17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے کہ حق یعنی اسلام آ پہونچا اور باطل یعنی شرک گیا گزرا ہوا اور واقعی باطل تو زائل ہوجانے والی ہی چیز ہے

-8 1 اور آپ کو کہہ دیجیے کہ دین حق یعنی اسلام آ پہونچا اور باطل دین یعنی کفر و شرک کیا گزرا ہوا اور بھا گ گیا اور واقعی باطل تو زائل اور بھاگ جانے الی ہی چیز ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی غلبہ دین آیا اور کفر بھاگا مکہ میں سے اور تمام عرب میں سے 12 چناچہ ہجرت کے بعد مکہ معظمہ فتح ہوا اور کفر کا دھڑ ٹوٹ گیا اور یہ پیشین گوئی شان دار طریقہ سے پوری ہوئی۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور یہ قرآن کریم جو ہم نازل فرما رہے ہیں یہ مسلمانوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور نا انصافوں کے لئے اس سے اور الٹا نقصان ہی بڑھتا ہے۔

-82 اور یہ قرآن کریم جو ہم نازل فرما رہے ہیں یہ مسلمان اور مومنوں کے لئے تو شفا اور رحمت ہے اور نا انصافوں اور ظالموں کو یہ نہیں بڑھاتا مگر نقصان یعنی مومن چونکہ اس پر ایمان لاتے ہی اور اس کو مانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں تو ان کے لئے موجب رحمت اور امراض باطنی کی شفا کا سبب ہے اور کافر چونکہ اس قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں اسلئے ان کو اس سے الٹا نقصان ہی پہونچتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں روگ چنگے ہوں، دل کے شبہے اور شک مٹیں اور اس کی برکت سے بدن کے روگ بھی رفع ہوں۔ 12
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو ہمارا حق ماننے سے منہ موڑتا اور اپنا پہلوپھیر لیتا ہے اور جب اس کو کوئی سختی پہونچتی ہے۔ توہ بالکل مایوس ہوجاتا ہے

-83 اور انسانوں میں سے بعض انسان ایسا ہے کہ جب ہم اس کو اپنی نعمت عطا کرتے ہیں اور اپنے انعام و اکرام سے نوازتے ہیں تو وہ ہمارا حق اور ہمارے احکام ماننے سے منہ موڑتا اور اپنا پہلو پھیر لیتا ہے اور جب اس کو کوئی سختی اور دکھ پہنچتا ہے تو وہ بالکل مایوس اور ناامید ہوجاتی ہے۔ یہ کافر کی حالت بیان فرمائی کہ نعمت کی حالت میں نافرمان اور دکھ کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بازو ہٹا دے یعنی بندگی سے سرکتا جاوے۔ 12 گویا کسی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق نہیں نہ نعمت میں نہ مصیبت میں۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ہر ایک اپنے اپنے ڈھنگ پر کام کرتا ہے اور تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون شخص زیادہ صحیح راہ پر ہے

-84 آپ کہہ دیجیے کہ اچھا یا برا ہر شخص اپنے اپنے ڈھنگ اور طریقہ پر کام کر رہا ہے اور آپ کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ صحیح اور ٹھیک راستہ پر ہے۔ یعنی ہر کافر اور مومن اپنی اپنی نیت اور اپنی اپنی طبیعت کے موافق کام کر رہا ہے لیکن کون کس قدر صحیح چل رہا ہے اور کون کج روی اختیار کئے ہوئے ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ ہر ایک کی چال کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور اے پیغمبر لوگ آپ سے روح کی حقیقت دریافت کرتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔

-85 اور اے پیغمبر لوگ آپ سے روح کی حقیقت کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے لے اور میرے پروردگار کے امرکن سے بنی ہے اور تم کو علم نہیں دیا گیا مگر بہت تھوڑا۔ یعنی آپ کا امتحان لینے کی غرض سے آپ سے دریافت کرتے ہیں اور یہود ان کو سکھاتے ہیں کہ یہ سوال کرو۔ روایات میں ہے کہ کچھ لوگ مکہ معظمہ میں گئے اور وہاں کے یہود سے دریافت کیا کہ یہ شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے کوئی ایسی بات بتائو جو ہم اس سے دریافت کریں یہود نے ان کو سکھایا کہ تم ذوالقرنین اور اور اصحاب کہف اور روح انسانی کے متعلق سوال کرو ہوسکتا ہے کہ کفار مکہ اور یہود نے مل کر یہ سوال کیا ہو۔ بہرحال جواب دیا گیا کہ روح اللہ تعالیٰ کے امر کن سے بنی ہے اور اس کی مخلوق ہے جب مادہ سے ایک جسم بنا اور اس میں صلاحیت آئی تو مبداً فیاض کی جانب سے اس کو روح عطا کردی گئی۔ بعض حضرات نے یہاں روح سے جبرئیل امین یا قرآن کریم یا حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام) یا اور کوئی عظیم الخلقت فرشتہ مراد لیا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس روح سے سوال ہے جس کے داخل ہونے سے انسان زندہ ہوتا ہے اور جس کے نکل جانے سے مرجاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت کے آزمانے کو یہود نے پوچھا سو اللہ تعالیٰ نے نہ بتایا کہ ان کو سمجھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ آگے بھی پیغمبروں نے حلق سے باریک باتیں نہ کہیں۔ اتنا جاننا بس ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آ پڑی وہ جی اٹھا جب نکل گئی مرگیا۔ 12 یہ جو تھوڑا علم فرمایا سو اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں۔
Ayah 17:86

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر ہم نے آپ پر وحی بھیجی ہے اس سب کو سلب کرلیں پھر آپ اس سلب شدہ وحی کو واپس دلانے کے لئے ہمارے مقابلہ میں کوئی اپنا حمایتی بھی نہ پائیں۔

-86 اور اپنے پیغمبر ہم اگر چاہیں تو جس قدر اور جو کچھ ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی ہے وہ سب سلب کرلیں پھر اس سلب شدہ وحی کو واپس لانے کے لئے آپ ہمارے مقابلہ میں اپنا کوئی حمایتی بھی نہ پائیں۔
Ayah 17:87

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر صرف آپ کے رب کی مہربانی ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا بیشک آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔

-87 مگر یہ آپ کے پروردگار ہی کی رحمت ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا بلاشبہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل یہ۔ یعنی قرآن شریف ایک نعمت عظمیٰ ہے اگر اللہ تعالیٰ چ ہے تو اس کی نعمت کو سلب کرسکتا ہے یعنی نہ وجود خارجی باقی رہے نہ وجود ذہنی اور اگر یہ چیز سلب ہوجائے تو تمہارا کوئی حمایتی ہم سے واپس بھی نہیں دلا سکتا مگر آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔ شاید یہاں سلب وحی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ کوئی روح خواہ کتنی ہی کامل ہو اس کے سب اوصاف و کمالات اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے ہیں اور مستعار ہیں کوئی کمال کسی کا ذاتی نہیں ہے۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جنات سب اس کیلئے جمع ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن کریم بنا لائیں تو بھی اس جیسا قرآن کریم نہ لاسکیں گے خواہ وہ آپس میں ایک دور سے کے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں۔

-88 آگے قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر فرمایا اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے اگر تمام انسان اور جنات سب کے سب اس بات پر جمع ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن کریم بنا لائیں تو اس جیسا قرآن کریم نہ لاسکیں گے خواہ وہ آپ س میں ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں۔ یعنی تمام مخلوق مل کر بھی قرآن کریم کا جواب لانے سے عاجز اور بےبس ہے۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن کریم میں ہر قسم کا عمدہ عمدہ مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے مگر پھر بھی اکثر لوگ انکار اور ناشکری کئے بغیر نہ رہے

-89 اور یقینا ہم نے لوگوں کو اس قرآن کریم میں ہر پیرایہ سے بار بار ہر قسم کا عمدہ اور عجیب مضمون بیان کیا ہے پھر بھی بہت سے لوگ بن ناشکری کئے نہیں ہے۔ یعنی جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے اس قرآن کریم میں مختلف انداز سے ہر قسم کے دلائل اور مثالیں لوگوں کے لئے بیان کیں اور بار بار بیان کیں لیکن باوجود اس کے اکثر لوگوں نے سوائے شیوئہ کفر کے ہر بات کا انکار کیا یعنی کفر کو نہ چھوڑا اور ایمان و شکر گزاری کی پوری بات اختیار نہ کی۔
Ayah 17:90

