16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا کا حکم آپہنچا سو اس کے لئے جلدی نہ کرو خدا تعالیٰ کی ذات ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بالا تر ہے

1 ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا سو اے منکرو اس کے لئے جلدی نہ کرو اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ان کے شرک سے پاک اور بلند وبالا تر ہے۔ یعنی ان لوگوں کے اعمال کی سزا کا وقت قریب آگیا اور چونکہ اس وقت کا آنا ایک امر یقینی ہے اور اس کے وقوع میں کوئی شک کی گنجائش نہیں اس لئے فرمایا کہ وہ آ ہی گیا اور جو چیز یقینا آنے والی ہے اس کے لئے بےکار جلدی نہ بچائو اور اس کے لئے جلدی کا مطالبہ نہ کرو اور جب اعمال بد جس میں کفر و شرک بھی داخل ہیں ان اعمال کی سزا یقینی طور پر ملنے والی ہے تو شرک سے باز آ جائو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے ہیں وہ ان کے شرک سے پاک اور بلند وبالا تر ہے۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس پر اپنے حکم سے فرشتوں کو وحی دیکر نازل کرتا ہے ، وہ یہ کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں سو مجھ سے ڈرتے ہو

2 ۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس پر فرشتوں کو اپنے حکم سے وحی اور بھید دیکر بھیجتا اور نازل کرتا ہے وہ یہ کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں سو مجھ سے ڈرتے ہو ۔ یعنی اپنے حکم سے انبیاء پر فرشتوں کے ذریعہ احکام نازل فرماتا ہے۔ بعض حضرات نے روح سے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے اور امر سے وحی کو مراد لیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو فرشتوں کے ساتھ یا جبرئیل (علیہ السلام) کو جو فرشتوں کی جنس سے ہیں اپنا حکم دیکر بھیجتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے اپنے کمال حکمت کے ساتھ آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، وہ ان کافروں کے شرک سے بالا تر ہے

3 ۔ اس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کمال حکمت سے بنایا وہ ان مشرکوں کے شرک سے بالا تر ہے۔ یعنی آسمانوں کو اور زمین کو اپنی مصلحت سے ٹھیک بنایا اور جب کوئی بنانے میں اس کا شریک نہ تھا تو اب یہ مشرک اس کا شریک ٹھہرانے میں سخت غلطی کرتے ہیں اور وہ ان کے شرک سے بہت بلند وبالا تر ہے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفہ سے بنایا ، پھر یکا یک وہی انسان علانیہ جھگڑنے لگا

4 ۔ اس اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بوند یعنی نطفہ سے پیدا کیا پھر وہی انسان اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں یکا یک کھلا کھلا اور علانیہ جھگڑنے لگا ۔ یعنی جس نے پیدا کیا اسی کے بارے میں جھگڑا شروع کردیا اور جھگڑا بھی علانیہ۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور اسی نے چوپاپیوں کو پیدا کیا ان چوپایوں میں تمہارے لئے گرمی حاصل کرنیکا سامان ہے اور وہ بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو

5 ۔ اور اسی اللہ تعالیٰ نے چو پایوں کو پیدا کیا ان چوپایوں میں تمہارے لئے جڑاول اور سردی سے بچنے کا سامان بھی ہے اور ان میں سے اور بھی بہت سے منافع اور فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو ۔ یعنی کھال کے پوستین اور موزے وغیرہ بنا کر جاڑے کا بچائو کرتے ہو اس کے علاوہ چوپایوں میں دودھ گھی مکھن وغیرہ کے فوائد بھی ہیں اور بعض جانور حلال ہیں ان کا گوشت بھی کھاتے ہو ۔ منھا تاکلون کا ترجمہ بعض حضرات نے یوں کیا ہے کہ ان چوپایوں کی بعض چیزیں جیسے گوشت اور چربی وغیرہ کھاتے بھی ہو۔
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور علاوہ ان منافع کے ان میں تمہاری رونق و آبرو بھی ہے جب شام اور صبح تم ان کو چراہ گاہ سے لاتے اور لے جاتے ہو ،

6 ۔ اور مذکورہ باتوں کے علاوہ ان چوپایوں میں تمہاری رونق اور زینت بھی ہے جب شام کو چرا کر واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرانے کے لئے جنگل لے جاتے ہو ۔ یعنی جب چراگاہ میں جاتے اور شام کو واپس آتے ہیں تو رونق اور چہل پہل ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں میں عزت و آبرو بھی ہوتی ہے۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

