12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الر یہ سورت ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں

1 الر قف یہ سورت ایک واضح کتاب کی چند آیتیں ہیں یعنی جو احکام و نصائح اور جو دلائل توحید اس میں مذکور ہیں وہ صاف اور واضح ہیں یا یہ کہ اس کا کلام اللہ ہونا واضح ہے جس میں شکی کی گنجائش نہیں ہیں۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم اس کو سمجھ سکو

2 ہم نے اس کو نازل کیا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم اس کو اے اہل عرب سمجھ سکو ۔ یعنی اس میں جو چیز بیان کی جاتی ہے وہ واضح طورپر بیان کی جاتی ہے پھر ہم نے اس قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل اس لئے کیا ہے تاکہ تم اے اہل عرب اس کو اچھی طرح سمجھ سکو اور خود سمجھ کر دوسروں کو سمجھائو اور پھیلائو۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم اس قرآن کریم کے بھیجے جانے کی وجہ سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے ایک بہترین واقعہ تم سے بیان کرتے ہیں اور یقینا تم اس قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بالکل باخبر تھے

3 اے پیغمبر ہم اس وحی کے ذریعہ جو قرآن کریم کی صورت میں ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ایک بہترین واقعہ تم سے بیان کرتے ہیں اور اس ہمارے بیان کرنے سے پہلے آپ اس واقعہ سے بالکل باخبر تھے یعنی یہ قرآن کریم جو ہم نے تمہاری جانب وحی کیا ہے اس وحی کے ذریعہ ہم تم کو ایک بہترین واقعہ بتاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے یہ سورت بھیجکر تم کو ایک واقعہ سناتے اور تم پر بیان کرتے ہیں۔ احسن القصص فرمایا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ چونکہ عجیب غریب واقعات اور بیشمار نصائح پر مشتمل تھا اور ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ ہے اس لئے بہترین قصہ فرمایا اور چونکہ تاریخ میں واقعہ بہت غلط طریقے سے مذکور تھا اور آسمانی کتابوں میں تفصیل مذکور نہ تھی قرآن کریم نے اس واقعہ کو صحیح اور مفصل بیان فرمادیا اور چونکہ نزول قرآن کریم سے پہلے نبی کریم ﷺ کو خبر نہ تھی اس لئے ارشاد ہوا وان کنت من قبلہ لمن الغافلین
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند خواب میں دیکھے ہیں ان سب کو دیکھتا ہوں کہ وہ میرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں

4 وہ وقت قابل ذکر ہے جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سوج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ میرے روبرو سجدہ کر رہے ہیں یعنی گیارہ ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی ، چاند اور سورج سے ماں باپ مراد ہیں چاند سے مراد ماں اور سورج سے مراد باپ یا اس کے عکس کہ چاند سے مراد باپ اور سورج سے مراد ماں غرض ! ان تیرہ کو میں نے اپنے آگے سجدہ کرتے دیکھا ہے اس خواب کی تعبیر چونکہ بہت صاف اور ظاہر تھی اور سجدے سے مراد ظاہر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان سب پر تفویق اور برتری حاصل ہوگی اور یہ سب ان کے سامنے پست ہوں گے اس بنا پر باپ نے خواب سنتے ہی احتیاطاً فرمایا۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

اس کے باپ نے کہا اے میرے پیارے بیٹے ! تو اس خواب کو اپنے بھائیوں کے روبرو بیان نہ کی جو ورنہ تو میرے خلاف کوئی فریب آمیز کارروائی کریں گے بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

5 انہوں نے کہا اے میریے پیارے بیٹے تو اس خواب کو اپنے بھائیوں سے ذکر نہ کی جو اور ان کے روبرو بیان نہ کیجئو ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی فریب آمیز تدبیر کریں گے بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے یعنی اس خواب کو سن کر وہ تیری ایذا رسانی اور تجھ کو نیچا دکھانے کی تدبیر اور دائوں کی گھات میں لگ جائیں گے اور گوبن یامین سے یہ خطرہ نہ ہو کیونکہ وہ حقیقی بھائی ہے اور باقی علاقی لیکن اتنا خدشہ ضرور ہے کہ وہ دوسرے بھائیوں کو سنادے اس لئے تم اس خواب کا کسی سے بھی ذکر نہ کرو اور کسی بھائی کے آگے مت بیان کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے سنتے ہی سمجھ جائیں گے گیارہ بھائی تھے ایک باپ اور ایک ماں ان کی طرف محتاج ہوں گے پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا 12 خلاصہ ! یہ کہ یہ بات خواب سنتے ہی سمجھ میں آجائے گی کہ تم کو اپنے خاندان پر برتری ملنے والی ہے اور یہ بات ایسی ہے جس سے ہم عصروں میں حسد پیدا ہوسکتا ہے اور جبکہ شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے وہ بھی پیچھے پڑا ہوا ہو۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور جس طرح خدا نے تجھ کو اس خواب سے نوازا ہے اسی طرح تیرا رب تجھ کو برگزیدہ کرے گا اور تجھ کو باتوں کا صحیح مطلب بیان کرنا سکھائے گا اور اسی طرح تجھ پر اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان پر اپنی نعمتوں کو پورا کرے گا جس طرح اب سے پہلے تیرے دادا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرچکا ہے یقینا تیرا رب کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے

6 اور جس طرح تجھ کو اللہ تعالیٰ نے اس خواب سے نوازا ہے اور تجھ کو یہ عزت حاصل ہوگی کہ سب تیرے مطیع اور منقاد ہوں گے اسی طرح تیرا رب تجھ کو برگزیدہ کرے گا اور تجھ کو نبوت کے لئے منتخب فرمائے گا اور تجھ کو باتوں کی صحیح کل بٹھانی اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمائے گا اور خوابوں کی تعبیر دینا سکھائیگا اور اللہ تعالیٰ اسی طرح تجھ پر اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان پر کامل انعام فرمائے گا اور اپنی نعمتوں کو پورا کرے گا جس طرح اب سے پہلے تیرے پردادا اور داد ا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرچکا ہے یقینا تیرا پروردگار بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) خواب کو سن کر یہ سمجھے کہ یہ لڑکا ہونہار ہوگا اور نبی ہوگا اور اندیشہ کیا کہ علاقی بھائی اس کو ایذا پہونچائیں گے خواب ظاہر ہے وہ بھی سمجھ لیں گے اگرچہ وہ علاقی بھائی کوئی نبی یا ولی نہ تھے لیکن خاندان نبوت سے تعلق رکھتے تھے اس لئے تعبیر کو سمجھ جائیں گے اور اگرچہ وہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیرو کو روک نہ سکیں گے لیکن مختلف طریقوں سے اذیت پہونچائینگے علم حکمت کا اللہ تعالیٰ مالک ہے یعنی کوئی عطا اس کی مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں ہوتی دیتا ہے وہ بھی حکمت سے اور نہیں دیتا وہ بھی مصلحت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ نوازش اللہ کی سجدے سے سمجھے اور کل بٹھانی باتوں کی یعنی اس میں دخل ہے خواب کی تعبیر ان کے ذہن کی رسائی سے اور لیاقت سے کہ ایسا خواب موزوں دیکھا چھوٹی عمر میں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کا نام لیا اپنا نہ لیا عاجزی سے 12 خلاصہ ! یہ کہ خواب سے یا تو تمام باتیں سمجھے یا ہوسکتا ہے کہ وحی سے یوسف (علیہ السلام) کے مستقبل کا علم ہوا ہو۔ کما اتمھا میں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحق (علیہ السلام) کا نام لیا اپنا ذکر نہ کیا یہ محض تواضع کی غرض سے تھا اور انبیاء (علیہم السلام) کی عادت میں تواضع اور عاجزی داخل ہے اور ان کا ایک نمایاں وصف ہے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

بلاشبہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے علاقی بھائیوں کے قصہ میں ان لوگوں کیلئے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں جو اس قصہ کے متعلق سوال کرنیوالے ہیں

7 بلاشہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصے میں ان لوگوں کے لئے آپ کی نبوت کے بڑے دلائل ہیں جو اس واقعہ سے متعلق آپ سے سوال کرنیوالے اور پوچھنے والے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نقل ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ کچھ بتائو کہ ہم محمد (علیہ السلام) سے پوچھیں سچ آزمانے کو کہا کہ پوچھو کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن شام ہے اس کی اولاد بنی اسرائیل مصر میں کیوں کر آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرکون سے قضیہ ہوا یہ سورت اتری فرمایا کہ پوچھنے والوں کو نشانیاں ہیں قریش کو یہ ! ایک بھائی کا حسد کیا اطاعت قبول نہ کی آخر اللہ نے اس کی طرف محتاج کیا اور اسی طرح یہود وحسد کرکے خراب ہوئے اور قریش نے بھائی کو وطن سے نکالا وہی اس کا عروج ہوا 12 خلاصہ ! یہ کہ یہود کے سکھانے سے قریش نے دریافت کیا اللہ نے مصر میں پہونچنے کے اسباب بتائے جس سے معلوم ہوا کہ حاسدوں کو اللہ تعالیٰ ذلیل کرتا ہے اور جو کام اس کو منظور ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یہ سورت دلیل ہے اور آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر بھی اس لئے فرمایا ہے ایت للسائلین یعنی پوچھنے والوں کیلئے اس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں یہ گفتگو کی کہ یوسف اور اس کا بھائی بن یامین ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک زور آور جماعت ہیں کچھ شک نہیں کہ ہمارے والد کھلی غلطی میں مبتلا ہیں

8 وہ وقت قابل ذکر جب یوسف (علیہ السلام) کے علاقی بھائیوں نے جن کی تعداد دس تھی اپس میں یہ گفتگو کی اور باہم یوں مشورہ کیا یہ بات کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب اور پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک زور آور اور پوری جماعت ہیں یہ دونوں ابھی کم عمر ہیں کچھ شک نہیں کہ اس بارے میں ہمارے والد کھلی غلطی میں مبتلا ہیں یعنی محبت کی کمی زیادتی خدمت پر موقوف ہے جو بچے زیادہ قوی ہوں گے ظاہر ہے کہ وہ خدمت زیادہ انجام دے سکتے ہیں اور یہ دونوں ابھی کم عمر اور کم زور ہیں ان کی خدمت ہماری خدمت سے زیادہ قوی اور بہتر نہیں ہوسکتی اور چونکہ ہم تعداد میں بھی زیادہ اور قوت میں بھی زیادہ ہیں اس لئے محبت بھی ہم سے زیادہ ہونی چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم وقت پر کام آنے والے ہیں اور یہ لڑکے ہیں چھوٹے، ایک بھائی ان کا سگا تھا اور سب سوتیلے 12
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو اب یوسف (علیہ السلام) کو یا تو قتل کرڈالو یا اس کو کسی اور سرزمین میں پھینک آئو اس سے تمہارے باپ کی توجہ خالی تمہارے لئے ہی رہ جائے گی اور اس واقعہ کے بعد تم نیک ہوجانا