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کفار مکہ آپ سے یوں کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تو ہمارے لئے یا تو اس سر زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دے

-90 اور اے پیغمبر مکہ کے کفار آپ سے یوں کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تو ہمارے لئے اس مکہ کی سر زمین میں یا تو کوئی چشمہ جاری کر دے۔
Ayah 17:91

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا خاص طور پر تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو پھر تو اس باغ کے درمیان جگہ جگہ بہت سی نہریں جاری کر دے۔

-9 1 یا خاص طور پر تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو پھر تو اس باغ میں جگہ جگہ بہت سی نہریں جاری کر دے۔
Ayah 17:92

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا تو ہم سے کہا کرتا ہے ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے یا اللہ کو اور فرشتوں کو کھلم کھلا ہمارے سامنے لے آ۔

-92 یا جیسا تو ہم سے کہا کرتا ہے ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے یا تو اللہ تعالیٰ کو اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لا کر کھڑا کر دے اور ہمارے سامنے لے آ۔
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تیرے پاس کوئی سونے کا بنا ہوا رہنے کا مکان ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور ہم تیرے آسمان پر چڑھ جانے کا بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک تو وہاں سے کوئی کتاب نہ لے آئے جس کو ہم پڑھ بھی لیں آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانیوالا بشر ہوں۔

-93 یا تیرے پاس کوئی سونے کا بنا ہوا گھر رہنے کو ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور ہم خالی آسمان پر چڑھ جانے کا بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے پاس وہاں سے کوئی لکھی ہوئی ایسی کتاب نہ اتار لائے جس کو ہم پڑھ بھی لیں آپ ان سب مطالبات اور مانہ مانگی نشانیوں کے جواب میں کہہ دیجیے میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں اور آدمی ۔ یعنی مجھے جو کام تفویض ہوا ہے وہ کر رہا ہوں مجھے اس سے زیادہ کوئی اختیار نہیں۔ لہٰذا ان آیات کا کوئی تعلق بشر یا رسول سے نہیں رہا۔ حضرت حق تعالیٰ کا منشا تو وہ اپنی حکمت و مصلحت کو جانتے ہیں وہ چاہیں تو بلا ضرورت یہ نشانیاں تم کو دکھائیں اور تم فرمائشی نشانی کو دیکھ کر پھر ایمان نہ لائو تو تم سب کو ہلاک کردیں وہ چاہیں فرمائشی نشان دکھائیں یا نہ دکھائیں یہ ان کی حکمت بالغہ پر محمول ہے میرا کوئی دخل ان کی ملحت غامضہ میں نہیں ہے۔ اس قسم کے فرمائشی معجزوں کے متعلق اسی سورت میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جس وقت لوگوں کے پاس ہدایت آئی تو ان کو ایمان لانے سے صرف یہی ایک بات مانع ہوئی کہ انہوں ں نے یوں کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔

-94 اور جب لوگوں کے پاس ہدایت و رہنمائی آئی تو ان کو ایمان لانے اور ہدایت کو قبول کرنے سے صرف یہی بات مانع ہوئی کہ انہوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی اگرچہ اور بھی شبہات تھے لیکن سب سے اہم اور قابل توجہ یہی بات مانع ہوئی کہ وہ رسالت اور بشریت میں منافات سمجھے اور یہی کہتے رہے کہ فرشتے کیوں نہیں آیا ہماری ہدایت کو بشر کیوں آیا۔ ” فقالوآ البشر یھدوننا فکفرو “ (سورئہ تغابن)” لولا تزل علینا الملئکۃ “ (سورئہ فرقان)
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے اگر زمین پر فرشتے ہوتے کہ وہ اس میں چلتے پھرتے رہتے بستے تو بیشک ہم ان کے لئے آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔

-95 آپ اس قسم کے معترضین سے فرما دیجیے اگر زمین پر فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو یقینا ہم ان کے لئے آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے یعنی اگر زمین پر فرشتے آباد ہوتے اور وہ باوجود فرشتے ہونے کے آسمان پر نہ جاسکتے تو ان کا رسول بھی فرشتہ ہی ہوتا لیکن یہاں بشر آباد ہیں اس لئے ان کی ہدایت کے لئے بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے میرے اور تمہارے درمیان ازروئے گواہ اللہ تعالیٰ کافی ہے وہی اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا دیکھتا ہے۔

-96 آپ فرما دیجیے میرے اور تمہارے درمیان گواہ بننے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ اپنے بندوں کے تمام احوال کو خوب جانتا ہے۔ خوب دیکھتا ہے یعنی تمہارے عناد اور تمہاری بےہودہ حرکات کو بھی جانتا دیکھتا ہے اور میرے معقول دلائل اور میری صحیح باتوں سے بھی واقف ہے۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو خدا راہ دکھائے وہی ہے راہ یافتہ اور جس کو وہ بےراہ کر دے تو اے پیغمبر ایسے گمراہوں کا سوائے خدا کے آپ کسی کو مددگار نہ پائیں گے اور ہم ان گمراہوں کو قیامت کے دن اندھا بہرا گونگا کر کے ان کے مونہوں کے بل اٹھائیں گے ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے جب اس کی آگ ذرا ہلکی ہونے لگے گی تب ہی ہم اسے بھڑکا کا کر ان پر اور تیز کردیں گے۔

-97 اور جس کو اللہ تعالیٰ راہ پر لائے اور جس کی رہنمائی فرمائے وہی شخص راہ یافتہ ہے اور وہ جس کو بےراہ رکھے تو اے پیغمبر ایسے گمراہوں کا سوائے اللہ تعالیٰ کے آپ کسی کو مددگار نہ پائیں گے اور ہم قیامت کے دن اندھا بہرا گونگا بنا کے منہ کے بل چلائیں گے اور منھ کے بل چلا کر حشر میں لائیں گے اور ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے جب اور جس وقت اس کی آگ ذرا دھیمی اور ہلکی ہونے لگے گی تب ہی ہم اس آگ کو ان کے لئے بھڑکا دیں گے اور تیز کردیں گے۔ یعنی ہدایت اس کو میسر آتی ہے جس کو خدائے ہدایت دیتا ہے اور وہ جس کی سرپرستی نہ فرمائے تو ایسے گمراہ جن کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں ان میں سے ان کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا اور اپنی گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہیں گے چناچہ قیامت کے دن اندھے بہرے گونگے ہو کر اپنے مونہوں کے بل میدان حشر میں جمع ہوں گے اور ہم اس حال سے ان کو جمع کریں گے اور ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہوگا اور اس کی آگ کبھی گل نہ ہوگی جب ذرا ہلکی ہوگی تب ہی بھڑکاکر تیز کردی جائے گی۔ میدان حشر میں بجائے پائوں سے چلنے کے سر کے بل چلیں گے۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا اور یوں کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گیتو کیا ہم پھر از سر نو اٹھائے جائیں گے۔

-98 یہ جہنم ان کی سزا اس سبب سے ہوگی کہ انہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا تھا اور یوں کہا تھا کہ کیا جب ہم مرنے کے بعد ہڈیاں اور بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گیتو کیا ہم پھر از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ یعنی مذکورہ سزا ان کو اس وجہ سے دی جائے گی کہ احکام الٰہی کا انکار کرتے تھے اور مرنے کے بعد عالم آخرت کی زندگی کے قائل نہ تھے۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اتنا نہیں جانتے کہ جس اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ ان جیسوں کو دوبارہ پیدا کر دے اور اس نے ان کے دوبارہ پیدا ہونے کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں اس پر بھی یہ ظالم انکار کئے بدوں نہ رہے۔