او وہ چوپائے تمہاری بوجھ بھی ان شہروں تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جن شہروں تک تم خود بھی اپنی جان کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے ، واقعی تمہارا رب بڑی ہی شفقت والا نہایت مہربان ہے

7 ۔ اور مزید برآں یہ چوپائے تمہارے بوجھ بھی ان شہروں اور ان مقامات تک اٹھا کرلے جاتے ہیں کہ جہاں تک تم بغیر مشقت اور جانکا ہی کے نہیں پہنچ سکتے چہ جائے کہ بوجھ اٹھا کر پہنچ سکوبلا شبہ تمہارا پروردگار یقینا بڑی شفقت کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی یہ چو پائے ہزاروں من کا بوجھ لئے گائوں درگائوں پھرتے ہیں ریتلے ملکوں میں جاتے ہیں پہاڑوں پر چڑھتے ہیں کیچڑ پانی میں لئے پھرتے ہیں تم ان مواقع پر اپنی جان کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے ۔ ہاں یہ چوپائے ہزاروں من بوجھ لیکر پہنچ جاتے ہیں اور تم کو بغیر بوجھ کے تنہا پہنچنا بھی دشواری سے خالی نہیں۔
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پیدا کئے تا کہ تم ان پر سوار ہوا کرو اور تمہارے لئے زینب کا موجب بھی ہوں اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے تم نہیں جانتے

8 ۔ اور گھوڑے اور گدھے اور خچر بھی اسی نے تمہاری سواری اور زیبائش کے لئے پیدا کئے اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا اور بناتا ہے جن و تم جانتے بھی نہیں ۔ یعنی تمہارے فائدے کے لئے اسی نے گھوڑے گدھے اور خچر بھی پیدا کئے کہ ان پر سوار بھی ہو اور تمہاری رونق وزینت کا بھی یہ جانور سبب ہیں اور انہی پر کیا موقوف ہے وہ تمہارے نفع کیلئے ایسی ایسی چیزیں بھی بناتا اور پیدا کرتا رہتا ہے جن کو تم جانتے تک بھی نہیں ۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھی راہ خدا تک پہنچتی ہے اور راستوں میں سے بعض راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ہدایت کردیتا

9 ۔ اور مذکورہ دلائل سے جو دین کا راستہ ثابت ہو اوہ دین حق کا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور راستوں میں بعض راستے ٹیڑھے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو سیدھا دکھا دیتا ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے دلائل مذکورہ سے روشنی میسر آسکتی ہے۔ اس کے دین کو جو اختیار کرلیتا ہے وہ سیدھی ڈگر پر پڑجاتا ہے یہ سیدھی بیٹا اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے اور جو گمراہی کی ڈگر پڑجاتا ہے وہ محرم رہتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کی قدرتیں دیکھ کر صاف معلوم ہوتی ہیں اس کی خوبیاں اور جس کی عقل سیدھی نہیں وہ بہکتا ہے۔ 12
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

خدا کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا اس پانی میں سے کچھ تمہارے پینے کے کام آتا ہے اور اسی پانی سے درخت اگتے ہیں

10 ۔ وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا کہ اس پانی میں سے کچھ تو تم پیتے ہو اور اس پانی کے کچھ حصے سے مختلف قسم کے درخت اگتے ہیں اور سبزہ نکلتا ہے جس میں تم اپنے مویشی چرنے کو چھوڑ دیتے ہو۔ یعنی اپنی کچھ تو پینے میں کام آتا ہے اور کچھ نباتات کی روئیدگی کا سبب بنتا ہے ، شجر خواہ تنے والا ہو خواہ بےتنے والا ہو بیلیں ہوں گھاس ہو وغیرہ۔
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

کہ ان میں تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو اور اسی پانی کے ذریعہ خدا تعالیٰ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اوانگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے یقینا اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی دلیل ہے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

1 1 ۔ اور اسی پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے یقینا اس بارش کے برسانے اور نباتات کے اگانے میں غور و فکر کرنے اور سوچنے والوں کے لئے توحید کی بڑی دلیل موجود ہے۔ یعنی یہ کارخانہ نباتات سو ائے اس وحدہٗ لا شریک کے اور کسی کے بس میں نہیں۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور تمام ستارے بھی خدا کے حکم کے مسخر ہیں یقینا اس تسخیر میں ان لوگوں کے لئے بڑی بڑ ی نشانیاں ہیں جو صحیح عقل رکھتے ہیں

