14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 14:41

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے رب محاسبہ اعمال کے دن مجھ کو اور میرے والدین کو اور جب ایمان والوں کو بخش دیجیئو

41 ۔ اے ہمارے پروردگار ! محاسبہ اعمال کے دن مجھ کو اور میرے والدین کو اور سب ایمان والوں کو بخش دیجئو ۔ یعنی جس دن حساب قائم ہو اور محاسبہ اعمال کا دن ہو تو اس دن تیری طرف سے یہ بخشش کا سامان ہو۔
Ayah 14:42

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور اے مخاطب اللہ کو یہ نہ سمجھیو کہ ظالموں کے ان اعمال سے بیخبر ہے جو وہ کر رہے ہیں ان کو خدا نے صرف اس دن تک کے لئے مہلت دے رکھی ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی

42 ۔ اور اے مخاطب ظالموں کی مہلت سے یہ نہ سمجھ اور یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے ان اعمال سے جو وہ کر رہے ہیں بیخبر اور غافل ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے صرف اس دن تک کے لئے مہلت دے رکھی ہے جس دن آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی ۔ یعنی ظالموں کو جو مہلت دے رکھی ہے اس سے یہ خیال نہ کر اور اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ نہ سمجھو بیٹھو کہ وہ ظالم لوگوں کے کرتوتوں سے بیخبر ہے ان کو تو اللہ تعالیٰ نے محض اس دن تک کے لئے مہلت دے رکھی ہے جس دن لوگوں کی آنکھیں ہیبت اور خوف کی وجہ سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
Ayah 14:43

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

لوگ اپنے سر اوپر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہ خود ان کی طرف بھی نہ پھرے گی اور ان کے دل عقل و فہم سے بالکل خالی ہوں گے

43 ۔ لوگ اپنے سر اوپر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں خود ان کی طرف بھی نہ پھرتی ہوں گی اور ان کے دل عقل و فہم اور ہوش و خرد سے یکسر خالی ہوں گے۔ یعنی سر اٹھاتے بھاگ رہے ہوں گے کسی طرف کا دھیان نہ ہوگا حتیٰ کہ اپنی بھی خبر نہ ہوگی نگاہ کی یہ حالت کہ ٹکٹکی بندھی ہوئی ہوگی دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن آسمان کے دروازے کھل کر فرشتے لگیں گے اترنے اور لوگوں کو پکڑ کر عذاب کرنے اس ہول سے سب کی آنکیں اوپر لگ جائیں گی اور نیچے دیکھنے کی فرصت نہ ہوگی ۔ 12 ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہو اور آپ کی امت کو سنانا مقصود ہو۔
Ayah 14:44

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرایئے جس دن ان پر عذاب آجائے گا تب یہ ظالم لوگ یوں کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو توڑی سی مدت تک کے لئے اور مہلت دیدے تو اب کی دفعہ ہم تیری دعوت قبول کرلیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے جواب ملے گا کیا تم اس سے پہلے دنیا میں قسمیں کھا کھا کر یہ نہیں کہتے تھے کہ تم کو یہاں سے کہیں جانا ہی نہیں ہے

44 ۔ اور اے پیغمبر آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرایئے جس دن ان پر عذاب آجائے گا تب یہ ظالم لوگ یوں کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو تھوڑی سی مدت تک کے لئے اور مہلت دے دے تو اب کی دفعہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں گے اور تیرا سب کہنا مان لیں گے اور پیروی کریں گے۔ جواب دیا جائے گا کیا تم اس سے پہلے دنیا میں جب تم کو مہلت ملی ہوئی تھی قسمیں کھاکھا کر یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ تم کو دنیا سے کہیں جانا ہی نہیں ہے۔ یعنی مرتے وقت یا قیامت میں کہیں گے ۔ مرتے وقت کا مطلب یہ ہوگا کہ اور زندہ رکھ تو سب کام چھوڑ کر ایمان لے آئوں گا اور نیک اعمال کروں گا اور قیامت میں کہنے کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم کو پھر دنیا میں بھیج دے لیکن جواب میں کہا جائے گا یہ نہیں ہوسکتا تم کو مہلت بھی دی گئی سوچنے سمجھنے کا موقع بھی دیا گیا ڈرانے والے بھی آئے لیکن تم نے مان کر نہ دیا بلکہ قسمیں کھاکر قیامت کی اور برزخ کی تکذیب کرتے رہے۔
Ayah 14:45

