15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الر قف یہ سورت ایک امل کتاب اور قرآن واضح کی آیتیں ہیں

1 ۔ الر قف یہ سورت ایک کامل کتاب اور قرآن واضح کی آیتیں ہیں ۔ قرآن کریم واضح فرمایا کتاب کو یعنی اس کے مسائل اور دلائل اور اس کا طرز بیان نہایت صاف اور واضح ہے اور جو کتاب کامل ہے اسی کا نام قرآن مبین ہے۔ ایک ہی چیز کی دو صفتیں ہیں کتاب کامل ہونا اور قرآن مبین ہونا ۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

بس اوقات کافر اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے

2 ۔ بسا اوقات کافر اس بات کی آرزو اور تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے اور اسلام قبول کرلیتے ۔ یعنی باربار یہ آرزو کریں گے کہ وہ دنیا میں مسلمان ہوگئے ہوتے کیونکہ جب عذاب میں شدت ہوگی اور مسلمانوں کو عذاب سے محفوظ اور جنت میں دیکھیں گے اور اپنے آپ کو انواع و اقسا م کے عذاب میں مبتلا پائیں گے اور اس عذاب میں تخفیف دیکھنا نصیب نہ ہوگا تب ہی ایمان نہ لانے پر حسرت ہوگی اور بار بار یہ تمنا ہوگی کہ کیا اچھا ہوتا جو وہ بھی دنیا میں اسلام قبول کرلیتے اگرچہ وہاں بھی اپنے ایمان کا اعلان کریں گے لیکن وہ بیکار ہوگا ۔ وانی لھم التناوش من مکان بعید۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑیئے کہ وہکھالیں اور دنیا کا کچھ فائدہ حاصل کرلیں اور خیالی امید ان کو الجھائے رکھے اب عنقریب ان کو معلوم ہوجائیگا

3 ۔ اے پیغمبر ! آپ ان کے حال پر چھوڑ دیجئے تا کہ خوب کھائیں اور دنیا کا چند روزہ فائدہ حاصل کریں اور ان کو ان کی خیالی امید الجھائے رکھے ان کو تھوڑے ہی دنوں میں سب حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے اور عنقریب ان کو معلوم ہوا جاتا ہے۔ یعنی یہ لوگ چونکہ آخرت سے غافل ہیں اور ہدایت قبول نہ کرنے میں انتہائی سخت ہیں اس لئے ان کو ان کے حال پر چھوڑیئے یہ خوب کھا پی لیں اور دنیا کے عارضی منافع حاصل کرلیں اور یہاں کے ساز و سامان برت لیں اور محض خیالی لمبی لمبی امیدیں ان کو مشغول رکھیں اور انہیں لغو اور بےمنی امیدوں میں الجھے رہیں پھر بچ کر کہاں جائیں گے دم نکلتے ہی حق و باطل ان پر آشکارا ہوجائے گا اور ان کو کفر و شرک کی حقیقت معلوم ہو جائیگی۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کی تباہی کا مقررہ وقت لکھا ہوا تھا

4 ۔ اور ہم نے کسی بستی کو برباد و ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کی ہلاکت و بربادی کا ایک وقت مقرر لکھا ہوا تھا۔ یعنی کفر کی وجہ سے جو آبادیاں ہلاک و برباد کی گئیں ان کی بربادی کا ایک مقررہ وقت علم الٰہی میں لکھا ہوا تھا اس لئے کافروں کو جو مہلت ملی ہوئی ہے اس پر مغرور نہ ہوں ، اور مسلمان نہ اندیشہ نہ کریں کہ ان پر عذاب میں جلدی کیوں نہیں کی جاتی کیونکہ جس طرح اور بستیوں پر لکھے ہوئے وقت رہی عذاب آیا اسی طرح ان پر بھی لکھے ہوئے مقررہ وقت پر عذب نازل ہوگا ۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے نہ سبقت کرسکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

5 ۔ کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ اس کے افراد پیچھے رہ سکتے ہیں ۔ یعنی مقررہ وقت سے کوئی قوم اور کوئی جماعت آگے پیچھے نہ ہوسکی لہٰذا ان کا جو وقت علم الٰہی اور حکمت الٰہی میں مقرر ہے اس وقت یہ بھی ختم کردیئے جائیں گے اور آگے بڑھنے او پیچھے سرکنے کی مجال نہ ہوگی ۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور ان کافروں نے آپ سے یوں خطاب کیا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا ہے ، بیشک تو دیوانہ ہے