12 ۔ اور اسی اللہ تعالیٰ نے تمارے لئے رات اور دن کو اور چاند اور سورج کو مسخر کر رکھا ہے اور تمام ستارے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں یقینا ان مذکورہ چیزوں کی تسخیر میں صحیح عقل رکھنے والوں کے لئے قدرت خداوندی اور توحید الٰہی کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں ۔ یعنی عالم علوی کی تسخیر سوائے اس کے اور کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چار چیزوں سے بندوں کے کام لگ رہے ہیں صریح لیکن اور ستاروں سے کچھ ظاہر میں کام نہیں ان کو جدا فرمایا۔ 12
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے رنگ برنگ کی وہ چیزیں بھی مسخر کر رکھی ہیں جو اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کی ہیں یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو نصیحت قبول کرتے ہیں

13 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بہت سی رنگ برنگ کی وہ چیزیں بھی مسخرکر رکھی ہیں جو اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کی ہیں ۔ بلا شبہ اس مذکور میں ان لوگوں کے لئے توحید الٰہی بڑی دلیل ہے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس سے مراد جانور ہیں ۔ بعض حضرات نے مختلف الوانہ ٗ سے اجناس و انواع اور اصناف کا اختلاف لیا ہے یہ معنی بہت وسیع ہیں اور اس تقدیر پر تمام حیوانات و نباتات اور جمادات وغیرہ کو یہ معنی شامل ہیں۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے دریا کو مسخر کر رکھا ہے تا کہ تم اس دریامیں سے تازہ گوشت کھائو اور اسی میں سے زینت و آراستگی کا وہ سامان بھی نکالو جس کو تم پہنچتے ہو یعنی موتی وغیرہ اور اے مخاطب تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ ہو دریا میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلی جا رہی ہیں اور دریا کو اس لئے بھی مسخر کیا تا کہ تم خدا کا فضل تلاش کرو اور تا کہ تم خدا کا احسان مانو

14 ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے دریا کو مسخر کر رکھا ہے تا کہ تم اس دریا میں سے تازہ گوشت کھائو اور اس دریا میں سے گہنے اور زینت و آراستگی کا وہ سامان بھی نکالو جس کو تم پہنتے ہو اور اے مخاطب تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اس دریا میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلی جا رہی ہے اور اس لئے بھی مسخر کیا تا کہ تم اللہ تعالیٰ کے فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تا کہ تم خدا کا احسان مانو اور اس کے شکر گزار رہو۔ یعنی دریا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بھی مسخر کر رکھا ہے تا کہ مچھلیوں کا تازہ گوشت کھائو اور سامان زیبائش یعنی موتی اور مونگا وغیرہ نکالو اور وہ زیور حاصل کرو جس کو تم پہنتے ہو موتیوں کی مالا اور گلو بند وغیرہ۔ کشتیاں اور جہاز پانی کو پھاڑتے ہوئے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے دریا میں سفر کرتے ہو اور تجارت کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہو خدا کا فضل یعنی روزی کی جستجو کرو اور شہر در شہر سفر کرتے پھرو اور ان فوائد و منافع کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تلاش کرو اس کے فضل سے یعنی روزی کمائو سو داگری سے دریا میں 12 ۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑرکھ دیئے تا کہ کہیں زمین تم کو لیکر ہلنے نہ لگے اور اسی نے ندیاں پیدا کیں اور زمین میں راستے بنائے تا کہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو

15 ۔ اور اس نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ رکھ دیئے تا کہ کہیں زمین تم کو لے کر ہلنے اور ڈگمگانے نہ لگے اور اس نے ندیاں اور نہریں بنائیں اور راستے بنائے تا کہ تم ان راستوں سے راہ پائو اور منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکو ۔ 12 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ تمہاری حفاظت اور سہولت و آسانی کے لئے کیا گیا ۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور بھی زمین میں بہت سے نشانات بنائے اور وہ ستاروں سے بھی راستہ معلوم کیا کرتے ہیں

16 ۔ اور بھی زمین میں بہت سے نشانات بنائے اور لوگ ستاروں سے بھی راستہ پاتے ہیں۔ یعنی زمین سپاٹ نہیں بلکہ جا بجا درخت وغیرہ ہیں جن سے مقامات کا پتہ لگ جاتا ہے اور ستاروں سے جہت وغیرہ معلوم کرنا تو عام ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی راہ میں پتے رکھے کہ بھو ل نہ جاویں۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

پھر کیا جو پیدا کرتا ہے کیا وہ اس کے برابر ہے جو کچھ بھی نہ پیدا کرسکے تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

