13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المرا قف یہ آیتیں قرآن کی آیتیں ہیں اور آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کی جانب نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

1 ۔ الم قف یہ آیتیں کتاب یعنی قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کی جانب نازل کیا گیا ہے وہ سچ اور برحق ہے لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے اس قدر اونچا بنادیا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو پھر وہ عرش پر اپنی شان کے موافق قائم اور جلوہ گر ہوا اور سورج و چاند کو کام میں لگا دیا کہ ہر ایک ان میں سے ایک وقت معین پر چل رہا ہے وہی خدا جملہ امور کی تدبیر کرتا ہے وہ اپنے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے تاکہ اپنے رب کی پیشی میں حاضر ہونے کا یقین کرو

2 ۔ اللہ تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند اور استوار کردیا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو پھر وہ عرش پر اپنی نشان کے موافق قائم اور جلوہ گر ہوا اور اس نے سورج و چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک ان میں سے اپنے مدار پر ایک وقت معین پر چلتا رہتا ہے اور ایک وقت معین یعنی قیامت تک چلتا رہے گا وہ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے اور اپنے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے تا کہ تم اپنے پروردگار کی پیشی میں حاضر ہونے اور اس سے ملنے کا یقین کرو۔ یعنی سورة یوسف (علیہ السلام) کے آخر میں رسالت پر بحث تھی اس سورت کی شروع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل مذکور ہیں اور آسمان و زمین میں جو اس کی قدرت کی کارفرمائیاں ہیں ان پر توجہ دلائی گئی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چلتا ہے بڑی مدت تک یعنی قیامت تک یا اپنے اپنے دور تک سورج ایک برس تک اور چاند ایک مہینے تک پھر نیا دور شروع کرتے رہیں ۔ 12 ۔ ہم نے تیسیر میں دونوں تفسیروں کی رعایت رکھی ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس زمین میں پہاڑ اور ندیاں پیدا کیں اور اس زمین میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسم پیدا کئے وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے بیشک ان چیزوں میں ان گوگوں کے لئے بڑی بڑ ی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کیا کرتے ہیں

3 ۔ وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے زمین کو بنایا اور اس زمین پر پہاڑ اور ندیاں پیدا کیں اور اس زمین میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پھل پیدا کئے وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے بلا شبہ ان چیزوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل توحید موجود ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ قسم قسم کی چیزیں پیدا کیں کٹھا ، میٹھا ، چھوٹا ، بڑا ، گرم ، سرد ، نر ، مادہ ، غرض ہر پھل کا جواب موجود ہے۔ رات کو دن پر ڈھانکنا یعنی دن کی روشنی پر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر میوے کے جوڑے یعنی ایک قسم کا مل ایک قسم نا قص اور رات دن ایک اندھیرا ایک اجالا رنگا رنگ چیزیں بنائی نشان ہے کہ اپنی خوشی سے بنایا اگر ہر چیز خاصیت سے ہوتی تو ایک سی ہوتی ۔ 12
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں مختلف قطعات ہیں جو ایک دور سے سے ملے ہوئے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں جن میں بعض دو تنے والے ہوتے ہیں اور بعض دو شاخ نہیں ہوتے ان مذکورہ بالا نباتات کو ایک ہی قسم کا پانی دیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے ایک تو دوسرے پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

4 ۔ اور زمین میں مختلف کھیت اور قطعات ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں جن میں سے بعض دو شاخیں ہوتے ہیں اور بعض دو شاخے نہیں ہوتے۔ ان مذکورہ بالا نباتات کو ایک ہی قسم کا پانی دیا جاتا ہے اور ان میں سے ہم ایک دوسرے پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں ان باتوں میں بھی ان لوگوں کے لئے توحید کے دلائل موجود ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔ یعنی بعض درختوں میں زمین سے پھوٹتے ہی کتنی شاخیں ہوجاتی ہیں یا ایک تنے میں سے دوسرا تنا نکل آتا ہے اور بعض ایسے نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی تنا چلا جاتا ہے ۔ بعض برابر دو درخت اگ جاتے ہیں نیچے سے جڑ ملی ہوتی ہے جیسے کھجوروں کے جھنڈ ، پھر ایک ہی قسم کا پانی دیا جاتا ہے ایک ہی آفتاب کی دھوپ ایک ہی قسم کی ہوا اور باوجود اس کے پھلوں کے مزے میں فرق کسی کا پھل گھٹیا کسی کا بڑھیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ کوئی غیبی طاقت ہے بشرطیکہ کوئی عقل سے کام لے۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر آپ کو کسی بات پر تعجب ہو تو کافروں کا یہ قول بڑے تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر از سر نو پیدا ہوں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی دوزخی ہیں وہ اس دوز خ میں ہمیشہ رہیں گے

5 ۔ اور اگر اے پیغمبر ! آپ کو کسی بات پر تعجب اور اچمبا ہو تو کافروں کا یہ قول واقعی تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوگئے تو کیا کیا ہم قیامت میں از سر نو پھر پیدا ہوں گے اور کیا ہم نئے سرے سے بنائے جائیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں ۔ وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو خالق اور تمام عالم کا پیدا کرنے والا مان کر پھر دوبارہ پیدا کرنے سے انکار کرنا اور اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز سمجھنا حالانکہ ہمیشہ کسی چیز کا پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور بنانا دقت طلب ہوتا ہے تو اس قسم کی بےعقلی اور ناسمجھی کی بات کہتے ہیں اس سے زیادہ اور کون سی بات اچم بے اور تعجب کی ہوگی۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور اے پیغمبر بھلائی سے پہلے یہ لوگ آپ سے برائی طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے بہت سے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں اور یہ امر یقینی ہے کہ آپ کا رب لوگوں کو ان کی زیادتیوں کے باوجود معاف بھی کرتا رہتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ آپ کا رب شدید ترین عذاب دینے والا بھی ہے

6 ۔ اور اے پیغمبر عافیت اور بھلائی سے پہلے یہ لوگ آپ سے برائی اور مصیبت طلب کرنے کا تقاضا اور جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے بہت سے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں یہ امر یقینی ہے کہ آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کی زیادتیوں کے باوجود معاف کرتا رہتا ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا پروردگار سخت سے سخت سزا دینے والا بھی ہے ۔ یعنی عافیت سے پہلے عذاب طلب کرتے ہیں اور آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ عذاب کوئی ایسی مستبعد چیز تو نہیں ہے کہ کبھی آیا نہ ہو ان سے پہلوں پر بارہا آچکا ہے جسکی مثالیں اور واقعات گزر چکے ہیں یہ واقعہ ہے کہ حضرت حق تعالیٰ خطائوں پر چشم پوشی بھی فرماتا ہے اور جب کسی کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بھی بڑی سخت ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں برائی چاہتے ہیں آگے بھلائی سے یعنی ایمان نہیں قبول کرتے کہ تب خوبی پاویں انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں عذاب لے آئو اور پہلے ہوچکی ہیں کہاوتیں یعنی عذاب ویسے جن کی کہاوتیں چلی ہیں ۔ 12
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی جانب سے ہماری منہ مانگی کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوئی اے پیغمبر ! آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قسم کے لئے کوئی نہ کوئی رہنما ہوا ہے

