16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 16:41

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا اللہ کے لئے اپنا وطن چھوڑا تو ہم ضرور ان مہاجرین کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے اور یقینا دنیا میں جو کچھ عطا ہوگا اس سے آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کاش ! یہ کافر اس ثواب کو جانتے تو مسلمان ہوجاتے ،

41 ۔ اور جن لوگوں نے بعد اس کے کہ ان پر ہر قسم کے مظالم کئے گئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ترک وطن کیا اور مکہ سے ہجرت کی ہم ان کو دنیا میں یقینا اچھا ٹھکانہ عطا فرمائیں گے اور دنیا میں جو کچھ دیا جائے گا آخرت کا ثواب اس سے یقینا بہت بڑا ہے کاش یہ منکر اس ثواب کی حقیقت کو جانتے ۔ یعنی جن صحابہ ؓ نے ابتدائے اسلام میں مختلف مظالم سہے اور آخر کو ترک وطن کر کے حبشہ چلے گئے ان کو بشارت ہے چناچہ تھوڑے سے عرصہ کے بعد مدینہ منورہ دارالہجرت قرار پایا اور سب لوگ وہاں آ کر آباد ہوئے اور ہر قسم کی ترقی پائی۔ کاش ! اگر یہ کافر بھی اس ثواب کو جانتے تو مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچاتے بلکہ مسلمان ہوجاتے اور ہوسکتا ہے کہ مدینہ کی بجائے فتح مکہ کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لو کانوا یعلمون سے مسلمانوں کی جانب شا ارہ ہو اور یہ مطلب ہو کہ اگر مسلمان اجر وثواب کی پوری پوری حقیقت سے آگاہ ہوجاتے تو اور زیادہ جدوجہد کرتے۔ واللہ اعلم
Ayah 16:42

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

یہ مہاجر وہ لوگ ہیں جنہوں نے مصائب کو برداشت کیا اور جو اپنے پروردگار ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں

42 ۔ یہ مہاجر وہ حضرات ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مصائب و تکالیف پر صبر کیا اور جو اپنے پروردگار ہی پر توکل اور بھروسہ رکھتے ہیں ۔ یعنی ما سوائے اللہ سے قطع تعلق کر کے صرف اللہ تعالیٰ پر اعتماد رکھتے ہیں۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول کو دلائل واضحہ اور صحائف آسمانی دیکر نہیں بھیجامگر یہ کہ وہ مرد ہی ہوتے تھے جن پر ہم اپنی وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے

43 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے کسی رسول کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ مرد ہی ہوا کرتے تھے ہم ان رسولوں کی جانب وحی کیا کرتے تھے اور ان رسولوں کو دلائل واضحہ اور کتب سماوی اور صحف آسمانی کے ساتھ کے بھیجا تھا ، سو اگر تم لوگ نہیں جانتے تو یاد زرکھنے والوں سے دریافت کرلو۔ یعنی آپ سے پہلے جس قدر رسول ہم نے بھیجے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہوا کرتے تھے جن پر ہم اپنی وحی بھیجا کرتے تھے خواہ فرشتوں کی معرفت یا براہ راست اور بھیجا بھی کرتے تھے تو دلائل واضحہ اور کتب سماوی ۔ اور اوراق آسمانی دیکر بھیجا کرتے تھے اگر تم اس بات سے واقف نہیں ہو تو اہل ذکر یعنی یاد رکھنے والوں سے پوچھ دیکھو خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا کوئی اور ہو جسکو امم سابقہ کا حال معلوم ہو اس سے پوچھ لو کہ وہ سب رسول آدمی ہوتے تھے فرشتے نہیں ہوا کرتے تھے ہم نے دوسری آیت کے دو جملوں کا ترجمہ محض عبارت کی غرض سے پہلی آیت کے ساتھ ملا دیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یاد رکھنے والے یعنی اہل کتاب کہ اگلے احوال جانتے تھے۔ 12
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

تو یاد رکھنے والوں سے پوچھ دیکھ اور آپ پر بھی ہم نے ہی یہ قرآن نازل کیا ہے تا کہ جو احکام لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں وہ احکام آپ انکے روبرو خوب کھول کر بیان کردیں اور تا کہ وہ لوگ غور و فکر کریں

44 ۔ اور اے پیغمبر ہم ہی نے آپ کی جانب یہ قرآن کریم نازل فرمایا ہے تاکہ جو احکام لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں ان کو آپ واضح طور پر صاف صاف لوگوں کے روبرو بیان کردیں اور تا کہ وہ لوگ غور و فکر سے کام لیں اور نصیحت پکڑیں ۔ یعنی جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو دلائل واضحہ اور صحیفے اور کتابیں وغیرہ دیکر بھیجا تھا اسی طرح تم کو بھی یہ قرآن دیکر بھیجا ہے تا کہ آپ وہ تمام احکام جو بنی نوع انسان کے لئے نازل کئے ہیں وہ لوگوں کے سامنے صاف طور پر بیان کردیں اور تاکہ وہ ان احکام میں غور کریں اور ان کو غور و فکر کا موقعہ ملے۔
Ayah 16:45

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

اور کیا جو لوگ بد ترین چالیں چلتے رہتے ہیں وہ اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا وہ اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان پر کسی ایسی جگہ سے عذاب آپہنچے جہاں سے انہیں گمان بھی نہ ہو