17 ۔ پھر بھلا وہ جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتا ہے کیا وہ اس جیسا ہے جو کچھ بھی نہیں پیدا کرسکتا پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی ایک وہ جو تمام کائنات کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے کیا وہ اس کے برابر اور اس جیسا ہوسکتا ہے جو کچھ بھی نہ پیدا کرسکے جب برابر ی نہیں تو پھر کیوں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو گن بھی نہیں سکتے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور رحمت کرنے والا ہے

18 ۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنے اور گنے لگو تو ان نعمتوں کو شمار بھی نہیں کرسکتے بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ کی نعمتیں اس قدر ہیں کہ تم ان کو گننے لگو تو گن بھی نہیں سکتے یہ اس کی بڑی رحمت اور مغفرت ہے کہ باوجود نافرمانی کے بیشمار نعمتیں جاری رکھتا ہے اور ان گنت احسانات کے دروازے بند نہیں کرتا ۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو خدا ان سب کو جانتا ہے

19 ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس جگہ یہ بات اس پر فمائی کہ بعض شخص بات میں لا جواب ہوتے ہیں یہ دل میں بات نہیں بیٹھتی سو خدا دل پر پکڑتا ہے۔
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور یہ کافر خدا کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کوئی چیز بھی نہیں پیدا کرسکتے بلکہ وہ تو خود ہی مخلوق ہیں

20 ۔ اور یہ منکر اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں اور جن کو پکارا کرتے ہیں وہ کوئی چیز نہیں پیدا کرسکتے اور وہ کسی کو پیدا تو کیا کریں گے وہ تو خود مخلوق اور پیدا شدہ ہیں۔ یعنی وہ تو خود اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں کسی اور کو وجود کیا خاک بخشیں گے۔
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ مردے ہیں زندہ نہیں ہیں اور ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے

21 ۔ وہ مردے میں بےجان زندہ نہیں ہیں اور ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ قیامت کب آئے گی اور مردے کب اٹھائے جائیں گے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید یہ ان کو فرمایا جو مرے ہوئے بزرگوں کو پوجتے ہیں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ نہ جن کا علم محیط اور جو خود مخلوق وہ خالق کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں اور عبادت میں خدا تعالیٰ کے شریک کیونکر ہوسکتے ہیں۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود برحق تو یکتا معبود ہے ، سو جو لوگ آخرت پر اعتقاد نہیں رکھتے ان کے دل انکار کرنے والے ہیں اور وہ لوگ بڑے سرکش ہیں

22 ۔ ان سب دلائل مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ تمہارا معبود برحق تو ایک ہی ہے وہی یکتا اور یگانہ ہے پھر حق واضح ہوجانے پر بھی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اعتقاد نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہو رہے ہیں اور وہ لوگ بڑے سرکش ہیں ۔ یعنی اتنی وضاحت کے بعد بھی ان کے دل ایسے ناکارہ ہیں کہ ایک حق بات کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ یہ لوگ بڑے متکبر اور سرکش ہونے کی وجہ سے حق کے مقابلے میں سرکشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ امر واقعہ ہے کہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا ان سب کو جانتا ہے بلا شبہ وہ سرکشی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

23 ۔ اور یہ بھی یقین بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو کچھ یہ لوگ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر اور سرکشی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی جب وہ ان کے احوال ظاہری اور باطنی سے واقف ہے تو وہ ان کے تکبر اور ان کے متکبرانہ طرز عمل کو بھی جانتا ہے اس لئے ان کو پسند نہیں کرتا ۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان کافروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل کی ہے تو جواب دیتے ہیں وہ تو پہلے لوگوں کی بےسرو پا کہانیاں ہیں

24 ۔ اور جب ان دین حق کے منکروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی ہے تو جواب دیتے ہیں نازل کہاں فرمائی وہ تو پہلے ہی لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

اس کہنے کا انجام یہ ہوگا کہ قیامت کے دن ان کو اپنے گناہوں کا تو پورا بوجھ اور جن لوگوں کو یہ بےجانے بوجھے گمراہ کررہے ہیں ان کے گناہوں کا بھی کچھ بوجھ اپنے اوپر اٹھانا پڑے گا خوب سن لو وہ بوجھ بہت برا ہے جو یہ اپنے اوپر لا رہے ہیں