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

حالانکہ تم انہی لوگوں کے رہنے کی جگہ میں رہتے تھے جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم کو یہ بھی ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان ظالموں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور ہم نے تمہارے لئے بہت سی مثالیں بھی بیان کی تھیں

45 ۔ حالانکہ تم ان ہی لوگوں کے رہنے کی جگہ میں آباد تھے جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر و شرک اور قیامت کے انکار سے انہوں نے اپنے کو نقصان پہنچایا تھا اور تم کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا اور تم پر یہ ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان ظالموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا اور ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تھا انہی لوگوں کی جائے سکونت میں یا اس کے آس پاس آباد تھے جہاں وہ سابقہ ظالم اور کافر و مشرک رہا کرتے تھے اور جو کچھ ان سابقہ ظالموں کے ساتھ معاملہ کیا گیا تھا وہ بھی تم کو ظاہر ہوچکا تھا اور اگلے لوگوں کا مزید حال تم کو آسمانی کتابوں سے اور پیغمبروں کی زبانی معلوم ہوچکا تھا اور مثالوں اور قصوں سے امم ماضیہ کا انجام تم کو سنا دیا گیا تھا تو اب کیا بات باقی رہ گئی ہے جس کے لئے مہلت مانگ رہے ہو۔
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور ان ظالموں کا حال یہ تھا کہ انہوں نے بڑ ی بڑی چالیں چلی تھیں اور ان کی سب چالوں کا بدلہ اللہ کے ہاں موجود ہے اور ان کی تدبیریں اس قابل نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے زائل ہو سکیں

46 ۔ اور ان سابقہ لوگوں نے دین حق کو مٹانے میں بڑی بڑی تدبیریں کیں اور بڑی بڑ ی چالیں چلی تھیں ان سب کی تدبیریں اور چالیں اللہ تعالیٰ کے سامنے تھیں اور ان سب چالوں کا بدلہ اللہ کے ہاں موجود ہے اور ان کی تدبیریں اور چالیں اس لائق نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ۔ یعنی وہ لوگ بڑی چال باز اور بڑے دائوں پیچ کرنے والے تھے اور ان کے مکرو فریب سب خدا کے سامنے تھے یا ان سب فریب کاریوں کا بدلہ اور جزا اللہ تعالیٰ کے پاس تھی باوجود اس کے بھی وہ دین حق اور پیغمبروں کو جو پہاڑوں کی طرح مستقل تھے اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے لوگوں نے کئی تدبیریں ٹھہرائی تھیں حضرت (علیہ السلام) کو سب مل کر قتل کریں یا قید کریں یا آپس سے نکال دیں اسی کو فرمایا ۔ 12 ہو سکتا ہے کہ ا ن نافیہ نہ ہو اور مطلب یہ ہو کہ ان اگلے لوگوں کی چالیں ایسی تھیں اور ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتے لیکن ہوا یہ کہ دین حق ان کی چالوں پر غالب ہوا اور پیغمبروں کی بات دور رہی ۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

اور اے مخاطب اللہ کے بارے میں یہ خیال کیجئو کہ جو عدہ اس نے اپنے رسولوں سے کیا ہے وہ اس کے خلاف کرنیوالا ہے یقینا اللہ بڑا زبردست اور پورا بدلا لینے والا ہے

47 ۔ اے مخاطب ! اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ خیال نہ کیجئو کہ اس نے جو وعدہ اپنے رسولوں سے کیا وہ اس کے خلاف کرنے والا ہے یقینا اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور پورا بدلہ لینے والا ہے۔ یعنی کوئی یہ رائے قائم نہ کرے اور یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا ہے وعدہ کافروں کے مقابلہ میں نصرت اور فتح یا قیامت میں عذاب وغیرہ کا ہو اس کی خلاف ورزی ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست اور زور آور اور پورا بدلہ لینے والا کمزور نہیں ہے اور بدلہ لے سکتا ہے۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن اس زمین کے علاوہ دوسری زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ خدائے یگانہ اور زبردست کے روبرو نکل کھڑے ہوں گے

48 ۔ جس دن اس زمین کے علاوہ دوسری زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دیا جائیگا اور سب لوگ اللہ تعالیٰ اکیلے زبردست کے روبرو نکل کھڑے ہوں گے۔ یعنی پہلے نفحہ صور میں سب زمین و آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور پھر دوبارہ بنیں گے اور سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں سے اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے وہی دن انتقام کا ہوگا ۔
Ayah 14:49

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور تو اس دن مجرموں کو زنجیروں میں باہم جکڑے ہوئے دیکھے گا

49 ۔ اور اے مخاطب تو اس دن مجرموں کو باہم زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا ۔ یعنی ایک زنجیر میں بہت سے منکر بندھے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 14:50

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان مجرموں کے کرتے ایک بدبو دار تیل کے ہوں گے اور آگ نے ان کے چہروں کو ڈھانک رکھاہو گا یہ عذاب اس لئے کیا جائیگا

50 ۔ اور ان مجرموں کے کرتے ایک بدبو دار تیل کے ہوں گے اور آگ نے ان کے چہروں کو ڈھانک رکھا ہوگا اور ان کے چہروں کو آگ لپٹی ہوئی ہوگی ۔ قطر ان چیڑکا تیل ہو یا گندھک ہو بہر حال کوئی ایسی چیز ہے جس کو آگ بہت جلد پکڑتی ہے تا کہ مجرم کو آگ فوراً ہی لپیٹ جائے۔
Ayah 14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تا کہ اللہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ، یقینا اللہ حساب لینے میں جلدی کرتا ہے

51 ۔ یہ عذاب اس لئے کیا جائے گا تا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی کمائی اور اس کے کئے کی جزا اور بدلا دے یقینا اللہ تعالیٰ حساب لینے میں جلدی کرتا ہے۔ جلدی یہی کہ حساب لینے میں کچھ دیر نہیں یا یہ مطلب ہے کہ حساب سب کا سب جلد ہوجائے گا ۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ قرآن کریم لوگوں کے لئے احکام کا پہنچانا ہے اور تا کہ اس کے ذریعہ سے لوگ ڈرائے جائیں اور تا کہ وہ اس امر کا یقین کرلیں کہ وہ وہی خدا ایک معبود برحق ہے اور تا کہ وہ لوگ نصیحت پکڑیں جو اہل عقل ہیں

52 ۔ یہ قرآن کریم لوگوں کے لئے احکم پہنچانا ہے اور اس کی تبلیغ اس لئے ضروری ہے تا کہ لوگ اس کی وجہ سے ڈرائے جائیں اور چونک جائیں اور تا کہ یہ جان جائیں کہ معبود برحق وہی ایک اللہ تعالیٰ ہے اور تا کہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں اور غور و فکر سے کام لیں جو اہل عقل و خرد ہیں ۔ یعنی یہ قرآن کریم ایک تبلیغ کی چیز ہے اور پہنچانے والی بات ہے اور لوگوں کو اس کی خبر دینی ہے تا کہ لوگ رسول کی تصدیق کریں اور اس کے ذریعہ سے ڈرائیں اور خدا کا وحدہٗ لا شریک ہونا معلوم کرلیں اور سمجھدار لوگ نصیحت قبول کریں۔ لم تفسیر سورة ابراہیم