45 ۔ تو کیا جو لوگ تعلیم اسلامی کے ساتھ بدترین مکرو فریب کرتے اور چالیں چلتے رہتے ہیں کیا وہ اس بات سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے یا وہ اس بات سے نڈر ہوگئے کہ ان پر ایسی جگہ اور ایسے موقعہ سے عذاب آجائے جس کا ان کو وہم و گمان بھی نہ ہو ۔
Ayah 16:46

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا اللہ تعالیٰ ان کو کہیں آتے جاتے پکڑ لے سو وہ خدا کو کہیں بھاگ کر تھکا نہیں سکتے

46 ۔ یا اللہ تعالیٰ ان کو کہیں آتے جاتے ، چلتے پھرتے پکڑلے سو وہ اللہ کو کہیں بھاگ کر ہرا نہیں سکتے اور نہ تھکا سکتے ہیں۔
Ayah 16:47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ڈرانے کے بعد ان کو پکڑ لے اس میں شک نہیں کہ تمہارا رب بڑی شفقت کرنے والا نہایت مہربان ہے

47 ۔ یا اللہ ان کو ڈرانے دھمکانے اور کمزور کرنے کے بعد پکڑ لے پس اس میں شک نہیں کہ تمہارا پروردگار یقینا بڑ ی شفقت کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔ دلائل بیان کرنے کے بعد دین حق کے محافظوں کو تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےخوف نہ ہو جائو جس طرح مختلف گوشوں سے مہربانی اور کرم کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح اسکی گرفت کے مختلف طریقے ہیں ۔ زمین میں دھنسا دینا جیسے زلزلے میں ہوتا ہے یا پانی میں غرق ہوجانا یا دلدل میں پھنس جانا یا اچانک اور بےگمان کہیں سے عذاب ا آ پڑنا، آتے جاتے چلتے پھرتے ، سفر میں یا حضر میں۔ تخوف کا یہ مطلب ہے کہ ابتداء ً دو چار مرتبہ معمولی پکڑ ہوئی پھر ہلاکت کے عذاب میں مبتلا کردیا کمزور کردینے کے بعد پکڑ ہوگئی یا گھٹاتے گھٹاتے ختم کردیا کسی جنگ میں معمولی نقصان ہوا دوسری لڑائی میں اور زیادہ تیسری یا چوتھی جنگ میں ختم کردیا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ چونکہ بندوں پر شفقت اور مہربانی زیادہ ہے اس لئے عذاب استیصال میں جلدی نہیں فرماتے۔
Ayah 16:48

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب اس طور پر پھرتے رہتے ہیں کہ وہ خدا کے لئے سجدہ ریز اور اس کے سامنے ذلیل و عاجز ہیں

48 ۔ کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے کبھی دائیں جانب کبھی بائیں جانب کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف جھکتے اور پھرتے رہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزہ اور اس کے حکم کے بالکل فرماں بردار ہیں اور وہ سایہ دار چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل و عاجز ہیں ۔ یعنی یہ چیزیں بھی اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ان سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ زوال کے بعد سایہ کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں شاید عام مراد ہے ، آفتاب کو نور عطا کرنا اور سایہ دارچیزوں کو کثیف بنانا یہ سب اسی وحدہٗ لا شریک کا کیا ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے اس کا سایہ بھی کھڑا ہے جب دن ڈھلا سایہ جھکا پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع رکوع سے سجدہ اسی طرح ہر چیز آپ کھڑی ہے اپنے سایہ سے نماز کرتی ہے کسی ملک میں کسی موسم میں داہنی طرح جھکتا ہے کہیں بانویں طرف ۔ 12
Ayah 16:49

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی جاندار چیزیں زمین میں ہیں سب خدا کو سجدہ کرتی ہیں اور فرشتے بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ فرشتے سرکشی نہیں کرتے

49 ۔ آگے آسمان اور زمین کی دوسری چیزوں کی اطاعت کا ذکر فرمایا اور جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنے جان دار زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اس کے تابع اور فرماں بردار ہیں اور فرشتے بھی اس کے مطیع اور منقاد ہیں اور اس کے لئے سجدہ ریز ہیں اور وہ فرشتے غرور وتکبر نہیں کرتے۔
Ayah 16:50

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

ان کی حالت یہ ہے کہ وہ فرشتے اپنے اس رب سے ڈرتے رہتے ہیں جو انکے اوپر ہے اور جو حکم ان کو دیا جاتا ہے وہ اس کو بجا لاتے ہیں

50 ۔ وہ فرشتے اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور ان پر بالا دست ہے اور وہ فرشتے وہی کام کرتے ہیں جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے ، ان آیتوں میں تمام مخلوق کی فرماں برداری اور تذلل و عاجزی کا ذکر فرمایا اور اس تذلل و عاجزی کو سجدہ سے تعبیر کیا ہے ۔ نیاز مندی کے مختلف طریقے ہیں کوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میں ہے کوئی زمین پر رینگ کر سجدے کی حالت پیدا کر رہا ہے اور کچھ نہں تو سایہ سے نیاز مندی کا اظہارہو رہا ہے جو متکبر ہیں اور خداوند کریم کو سجدہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں وہ بھی خدا کے حکم سے باہر نہیں نکل سکتے۔ غرض ! ہر چیز کے حال و قال سے نیاز مندی اور تذلل ٹپک رہی ہے اور یہ ہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے کافی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے کھڑی چیزوں کا سجدہ بیان ہوا یہ جانوروں کا اور فرشتوں کا مغرور لوگوں کو سجدہ میں سر رکھنا زمین پر مشکل پڑتا ہے نہیں جانتے کہ بندے کی بڑائی اسی میں ہے۔ 12 پھر فرماتے ہیں ہر بندے کے دل میں ہے کہ میرے اوپر اللہ ہے آپ کو نیچے سمجھتا ہے یہ سجدہ فرشتوں کا بھی ہے اور سب کا ہے۔ 12
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا یعنی حکم دیا ہے کہ وہ معبود نہ بنائو بس معبود تو صرف وہی ایک ہے لہٰذا تم لوگ مجھ ہی سے ڈرا کرو