-99 کیا یہ لوگ اتنا نہیں جانتے اور ان کو اتنا معلوم نہیں کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کر دے اور اس نے ان کے دوبارہ پیدا کرنے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک کرنے کی گنجائش نہیں اس پر بھی یہ ظالم انکار کئے بدوں نہ رہے۔ یعنی جو آسمان و زمین کا خالق ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کر دے یہ خیال نہ کیا جائے کہ ہزارہا آدمی مرتے چلے جاتے ہیں اور کسی کو دوبارہ پیدا ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے اس عالم بعث کا اور سب کے زندہ ہونے کا ایک وقت اور ایک میعاد مقرر ہے اس وقت سب دوبارہ پیدا کئے جائیں گے لیکن ان کافروں کی حالت یہ ہے کہ کفر کا شیوہ جو انہوں نے اختیار کر رکھا ہے اس کے علاوہ دین حق کی ہر بات کا انکار ہی کئے جاتے ہیں اور کسی معقول سے معقول بات پر کان نہیں دھرتے۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مختار ہوتے تو تم ان خزانوں کو بھی اس دور سے روک رکھتے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائیں اور انسان بڑا ہی تنگ دل واقع ہوا ہے۔

- 100 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمائیے اگر تم میرے پروردگار کی رحمت کے خزانوں کے مختار ہوتے تو تم ان خزانوں کو بھی اس خوف سے روک رکھتے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائیں اور انسان بڑا ہی دل تنگ واقع ہوا ہے۔ یعنی رحمت رب عام طور سے نبوت کے لئے قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اس لئے شاید یہ اس شبہ کا جواب ہو جو یہ منکر کیا کرتے تھے کہ ابن عبداللہ کو کیوں یہ قرآن کریم دیا گیا اور ان کو کیوں نبوت دی گئی ۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پروردگار کی رحمت کے خزانے تم کو دے دیئے جاتے تو تم اس میں بھی بخل کرتے اور خرچ ہوجانے کے خوف سے اپنا ہاتھ روک لیتے۔ چنانچہ ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے خزانے خود ہی تقسیم کئے اور جس کو اہل پایا اور جس میں صلاحیت پائی اس کو اپنی رحمت یعنی نبوت سے سرفراز فرمایا چوں کہ نبوت کی بحث اوپر سے ہو رہی ہے اس مناسبت سے ہم نے یہ معنی کئے ہیں ورنہ آیت کے معنی اور طرح بھی کئے گئے ہیں۔ بخل کی مذمت تو ظاہر ہی ہے۔ جیسے پانچویں پارے میں فرمایا۔ ام لھم نصیب من الملک فاذ الایئوتون الناس نقیرا۔ ابن کثیر نے اس آیت کو بخل کی مذمت پر حمل کیا ہے اور یہی معنی لئے ہیں۔
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جب کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے تو نشانیاں کھلی ہوئی دی تھیں آپ بنی اسرائیل یعنی ان کے علماء سے پوچھ دیکھئے پس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تیرے متعلق یہ خیال کرتا ہوں کہ تجھ پر جادو کردیا گیا ہے ۔

- 10 1 اور یقینا ہم نے موسیٰ کو جب کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے نو نشانیاں واضح اور کھلی ہوئی دی تھیں آپ بنی اسرائیل سے دریافت کر دیکھئے پس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تیرے متعلق یہ خیال کرتا ہوں کہ تو سحر زدہ ہے اور تجھ پر جادو کردیا گیا ہے یعنی یہ نونشانیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت عطا ہوئی تھیں جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو فرعونی مظالم سے نجات دلانے کے لئے تشریف لائے یہ نونشانیاں نویں پارے میں مذکور ہوچکی ہیں چونکہ یہ نشانیاں بنی اسرائیل اور ان کے علماء کو معلوم تھیں ، اس لئے فرمایا بنی اسرائیل سے پوچھو دیکھو، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے اور فرعون سے باتیں ہوئیں تو اس نے بجائے ایمان لانے پر بنی اسرائیل کے ساتھ انصاف کرنے کے الٹا موسیٰ (علیہ السلام) کو سحر زدہ کہہ دیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں شاید نونشانیاں نو معجزے ہوں وے جو فرعون کے مقابلہ میں اللہ نے بھیجے اور شاید نو حکم ہوں کہ تورات کے سرے پر لکھے جاتے تھے وہ یہی کبیرہ گناہوں سے منع تھا۔ 21
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اے فرعون تو بھی خوب جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو جو بطور بصیرت افروز دلائل کے ہیں صرف آسمانوں اور زمین کے رب نے ہی نازل کیا ہے اور میں اے فرعون تیرے متعلق خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوا چاہتا ہے۔

