15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ ان نشانیوں سے روگردانی ہی کرتے رہے

81 ۔ اور ہم نے اپنی نشانیاں اور دلائل توحید و نبوت بھی دیئے سو وہ لوگ ان دلائل سے اعراض اور روگردانی ہی کرتے رہے۔ یعنی دلائل توحید و نبوت وغیرہ پر توجہ ہی نہیں کی۔
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ حجر والے پہاڑوں کو کاٹ کر ان پہاڑوں میں گھر بناتے تھے کہ امن و اطمینان سے رہیں

82 ۔ اور یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان پہاڑوں میں مکان بناتے تھے کہ بےخوف ہوکر امن کے ساتھ رہیں ، یعنی خارجی اثرات سے محفوظ رہیں۔
Ayah 15:83

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

پھر ان کو صبح کے وقت ایک ہولناک آواز نے آپکڑا

83 ۔ پھر ان کو صبح ہوتے ایک ہولناک آواز اور چنگھاڑنے آپکڑا ۔ یعنی صبح کے وقت یا دن کے نکل آنے کے بعد ۔
Ayah 15:84

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

سو وہ اعمال ان کے کچھ کام نہ آئے جو وہ کیا کرتے تھے

84 ۔ سورة اعمال اور ان کی کاریگری جو وہ مکان بنانے میں کیا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئی۔ یعنی چنگھاڑ کو پہاڑ کیا روکتے سب کو برابرکر دیا گیا اور وہ ان کا ہنر عذاب الٰہی کو نہ روک سکا۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کو بغیر حکمت کے نہیں پیدا کیا اور یقینا قیامت ضرور آنے والی ہے سو آپ خوبی کے ساتھ ان کافروں کو در گزر کیجئے

85 ۔ اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ اس کے مابین ہے بغیر کسی حکمت و مصلحت اور تدبیر کے نہیں پیدا کیا اور یقینا قیامت آنے والی ہے آپ خوبی اور سنجیدگی کے ساتھ ان کافروں کو در گزر کیجئے اور ان سے کنارہ کیجئے یہ تسلی کے طور پر فرمایا کہ قیامت آنے والی ہے۔ وہاں ان نافرمانوں کو پورا پورا بدلہ ملے گا آپ ان سے عفو و صفح کا معاملہ کیجئے۔ صفح جمیل یہ کہ کنارا کرنے میں کوئی خوف و گھبراہٹ نہ ہو شکایت و شکوہ نہ ہو اور انتقام کی سعی اور کوشش نہ ہو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلی امتوں کا حال سنا کر فرمایا کہ یہ جہان خالی نہیں سر پر ایک مدبر ہے۔ ہر چیز کا تدراک کرنے والا پورا تدراک آخر کو قیامت ہے اور کنارا پکڑنے کو فرمایا جب حکم پہنچا چکے او کافر ضد پر آئے تب حکم ہوا جھگڑنے سے فائدہ نہیں وعدے کی راہ دیکھو۔ 12
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ آپ کا رب ہی سب کا پیدا کرنے والا سب کا جاننے والا ہے

86 ۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار ہی بڑاخالق اور بڑا جاننے والا ہے۔ یعنی سب کو وہی پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کا حال جاننے والا ہے وہ آپ کے صبر و تحمل کو بھی جانتا ہے اور ان کی ضد اور شرارت کو بھی جانتا ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے آپکو وہ سات آیتیں جو مکرر پڑھی جاتی ہیں یعنی سورة فاتحہ اور قرآن عظیم عطا فرمایا ہے