7 ۔ اور یہ دین حق کے منکروں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر جو معجزہ ہم چاہتے ہیں وہ منہ مانگا معجزہ کیوں نہیں نازل ہوا ۔ اے پیغمبر آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور آپ کا کام تو صرف ڈر سنا دینا ہے بلکہ ہر قوم کے لئے کوئی نہ کوئی ہادی اور رہنما ہوا ہے۔ یعنی معجزوں کی فرمائش کا پورا کرنا آپ کے اختیار میں نہیں آپ تو کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ، پھر یہ کہ آپ کوئی انوکھے پیغمبر نہیں ہیں بلکہ ہر قوم میں ہادی ہوتے چلے آئے ہیں خواہ ہر قوم میں کوئی بالذات پیغمبر اور رسول آیا ہو یا رسول کا رسول آیا ہو کسی ہادی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو معجزہ تم مانگو گے وہ ضرور تم کو دکھایا جائیگا اور ایسے ہی رسول تم بھی ہو تمام بنی نوع انسان کے لئے وہ خاص قوموں کے ہادی ہوتے تھے آپ کل عالم کے ہادی ہیں۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اور ہر مادہ جو پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے اے خدا خوب جانتا ہے اور رحم میں جو کمی اور بیشی ہوتی ہے اسکو بھی خدا خوف جانتا ہے اور خدا کے ہاں ہر چیز کا اک اندازہ ہے

8 ۔ رسالت کا ذکر فرمایا پھر دلائل توحید اور باری تعالیٰ کے وسعت علم اور قدرت کا اظہار فرماتے ہیں ہر مادہ جو پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے اسے اللہ خوب جانتا ہے اور رحم میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اور پیٹ جو سکڑتے بڑھتے ہیں اس کو بھی وہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ یعنی مادہ کے پیٹ میں جو بچہ ہوتا ہے اس کا لڑکا ہونا یا لڑکی ہونا ناقص ہونا یا پورا ہونا اچھا ہونا یا برا ہونا طویل یا قصیر ہونا سعید یا شقی ہونا سخی با بخیل ہونا ، عالم یا جاہل ہونا ۔ غرض ! اس حمل کی پوری حالت کو جانتا ہے رحم کی کمبی بیشی جلدی ہونا یا دیر سے ہونا ایک بچہ یا دو یا دو سے زائد ہونا اسکو بھی جانتا ہے اور اس کے علم میں ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ ہر چھپی اور کھلی بات کا جاننے والا ہے سب سے بڑا اور عالی مرتبت ہے

9 ۔ وہ ہر چھپی کھلی اور پوشیدہ و ظاہر ہر چیز کو جاننے والا سب سے بڑا اور عالی مرتبت ہے۔ یعنی سب سے واقف اور سب زیر نگیں اس کی لا محدود طاقت اور لا محدود علم سے کوئی چیز خارج نہیں ۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے وہ شخص جو چپکے سے کوئی بات کہے اور وہ شخص جو پکار کر بات کرے اور وہ شخص جو رات کو کہیں چھپ رہے اور وہ شخص جو دن کو راستہ میں چلے پھرے یہ سب خدا کے نزدیک برابر ہیں

10 ۔ تم میں سے وہ شخص جو چپکے سے کوئی بات کہے اور وہ شخص جو پکار کر بات کہے اور وہ شخص جو رات کو کہیں چھپ رہے اور وہ شخص جو دن کو راستہ میں چلے پھرے یہ سب خدا تعالیٰ کے نزدیک برابر یعنی رات کی تاریکی میں چھپ جائے یا دن کو بازاروں میں اور گلیوں میں چلتا پھرتا رہے خدا کے علم میں برابر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو اپنا کام رات کو چھپا دے یا دن کو ظاہر کرے خدا تعالیٰ کے نزدیک برابر ہے۔ 12
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

انسان کے لئے کچھ فرشتے محافظ ہیں جو باری باری آتے ہیں وہ فرشتے خدا کے حکم سے ، انسان کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے ہیں بہ امر واقعی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہیں بدل دیتے اور جب خدا کسی قوم پر برائی یعنی عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو پھر وہ برائی واپس نہیں ہوسکتی اور خدا کے سوا ان لوگوں کا کوئی مدد گار بھی نہیں ہوتا

1 1 ۔ ہر انسان کے لئے کچھ محافظ فرشتے اور پہرہ دار مقرر ہیں جو باری باری آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی بدلی ہوئی رہتی ہے وہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کے سامنے سے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اور بلائو آفات سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں بلا شبہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہیں بدل دیتے اور جب حضرت حق تعالیٰ کسی قوم پر برائی اور عذات کا ارادہ کرلیتا ہے تو پھر وہ برائی اور عذاب واپس نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مدد گار بھی نہیں ہوتا ۔ یعنی ہر شخص کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو کراما ً کاتبین کی طرح بدلتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق بندے کی حفاظت کرتے ہیں اور بلائو آفات سے بچاتے رہتے ہیں اور موذی جانوروں سے حفاظت کرتے ہیں اور چونکہ یہ محافظ قضاء قدر کے ماتحت ہیں ۔ فاذا جاء القدرخلوبینہ و بین القدر یعنی جب قدر الٰہی آجاتی ہے تو یہ فرشتے قدر الٰہی کے مقابلہ میں ہٹ جاتے ہیں خواہ ان فرشتوں کی تعداد بیس یا بیس سے زیادہ ہو۔ بہر حال ! کی فرد یا افراد کی نگہبانی اسی وقت تک ہوتی جب وہ قوم اپنی حالت کو نہیں بدلتی جب کوئی قوم کفران نعمت کرتی ہے تو نعمت سلب ہوجاتی ہے اور اس قوم کی حالت کو بدل دیا جاتا ہے یعنی ابتداء ً کسی قوم کی اچھی حالت کو نہیں بدلا جاتا البتہ جب وہ لوگ خود اپنے کو بدلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو بدل دیتا ہے اور ان میں تبدیلی کردیتا ہے اور اپنے انعامات سلب کرلیتا ہے اور عذاب مسلط کردیتا ہے اور اس کا عذاب ٹالے سے ٹلتا نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نگہبانی سے اور مہربانی سے محروم نہیں کرتا کسی قوم کو جو ہمیشہ اس کی طرف سے ہی ہے جس تک دے چال اپنی نہ بدلیں اللہ کے ساتھ ۔ 12
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