25 ۔ اس کہنے کا یہ انجام ہوگا کہ قیامت کے دن ان منکروں کو اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور کچھ بوجھ ان لوگوں کا جن کو بلا تحقیق اور بےجانے بوجھے گمراہ کر رہے ہیں اٹھانا ہوگا خوب سن لو وہ بوجھ بہت برا ہے جس کو یہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں ۔ یعنی اگر کوئی ان سے قرآن کریم کے متعلق دریافت کرتا ہے کہ بتائو تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو بطوراستخفاف جواب دیتے ہیں کہ خدا نے کہا نازل کیا وہ تو پہلے لوگوں کے اور امم سابقہ کے افسانے ہیں وہ انہوں نے بھی سیکھ لئے ہیں۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا یہ لوگ قیامت میں اپنے گناہوں کا تو تمام بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ جن لوگوں کو لے جانے بوجھے جہالت کے ساتھ بہکا رہے ہیں اور گمراہ کر رہے ہیں کچھ بوجھ ان کا بھی اٹھانے پڑے گا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی کو گمراہی کی جانب بلایا تو اسکو بھی اس کے گناہ کو اٹھانا ہوگا بغیر اس کے کہ اس گمراہ ہونے والے پر سے کچھ بوجھ کم ہو ۔ مسلم یعنی گمراہ ہونے والے کے بوجھ میں سے کچھ بوجھ کم نہ ہوگا اور گمراہ کرنے والے کو پورے بوجھ کے علاوہ کچھ بوجھ اس کا بھی اٹھانا ہوگا چونکہ یہ سبب بنا ہے اس کی گمراہی کا وہ بوجھ بہت برا ہے جو یہ لوگ اپنے اوپر لاد رہے ہیں۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں وہ بھی بڑی بڑی پر فریب تدبیریں کرچکے ہیں سو اللہ کا حکم ان کی عمارت کی بنیادوں پر پہنچا اور عمارت کی چھت ان پر گر پڑی اور ان مکاروں پر عذاب اس طرح آیا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا

26 ۔ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بڑی بڑی مکاریاں اور پر فریب تدبیریں کی تھیں سو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیادوں پر پہنچا اور اوپر سے ان پر عمارت کی چھت گر پڑی اور ان مکاروں پر وہ عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو گمراہ کرنے کی جو تدبیریں کیا کرتے تھے اور شرارتوں کے جو حال بچھاتے تھے اور جو محل تیارے کئے تھے وہ سب ان ہی پر الٹ پڑے اور ان کی پر فریب تدبیروں کی جڑیں ہلا دیں اور جو گھروندا انہوں نے اپنی شرارتوں کا بنا یا تھا وہ سب انہی پر گرا پڑا اور خلاف توقع ان پر عذاب خداوندی کچھ اس طرح آیا کہ ان کو خیال اور گمان بھی نہ تجھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چنائی پر پہنچا نے سے اور چھت گر پڑ ی یعنی ان کے فریب اور دغا اکھاڑ ماری ۔ 12 مفسرین نے دو باتیں کیں تھیں بعض حضرات نے بابل کے کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور بعض نے عموم اختیار کیا ہے اور دین حق کے خلاف ریب آمیز دائوں پیچ کرنے والوں کی تمثیل فرمائی ہے ہم نے راجح قول اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

اس کے علاوہ قیامت کے دن خدا ان کو اور بھی رسوا کرے گا اور ان سے کہے گا کہ وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے اس وقت وہ لوگ جن کو حق بات کا علم دیا گیا تھا کہیں گے آج کے دن ہر قسم کی ذلت اور عذاب کافروں پر ہے

27 ۔ پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو اور بھی رسوا کرے گا اور ان سے کہے گا کہ آج وہ میرے ساجھی اور شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم اہل حق سے جھگڑا کیا کرتے تھے اس پر وہ لوگ جن کو حق بات کا علم دیا گیا تھا کہیں گے آج کے دن ہر قسم کی ذلت و رسوائی ان منکرین حق پر ہے۔
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جن کی جان فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے حق میں برا کر رہے ہوتے ہیں اس پر وہ کافر اطاعت و فرمانبرداری کا پیغام دیتے ہوئے کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی برا کام نہیں کرتے تھے جواب دیا جائے گا ہاں کرتے تھے یقینا اللہ کو وہ سب معلوم ہے جو تم کیا کرتے تھے