87 ۔ اور بلا شبہ ہم نے آپ کو سات آیتیں جو مکرر پڑھی جاتی ہیں اور نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرمایا ۔ کافروں کی بیجاز یادتیوں کے مقابلہ میں حضرت حق نے اپنا احسان یاد دلایا تا کہ آپ کا غم پہلے اور صدمہ دور ہوسورۂ فاتحہ کو سبع مثالی فرمایا کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور چونکہ قرآن کے تمام مضامین پر مشتمل ہے اور قرآن کا اہم جزو ہے اس لئے اسی کو قرآن عظیم فرمایا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ نعمت بڑی دیکھ اور کافروں کی ضد سے خفا نہ ہو سات آیتیں وظیفہ کہا سورة فاتحہ کو اور بڑا قرآن بھی اسی کو کہا ہر سورة قرآن ہے یہ سب سے بڑا ہے درجہ میں رسول ﷺ نے فرمایا جسکو اللہ نے قرآن دیا ہو پھر کسی کی اور نعمت دیکھ کر ہوس کرے اس نے قرآن کی قدر نہ جانی ۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ اس آیت میں چند اقوال ہیں اس میں سے شاہ صاحب (رح) نے ایک قوم اختیار کرلیا ہے واللہ اعلم
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو جو چیزیں برتنے کو دے رکھی ہیں آپ ان چیزوں کی طرف آرزو مندانہ نگاہ نہ کیجئے اور نہ ان کافروں پر غم اور افسوس کیجئے اور ایمان والوں کے لئے اپنے بازو پست رکھیئے

88 ۔ اور ہم نے دنیوی زندگی میں کافروں کے مختلف گروہوں کو جو سامان برتنے کے لئے دے رکھا ہے۔ اس پر آرزو مندانہ اور رغبت آمیز نگاہ نہ دوڑایئے اور نگاہ نہ کیجئے اور نہ آپ ان کافروں پر اور ان کی محرومی پر اندوہ غم کیجئے اور اپنے بازو مسلمانوں کے لئے پست رکھیئے۔ نگاہ دراز نہ کیجئے یعنی منکروں کے آرام و آسائش اور ان کے سازو سامان کی جانب نظر نہ کیجئے اور یہ آرزو نہ کیجئے کہ مسلمانوں کو بھی یہ سازو سامان دیا جائے ، مختلف گروہوں سے مراد مشرکین اور یہود و نصاریٰ ہیں ان پر غم نہ کیجئے یعنی آپ کو اس کا غم نہ ہو کہ یہ کیوں مسلمان نہیں ہوتے آپ مسلمانوں کے ساتھ تواضع اور شفقت کا برتائو کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دنیوی چند روزہ سازو سامان سے بےرغبتی کی تعلیم دی اور قرآن کریم جو بہت بڑی نعمت ہے اس نعمت کی جانب توجہ دلائی حضرت صدیق اکبر ؓ کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو قرآن کریم عطا فرمایا اور اس نے یہ خیال کیا کہ مجھ سے کسی کو بہتر دنیوی سازو سامان دیا گیا ہے تو اس نے بڑی چیز کو چھوٹا کردیا اور چھوٹی چیز کو بڑا کردیا ۔
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجئے کہ میں کھلے طور پر ڈرانے والا ہوں

89 ۔ اور آپ ان سے فرما دیجئے کہ میں تم کو کھلے طور پر خدا کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تیرا کام دل پھرنا نہیں یہ خدا سے ہوسکتا ہے جو کوئی ایمان نہ لاوے تو تو غم نہ کھا 12 ۔ مدعا یہ ہے کہ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے وہ کرتے رہیے اور اس کا غم نہ کیجئے کہ لوگ قبول کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 15:90

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

جس طرح گزشتہ قوموں پر عذب نازل کیا گیا تھا اسی طرح ہم ان تقسیم کرنے والوں پر عذاب نازل کریں گے ،

90 ۔ ہم نے جس طرح پہلی قوموں پر جو کتب سماویہ میں تفرق کرتے تھے عذاب نازل کیا تھا اسی طرح ان تقسیم کرنے والوں پر بھی عذاب نازل کریں گے۔
Ayah 15:91