خدا کی ذات وہ ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کو بجلی دکھاتا ہے اور بھاری بھاری بادل اٹھا لاتا ہے

12 ۔ اللہ تعالیٰ کی مقدس اور یکتا وہ ذات ہے جو تم کو ڈرانے اور خوف ڈلانے کو اور بارش کی طمع اور امید دلانے کو بجلی چمکتی ہوئی دکھلاتا ہے اور پانی سے بھرے ہوئے بوجھل اور بھاری بادل اٹھا لاتا ہے ۔ یعنی بجلی کی چمک سے دونوں باتیں ہوتی ہیں بارش کی امید اور بجلی گرنے کا خوف۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد فرشتہ اور دوسرے فرشتے سب خدا کے خوف سے خدا کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر گرانا چاہتا ہے ان بجلیوں کو گرا دیتا ہے اور یہ کافر خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑی سخت قوت و تدبیر کا مالک ہے

13 ۔ اور رعد فرشتہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتا ہے اس کے ڈر اور خوف سے اور دوسرے فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ زمین کی طرف بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان کو گرا دیتا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑی قوت و تدبیر کا مالک ہے۔ یعنی رعد اور دوسرے فرشتے اس کے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں ۔ رعد اور صاعقہ گرج اور کڑک چونکہ بجلی کی چمک کے ساتھ ہوتے ہیں اس لئے صواعمق کا ترجمہ بجلیاں کیا گیا ۔ رعد سے مراد فرشتہ یا فرشتہ کی آواز ہے اس آیت کا تعلق یا توار بدبن ربیعہ اور عامر بن طفیل سے ہے۔ ان دونوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں گستاخانہ رویہ اختیار کیا تھا چناچہ اربدبن ربیعہ پر بجلی گری اور عامر طاعون میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوا یا عرب کے ایک اور سرکش رئیس کے ساتھ تعلق ہے جس کو حضور ﷺ نے بلایا تو اس منکر نے کہا کون رسول اللہ ! اور اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے وہ سونے کا ہے یا چاندی کا یا لوہے کا ۔ غرض ! اس قسم کی بیہودہ بکواس کرتا رہا اور باوجود حضور ﷺ کے بار بار بلانے کے نہیں آیا جب وہ یہ بکواس کر رہا تھا تب اس پر بجلی گری ۔ محال کے معنی بعض نے کید اور بعض نے قوت کئے ہیں۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سچا پکارنا اسی کے لئے خاص ہے اور اور جن معبودوں کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا اس سے زیادہ کوئی جواب نہیں دے سکتے جیسے پانی کہ اس پانی کی طرف کوئی دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ وہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ پانی کبھی اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں اور کافروں کی پکار نہیں ہے مگر محض بےسود

14 ۔ اسی کا پکارنا سچ ہے اور سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا اس سے زیادہ کوئی جواب نہیں دے سکتے اور اس سے زیادہ ان کی پکار کو قبول نہیں کرسکتے جیسے پانی کہ اس پانی کی طرف کوئی دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ وہ پانی اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں اور کافروں کی پکار نہیں ہے مگر بےسود اور بیکار ۔ یعنی دعا اور عبادت کی دو قسمیں ہیں ایک حق اور دوسری باطل پس جو پکار اور عبادت حق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارنا اور دوسروں کی عبادت کرنا باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کے قبول کرنے کی قدرت ہے اور دوسروں کو نہیں ان کو پکارنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی پانی کے آگے ہاتھ پھیلا کر یہ خواہش کرے کہ وہ پانی اس کے منہ میں آجائے۔ نہ پانی میں یہ صلاحیت ہے کہ منہ میں آجائے نہ پانی میں یہ صلاحیت ہے کہ منہ میں آجائے نہ غیر اللہ میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی کی دعا اور عبادت کو قبول کرسکیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر جن کو پکارتے ہیں بعض خیال میں اور بعض جن ہیں اور بعض چیزیں ہیں کہ ان کے کچھ خواص ہیں لیکن اپنے خواص ہیں لیکن اپنے خواص کے مالک نہیں پھر کیا حاص ان کا پکارنا جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں یہ اس کی مثال فرمائی۔ 12
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جو مخلوق بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب خوشی سے یا نا خوشی سے خدا ہی کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہے اور صبح و شام کے اوقات میں ان کے سائے بھی سجدہ زیر ہیں

15 ۔ اور جو مخلوق بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب خوشی سے یا نا خوشی سے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے اپنا سر خم کئے ہوئے ہیں اور صبح و شام کے اوقات میں ان چیزوں کے سائے بھی سر خم کئے ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر چلتا ہے اور سب اس کے مطیع و منقاد ہیں کچھ وہ ہیں جو اپنی خوشی سے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اس کے زیر تصرف ہیں اور اس کے حکم کے اثر و نفاذ کو اپنے پر سے ہٹا نہیں سکتے یہی مطلب ہے سجدے کا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اللہ پر یقین لایاخوشی سے سررکھتا ہے اس کے حکم پر اور جو نہ یقین لایا آخر اس پر بھی اسی کا حکم جاری ہے اور پر چھائیاں صبح و شام زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ہے ان کا سجدہ ۔ 12
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے پوچھیئے کہ آسمان اور زمین کا رب کون ہے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ زمین و آسمان کا رب اللہ ہی ہے آپ ان سے فرماتا ہے کیا تم نے اللہ کے سوا ایسوں کو اپنا مدد گار بنا رکھا ہے جو خود اپنے بھلے اور برے کا بھی اختیار نہیں رکھتے ، آپ ان سے کہیئے بھلا کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے یا کہیں تاریکیاں اور نور برابر ہے یا ان مشرکوں نے خدا کے ساتھ کچھ ایسے شرکاء مقرر کیے ہیں کہ ان شرکاء نے بھی خدا کی طرح کوئی مخلوق پیدا کی ہے کہ وہ مخلوق ان مشرکوں پر خدا کی پیدا کردہ مخلوقں سے مل کر مشتبہ ہوگئی ہے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہے اکیلا سب پر غالب