28 ۔ جن کی جان فرشتوں نے اس حالت میں قبض کی تھی کہ وہ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے یعنی جن کا خاتمہ کفر پر ہوا تھا تب وہ دین حق کے منکر صلح کا پیغام اور اطاعت و فرماں برداری کا پیغام ڈالتے ہوئے کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے ان کو جواب دیا جائے گا بیشک تم برے کام کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی ان منکروں کے ساتھ دنیا میں جو سلوک ہوا وہ تو ہوا قیامت کے دن ان کی اور بھی زیادہ رسوائی اور ذلت ہوگی اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا کہ وہ میرے شریک جن کو تم شرکاء کہتے تھے اور میرے پیغمبروں سے اور اہل علم سے جھگڑا کرتے تھے وہ کہاں ہیں اس پر واقف کار صاحبان علم کہیں گے آج ہر قسم کی ذلت کے حق دار وہی لوگ ہیں جن کا شیوہ کفر و انکار پر اصرار تھا اور وہ مرتے دم تک کفر پر قائم رہے یہاں تک کہ اسی کفر و ظلم کی حالت میں انہوں نے اپنی جان ان فرشتوں کے سپرد کی جو قابض ارواح تھے تب وہ اللہ تعالیٰ کے سوال این شرکائی کے جواب میں صلح اور اطاعت و فرماں برداری کا پیغام پیش کریں گے اور صلح و صفائی کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ ہم تو کوئی براکام نہیں کیا کرتے تھے حضرت حق تعالیٰ فرمائیں گے تم نے تو شرک کیا ہے اور رسولوں کی مخالفت کی ہے اور جن جرائم کا تم ارتکاب کرتے رہے ہو ان سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو اب تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جائو دراں حالیکہ وہاں ہمیشہ رہو گے غرض وہ جہنم سرکشوں کا بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

29 ۔ سو اچھا اب تم جہنم کے دروازوں میں سے جہنم میں داخل ہو جائو در انحالی کہ وہاں تم ہمیشہ رہنے والے ہو ۔ غرض وہ جہنم سرکشوں غرور کرنے اور مخالفت کرنیوالوں کا برا ٹھکانہ ہے۔ یعنی الزام ثابت ہوجانے کے بعد جہنم میں داخل ہونے کا حکم دے دیا جائے گا ۔
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیز گار ہیں جن ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل کی ہے تو جواب دیتے ہیں کہ خیر نازل کی ہے جن لوگوں نے نیک اعمال کئے امن کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور بلا شبہ دار آخرت تو دنیا کے مقابلے میں بہت ہی بہتر ہے اور واقعی وہ پرہیز گاروں کا اچھا گھر ہے

30 ۔ اور جو لوگ پرہیز گار اور شرک سے بچنے والے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی تو وہ کہتے ہیں اور جواب دیتے ہیں کہ خیر نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور عالم آخرت اور پچھلا گھر تو یقینا بہت ہی بہتر ہے اور واقعی وہ پرہیز گاروں اور شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ گھر دائمی باغات ہیں جن میں پرہیز گار لوگ داخل ہوں گے ان باغوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ پرہیز گار جو چیز چاہیں گے وہ ان کو وہاں میسر ہوگی اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کو ایسا ہی صلہ عطا کرتا ہے

31 ۔ وہ گھر دائمی اور سدا رہنے کے باغات ہیں جن میں متقی حضرات داخل ہوں گے ان باغوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ متقی جو چاہیں گے اور جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کو وہاں میسر ہوگی اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اور شرک سے بچنے والوں کو ایسا ہی عوض اور صلہ فرماتا ہے۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جن کی جان فرشتے ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ شرک سے پاک ہوتے ہیں قبض روح کے وقت فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو بس اب تم اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کیا کرتے تھے

32 ۔ جن کی جان فرشتے ایسی حالت میں قبص کرتے ہیں کہ وہ شرک وکفر سے پاک ہوتے ہیں ۔ قبض روح کے وقت ان سے فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو اب تم اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے جنت میں داخل ہوجانا ۔ تقویٰ کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ شرک سے پرہیز کرے جب ایسے لوگوں سے کوئی قرآن کریم کے متعلق سوال کرتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا تو ان کے منہ سے یہی نکلتا ہے کہ خیر و برکت نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے بھلے کام کئے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے یعنی ثواب کی بشارت یا مدد اور فتح یا اچھی روزی اور آخرت کا تو چھنا ہی کیا ہے او دار آخرت تو بہر حال بہتر ہے وہ شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے وہ گھر ایسے باغ ہیں جن کی عمارتوں اور درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہاں ان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے پرہیز گاروں کو ایسا یہ صلہ ملا کرتا ہے یہ مرتے دم تک پرہیز گار رہے۔ فرشتوں نے ان کی روح ایسی حالت میں قبض کی جب یہ کفر و شرک سے پاک تھے وہ السلام علیکم کہتے ہوئے اور یہ بشارت دیتے ہوئے ان کے پاس آئے کہ مرنے کے بعد تم جنت میں داخل ہوجانا یعنی قیامت میں تم دخول جنت کے مستحق ہو۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