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے

91 ۔ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر رکھا ہے۔ یعنی سابقہ اقوام کو جو آسمانی کتابیں عطا ہوئی تھیں اس میں لوگوں نے تقسیم کردی کہ کتاب کے بعض احکام مانے اور بعض نہیں مانے تو ہم نے ان پر عذاب بھیجا اسی طرح قرآن کریم کے ساتھ بھی یہ لوگ سلوک کر رہے ہیں ۔ اسی لئے پیغمبر ان کو عذاب سے ڈراتا ہے اور ہم بتاتے ہیں کہ عذاب کو دور نہ سمجھو جس طرح پہلے لوگوں پر عذاب نازل کیا گیا ہے اسی طرح ان لوگوں پر عذاب کا نازل ہونا یقینی ہے جنہوں نے قرآن کی تکا بوٹی کر رکھی ہے۔ حضرات مفسرین نے آیت کا ترجمہ کئی طرح سے کیا ہے حتیٰ کہ بعض حضرات نے مقتسمین کا ترجمہ بجائے تقسیم کے قسم کھانے والوں کیا ہے ہم نے ان اقوال میں سے ایک قول کی بنا پر ترجمہ کیا ہے جو راجح اور سہل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر سنتے تھے سورتوں کے نام تو ٹھٹھے سے آپس میں بانٹتے کوئی کہتا میں بقرہ لوگوں گا یا مائدہ تجھ کو عنکبوت دوں گا۔ 12
Ayah 15:92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

اے پیغمبر قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان سب لوگوں سے ان اعمال کے متعلق ضرور باز پرس کریں گے

92 ۔ سو اے پیغمبر قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان سب لوگوں سے ان کے ان اعمال کے متعلق ۔
Ayah 15:93

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

جو وہ کیا کرتے تھے

93 ۔ ضرور باز پرس کریں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی خواہ پہلے ہوں یا پچھلے ہم ضرور ان کے اعمال کے متعلق ان سے سوال و باز پرس کریں گے۔
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے وہ آپ علی الاعلان سنائے اور مشرکوں کی پروا نہ کیجئے

94 ۔ پس اے پیغمبر آپ کو جن باتوں کی تبلیغ اور پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے وہ آپ صاف صاف علی الاعلان سنا دیجئے اور شرک کرنے والوں کی پرواہ نہ کیجئے اور مشرکوں کا دھیان نہ کیجئے۔
Ayah 15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

یقینا ہم آپ کی طرف سے ان استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں

95 ۔ اور کچھ خوف نہ کیجئے کیونکہ ہم آپ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والے اور استہزا کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔
Ayah 15:96

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں سو یہ عنقریب اپنے انجام کو جان لیں گے

96 ۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود قراردیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں سو ان کو ان کا انجام بھی معلوم ہوا جاتا ہے۔
Ayah 15:97

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کافر جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے

97 ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ منکر جو کفر و استہزاء کی باتیں کرتے ہیں ان کی باتوں سے آپ کے دل تنگ ہوتے ہیں۔
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

سو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہیے اور نماز پڑھنے والوں میں شامل رہیے

98 ۔ پس اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہیے اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہیئے اور نماز پڑھنے والوں میں شامل رہیئے۔ یعنی کفار کی مخالفت کا علاج یہ ہے کہ بکثرت سبحان اللہ وبحمدہ کہا کیجئے اور سجدہ کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں میں شامل رہیئے اگر یہ علاج کرو گے تو تمہارا غم اور پریشانی دور کردی جائے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے جب حضور اکرم ﷺ کو کوئی امر پیش آجاتا تو حضور ﷺ فوراً نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیے یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے

99 ۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو یقین یعنی موت آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی موت کہ بیشک ہے۔ 12 نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو یہ حکم نہیں دیا کہ میں مال جمع کروں اور تاجربن جائوں بلکہ مجھ کو تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تسبیح وتحمید بیان کروں اور نماز پڑھا کروں ۔ بغوی تم سورة حجر۔