- 102 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو قسم کھا کر جواب دیا اے فرعون بلاشبہ تو خوب جانتا ہے کہ ان معجزات اور نشانات جو بطور بصیرت افروز دلائل کے ہیں صرف آسمان اور زمین کے مالک اور پروردگار ہی نے نازل فرمایا ہے اور اے فرعون میں تیرے متعلق خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک و برباد ہوا چاہتا ہے، یعنی بلاشبہ تجھ کو یقین ہے اور تو دل میں قائل ہے کہ یہ نشانات اور عجائبات جو ہدایت اور روشنی حاصل کرنے کے لئے کافی ذریعہ ہیں۔ بجز آسمان و زمین کے مالک اور پروردگار کے کسی اور کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہیں مگر تو اپنی ہٹ دھرمی اور سخن پروری کے باعث اقرار نہیں کرتا اور چونکہ ایسے ہٹ دھرم جو حق کو حق سمجھتے ہوئے قبول نہ کریں زیادہ دن سرسبز نہیں رہتے اس لئے میرا گمان ہے کہ تیری ہلاکت اور تیری شامت تیرے سر پر منڈلا رہی ہے۔
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پھر فرعون نے ارادہ کیا کہ سر زمین مصر سے بنی اسرائیل کو ختم کر دے تو ہم نے فرعون کو اور جو اس کے ساتھی تھے سب کو غرق کردیا

103 ۔ پھر فرعون نے ارادہ کیا کہ سر زمین مصر سے بنی اسرائیل کو اکھیڑ دے اور ان کو گھبرا دے یعنی قتل کر دے یا نکال دے اس پر ہم نے فرعون کو اور اس کے ساتھیوں کو سب غرق کردیا اور سمندر میں ڈبو دیا یعنی فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب بن نہ آیا تو اس نے یہ تدبیر سوچی کہ بنی اسرائیل کو ختم کیا جائے تاکہ یہ فرعون غیر ملکیوں کا قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو یہ تدبیر سوچ کر مسلمانوں پر از سر نو زیادتی شروع کردی۔
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور فرعون کے ڈبونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا اب تم زمین مصر میں سکونت اختیار کرو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے تو ہم تم سب کو ملا جلا کر لا حاضر کریں گے۔

- 104 اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ اب تم زمین مصر میں مالاکنہ حیثیت سے رہو سہو اور سکونت اختیار کرو پھر جب آخرت آئے گی اور آخرت کے وعدے کا ظہور ہوگا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لا حاضر کریں گے۔ یعنی سر زمین مصر کا مالک بنی اسرائیل کو کردیا خواہ وہ اس میں ابھی آباد ہوجائیں یا کچھ عرصہ کے بعد آئیں۔ باقی یہ مالکیت یاداشت بنانا دنیا کی زندی میں ہے جب قیامت آئے گی تو ہم تم سب کو میدان حشر میں لاکھڑا کریں گے اور وہاں سب بحیثیت مملوک کے حاضر ہوں گے۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے قرآن کریم کو سچائی ہی کے ساتھ نازل کیا اور وہ سچائی ہی کے ساتھ نازل ہوا او ہم نے آپ کو صرف خوشی سنانیوالا اور ڈرانیوالا بنا کر بھیجا ہے

- 105 اور اے پیغمبر ہم نے اس قرآن کریم کو سچائی کے ساتھ اتار اور وہ سچائی اور راستی کے ساتھ نازل ہوا اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا یعنی جیسا بھیجا تھا ویسا ہی پہنچا جو لوگ اس کے ماننے سے اناکر کرتے ہیں ان سے متاثر نہ ہو جئے آپ کا کام صرف خوشخبری اور ڈرانا ہے ہم نے آپ کو صرف مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ ایمان لانے والے کو ثواب کی بشارت دیں اور کفر کرنے والوں کو عذاب سے ڈرائیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سچ کے ساتھ اترا یعنی بیچ میں بدلا نہیں گیا۔ 21
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور اس مصلحت سے کہ آپ اس قرآن کریم کو لوگوں کے سامنے ٹھیر ٹھیر کر پڑھیں ہم نے اس قرآن کریم کو تقسیم بھی کردیا ہے اور اس کو نازل بھی کیا ہے۔ تھوڑا تھوڑا کر کے