51 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بواسطہ یہ حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ دو معبود دو یا زیادہ تجویز نہ کرو بس معبود حقیقی تو صرف وہی ایک ہے پس تم مجھ ہی سے ڈرا کرو ۔ دو معبودوں کی ممانعت مستلزم ہے اور زیادہ کی ممانعت کر اور جب معبود برحق ایک ہی ہے اور وہی تمام اختیارات رکھتا ہے تو اس سے ہی ڈرو۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے رب اسی کی ملک ہے اور دائمی طور پر وہی عبادت کا مستحق ہے تو کیا اس پر بھی تم سوائے خدا کے اوروں سے ڈرتے ہو

52 ۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی مملوک ہے اور لازمی طور پر عبادت کا وہی مستحق ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو ۔ یعنی ایسا مالک جو ہر چیز کا مالک ہے اسی کی عبادت لازم اور اسی کا انصاف دائم ہے پھر غیر سے کیوں ڈرتے ہو اور ڈر کر دوسروں کی پوجا کرتے ہو۔
Ayah 16:53

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو نعمت بھی تم کو میسر ہے تو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے پھر جب تم کو ذرا سی کوئی تکلیف پہنچی ہے تو تم اسی کے آگے روتے اور گڑ گڑاتے ہو

53 ۔ اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے اور جو نعمت بھی تم کو میسر ہے سو وہ اللہ تعالیٰ کی ہی طرف سے ہے پھر جب تم کو ذرا سی کوئی تکلیف اور سختی مس کرتی ہے اور پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے روتے اور گڑ گڑاتے ہو اور تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔
Ayah 16:54

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ اس سختی کو تم سے اٹھا لیتا ہے تو اسی وقت تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

54 ۔ پھر جب وہ اللہ تعالیٰ اس سختی کو تم سے ہٹا لیتا ہے اور کھول دیتا ہے تب ہی تم میں کی ایک جماعت اور ایک بڑا فریق اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔
Ayah 16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تا کہ جو نعمت ہم نے ان کو عطا کی ہے اس کی نا شکری کریں ، اچھا تم لوگ چند روز فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے

55 ۔ جس کا انجام یہ ہے کہ جو نعمت ہم نے ان کو عطا کی ہے اس کی نا شکری اور نا سپاسی کریں اچھا تم چند روز مزے اور عیش اڑا لو اور فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے۔ عام طریقے سے کافروں کی حالت بیان کی ہے دکھ کے وقت خدا کو پکارتے ہیں اور سکھ کے وقت بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہم نے ان کافروں کو جو کچھ دیا ہے یا اس میں سے ان معبودوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کی صحیح حقیقت کو یہ جانتے بھی نہیں ، خدا کی قسم جو افترا پردازیاں تم کر رہے ہو ان کے متعلق تم سے ضرور باز پرس کی جائے گی

56 ۔ اور ہم نے ان دین حق کے منکروں کو جو کچھ دیا ہے یہ منکر اس میں سے ان معبودان باطل کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کا ان کو صحیح علم بھی نہیں ۔ خدا کی قسم تم جو افترا پردازیاں کر رہے ہو قیامت میں تم سے ان کی ضرور باز پرس ہوگی ۔ یعنی جن معبود ان باطلہ کی حقیقت سے بیخبر ہیں نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل اور سند ہے اور باوجود اس بےعلمی کے خدا کے دیئے میں سے ان کا حصہ تجویز کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ان کو فرمایا جو اپنے کھیت میں مواشی میں تجارت میں اللہ کے سوائے کسی کی نیاز ٹھہراتے ہیں سب مال اللہ کا ہے اور کسی کا حق نہیں مگر اللہ کی راہ میں دے اپنے ثواب کو پھر اپنے بدلے ثواب کسی کو دلوا دے۔ 12
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور یہ کافر اللہ کے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں وہ ہر عیب سے پاک ہے اور اپنے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جو انکو پسند ہے

57 ۔ اور یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں وہ جملہ عیوب سے منزہ ہے اور اپنے لئے وہ تجویز کرتے ہیں جسکو دل چاہے ۔ یعنی معاذ اللہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں اور اسکے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے لئے چاہتی چیز کی خواہش کرتے ہیں یہ کس قدر بھونڈی اور مہمل بات ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے واسطے مانگتے ہیں بیٹا ۔ 12
Ayah 16:58

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

یعنی بیٹے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہو نیکی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ مارے رنج کے کالا پڑجاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے

58 ۔ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا چہرہ سیاہ اور بےرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے گستاخ ہیں کہ اس کی طرف بیٹیاں منسوب کرتے ہیں اور خود ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہوئی ہے تو مارے رنج کے دن بھر اس کا منہ بگڑا رہتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ اب کیا کرنا چاہئے۔
Ayah 16:59

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اور اس چیز کی ننگ و عار سے جس کی اس کو خبر دی گئی تھی قوم سے چھپتاپھرے کہ آیا اس لڑکی کو ذلت گوارا کر کے رہنے دے یا اس کو مٹی میں چھپا دے آگاہ ہو وہ فیصلہ بہت ہی برا ہے جو یہ کر رہے ہیں

