16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

گھروں کا سامان اور برتنے کی چیزیں بنائیں اور اللہ نے تمہارے لئے پانی پیدا کی ہوئیں بعض چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں تمہارے لئے چھپنے کی جگہیں بنائیں اور تمہارے لئے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے تم کو بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بھی بنائے جو تم کو لڑائی میں بچائو کا کام دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی طرح تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تا کہ تم اس کے فرمانبردار بنو

81 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے بعض چیزوں کے تمہارے لئے سائے بنائے اور پہاڑوں میں تمہارے لئے چھپنے کی جگہیں اور ٹھکانے بنائے اور تمہارے لئے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے تم کو بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بھی بنائے جو لڑائی میں تمہاری حفاظت کا کام دیں اور تمہاری آپس کی لڑائی میں تم کو بچاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی طرح تم پر اسی نعمتیں پوری کرتا ہے تا کہ تم فرمانبرداربنو اور حکم مانو ۔ سائے جیسے درختوں اور مکانوں اور پہاڑوں کے کرتے جو گرمی اور لو سے بچائو اور لڑائی سے بچائو کے لئے زر ہیں جو زخم لگنے سے حفاظت کریں جب ظاہری نعمتوں کا یہ حال ہے تو باطنی نعمتوں اور مہربانیوں کا اندازہ اسی سے لگا لو اور ان بیکراں نعمتوں کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا احسان مانو اور اسلام لا کر انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کے پابند بنو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جن کرتوں میں گرمی کا بچائو ہے سردی کا بھی بچائو ہے پر اس ملک میں گرمی بہت تھی۔ اسی کا ذکر فرمایا اور لڑائی کا بچائو زرہ میں ہے۔ 12
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی روگردانی کریں تو اے پیغمبر آپ کے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے

82 ۔ پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی روگردانی اور اعراض کا برتائو کریں تو اے پیغمبر آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں کیونکہ آپ کے ذمہ تو بس واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں اور باوجود اس کے ان نعمتوں سے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نا سپاس ہیں

83 ۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جانتے پہچانتے ہیں پھر پہچان کر انکار کرتے ہیں ۔ اور زیادہ ان کے ناسپاس ہیں ۔ یعنی آپ کا کام تبلیغ احکام ہے اور بس یہ لوگ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو پہچانتے ہیں پھر ان کا برتائو منکرانہ اور کافرانہ ہے وہ برتائو نہیں جو ایک منعم اور محسن کے ساتھ ہونا چاہئے۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھا کر کھڑا کرینگے پھر نہ تو کافروں کو معذرت کرنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ خدا کو راضی کرنے کی ان سے خواہش کی جائیگی

84 ۔ اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کردیں گے پھر ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے نہ تو بولنے کی اور معذرت کرنے کی اجازت دی جائیگی اور نہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے اور راضی کرنے کی ان سے خواہش کی جائیگی ۔ یعنی ہر امت کے پیغمبرکو شہادت کیلئے طلب کیا جائیگا تا کہ وہ اپنی اپنی امت کے اعمال سیہ پر گواہی دے پھر نہ منکروں کو بولنے کا حق ہوگا نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ توبہ کرلو یا کوئی اچھا عمل کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو کیونکہ وہ دارالجزا ہے دارالعمل نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حکم نہ ملے یعنی بولنے کا۔ 12
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو نہ ان پر سے کسی وقت عذاب ہلکا کیا جائیگا اور نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے

85 ۔ اور جب ظالم اور بےانصاف لوگ عذاب میں پڑ کر عذاب کو دیکھیں گے تو نہ ان پر وہ عذاب کسی وقت ہلکا کیا جائیگا اور نہ مہلت دیئے جائیں گے۔ یعنی نہ عذاب میں تخفیف اور نہ مہلت و ڈھیل ۔
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک لوگ اپنے شریکوں یعنی معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے وہ ہمارے خود ساختہ شریک یہی ہیں اس پر وہ شریک ان مشرکوں کو جواب دیں گے کہ یقینا تم جھوٹے ہو

86 ۔ اور جب وہ لوگ جو مشرک ہیں اور جن کا شیوہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ہے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے جن کو اپنے زعم میں شریک خدائی سمجھتے تھے وہ نظر پڑیں گے تو یہ مشرک ان کو دیکھ کر کہیں گے اے ہمارے پروردگار جن کو ہم تیرے سوا اور تجھ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اور جن کی پوجا کیا کرتے تھے وہ ہمارے خود ساختہ شریک یہ ہیں یہ سن کر وہ شرکاء بات کو ان مشرکوں ہی کی طرف لوٹا دیں گے اور کہیں گے تم بالکل سرا سر جھوٹے ہو ۔ یعنی وہ ان مشرکوں سے یہ کہیں گے کہ تمہارا ہمارا کوئی تعلق نہیں تم ہم کو نہیں پوجتے تھے بلکہ محض اپنی خواہشات فاسدہ اور خیالات باطلہ کی پرستش کیا کرتے تھے یا ہم کو تمہاری عبادت کی خبر ہی نہیں جیسے بت اور درخت وغیرہ ۔ ان کنا عن عبادتکم لغافلین اگر یہ کہنے والے صلحاء واتقیاء و ملائکہ وغیرہ ہوں تو ان کا کہنا سچ ہوگا اور اگر جواب دینے والے شیاطین اور جن وغیرہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہاں بھی جھوٹ بولیں ایسا کہنا قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہے۔ بہر حال سب کا منشاتبری اور برأت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں ایک شیطان اپنا وہی نام رکھ کر پجواتا ہے اسی سے ان کو کہیں گے تم جھوٹ ہو ۔ 12
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور مشرک اس دن اللہ کی طرف اطاعت و فرماں برداری کا پیغام ڈالیں گے اور جو افترا پردازیں وہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گی