- 106 اور ہم نے اس مصلحت سے کہ آپ اس قرآن کریم کو لوگوں کے سامنے ٹھیر ٹھیر کر پڑھیں اس قرآن کریم میں فصل اور فرق کردیا ہے اور اس کو نازل بھی کیا ہے۔ تدریجاً تھوڑا تھوڑا کر کے یعنی قرآن کریم کی سچائی اور راستی کے ساتھ اس میں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں کہ ہم نے اس کو آیتوں اور سورتوں کے ساتھ فصل سے نازل کیا ہے تاکہ آپ اس کو ٹھیر ٹھیر کر لوگوں پر پڑھیں، ایک آیت کو دوسری آیت سے اور ایک سورت کو دوسری سورت سے جدا رکھا اور نازل بھی کیا۔ تدریج کے ساتھ تھوڑا تھوڑا تاکہ معافی کا بھی انکشاف ہو اور مسائل بھی معلوم ہوتے رہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بعضے کتاب سے مطلب فقط معنی سمجھتے ہیں اور اس کے لفظ بھی پڑھنے سے غرض ہے کہ نور و برکت اترتا ہے اسی واسطے سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں اور تھوڑا تھوڑا اتارا ہر وقت پر موافق اس کے حکم بھیجا۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجیے تم اس قرآن کریم پر خواہ ایمان لائو یا نہ لائو جن لوگوں کو قرآن کریم سے پہلے کتب آسمانی کا علم دیا گیا تھا ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان کے سامنے یہ قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل یعنی منہ کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں

- 107 اس عنایت و مہربانی کا تقاضا تو یہ تھا کہ منکر اس پر ایمان لاتے لیکن یہ مخالفت کرتے ہیں تو ان سے فرما دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لائو یا نہ لائو جن لوگوں کو قرآن کریم سے پہلے کتب آسمانی کا اور دین کا علم دیا گیا تھا ا ن کی یہ حالت ہے کہ یہ قرآن کریم جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں۔
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہی ہو کر رہتا ہے

- 108 اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک اور بےعیب ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہی ہو کر رہتا ہے۔ یعنی اگر تم اس پر ایمان نہ لائو گے تو میرا کیا نقصان ہوگا آخر اہل کتاب میں منصف سمجھدار اور اہل علم ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو سن کر منہ کے بل سجدے میں گرتے اور یوں کہتے ہیں تو نے جو کتب سابقہ میں آخری کلام اور آخری کتاب کا وعدہ کیا تھا وہ پروا ہو کر رہا اور یہ قرآن کریم نازل ہوا۔ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ فرماتے ہیں یعنی اگلے پہچاننے والے اس کو پہچانتے ہیں اور وہ وعدہ جو تھا کہ آخر زمانے میں ایک کلام اترنے کا ٹھیک پاتے ہیں۔ 21
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑویں اور منہ کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور یہ قرآن کریم کا سننا ان میں خشوع اور عاجزی کو اور بڑھا دیتا ہے۔

- 109 اور وہ اپنی ٹھوڑیوں اور مونھوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور قرآن کریم کا سننا ان میں عاجزی اور خشوع کو بڑھا دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نماز میں سجدہ دو بار ہوتا ہے اس واسطے دو بار فرمایا پہلی بار اس کلام کی تاثیر سے تعجب آتا ہے اور دوسری بار عاجزی ہے۔ 21
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تم خدا کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی چاہو پکارو اچھے اچھے سب نام اسی کے لئے خاص ہیں اور آپ اپنی جہری نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھیے اور نہ اس میں بالکل ہی چپکے چپکے پڑھیے بلکہ جہر اور اخفاء کے درمیان ایک متوسط طریقہ اختیار کر لیجیے۔