16 ۔ اے پیغمبر آپ ان سے پوچھتے کہ آسمان و زمین کا پروردگار کون ہے اور چونکہ اس کا جواب ظاہر ہے اس لئے آپ فرما دیجئے کہ زمین و آسمان کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے آپ ان سے کہئے پھر کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے ہوا ایسوں کو اپنا حمایتی اور مدد گار بنا رکھا ہے جو خود اپنے نفع اور ضرر کا اختیار نہیں رکھتے آپ ان سے کہئے کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے یا کہیں اندھیریاں اور اجالا برابر ہوسکتا ہے یا ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے شرکاء مقرر کئے ہیں اور قرار دے رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی کچھ ایسی چیزیں پیدا کی ہوں اور ایسی مخلوق پیدا کی ہو جیسے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے کہ وہ مخلوق ان مشرکوں پر خدا کی پیدا کردہ محلوق سے مل کر مشتبہ ہوگئی ہے اور شرکاء کی اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ وہ مخلوق ایک سی معلوم ہوتی ہے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہے اکیلا سب مخلوقات پر غالب ۔ یعنی آسمان و زمین کا خالق اور ان کو قائم رکھنے والا کون ہے پھر یہ دلائل توحید سن کر تم ایسوں کو رفیق اور حمایتی قرار دیتے ہو جو اپنے ہی نفع نقصان کے مالک نہیں ، چہ جائے کہ دوسروں کے کام آئیں اس کے بعد مشرک اور مومن کا اور شرک و توحید کا فرق بیان فرمایا اور عد م مساوات کا اظہار کیا اندھا اور سوجھا کا اندھیرا اور اجالا ایک دوسرے کے برابر نہیں ۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے ساتھ ایسے شرکاء قرار دے لئے ہیں جنہوں نے خدا کی طرح کوئی مخلوق پیدا کی ہو اور وہ ان پر مشتبہ ہوگئی ہو اور یہ شناخت نہیں ہوسکتی کہ خدا کی مخلوق کون سی ہے اور شرکاء کی کون سی ہے یعنی اپنے شرکاء کا جائز ہ لو جب کوئی بات بھی ان میں نہیں ہے ، تو اس خالق ، واحد اور قہار کے شرکاء تجویز کرنے اور قرار دینے کا مطلب سوائے گمراہی اور ضلالت کے اور کیا ہے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اپنے اپنے اندازے کے موافق نالے بہ نکلے اور سیلاب کا پانی پھولے ہوئے جھاگ اور خس و خاشاک کو اوپر اٹھا لایا اور جن دھاتوں کو زیور اور سامان بنانے کی غرض سے لوگ آگ میں گلاتے ہیں اور ان میں بھی اسی قسم کا میل کچیل اور جھاگ ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ حق اور باطل کی اسی طرح مثال بیان کرتا ہے پھر جو بھاگ اور میل کچیل ہے ، اس کو پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کیلئے مفید ہے وہ زمین میں رہ جاتی ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کیا کرتا ہے

17 ۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر پانی سے اپنے اپنے اندازے کے موافق نالے بہ نکلے اور سیلاب کا پانی پھولے ہوئے جھاگ اور خس و خاشاک کو اوپر اٹھالایا اور جن دھاتوں کو زیور یا اور سامان بنانے کے لئے آگ میں گلاتے ہیں ان میں بھی اسی قسم کا میل کچیل اور جھاگ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ حق اور باطل کو اسی طرح مثال بیان کرتا ہے پھر جو جھاگ اور میل کچیل ہے وہ سوکھ کرجاتا رہتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لئے نافع اور مفید ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے اور لوگوں کو نفع رسانی کے لئے رہتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر ضروری چیز کی مثالیں بیان فرمایا کرتا ہے۔ حق کی پائیداری اور باطل کی نا پائیداری کی مثال فرمائی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آسمان سے دین حق اترتا ہے تو ہر ایک اپنی استعداد کے موافق فیض لیتا ہے پھر حق اور باطل بھڑتا ہے تو میل ابھر آتا ہے جیسے مینہ کا پانی زمین میں مل کر یا روپے تانبے کو دہکا کر میل ابھرتا ہے آخر جھاگ کو بنیاد نہیں اور کام کی چیز کو بنیاد ہے۔ یہاں حق اور باطل بھڑنا دنیا کی لڑائی مراد ہے آخر حق غالب آتا ہے یا ہر ایک کے دل میں حق و باطل بھڑتا ہے آخر حق اس باطل کو مٹا کر صاف حق رہتا ہے۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر میل کچیل کو ابھار ہوتا ہے لیکن آخر کار وہی رہ جاتا ہے جو صحیح ہے اور میل کچیل خشک ہو کر اتر جاتا ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کے احکام کو قبول کیا ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے خدا کے حکم سے سرتابی ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے پاس اگر وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ ہو تو یہ سب مال و دولت اپنے فدیہ میں دے دیں یہی لوگ ہیں جن سے سخت حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بڑی قرار گاہ ہے

18 ۔ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے احکام کو قبول کرلیا اور جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا ان کے واسطے بھلا اور اچھا بدلا ہے اور جن لوگوں نے اس کے حکم سے سرتابی کی اور حضرت حق کا کہنا نہ مانا ان کا یہ حال ہوگا کہ اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ ہو تو یہ سب مال و دولت اپنے فدیہ میں دے ڈالیں اور اپنے کو عذاب سے بچائیں یہی لوگ ہیں جن کا قیامت میں حساب سخت ہوگا اور ان سے برا حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بری قرار گاہ ہے۔ یعنی جو لوگ کفر و معصیت پر قائم رہے ان کی حالت یہ ہوگی کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں اگر وہ سب ان کے پاس ہوں اور ان کی مثل اور بھی ہوں تو وہ اپنی رہائی کے لئے قیامت میں یہ سب دنیا بھر کی دگنی چیزیں دے دیں ان لوگوں سے سخت اور برا حساب لیا جائے گا البتہ جو لوگ حکم مانیں گے ان کے لئے اچھی چیز اور اچھا بدلہ ہوگا یعنی ان کو دائمی جنت ملے گی ۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

اے پیغمبر بھلا وہ شخص جو اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ جو قرآن کریم آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے کیا یہ شخص اسکی مثل ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ان باتوں سے وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو اہل خرد ہیں

19 ۔ وہ شخص جو یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ برحق ہے بھلا کیا یہ شخص اس کی مثل ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ان باتوں سے تو بس وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو صاحبان عقل و خرد ہیں ۔ یعنی قرآن کریم کے برحق ہونے کا یقین کرنے والا اور اندھا برابر نہیں اعمی فرمایا منکر حق کو ۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جو عہد انہوں نے اللہ سے کیا ہے اس کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے

20 ۔ یہ اہل خرد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے۔ یعنی جو عہد اللہ تعالیٰ سے انہوں نے کیا ہے اس کا یفا کرتے ہیں اور اسکو توڑتے نہیں ۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور نیز یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن تعلقات کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو جوڑتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور حساب کی سختی کا ان کو خوف رہتا ہے

21 ۔ اور نیز یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن تعلقات کو اللہ تعالیٰ نے قائم رکھنے اور جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑتے اور قائم رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب و اور حساب عسیر کا ان کو خوف رہتا ہے اور وہ ڈر کرتے ہیں یعنی گود پیٹ کے رشتوں میں صلہ رحمی کرتے ہیں یا اسلامی بھائی چارے کو قائم رکھتے ہیں۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور نیز یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی رضا جوئی کی غرض سے تکالیف پر صبر کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کیا کرتے ہیں اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کا اس عالم میں نیک انجام ہے

22 ۔ اور نیز اہل خرد و ہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی توجہ اور اس کی رضا جوئی کی غرض سے مصائب اور تکالیف پر صبر کرتے اور دین حق پر مضبوط رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں اور برائی کی مدافعت بھلائی سے کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں نیک انجام ہے اور آخرت کا گھر ان کے لئے ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جو دشواریاں اور تکالیف پیش آتی ہیں ان کو برداشت کرتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حضرت حق تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا تلاش کریں۔ برائی کے مقابلہ میں بھلائی کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بد سلوکی کا جواب حسن سلوک سے دیتے ہیں ظلم کا مقابلہ معافی سے کرتے ہیں اور گناہ کا دفعیہ توبہ اور استغفار سے کرتے ہیں پوشیدہ اور علانیہ یعنی جیسا موقع محل ہوتا ہے خیرات کرتے ہیں آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لئے ہے آگے نیک انجامی اور آخرت کے گھر کا بیان ہے۔
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

وہ یہ کہ دائمی باغات ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے ماں باپ اور ان کے بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو لائق اور قابل ہوں گے وہ بھی ان باغوں میں داخل ہوں گے اور فرشتے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس یوں کہتے ہوئے یوں آئیں گے

23 ۔ وہ آخرت کا گھر یہ کہ دائمی رہنے کے باغات ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو جنت کی صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہوں گے وہ بھی ان باغوں میں داخل ہوں گے اور فرشتے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس یوں کہتے ہوئے آئیں گے ۔ یعنی دار آخرت کی بھلائی یہ کہ لوگ نہ صرف تنہا جنتوں میں داخل ہوں گے بلکہ ان کے ماں باپ ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے بھی جو لوگ اہل اور قابل ہوں گے وہ بھی ان کے ہمراہ ہی داخل کردیئے جائیں گے تا کہ سب ساتھ رہیں ۔ ان ساتھیوں میں سے جو ان کا ہم مرتبہ ہوگا اس کے ساتھ رہنے میں تو کوئی اشکال نہیں اگر کوئی کم مرتبہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنی نوازشات بےکراں سے اس کے مرتبے کو بلند فرما کر اس کو ان لوگوں کے ہمراہ کر دے گا تا کہ یہ سب ساتھ رہیں ۔ آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مقربین بارگاہ کی برکت سے ان کے متعلقین بھی مستفید ہوں گے بشرطیکہ ان متعلقین میں صلاحیت ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے بعض مخلصین جنت میں داخل ہو کر دریافت کریں گے میری ماں کہاں ہے میرا باپ کہاں ہے میرا بیٹا کہاں ہے میری بیوی کہاں ہے ، کہا جائے گا انہوں نے ایسے عمل نہیں کئے جیسے تو نے عمل کئے ہیں وہ عرض کرے گا میں جو عمل کیا کرتا تھا وہ اپنے لئے اور ان سب کے لئے کیا کرتا تھا۔ اسی بنا پر من صلح کی تفسیر بعض مفسرین نے ایمان سے کی ہے یعنی جو مومن ہیں ان کو درجات سے سرفراز فرما کر مخلصوں کے ساتھ کردیا جائیگا۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

اس صبر کے صلہ میں تم پر سلامتی ہے جو تم کیا کریت تھے سو اس عالم میں تمہارا انجام بہت خوب ہے

24 ۔ کہ تم کو ہر آفت اور ہر خطرے سے سلامتی ہو کہ اس صبر کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے اور دین حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تھے اس عالم میں تمہارا نجام بہت اچھا ہے۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ سے پختہ عہد کرنے کے بعد عہد شکنی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ ان کو توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور اس عالم میں ان کے لئے خرابی ہے

25 ۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے پختہ عہد کرنے کے بعد عہد کو توڑ دیتے ہیں اور عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو جوڑنے اور ملانے کا حکم دیا ہے وہ ان کو قطع کرتے اور توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت اور پھٹکار ہوگئی اور اس عالم میں ان کے لئے برائی اور خرابی ہے۔ یعنی جن نیک اور مخلص لوگوں کا اوپر ذکر آیا تھا ان لوگوں کے کردار ان اعمال کے بالکل خلاف رہے اور نافرمانی کے خوگر اور عادی رہے ان کا حشر برابر ہوگا ۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے روزی تنگ کردیتا ہے اور یہ کافر دنیا کی زندگی پر اتراتے ہیں حالانکہ یہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں سوائے تھوڑے سے فائدے کے

26 ۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور زیادہ رزق دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے روزی تنگ کردیتا ہے اور کم رزق دیتا ہے اور یہ دین حق کے منکر دنیوی زندگی پر اتراتے اور خوش ہوتے ہیں حالانکہ یہ دنیوی زندگی اور یہاں کا عیش و عشرت آخرت کے مقابلہ میں سوائے تھوڑے سے فائدے اور متاع حقیر کے اور کچھ بھی نہیں ۔ یعنی یہ دنیوی مفاد اور یہاں کے عیش و عشرت کو رحمت اور غضب کا معیار قرار نہ دو اور دھوکہ نہ کھائو رزق تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے کم و بیش دیتا ہے اور اگر کسی کو زیادہ دیتا بھی ہے تو آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کچھ بھی نہیں اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی جانب سے کوئی ہمارا منہ مانگا معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ، آپ کہہ دیجئے اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اور وہ اس شخص کو اپنا راستہ دکھاتا ہے جو اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے

27 ۔ اور جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے وہ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کے رب کی جانب سے کوئی ہمارا منہ مانگا اور فرمائشی نشان اور معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اور وہ اس شخص کو اپنا راہ دکھاتا ہے اور اپنی جانب اس کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یعنی قرآن شریف جس کی ہر آیت معجزہ اور ایک نشانی ہے تم کو جب کافی نہیں ہے تو فرمائشی معجزہ دکھانے سے کیا ہوگا ہدایت تو اس کو نصیب ہوتی ہے جو ہدایت کا خواہش مند ہو اور ہماری جانب رجوع کرے معاندانہ سرگرمیوں جاری کھتے ہوئے ہدایت میسر نہیں آسکتی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حق تعالیٰ کو ضرور نہیں کہ سب کو راہ پر لا دے یا نشانیاں بھیج کر ہر طرح ہدایت دے بلکہ یہی منظور ہے کہ کوئی بچلے اور کوہ راہ پاوے سو جس کے دل میں رجوع آئی نشان ہے کہ اس کو سمجھانا چاہا ۔ 12 ۔ آگے رجوع ہونے والے اور کامیاب ہونے والوں کا بیان ہے۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ذکر الٰہی سے ان کے قلوب کو اطمینان میسر ہوا آگاہ ہو خدا کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ہوا کرتا ہے

28 ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ذکر الٰہی سے ان کے قلوب کو اطمینان میسر ہوا آگاہ رہو اور خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دل مطمئن ہوا کرتے ہیں اور قلوب کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ یعنی ان کا دل قرآن کریم سے مطمئن ہے اور قرآنی معجزات کے بعد بلاوجہ کسی اور معجزے کی فرمائش نہیں کرتے پھرتے بلکہ ایمان لانے کے لئے قرآن کریم کو کافی نشان سمجھتے ہیں تمام اذکار ہیں سب سے اہم اور سب سے بڑا ذکر قرآن کریم ہے۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے خوش حالی ہے اور ان کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے

29 ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند ریہ ان کے لئے خوشحالی ہے اور ان کے لئے اچھا ٹھکانہ اور نیک انجامی ہے۔ یعنی دنیا میں خوشحال اور آخرت میں نیک انجامی اور اچھا ٹھکانہ ، دنیا کی خوشحالی یہ کہ قلب کو اطمینان اور خدا پر بھروسہ ہوسکتا ہے کہ دونوں بشارتیں آخرت کی ہوں اور طوبیٰ سے مراد وہ درخت ہو جو اہل جنت پر سایہ افگن ہوگا اور جس کا ذکر حدیث شریف میں آتا ہے۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اے پیغمبر جس طرح ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے تھ اسی طرح ہم نے آپ کو بھی ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس امت سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں تا کہ جو کتاب ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ بھیجی ہے وہ آپ ان لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں اور یہ لوگ رحمن کے ساتھ کفر کرتے ہیں آپ فرما دیجئے وہ رحمن میرا رب ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے اور میرامرجع اسی کی ذات ہے

30 ۔ اور جس طرح ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے تھے اسی طرح ہم نے آپ کو بھی ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس امت سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں تا کہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنائیں جو کتاب ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ بھیجی ہے اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رحمن کے ساتھ کفر و انکار کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ۔ آپ فرما دیجئے وہ رحمن میرا رب اور میرا مربی ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود اور عبادت کے لائق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ اور توکل کر رکھا ہے اور میرا مرجع اسی کی ذات ہے اور اسی کی پاس مجھ کو جانا ہے۔ یعنی آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں جس طرح پچھلی امتیں گزر چکی ہیں اور ان میں ہادی آتے رہے ہیں ۔ اسی طرح تم کو اس امت کا رسو ل بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ تم ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائو یہ لوگ قرآن میں رحمن کا نام سن کر انکار کرتے ہیں آپ رحمن کا تعارف کرا دیجئے اور ان کو بتا دیجئے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گناہوں سے چھوٹ کر دے منکر ہوتے ہیں رحمان سے عرب کے لوگ اللہ تعالیٰ کا نام رحمان نہ بولتے تھے جب قرآن کریم میں یہ نام سنا کہنے لگے تو نے اپنا ایک معبود چھوڑ کر دوسرا پکڑا فرمایا کہ کہہ وہی میرا ایک رب ہے جس نام سے پکاروں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ ایا ما تدعوا فلہ الاسماء الحسنیٰ یعنی وہ ای ہی ہے اس کے صفاتی نام بہت سے ہیں چاہے جس نام سے اس کو پکارو۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن کریم ایسا ہوتا کہ جس کے اثر سے پہاڑ جلا دیئے جاتے یا اس قرآن کریم کے اثر سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا اس کی برکت سے مردوں کے ساتھ کلام کیا جاسکتا ، تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے حقیقت یہ ہے کہ ہر کام اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیا اب بھی مسلمانوں کو اس بات پر دل جمعی اور اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کردیتا ہے اور ان کفار مکہ کو برابر آئے دن ان کی بدعنوانیوں کے باعث کوئی نہ کوئی سخت ترین مصیبت پہنچتی ہی رہے گی یا ان کو نہ پہنچے گی تو ان کی بستی کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے یقینا اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا

31 ۔ اور اگر کوئی قرآن کریم ایسا ہوتا کہ جس کے اثر سے پہاڑ چلا دیئے جاتے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیئے جاتے اس قرآن کریم کے اثر سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا اس کے اثر اور اس کی برکت سے مرنے والوں کے ساتھ کلام کیا جاسکتا تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے کیا اب بھی مسلمانوں کو اس بات پر دل جمعی اور اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کی رہنمائی فرماتا اور سب کو ہدایت کردیتا اور ان کفار مکہ کو ہمیشہ ان کی بد عنوانیوں اور ان کی بد کرداریوں کے باعث کوئی نہ کوئی سخت ترین مصیبت اور صدمہ پہنچتا ہی رہے گا یا ان کو نہ پہنچے گا تو ان کی بستی کے قریب مصیبت نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آپہنچے یقینا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا۔ یعنی اس کلام معجز نظام پر جب لوگ نہیں آتے تو یہ قرآن یا اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب میں یہ اوصاف ہوتے تب بھی یہ ایمان نہیں لاتے کیونکہ ایمان کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے ان اسباب پر ایمان نہ تو موقوف ہے اور نہ ان باتوں کو ایمان میں داخل ہے جب ان کو دلائل وبراہین کافی نہیں تو خارق عادات فرمائشوں کی تکمیل کیا مفید ہوسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسلمان چاہتے ہوں گے کہ ایک نشانی بڑی سی آوے تو کافر مسلمان ہوجائیں کہ اگر کسی قرآن کریم سے یہ کام ہونے ہوتے تو البتہ اس سے پہلے ہوتے لیکن اختیار اللہ کا ہے اور خاطر جمع اسی پر چاہئے کہ اللہ نے یوں نہیں چاہا اگر وہ چاہتا تو حکم کافی تھا لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی ان پر پڑے یا ہمسائے پر جب تک سارے عرب ایمان میں آ جاویں وہ آفت یہی تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ سے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ کفار مکہ کے حتمی وعدوں کی بنا پر کہ ہم کو اگر فلاں معجزہ دکھا دیا جائے تو ہم ضرور مسلمان ہوجائیں گے شاید مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آیا ہو اس بنا پر اس کی اصلاح فرمائی۔ حتی یاتی وعد اللہ سے مراد مکہ معظمہ کا فتح ہونا ہے اس وقت تک ان کے ساتھ وہی سلوک ہوتا رہے گا جس کے یہ مستحق ہیں ان پر یا ان کے آس پاس آئے دن کوئی نہ کوئی آفت آتی رہے گی۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور اپنے پیغمبر بلا شبہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے پھر میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھ لو میری سزا کس طرح کی تھی