59 ۔ جس چیز کی ولادت کی اس کو خبر دی گئی تھی اس کی برائی اور اس کی عار سے لوگوں سے چھپتا پھرے کہ آیا اس لڑکی کو ذلت گوارہ کرتے ہوئے روکے رکھے یا اس کو مٹی میں دبا دے اور چھپا کی خبر ملی تھی اور جس کے باعث معمول و مکظوم تھا اور شرمندگی کے مارے قوم سے چھپا چھپا پھرتا تھا اسی کی بابت یہ سوچتا ہے یا تو قوم میں رسوا اور ذلیل ہو کر بیٹی کی پرورش کرے یا اس کو قتل کرے یا زندہ ہی کو زمین میں دبا دے اور زندہ درگور کر دے خود تو بیٹیوں سے اس قدر نفرت اور اللہ تعالیٰ جل شانہ ٗ کے ساتھ اولاد کی نسبت کریں اور وہ اولاد بھی بیٹیاں ہوں اس سے بڑھ کر اور کیا احمقانہ تجویز اور برا فیصلہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی بری مثال ہے اور اللہ کے لئے بلند ترین صفات ثابت ہیں اور وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے

60 ۔ جو لوگ آخرت پر ایمان اور یقین نہیں رکھتے ان کی بری مثال اور بری حالت ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بلند ترین اور بڑے اعلیٰ درجے کی صفات ثابت ہیں اور وہ بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی منکرین کی دنیا اور آخرت میں بری حالت ہے ۔ یہاں بیوقوفی اور جہالت میں مبتلا اور وہاں عذاب میں مبتلا ، اللہ تعالیٰ کی یہ لوگ جو صفات بیان کرتے ہیں وہ ان سے بہت بلند صفات کا مالک ہے زبردست کے ساتھ چونکہ کمال حکمت کا مالک ہے بمقتضائے حکمت ان کی جلدی گرفت نہیں کرتا۔ فائدے بجائے ننگ و عار کے۔ بعض مفسرین نے ایمس کہ علی ھون کی تفسیر اس طرح بھی کی ہے کہ اس لڑکی کو ذلت کے ساتھ زندہ کھے یا مٹی میں دبا دے یعنی لڑکی کو زندہ رکھے مگر اس کے ساتھ ذلت آمیز برتائو کرے مکہ کے کافروں میں لڑکی کے ساتھ ہی ذلت آمیز برتائو تھا۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑنے لگے تو روئے زمین پر کسی حرکت کرنے والے کو باقی نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وہ وقت مقرر ہ آجائے گا تو وہ گھڑی پھر نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے

61 ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے پکڑنے لگے تو روئے زمین پر کسی چلنے والے اور حرکت کرنیوالے کو نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ اور وقت موعود تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وہ وقت آجائے گا تو وہ اس وقت مقررہ سے نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکیں گے اور نہ گھڑ ی بھر اس وقت مقررہ سے آگے بڑھ سکیں گے۔ یعنی جب عذاب آئے تو سب ہی ہلاک ہوں مگر جو وقت گرفت کا مقرر ہے اس سے پہلے در گزر فرماتے رہتے ہیں جس زمانے میں جیسے گناہ بڑھتے ہیں اسی طرح کا عذاب بھی شدید ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لوگوں کو سزا دے تو مینہ بند کرے اس میں جانور بھی مریں۔
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور اس کے باوجود ان کی زبانیں یہ جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں کہ ہر قسم کی بھلائی انہی کے لئے ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ ان کیلئے جہنم کی آگ ہے اور یہ اس میں سب سے پہلے بھیجے جائیں گے

62 ۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور اور وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو اپنا جی نہ چاہے اور جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور اس پر ان کی زبانیں یہ جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں اور جھوٹی جھوٹی باتیں بنائیں ہیں کہ ان کے لئے ہر طرح کی خوبی اور بھلائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ ان کے لئے بھلائی کہاں رکھی ہے ان کے لئے تو قیامت میں جہنم ہے اور بلا شبہ یہ اس میں سب سے پہلے بڑھائے جائیں گے۔ یعنی ایسی تو باتیں کرتے ہیں کہ بیٹی کو خود پسند نہ کریں اور خدا پر بیٹیوں کا الزام لگائیں سڑ ی گلی چیزیں اور باسی روٹی خدا کی راہ میں دیں پھر یہ توقع کریں کہ اگر قیامت آئی تو ہم کو وہاں بھی بھلائی ملے یعنی قیامت کا یقین تو ہے نہیں اور اگر وہ عالم واقع بھی ہوا تو وہاں بھی ہم کو مزے اور بھلائیاں ہوں گی۔ اس کا جواب فرمایا کہ اس دنیا پر اس عالم کو قیاس نہ کرو وہاں تو تمہارے لئے جہنم ہے اور اسی کی طرف بڑھائے جائو گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ان کو فرمایا جو ناکاری چیز اللہ کے نام دیں اس پر یقین کریں کہ ہم کو بہشت ملے گی اور دے روز بروز دوزخ میں بڑھتے ہیں۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ دوزخ سے قریب ہو رہے ہیں ۔ مفرطون کے معنی کئی طرح کئے گئے ہیں ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں ظاہر کردیا ہے۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

اے پیغمبر ! خدا کی قسم ہم نے ان قوموں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے تھے جو آپ سے پہلے تھیں پھر شیطان نے ان کے اعمال ان کو خوش نما کر کے دکھائے پس وہی شیطان آج بھی ان کا رفیق ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

