14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر قف قرآن ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی جانب اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ بنی نوع انسان کو ان کے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر اسی روشنی کی طرف جو ایک زبردست ستودہ صفات کی راہ ہے لے آئیں

1 ۔ الر قف یہ قرآن ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپکی جانب اس لئے نازل کیا ہے کہ اس قرآن کے ذریعے آپ تمام بنی نوع انسان کو ان کے پروردگار کے حکم سے تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر روشنی اور اجالے کی طرف جو ایک زبردست ستودہ صاف کی راہ ہے لے آئیں۔ یعنی کفر کے اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لے آئیں اور وہ اجالا کیا ہے وہ زبردست اور ستودہ صفات کی راہ ہے اس راہ کی جانب لے آئو کہ اسی کا نام نور ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کو وہ راستہ بتلا دیں۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

جو ایسا خدا ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور ایک سخت ترین عذاب کے اعتبار سے ان کافروں کی بڑی خرابی ہے

2 ۔ جو ایسا معبود برحق ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کے ملک ہے اور ان کافروں کے لئے ایک سخت ترین عذاب سے بڑی خرابی ہے یعنی وہ بڑی خرابی اسی سخت عذاب کی ہے۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور خدا کی راہ میں کجی اور عیب کے متلاشی رہتے ہیں یہ لوگ ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو راہ حق سے بہت دور ہے

3 ۔ کافر وہ ہیں جو آخرت کے مقابلہ میں دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکتے اور خدا کی راہ میں کجی اور عیب کے متلاشی رہتے ہیں یہ لوگ ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ کافروں کی تین باتیں فرمائیں آخرت پر چونکہ ایمان نہیں اس لئے اس کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ پر چلنے سے لوگوں کو بہکاتے ہیں اور دھمکیاں دیکر روکتے ہیں اور اس راہ کی عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں یعنی نہ خود اسلام قبول کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قومی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا تا کہ وہ اپنی قوم کے سامنے احکام کو واضح طور پر بیان کرے پھر خدا جسے چاہتا ہے بےراہ رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے

4 ۔ اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اسی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا تا کہ وہ اپنی قوم کے سامنے احکام الٰہیہ کو صاف صاف بیان کرے پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا اور راہ دکھاتا ہے اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کہتے تھے کہ اور بولی میں قرآن اترتا یہ تو اس شخص کی بولی ہے۔ شاید آپ کہلاتا ہو اس کا جواب یہ ہے۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ غیر بولی کہ تم کیا سمجھتے اور بیان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا اصل مقصد تو تبیین ہے اور وہ اسی بولی میں ہوسکتی ہے جو قوم کی بھی بولی ہو اور پیغمبر کی بھی ہوتا کہ تم سمجھ سکو آگے ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے اور اس کی حکم و مصالح پر مبنی ہے۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آ اور ان کو خدا کے دن یاد دلا کیونکہ ان واقعات میں ہر صبر کرنے والے شکر ادا کرنے والے کے لئے بڑی نشانیاں ہیں

5 ۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو کفر و معاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و فرمانبرداری کی روشنی کی طرف لے آ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے انقلابی واقعات جو کے پیش آتے رہے ہیں وہ واقعات ان کو یاد دلا ، کیونکہ ان واقعات میں ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یاد دلا ان کو دن اللہ کے یعنی اللہ کے سا کے جو ہر قوم پر گزرے۔ 12 خلاصہ ۔ یہ ہے کہ ان کو مصیبت اور راحت کے وہ واقعات بھی یاد دلائو جو بنی اسرائیل پر گزرتے رہے ہیں ۔ بعض حضرات نے ایام اللہ کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مراد لی ہیں ۔ بعض نے ان مصائب کو لیا ہے جو فرعون کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر پڑے لیکن صحیح یہ ہے کہ خواہ وہ فرعون کے مظالم ہوں یا ان مظالم سے نجات ہو ہر انقلابی دور میں جو باتیں پیش آتی ہیں وہ سب ہی مراد ہیں۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کے وہ احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں جبکہ تم کو اس نے فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بد ترین عذاب کرنے کی جستجو میں رہتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان واقعات میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی

6 ۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ کے وہ احسان یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں جب کہ اس نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بد ترین عذاب کرنے کی جستجو میں رہتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور قتل کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان واقعات میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش اور بڑا امتحان تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی حکومت میں جو مظالم ان پر ہوئے تھے وہ ان کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبردار ی کی طرف توجہ دلائی لڑکیوں کو عورتوں فرمایا چونکہ لڑکیاں بڑی ہو کر عورتیں ہوجاتی ہیں۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اپنی نعمتیں اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے نا سپاسی کی تو یقین جانو کہ میرا عذاب بہت سخت ہے

7 ۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تم کو آگاہ کردیا تھا اور تم کو مطلع فرما دیا تھا کہ اگر تم نے میری نعمتوں پر اور میرے احسانات پر شکر بجا لانے کا شیوہ اختیار کیا اور شکر ادا کرتے رہے تو تم کو اپنی نعمتیں اور زیادہ دوں گا اور نعمتوں میں اضافہ کر دوں گا اور اگر تم نا شکری کرو گے اور نا سپاسی کا طریقہ اختیار کرو گے تو یقین جانو کہ میرا عذاب بہت سخت ہے ۔ یعنی میرے ذریعہ سے حضرت حق تعالیٰ کا یہ اعلان تم تک پہنچ چکا کہ نعمت پر شکر اور زیادہ نعمت کا باعث ہے اور کفران نعمت سلب نعمت اور عذاب الٰہی کا سبب ہے۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ سب مل کر خدا کی نا شکری کرنے لگو تو یقینا خدائے تعالیٰ کی ذات بےنیاز اور ستودہ صفات ہے