32 ۔ اور کفارکا یہ طریقہ آپ سے استہزا کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں تو یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے کیونکہ بلاش بہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے اور ان سے استہزاء کیا گیا ہے پھر میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا آخرت کار میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھو میرا بدلہ اور میری سزا کیسی تھی ۔ یعنی جیسی سخت سزا ان کو دی گئی ایسی ہی سزا کے یہ مستحق ہیں۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

بھلا وہ جو ہر متنفس کے کئے سے با خبر ہے کیا وہ ان شرکاء کے برابر ہوسکتا ہے جن کو اپنی بھی خبر نہیں اور ان کافروں نے اللہ کے ساتھ شریک مقرر کر رکھے ہیں آپ ان سے فرمایئے کہ تم ان شرکاء کے نام تو لو کیا تم خدا کو وہ چیزیں بتانا چاہتے ہو جن کو وہ کہیں روئے زمین پر نہیں پاتا یا محض ظاہری طور پر ان کو شریک کہتے ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کا مکرو فریب ان کی نظر میں خوشنما کردیا گیا ہے اور وہ راہ راست سے روک دیئے گئے ہیں اور جس کو خدا بےراہ رکھے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں

33 ۔ بھلا وہ جو ہر متنفس کی کمائی اور اس کے کئے پر نگراں اور با خبر ہے اور ہر شخص کے سر پر کھڑا ہے وہ ان شرکاء کے برابر ہوسکتا ہے جن کو اپنی بھی خبر نہیں اور ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے لئے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں آپ ان سے فرمایئے تم ان شرکاء کے نام تولو اور ان کے اوصاف تو بیان کرو کیا تم اللہ تعالیٰ کو وہ بات بتانی چاہتے ہو اور ان چیزوں کی خبر دینا چاہتے ہو جن کو وہ نہیں جانتا اور کہیں روئے زمین پر ان کو نہیں پاتا اور ان کے وجود کی خبر نہیں رکھتا یا محض ظاہری لفظ کے اعتبار سے ان کو شریک کہتے ہو اور یہ باتیں اوپر ہی اوپر کہتے ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کا مکرو فریب اور ان کے غلط استدلات ان کی نظر میں خوشنما کردیئے گئے ہیں اور وہ صحیح راہ سے روک دیئے گئے ہیں اور یہ لوگ راہ حق سے محروم کردیئے گئے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ گم گشتہ راہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ ان کو چھوڑ دے گا بن سزا دیئے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال سے با خبر اور مطلع ہے وہ ان بیخبر معبود ان باطلہ کا شریک کیسے ہوسکتا ہے یہ لوگ باوجود اللہ تعالیٰ کے عالم کل اور واقف کل ہونیکے پھر بھی اسکے ساتھ بیخبر اور جاہلوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ان معبود ان باطلہ کا نام تو لو تا کہ میں دیکھوں وہ کون ہیں کیسے ہیں کیا تم حقیقتاً ان کو شریک سمجھتے ہو یا ویسے ہی ظاہری بات کہتے ہو اور محفظ لفظ کے اعتبار سے اوپر ہی اوپر انکو شریک کہتے ہو اگر حقیقتہً کہتے ہو تب تو اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کو خبر دیتے ہو اور ایسی بات بتانا چاہتے ہو جسکی کہیں روئے زمین پر اس کے وجود کی خبر نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اسی کی موجود جانتا ہے جو واقع میں موجود ہو اور اگر محض ظاہر کے اعتبار سے کہتے ہو اور اس کے مصداق کو تم بھی معدوم سمجھتے ہو تو تم خود ہی بطلان شرک کو اپنی تقریر سے تسلیم کرتے ہو پھر مجھ سے کیوں خواہ مخواہ جھگڑتے ہو خدا کی توحید کا اعلان کیوں نہیں کرتے اور اس کے وحدہٗ لا شریک ہونے پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے یقینابہت سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے ان کا کوئی بچانے والا نہیں

34 ۔ اس قسم کے بدنصیب لوگوں کو دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے یقینا بہت سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس جنت کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس جنت کے نیچے نہریں یہ رہی ہوں گی اس باغ کے پھل اور اس کا سایہ دائمی ہوگا یہ تو پرہیز گاروں کا انجام ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کا انجام دوزخ ہے

35 ۔ جس جنت کا متقیوں اور پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف اور اس کا حال یہ ہے کہ اس جنت کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اس باغ کے پھل اور اس کا سایہ دائمی ہوگا اور ہمیشہ رہے گا یہ انجام تو متقیوں اور پرہیز گاروں کا ہے اور جو لوگ دین حق کے منکر ہیں ان کا انجام جہنم اور دوزخ کی آگ ہے۔ جنت کی کیفیت فرمائی کہ جو لوگ کفر و شرک سے پرہیز کرتے ہیں ان سے اس جنت کا وعدہ ہے اس کے آرام و آشائش دائمی ہیں وہاں کی نعمتوں کو ہمیشگی ہے جنت کی عمارات اور وہاں کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ انجام مومنوں کا ہے ۔۔۔۔ اور جہنم انجام کافروں کا ۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس چیز سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر نازل کی جاتی ہے اور انہی میں کچھ فرقے ایسے بھی ہیں جو اس کتاب کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے مجھ کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ کی کو شریک نہ ٹھہرائوں میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی ذات میرا مرجع ہے