87 ۔ اور مشرک اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف اطاعت و فرمانبرداری کا پیغام ڈالیں گے اور جو افترا پر دازیاں وہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گی ۔ یعنی سب طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے روبرو اطاعت وانقیاد کا اظہار کرنے لگیں گے اور دنیا میں جس تکبر کا اظہار کیا کرتے تھے اور شجی مارا کرتے تھے وہ سب باتیں جاتی رہیں گی اور سب لن ترانیاں گم ہوجائیں گی ۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جو لوگ کفر کرتے تھے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا کرتے تھے ہم ان کے کفر کی سزا پر اس شرارت کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے اور سزا بڑھادیں گے

88 ۔ اور جو لوگ خود کفر کے مرتکب ہوئے اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے لئے سزا پر سزا بڑھا دینگے اس شرارت کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی ان کے ایک کفر کی سزا پر دوسری ان کی شرارت اور فساد انگیزی کی سزا کا اضافہ کردیں گے۔ اعادنا الہ منہ ۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذک رہے جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اس کے خلاف گواہی دینے کو اٹھا کھڑا کریں گے جو انہی میں سے ہوگا اور ان لوگوں یعنی آپکی امت کے کافروں کے مقابلے میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور اے پیغمبر ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو بیان کرنیوالی ہے اور مسلمانوں کے لئے یہ کتاب بڑی ہدایت رحمت اور خوش خبری سنانے والی ہے

89 ۔ اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر امت میں سے اس کے خلاف گواہی دینے والا اٹھا کھڑا کریں گے انہی میں سے اور اے پیغمبر ان لوگوں کے مقابلے میں آپ ﷺ کو گواہ لائیں گے۔ اور اے پیغمبر ہم نے یہ کتاب آپ پر نازل کی ہے جو دین کی ہر بات بیان کرنیالی ہے اور مسلمانوں کے لئے خاص طور پر بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور بشارت و خوشخبری سنانے والی ہے۔ یعنی قیامت کے دن کا یہ واقعہ قابل ذکر اور قابل خوف ہے جس دن ہر ایک امت میں سے ایک کے پیغمبر گواہی دینے کے لئے بلائے جائیں گے پھر وہ امت کی نا فرمانیوں کے حالات بیان کریں گے اور چونکہ اے پیغمبر آپ بھی صاحب امت رسول ہیں اس لئے آپ بھی اپنی امت پر گواہ بنا کر لائے جائیں گے اور آپکی امت نے آپ کی دعوت پر جو سلوک آپ کے ساتھ کیا ہے وہ آپ بھی بیان کریں گے اور چونکہ آپ کی رسالت ثابت ہے اس لئے اس کی مزید توثیق فرماتے ہوئے نزول کتاب اور قرآن کریم کے اتارنے کا ذکر فرمایا قرآن کریم کو بتیان فرمایا جو ہر دین کی بات کو واضح کرتا ہے اس کا ہدایت و رحمت اور بشارت دہندہ ہونا ظاہر ہی ہے۔ رہی مسلمانوں کی خصوصیت تو جو اس کو مانتا ہے اور کلام الٰہی تسلیم کرتا ہے اسی کو ہدایت و رحمت اور بشارت سے بہر ہ اور حصہ ملتا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کی توثیق و تصدیق کریں اور انکے لئے شہادت دیں۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

یقینا اللہ انصاف کا اور بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کو اور نا معقول کاموں کو اور تعدی و سرکشی کو منع کرتا ہے تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس لئے نصیحت کرتا ہے تا کہ تم نصیحت قبول کرو

90 ۔ آگے قرآن کریم کے بعض احکام بیان فرماتے ہیں ارشاد ہوتا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ اعتدال اور انصاف کا اور نیکی اور بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کا باتوں اور نا معقول کاموں کو اور ظلم و زیادتی اور سرکشی وتعدی کو منع کرتا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم نصیحت پکڑو اور نصیحت کو قبول کرو۔ یہ آیت تمام اوامرو نواہی کی ایک جامع آیت ہے ۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ تمام عقائد و اعمال بلکہ معاملات میں میانہ روی کا وہ راستہ اختیار کرنا چاہئے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو ہر ایک شخص کے ساتھ بھلائی اور احسانات کا برتائو کرنا چاہئے اور بالخصوص قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی مال سے خدمت کرتے رہنا جن چیزوں کے ارتکاب کو منع کیا وہ فحشا ، منکر ، بغی۔ فحشا سے مراد ہے بڑی بےحیائی کے کام اور منکر سے مراد ہے ہر قسم کی برائی اور نا معقول کام بغی سے مراد ہے کسی پر ظلم اور زیادتی کرنا ، اجمالی طور پر تمام دین کے اوامرا نواہی کو اس آیت میں جمع کردیا گیا ہے جس کی شرح کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں غیر کے مقدمہ میں انصاف چاہئے یعنی برابر رکھنا اور اپنی طرف سے بھلائی ۔ 12
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور اللہ کے عہد کو پورا کیا کرو جب تم آپس ہیں عہد کرو اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑا کرو اور تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بھی کرچکے ہو بلا شبہ اللہ ان کاموں کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو

91 ۔ اب آگے مذکورہ باتوں میں بعض باتوں کو خصوصیت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور اللہ کے عہد کو پورا کیا کرو جب تم آپس میں عہد کرو اور قسموں کو پختہ اور مضبوط کرنے کے بعد توڑا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بھی کرچکے ہو اور تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن بھی کیا ہے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو ۔ یعنی اللہ کو درمیان دیکر کوئی عہد کیا جائے ۔ جیسا کہ عام دستور ہے کہ عہد کرتے وقت اللہ کو درمیان دیتے ہیں قسمیں کھا کر عہد کو پورا کرنے کا یقین دلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن کرتے ہیں تو ایسے عہود کے متعلق خاص طور پر تاکید فرمائی۔ نبی کریم ﷺ نے منافق کی علامتوں میں عہد شکنی اور وعدہ خلافی کا بھی ذکر کیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس عہد کو عہد الست بربکم مراد لیا ہے یعنی جو عہد یوم میثاق میں ہوا تھا اور جس کے جواب میں بلے کہہ کر پختہ اقرار کیا تھا دنیا میں تم نے فراموش کردیا اس کو پورا کرو ، اور اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرو اور عہد شکنی نہ کرو۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور قسم توڑنے میں تم اس عورت کی مانند نہہ ونا جو اپنے کا تے کو مضبوط کاتنے کے بعد پارہ پارہ کردیا کرتی تھی کہ تم بھی اپنی قسموں کو محض اس بنا پر آپس میں فساد ڈالنے کا بہانہ بنانے لگو کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے زیادہ ہے بات صرف یہ ہے کہ اللہ اس جماعتی اکثریت کی وجہ سے تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کیا کرتے ہو