6 ۔ اور کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب بنا کو یوں کہا اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور جس کا یہ دعویٰ ہے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے بیشک تو مجنون و دیوانہ ہے معاذ اللہ یعنی حضور اکرم ﷺ کو رو در رو دیوانہ کہتے ہیں اور خطاب کرتے ہیں کہ اے وہ شخص جو اپنے پر نزول قرآن کا مدعی ہے بلا شبہ تو مجنون و پاگل ہے۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا

7 ۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے کہ واقعی تو پیغمبر ہے اور تجھ پر خدا کی طرف سے قرآن نازل ہوتا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا۔ حضرت حق تعالیٰ نے اس بات کا جواب فرمایا ۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

اور ہم فرشتوں کو صرف آخری فیصلے کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں اور فرشتے آنے کے بعد ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی

8 ۔ ہم فرشتے نہیں نازل کیا کرتے مگر آخری فیصلے کے لئے اور اس وقت جبکہ فرشتے آجائیں اور ہم فرشتوں کو اتاردیں تو اس کے بعد یہ لوگ مہلت بھی نہیں دیئے جاتے ۔ یعنی فرشتے بلا کسی صحیح وجہ کے نہیں اتارے جاتے وہ تو جب کسی قوم کے متعلق آخری فیصلہ ہوجاتا تو عذاب لیکر اترتے ہیں پھر اس وت مہلت اور ڈھیل کہاں ۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ فرشتے کھلم کھلا ہمارے سامنے آئیں ۔ جواب دیا گیا کہ فرشتے تو انسانوں پر یا عذاب کے وقت اترتے ہیں یا موت کے وقت پھر اس وقت مہلت بھی نہیں ملتی۔ اس مطالبہ کا جواب قرآن کریم میں اور بھی بہت جگہ دیا گیا ہے یہ بات ان کے عناد اور لعنت سے ظاہر تھی کہ یہ فرشتوں کے آنے کے بعد ایمان نہ لاتے اور کوئی اور عذر تراش لیتے۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بلا شبہ ہم نے قرآن کو نازل کیا اور یقینا ہم ہی اس کے محافظ ہیں

9 ۔ بلا شبہ ہم نے یہ قرآن کریم نازل کیا ہے اور ہم ہی اس قرآن کریم کے محافظ اور نگہبان ہیں ۔ یعنی اس قرآن کریم میں تغیر و تبدل اور تحریف وغیرہ ہوجائے ایسا نہیں ہوسکتا قرآن کریم خود بھی اعجاز ہے کہ اس کا جواب بشر کی طاقت سے باہر ہے ۔ مزید برآں یہ ایک پیشین گوئی ہے کہ قرآن کریم ہمیشہ محفوظ رہے گا اور بیشمار سینوں میں اس کا محفوظ کردینا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی اس کا نگہبان اور محافظ ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لہ لحافظون سے محمد ﷺ کی حفاظت کا اعلان ہو جیسا کہ بعض نے اشارہ فرمایا ہے۔ بہر حال ! اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے شر سے اپنے پیغمبر کو بھی محفوظ رکھا اور قرآن کریم کی بھی حفاظت فرمائی۔
Ayah 15:10

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے گزشتہ لوگوں کے بہت سے فرقوں میں آپ سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے

10 ۔ اور یقینا ہم نے گزشتہ لوگوں کے بہت سے فرقوں اور گروہوں میں آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے۔
Ayah 15:11

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کی یہ حالت تھی کہ کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیاجس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو

1 1 ۔ اور ان فرقوں کی حالت یہ تھی کہ رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس کے ساتھ استہزاء کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ یعنی ان آیتوں میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی شان میں جو گستاخی اور دریدہ دہنی یہ کفار کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہمیشہ منکرین دین حق کا یہی شیوہ رہا ہے اور جس طرح سابقہ انبیاء نے صبر و تحمل سے کام لیا ہے اور کامیابی حاصل کی ہے یہی طرز آپ کو بھی اختیار کرنا چاہئے اور ان کی بیہودگیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے آخر میں کامیابی آپ ہی کو حاصل ہونے والی ہے۔
Ayah 15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ہم اسی طرح یعنی گزشتہ لوگوں کی طرح یہ استہزاء ان مجرموں کے قلوب میں ڈال دیتے ہیں