- 1 10 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا اس کو رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے چاہے پکارو اچھے اچھے سب نام اسی کے لئے خاص ہیں اور اپنی نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھا کیجیے اور نہ اس نماز میں بالکل چپکے چپکے پڑھا کیجیے بلکہ دونوں کے مابین ایک متوسط طریقہ اختیار کر لیجیے۔ نبی کریم ﷺ کی زبان سے یا اللہ یا رحمٰن سن کر کافر کہتے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور دو نام پکارا کرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی دو معبودوں کا قائل ہے۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ اس کو کسی نام سے پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں اور جب مسمی ایک ہے تو نام خواہ کتنے ہی ہوں شرک تو جب ہوتا جب مسمی بھی دو یا دو سے زائد ہوتے۔ دوسری بات نماز میں قرأت کا معاملہ تھا نماز میں جب آپ قرأت پڑھتے تو کافر قرآن کریم کی توہین کا ارتکاب کرتے اور بکواس بکتے اور اگر بالکل اخفاء کرتے تو مقتدیوں کے پلے کچھ نہ پڑتا یہ شاید جہری نماز میں ہوتا ہوگا اس لئے درمیانی طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ دعا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عاشہ کا یہی خیال تھا قبیلہ تمیم کا ایک بدو حضور کے سلام پھیرتے ہی پکار کر کہتا یا اللہ مجھے اونٹ دے مجھے اولاد دے اس پر حکم ہوا کہ دعا میں نہ تو بہت جہر کرو نہ بالکل اخفاء بلکہ درمیانی راستہ اختیار کرو۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رحمٰن نام اللہ کا عرب کے لوگ نہ جانتے تھے اس پر یہ فرمایا کہ نام بہترے ہیں اللہ وہی ایک ہے اور نماز میں بہت چلانا بھی نہیں اور بہت دبی آواز بھی نہیں بیچ کی چال پسند ہے۔ 21
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہہ دیجیے سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ عاجز و بےکس ہے کہ اس لئے اس کا کوئی مددگار ہے اور خوب اس کی بڑائی بیان کیا کیجیے۔

- 1 1 1 اور یوں کہئے تمام تعریفیں اور سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ ایسا کمزور اور حقیر ہے کہ اس کا کوئی مددگار ہے اور آپ اس کی پوری پوری بڑائی بیان کیا کیجیے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کوئی مددگار نہیں ذلت کے وقت یعنی اس پر کبھی ذلت ہی نہیں کہ مددگار چاہئے بادشاہوں کے ہاں امیر اس سے زیر پڑجاتے ہیں کہ برے وقت میں ان کی رفاقت ضرور ہوتی ہے وہاں یہ مذکور ہی نہیں یہاں جس سے تقویت حاصل ہوتی ہے وہ یا تو اولاد ہے یا کوئی برابر کا ساجھی اور شریک یا کوئی بڑا جو قوت میں زیادہ ہوا اور وہ حمایتی اور مددگار ہو ۔ اللہ تعالیٰ کو ان تینوں قسموں میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں نہ وہاں اولاد نہ شریک نہ کوئی طاقت میں زیادہ جو حمایتی اور مددگار ہو پریشانی اور حملہ آوروں کے حملے اور شکست اور ذلت کے خوف سے انسان کو حمایتیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ حضرت حق جل مجدہ، کے ہاں نہ کوئی ذلت اور شکست کا اندیشہ نہ کوئی ان پر حملہ آور اور نہ کسی کا خطرہ۔ اس لئے ان کو نہ کسی حمایتی کی ضرورت اور نہ وہ کسی مددگار کے محتاج اور نہ ان کا کوئی مددگار، سورة بنی اسرائیل کو تسبیح سے شروع کیا اور تحمید و تکبیر پر ختم ۔” سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر “ نبی کریم ﷺ اپنے گھر کے تمام بڑوں چھوٹوں کو یہ آیت سکھایا کرتے تھے اور اس آیت کو آپ آیت العزینی عزت والی آیت فرمایا کرتے تھے۔ بعضے آثار میں ہے کہ جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے وہ گھر آفت اور چوری وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کو نبی کریم ﷺ نے ہر دکھ بیماری دور ہونے کے لئے فرمایا یوں کہا کر۔ توکلت علی الحی الذی لا یموت والحمد للہ الذی لم یتخذ ولداً ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیراً “