہ لوگ جانچے گئے سچوں نے مانا اور کچوں نے جھوٹ جانا اور درخت پھٹکارا ہو یعنی درخت زقوم قرآن کریم میں ہے کہ دوزخ والے کھائیں گے ایمان والے یقین لائے اور منکروں نے کہا دوزخ کی آگ میں سبز درخت کیونکر ہوگا یہ بھی جانچنا تھا۔ 12
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور یوں کہا کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے۔

-6 1 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم (علیہ السلام) کے روبرو اور آدم کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور کہنے لگا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے۔ یہ واقعہ کئی جگہ قرآن کریم میں گزر چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ کے حکم میں شبہے نکالنے کافروں کے وہی چال ہے ابلیس کی۔ 12
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

ابلیس نے یہ بھی کہا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے بھلا یہ تو بتائو کہ اس میں کون سی فضیلت ہے اگر تو نے مجھ کو قیامت کے دن تک زندہ رہنے کا موقعہ دیدیا۔ تو اس کی تمام اولاد کو بجز تھوڑنے آدمیوں کے اپنے بس میں کرلوں گا۔

-62 ابلیس نے کہا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فوقیت اور فضیلت دی ہے اور جس کو تو نے مجھ پر بڑھایا ہے بھلا یہ تو بتا کہ اس میں کونسی فضیلت کی وجہ ہے اچھا اگر تو نے مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دی اور زندہ رہنے کا موقعہ دیا تو میں اس کی تمام اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا اور ڈھانٹی ڈال دوں گا مگر ہاں تھوڑے سے آدمی میرے قابو میں نہیں آئیں گے۔ یعنی قیامت تک مجھ کو زندہ رکھا تو تمام اولاد آدم کو گمراہ کر دوں گا اور اپنے کہنے پر چلا لوں گا۔ مگر ہاں تھوڑے سے آدمی جو مخلصین ہوں گے وہ بیشک میرے بس میں نہ آئیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنا مسخر کرلوں گا جیسے گھوڑے کو لگام دیا ۔ 12 دھانٹی دہلی میں گھوڑے کے منہ پر رسی ڈال کر بل دینے کو کہتے ہیں اس سے گھوڑا بےبس ہوجاتا ہے۔
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے کہا جا اپنی راہ لے پھر بنی آدم (علیہ السلام) میں سے جو شخص تیرے کہنے پر چلے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پوری سزا ہے

-63 ارشاد ہوا جاتو جو کرنا چاہے وہ کر پھر اولاد آدم میں سے جو شخص تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پوری سزا ہے۔ یعنی جو ہو سکے وہ کرلے ہم نے تیری اور تیرے متبعین کی سزا جہنم رکھی ہے جو پوری اور ہمیشہ کی سزا ہے۔ 12
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور اولاد آدم (علیہ السلام) میں سے جس جس کو تو اپنی جگہ سے ہلا سکے اس کو اپنی آواز یعنی وسوسہ سے ہلا دیجیو اور ان پر اپنے سواروں پر پیادوں کو چڑھا لائیو اور ان کے مال اور ان کی اولاد میں شریک ہو جائیو اور ان سے غلط ملط وعدے کیجیو اور شیطان اولاد آدم (علیہ السلام) سے جوق بھی وعدہ کرتا ہے وہ صرف فریب ہی فریب ہے۔

-64 اور اولاد آدم میں سے جس جس کو تو اپنی آواز اور چیخ و پکار سے اکھاڑ سکے اور اس کو اس کی جگہ سے ہلا سکے اور اکھیڑ سکے تو اکھیڑ دیجیو اور ہلا دیجیو اور ان پر اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لائیو اور ان کے مال اور ان کی اولاد میں شریک ہو جائیو اور ان سے وعدے کیجیو اور شیطان اولاد آدم (علیہ السلام) سے جو وعدے کرتا ہے وہ وعدے نہیں ہوتے مگر فریب اور دھوکہ ۔ آواز یعنی وسوسہ اور اغوا اکھیڑنا یعنی راہ راست سے ان کا قدم ڈگمگانے اور ہلانے میں کسر نہ کیجیو لشکر چڑھالانا یعنی سب مل کر گمراہ کرنا مال اور اولاد کے ذریعے گمراہ کرنا جھوٹے وعدے کرنا یہ سب امور تہدیدی ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ فحشاء اور گناہوں کی اجازت نہیں دیا کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کیا جاسکے وہ کر لیجیو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ مال میں ساجھا یہ کہ بتوں کی نیاز اپنے مال میں فرض سمجھتے ہیں اور اولاد میں یہ کہ ایک کو بتاتے ہیں فلانے کا بخشا ہے دوسرا فلانے کا بخشا 12
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

یقینا میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی بس نہ چل سکے گا اور با عتبار کار ساز ہونے کے آپ کا رب کافی ہے۔

-65 یقینا میرے خاص اور مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور اور بس نہ چل سکے گا اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار کافی کار ساز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کے لئے کافی کار ساز ہے اس لئے ان کے مقابلے میں شیطان بےبس اور عاجز ہے۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

لوگو ! تمہارا رب وہ ہے جوت مہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اس میں شک نہیں کہ خدا تم پر بہت مہربان ہے۔

-66 لوگو تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے نفع کے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ دریا اور سمندر ایک ملک کو دوسرے ملک کے ملنے میں حائل ہے قدرت نے کشتیوں کے سفر سے ایک ملک کا دوسرے ملک سے جوڑ لگا دیا ہے جس سے تجارت میں بڑی ترقی ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا فضل یعنی روزی، روزی کو قرآن کریم میں اکثر فضل فرمایا ہے فضل کے معنی زیادتی سو مسلمان کی بندگی ہے واسطے آخرت کے اور دنیا ملتی ہے بڑھتی میں کشتی ہانکتا ہے یعنی دریا میں اپنا زور نہیں چلتا بلی یا چپوپر مگر بادسو اسی کے اختیار میں ہے۔ 12
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب دریا میں تم کو کوئی آفت پہنچتی ہے تو اس وقت بجز خدائے تعالیٰ کے وہ سب تمہارے دلوں سے گم ہوجاتے ہیں جن کو تم پکارا کرتے ہو پھر جب تم کو خدا خشکی کی طرف لاتا ہے تو پھر تم روگردانی کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناسپاس ہے

-67 اور جب تم کو دریا میں کوئی آفت اور مصیبت پہونچتی ہے تو اس وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے وہ سب معبود ان باطلہ جن کو تم پکارتے ہو تمہارے دلوں سے گم ہوجاتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ تم کو دریا سے خشکی کی جانب بچا لاتا ہے تو تم پھر سابقہ عادت کے موافق روگردانی اور اعراض کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ور ناسپاس ہے۔ یعنی جب دریا میں ناموافق ہوا کی وجہ سے غرق ہونے کا خطرہ ہوجاتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعائیں مانگتے ہیں اور ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو کمزور اور لغو سمجھ کر فراموش کردیتے ہو۔ لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشاکرین۔ اور جہاں نجات ملی اور خشکی پر اللہ تعالیٰ نے پہونچایا تب ہی اپنی جبلت کے موافق کفر کرنے لگے۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو خشکی کے کنارے لا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی کنکر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پائو۔

-68 آگے اس کا فرانہ روش پر تنبیہہ فرماتے ہیں تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ تم کو خشکی کے کنارے پر لا کر اور خشکی کی طرف لا کر تم کو زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی کنکر پتھر برسانے والی سخت تند و تیز ہوا بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار اور کار ساز بھی نہ پائو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین زلزلہ سے یا کسی اور وجہ سے پھٹ جائے یا کسی دلدل میں پھنس کر زمین میں دھنس جائو یا کوئی تیز آندھی آجائے جس میں کنکر پتھر ہوں اور تم اس آندھی سے ہلاک کردیئے اور تمہارئی کوئی مدد کرنے والا بھی نہ ہو۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ خدا تم کو دوسری مرتبہ پھر دریا میں لوٹا کرلے جائے پھر تم پر ہوا کا ایک سخت طوفان بھیج دے اور تم کو تمہارے کفر کی وجہ سے غرق کر دے پھر اس غرق کردینے پر تم کسی کو اپنے لئے ہمارا پیچھا کرنیوالا بھی نہ پائو۔

-69 یا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پھر دریا میں لوٹا کرلے جائے پھر تم پر سخت ہوا کا کوئی طوفان بھیج دے اور تمہارے کفر کی وجہ سے تم کو غرق کر دے پھر تم کسی کو اپنے لئے ہمارا پیچھا کرنے والا بھی نہ پائو۔ یعنی کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے جس کی وجہ سے دوبارہ دریا کا سفر کرنے پر مجبور ہو جائو اور پھر کسی طوفان میں مبتلا کر کے تم کو غرق کر دے اور تم کسی کو ہمارا پیچھا کرنیوالا بھی نہ پائو۔ جو تمہارا انتقام لینے کے لئے ہمارا پیچھا کرے اور ہم سے تمہارا بدلا لے۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں چلنے والی سواریوں پر سوار کیا اور ہم نے ان کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں اور ہم نے بنی آدم کو اپنی بہت سی مخلوقات پر بڑی فضیلت عطا کی۔

-70 اور بلاشبہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو عزت اور بزرگی عطا فرمائی اور ہم نے خشکی اور تری میں چلنے والی سواریوں پر ان کو سوار کیا یعنی ان کے لئے خشکی میں اور دریا میں چلنے والی سواریاں پیدا کیں اور ہم نے ان کو ستھری اور نفیس و عمدہ چیزوں سے روزی عطا کی اور ہم نے اولاد آدم کو اپنی پیدا کردہ مخلوقات میں سے بہت سوں پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جانوروں کو سواری زمین پر نہ دریا پر آدمی کو دی ہے اور ستھری روزی یہ کہ میوے کا چھلکا دور کرنا اور اناج کی بھوسی اور پیسنا اور پکا کر کھانا اسی کو سکھایا۔ 12 خلاصہ ۔ یہ کہ آدمی میں بہت سی خوبیاں اور بعض صفات خاصہ ایسی ہیں جو دوسرے حیوانات میں نہیں اسی وجہ سے یہ دوسرے حیوانات کو قابو میں لا کر ان سے کام لیتا ہے تدبیر عقل اور حواس وغیرہ جو چیزیں انسان کو حاصل ہیں وہ حیوانات کو میسر نہیں ہیں۔ اس آیت میں بشر کی فضیلت ملائکہ پر زیر بحث نہیں ہے بلکہ آیت اس سے ساکت ہے وہ مسئلہ اپنے مقام پر آئے گا یہاں جن انعامات کا ذکر ہے وہ تمام بنی نوع انسان کو شامل ہیں۔ فافھم
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے جس دن ہم ہر فرقے کو اس کے امام کے ہمراہ بلائیں گے پھر جن کا نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ لوگ اپنے نامہ اعمال کو پڑھنے لگیں گے اور ان پر ایک آگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

-7 1 اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر فرقے کو ان کے سرداروں اور پیشوائوں کے ساتھ بلائیں گے پھر جس شخص کا نامہ اعمال اور اس کی کتاب دائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو ایسے لوگ اپنی اپنی کتاب کو پڑھتے ہونگے اور خوش ہو کر پڑھنے لگیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی جو شخص اور جو فرقہ جس کے کہنے پر چلتا تھا اس پیشوا کو بھی ساتھ ہی طلب کیا جائے گا۔ پھر تمام لوگوں کے نامہ اعمال اڑا دیئے جائیں گے اور نیک لوگوں کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں آجائیں گے تب خوش ہو کر پڑھیں گے بلکہ دوسروں کو بھی بلا کر کہیں گے آئو میری کتاب اور میرا نامہ اعمال پڑھو۔ ھائوم اقرئو اکتابیہ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس دن عمل کا کاغذ اڑا دیں گے نیکوں کے ہاتھ میں آئے گا داہنے ڈھب سے اور بدوں کو بانوے سے اور پیچھے سے یہ نشانی دیکھ کر نیت خوشی سے پڑھنے لگیں گے۔ 12 بعض حضرات نے امام کا ترجمہ نامہ اعمال کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے نامہ اعمال کے ساتھ بلائیں گے فتیل کھجور کی گٹھلی پر جو سفید دھاگہ وتا ہے اس کو کہتے ہیں۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس عالم میں اندھا بنا رہا وہ عالم آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا اور اندھے سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہوگا۔

-72 اور جو شخص اس عالم میں راہ حق سے اندھا بنا رہا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات پانے سے اندھا ہی رہے گا اور اس عالم سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہوگا۔ یعنی دنیا میں تو راہ حق بتانے والے موجود تھے اور وہاں کوئی راہ بتانے الا بھی نہ ہوگا وانی لھم التناوش من مکان بعید۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہدایت سے اندھا رہا ویسا ہی آخرت میں بہشت کی راہ سے اندھا ہے اور دور پڑا ہے۔ 12 اوپر ذکر تھا اصحاب یمین کا اور یہ لوگ اصحاب الشمال ہوں گے جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔
Ayah 17:73

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور اے پیغمبر یہ کافر تو آپ کو اس چیز سے بچلانے اور ہٹانے ہی لگے تھے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجی ہے ان کافروں کی یہ کوشش اس غرض سے تھی کہ آپ اس حکم کے سوا جو ہم نے بذریعہ وحی بھیجا ہے کوئی غلط بات ہماری طرف منسوب کردیں اور ایسا کرنے پر وہ کافر آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے

-73 اور اے پیغمبر یہ کافر تو آپ کو اس چیز سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعہ بھیجی ہے بچلانے اور ہٹانے ہی لگے تھے اور فریب دے کر ان احکامات سے ہٹانا چاہتے تھے اور ان کی یہ کوشش اس لئے تھی تاکہ آپ ان احکام کے سوا جو ہم نے آپ کو بھیجے ہیں کوئی غلط بات ہماری طرف منسوب کردیں اور ایسا کرنے پر وہ کافر آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے۔ مفسرین کے ان آیات کے متعلق مختلف اقوال ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت زیر بحث کا تعلق مکہ کے کفار کے ساتھ ہے کیوں کہ یہی لوگ اس قسم کی سازشوں میں دن رات لگے رہتے تھے۔ ان کافروں کا مطالبہ خواہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں سے بتوں کی برائی اور شرک کی مذمت کو بدل دیا جائے یا یہ ہو کہ غریب اور مزدور طبقے کو ہمارے ساتھ بٹھا کر قرآن کریم نہ سنایا جائے اگر آپ ہماری بات مان لیں تو ہم آپ کو اپنا دوست بنالیں گے اور آپ کے دشمنی ترک کردیں گے اور چونکہ نبی کا فعل خلاف شرع نہیں ہوتا اگر نبی کا کوئی مطالبہ مان لیتا تو اس کی نسبت حکم الٰہی کا ہونا لازم آتا اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ پر افتراء ہوتا اس لئے فرمایا لتفتری علینا غیرہ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر کہتے تھے کہ اس کلام میں نصیحت کی باتیں اچھی ہیں مگر ہر جگہ شرک پر عیب دیا ہے یہ بدل ڈال تو ہم اس کو سنیں۔ 12
Ayah 17:74

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو آپ ان کی طرف کچھ تھوڑا سا مائل ہونے کے قریب ہوجائے۔

-74 اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا اور ہم کو آپ ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ ان کی طرف کچھ تھوڑا سا مائل ہوجانے کے قریب ہوجاتے پیغمبر کی عصمت کا اظہار ہے اول تو رکن کے معنی ہی تھوڑا سا مائل ہونا ہے پھر اس میں شیئاً قلیلاً بڑھا کر یہ ظاہر کردیا کہ رسول قدم رہا اور ہم نے اس کو بچایا اور ادنیٰ میلان بھی نہ ہونے دیا اور آپ میں کوئی جھکائو اور ان کے خلاف شرع مطالبہ پر نہ ہو اور ان کی دوستی اور دوست بن جانے تک کا خیال تک نہ لائے۔ اللھم صل علی محمد و علی آل محمد
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اگر ایسا ہوجاتا تو اس وقت ہم آپ کو حالت حیات میں بھی اور مرنے کے بعد بھی سزا کا دگنا مزہ چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار بھی نہ پاتے۔