جنت میں چلے جانا کیا یہ کافر صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم یعنی عذاب آجائے جس طرح یہ کفر پر اصرار کر رہے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے تھے اور ان گزشتہ لوگوں پر اللہ نے ظلم نہیں کیا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

33 ۔ یہ دین حق کے منکر اور مخالف و معاند کیا صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس موت کے فرشتے آجائیں یا آپ کے پروردگار کا حکم عذاب آجائے جس طرح یہ کفار مکہ شرک پر اصرار کر رہے ہیں اسی طرح وہ دین حق کے منکر بھی کفر و شرک پر اصرار کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور ان گزشتہ منکروں پر اللہ تعالیٰ نے ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ یعنی یہ کفارم کہ جب دلائل وبراہین سے قائل نہیں ہوتے اور اپنے انکار پر قائم ہیں تو یہ صرف اس بات کا انتظارکر رہے ہیں کہ یا تو ملک الموت اور ان کے ہمراہی فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم عذاب آجائے۔ یہ کفار مکہ بھی اپنے سے پہلے کفار کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان کا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو ان سے پہلوں کا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا مگر وہ خود ہی ظالم تھے۔
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

آخر ان کو ان کے برے اعمال کا بدلا ملا اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو آگھیرا

34 ۔ آخر کار ان گزشتہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزائیں ملیں اور ان کی بد کرداریوں کا بدلا ان کو ملا اور جس عذاب کی ہنسی اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو آگھیرا اور ان کا احاطہ کرلیا ۔ یعنی ان کے اعمال بد کی سزائیں ان کو دی گئیں اور جس عذاب کی خبر سن کر وہ اس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو ایک دن گھیر لیا اگر کفار مکہ اپنے کرتوت سے باز نہ آئے تو ایک دن ان کا بھی یہی حشر ہونا ہے۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اس کے سوا کسی کی پرستش کرتے اور نہ ہمارے باپ داداخدا کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ ہم حکم الٰہی کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے جس قسم کی حرکتیں یہ کر رہے ہیں اسی طرح کی حرکات شنیعہ وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے تھے سو پیغمبروں پر سوائے اس کے کہ احکام الٰہی کو صاف طور پر پہنچا دیں

35 ۔ اور جن لوگوں نے شرک کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظورہوتا تو نہ ہم اسکے سوا کسی کی پرستش کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کسی اور چیز کی عبادت کرسکتے اور نہ ہم بدون اس کے حکم کے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے جس قسم کے افغان شنیعہ یہ کر رہے ہیں اسی طرح کے افعال وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو پیغمبروں کے ذمے سوائے اس کے کہ احکام الٰہی کو صاف صاف پہنچا دیں اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ آٹھویں پارے میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ مشرکوں کا مطلب یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے شرک کو ناپسند کرتا ہے اور حرام کو حلال کرنا اور حلال کو حرام کرلینا اس کو پسند نہیں ہے تو وہ ہم کو ایسا کرنے ہی کیوں دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے افعال سے راضی اور خوشی ہے ورنہ اگر وہ ناراض ہوتا تو ہم کو ایسا کرنے نہ دیتا ۔ اس کے بعد اپنے پیغمبر سے تسلی کے طور پر فرمایا کہ آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں اس قسم کی باتیں ان سے پہلے بھی لوگ کہتے رہے ہیں تو بس رسولوں کے ذمے تو صاف اور کھلے طور پر بیان کردینا ہے اس کے علاوہ ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ یعنی یہ لوگ نہ خلق اور کسب کا فرق سمجھتے ہیں اور نہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کفر پر راضی ہوتا تو پیغمبر کیوں بھیجتا اور کتابیں کفر کے رد میں کیوں نازل کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ نادانوں کے کلام ہیں کہ اللہ کو یہ کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ ہمیشہ رسول منع کرتے آئے ہیں اسی سے جس کی قسمت میں ہدایت تھی اسی نے پائی جو خراب ہونا تھا خراب ہوا اللہ کو یہی منظو رہے۔ 12
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور یقینا ہم ہر قوم میں اس مقصد کے لئے کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور گمراہی کی طرف بلانے والے سے بچو سو ان میں سے بعض وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض ان میں سے وہ ہوئے جن پر گمراہی ثابت ہوچکی تو تم زمین پر چلو پھرو اور دیکھو کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