9 تو اب یوسف (علیہ السلام) کو یا تو قتل کرڈالو یا اس کو کہیں اور کسی سرزمین پر پھینک آئو اس سے تمہارے باپ کی توجہ خالی تمہارے لئے رہ جائے گی اور تمہارے باپ کا رخ خالص تمہاری طرف ہوجائے گا اور اس واقعہ کے بعد تم نیک ہوجانا مشورے میں یہ باتیں پیش ہوئیں اور خیال یہ کیا گیا کہ اصل تو یوسف (علیہ السلام) ہے اگر یوسف (علیہ السلام) کو مارڈالو یا کسی دور دراز سرزمین پر پھینک آئو تو سب قصہ ختم ہوجائے گا۔ بن یامین سے بھی محبت اسی بنا پر ہے کہ وہ یوسف (علیہ السلام) سگا بھائی ہے جب یوسف (علیہ السلام) ہٹ جائے گا تو پھر باپ کا رخ فقط تمہاری طرف ہوگا اور ایک گناہ ضرور ہم سے ہوگا تو ہم اس کے بعد نیک بن جائیں گے یا اس کے بعد تمہارے سب کام درست ہوجائیں گے اور یہ روز کا خدشہ ہٹ جائے گا۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان ہی بھائیوں میں سے ایک نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو جان سے تو نہ مارو اگر تم کو کچھ کرنا ہی ہے تو اس کو کسی تاریک کنویں میں ڈال دو تاکہ اسے کوئی راہ چلتا مسافر اٹھا لے جائے

10 ان ہی کہنے والوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو جان سے تو نہ مارو اور قتل تو مت کرو ہاں اگر تم کو کچھ کرنا ہی ہے تو اس کو کسی اندھیرے کنوئیں میں ڈال دو جس میں پانی بھی کم ہو اور آبادی اور رہگذر سے بھی فاصلہ پر نہ ہو تاکہ اس کو کوئی راہ چلتا مسافر اٹھا لے جائے۔ بھائیوں کی باہمی گفتگو میں شاید یہودا نے کہا کہ قتل نہ کرنا قتل کرنا تو بہت ہی بڑا گناہ ہے ہاں آبادی سے دور کسی گمنام اور اندھیرے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا مسافر نکال کرلے جائے یہی رائے سب کو پسند آئی اور اس پر بھائیوں کا متفقہ فیصلہ ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ کوئی کنواں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کا بہت پرانا پرانا کنواں تھا وہ تجویز ہوا کنواں بائولی نما ہوگا جس میں چھوٹے بڑے طاق بنے ہوں گے قرآن کریم نے اسی لئے غیبت الجب فرمایا واللہ اعلم
Ayah 12:11

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

اس پر سب نے ملکر یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے ہمارے باپ اس کا کیا سبب ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے خیرخواہ ہیں

1 1 اس پر سب نے مل کر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا اے ہمارے باپ اس کا کیا سبب ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے اور ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں یعنی آپ کے عدم اعتبار کی یہ کیفیت ہے کہ آپ اس کو ہمارے ساتھ بھی نہیں بھیجتے۔
Ayah 12:12

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

آپ یوسف (علیہ السلام) کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ خو ب کھائے اور کھیلے یعنی تفریح کرے اور یقین مانتے کہ ہم اسکی حفاظت کے ذمہ دار ہیں

12 آپ یوسف (علیہ السلام) کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ خوب کھائے اور کھیلے اور یقین کیجئے کہ ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں یعنی سیرو تفریح کی غرض سے کل اس کو ہمارے ساتھ جنگل میں بھیج دیجئے۔
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

یعقوب نے کہا بلا شبہ مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اس کو میرے پاس لے جائو اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں اس سے غافل ہوجائو اور اس کو کوئی بھیڑیا کھاجائے

13 حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ اس کی جدائی مجھے غمگین کرتی ہے کہ تم اس کو میرے پاس سے لے جائو اور میں اس بات سے بھی ڈرتا ہوں کہ تم کہیں اپنے مشاغل میں اس سے غافل ہو جائو اور اس کو بھیڑیا کھاجائے یعنی بکریاں چرانے جائیں تو یوسف (علیہ السلام) کو بھی لے جائیں حضر ت یعقوب (علیہ السلام) نے جوا ب میں دو باتیں فرمائیں ایک غم اور ایک خوف یعنی غم تو اس کی اپنی آنکھوں سے اوجھل کرنے اور تمہارے ساتھ بھیجنے کا اور ڈر یہ کہ بچہ ہے کبھی تم اپنے کسی مشغلہ میں لگ جائو اور بھیڑیا اس کو پھاڑ کھائے۔ کہتے ہیں کہ کنعان کے جنگل میں بھیڑئیے بہت تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کو بھیڑئیے کا بہانہ کرنا تھا وہی ان کے دل میں خیال آیا 12 یہ روشن ضمیری کی بات ہے کہ جو پیش آنے والی بات تھی وہی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے منہ سے نکلی
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ بولے اگر اس کو بھیڑیا کھاجائے اور ہماری پوری جماعت موجود ہو تو ہم بالکل ہی گئے گزرے ہوگئے

14 بھائیوں نے جواب دیا کہ اگر اس کو بھیڑیا کھاجائے اور ہم پوری کی پوری جماعت موجود ہوں تو ہم تو بالکل ہی گئے گزرے ہوئے اور ہم نے سب کچھ گنوا دیا یعنی اگر ایک زور آور جماعت کی موجودگی میں ایسا غضب ہوجائے تو ہم تو اس وقت کسی گھر کے بھی نہ رہیں گے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

الغرض جب وہ یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور ان سب نے اس بات کا پختہ عزم کرلیا اس کو کسی تاریک کنویں میں ڈال دیا اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنے کے بعد وحی بھیجی کہ تو ان کے اس واقعہ سے انکو ایک دن آگاہ کرے گا اور ان کی یہ حالت ہوگئی کہ وہ تجھ کو اس وقت پہچانتے نہ ہوں گے

15 بہرحال جب وہ یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور ان سب نے اس بات کا پختہ عزم کرلیا کہ اس کو کسی تاریک گمنام کنویں میں ڈال دیں چناچہ انہوں نے جو طے کیا تھا وہ کر گزرے اور ہم نے اس وقت یوسف (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اے یوسف (علیہ السلام) تو ان بھائیوں کو ایک دن اس واقعہ سے آگاہ کرے گا اور ان کی یہ حالت ہوگی کہ وہ تجھ کو پہچانتے بھی نہ ہوں گے یعنی جب یعقوب (علیہ السلام) کے پاس سے لے گئے اور کنویں میں ڈالا اس وقت حضر ت یوسف (علیہ السلام) پانی سے بچ کر ایک پتھر پر جو کنویں میں ابھرا ہوا تھا اس پر بیٹھ گئے اس وقت حق تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم مغموم نہ ہو ہم تم کو یہاں سے نکال کر ایک ایسے بلند مرتبہ پر پہونچائیں گے کہ تم ان کی یہ تمام حرکات ان کو جتلائو گے اور یہ تمہاری رفعت شان کی وجہ سے تم کو پہچانتے بھی نہ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھر جب لے کر چلے فرمایا آگے نہ فرمایا کہ ہوا اس لئے کہ لائق بیان نہیں جو کچھ بھائیوں نے سلوک کیا راہ میں برا کہتے اور مارتے لے گئے نہ ان کے رونے پر رحم کھایا نہ فرمایا پر پھر کنوئیں میں ڈالا وہ کنارے کو پکڑ کر رہ گئے تب رسی میں باندھ کر لٹکایا آدھی دور سے چھوڑ دیا پانی میں گرے چوٹ سے بچے گوشہ میں ایک پتھر پر بیٹھ رہے اور بھائیوں نے کرتہ اتار کر ننگا ڈالا۔ تب حق تعالیٰ کی بشارت پہونچی کہ ایک وقت تو ان کو یاد دلائے گا ان کا کام 12 کہتے ہیں کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے کنویں میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو یہ دعا بھی تعلیم کی اللھم یا کاشف کل کریۃ یا مجیب کل دعوۃ یا جابر کل کسیر دیا میسر کل میسر ویا صاحب کل غریب ویا موسن کل وحید یا لا الہ الا انت سبحنک ان تجعل لی فرجاد ومخرجا وان تقذف جک فی قلبی حتی لایکون لی ھم ولا ذکر غیرک وان تحفظنی وترحمنی یا ارحم الرحمین
Ayah 12:16

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے باپ کے پاس تھوڑی رات گئے روتے ہوئے آئے

16 تھوڑی رات گئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی روتے ہوئے اپنے والد کے پاس آئے یعنی یوسف کو کنویں میں ڈالنے کے بعد عشاء کے وقت یہ برادران یوسف روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس آئے۔
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے اے ہمارے باپ ہم سب تو دوڑتے اور آپس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا سو اس کو ایک بھیڑیا کھا گیا اور آپ ہمارے کہنے کو باور نہیں کریں گے خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں

17 آکر کہنے لگے اے ہمارے باپ ہم تو سب دوڑنے اور آپس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا سو اتفاقاً اس کو ایک بھیڑیا کھا گیا اور آپ تو ہمارے کہنے کو باور نہیں کریں گے اور ہماری بات کی تصدیق نہیں کریں گے خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں۔ یعنی ہم تو دوڑنے لگے کہ دیکھیں کون آگے نکلے ان کو سامان کے پاس بٹھا دیا بس ایک بھیڑیا آیا اور ان کو کھا گیا
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ پر جھوٹا خون بھی لگا لائے یعقوب یہ سب سن کر اور دیکھ کر کہا حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے دلوں نے تمہاریلئے ایک بات گھڑی ہے سو اب میرا کام صبر و جمیل ہے اور جو باتیں تم بنا رہے ہو ان پر اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں

18 اور باپ کے پاس آتے وقت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ پر جھوٹا خون بھی لگاتے لاتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ کہانی سن کر اور کرتے کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے جو تم کہتے ہو بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات بنائی ہے اور گھڑ لی ہے سو اب میرا کام صبر جمیل ہے اور اب میں صبر جمیل ہی کروں گا اور جو باتیں تم بنا رہے ہو ان پر اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں باپ نے جب خون آلود کرتے کو دیکھا تو وہ کہیں سے پھٹا ہوا نہیں تھا سمجھ گئے کہ یہ بھیڑیے والی بات بناوتی ہے۔ صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں جس میں غیر خدا سے شکوہ نہ کیا جائے۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ادھر ایک قافلہ آ نکلا قافلہ والوں نے اپنے پانی بھرنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکایا پھر وہ بےساختہ بولا اے خوش قسمتی یہ تو ایک لڑکا ہے اور قافلہ والوں نے اسے بیش بہا سرمایہ سمجھ کر چھپالیا اور اللہ ان سب کے اعمال کو خوب جانتا تھا

19 ادھر تو یہ ہوا اور ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں کے پاس ایک قافلہ آنکلا قافلہ والوں نے اپنے پانی لانے والے کو پانی کے لئے بھیجا اس نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈول لٹکایا جب اس ڈول میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو لٹکا ہوا دیکھا تو خوش ہوکر بےساختہ بولا اے خوش قسمتی یہ تو ایک بڑا اچھا لڑکا نکل آیا اور قافلہ والوں نے اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپالیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا جو کارروائیاں وہ کررہے تھے۔ یعنی پانی بھرنے والے نے ڈول ڈالا یوسف (علیہ السلام) نے وہ ڈول پکڑ لیا اور باہر آگئے وہ اس کو دیکھ کر خوشی کے مارے ضبط نہ کرسکا اور بےساختہ ارے یہ تو لڑکا نکل آیا بول اٹھا قافلہ والوں نے یہ خیال کرکے کہ یہ تو بیش بہا سرمایہ ہے یوسف (علیہ السلام) کو چھپالیا کہ کہیں اس کا وارث نہ آنکلے اور ہم سے چھین لے ہم اس کو مصر میں لے جا کر بڑی قیمت سے فروخت کریں گے وہ اگرچہ اس کارروائی کو راز دارانہ طریقہ سے کررہے تھے مگر اللہ تعالیٰ ان سب کے ان اعمال کو جانتا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ کنویں میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) ڈول میں ہو بیٹھے کھینچنے والے نے ان کا حسن دیکھ کر خوشی سے پکارا کہ بڑی قیمت سے یہ بکے گا اور اللہ خوب جانتا ہے جو کرتے ہیں شاید مراد ہو کہ یہود اس جگہ یہ قصہ بدلتے ہیں توریت میں بدل ڈالا ہے تاکہ اپنے باپ دادوں پر عیب نہ آئے 12 یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کنوئیں کے آس پاس لگے رہتے تھے روزانہ آکر دیکھ جاتے تھے ان کی خواہش یہ تھی کہ یوسف (علیہ السلام) ہلاک نہ ہو بلکہ کوئی نکال کر کسی اور ملک میں لے جائے اور یعقوب (علیہ السلام) کو خبر نہ ہو چناچہ حسب معمول جب یوسف (علیہ السلام) ان کو کنوئیں میں نظر نہ آئے اور قافلہ ٹھہرا ہوا دیکھا تو انہوں نے تلاش کیا اور یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر کہنے لگے یہ تو ہمارا غلام ہے جو بھاگ گیا تھا مگر ہم اس کو رکھنا نہیں چاہتے۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو بہت ہی معمولی قیمت پر جو گنتی کے چند درہم تھے قافلہ والوں کے ہاتھ بیچ ڈالا اور وہ یوسف (علیہ السلام) سے بہت ہی دل برداشتہ ہورہے تھے

20 اور ان کے بھائیوں نے ان کو بہت ہی معمولی اور کم قیمت پر جو گنتی کے چند درہم تھے قافلہ والوں کے ہاتھ فروخت کردیا اور یوسف (علیہ السلام) سے بہت ہی دل برداشتہ اور بےرغبت ہورہے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اگلے دن بھائی گئے اور کنوئیں میں نہ پایا قافلہ پر دعویٰ کیا جب ثابت ہوا اٹھارہ درم کو بیچ ڈالا قریب ہے پائولی کے نو بھائیوں نے دو دو درہم بانٹے ایک نے حصہ نہ لیا پھر آگے قافلہ والوں نے مصر میں جاکر بیجا حق تعالیٰ نے صریحاً ایک بیچنا فرمایا پردہ پوشی کو لیکن اشارات سے معلوم ہوا کہ سستے مول تو اسی جگہ بیچا ہے 12
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور اہل مصر میں سے جس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو عزت و آبرو سے رکھیو کیا عجیب ہے کہ یہ ہم کو فائدہ پہونچائے یا اس کو ہم اپنا بیٹا ہی بنالیں اور ہم نے جس طرح یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نجات دی اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو سرزمین مصر میں با عزت جگہ دی اور نیز اس لئے کہ اس کو خوابوں کی تعبیر کی علم سکھا دیں اور اللہ اپنے کاموں پر پوری طرح بااختیار ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