-75 اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوجاتا کہ آپ کو ان کی خواہش پوا کرنے کا ادنیٰ سا میلان بھی ہوجاتا تو ہم آپ کو اس وقت حالت حیات میں بھی اور آپ کی وفات اور مرنے کے بعد بھی دوہرے عذاب کا اور سزا کا مزہ چکھاتے ۔ مزید برآں یہ کہ پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کسی کو اپنا مددگار بھی نہ پاتے۔ یعنی اس کی نوبت ہی نہ آتی چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا ہے اور ہر امتحان میں آپ کو ثابت قدم رکھا ہے۔ اس وجہ سے آپ کو میلان سے بھی بچایا اور میلان پر متفرع ہونے والی سزا سے بھی محفوظ رکھا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد بھی آپ کے شامل حال رہی دوگنی سزا یعنی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے اس لئے بھی مرتبہ کے موافق دی جاتی۔ ” بعد الممات “ کا مطلب یہ کہ عالم برزخ میں یا قیامت میں یعنی ادنیٰ میلان تو کیسا وسوسہ کے درجہ میں بھی کوئی چیز متحقق نہیں ہوئی۔ الحمد اللہ علی احسانہ
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور وہ کافر تو اس سر زمین سے آپ کے قدم ہی اکھیڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو یہاں سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوجاتا تو آپ کے جانے پیچھے ان کو بھی یہاں رہنا نصیب نہ ہوتا مگر بہت تھوڑا اسی

-76 اور وہ کافر تو آپ کے قدم ہی اس سر زمین سے اکیھڑنے اور پھسلانے لگیت ہے تاکہآپکو یہاں سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوجاتا تو آپ کیت شریف لے جانے کے بعد ان کو بھی یہاں رہنا نصیب نہیں ہوتا مگر بہت تھوڑا۔ اس آیت میں بھی مفسرین کے مشہور دو قول ہیں اگر مکہ سے اخراج کا معاملہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد مکہ فتح ہو اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ دیا اور تمام کفاروں کو وہاں سے اجڑنا پڑا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ منورہ میں سازش ہوئی ہو جیسا کہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہود نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ نبی ہیں آپ کو شام میں جا کر بسنا چاہئے کیونکہ گزشتہ انبیاء کا وہی مسکن تھا ۔ بہرحال ! اگر مدینہ کی بات ہو تو وہ پوری نہیں ہوئی حضور ﷺ تبوک سے واپس تشریف لے آئے۔ ہم نے ابن کثیر سے دونوں قوموں کی تشریح کردی ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جیسا دستور ان حضرات کے بارے میں رہا ہے جن کو ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا تھا اور آپ ہمارے اس دستور میں تبدیلی نہ پائیں گے۔

-77 اسی جیسا دستور اور قاعدہ ان حضرات انبیاء کے بارے میں رہا ہے جن کو ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا تھا اور آپ ہمارے اس دستور اور قاعدے میں کوئی تغیر اور تفاوت نہ پائیں گے۔ قاعدہ یہی کہ جب کس بستی کے لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا تو ان بستی والوں کو بھی تھوڑے دنوں سے زیادہ بستی میں رہنا نصیب نہ ہو۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

اے پیغمبر آفتا ب کے ڈھلنے کے وقت سے لیکر رات کے اندھیروں تک نمازیں ادا کیا کیجیے اور صبح کی نماز بھی پڑھا کیجیے یقینا صبح کی نماز حاضر ہونے کا وقت ہے یعنی فرشتوں کے

