Ayah 16:121121 ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بڑا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو چن لیا تھا اور اسی نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سیدھی راہ کی طرف ڈال دیا تھا اور سیدھی راہ کی طرف ڈال دیا تھا اور سیدھی راہ کی طرف چلنے کی اسی نے رہنمائی فرمائی تھی ، چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات گرامی مسلمہ فریقین تھی اہل کتاب بھی ان کا احترام کرتے تھے اور مکہ والے بھی ملت ابراہیمی کا دعوے کرتے تھے اور مکہ والے ان کی اولاد میں تھے اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) جن کو تم بھی مانتے ہو۔ وہ اللہ کے پیغمبر تھے اور خیرو بھلائی کے معلم تھے اور وہ اللہ کے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے مگر تم نبوت میں بھی الجھتے ہو اپنے نفس کی پیروی کرتے ہو خدا نے جس کو حرام کیا اسکو حلال کہتے ہو اور خدا نے جس کو حلال فرمایا اسکو حرام بتاتے ہو وہ ایک خدا کا ہوگیا تھا تم بےشمارمعبودوں کی پرستش میں مبتلا ہو اور شرک کرنے میں خاص شہرت کے مالک ہو وہ شکر گزار تھے تم ناسپاس ہو وہ راہ یافتہ تھے تم گمراہ ہو اور چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے چیدہ اور برگزیدہ بندوں میں سے تھے تم انہی کی اولاد میں ہو لیکن ان کے طریقہ اور ان کی ملت کے خلاف تم نے کفر و شرک کے طریقہ اختیار کر رکھے ہیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے یعنی حلال حرام میں اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم (علیہ السلام) ہے اور عرب کے لوگ کہتے ہیں آپ کو حنیف اور شرک کرتے ہیں اس کی راہ پر نہیں ۔ 12
Ayah 16:122122 ۔ اور ہم نے ابراہیم کو دنیا میں بھی خوبیوں اور بھلائیوں سے نوازا تھا اور بلا شبہ وہ آخرت میں بھی اعلیٰ مرتبے کے لوگوں میں سے ہوگا ۔ دنیا کی خوبیاں یہ کہ سب کے مقتدانیک اولاد اور مقبولیت عامہ اور آخرت میں طبقات انبیاء میں ہونا اور والحقنی بالصالحین کی دعا کا قبول ہونا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا کی خوبی آسودگی اور قبولیت سارے جہان میں ۔ 12
Ayah 16:123123 ۔ پھر اے پیغمبرہم نے آپ کی جانب یہ وحی بھیجی کہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور ان کی ملت پر چلئے جو سب سے کٹ کر یکسو ہوچکا تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ چونکہ نبی کریم ﷺ کی ملت ملت ابراہیمی تھی اس لئے اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ۔
ملت اور شریعت کا فرق ہم پوری تفصیل کے ساتھ پہلے پارے کی تیسیر میں عرض کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ یہاں مطلب ی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ نہ یہودی ہیں نہ نصرانی اور نہ مشرک ہیں بلکہ اپنے داد ا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی درمیان میں یہود و نصاریٰ مو افق ان کے حال کے اور حکم بھی ہوئے آخری پیغمبر بھی اسی ملت پر آئے۔ 12
Ayah 16:124124 ۔ سوائے اسکے نہیں کہ ہفتہ کے دن کی تعظیم تو صرف ان ہی لوگوں پر مقرر کی گئی تھی جنہوں نے آخر کار اس دن میں اختلاف کیا اور بلا شبہ آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا قطعی فیصلہ کر دے گا جن باتوں میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی ملت ابراہیمی میں ہفتہ کے دن تعظیم کا حکم نہ تھا ۔ اسی طرح نبی آخر الزماں ﷺ کی ملت میں بھی نہیں ہے۔ البتہ جن لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رائے سے اختلاف کر کے ہفتہ کے دن کو پسند کیا تھا انہی پر اس کی تعظیم فرض کی گئی اور ان کو اس دن مچھلی کے شکار کی ممانعت کی گئی اور جو لوگ اس آزمائش پر پورے نہ اترے ان کو دنیا میں سزائیں دی گئیں اور آخرت میں تو ہر اختلاف کا عملاً فیصلہ ہونا ہی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اصل ملت ابراہیمی میں ہفتہ کا کچھ حکم نہ تھا اس امت پر بھی نہیں ۔ 12