21 اور اہل مصر میں سے جس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو عزت و آبرو سے رکھیو کیا عجب ہے کہ یہ ہم کو فائدہ پہونچائے اور ہم کو اس سے نفع پہونچے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور متنبی ہی کرلیں اور جس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نجات دی اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں باعزت جگہ دی اور نیز اس لئے کنویں سے نجات دی کہ اس کو باتوں کی کل بٹھانے اور خوابوں کی تعبیر دینے کی تعلیم دیں اور خوابوں کی صحیح تعبیر دینا اس کو بتلا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنے کام پر پوری طرح غالب اور قادر ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ یعنی جس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا وہ عزیز مصر یعنی حکومت کا مدار المہام تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام قطفیر تھا اور اس زمانہ کے بادشاہ کا نام ولید بن ریان تھا اور اس عورت یعنی عزیر مصر کی بیوی کا نام راعیل اور مشہور نام زلیخا تھا عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو بہت بڑی قیمت دے کر خریدا تھا بیوی کے سپرد کرتے وقت یوسف (علیہ السلام) کو اس نے کہا کہ دیکھو اس کو آرام سے رکھو اور اس کے رہنے کی جگہ کو درست کردو چونکہ یہ لڑکا ہونہار معلوم ہوتا ہے اس لئے ہم کو اس سے فائدہ پہونچے گا اور امور مملکت میں میرا مشیر اور معین ہوگا یا اس کو ہم بیٹا بنالیں گے۔ بہر حال ! ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں سے نکال کر مصر میں باعزت جگہ دی اور ان کو تعبیر خواب کی تعلیم دی اور اللہ تعالیٰ اپنے چاہے ہوئے کام پر پورا پورا اختیار رکھتا ہے یعنی جو چاہتا ہے وہ پورا ہوتا ہے۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب یوسف (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا کیا اور ہم نیکو کاروں کو اسی طرح اپنے صلہ سے نوازا کرتے ہیں

22 اور جب یوسف (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہونچا تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صلہ سے نوازا کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مصر میں عزیر نے مول لیا عزیز کہتے تھے بادشاہ کے مختار کو اس نے ہوشیار دیکھ کر غلاموں کی طرح نہ رکھا فرزند کی طرح رکھا کاروبار میں نائب ہوگا اس طرح حق تعالیٰ نے اس ملک میں ان کا قدم جمایا پھر ان کے سبب سے سارے بنی اسرائیل کو بسایا اور یہ بھی منظور تھا کہ سرداروں کی صحبت دیکھیں تاکہ رمزدو اشارہ سمجھنے کا سلیقہ کمال پکڑیں اور عمل خدائی پورا پائیں اور اللہ بناتا رہتا ہے کام یعنی بھائیوں نے چاہا کہ ان کو گرادیں اسی میں یہ چڑھ گئے حکم دیا یعنی عقل سے مشکل باتیں حل کرتے اور عمل اللہ کا دین 12
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور وہ عورت جس کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) مقیم تھے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے پھسلانے لگی اور تمام دروازے بند کردئیے اور بولی لو آ جائو میں تم سے کہہ رہی ہوں یوسف (علیہ السلام) نے کہا خدا کی پناہ ! وہ تیرا شوہر میرا آقا ہے جس نے مجھ کو بڑی اچھی طرح سے رکھ چھوڑا ہے بلاشبہ احسان فراموش کبھی فلاح نہیں پاتے

23 اور وہ عورت جس کے گھر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) مقیم تھے اور رہتے تھے وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنی جانب مائل کرنے اور ان سے اپنا مطلب پورا کرنے کیلئے پھسلانے لگی اور تمام دروازے بند کردئیے اور بولی لو آجائو میں تم سے کہہ رہی ہوں۔ یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا اللہ تعالیٰ کی پناہ مزید برآں وہ تیرا شوہر میرا آقا ہے جس نے مجھ کو بڑی اچھی طرح سے رکھ چھوڑا ہے بلاشبہ ایسے احسان فراموش کبھی فلاح نہیں پاتے یعنی زلیخا یوسف (علیہ السلام) کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے پھسلانا شروع کیا جب ان کو اس کے ارادے کا علم ہوا تو انہوں نے خدا کی پناہ مانگی کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے پھر یہ کہ وہ تیرا شوہر میرا محسن ہے میرا مربی ہے یہ کیسی محسن کشی ہے کہ میں اس کی ناموس میں مداخلت کروں جو لوگ ایسے احسان فراموش ہیں ان کو فلاح نصیب نہیں ہوتی وہ دنیا ہی میں یا تو رسوا اور ذلیل ہوتے ہیں اور یا پھر آخرت میں تو عذاب پیش آنے والا ہی ہے۔ بعض لوگوں نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اللہ کی پناہ ! وہ اللہ میرا رب ہے اس نے مجھ کو اچھی جگہ رہنے کو دی ہے یعنی عزیر مصر کا حسن سلوک بھی حق تعالیٰ ہی کے حکم سے نصیب ہوا واللہ اعلم حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کے ناموس میں کیوں کر داخل کروں 12
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف پختہ قصد کیا اور یوسف (علیہ السلام) کا اس کی جانب غیر ارادی میلان ہوا اگر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی دلیل نہ دیکھی ہوتی تو میلان کے بڑھ جانے کا اندیشہ تھا ہم نے اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو ثابت قدم رکھا تاکہ ہم برائی اور بےحیائی کو یوسف (علیہ السلام) سے دور رکھیں بیشک وہ یوسف (علیہ السلام) ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا

24 اور بلاشبہ اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی جانب عزم اور پختہ قصد کیا اور یوسف (علیہ السلام) کا اس کی طرف غیر ارادی محض امر طبعی کے طورپر میلان ہوا اگر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھا ہوتا تو میلان بڑھ جانے کا اندیشہ تھا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح ثابت قدم رکھا اور اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہر قسم کی برائی اور بےحیائی سے یوسف (علیہ السلام) کو دور رکھیں بیشک وہ یوسف (علیہ السلام) ہمارے برگزیدہ اور چیدہ بندوں میں سے تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نقل ہے کہ حضر ت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت ان کو نظر آئی انگلی دانت میں باقی خیال گناہ گناہ نہیں اگر گناہ ہے تو کمتر سا اصل گناہ سے پیغمبر کو بچا لیا اللہ نے 12 حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علم و حکمت سے نوازا گیا اور ان کو روحانی مراتب سے سرفراز کیا گیا اور جس طرح بڑے لوگوں کو مختلف امتحان و ابتلاء پیش آتے ہیں اسی طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) ایک اور امتحان میں مبتلا ہوئے کہ وہ ذلیخا جس کے گھر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) مقیم تھے وہ ان کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئی اور چاہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کی خواہش پوری کردیں اس لئے ذلیخا نے کمروں کے دروازے بند کردئیے اور ان کو بلایا اور گناہ کے عزم کے ساتھ بلایا گو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ایک طبعی میلان ہوا جیسے گرمی کے رمضان میں پانی کو دیکھ کر ایک روزہ دار کو بلا ارادہ ایک طبعی میلان ہوتا ہے لیکن روزہ توڑنے یا پانی پینے کا خیال تک نہیں ہوتا البتہ پیاس کی حالت میں پانی کو دیکھ کر ایک طبعی میلان ضرور ہوتا ہے اس سے زیادہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے میلان کی حقیت نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے دلیل کھائی اور دکھائی وہ دلیل یہی حکم شرعی جس کا اظہار فرمایا اور بدکاری کی ممانعت اور حرمت سامنے آگئی یا حضرت یعقوب کا نظر آجانا جیسا کہ مجاہد اور مقاتل کی روایت میں ہے۔ بہرحال دلیل کے سامنے آجانے سے گناہ کے مرتکب ہونے سے محفوظ رہے اگر ان کے رب کی دلیل سامنے نہ آجاتی تو یہ تقاضائے بشریت میلان بڑھ جاتا کیونکہ اسباب و دوامی اسقدر قومی تھے جہاں طبعی میلان میں اضافہ کا ہوجانا کچھ بعید نہ تھا۔ علماء نے تفسیر میں مختلف اقوال ذکر کئے ہیں لیکن ہم نے سب سے راحج قول اختیار کیا ہے سو اور فحشاء سے بعض حضرات نے صغیرہ اور کبیرہ دونوں گناہوں سے دور رہنا ظاہر کیا ہے اور یہ صحیح ہے کہ نہ صغیرہ کے حضرت یوسف (علیہ السلام) مرتکب ہوے اور نہ کبیرہ کے بلکہ طبعی میلان پر قابو پالینے اور گناہ سے بچ جانے پر ایک نیکی کے مستحق ہوئے زلیخا کی شہادت آگے آرہی ہے اللہ تعالیٰ نے خود ان کو بندگان مخلصین میں سے فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان اللہ تعالیٰ کے مخلصین بندوں پر قابو نہیں پاتا الا عباددک منھم المخلصین شہر کی عورتوں کا بیان آگے آئے گا۔ حاشا للہ ما علمنا علیہ من سوء ان تمام شہادتوں کے بعد اگر کوئی شخص کوئی شبہ کرتا ہے تو وہ انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت پر حرف گیری کا مستحق ہوتا ہے اعاذنا للہ منہ
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس عورت نے یوسف کا کرتہ کھینچنے میں پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور ان دونوں نے دروازے کے پاس اس عورت کے خاوند کو پایا عورت نے خاوند کو دیکھتے ہی کہا جو تیری بیوی سے بدکاری کا ارادہ کرے اس کی سزا بجز اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ یا تو وہ قید کیا جائے یا اس کو کوئی اور درد ناک سزا دی جائے

25 جب ذلیخا اپنے اصرار سے باز نہ آئی حضرت یوسف (علیہ السلام) دروازے کی طرف بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے بھاگی اور اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ کھینچے میں پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور دونوں نے دروازے کے پاس اس عورت کے خاوند کو پایا عورت نے خاوند کو دیکھتے ہی کہا جو تیری بیوی سے بدکاری کا ارادہ کرے اس کی سزا سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ یا تو وہ قید کیا جائے اور جیل خانہ بھیجا جائے یا اس کو اور کوئی درد ناک سزا دی جائے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) گناہ سے بچنے کو بھاگے اور ذلیخا ان کو پکڑنے کو بھاگی بھاگتے میں پیچھے سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا اس نے کھینچا اور کھینچتے ہوئے کرتہ کو چیر ڈالا اور پھاڑ دیا۔ غرض ! آخری دروازے تک دونوں پہونچ گئے اور اتفاقاً دونوں کو دروازے پر عزیر مصر مل گیا عورت نے عزیر کو دیکھتے ہی فوراً یہ بات گھڑ دی اور جرم کو یوسف (علیہ السلام) پر ڈال دیا اور اپنا الزام ان کے گلے منڈھ دیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف دوڑے نکل جانے کو اور وہ دوڑی پکڑنے کو
Ayah 12:26