8 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے یہ بھی کہا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین پر رہنے اور بسنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگیں اور نا شکری کا شیوہ اختیار کرلیں تو اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بےاحتیاج بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ یعنی نا سپاسی کی وجہ سے تم اور دنیا بھر کے لوگ اپنا ہی نقصان کرو گے اللہ تعالیٰ کا کوئی ضرر نہیں ہوگا نا شکری سے نعمت سلب ہوجائے گی۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد (علیہ السلام) وثمود (علیہ السلام) کی قوم اور وہ لوگ جو ان مذکورہ قوموں کے بعد ہوئے ہیں جن کی تفصیلات بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا کیا ان سب لوگوں کی خبر تم تک نہیں پہنچی ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لیکر آئے مگر انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے منہ میں دیدیئے یعنی ان کو بولنے نہ دیا اور کہنے لگے جو احکام تم دیکر بھیجے گئے ہو ہم ان کو نہیں مانتے اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو ہم اس کے متعلق بڑے تردد انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

9 ۔ اے مکہ کے منکرو ! کیا تم کو ان لوگوں کے واقعات جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں نہیں پہنچے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد جو حضرت صالح کی قوم تھی اور وہ لوگ جو ان لوگوں کے بعد ہوئے جن کی تفصیل اور مفصل حالت سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ان گزشتہ لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے مگر انہوں نے بجائے سننے اور ماننے کے اپنے ہاتھ ان کے منہ میں دے دیئے اور ان کو بولنے نہ دیا اور کہنے لگے جو احکام تم دیکر بھیجے گئے ہو ہم ان کے منکر ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے اور ہم ان باتوں کے متعلق ایک بڑے تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ گزشتہ لوگوں میں چند کے نام لئے جن کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور ان کے بعد کے لوگوں کو فرمایا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ان کے مفصل حالات کوئی نہیں جانتا کیوں کہ ان کے حالات مفصلا ً منضبط نہیں ہوئے۔ تم کو خبریں ی نہیں پہنچیں یعنی اجما لا ً بھی کیا تم کو ان کے حالات معلوم نہیں ہوئے ان کے واقعات کو بتایا کہ ان قوموں میں بھی انبیاء (علیہم السلام) ایمان و توحید کی دعوت لے کر پہنچے مگر وہ نہایت ہی گستاخ ثابت ہوئے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ تم جو چیز لیکر بھیجے گئے ہو ہم اس سے انکار کرتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ پیغمبروں کو بولنے نہیں دیا اپنے ہاتھ ان کے منہ میں گھسا دیئے یا ان کے ہی ہاتھ پکڑ کر ان کے منہ میں ٹھونس دیئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تعجب سے نئی بات سن کر اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لئے یا غصے میں اپنے ہاتھ کاٹ لئے یا یہ کہ منہ پر ہاتھ اپنے ہی رکھا اور اشارہ کیا کہ چپ رہو اور جس توحید اور ایمان کی تو ہم کو دعوت دیتے ہو ہم اس سے ایک ایسے شک میں مبتلا ہیں جس نے ہم کو خلجان اور تردد میں ڈال رکھا ہے۔ فردوا ایدیھم میں بڑی گنجائش ہے اس لئے ہم نے مفسرین کے تقریبا ً سب اقوال کی طرف اشارہ کردیا ہے ۔ بعض حضرات نے ایدی سے نعمتیں مراد لی ہیں کہ توحید و ایمان کی جو نعمت انہوں نے پیش کی انہوں نے اس نعمت سے انکار کردیا اور انہی پیغمبروں کے منہ پر اس نعمت کو واپس کردیا ۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے جواب دیا کیا تم کو اس خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو اس لئے دعوت دیتا ہے تا کہ تمہارے گناہ معاف کر دے اور ایک مقررہ وقت تک تم کو موقع دے ، ان کی قوم نے کہا سوائے اس کے نہیں کہ تم بھی ہم ہی جیسے آدمی ہو تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دو جن کو ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے سو اب تم کوئی صاف وصریح معجزہ پیش کرو

10 ۔ ان کے پیغمبروں نے اس انکار اور گستاخی کے جواب میں کہا کیا تم لوگوں کو اس اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو اس لئے دعوت دیتا ہے تا کہ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کر دے اور ایک مقررہ وقت تک تم کو اطمینان اور خیر خوبی سے زندگی بسر کرنے کا موقعہ دے قوم کے لوگ کہنے لگے تم کو خدا کافر ستادہ کس طرح سمجھ لیا جائے تم کچھ نہیں مگر ہم جیسے ایک بشر اور آدمی ہو تم یہ چاہتے ہو اور تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دو جن کو ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے چونکہ تم نبوت کے مدعی ہو۔ لہٰذا ان دلائل وبراہین کو چھوڑ کر جو تم لائے ہو تو کوئی صاف وصریح معجزہ پیش کرو۔ یعنی جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے یہی بات اس کی وحدانیت اور توحید کے لئے کافی ہے اس کے بارے میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہم اس کی طرف سے داعی ہیں وہ تم کو دعو ت دیتا ہے کہ اس پر ایمان لے آئو تا کہ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کردے اور ایمان لانے سے یہ فائدہ ہوگا کہ تم کو اطمینان ہوگا اور تمہاری زندگی خیر خوبی سے گزرے گی اور تم پر دنیا میں آخرت میں اس کے انعام اور رحمت کے دروازے کھل جائیں گے اس کے جواب میں جو کچھ قوم کے لوگوں نے کہا وہ یہ کہ تم بشر ہو اور بشریت نبوت کے منافی ہے تم ہمارے بڑوں کے طریقے سے روکنا چاہتے ہو اب تم اس قسم کے دلائل کو چھوڑ کر کوئی معجزہ نہ لائو۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے ان کا جواب دیا بیشک ہم بھی تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کردیتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں کہ ہم بغیر اذن الٰہی کوئی معجز ہ تمہارے سامنے پیش کرسکیں اور سب مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے

1 1 ۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو جواب دیا ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیشک ہم بھی تم جیسے بشر ہیں لیکن نبوت اور بشریت میں کوئی منافات نہیں بلکہ نبوت اللہ تعالیٰ کا ایک افضل و احسان ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور نبوت عطا کردیتا ہے اور یہ بات ہمارے قبضے اور اختیار میں نہیں کہ ہم بغیر اذن الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ تمہارے سامنے پیش کرسکیں اور سب ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یعنی نبوت بشریت کے منافی نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ہم کو بنی اور داعی الی اللہ بنادیا۔ رہامعجزہ تو وہ ہمارے بس میں نہیں اس کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر ہم کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے اہل ایمان کو خدا ہی پر توکل کرنا چاہئے اس لئے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سند دیکھے سے ایمان نہیں آتا اللہ کے دیئے سے آتا ہے۔ 12
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہمارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ ہم خدا پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہمارے سب طریقے ہم کو بتا دیئے ہیں اور ہم ضرور اس ایذا پر جو تم ہم کو پہنچا تے ہو صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو خدا ہی پر توکل کرنا چاہئے ،

12 ۔ اور ہم کو کیا عذم ہوسکتا ہے اور کونسا امر مانع ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہمارے سب طریقے ہم کو بتا دیئے ہیں اور یقینا ہم ان تمام تکالیف پر جو تم ہم کو پہنچا ئو گے اور جو تکلیفیں تام ہم کو دشمنی اور عناد سے دو گے ہم ضرور ان پر صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ کرنا چاہئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل و احسان فرمایا ہم کو نبوت عطا فرمائی ہم کو دین و دنیا کے لئے کامیابی اور منافع کے راستے اس نے دیکھائے اور مکمل دین ہم کو سمجھادیا ہے اب ہم اس پر بھروسہ نہ کریں۔ یہ کیسے ممکن ہے اور یہ بھی ہم تمہارے مخالفانہ رویے سے سمجھ گئے کہ تم ہم کو ستائو گے اور ایذاء پہنچائو گے تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہاری ایذا رسانی کا صبر و سہار سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے توکل و استقامت میں فرق نہیں آئے گا ۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور ان کافروں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا کہ ہم تم کو اپنی سر زمین سے نکال باہر کریں گے یا تم ہماری ملت میں واپس چلے آئو اس پر ان رسولوں کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کردیں گے

13 ۔ ان تمام باتوں کو سن کر ان منکروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سر زمین اور اپنے علاقہ سے نکال باہر کریں گے اور تم کو جلا وطن کردیں گے یا تم ہماری ملت اور ہمارے مسلک میں چلے آئو اور ہمارے مذہب میں لوٹ آئو پس ان رسولوں کے پروردگار نے ان رسولوں پر اسی وقت وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو یقیناہلاک کردیں گے۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ پیغمبر اس دعویٰ پیغمبری سے پہلے ہمارے ہی دین میں تھے اس لئے واپس آنے کا مطالبہ کیا کہ جس طرح پہلے خاموش تھے ویسے ہی ہو جائو اور ہوسکتا ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے ان کو یہ دھمکی دی ہو اور انبیاء کو ان کے ساتھ شامل کرلیا ہو۔ بہر حال ! حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو تسلی دی ۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے ہلاک ہونے کے بعد تم کو اس سر زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ اس شخص کے لئے ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے خائف ہوا اور میرے وعدۂ عذاب سے ڈرا

14 ۔ اور ان ظالموں کو ہلاک کرنے کے بعد تم کو اس سر زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو میرے روبرو کھڑا ہونے سے ڈرا اور خائف ہوا اور میرے وعدہ ٔ عذاب اور میری وعید سے خوف زدہ رہا ۔ یعنی کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد تم کو آباد کرنے کا وعدہ کچھ تمہارے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ وعدہ ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو جواب دہی سے بھی ڈرتا ہے اور میری وعید سے بھی ڈرتا ہے۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور فریقین یعنی رسول اور کافر فیصلہ کی خواہش کرنے لگے اور ہر سرکش و معاند نامراد ہلاک ہوا

15 ۔ اور فریقین فیصلہ طلب کرنے لگے اور ہر سرکش اور معاند ہلاک و نامراد ہوا ۔ یعنی ادھر تو کفار نے مطالبہ کیا کہ جو وعدے کرتا ہے ان کو لے آ ۔ ادھر انبیاء کی خواہش ہوئی کہ ان کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی اب تو آخری فیصلہ ہوجانا چاہئے۔ چناچہ عذاب میں مبتلا کئے گئے اور نتیجہ یہ ہوا ہوسکتا ہے کہ صرف کفار نے ہی فیصلہ کا مطالبہ کیا ہو۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

پھر اب اس کے آگے دوزخ ہے اور اس کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو کچلہو ہوگا وہ اس کو بہ تکلیف گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا

16 ۔ پھر اب اس کے آگے دوزخ ہے اور اس کو دوزخ میں ایسا پانی پلایا جائے گا جو کچلہو ہوگا ۔ یعنی دنیوی عذاب کے بعد اخروی عذاب ہے اور وہ جہنم ہے جہاں پیاس اور تشنگی کے وقت ایسا پانی پلایا جائے گا جو پیپ ملے ہوئے خون کا ہمرنگ ہوگا جس کو کچلہو کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ یوں ترجمہ کیا جائے کہ اس دنیوی عذاب کے پیچھے جہنم ہے۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

اور اس کو بسہولت حلق سے نیچے سے نہ اتارا سکے گا اور ہر چہار طرف سے اس کو موت آتی معلوم ہوگی مگر کسی طرح وہ مرنے والا نہیں اور اس عذاب کے آگے اور بھی سخت عذاب ہے

17 ۔ وہ سرکش اس کو بہ تکلیف گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا اور اس کو سہولت اور آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا اور ہر طرف سے اس پر موت آرہی ہوگی اور اس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ مرے گا نہیں اور اس عذاب کے آگے اور بھی سخت عذاب ہے۔ یعنی یہ پانی گرم بھی ہوگا اور کراہت بھی آئے گی لیکن پیاس کے مارے گھونٹ گھونٹ ک کے اسی کو پئے گا شش جہات اس کو موت آتی معلوم ہوگی اور ہر چہار طرف سے موت کے اسباب نمایاں ہوں گے لیکن موت کسی طرح بھی نہ آئے گی بلکہ اسی طرح مبتلا رہے گا اور اس کے پیچھے اور بھی مختلف انواع و اقسام کے عذاب ہوں گے جو غلظت اور سختی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوگا ۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے راکھ کہ اس راکھ کو سخت آندھی کے دن تیز ہوا اڑا لے جائے اسی طرح جو اعمال خیر انہوں نے کئے ہوں گے ان میں کسی عمل پر بھی انہیں کوئی دسترس نہ ہوگی یہی وہ گمراہی ہے جو راہ حق سے بہت دور ہے

18 ۔ جن لوگوں نے اپنے رب کی توحید کا انکار کیا اور اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے رہے ان کے اعمال کی حالت ایسی ہے جیسے راکھ کہ اس راکھ کو سخت آندھی کے دن تیز ہوا اڑا کرلے جائے اسی طرح ان لوگوں نے جو اعمال خیر کئے ہوں گے ان میں سے کسی عمل پر بھی ان کو کوئی دسترس نہیں ہوگی اور ان اعمال کے کسی حصہ کا ان کو نفع حاصل نہ ہوگا یہی وہ گمراہی ہے جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ یعنی اگر کسی کافر نے کچھ اعمال خیر کئے ہوں۔ جیسا کہ بعض آدمی اخلاق اور سخاوت کے اعتبار سے اچھے ہوتے ہیں لیکن اعتقاد کی خرابی اور کفر کے باعث ان اعمال کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا جس طرح تیز آندھی کے دن راکھ اڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے وہ اعمال جو انہوں نے اچھے سمجھ کر کئے تھے ہبار منشورا ہوجائیں گے اور وہ وقت انتہائی حسرت اور حرماں نصیبی کا ہوگا کہ جو اعمال کسی امید کی توقع پر کیے تھے وہ امید خاک میں مل جائے گا ۔
Ayah 14:19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو ایسا بنایا جیسا ان کے بنانے کا حق تھا اگر وہ چاہے تو تم سب کو معدوم کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق کو لا موجودکرے

19 ۔ اے مخاطب ! کیا تونے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک بنایا اور ایسا بنایا جیسا ان کے بنانے کا حق تھا اگر وہ چاہے تو تم کو لے جائے اور بالکل معدوم کر دے اور تمہاری جگہ کسی نئی مخلوق کو لا موجود کر دے ۔ یعنی حکمت بالغہ کے ماتحت اور ہر قسم کی مصالح کی رعایت رکھتے ہوئے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا وہ اس پر بھی قادر ہے کہ تم کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ کوئی اور نئی مخلوق پیدا کر دے جیسا کہ عام انقلاب میں اسکا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 14:20

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ لے جانا اور لے آنا اللہ پر کچھ بھی مشکل نہیں

20 ۔ اور فنا کرنا اور دوسری مخلوق کو لے آنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل اور دشوار نہیں۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور سب خدا کے روبرو نکل کھڑے ہوں گے پھر کمزور لوگ جو تابع تھے وہ اپنے روسا متکبرین سے کہیں گے ہم دنیا میں تمہارے کہنے پر چلا کرتے تھے تو کیا تم آقا ہم پر سے اللہ کے عذاب کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو وہ روشنا جواب دیں گے اگر خدا ہماری رہنمائی کرتا تو ہم بھی تم کو صحیح راہ دکھاتے اب تو ہم سب کے لئے خواہ ہم گھبرائیں یا ہم صبر کریں دونوں ہی باتیں برابر ہیں نہ اب ہمارے لئے یہاں سے گریز ہی کی کوئی جگہ ہے۔

21 ۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو سب لوگ نکل کھڑے ہوں گے اور سب اس کے سامنے پیش ہوں گے پھر کمزور اور چھوٹے چھوٹے درجے کے لوگ اپنے روساء متکبرین اور بڑے درجے کے لوگوں سے کہیں گے ہم دنیا میں تمہارے کہنے پر چلا کرتے تھے اور ہم کو تمہارے تابع اور فرمانبردار تھے تو کیا تم آج ہم پر سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کچھ حصہ ہٹا سکتے ہو اور ہم کو عذاب خدا سے بچا سکتے ہو وہ بڑے درجہ کے لوگ جواب دیں گے اگر اللہ تعالیٰ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو بھی ہدایت کرتے اور اگر اللہ تعالیٰ ہم کو عذاب سے بچنے کا راستہ دکھاتا تو ہم بھی تمہارے صحیح رہنمائی کرتے اب تو ہم سب کے لئے خواہ ہم گھبرائیں اور پریشان ہو یا صبر اور ضبط کریں دونوں ہی باتیں برابر ہیں نہ اب ہمارے لئے یہاں سے خلاصی اور گریز کی کوئی جگہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ گفتگو جہنم میں ہو ۔ عام طور سے منکروں کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہمارے بڑے ہم کو بچا لیں گے اس خیال کا رد فرمایا اور چھوٹوں کو جو بھروبڑوں پر ہوتا ہے اس کو باطل ٹھہرایا مستکبرین اول تو اپنی گماہی کا اعتراف کریں گے کہ ہم خود ہی گمراہ تھے تمہاری رہنمائی کیا خاک کرتے عذاب سے بچانا تو کیا ہم بھی تمہارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہیں اب صبر کرو اور ضبط سے کام لو یا گھبرائو اور چیخو اور چلائو دونوں ہی باتیں بےسود ہیں یہاں سے نکلنے کی کوئی راہ کوئی آگے معبود ان باطلہ سے جو امیدیں قائم کر رکھی تھیں ان کا جواب ہے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب سب باتوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان یوں کہے گا بیشک اللہ نے تم سے جو وعدے کئے تھے وہ سچے وعدے تھے اور میں نے جو وعدے تم سے کئے تھے تو میں نے تم سے جھوٹ بولا اور میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں مگر صرف اتنی بات تھی کہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میرا کہا مان لیا سو تم مجھے کسی قسم کی ملامت نہ کرو بلکہ اپنے اوپر خود ملامت کرو ، نہ میں تمہاری کوئی فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میرے فریاد رس ہوسکتے ہو تم نے جو اس سے پہلے دنیا میں مجھ کو خدا کی فرمانبرداری میں اس کا شریک بنایا تھا میں تمہارے اس فعل سے تیری اور انکار کرتا ہوں اس میں شکن ہیں کہ ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے

22 ۔ اور جب سب باتوں کا فیصلہ ہوچکے گا اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو چکیں گے تو شیطان کو دیکھ کر سب گناہ گار اس پر ملامت کریں گے کہ تیری وجہ سے ہم کو یہ عذاب بھگتنا پڑا اس وقت شیطان ملامت کرنے والوں کو جواب دے گا بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جتنے وعدے کئے تھے وہ سچے وعدے کئے تھے اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے تو میں نے تم سے جھوٹ بولا اور میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کئے تھے اور میرا تم پر کوئی زور اور غلبہ تو تھا نہیں مگر صرف اتنی بات تھی کہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میری بات مان لی سو تم مجھے کسی طرح کی ملازمت نہ کرو بلکہ اپنے اوپر خود ملامت کرو نہ میں تمہاری کوئی فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میرے فریاد رس ہوسکتے ہو نہ میں تمہارا مددگار ہوسکتا ہوں نہ تم میرے مدد گار ہوسکتے ہو۔ تم نے جو اس سے پہلے دنیا میں مسجد کو خدا کی فرمانبرداری میں اس کا شریک ٹھہرایا تھا میں تمہارے اس فعل سے بیزاری اور انکار کرتا ہوں اس میں شک نہیں کہ ظالموں کے لئے درد نا ک عذاب ہے۔ یعنی جب قیامت کے دن سب امور کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل دوزخ دوزخ میں اور صحاب جنت جنت میں چلے جائیں گے تو اہل جہنم شیطان کو وہاں دیکھ کر برا بھلا کہیں گے کہ کم بخت تو نے ہم کو گمراہ کیا اور تیری وجہ سے ہم مبتلا ہوئے اب اس جہنم سے نکالنے کی کوئی ترکیب کر۔ وہ جواب دے گا میں ملامت کا مستحق نہیں ہوں بلکہ تم خود اپنے کو ملامت کرو کیونکہ اگر تم ذرا غور و فکر کرتے تو تم کو معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت تم سے کئے تھے وہ سب سچے وعدے تھے کیونکہ دلائل وبراہین اور عقل سلیم اور فطرت سلیمہ ان کی صداقت پر گواہ تھے اور جو وعدے میں تم سے کرتا رہا وہ جھوٹے وعدے تھے ان دلائل کی روشنی میں جو پیغمبر پیش کرتے تھے میری باتیں اور میرے وعدے ادنیٰ تامل سے باطل قرار دیئے جاسکتے تھے اور میرا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں کہ میں تم کو گناہ پر مجبور کرسکتا ہوں تم کو شرک و کفر کی طرف اور معاصی کی طرف بلاتا ضرور تھا لیکن تم اپنے اختیار سے میری بات مان لیتے تھے ۔ لہٰذا تم خود ان افعال کے ذمہ دار ہو جو تم نے اپنے اختیار سے کئے ہیں اب مدد کا کوئی سوال نہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری میں مجھ کو شریک قرار دے لینا اور میرے کہنے سے خد ا کے ساتھ شریک کرنا اور انبیاء کی تکذیب کا ارتکاب کرنا میں تو خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں پھر تم کو مجھ سے مدد مانگنے کا کیا حق ہے میرے تمہارے درمیان کوئی علاقہ نہیں ۔ بس اب ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے سو اس کو بھگتو۔ اوپر کی آیت میں باہم چھوٹے بڑوں کی گفتگو تھی جو مایوس کن تھی ۔ اس آیت میں سب سے بڑے لعین کی تقریر سنائی جس کا ایک ایک لفظ مایوسی اور بیزاری سے لبریز ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطان کا زور نہیں انسان پر مگر وہ مشورت دیتا ہے میری بات مان لینی اپنا ہی گناہ ہے۔ 12
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے وہ اپنے رب کے حکم سے ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن باغوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کا تحیہ اور مبارکی سلام ہوگا ،

23 ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور نیک کام کرتے رہے وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن باغوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کی باہمی ملاقات اور تحیہ السلام علیکم ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں سلام دعا ہے سلامتی مانگنی وہاں سلام کہنا مبارک باد ہے سلامتی پر ۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

اے پیغمبر کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا اللہ نے کلمہ طیبہ کی ایک کیسی مثال بیان کی ہے کہ کلمہ طیبہ ایسا ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت کہ اس کی جڑ خوب مضبوط ہو اور اس کی شاخیں آسمان سے ملی ہوئیں ہوں

24 ۔ اے پیغمبر کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا اور کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ اور ستھری و پاکیزہ بات کی ایک کیسی اچھی مثال بیان کی ہے وہ کلمہ طیبہ ایسا ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت کہ اس کی جڑ خوب مضبوط جمی ہوئی ہو اور اس کی شاخیں بلندی میں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ درخت اپنے رب کے حکم سے ہر فصل کے موقع پر اپنا پھل لاتا ہو اور اللہ لوگوں کے لئے اس لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں

25 ۔ وہ درخت اپنے رب کے حکم سے ہر فضل کے موقعہ پر اپنا پھل لاتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اس لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں اور مقصود کو ذہن نشین کرسکیں اور سوچیں اور غور کریں ۔ یعنی کلمہ توحید کی ایک جڑ ہے جو مومن کے قلب میں مضبوط اور خوب جمی ہوئی ہے اور اس درخت کی شاخیں ہیں یعنی مومن کے اعمال صالحہ جو آسمان تک پہنچتے ہیں اور ان اعمال صالحہ سے فوز و صلاح الٰہی کے ثمرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مثال بیان کرنے سے مطلب آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے اور وہ مطلب اوقع فی النفس ہوتا ہے۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور نا پاک کلمہ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خبیث درخت جو زمین کے اوپر ہی اوپر اکھیڑ لیا جائے اس درخت کو کسی قسم کا جمائو میسر نہیں ،

26 ۔ اور نا پاک اور گندے کلمہ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خبیث اور نا پاک درخت جو زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھیڑ لیا جائے اس درخت کو کسی قسم کا جمائو اور مضبوطی میسر نہیں ۔ نا پاک کلمہ جیسے کلمہ کفر و شرک درخت کا تنا نہیں جو چاہے اور جب چاہے اکھیڑ لے جڑ دور تک نہیں کافر کے دل میں اگرچہ اس کی جڑ ہے مگر محض سطحی جو ذرا سے جھٹکے میں اکھڑ جائے پھر نہ کوئی بو نہ کوئی مزہ ، نہ کھانے کے قابل کوئی پھل جس پر کوئی اچھا اثر مرتب ہو۔ ہو سکتا ہے کلمہ طیبہ کے ساتھ دیگر کلمات تسبیح و تسہیل بھی مراد ہوں ، پہلے درخت سے کھجور کا درخت مراد لیا گیا ہے اور دوسرے درخت سے حنظل مراد لیا گیا ہے اور حنظل کی بیل مراد ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسلمانوں کا دعویٰ درست ہے جس کی دلیل صحیح ہے اور دل میں اثر رکھتا ہے اور روز بروز چڑھتا ہے اور کافروں کا دعویٰ جڑ نہیں رکھتا تھوڑا دھیان کرنے سے غلط معلوم ہونے لگے اور دل میں اس سے کچھ نور نہیں ۔ 12 غرض ! عجیب و غریب مثال ہے جس پر جتنا غور کرو بیشمار باریکیاں نظر آتی چلی جاتی ہیں ، بےاطمینانی اور ڈانوا ڈول حالت کو فرمایا ۔ ما لھا من قرار ۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

جو لوگ ایمان والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں اور دوسرے عالم میں بھی پکی بات یعنی کلمہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ نا انصافوں کو بےراہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا کرتا ہے

27 ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان والے ہیں دنیا میں بھی اور دوسرے عالم میں بھی پکی بات پر قائم اور ثابت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور نا انصافوں کو گمراہ اور بےراہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یعنی کلمہ توحید کی برکت سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی ثبات عطا کرتا ہے اور قبر میں بھی توحید پر اور کلمہ طیب پر ثابت رکھتا ہے اور حشر میں بھی اہل کفر کو بےراہ رکھتا ہے اور ہدایت کی توفیق نہیں دیتا اور اپنی حکمت و مصلحت سے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قبر میں جو مضبوط بات کہے گا ٹھکانہ نیک پاوے گا اور جو بجلی بات کہے گا خراب ہوگا ۔ 12
Ayah 14:28

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

اے پیغمبر کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کے احسانات کا بدلہ نا شکری سے دیا اور اپنی قوم کو انہوں نے تباہی کے گھر جا اتارا ،

28 ۔ اے پیغمبر ! کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے انعامات الٰہی کا بدلہ سپاسی اور کفران نعمت سے دیا اور اپنی قوم کو انہوں نے تباہی اور ہلاکت کے گھر اتارا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر بجا لانے کی بجائے نا شکری اور کفران نعمت کیا پھر اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ذاتی اثر و دبائو سے گمراہ کیا اور شرک و کفر پر ان کو آمادہ کیا اور جہنم کے دورازے پر پہنچا دیا ۔
Ayah 14:29

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

وہ تباہی کا گھر جہنم ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ جہنم بہت بری قرار گاہ ہے

29 ۔ وہ ہلاکت و تباہی کا گھر جہنم ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ رہنے کا برا ٹھکانہ اور جہنم بری قرار گاہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ان لوگوں سے مراد مکہ کے کافر روساء ہیں جو خود بھی نا سپاسی کرتے ہیں اور دوسرے کو بھی کفر و شرک پر ابھارتے ہیں۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابل و ہمسر مقرر کئے ہیں تا کہ اپنی قوم کو خدا کی راہ سے بھٹکائیں آپ کہہ دیجئے اچھا توڑے دن فائدہ اٹھا لو پھر تم کو دوزخ ہی کی طرف واپس جانا ہے

30 ۔ اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساجھی اور ہمسر مقرر کئے ہیں تا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکائیں آپ ان سے کہئے اچھا چند روز عیش اور مزا اڑا لو اور فائدہ اٹھا لو پھر تم کو آخر کا دوزخ ہی کی طرف واپس ہونا ہے اور تمہاری باز گشت جہنم کی طرف ہے۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

اے پیغمبر میرے ایمان والے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ نماز کی پابندی رکھیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے کچھ خفیہ اور علانیہ خیرات بھی کیا کریں کہ جس دن نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی اور نہ اس دن کوئی دوستی کام آئے گی

31 ۔ اب آگے مومنین کو ارشاد ہے اے پیغمبر میرے ان بندوں سے جو ایمان والے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ نماز پڑھا کریں اور وہ نماز کی پابندی رکھیں اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے پوشیدہ اور ظاہر کچھ خرچ اور خیرات بھی کیا کریں جس دن نہ تجارت ہوگی نہ اس دن کسی قسم کی خریدو فروخت ہوگی اور نہ اس دن کوئی دوستی کام آئے گی ۔ یعنی وہ حشر کا دن ہے جس میں صرف نیک اعمال ہی کام آسکتے ہیں ، نہ کوئی بیع شرا چلتی ہے کہ نیک اعمال خرید لئے جائیں نہ اس دن کوئی دوست ہوگا جو بدون اعمال صالحہ کے محض دوستی کی بناء پر کام آجائے نا سپاسوں کے مقابلے میں شکر گزاروں کا ذکر فرمایا خفیہ علانیہ کی بحث تیسرے پارہ میں گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسا موقع ہو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نیک عمل بکتے نہیں اور دوستی سے کوئی رعایت نہیں کرتا ۔ 12
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر تمہارے کھانے کیلئے اس پانی سے پھل نکالے اور تمہارے نفع کے لئے کشتیوں کو تابع کردیا تا کہ وہ کشتیاں خدا کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمہارے نفع کے لئے ندیاں مسخر کردیں

32 ۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان کی جانب سے پانی نازل فرمایا اور مینہ برسایا اور پھر اس پانی سے تمہارے لئے پھلوں سے رزق پیدا کیا اور تمہارے کھانے کے لئے پھل نکالے اور تمہارے نفع کے لئے کشتیوں کو تابع اور مسخر کردیا تا کہ وہ کشتیاں خدا تعالیٰ کے حکم سے دریا میں چلیں اور اس نے تمہارے نفع کے لئے دریا اور ندیاں مسخر فرمائیں اور تمہارے کام میں لگا دی ۔ یعنی آسمان سے پانی اتارا یا آسمان کی جانب سے اتارا اس کی مفصل بحث پہلے پارے میں گزر چکی ہے اور مفسرین کی رائے یہی ہے کہ غیر مرئی طریقہ پر آسمان سے پانی بادلوں پر اترتا ہے اور پھر بادلوں سے زمین پر اترتا ہے۔ کشتی اور نہریں قدرت خداوندی کی مسخر ہیں انسانی تسخیر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کشتی بناتا ہے اور ندی کی تسخیر کا مطلب یہ ہے کہ ندی سے پانی حاصل کرتا ہے دریائوں میں بندباندھتا ہے نہریں نکالتا ہے اسی لئے تسخیر کا ترجہ شاہ صاحب (رح) نے کام میں لگا دیا گیا ہے اور اس ترجمہ پر کوئی شبہ نہیں ہے ۔ انسانی منافع کے لئے جس قدر ضرورت تھی اس قدر منافع حاصل کرنے کا موقع دیا باقی حقیقی تسخیر اور پورا قابو قدرت ہی کو حاصل ہے۔
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مقررہ دستور پر چلتے رہتی ہیں تمہارے کام میں لگا دیا اور نیز رات اور دن کو تمہارے کام میں لگایا ،

33 ۔ اور سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مقررہ دستور پر چلتے رہتے ہیں تمہارے نفع کے لئے تمہارے کام میں لگا دیا اور نیز رات اور دن کو تمہارے نفع کے لئے تمہارے کام میں لگایا ۔ یعنی چاند ، سورج کا نفع یہ کہ روشنی ، گرمی ٹھنڈک کھیتوں کا پکنا پھلوں میں تری رہنا وغیرہ رات دن کا نفع یہ کہ معاش پیدا کرنا کمانا اور راحت و سکون حاصل کرنا وغیرہ ۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے طلب کیا اس سب میں سے تم کو اس نے عطا کیا اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا ناانصاف اور بڑا ہی نا سپاس ہے

34 ۔ اور جو کچھ تم نے مانگا اور طلب کیا اس سب میں سے اس نے تم کو عطا کیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو اس قدر ہیں کہ اگر ان کو تم شمار کرنے لگو تو تم ان کا شمار او احاطہ نہیں کرسکتے بلا شبہ انسان بڑا ناانصاف اور بڑا ہی نا سپاس ہے۔ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری ضرورت اور تمہارے مناسب حال ہر شے میں سے تم کو دیا ، وہ مانگنا زبان حال سے ہو یا زبان قال سے اور اسی پر کیا منحصر ہے اس کی نعمتیں تو ایسی ان گنت ہیں کہ تم اگر گننے لگو تو ان کو گن بھی نہیں سکتے ان کے شمار سے عاجز ہو کر بیٹھ جائو باوجود اس عنایت و مہربانی کے پیشر انسان ناانصاف اور نا سپاس ہیں بعض تو شکر بجا لانے کے خوگر ہی نہیں اور بعض نعمتیں خدا تعالیٰ کی استعمال کرتے ہیں اور شکر دوسروں کا بجا لاتے ہیں۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب اس شہر کو امن کی جگہ بنادے اور اے میرے رب مجھ کو اور میری اولاد کو اصام پرستی سے دوررکھیو