63 ۔ اور اے پیغمبر ! اللہ تعالیٰ کی قسم ہم نے ان قوموں کی جانب بھی رسول بھیجے تھے جو آپ سے پہلے ہوچکی ہیں پھر شیطان نے ان لوگوں کو ان کے اعمال قبیحہ کو خوف آراستہ اور خوش منظر کر کے دکھایا وہی شیطان آج بھی ان کا رفیق اور سرپرست بنا ہوا ہے اور ان کے لئے قیامت میں درد ناک عذاب مقرر ہے ۔ یعنی مختلف امتوں کی طرف رسولوں کا آنا پہلے ہی سے جاری ہے پھر جس چیز نے ان کو گمراہ کیا اور کفر پر قائم رکھا وہی شیطان ان کفار مکہ کو بھی گمراہ اور تباہ و برباد کررہا ہے دنیا میں تویوں نقصان پہنچا رہا ہے کہ کفر کی باتیں ان کو مستحسن اور خوش نما کر کے دکھا رہا ہے اور آخر میں یوں تباہی ہوگی کہ ان کے لئے سخت درد ناک عذاب مقرر ہے۔
Ayah 16:64

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ہم نے یہ قرآن آپ پر صرف اس غرض سے نازل کیا ہے کہ جن امور میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں آپ ان کی حقیقت اچھی طرح ان پر ظاہر کریں اور نیز اس غرض سے کہ یہ قرآن اہل ایمان کے لئے موجب ہدایت و رحمت ہو

64 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے یہ کتاب یعنی قرآن کریم آپ پر صرف اس لئے اتارا ہے کہ جن باتوں میں اور جن امور میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں آپ عام لوگوں کے لئے اس کی حقیقت واضح کردیں اور صاف طور سے بیان کردیں اور اہل ایمان اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے یہ قرآن کریم سبب ہدایت اور سبب رحمت ہو۔ یعنی یوں تو اخلاقی امور مثلاً حلال حرام توحید ، شرک وغیرہ کی حقیقت اس قرآن کریم کے ذریعہ سب پر واضح کردیں یہ تو عام اث رہے اس قرآن کریم کا ۔ رہے مومن تو ان کی خاص ہدایت و رحمت کیلئے نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت حاصل کرتا ہے اس کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کردیا بلا شبہ اس بات میں ان لوگوں کے لئے بڑی دلیل ہے جو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں

65 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرنے اور خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیا بلا شبہ اس زمین کو مرے پیچھے زندہ کرنے میں ان لوگوں کے لڑے بڑی دلیل ہے جو توجہ اور دل کے ساتھ ان باتوں کو سنتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی طرح قرآن کریم جاہلوں کو عالم کرے گا اگر دل سے سنیں گے۔ 12 زمین کا مرنیکے بعد زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پانی برسنے کے بعد زمین میں پھر نمو کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور یقینا تمہارے لئے چوپایوں میں بھی غور کرنے کا مقام ہے وہ یہ کہ ہم تم کو اس گوبر اور خون کے درمیان سے جو ان کے پیٹوں میں ہوتا ہے ایسا خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے

66 ۔ آگے اور دلائل توحید وقدرت بیان فرماتے ہیں اور بلا شبہ تمہارے لئے چو پاپوں میں بھی غور و فکر کرنے اور سمجھنے کا مقام ہے وہ یہ ہے کہ ہم تم کو اس گوبر اور خون کے درمیان سے جو ان کے پیٹوں میں ہوتا ہے ایسا خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار اور خلق میں آسانی سے اترنے والا ہے۔ یعنی چوپاپوں کے پیٹ میں خون بھی ہے اور گوبر بھی ہے چو پائے غذا کو ہضم کرلیتے ہیں تو غذا میں سے خون بنتا ہے پھر اس خون میں سے صاف ستھرا دودھ تھنوں میں پہنچا دیا جاتا ہے جس کو تم دوہ لیتے ہو اور یہ سب باتیں چوپایوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں اور اس طرح ہوتی ہیں کہ دودھ میں گوبر اور خون ملنے نہیں پاتا اور یہ خوشگوار دودھ کسی اور طرح حاصل بھی نہیں ہوسکتا ۔ جو یہ سب نعمتیں مہیا کرتا ہے وہی تو قابل پرستش معبود ہے۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھل قابل غور ہیں جن سے تم نشے کی چیزیں بناتے ہو اور ان پھلوں سے عمدہ روزی بھی حاصل کرتے ہو ، بیشک ان چیزوں میں اہل عقل و دانش کیلئے بڑی دلیل ہے

67 ۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں کی کیفیت اور حالت میں بھی غور کرنا چاہئے جن سے نشہ کی چیزیں بناتے اور عمدہ ورزی حاصل کرتے ہو ۔ بلا شبہ اس بات میں ان لوگوں کے لئے توحید اور انعامات خداوندی کی بڑی دلیل ہے جو صحیح عقل رکھتے ہیں ۔ یعنی کھجور اور انگور کے پھل بھی قابل عبرت اور لائق غور ہیں انگور سے شراب بناتے ہو اور پھلوں سے رزق کا کام لینا تو ظاہر ہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے منعم حقیقی ہونے پر اہل عقل کے لئے دلیل ہے۔ یہ آیت مکی ہے اس وقت تک شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی پھر بھی رزق کے ساتھ حسن کی قید لگائی تا کہ معلوم ہو کہ پھلوں سے مقصود روزی کا حاصل کرنا ہے اور وہ ایک عمدہ روزی ہے۔
Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آپ کے رب نے شہد کی مکھی کو یہ بات سکھائی کہ تو پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان ٹیٹوں میں جو بیل چڑھانے کو لوگ لگاتے ہیں گھر بنا