-78 اے پیغمبر زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز کو قائم رکھا کیجیے اور فجر کا قرآن کریم پڑھنا بھی بیشک صبح کا قرآن کریم پڑھنا فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے۔ صبح کی نماز میں چونکہ قرأت طول ہوتی ہے اس لئے صبح کی نماز کو فجر کا قرآن کریم پڑھنا فرمایا ۔ زوال کے وقت سے لیکر رات کے اندھیرے تک ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں اور فجر کے قرآن کریم پڑھنے سے صبح کی نماز مراد ہے۔ یہ پانچ وقت کی نماز کا ذکر فرمایا صبح کی نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے یا محافظ فرشتے عصر کے وقت اور صبح کے وقت جمع ہوتے ہیں پہلے چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے آجاتے ہیں اس لئے ” ان قرآن الفجر کا ن مشھوداً “
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور کسی قدر رات کے حصہ میں بھی سو اس میں پیدا ہو کر تہجد کی نماز پڑھا کیجیے یہ تہجد آپ کے لئے ایک زائد چیز ہے امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں جگہ دے گا

-79 اور رات کے کچھ حصہ میں بھی سو اس رات کے حصہ میں بیدار ہو کر تہجد کی نما ز پڑھا کیجیے یہ تہجد آپ کے لئے ایک زائد چیز ہے امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں جگہ دے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نیند سے جاگ کر قرآن کریم پڑھا کر یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو مرتبہ بڑا دیتا ہے وہ تعریف کا مقام ہے شفاعت کا جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب حضرت اللہ سے عرض کر کے خلق کو چھڑا دیں گے تکلیف سے 12 بعض علماء فرماتے ہیں کہ تہجد آپ کے لئے بھی نفل تھا علماء کے دونوں قول ہیں ان احکام کے بعد حضور ﷺ کو مقام محمود کی بشارت دی گئی یہ مقام آپ کی شفاعت کا مقام ہے حضور اکرم ﷺ ہے کہ مجھ کو یہ مقام عطا کیا جائے گا اور میدان حشر کی گرمی ہے پریشان ہو کر لوگ ہر ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور آخر میں رحمت للعلمین کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے اس وقت آپ سجدے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کریں گے اور حساب و کتاب کے لئے درخواست کریں گے آپ مقام محمود میں اتنی حمد بیان کریں گے کہ تمام انبیاء کی حمد و ثنا سے آپ کی حمد بڑھ جائے گی لیکن وہ حمد کے الفاظ آپ کو دنیا میں نہیں بتائے گئے وہ قیامت ہی میں تعلیم کئے جائیں گے اس کو شفاعت کبریٰ کہتے ہیں۔ آپ کی حمد و ثنا کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے محمد ﷺ سر اٹھائو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ تفسیر ابن کثیر نے بہت سی روایتیں نقل کی ہیں ہم نے ان میں سے ایک روایت نقل کردی ہے۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجیے اے میرے رب جہاں مجھ کو پہنچائے خوبی کے ساتھ پہنچائیو اور جہاں سے مجھ کو نکالے خوبی کے ساتھ نکالیو اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ عطا کیجیو جس کو تیری مدد حاصل ہو۔

-80 اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے پروردگار تو مجھ کو جہاں لے جائے خوبی اور راحت کے ساتھ لے جائیو اور جہاں سے مجھ کو نکالے اور لے جائے خوبی اور راحت کے ساتھ نکالیو اور لے جائیو اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ اور زور عنایت کیجیو جس کو تیری مدد اور نصرت حاصل ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس شہر سے نکال آبرو سے اور کسی جگہ بیٹھا آبرو سے اللہ تعالیٰ نے مدینے میں بٹھایا اور وہاں کے لوگ حکم میں دیئے جن سے دین کو مدد ہوئی۔ 12 چونکہ کوئی غلبہ اور تسلط جب تک حق تعالیٰ کی نصرت اس کو حاصل نہ ہو اس کو پائیداری نہیں ہوتی۔ اس لئے ” واجعل لی من لدنک سلطاناً نصیراً “ سکھایا۔ دعا میں آگے اس دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