12 ۔ جس طرح ہم نے گزشتہ منکروں کے قلوب میں استہزاء اور تکذیب کو داخل کردیا تھا اسی طرح ہم ان مجرموں کے قلوب میں بھی کفر و ضلال استہزاء اور تکذیب کو داخل کردیتے ہیں۔
Ayah 15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

جس کی وجہ سے یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ طریقہ پہلوں ہی سے ہوتا چلا آیا ہے

13 ۔ اس لئے یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ طریقہ پہلے ہی لوگوں سے ہوتا چلا آتا ہے اور یہ رسم پہلوں سے ہی ہوتی آئی ہے۔ یعنی جرائم پر اصرار کی وجہ سے ان پر یہ نحوست مسلط ہوجاتی ہے اور کفر و ضلال ان پر مسلط ہوجاتا ہے نیک باتوں کے ساتھ ساتھ کفر و انکار بھی دل میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ طریقہ جو پہلوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے یہی سلوک مکہ کے مجرموں کے ساتھ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اور قرآن کریم کو نہیں مانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ قرآن کسی کے دل میں حق تعالیٰ اسی طرح سناتا ہے کہ ساتھ اس کے انکار چلا آوے نیک راہی اور گمراہی اس کے اختیار ہے۔ 12
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ دن کے وقت اس دورازے سے آسمان پر بھی چڑھ جائیں

14 ۔ ان کے انکار وعناد کی تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور اس دروازے میں سے یہ دن کے وقت آسمان پر بھی چڑھ جائیں۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تب بھی یہ یوں کہیں گے سوائے اسکے نہیں کہ ہماری دید بندی کردی گئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگوں پر جادو کردیا گیا ہے

15 ۔ تب بھی یہ لوگ یوں کہیں گے کہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہماری نظر بندی کردی گئی ہے اور ہماری کی تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ اگر ہم ان پر آسمان کے دروازوں میں سے کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ دن میں جو ہوشیاری اور جاگنے کا وقت ہوتا ہے اور خواب کا گمان نہیں ہوتا اس دروازے میں سے آسمان پر بھی چڑھنے لگیں تب بھی بدبخت یہی کہیں گے کہ ہم آسمان پر چڑھ نہیں رہے بلکہ ہمیں ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ ہم آسمان پر چڑھ رہے ہیں اور در حقیقت چڑھ نہیں رہے بلکہ ہم لوگوں کو تو سحر زدہ بنادیا گیا ہے اور سحر زدہ ہونے کی وجہ سے ہم کو واقعہ کے خلاف معلوم ہو رہا ہے ۔ ابتداء میں نظر بندی کہیں اور پھر پوری طرح جادو اور سحر زدہ ہونے کا قول کریں۔
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے پیدا کئے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے ہم نے آسمان کو آراستہ کیا

16 ۔ اور بلا شبہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا اور خوش نما بنایا ۔ ہم نے مجاہد کے قول کے مطابق ترجمہ کیا ہے انہی ستاروں کی ہیبت سے پیدا شدہ شکل کو برج کہتے ہیں ۔ بعض نے برج کا ترجمہ محل کے ساتھ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ بندوں سے وہ خطاب کرتا ہے جو یہ سمجھیں ان کے عرف میں آسمان مشر ق سے مغرب تک اور مغرب سے مشرق تک بارا پھانک ہے جیسے خربوزہ دہی بارہ برج ہیں اور سورج برس دن سب طے کرتا ہے موسم گرمی سردی کا اس سے بدلتا ہے اور گرمی سے مینہ آتا ہے اور مینہ سے دنیا بستی ہے اور رونق آسمان کی ستارے میں ۔ 12 برجوں کی تعداد بارہ ہے اور ان برجوں کے نام یہ ہیں۔ حمل ، ثور ، جوزا ، سرطان ، اسد ، سنبلہ ، میزان ، عقرب ، قوس ، جدی ، دلو ، حوت ۔
Ayah 15:17

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان مردود سے ہم نے آسمان کی حفاظت کی

17 ۔ اور ہم نے آسمان کو ہر شیطان مردود و ملعون سے محفوظ رکھا۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد شیطانوں کا آسمانوں پر جانا بند ہوا۔
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر ہاں کوئی شیطان چوری چھپے کچھ سن بھاگے تو آپ کا ایک چمکتا ہواشعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے

18 ۔ لیکن اگر کوئی شیطان کچھ چوری چھپے سن بھاگے تو ایک روشن اور چمکتا ہوا انگارہ اس کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے پیچھے لگ جاتا ہے یعنی فرشتوں کی کوئی بات چھپے چوری لے اڑا تو ایک روشن شعلہ اس کے پیچھے ہو لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجاتا ہے یا اس کا منہ جھلس جاتا ہے اور زمین میں سچ کے ساتھ جھوٹ نہیں پھیلا سکتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتوں کی مشورت سننے کو شیطان جا لگتے ہیں آسمان کے قریب اوپر سے انگارے پڑتے ہیں جو کوئی سن بھاگا اگر دنیا میں ظاہر کیا ایک سچ میں سو جھوٹ ملا کر وہ ایک بات سچ دیکھی لوگ یقین لائے سو جھوٹ دیکھے تغافل کیا ۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ شیطان نجومیوں اور کاہنوں کو خبریں لا کردیا کرتے تھے اور کاہنوں کے واسطے لوگوں کو گمراہ کرتے تھے لوگ کاہنوں کو غیب داں سمجھتے تھے۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اس کا انسداد کیا گیا اب اگر کوئی خبر رسانی کی کوشش کرتا تو آسمانی شعلے سے ہلاک کردیا جاتا ہے یا بد حواس ہوجاتا ہے۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے ہی زمین کو پھیلایا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور ہم نے زمین سے ہر چیز ایک اندازے سے اگائی

19 ۔ اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ رکھ دیئے اور ہم نے زمین میں ہر چیز ایک معین مقدر سے اگائی ۔ یعنی زمین میں ہر قسم کی نباتات کو ایک معین مقدار کے ساتھ اگایا اور ایک خاص تناسب اور حسن کے ساتھ اگایا۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں تمہاری معیشت کے سامان پیدا کئے اور ان جاندروں کو پیدا کیا جن کو تم روزی نہیں دیتے

20 ۔ اور ہم نے زمین میں تمہاری معیشت اور تمہاری روزی کے اسباب و سامان پیدا کئے اور ان چیزوں کی روزی کے بھی سامان پیدا کئے جن کو تم روزی نہیں دیتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جانوروں کی روزیاں۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ آیت کے مفسرین نے دو معنی کئے ہیں ایک یہ کہ تمہاری روزی کے اسباب پیدا کئے اور وہ چیزیں پیدا کیں جن کو تم روزی نہیں دیتے اور دوسرے معنی یہ کہ تمہارے لئے بھی اسباب معیشت زمین میں بنائے اور ان کے لئے بھی سامان معیشت بنایا جن کو تم روزی نہیں دیتے پہلے معنی ترجمہ میں اور دوسرے معنی تیسیر میں اختیار کئے ہیں دوسرے معنی زیادہ مشہور ہیں ۔ من لستم کی شرح میں یعنی دیگر حیوانات بلکہ تمام مخلوقات کو روزی عطا کرتے ہیں۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے ہاں خزانے کے خزانے موجود نہ ہوں مگر ہر شے کو ایک معین مقدار کے ساتھ نازل کیا کرتے ہیں

21 ۔ اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ اس کے خزانے کے خزانے ہمارے پاس بھرے ہوئے ہیں اور ہم ان خزانوں کو نہیں اتارتے مگر ایک معین اور مقرر مقدار کے ساتھ یعنی ہونے کو سب کچھ ہمارے پاس موجود ہے مگر زمین پر اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق ایک مقررہ مقدار سے نازل فرماتے ہیں۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی بادل کو پانی سے بھر دینے والی یعنی برساتی ہوا میں چلاتے ہیں پھر ہم ہی آسمان کی جانب سے پانی نازل کرتے ہیں اور وہ پانی تم کو پلاتے ہیں اور تم پانی کا اس قدر ذخیرہ نہیں رکھ سکتے تھے

22 ۔ اور ہم ہی ان برساتی ہوائوں کو بھیجتے ہیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر ہم ہی آسمان سے پانی اتاترے ہیں پھر اس پانی سے تم کو سیراب کرتے ہیں اور وہ پانی تم کو پلاتے ہیں اور تم اس پانی کو جمع کر کے نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔ اور تم اتنا پانی ذخیرہ بنا کر کہیں نہیں رکھ سکتے تھے ۔ یعنی برساتی ہوائیں جو بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور انکے اثر سے بادلوں میں پانی بھر جاتا ہے ان کو چلاتے ہیں ۔ پانی آسمان کی جانب سے برساتے ہیں وہی پانی تم کو پلاتے ہیں اور تم میں یہ طاقت کہاں کہ تم اتنا پانی جمع کر کے کھ سکتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگلے برس کے واسطے دنیا کے غبار اور بھاپ اوپر جمع رہتے ہیں جب بائو تر چلی بادل ہوگئے پانی کے بھرے۔ 12
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم ہی زندگی عطا کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہم ہی سب کے بعد باقی رہنے والے ہیں