36 ۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور انہی میں کچھ فرقے ایسے بھی ہیں جو اس کتاب کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے مجھ کو تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائوں میں تم سب کو اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی ذات میرا مرجع ہے اور دنیا سے اسی کی طرف میری بازگشت ہے۔ اس آیت میں س لف کے دو قول ہیں ایک یہ کہ کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور جن کو کتاب دی گئی اس سے مراد اصحاب رسول ﷺ ہیں اور احزاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصحاب تو نزول قرآن سے خوش ہوتے ہیں اور یہود و نصاریٰ اس قرآن کریم کی بعض باتیں نہیں مانتے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جن کو کتاب دی گئی وہ یہود و نصاریٰ میں کے وہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے ۔ جیسے عبد اللہ ابن سلام اور نجاشی وغیرہ یہ لوگ نزول قرآن سے خوش ہوتے ہیں کیونکہ اس قرآن کو توریت و انجیل کی پیشین گوئیوں کے مطابق پاتے ہیں اور باقی یہود و نصاریٰ اس قرآن کی تمام باتوں نہیں مانتے بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ اسی انکار کا جواب ہے کہ اصول تو سب شرائع کے یکساں ہیں توحید رسالت مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ان کے انکار کی تو کوئی وجہ ہی نہیں مجھ کو بھی شرک سے الگ رہنے اور توحید کی دعوت دینے کا حکم ہوا ۔ میرا بھی آخری ٹھکانہ وہی ہے اور مرنے کے بعد اسی ٹھکانہ وہی ہے اور مرنے کے بعد اسی کے پاس جانا ہے اور اگر فروع میں اختلاف کرتے ہو تو اس کا جواب آگے فرمایا ۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اس طور پر نازل کیا ہے کہ وہ ایک فرمان ہے عربی زبان میں اور اگر باوجود اس کے کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے آپ نے ان کافروں کی خواہشات کا اتباع کیا تو اللہ کے مقابلہ میں نہ آپ کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا

37 ۔ اور جس طرح ہم نے مختلف رسولوں کی امتوں کو مختلف احکام دیئے اسی طرح ہم نے اس قرآن کریم کو اس طور پر نازل فرمایا کہ یہ ایک فرمان ہے عربی زبان میں اور اگر اے پیغمبر ﷺ آپ نے باوجود اس کے کہ آپ کو صحیح علم پہنچ چکا اور آپ کے پاس صحیح علم آچکا آپ نے ان کافروں کی خواہشات کا اتباع کیا تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ کوئی آپ کا حمایتی ہوگا اور نہ بچانے والا یعنی جس طرح پہلی امتوں کے مناسب حال ان کے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوتے رہے اسی طرح قرآن بھی آخری امت کے مناسب حال اور اسکی ضرورتوں کے موافق یہ قرآن کریم ہم نے نازل کیا جو عربی زبان میں ایک فرمان اور حکم ہے پھر اس فرمان کی بعض باتوں سے انکار کرنا اور ان کا نہ ماننا کیا معقول ہوسکتا ہے۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ اگر تم نے بفرض محال کسی منسوخ حکم یا تحریف شدہ بات کی پیروی کی اور ان کی دل جوئی کا خیال کیا تو اللہ سے نہ تم کو کوئی بچانے والا ملے گا نہ تمہارا کوئی مدد گار ہوگا ۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان کو بیویاں بھی دی تھیں اور اولاد بھی اور کسی رسول کے اختیار میں یہ بات نہ تھی کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر کوئی نشانی لاسکے ہر وقت کے مناسب ایک حکم لکھا ہوا ہے

38 ۔ اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان ہم نے ان کو بیویاں بھی دی تھیں اور اولاد بھی اور کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا اور کسی رسول کے اختیار میں یہ بات نہ تھی کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر کوئی آیت کوئی حکم یا کوئی نشان اور معجزہ پیش کرسکے ہر وقت کے مناسب ایک حکم لکھا ہوا ہے اور ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے ۔ یعنی جب ہر نبی دنیوی زندگی کے لئے ایک نمونہ بنا کر بھیجا جاتا ہے پھر وہ بشر بھی ہوتا ہے تو اس کو بیوی کی اجازت بھی ہوتی ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اور کسی رسول کو اختیار نہیں ہوتا کہ وہ بغیر اذن الٰہی کے کوئی فرمائشی معجزہ دکھائے یا کوئی آیت اور حکم لے آئے یا کسی حکم کو منسوخ کر دے جس حکم کے لئے جو وقت مناسب ہے اسی وقت وہ حکم اور شریعت جا ری ہوتا ہے اور نشانی کا جو وقت لکھا ہے اسی وقت وہ نشانی ظاہر ہوتی ہے ۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور ام الکتاب یعنی لوح محفوظ

39 ۔ اللہ تعالیٰ ہی جس حکم کو چاہتا ہے موقوف کردیتا ہے اور مٹا دیتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اصل کتاب یعنی لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔ یعنی ہر زمانہ کے مناسب خاص احکام ہوتے ہیں پھر پہلے احکا م موقوف کردیئے جاتے ہیں اور ان کی بجائے دوسرے احکام جاری کئے جاتے ہیں اور بعض بحالہ قائم رکھے جاتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں ان کی مرضی اور زمانہ شناسی اور امم کی حالت سے واقفیت پر مبنی ہیں اس میں کسی کو اختیار نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ ہے جس اللہ چاہے اس کی تاثیر اندازے سے کم زیادہ کر دے جب چاہے ویسے ہی رکھے ۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور کبھی گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے وہ ہرگز نہیں بدلتا اندازہ کو تقدیر کہتے ہیں یہ دو تقدیریں ہیں ایک بدلتی ہے اور ایک نہیں بدلتی جو تقدیر بدلتی ہے اس کو معلق کہتے ہیں اور جو نہیں بدلتی اس کو مبرم ۔ 12
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اسی کے پاس ہے اور جو وعدے ہم ان سے کرتے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع ہم آپ کو دکھا دیں یا ان کے وقوع سے پہلے ہم آپکی عمر پوری کردیں بہر حال آپ کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے

40 ۔ اور جو وعدے ہم ان سے عذاب وغیرہ کے کرتے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع ہم آپ کو دکھادیں یا ان کے وقوع سے پہلے ہم آپ کی عمرپوری کردیں ۔ بہر حال آپ کے ذمے تو صرف ہمارے احکام کا پہنچا دینا ہے اور رہا ان سے باز پرس کرنا اور حساب لینا تو یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہ بھی نبوت کے خلاف اعتراض کا جواب ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو جو وعدے عذاب کے آپ ہم کو دیتے ہیں وہ آتے کیوں نہیں اور جب نہیں آتے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نبی نہیں ہیں۔ اس کا جواب ہے کہ وعدے اپنے وقت پر پورے ہوں گے خواہ ان کی حیات میں ہوں یا وفات کے بعد ہوں دنیا میں ہوں یا آخرت میں آپ اس اعتراض کی فکر نہ کیجئے آپ کا کام ابلاغ و تبلیغ ہے اور وارو گیر اور حساب کتاب ہمارا کام ہے۔