Ayah 16:125125 ۔ اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے راستے کی طرف لوگوں کو علم و حکمت کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعہ سے دعوت دیجئے اور بلایئے اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آجائے تو ان سے بہتر طریقہ کے ساتھ بحث کیجئے۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی ان کو بھی جانتا ہے جو راہ پر چلنے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ۔ حرام و حلال کی بحث کے بعد حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو تبلیغ کا حکم فرمایا ، علم کی باتیں یا پکی باتیں یعنی جن سے مدغا ثابت کیا جاسکے اور دلائل وبراہین کے ذریعہ دین حق کی حقانیت کو ثابت کیا جائے یہ طریقہ خواص کو دعوت دینے اور دین کی طرف بلانے کا ہے ۔ مواعظہ حسنہ یعنی ترغیب و ترہیب اور رقت انگیز مضامین کے ذریعہ لوگوں کو دعوت دی جائے یہ طریقہ عوام کو دعوت دینے کا ہے۔
جادلھم بالتی حی احسن ان کج بحث معاند اور جھگڑا لو لوگوں کو دعوت دینے کا طریقہ ہے ، جو بات بات پر کٹ حجتی اور مناظرہ و مباحثہ کرنے اور بلا وجہ الجھنے کو آمادہ رہتے ہیں اگر ایسی نوبت آجائے تو بدوں کسی سختی کے تہذیب و شائستگی کے ساتھ بحث کی جائے اور دل آزاد طریقہ اختیار کرنے سے پرہیز کیا جائے اس سلسلہ میں جو طریقہ بھی اچھا ہو اس کو اختیار کرنا التیھی احسن ہے ۔
بہر حال ! طریقہ دعوت و تبلیغ بتانے کے بعد فرمایا کہ اے پیغمبر جو طریقہ تم کو بتایا ہے اس طریقے سے دعوت دیتے رہو اور اس کی فکر نہ کرو کہ کون قبول کرتا ہے اور کون انکار کرتا ہے ۔ کس کو ہدایت نصیب ہوتی ہے اور کون گمراہ رہتا ہے ، یہ سب باتیں اپنے پروردگار پر چھوڑیئے وہی راہ پر آنے والے اور نہ آنے والوں کے حالات کی پوری طرح جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں الزام دے جس طرح بہتر ہو یعنی قضیہ نہ بڑھے۔ 12
Ayah 16:126126 ۔ تبلیغ کے طریقے سکھانے کی اس راہ میں مشکلات پیش آئیں ۔ ان کا حکم فرمایا کہ کفار کی جانب سے اس دعوت حق کے بدلے میں ظلم کئے جائیں تو برداشت کرو اور اگر انتقام لینا چاہو اور بدلے کی قدرت حاصل ہو تب بھی اس کا خیال رکھو کہ زیادتی نہ ہو ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ایذا پہنچانے والوں سے تم بدلہ لینے لگو تو اسی قدر اور اتنا ہی بدلہ لو جتنا اور جس قدر ان کی جانب سے تم کو تکلیف پہنچائی گئی ہو اور دکھ دیا گیا ہو اور اگر عزیمت پر عمل کرتے ہوئے صبر کرو اور بدلے کا خیال چھوڑ دو تو یہ صبر کرنا یقینا صبر کرنے والوں کے لئے اور برداشت کرنے والوں کے حق میں بہت ہی بہتر بات ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے جو فرمایا سمجھائو بھلی طرح اس میں رخصت دی کہ بدی کے بدل بدی بھی بری نہیں پر صبر کرو تو بہتر ہے۔ 12
Ayah 16:127127 ۔ آگے نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا اور پیغمبر آپ تو بجائے انتقام کے صبر ہی کیجئے اور آپ کا صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اسی کی مدد سے ہوسکتا ہے اور آپ ان کی مخالفت پر غم نہ کیجئے اور غمگین نہ ہو جئے اور یہ لوگ جو آپ کی مخالفت میں فریب آمیزیں تدبیریں کرتے رہتے ہیں ان سے آپ تنگ دل نہ ہوا کیجئے۔ پہلے لوگوں کی تین قسمیں بیان کی گئیں کیونکہ کچھ اہل علم اور سمجھدار ہیں کچھ عوام ہیں اور کچھ ضدی اور ہٹ دھرم ہیں۔ پہلے گروہ کے لئے حکمت دوسرے کے لئے مواعظہ حسنہ اور تیسرے گروہ کے لئے مناظرہ اور مجادلہ۔
ان طرف تبلیغ کے بعد زیادتی کرنے والوں کے ساتھ برتائو کا طریقہ بتایا اس میں رخصت بھی بتائی اور انتقام کو مثل کے ساتھ مقید کیا اور عزیمت بھی سکھائی اور اپنے پیغمبر کے لئے بھلائی اور احسان کا طریقہ پسند کیا اور صبر کا حکم دیا جو عزیمت ہے اور اپنے رسول کو تسلی دی اور آخر میں عزیمت پر عمل کرنیوالوں کا مرتبہ بتایا ۔
Ayah 16:128128 ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی معیت ، حمایت اور مدد ان کو میسر ہوتی ہے جو پرہیز گار اور تقوے کے پابند ہوتے ہیں اور جو لوگ نیک کردار اور نیکی کرنے والے ہوتے ہیں ۔ یعنی اہل تقویٰ جو برائی کا بدلہ لینے سے بچتے ہیں اور اہل احسان کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور معیت حاصل ہوتی ہے۔
الحمد للہ ! سورة نحل کی تیسیر آج 10 ربیع الثانی 1372ھ بمطابق 28 دسمبر 1952ء اتوار کے دن عشاء اور صبح کے مابین پوری ہوئی۔.