23 ۔ اور یقینا ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہم ہی سب کے وارث اور سب کے بعد باقی رہنے والے ہیں ۔ یعنی جو سب کے بعد باقی رہے وہی سب کا وارث ہے۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور یقینا ہم تم میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں یعنی اگلوں کو اور پچھلوں کو

24 ۔ اور یقینا ہم تم میں آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں ۔ یعنی خواہ عمر میں یا نیک اعمال میں یا جہاد اور اسلام میں با جماعت کی صفوں میں غرض اگلوں اور پچھلوں سب سے با خبر ہیں۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور یقینا ان سب کو آپ کا رب ہی جمع کرے گا ، بیشک وہ بڑی حکمت اور بڑے علم کا مالک ہے

25 ۔ اور یقینا آپ کا پروردگار ہی ان سب کو قیامت میں اکٹھا کرلے گا اور سب کو جمع کرلے گا بیشک آپ کا پروردگار کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی جو سب اگلوں پچھلوں سے واقف ہے وہی ان سب کو میدان حشر میں جمع کرلے گا۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے انسان کو مٹی کے ایک سڑے ہوئے بدبو دار گارے سے پیدا کیا جو خشک ہونے کے بعد کھن کھن کی آواز دیتی تھی

26 ۔ اور بلا شبہ ہم نے انسان کو مٹی کے ایک ایسے سڑے ہوئے بدبو دار گارے سے پیدا کیا جو خشک ہونے کے بعد کھنکھناتی اور کھن کھن کی آواز دیتی تھی ۔ یعنی مٹی جب پک جاتی ہے تو چٹکی مارنے سے کھن کھن کی آواز دیتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے پہلے گارے سے انسان کا پتلا بنایا پھر وہ پتلا خشک ہوگیا تو اس کو درجہ بدرجہ زنی دی یہاں تک کہ اس میں روح ڈالی گئی۔ انسان سے مراد یہاں ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جان یعنی ابو الجنات کو ہم نے انسان کی پیدائش سے پہلے لو کی آگ سے پیدا کیا

27 ۔ اور جان یعنی ابو الجنات کو ہم نے انسان کی پیدائش سے پہلے گرم ہوا کی آگ سے پیدا کیا ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مٹی کو پانی میں تر کیا اور خمیر اٹھایا کہ کھن کھن بولنے لگی وہ بدن ہوا انسان کا اس کی خاصیتیں اس میں رہ گئیں سختی اور بوجھ اسی طرح گرم باد کی خاصیت رہی جن کی پیدائش میں ۔ 12 یعنی جس طرح انسان کو مٹی سے بنایا اسی طرح جنات کو آگ سے بنایا وہ آگ خالص ہونے کی وجہ سے گرم ہوا کی مانند تھی جو نظر نہ آتی تھی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لطیف آگ ہوا سے ملی ہوئی ابلیس بھی اسی قسم میں ہے۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) میں مٹی کے اجزا غالب تھے اسی طرح جنات میں آگ کے اجزا غالب ہیں۔
Ayah 15:28

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت قابل ذکر ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے بدبو دارگارے کی اس سے جو خشک ہو کر کھن کھن آواز دیتی ہوگی ایک بشر کو پیدا کرنیوالا ہوں

28 ۔ اور اے پیغمبر وہ وقت قابل ذکر ہے جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا میں سڑے ہوئے گارے کی بدبو دار مٹی سے جو خشک ہو کر کھن کھن بجتی ہوگی ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بشر وہ کہ جو جان رکھے کہ ہاتھ سے پکڑ ا جائے اور روح رکھے ہوشیار اگلی مخلوقات یا حیوان تھے جن کو ہوش نہیں یا فرشتے یا جن تھے جن کا بدن نہ پکڑا جائے۔
Ayah 15:29

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

پھر جب میں اس کو درست کر چکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا

29 ۔ پھر جب میں اس کو درست کر دوں اور اس کے اعضاء جسمانیہ کو ایک تناسب کے ساتھ پورا کر دوں اور اس پتلے میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں اور اس پر روح کا فیضان کر دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی جان یعنی خاص جس میں نمونہ ہے اللہ کی صفات کا علم اور تدبیر اور راہ حق کی اور اللہ سے لگائو۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ جب اس کو ہم تسویہ اعضاء اور نفح روح سے مکمل کردیں تب اس کے روبرو سجدے میں دفع ہوجانا۔
Ayah 15:30

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

چناچہ سارے کے سارے تمام فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا

30 ۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا تو سب کے سب تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا ۔
Ayah 15:31

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس نے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے سرتابی کی

31 ۔ مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کیا اور سر تابی کی کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو۔
Ayah 15:32

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھ کو کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں زائل نہ ہوا ،

32 ۔ اس پر حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھ کو کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ شامل نہ ہوا۔
Ayah 15:33

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

اس نے جواب دیا میں ایسا نہیں ہوں کہ اس انسان کے سامنے سجدہ کروں جس کو تونے مٹی کے ایسے سڑے ہوئے بدبو دار گارے سے بنایا ہے جو خشک ہو کر کھن کھن کی آواز دیتا ہے

33 ۔ ابلیس نے جواب دیا میں ایسا نہیں ہوں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کے ایسے سڑے ہوئے بد بودار گارے سے پیدا کیا ہے جو خشک ہوکر کھن کھن بجتا ہو۔
Ayah 15:34

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

خدا نے کہا جا نک یہاں سے بیشک تو مردود ہے

34 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جانکل یہاں سے بلا شبہ تو مردود اور راندہ ہوا ہے۔ یعنی آسمانوں سے نکل یا جنت سے نکل یا اس مرتبہ علیا سے نکل کہ تو اس مرتبہ کا مستحق نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید یہ ہی مراد ہو کہ انگارے پھینکتے ہیں اور نکالا زمین سے کہ انسان بسیں 12
Ayah 15:35

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت رہے گی

35 ۔ اور بیشک تجھ پر انصاف کے دن تک یعنی قیامت کے دن لعنت و پھٹکار ہے۔ یعنی جس پر قیامت کے دن تک لعنت رہے قیامت کے دن اس کو کسی خیر کی کیا امید ہو کستی ہے نہ مقبول ہوگا نہ توبہ کی توفیق ہوگی۔
Ayah 15:36

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

شیطان نے کہا اے میرے رب اس د ن تک مجھ کو مہلت دے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں

36 ۔ شیطان نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھ کو اس دن کے لئے مہلت دے جس دن مردے قبروں سے اٹھائے جائیں ۔ یعنی قیامت کے دن تک ۔
Ayah 15:37

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

خدا نے کہا بلا شبہ تجھ کو مہلت دی گئی

37 ۔ حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ تو مہلت دیا گیا ہے۔
Ayah 15:38

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

اس مقررہ وقت کے دن تک یعنی قیامت تک

38 ۔ مقررہ وقت کے دن تک ۔ یعنی تیری زندگی قیمت تک کردی گئی۔
Ayah 15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

اس پر اس نے کہا اے میرے رب جیسا تو نے مجھ کو اپنی رحمت سے محروم کیا ہے میں بھی زمین میں معاصی کو اولاد آدم کی نظر میں خوش نما کر کے دکھائوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا

39 ۔ اس پر ابلیس نے کہا اے میرے پروردگار جیسا تو نے مجھ کو راہ سے بےراہ کیا ہے اور مجھ کو اپنی رحمت سے دور کیا ہے میں بھی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں بھی دنیا میں اولاد آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) کی نظر میں معاصی اور شہوات کو خوش نما اور مرغوب کر کے دکھائوں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا ۔ یعنی تکوینی حکم کی بنا پر مجھ کو تو نے بےراہ کیا ہی ہے اب میں دنیا میں اس گمراہی کا انتقام آدم اور اولاد آدم سے لوں گا اور گناہوں کو ان کی نظر میں خوش نما کر دوں گا اور ان سب کو راہ سے بےراہ کر دوں گا ۔
Ayah 15:40

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر ہاں تیرے بندوں میں سے وہ بندے جو چیدہ اور مخلص ہوں گے

40 ۔ مگر ہاں اولاد آدم میں سے تیرے وہ بندے جو مخلص اور منتخب اور چیدہ ہیں وہ میر ی زد سے محفوظ رہیں گے۔