36 ۔ اور بلا شبہ ہم ہر قوم اور ہر امت میں اس مقصد کے لئے رسول بھیجتے رہے ہیں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور گمراہی کی طرف بلانے والے شیطان کی راہ سے بچتے رہے۔ پس ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی اور ان کی رہنمائی فرمائی اور ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جن پر گمراہی متحقق اور ثابت ہوچکی ہے پھر اب تم زمین میں چلو پھر و اور چل پھر کر دیکھو کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنیوالوں کا انجام کیسا ہوا۔ طاغوت کا ترجمہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے ہر ڈنگا کیا ہے چناچہ فرماتے ہیں ہڑ دنگا وہ جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے جو کچھ سند نہ رکھے ایسے کو طاغوت کہتے ہیں شیطان اور بت اور ظالم سردار سب یہی ہیں۔ 12
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اے پیغمبر !ؐاگر آپ ان کافروں کو ہدایت پر لانے کی انتہائی خواہش کریں تب بھی بےسود ہے کیونکہ اللہ جس کسی کو گمراہ کرتا ہے اس کی رہنمائی نہیں کیا کرتا

37 ۔ اے پیغمبر ﷺ ! اگر آپ ان کافروں کے راہ راست پر آنے کی تمنا اور خواہش کریں تو بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کسی کو اس کی سرکشی اور عناد کی وجہ سے گمراہ کرتا ہے تو اس کو ہدایت نہیں کرتا اور اس کی رہنمائی نہیں فرماتا اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر ان کا کوئی حمایتی اور مدد گار ہوگا ۔ یعنی جب کسی عادی مجرم پر اس کے جرائم کے باعث مہر کردی جاتی ہے تو پھر اس کی ہدایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا خواہ پیغمبر ان کی ہدایت کا کتنا ہی خواہش مند ہو۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور نہ ایسے گمراہوں کا کوئی مدد گارہو گا اور منکر بڑی تاکید سے اس بات پر خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ جو شخص مرجاتا ہے خدا اس کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ہاں ضرور زندہ کریگا یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ اس زندگی کو نہیں جانتے

38 ۔ اور دین حق کے منکر بڑی تاکید کے ساتھ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ جو شخص مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا ہاں وہ ضرور زندہ کر کے اٹھائے گا یہ دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کو پورا کرنا اس نے اپنے ذمے لازم کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ اس زندگی کو نہیں جانتے اور اس دوسری زندگی پر یقین نہیں لاتے۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

یہ دوبارہ زندگی اس لئے دی جائیگی تا کہ خدا ان باتوں کی حقیقت ان پر ظاہر کر دے جن میں یہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے اور نیز اسی لئے کہ کافر اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

39 ۔ یہ دوسری زندگی اس لئے ہوگی تا کہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے ان باتوں کی حقیقت ان پر واضح کر دے اور ان کے روبرو بیان کر دے اور اس لئے تا کہ منکر اس امر کو جان لیں کہ واقعی وہ جھوٹے تھے۔ پہلی آیت میں وقوع قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید ہے اور دوسری آیت میں وقوع قیامت کی وجہ سے ہے اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایک دن ایسا ہونا چاہئے جس میں تمام امور مختلفہ کا اظہار ہوجائے اور منکروں کو ان دعاوی کی تکذیب معلوم ہوجائے جو دعویٰ وہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا اور کسی نے اللہ تعالیٰ کو مانا اور کوئی منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے جھگڑے تحقیق ہوں سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پاویں ۔ 12
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی شئی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس شئے کو ہمارا صرف اس قدر کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتی ہے

40 ۔ جب ہم کسی معدوم چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں تو بس اتنا ہی کہنا ہمارا کافی ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہہ دیں کہ ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ یعنی کوئی شے ہو یا کوئی کام ہو جب ہم اس کے واقع ہونے اور موجود ہونے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارا صرف اسی قدر کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہتے ہیں کہ موجود ہو جاسو وہ اسی وقت موجود ہوجاتی ہے اور ارادے کے تعلق کے ساتھ تا خیر نہیں ہوتی ہم پہلے پارے میں مزید اسکی تشریح کرچکے ہیں ۔ تسہیل القرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مردوں کو جلانا ہمارے پاس مشکل نہیں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ جب ہم کو معدوم کا موجود کردینا کچھ مشکل نہیں تو کسی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کرلینا کیا مشکل ہے لہٰذا قیامت کے وقوع اور مردوں کے زندہ ہونے کو مستبعد نہ سمجھو۔