68 ۔ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کے رب نے شہد کی مکھی کو یہ بات سکھائی اور اس کے جی میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان ٹیٹوں میں جو بیل کے چڑھانے اور پھلانے کو لگاتے ہیں اپنا گھر بنا اور چھتہ لگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں انگوری کی بیل چڑھانے کو ۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ شہید کی مکھی کو اس کام کے لئے مسخر کردیا چناچہ عام طور سے شہد کی مکھیاں ایسے ہی مقامات پر چھتہ بناتی ہیں۔
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر قسم کی پھلوں سے غذا حاصل کر اور واپس آنے کے لئے اپنے رب کے آسان اور سہل راستوں پر ہولے ان کھیوں کے پیٹ میں سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس شہد میں لوگوں کے لئے شفا ہے ، بلا شبہ اس چیز میں ان لوگوں کے لئے بڑی دلیل ہے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

69 ۔ پھر ہر قسم کا پھلوں کو چوستی اور کھاتی پھر اور ان پھلوں سے جو تیرے لئے پسندیدہ ہوں غذا حاصل کر اور اپنے چھتے کی طرف واپس آنے کے لئے اپنے رب کے راستوں پر مطلع و منقادبن کر چلی آ اور آسان اور سہل راستے اختیار کر ان مکھیوں کے پیٹوں میں سے پینے کی چیز نکلتی ہے یعنی شہد جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس سے مرض اچھے ہوتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے ۔ اس چیز میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے انعامات کی بڑی دلیل ہے جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ یعنی مکھیوں کو شہدجمع کرنے کا طریقہ سکھایا اور چھتہ بنایا بتایا جس کا ہر خانہ ایک مسدس اور متساوی الاضلاع ہوتا ہے اور اس میں کوئی فرجہ نہیں ہوتا۔ شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس شہد میں بہت سے لوگوں کی بیماریوں کی دوا ہے مکھی کو پھل اور پھول سے غذا حاصل کرنے کا سامان عطا فرمایا راستے سہل اور آسان کئے دور دور نکل جاتی ہے اور پھر واپس چھتے میں آجاتی ہے چھتہ میں ان کا ایک سردار ہوتا ہے جس کی سب مکھیاں مطیع ہوتی ہیں پہرہ دار مقرر ہوتے ہیں جو ہر آنیوالی مکھی کو جانچتے ہیں اور یہ معلوم کرتے ہیں کہ شہد بنانے کا مادہ کہاں سے حاصل کیا ہے۔ غرض ایک عجیب کا رخانہ ہے جو تحقیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے یہ نظام کس طرح قائم کیا ہے۔ جہاں عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تین پتے بتائے برے میں سے بھلا نکلنے کے جانور کے پیٹ میں سے دودھ اور انشا کے انگور کھجور سے روزی پاک اور مکھی کے پیٹ سے شہد یعنی اس قرآن سے جاہلوں کی اولاد عالم نکلے گی حضرت ؐ کے وقت یہی ہوا کافروں کی اولاد کامل ہوئی۔ 12
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے پھر وہی تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے ، اور بعض تم میں سے وہ ہے جو نکمی اور ناکارہ عمر تک پہنچایا جاتا ہے جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ سب کچھ جاننے کے بعد انجان ہوجاتا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال قدرت کا مالک ہے ،

70 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو پیدا کیا ہے پھر وہی مقررہ عمر پوری ہونے کے بعد تم کو قبض کرلیتا ہے اور بعض تم میں سے وہ ہے جس کو نکمی اور ناکارہ عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ سب کچھ سننے اور سمجھنے کے بعد انجان ونادان ہوجاتا ہے اور کچھ نہیں سمجھتا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور کمال قدرت کا مالک ہے۔ یعنی بعض تو جلدی مرجاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخری حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ سمجھدار ہوتے ہوئے آخری میں بھولا اور انجان بن جاتا ہے اور کسی شے کو نہیں سمجھتا اور بالکل بچہ بن جاتا ہے۔ ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس امت میں کامل ہونے کے بعد پھر ناقص ہونے لگیں گے۔ 12
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں برتری د ی ہے سو وہ لوگ جو برتری دیئے گئے ہیں وہ اپنے غلاموں کو اپنی دولت اس طور پر کبھی دینے کے لئے آمادہ نہیں کہ وہ ان کے غلام سب اس مال میں مساوی ہوجائیں کیا پھر بھی یہ لوگ خدا کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں

71 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے بعض کو بعض پر روزی میں فضلیت اور زیادتی عطا کی ہے پھر جن لوگوں کو روزی میں برتری اور زیادتی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اور دولت اپنے غلاموں کو اس طریقہ پر کبھی دینے کو آمادہ اور تیار نہیں کہ وہ ان کے غلام سب اس دولت میں مساوی ہوجائیں کیا پھر بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ منکر انہ برتائو کرتے رہیں گے۔ یعنی روزی اور دولت کا فرق نمایاں ہے پھر کوئی دولت مند اس پر آمادہ نہیں کہ وہ اپنی دولت میں اپنے لونڈی غلاموں کو اس طرح شریک کرلے کر آقا اور غلام اس دولت میں مساوی اور برابر شریک ہوجائیں ۔ کیا اس بات کو سمجھنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا انکار کرتے ہو اپنی دولت میں کسی کو شریک کرنا پسند نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے انعامات میں منفرد اور یکتا ہے اس کی الوہیت میں اس کے مملوکوں کو شریک کرو اور اپنی دولت میں اپنے اپنے مملوکوں کو شریک کرنے سے کترائو ، یہی تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا انکار اور نا سپاسی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب کسی کا غلام اس کا کھانا پکا لاوے گرمی دھوپ آپ اٹھاوے اور تحفہ مال اس کو پہنچا وے تو لازم ہے کہ اسکو ساتھ بٹھا کر کھلاوے۔ نہ ہو سکے تو ایک دونوالے ہاتھ میں رکھ دے۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تمہاری جنس سے تمہاری بیویوں کو پیدا کیا اور ان بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور پاکیزہ چیزیں تمہیں کھانے کے لئے دیں کیا اس پر بھی یہ لوگ بےبنیاد چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں

72 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے بیویوں اور جوڑوں کو پیدا کیا اور ان بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تم کو ستھری اور پاکیزہ اور اچھی اچھی چیزوں سے روزی دی کیا یہ سب کچھ سن کر اور دیکھ کر پھر بھی یہ لوگ باطل اور بےبنیاد باتوں پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی نا شکری اور بےقدری کرتے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہاری بقائے نوعی کیلئے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں ۔ حضرت آدم سے حوا کو پیدا کیا پھر آگے تو الدہ تناسل کا سلسلہ شروع کردیا پھر تمہاری بقا نوعی کے لئے تم کو ان عورتوں سے بیٹے اور پوتے دیئے پھر اچھی اچھی چیزوں سے رزق دیا کہ یہ بقائے شخصی ہے ان احسانات کے باوجود تم باطل پر اور بتوں پر ایمان رکھتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفران نعمت کرتے ہو اور کفران نعمت کی تفسیر اگلی آیت میں مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بتوں کا احسان مانتے ہیں کہ بیماری سے چنگا کیا بیٹا دیا یا روزی دی اور یہ سب جھوٹ وہ جو سچ کردینے والا ہے اس کے شکر گزار نہیں ۔ 12
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو آسمانوں میں سے کچھ رز ق دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین سے اور نہ اختیار حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں

73 ۔ اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان معبود ان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو آسمانوں میں سے کچھ رزق دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین سے اور نہ اختیار حاصل کرنے کی قدرت و طاقت رکھتے ہیں یعنی نہ ان کو کوئی اختیار ہے نہ آئندہ اختیار حاصل کرنے کی طاقت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نہ آسمان سے مینہ برسادیں نہ زمین سے اناج نکالیں ۔ 12
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس تم اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ گھڑا کرو ، یقینا اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

74 ۔ سو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ گھڑا کر اور اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ بیان کیا کرو بلا شبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم صحیح مثال بیان کرنا نہیں جانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مشرک کہتے ہیں کہ مالک اللہ ہی ہے یہ لوگ اس کی سرکار میں مختار میں اس واسطے ان کو پوجیے سو یہ غلط مثال ہے اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے کسی پر سپرد نہیں کر رکھا اور اگر صحیح مثال چاہوتو آگے دو مثالیں فرمائیں۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ اس قسم کی مثالیں دنیوی بادشاہوں کے لئے تو زیب دیتی ہیں کہ اس کے مشیر اور نائب وغیرہ ہوتے ہیں لوگ ان سے کہتے ہیں وہ بادشاہ سے کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو مالک الملک ہے وہ اس قسم کی مثالوں سے بلند وبالا تر ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے کہ فرض کرو ایک غلام کسی کو مملوک ہے جو کسی چیز کا اختیار نہیں کھتا اور ایک دوسرا وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی ہے اور وہ اس روزی میں سے علانیہ اور پوشیدہ آزادی کے ساتھ خرچ کرنا ہے کیا اس قسم کے آدمی کہیں آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ، سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اصل واقعہ یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

75 ۔ اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ فرض کرو ایک غلام ایسا ہے جو کسی کا مملوک ہے جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی ہے اور وہ اس روزی میں سے پوشیدہ اور علانیہ آزادی کے ساتھ خرچ کرتا ہے تو کیا اس قسم کے افراد آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کو لائق ہیں ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے بکثرت لوگ بےعلم اور جاہل ہیں ۔ یعنی ایک شخص کسی کا مملوک جو کسی قسم کا مال نہیں رکھتا اور تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج اور دوسرا مالک کہ اللہ نے اس کو اچھی خوب روزی دے رکھی ہے جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے تو اس قسم کے افراد ایک با اختیار دوسرا بےاختیار بھلا کہیں برابر ہوسکتے ہیں ۔ جب مالک مجازی مساوی نہیں تو مالک حقیقی اور مملوک حقیقی کسی طرح مساوی ہوسکتے ہیں اور جب مساوی نہیں تو عبادت میں شرکت کیسی۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے لائق و سزا وار ہیں ان مشرکوں میں اکثریت علم سے بےبہرہ لوگوں کی ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ مالک ہر چیز کا جس کو جو چاہے سو دے اور بت مالک نہیں کسی چیز کا بلکہ آپ پر ایا مال ۔ 12
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان کرتا ہے کہ فرض کرو دو شخص ہیں ایک تو ان میں سے گونگا ہے جو کسی کام پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے آقا پر ایک بار گراں ہے کہ جہاں کہیں وہ آقا اس کو بھیجتا ہے وہ کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا کیا یہ گونگا غلام اور وہ شخص برابر ہوسکتا ہے جو لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہے اور خود بھی سیدھی راہ پر گامزن ہے

76 ۔ اور اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ فرض کرو دو شخص ہیں ایک تو ان میں سے گونگا ہے اور وہ کوئی کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ اور بارگراں ہے جہاں کہیں اس کا آقا اور مولا بھیجتا ہے تو وہ گونگا کوئی بھلائی لیکر نہیں آتا اور کوئی کام درست کر کے نہیں لاتا تو کیا یہ گونگا ملازم اور وہ شخص برابر ہوسکتا ہے جو لوگوں کو انصاف اور اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہو اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہو ۔ یعنی ایک غلام گونگا اندھا بہرا کوئی کام نہ کرسکے جہاں اس کا آقا بھیجے وہاں سے کوئی کام درست کرکے نہ لائے آقا پر ایک بار ہو اس کے مقابلے میں ایک وہ شخص جو لوگوں کو اعتدال و انصاف کی باتیں سکھاتا ہو اور خود بھی سیدھی اور معتدل راہ پر قائم ہو جب اس قسم کے دو انسان برابر نہیں تو خالق و مخلوق میں برابری اور مساوات کہاں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خدا کے دو بندے ایک بہت نکمانہ ہل سکے نہ چل سکے جیسے گونگا غلام دوسرا رسول جو اللہ کی راہ بتادے ہزاروں کو اور آپ بندگی پر قائم رہے اس کے تابع بہتر یا اس کے ۔ 12
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے تمام پوشیدہ امور کا علم اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے اور قیامت کا معاملہ تو بس ایک پلک جھپکنے کی بات ہے یا اس سے بھی قریب تر یقینا اللہ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے

77 ۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ آسمانوں اور زمین کے تمام پوشیدہ امور خاص ہیں اور اسی کے پاس تما م آسمانوں اور زمین کے بھید ہیں اور قیامت کا کام اور قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا یا اس سے بھی قریب تر بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ پلک جھپکنا بہر حال زمانی ہے اور ارادہ کا تعلق آنی ہے یا تو قیامت مراد ہے یا مردوں کا زندہ ہونا ۔ چونکہ امور پوشیدہ اسی کے لئے خاص ہیں اسی لئے وقوع قیامت کا علم بھی اسی کو ہے۔ ان الساعۃ ایتہ اکا دا اخفیھا التجزی
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹ سے اس حال میں نکالا کہ تم اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اسی نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے تا کہ تم اس کے احسان کا شکر بجا لائو

78 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں میں سے اس حال میں نکالا کہ تم اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اس نے تم کو کان دیئے اور آنکھیں اور دل عطا کئے تا کہ تم شکر بجا لائو اور اس کا شکر کرو۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ان پرندوں کے حال پر غور نہیں کیا جو فضائے آسمانی میں مسخر ہوتے ہیں ان کو گرنے سے سوائے خدا کے اور کوئی نہیں روکتا اس امر مذکور میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو لوگ اہل ایمان ہیں

79 ۔ کیا ان لوگوں نے ان پرندوں کے حال پر غور نہیں کیا جو فضائے آسمانی میں مسخر ہوتے ہیں ان پرندوں کو اس جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی روکتا نہیں اس امر مذکور ہیں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ۔ یعنی جسم ثقیل کا تقاضا ہے کہ پرندے زمین پر گرپڑیں لیکن قدرت نے ان کی ساخت اس طرح رکھی ہے کہ وہ ہوا میں اڑتے ہیں اور گرتے نہیں اس میں بھی اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لانے میں بعض اٹکتے ہیں معاش کی فکر سے سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا ، اسباب کمائی کے ، آنکھ کان دل اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھر میں کس کے سہارے رہتے ہیں ۔ 12
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اورب اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے رہنے سہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لئے گھر یعنی ڈیرے خیمے بنائے کہ تم ان کو سفر میں کوچ کرتے اور مقام کرتے وقت اٹھانے لگانے میں ہلکا پاتے ہو اسی نے بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی اون سے اور بکریوں کے بالوں سے ایک مدت تک کیلئے

80 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھروں اور مکانوں کو تمہارے رہنے سہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چو پایوں کی کھالوں سے ڈیرے اور خیموں کے گھر بنائے جن کو تم سفر میں کوچ کرتے اور مقام کرتے وقت ہلکا محسوس کرتے ہو اور ان چمڑے کے گھروں کو اکھیڑنے اور لگانے میں ہلکا پاتے ہو اور اس نے بھیڑ کی اون اور اونٹ کی بیریوں اور پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے گھر کا سامان اور برتنے کی چیزیں ایک مدت کیلئے بنائیں ۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ اپنے احسانات اپنے بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تم کو بسنے کے لئے اور رہنے کے لئے مکانات دیئے تم کو مکان بنانے کے طریقے تعلیم کئے مکان بنانے کا سامان تمہارے لئے مہیا کیا پھر جانوروں کی کھالوں سے تم کو سفر میں ڈیرے خیمے بنادیئے کہ جہاں ٹھہرتے ہو وہاں آسانی سے مکان بنا لیتے ہیں اور جب کوچ کرتے ہو تو ان کو اکھیڑ کر سامان میں رکھ لیتے ہو اس کے علاوہ جانوروں کی اون سے گھروں ا بہت سا سامان اور فائدے کی چیزیں تیار کرتے ہو اور ایک مدت تک ان سے فائدہ اٹھاتے ہو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اون بھیڑ کے پشم اور بیریاں اونٹ کے پشم ۔ 12