35 ۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب اس شہرم کہ کو امن والا اور امن کی جگہ بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے دور رکھیو کہ ہم مورتیوں کو پوجیں اور اصنام پرستی میں مبتلا ہوں ۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ بت پرستی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے اور اپنی مخصوص اولاد کے حق میں دعا فرمائی یا تمام اولاد کے لئے دعا کی ہو لیکن بعض کے حق میں قبول نہ ہوئی ہو ۔ شہر کو امن والا بنادے یعنی حرم بنادے کہ اس کے رہنے والے مستحق امن رہیں ۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے پروردگار اس میں کچھ شک نہیں کہ ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے سو جو میری راہ چلا دو تو میرا ہے ہی اور جس نے میری نافرمانی کی سو تو بڑی مغفرت اور بڑ رحمت کا مالک ہے

36 ۔ اے میرے پروردگار اس میں کچھ شک نہیں کہ ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کردیا پھر جو میری راہ پر چلا اور میری پیروی کی وہ تو میراہی ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا اور میری نافرمانی کی تو آپ بڑے بخشنے والے اور بڑی مہربانی کے مالک ہیں ۔ یعنی یہ مورتیاں اور اصنام بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے بہت لوگ گمراہ ہوئے ہیں میں ان گمراہوں کو سمجھانے کی کوشش کر روں گا پھر جو سمجھ کر میرے ساتھ ہو لیا وہ تو میرا ہی ہے لیکن جو لوگ راہ راست پر نہ آئیں تو آپ ان کو ہدایت دیجئے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمایئے کیونکہ آپ غفور الرحیم ہیں۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب میں اپنی اولاد میں سے بعض اولاد کو ایک بےزراعت میدان میں تیرے محترم گھر کے پاس آباد کر رہا ہوں تا کہ اے ہمارے رب یہ لوگ نماز کی پابندی رکھیں اور جن کو میں بسا رہا ہوں تو ان کی طرف کچھ لوگوں کے قلوب کو مائل کر دے اور انکو کھانے کے لئے پھل عطا کرتا کہ وہ تیرا شکر کرتے رہیں

37 ۔ اے ہمارے پروردگار میں اپنی اولاد میں سے بعض اولاد کو ایک بےزراعت اور خشک میدان میں تیرے محترم گھر کے پاس آباد کر رہا ہوں اور اور ان کو یہاں بسا رہا ہوں تا کہ یہ لوگ اے ہمارے پروردگار نماز کی پابندی رکھیں لہٰذا ! میں جن کو یہاں بسا رہا ہوں تو ان کی طرف کچھ لوگوں کے قلوب مائل کر دے اور ان کو کھانے کے لئے اپنی قدرت سے پھل عطا کرتا کہ یہ لوگ تیرا شکر ادا کرتے رہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بیوی اور بچے کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہاں بسایا تھا مکہ کے آس پاس کوئی زراعت کی جگہ نہ تھی پابندی نماز کی دعا اس لئے کی کہ عبادات میں نماز خاص اہمیت رکھتی ہے لوگوں کے دلوں کو مائل فرما دے تا کہ وہ یہاں آ کر بسیں ۔ چناچہ قبیلہ جرہم کے لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے خانہ کعبہ کی بنیاد پرانی ہے طوفان نوح (علیہ السلام) میں اس گھرکے نشان مٹ گئے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر تھا شام میں حرم سے پیدا ہوئے ایک اسماعیل (علیہ السلام) ان کو ماں کے ساتھ لا کر اس جنگل میں بٹھا کر چلے گئے جہاں پیچھے شہر مکہ بسا اللہ تعالیٰ نے چشمہ زمزم نکالا اس سبب سے وہاں بستی ہوئی اور زمین لائق نہ تھی کھیتی کی اور میرے کی اس کے نزدیک زمین طائف سنوار دی کہ بہتر سے بہتر میوے وہاں ہو ویں اور شہر مکہ میں پہنچیں ۔ 12
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب بلا شبہ جو بات ہم اپنے دل میں چھپائیں اور زبان سے ظاہر کریں تجھ کو وہ سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے

38 ۔ اے ہمارے پروردگار ! بلا شبہ جو بات ہم چھپا کر کریں اور جو ظاہر کریں تجھ کو وہ سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ۔ یعنی جو کچھ میں تجھ سے دعا کر رہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تجھ کو میری حاجت معلوم نہیں بلکہ محض اپنی احتیاج اور اپنی عبودیت کا اظہار ہے کیونکہ تو تو جو چیز دل میں رکھیں یا زبان سے نکالیں سب جانتا ہے اور اسی پر کیا موقوف ہے تجھ سے تو زمین و آسمان کی کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہم چھپاویں اور کھولیں ظاہر میں دعا کی اولاد کے واسطے اور دل میں دعا منظور تھی نبی آخر الزماں ؐ کو۔ 12
Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے کچھ شک نہیں کہ میرا رب دعا کا بڑا سننے والا ہے

39 ۔ تمام تعریفیں اور تمام حمد و ثنا اس اللہ تعالیٰ کو سزا وار ہے جس نے بڑھاپے میں مجھ کو اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمائے۔ بلا شبہ میرا پروردگار کا بڑا سننے والا ہے۔ حضرت حق کی مہربانیوں کا اعتراف کیا تا کہ دعا کی قبولیت کے لئے مفید ہو۔
Ayah 14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے رب مجھ کو نماز کی پابندی کرنے والا رکھیو اور میری اولاد میں سے بھی بعضوں کو ہی توفیق دیجئو اے ہمارے رب اور میری دعا قبول کرلے

40 ۔ اے میرے پروردگار مجھ کو نماز کی پابندی اور نماز کا اہتمام کرنے والا رکھیو اور میری اولاد میں سے بھی بعضوں کو نماز کا پابند اور اہتمام کرنے والا کیجئو اے ہمارے رب اور میری یہ دعا قبول کرلے۔