92 ۔ اور تم عہد شکنی کر کے اس دیوانی عورت کے مشابہ مت ہونا جو اپنے کا تے ہوئے سوت کو محنت کرنے اور مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھی اور اپنے کا تے کو توڑ ڈالتی تھی اس عورت کی طرح تم بھی اپنی قسموں کو پختہ کرنے کے بعد محض آپس میں فسا ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو اور قسموں کو توڑنے لگو اور یہ صرف اس لئے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھی ہوئی ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقہ سے زیادہ ہے سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جماعتی فرق کی وجہ سے تم کو آزماتا اور پرکھتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے رہے ہو قیامت کے دن ان سب کی حقیقت تم پر واضح اور ظاہر کر دے گا ۔ یعنی عام طور سے لوگ باہم عہد و پیمان کیا کرتے اور اس طرح ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کے حلیف ہوجاتے تھے اور جب کبھی ایک حلیف پر کوئی حملہ کرتا تو دوسرا حلیف اس کی مدد کرتا اور اس قسم کے عہود اسلام سے پہلے بھی لوگ کیا کرتے تھے اور اسلام کے بعد بھی ایک دوسرے کے معاہد اور حلیف بنتے رہے۔ کبھی کفار کے دو گروہوں میں ایک گروہ مسلمانوں کا حلیف ہوجاتا تھا دوسرا گروہ کسی غیر مسلم کا حلیف ہوجاتا تھا ۔ پھر جس فرقہ سے مصالحت اور عہدہو جاتا اگر اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا قبیلہ مال میں اور تعداد میں زیادہ ہوتا تو اس کا پلہ بھاری ہوتا تو پہلے عہد کو نظر انداز کردیتے اور جھٹ دوسرے سے عہد و پیمان کرلیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کار کی مذمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ مکہ کی اس دیوانی عورت کی طرح نہ ہو جو بڑی محنت سے سوت کتواتی تھی اور کہتی تھی کہ جاڑے میں لوگوں کی جڑاول دوں گی پھر اس سوت کو بوٹے بوٹے کر ڈالتی تھی ۔ یعنی عورت کی طرح بیوقوف نہ بن جائو جب کوئی عہد کسی فرقہ سے کرلو تو وہ کمزور ہو خواہ غریب اور فقیر ہو اس کو توڑو نہیں کسی جماعت کا قوی اور کسی کا کمزور ہونا یہ محض تمہاری آزمائش اور ابتلاکے لئے ہوتا ہے کہ تم اپنے عہد کی پابندی کرتے ہو یا کسی کم تعداد والے کو چھوڑ کر کسی بڑی تعداد اور بڑی ثروت والے فرقہ سے جا ملتے ہو اور آزمائش میں فیل ہوجاتے ہو۔ اس طریقہ کار میں عہد شکنی بھی ہے اور توکل علی اللہ کے بھی منافی ہے۔ بہر حال یہاں تو امتحان ہے باقی نتیجہ قیامت کے دن ظاہر ہوجائے گا اور جو جھگڑے حق و باطل میں کرتے ہو قیامت میں واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کیونکہ حق کی اس دن مدد ہوگی اور باطل ذلیل ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کوئی قول دیکر دغا کرتا ہے اس واسطے کو زبردست کو گرا دے اور کمزور کو چھڑا دے۔ یہ اللہ نے آزمانے کو رکھا ہے کسی کو بدلے سے بدلا نہیں جاتا ادبار سے اقبال وہی لاوے تو آوے اور بد قولی کا خیال تب ہی آتا ہے جب ادبار آنے والا ہوتا ہے دوسرا گرا یا نہ گرا دل آپ کرتا ہے اپنے بنے کام کو خراب کرتا ہے۔ جیسے ایک عورت دیوانی تھی مال دار سارے برس سو ت کتواتی کہ جڑ ا دل دوں گی اقربا کو جب جاڑا شروع ہوتا سوت کتر کر بوٹی بوٹی سب کو بانٹتی۔ 12
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

قیامت کے دن خدا تم پر ان کی حقیقت واضح کر دے گا اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی فرقہ بنا دیتالیکن وہ جس کو چاہتا ہے بےراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ پر لگا دیتا ہے اور جو عمل تم کرتے رہو گے ان سب کی تم سے ضرور باز پرس کی جائے گی

93 ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظورہوتا تو وہ تم سب کو ایک ہی فرقہ اور ایک ہی طریقہ کا ہم خیال بنادیتا اور آپس میں پھوٹ نہ پڑتی لیکن وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ اور بےراہ رکھتا ہے اور ضرور باز پاس ہوگی ۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا تھا کہ تم سب ایک ہی ملت کے پابند ہوتے اور تم میں باہم اختلاف نہ ہوتا لیکن بمقتضائے حکمت و مصلحت ایسا نہیں کیا گیا یہ حضرت حق تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے کوئی گمراہی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور کوئی ہدایت اور راہ یافتہ ہے قیامت کے دن ہر شخص سے اس کے اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کافر کو بھی بد قولی سے نہ مارے کفر ان باتوں سے مٹتا نہیں اور اپنے اوپر وبال آتا ہے۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ عہد ہر شخص سے پورا کیا جائے خوا وہ کوئی ہو بشرطیکہ عہد شریعت کے موافق ہو۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور تم اپنی قسموں کو آپس میں دھوکہ دہی کا ذریعہ نہ بنائو کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کا قدم جم جانے کے بعد پھسل جائے اور تم کو اس سبب سے کہ تم نے خدا کی راہ سے روکا عذاب کا مزہ چکھنا پڑے اور تم کو بڑاسخت عذاب ہو

94 ۔ اور اے اہل ایمان تم اپنی قسموں کو آپس میں دھوکہ اور فریب دہی اور فساد کا ذریعہ نہ بنائو مبادا کسی کا قدم جمے پیچھے پھسل نہ جائے اور تم اس کے باعث کہ تم نے خدا کی راہ سے روکا اور اس سبب سے کہ تم خدا کی راہ سے مانع ہوئے تم کو کسی سخت تکلیف کا مزہ چکھنا پڑے اور تم کو آخرت میں بڑے عذاب کا سامنا ہو۔ یعنی اگر تم مسلمان ہو کر اپنی قسموں کا کھیل بنا لو گے اور قسموں کو فساد کا ذریعہ بنائو گے تو لا محالہ دوسرے لوگوں کو اسلام سے نفرت ہوگی اور کوئی شخص جو اسلام قبول کرنے کا ارادہ کرچکا ہو اس کا دل ہٹ جائے یا کسی نے تازہ تازہ اسلام قبول کیا ہو اور وہ تمہارے اس طرز عمل کو دیکھ کر اسلام سے پھر جائے تو چونکہ تمہارے اعمال سے یہ اثر پیدا ہوگا تو گویا تم اللہ کی راہ سے اور دین حق سے روکنے کا سبب ہوئے اس لئے تم کو دنیا میں بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور آخرت میں بڑے عذاب کا سامنا ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مسلمانوں کو بد نام نہ کرو یقین لانے والے شک میں پڑیں اور تم پر گناہ چڑھے۔ 12
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے تم نے جو عہد کیا ہے اس کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرلیا کرو ، بیشک جو عوض اللہ کے ہاں سے وہ تمہارے لئے بدرجہا بہتر ہے بشرطیکہ تم اس بات کو سمجھو

95 ۔ اور تم لوگ عہد خداوندی کے عوض اور جو عہد تم نے خدا تعالیٰ سے کیا اس کے بدلے میں دنیا کا تھوڑا سا فائدہ مت حاصل کیا کرو بلا شبہ جو عوض اور جو بالا اللہ تعالیٰ کے ہاں اور جو ذخیرہ آخرت اس کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بدرجہا بہتر ہے اگر تم اس بات کو سمجھو۔ اوپر کی آیت میں باہمی عہد و پیماں کے نباہنے کی تاکید فرمائی اب اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر بندے کا عہد ہے۔ ثمن قلیل سے مراد دنیاوی فوائد ہیں دنیا خواہ کتنی ہی زائد ہو آخرت کے مقابلہ میں بہر حال کم بھی ہے اور فانی بھی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے مذکور تھا آس کے قول توڑنے کا اب ذکر ہے اللہ سے قول توڑنے کا یعنی مال کی طرح سے حکم شرع سے خلاف نہ کرو وہ مال و بال بدلا دے گا جو موافق شرع ہاتھ لگے وہی بہتر ہے تمہارے حق میں ۔ 12
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائیگا اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ان لوگوں کو جو ثابت قدم رہتے ہیں ہم ان کو ان اچھے کاموں کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے ا ن کا صلہ عطا کریں گے

96 ۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا اور نبڑ جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا اور دائمی ہے اور جو لوگ وفائے عہد میں ثابت قدم رہتے ہیں اور عہد کے پورا کرنے میں جو تکلیف ہوتی ہے اس پر صبر کرتے اور ثابت قدم رہتے ہیں ہم ان کو ان کے اچھے کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ضرور صلہ اور اجر عنایت فرمائیں گے۔ یعنی تمہارے پاس جو دنیا سے وہ فنا ہونیوالی ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت اور وہاں کا اجر جو ہماری بارگاہ سے ملے گا وہ دائمی ہے۔ آیت کے آخری حصے میں اس اجر کے ملنے پر تاکیدی وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو تو ہم اس کو زندگی دیں گے ایک پاکیزہ زندگی اور ان کے ان کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے بہترین بدلہ عطا فرمائیں گے

97 ۔ جو شخص نیک اعمال کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن اور صاحب ایمان ہو تو ہم اس کو زندگی عطا کریں گے ایک پاکیزہ اور پر لطیف زندگی اور ہم ان کو ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ان کا اجر اور اصلہ عطا فرمائیں گے۔ حیات طیبہ یعنی دنیا میں اطمینان قلب اور ذکر و شغل کی لذت اور آخرت میں اجر وثواب اور صلہ یا آخرت کی زندگی کو حیات طیبہ فرمایا اور یہ واقعہ ہے کہ وہاں سے بہتر زندگی کہاں مل سکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اچھی زندگی قیامت کو جلا دیں گے یا دنیا میں اللہ کی محبت میں اور لذت میں ۔ 12
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جب آپ قرآن پڑھیں تو پہلے شیطان مردود سے خدا کی پناہ مانگ لیا کریں

98 ۔ آگے بعض اعمال صالحہ کے آداب کا ذکر فرمایا اور اے پیغمبر جب قرآن کریم پڑھیں اور قرآن کریم پڑھنے کا ارادہ فرمائیں تو پہلے شیطان مردود سے خدا کی پناہ طلب کرلیا کریں ۔ تلاوت قرآن کریم کا ادب تعلیم فرمایا کہ قرآن کریم شروع کرنے سے پہلے شیطان کے مکرو فریب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کروچون کہ قرآن کریم کی فہم پر عقائد و اعمال کا دارومدار ہے نہ معلوم کہ شیطان خبیث کہاں وسوسہ ڈال دے اور کس موقعہ پر صحیح راہ سے بھٹکا دے۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

یقینا ان لوگوں پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں اس شیطان کا کچھ زور نہیں چل سکتا

99 ۔ یقینا اس شیطان کو ان لوگوں پر زور نہیں چلتا اور اس کا وسوسہ ان پر اثر انداز نہیں ہوتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر پوری طرح بھروسہ رکھتے ہیں اور توکل کرتے ہیں ۔ یعنی ایسے لوگوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوسکتا اور قابو نہیں چل سکتا جو کامل مومن ہیں اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں خدا ان کی مد د کرتا ہے اور شیطان کے فریب سے ان کی حفاظت کرتا ہے۔
Ayah 16:100

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس شیطان کا قابو تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسکو رفیق بناتے ہیں اور ان لوگوں پر چلتا ہے جو عذا کے ساتھ شرک کرتے ہیں

100 ۔ بس شیطان کا قابو اور اس کا زور تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے اور اس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان لوگوں پر چلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ شیطان سے دوستی کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کریں ایسوں کو خدا کی مدد اور توفیق نصیب نہیں ہوا کرتی اور یہ لوگ شیطان ہی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں کسی آدمی کو کوئی شیطان یعنی جن ستانے لگے تو اس کے آگے رجوع نہ ہو اور سر پر چڑھتا ہے بلکہ اللہ کی پناہ سے دوڑے اسی کا کلام ہے اور اسی کا نام ہے۔ 12
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں حالانکہ اللہ جو حکم نازل کرتا ہے اس کی مصلحت کو وہی خوب جانتا ہے تو یہ کافر اس تبدیلی رکھتے ہیں کہ بس تو ہی اپنے دل سے بنا لاتا ہے یہ بات نہیں بلکہ ان میں کے اکثر لوگ جاہل ہیں

101 ۔ اور ہم جب کسی آیت کی بجائے دوسری آیت کو بدلتے ہیں اور ایک آیت کے حکم کی جگہ دوسری آیت کا حکم لے آتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم نازل کرتا ہے اور جو حکم بھیجتا ہے اس کی حکمت اور مصلحت کو وہ خوب جانتا ہے تو یہ دین حق کے منکر اس تبدیلی پر کہتے ہیں کہ بس تو ہی افتراء کرنیوالا ہے اور تو اپنے دل سے خود گھڑنے والا اور بنانے والا ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ ان میں کے اکثر لوگ جاہل اور ناسمجھ ہیں ۔ یعنی جب کوئی آیت لفظا یامعنا ً منسوخ ہوجاتی ہے اور اس آیت کے حکم کی بجائے ہم دوسرا حکم بھیجتے ہیں تو مخالف کہتے ہیں کہ یہ سب تیری من گھڑت ہے اور اگر یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہوتا تو اس میں نسخ نہ ہوتا گویا وہ نسخ کو کلام الٰہی کے منافی سمجھتے تھے اور یہی ان کی جاہلانہ باتیں ہیں اگر وہ نسخ کی حقیقت کو سمجھتے اور جانتے تو کبھی یہ بات نہیں کہتے۔ نسخ کا مطلب تو صرف اس قد رہے کہ ایک حکم کی مقررہ مدت ختم ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اکثرنسخ فرمایا ہے تو کافر شبہ کرتے اس کا جواب سمجھا دیا یعنی ہر وقت پر موافق اس وقت کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا دل قوی ہو کر ہمارا رب ہر حال سے خبردار ہے ۔ 12
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اس قرآن کو روح القدس آپ کے رب کی طرف سے حکمت کے موافق لایا ہے تا کہ جو لوگ اہل ایمان ہیں ان کو یہ کلام ثابت قدم رکھے اور فرمانبرداروں کے لئے موجب ہدایت اور خوش خبری ہو

102 ۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ اس قرآن کریم کی روح القدس یعنی جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پروردگار کی طرف سے حکمت کے موافق لایا ہے تا کہ اہل ایمان کو یہ کلام ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں اور فرمانبرداروں کے لئے ذریعہ ہدایت اور خوشخبری ہو ۔ یعنی جبرئیل امین (علیہ السلام) لاتے ہیں اور ضرورت کے موافق حکمت الٰہی کے ساتھ نازل ہوتا ہے تا کہ اہل ایمان کا ایمان مضبوط ہو اور اطاعت گزاروں کو ہدایت و بشارت میسرہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر حال میں اس کے موافق راہ سمجھا دے اور ہر کام پردیسی خوشخبری پہنچادے۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہم کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ یہاں کہتے ہیں کہ یہ قرآن محمد ﷺ کو ایک آدمی سکھاتا ہے ، حالانکہ جس آدمی کی طرف یہ سکھانے کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن نہایت سلیس عربی زبان میں ہے

103 ۔ اور بیشک ہم اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کے منکریوں کہتے یں کہ بس محمد ﷺ کو قرآن کریم تو ایک آدمی سکھاتا ہے اور اس قرآن کریم کی تعلیم تو محمد ؐ کو ایک شخص دیا کرتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ منکر تعلیم قرآن کریم کی نسبت کرتے ہیں وہ تو ایک عجمی شخص ہے اور یہ قرآن کریم نہایت سلیس اور فصیح عربی زبان میں ہے۔ کوئی نصرانی غلام تھا روی صیقل گرلوہار وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اور قرآن کریم سنا کرتا تھا حضور ﷺ بھی جب کبھی بازار میں جاتے تو اس کی دکان پر ٹھہر جاتے اس کی طرف نسبت کردی کہ ہو محمد ﷺ کو قرآن سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا کہ وہ تو غیر ملکی ہے اس کی زبان عربی زبان نہیں ہے تو وہ اس قدرفصیح وبلیغ عربی میں کلام کس طرح کرسکتا ہے کہ جس کلام کا مقابلہ خود اہل عرب بھی نہ کرسکیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک شخص کا غلام رومی نصرانی مکہ میں تھا ۔ حضرت محمد ﷺ کے پاس آ بیٹھتا محبت سے اللہ کا کلا م اور پیغمبروں کا احوال سننے کو کافر کہتے وہی سکھا جاتا ہے۔ 12
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے یعنی ضد سے تو خدا ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا

104 ۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا ۔ یعنی جو لوگ محض ضد اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور ایمان نہ لانے پر نا معقول استدلال کئے جاتے ہیں ، جیسا کہ ان لوگوں نے جن کا ذکر ہوا طریقہ اختیار کر رکھا ہے تو ان لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں ہوگی بلکہ آخرت میں یہ عذاب کے مستحق ہونگے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جتنا سمجھاتے دے نہیں سمجھتے بےیقین آدمی محروم ہے۔ 12
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

بس جھوٹی افترا پردازی تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں

105 ۔ آگے حضور ﷺ کو معاذ اللہ مفتری کہنے کا جواب ہے ارشاد ہوتا ہے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جھوٹی افترا پردازی کے تو وہ ہی لوگ مرتکب ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ پورے اور کامل جھوٹے ہیں ۔ یعنی معاذ اللہ جو پیغمبر ﷺ کو مفتری بتاتے ہیں یہ لوگ خود ہی جھوٹے افترا پر دازیاں کرنے کے عاری اور خوگر ہیں اور یہ لوگ واقعی جھوٹے ہیں ۔
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد اسکے ساتھ کفر کرے مگر یہ کہ اس پر جبر کیا جائے اور وہ مجبورا ً محض زبان سے کفر کی بات کہہدے بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر قائم ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن جو کوئی ایمان کے بعد اللہ کے ساتھ کفرکرے اور کفر بھی کشادہ دلی کے ساتھ یعنی کفر کو صحیح سمجھ کر کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان کو بڑا عذاب ہوگا

106 ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے پیچھے اس کے ساتھ کفر کرے اور ایمان باللہ سے پھر جائے مگر ہاں اس پر جبر کیا جائے اور وہ مجبور ہوکر محض جان کے خوف سے کوئی کفر کی بات زبان سے کہہ دے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن اور ایمان پر قائم ہو تو ایسا شخص مستثنیٰ ہے اور اس پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے اور کفر بھی جی کھول کر کفر کو اچھا اور مستحسن سمجھ کر کرے تو اسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا ۔ یعنی مومن کے کفر کی ایک وجہ تو یہ ہوئی کہ کوئی شخص اس کو ڈرائے اور کفر کی بات پر مجبورکرے اور کہے اگر کفر نہیں کیا تو تجھ کو قتل کر دوں گا اور یہ شخص جان کے خوف سے محض اپنی زبا ن سے کوئی بات کفر کی کہہ دے تو ہو غضب الٰہی اور عذاب عظیم سے مستثنیٰ ہوگا لیکن اگر کوئی بدنصیب شرح صدر کے ساتھ کفر کو اچھا سمجھ کر کفر کی بات کہے اور اس کا سینہ کشادہ ہو اور کفر کو مستحسن سمجھ کر کفر کرے تو یہ لوگ یقینا غضب الٰہی اور عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ جان کے خوف سے کفر کی بات کا واقعہ حضر ت عمار ؓ کو پیش آیا اور وہ روتے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کشادہ دلی کے ساتھ کفر کرنے والے مثلاًعبد اللہ بن سرح یا بعض دوسرے لوگ ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے مذکور ہوئے کافروں کے ش ہے اب فرمایا کہ جو لوگ ش ہے سنکر ایمان سے پھر جائے اس کا یہحال ہے مگر ظالم زبردستی سے اگر کفر کا لفظ منہ سے کہوا دے اور دل میں ایمان برقرار رہے تو اس کو گناہ نہیں لیکن اگر مرنا قبول کرلے اور لفظ بھی منہ سے نہ کہے تو شہید اکبر ہے 12 ۔ خلاصہ ! یہ کہ جبر اگر متحقق ہو تو کفر کی بات کہہ دینے میں رخصت ہے لیکن اگر کوئی ثابت قدم رہے اور مارا جائے تو یہ عزیمت ہے ، اسی کو حضرت شاہ صاحب (رح) نے شہید اکبر فرمایا ہے۔
Ayah 16:107

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ غضب اور عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ ان لوگوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو عزیزرکھا اور نیز اسوجہ سے کہ اللہ ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا

107 ۔ اس عذاب اور غضب الٰہی کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو عزیز رکھا اور دنیا کی زندگی کو آرت کے مقابلے میں ترجیح دی اور نیز اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا ۔ یعنی جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں اور کفر پر اصرار کریں اور ایمان لانے کے بعد پھر شرح صدر کے ساتھ مرتدہو جائیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور جو کوئی ایمان سے پھرا ہے تو دنیا کی غرض کی جان سے ڈر کر یا برادری کی خاطر سے یا زر کے لالچ سے جس نے دنیا عزیز رکھی اس کو آخرت کہاں اگر جان کے ڈر سے لفظ کہے تو چاہئے جب ڈرکا وقت جا چکے پھر توبہ استغفارکر کہ ثابت ہوجاوے۔ 12
Ayah 16:108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

جو کفر کے خوگر ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کررکھی اور یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل ہیں

108 ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے انجام سے بالکل غافل ہیں ۔ یعنی اصرار علی الکفر کی یہ حالت ہے کہ اسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دل ، کان اور آنکھوں کی مہر کردی ہے نہ حق میں اتر تا ہے نہ کان حق کو سننا گوارہ کرتے ہیں اور نہ آنکھیں حق کو دیکھتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت میں جو ان کا انجام ہونے والا ہے اس سے بالکل غافل ہیں ۔
Ayah 16:109

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی لوگ گھاٹ میں رہیں گے

109 ۔ اور جب ان کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے تو یہ لازمی امر ہے کہ یہ لوگ آخرت میں بھی بالکل گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے کام نہ لیں اور اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی طاتوں کو ضائع کردیں تو ان سے بڑھ کر آخرت میں کون نقصان اٹھانے والا ہوگا۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مبتلائے کفر ہونے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد بھی کیا اور ایمان ہی پر قائم رہے تو آپ کا رب ان اعمال کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

110 ۔ پھر بلا شبہ آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر میں مبتلا ہوجانے کے بعد ہجرت کی اور اپنا وطن چھوڑا اور جہاد بھی کیا اور ثابت اور قائم رہے تو بیشک ان اعمال کے بعد آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی اوپر کی آیتوں میں کفر کے ارتکاب کا ذکر تھا خواہ وہ مجبورا ً ہو یا کشادہ دلی سے ہو ۔ اس آیت میں فرمایا اگر اس کے بعد جبر والے توبہ کرلیں اور کشادہ دلی والے توبہ کر کے ایمان لے آئیں اور جو کام اسلام کے ہیں۔ مثلا ً ہجرت و جہاد اور ایمان پر ثابت قدم تو بلا شبہ ان اعمال صالح کے بعد انکے ساتھ رحمت و مغفرت کا معاملہ کیا جائے گا اور ایمان و اعمال صالحہ کی برکت سے ان کے سب گزشتہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ میں بعض لوگ کافروں کے ظلم سے بچل گئے تھے یا زبانی لفظ کہہ لیا تھا اس کے پیچھے جب اتنے کام کئے ایمان کے وہ تقصیر بخشی گئی۔ ایک بزرگ تھے عماران کے باپ تھے یا سر اور ماں سمینہ ظلم اٹھاتے مرگئے پر لفظ کفر نہ کہا بیٹے نے خوف سے لفظ کہہ دیا پھر روتے ہوئے حضرت محمد ﷺ کے پاس آئے تب یہ آیتیں اتریں ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) نے شان نزول کا تعلق ایک قول کی بنا پر اختیار کیا ہے ہم نے ایک دوسرے قول کی بنا پر آیت کا مفہوم عام لے لیا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

وہ دن یاد کر جس دن ہر شخص اپنی ہی جماعت و طرف داری میں سوال و جواب کرتا ہوا آئے گا اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا

1 1 1 ۔ اور اے مخاطب اس دن کو یاد کر جس دن ہر شخص اپنی طرف داری اور اپنی ہی جماعت میں سوال و جواب اور جھگڑتا ہوا آئے گا اور ہر شخص کو جو اس نے کیا ہے اسکے کئے کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب عام ہو جیسا کہ ہم نے اختیار کیا یا نبی کریم ﷺ کی ذات مخاطب ہو مطلب یہ ہے کہ اس دن یعنی قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہوگی کسی دوسرے کی جانب توجہ ہی نہ ہوگی اپنے ہی متعلق جواب وسوال کرتا ہوا اور اپنی ہی فکر میں مبتلاہو گا۔ لکل امری منھم یو مئذ شان بغنیہ ظلم کی نفی فرمائی، نیکی کے بدلے میں کمی نہ ہوگی اور برائی کے بدلے میں زیادتی نہ ہوگی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کسی طرف کوئی نہ بولے گا اس دن ظلم نہ چل سکے گا۔ 12
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی یعنی وہاں کے لوگوں کی حالت بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ بڑے امن و اطمینان کے ساتھ رہتے تھے ان کو ہر چہار طرف سے با فراعت روزی پہنچتی تھی پھر ان بستی والوں نے خدا کی نعمتوں کی نا سپاسی کی اس پر اللہ تعالیٰ نے اس نا شکری کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا

112 ۔ نا سپاسی اور کفر کے انجام کی آگے مثال بیان فرمائی، چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک بستی کی حالت عجیب بیان کرتا ہے اور وہاں کے رہنے والوں کی مثال بیان فرماتا ہے کہ اس بستی کے لو گ بڑے امن اور اطمینان کے ساتھ رہتے تھے ان کو ہر طرف سے با فراغت روزی پہنچتی تھی اور انکے پاس ہرچہار طرف سے روزی پہنچا کرتی تھی پھر اس بستی نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بےقدری اور نا سپاسی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس نا شکری کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا ۔ یہ بستی کی صف فرمائی ۔ لیکن مراد اس سے بستی کے رہنے والے ہیں جیسا کہ ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اشارہ کیا ہے ۔ لباس جس طرح انسان کے جسم سے ملاصق ہوتا ہے اور گھیرے رہتا ہے اسی طرح نافرمانی اور ناسپاسی کی وجہ سے بجائے امن و اطمینان کے خوف نے اور با فراغت رزق کی بجائے بھوک نے گھیر لیا ۔ لباس سے استعارہ فرمایا مقصود یہ ہے کہ بستی کے لوگ جس طرح بےخوف تھے اور روزی سے بےنیاز تھے کفران نعمت کی وجہ سے خوف اور بھوک میں مبتلا کردیئے گئے۔ فارغ البالی اور بےخونی دونوں چیزیں بڑی اہم ہیں ۔ اطعمھم من جوع وامنھم من خوف فرمایا۔ سورة قریش میں اور بات بھی یہ ہے کہ جو نعمت کا کفر کرے بلا میں مبتلا کیا جائے۔ لئن کفرتم ان عذابی لشدید سورة ابراہیم حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایسے بہت سے شہر ہوتے ہیں پر یہ احوال فرمایا مکہ کا تن کے کپڑے بھوک اور ڈر ینی ایک دم بھوک اور ڈر سے خالی نہ رہنے لگے ۔ 12
Ayah 16:113

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان بستی والوں کے پاس انہی میں سے ای رسول بھی آیا پھر انہوں نے اس کی تکذیب کی اس پر ان کو عذاب نے آگھیرا اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ ظالم تھے

113 ۔ اور بلا شبہ ان لوگوں کے پاس ایک رسول بھی ان ہی میں سے آیا پر ان بستی والوں نے اس رسول کو جھوٹا بتایا اور اس کی تکذیب کی اس پر ان کو عذاب نے آپکڑا اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ ظلم کے عادی ہوچکے تھے۔ یعنی رسول بھی ہدایت کو آیا لیکن جب نہ مانے تو بالآخر عذاب نے آلیا اور وہ تھے بھی ظالم۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس جب کفر کا انجام معلوم ہوگا تو جو روزی تم کو اللہ نے حلال اور پاکیزہ دی ہے اس میں سے کھائو اور اللہ کے احسان کا شکر بجا لائو اگر تم اسی کے عبادت گزار ہو

114 ۔ کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا یہ کفرکا شیوہ ہے لہٰذا جو اللہ تعالیٰ نے تم کو حلال اور پاکیزہ روزی دی ہے اس میں سے کھائو ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اور اس کا احسان مانو اگر تم اسی کے عبادت گزار ہو اور اسی کی پرستش کرتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تم اگر پرستار ہو تو اس کی ناسپاسی نہ کرو اور جن لذیز اور مرغوب الطبع چیزوں کو اس نے حلا ل کیا ہے انہی کو کھائو اور خدا کا شکر بجا لائو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لائو اور حلال کو حرام مت کرو اپنی عقل سے۔ 12
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تو پس تم پر یہی چیزیں حرام کی ہیں مرا ہوا جانور اور خون اور سورکا گوشت اور وہ چیز جس کو غیر اللہ کے نام پر نامزد کردیا گیا ہو پھر جو شخص بالکل ہی مجبورہو جائے بشرطیکہ وہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد سے تجاوزکرنیوالا ہو تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

115 ۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو تم پر جو چیزیں حرام کی ہیں وہ مرا ہواجانور ہے اور خون ہے اور سورکا گوشت ہے اور وہ چیزیں جس کو غیر اللہ کے نامزد کرد یا گیا ہو پھر جو شخص بھوک سے بالکل ہی بےقرار ہوجائے بشرطیکہ وہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی جن چیزوں میں تم گفتگو کرتے رہتے ہو ان میں تو صرف یہ چیزیں حرام ہیں مرا ہوا جانور ہے جو خود مرجائے اور دم مسفوح اور خزیر کا گوشت اور تقرب کی نیت سے جو غیر اللہ کے نام سے نامزد کردیا گیا ہو پھر اگر فاقہ ہو اور کوئی شخص بھوک سے مضطر اور بیقرار ہوجائے اور زندگی بچانے کے لئے کچھ تھوڑا سا کھالے تو اجازت ہے بشرطیکہ مقصد لذت حاصل کرنا نہ ہو اور حد سے تجاوز کرنے والا بھی نہ ہو ۔ سورة مائدہ میں تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں محض جھوٹا دعویٰ کیا کرتی ہیں تم ان کی نسبت یوں نہ کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیزحرام ہے اس کہنے کا انجام یہ ہوگا کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان لگا دو گے ، بلا شبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے

116 ۔ اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں بغیر کسی دلیل کے محض جھوٹے دعوے کیا کرتی ہیں تم ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے اس کہنے کا نتیجہ اور انجام یہ ہوگا کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت اور جھوٹا بہتان لگا دو گے اور بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹی افترا پردازی کے مرتکب ہوتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے اور ان کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی ۔ مکہ کے کافر یہ اختراع کیا کرتے تھے کہ بہائم میں سے کسی کو حلال کرلیتے کسی کو حرا م کرلیتے ۔ جیسا کہ سورة انعام میں گزر چکا ہے اس کو منع فرمایا اور چونکہ کسی جانور کو حلال یا حرام کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ اس لئے اس کہنے کا حاصل یہ ہے کہ اس کو اللہ نے حلال کیا ہے اور اس کو اللہ نے حرام کیا ہے حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی افترا پردازی ہے اس نے حرام نہیں کیا اور تم کہتے ہو کہ یہ حرام ہے یا اس نے حلا ل نہیں کیا اور تم کہتے ہو کہ یہ حلال ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر بہتان اور طوفان باندھیں اور جھوٹی تہمتیں لگائیں وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ، سورة انعام میں ذکر آچکا۔ 12
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

یہ تھوڑے دن کا فائدہ ہے اور آئندہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے

117 ۔ یہ تھوڑا سا فائدہ اور دنیا کا چند روزہ عیش ہے اور آئندہ آخرت میں ان کے لئے درد ناک سزا اور عذاب ہے۔ یعنی جن چیزوں کا یہ منکر ارتکاب کر رہے ہیں یہ دنیا کا چند روزہ فائدہ ہے باقی آخرت میں ان کے لئے سوائے عذاب کے اور کیا ہے۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور اے پیغمبر صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان اس سے پہلے یعنی سورة انعام میں ہم آپ سے کرچکے ہیں ہم نے ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی بلکہ ہو خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے

118 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے صرف ان لوگوں پر جو یہودی تھے یہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے یعنی سورة انعام میں آپ سے کرچکے ہیں اور ہم نے ان یہود کے ساتھ کوئی زیادتی اور ناانصافی نہیں کی بلکہ وہی خود اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے ۔ یعنی یہی لوگ ملت ابراہیمی کی مخالفت کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے ۔ ان کی اس مخالفت کے باعث ہم نے ان پر بعض چیزیں حرام کردی تھیں۔ فبظلم من الذین ھادو احرمنا علیھم طیبات احلت لھم یہی ان کا ظلم تھا کہ وہ انبیاء سابقین کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہود پر جو بعض چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ تحریم ہماری جانب سے تھی اور کفار مکہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ محض اپنی جانب سے اختراع کر رہے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا غلط ہے۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جو نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھیں پھر اس برائی کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک آپ کا رب اس توبہ کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

119 ۔ پھر بیشک آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے جہالت اور نا دانی سے کوئی برا کام کرلیا پھر اس برائی کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور انہوں نے اپنی اصلاح کرلی تو بیشک آپ کا پروردگار اس توبہ کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ برے اعمال سے مراد ہر قسم کی برائی ہے یا حلال کو حرام کرلینا ۔ جہالت کا مطلب یہ ہے کہ نا دانی سے کوئی برا عمل کرلیا یا جو شخص گناہ کرتا ہے تو وہ بےعقل ہوتا ہے اگر عقل سے کام لے اور تھوڑی سی توجہ اور سمجھ سے کام لے تو گناہ سے بچ سکتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں جو برا کام کرلے وہ جاہل ہے ۔ بہرحال برے کام کرنے والے اپنے کفریات اور اپنے افتراء سے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور آئندہ کے لئے اپنے اعمال کی اصلاح کریں تو سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حلال حرام میں جھوٹ بنایا تھا جب مسلمان ہوئے تو بخشے گئے۔
Ayah 16:120

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بھلائی کی تعلیم دینے والا اللہ کا فرمانبردارتھاجو سب طرف سے یکسو ہو کر خدا کا ہوگیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا

120 ۔ بلا شبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مقتدا اور بھلائی کی تعلیم دینے والا اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار تھا وہ سب سے یکسو ہوکر ایک خدا کا ہوگیا تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