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہ عورت خود مجھ کو اپنی جانب مائل کرنے کیلئے پھسلاتی تھی اور اس عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے یہ گواہی دی کہ اگر یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور یوسف (علیہ السلام) جھوٹا ہے

26 حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہ عورت خود مجھ کو اپنی طرف مائل کرنے اور اپنا مطلب نکالنے کے لئے مجھے پھسلاتی تھی اور اس عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے یہ گواہی دی کہ کسی کو مجرم قرار دینے سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کا پھٹا ہوا کرتہ دیکھو اگر یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور یوسف (علیہ السلام) جھوٹا ہے۔
Ayah 12:27

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو وہ عورت جھوٹی ہے اور یوسف (علیہ السلام) سچا ہے

27 اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ عورت جھوٹی ہے اور وہ یوسف (علیہ السلام) سچا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے واقعہ کو سچ سچ کہہ دیا ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ اس عورت کا بھانجہ جو شیر خوار تھا اس کو کوئی گود میں لئے کھڑا تھا وہ بول اٹھا اگرچہ یہ دلیل یقینی نہ تھی صرف اس کا چھوٹی عمر میں بولنا ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صداقت کے لئے ایک دلیل تھی لیکن بچہ نے ایک ایسی بات کہی جس سے بھاگنے والے اور پیچھے سے پکڑنے والے کا اندازہ ہوسکتا تھا اور اگر یہ گواہی دینے والا کوئی بڑا آدمی تھا۔ جیسے کہ بعض نے کہا ہے تو اس نے گواہی کا بڑا اچھا پیرانہ اختیار کیا اور عمدہ اور غیر جانبدار طریقہ سے ایسی بات کہی جس نے آخری میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت کو ثابت کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس عورت کا ناطے دار دودھ پیتا ہوا ایک لڑکا یہ بول اٹھا 12
Ayah 12:28

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب عزیر نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بیوی سے کہا یہ تم عورتوں ہی کی فریب کاری ہے بیشک تمہارا مکر بڑا خوفناک ہے

28 پھر جب عزیر ن ے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بیوی سے کہا یہ سب تم عورتوں ہی کی فریب کاری اور چالاکی ہے بیشک تمہاری چالاکیاں اور مکاریاں بڑی خوفناک اور بڑے غضب کی ہوتی ہیں۔
Ayah 12:29

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

تو اس واقعہ کو نظر انداز کردے اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ یقینا سراسر تو ہی خطا کاروں میں سے ہے

29 اے یوسف (علیہ السلام) تو اس واقعہ کو نظر انداز کردے اور اے عورت تو یوسف (علیہ السلام) سے اپناہ گناہ کی معافی مانگ یقینا سر تا سر تو ہی خطاکاروں میں سے ہے یعنی کرتہ دیکھا گیا اور عزیر کو عورت کے مکروفریب اور اسکی خطا کا یقین آگیا چناچہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو تو یہ سمجھایا کہ درگزر کرو اور اس واقعہ کو شہرت نہ دو خوامخواہ میری بدنامی ہوگی اور زلیخا سے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے یا خدا سے اپنے گناہ کی معای مانگ بلاشبہ تو ہی خطا کار ہے۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر کی چند عورتوں نے آپس میں یہ تذکرہ کیا کیا کہ عزیر کی بیوی اپنے غلام سے اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اس کو پھسلاتی ہے یوسف (علیہ السلام) کی محبت نے اس عورت کے دل میں گھر کرلیا ہے یقینا ہم اس کو صحیح غلطی میں دیکھتی ہیں

30 یہ واقعہ شہر میں مشہور ہوگیا اور شہر کی چند عورتوں نے آپس میں تذکرہ کیا اور یہ بات کہی کہ عزیر کی بیوی اپنے غلام سے ناجائز خواہش پوری کرنے کی غرض سے اس کو پھسلاتی ہے یوسف کا عشق اس کے دل میں پیوست ہوگیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کی محبت نے اس کے دل میں گھر کرلیا ہے یقینا ہم اس کو صریح غلطی میں دیکھتی ہیں۔ یعنی جب شہر میں یہ چرچا پھیلا تو کچھ عورتوں نے آپس میں اس قسم کا تذکرہ کیا کہ ہم تو عزیر کی بیوی کو کھلی غلطی میں مبتلا پاتی ہیں کہ وہ غلام پر فریفتہ ہوگئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غلام اس قابل کیا ہوگا 12 بعض اہل تحقیق نے کہا ہے کہ یہ عورتیں بڑی چالاک تھیں ان کو اعتراض یہ تھا کہ ذلیخا کو پھسلانا بھی نہ آیا اگر ذلیخا ہمارے مشورے پر چلتی تو ہم دکھاتیں کہ کس طرح یوسف (علیہ السلام) ذلیخا کی خواہش پورش نہ کرتا۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب عزیر کی بیوی نے ان عورتوں کی پرفریب باتیں سنیں تو ان کو بلا بھیجا اور ان کے لئے مسند اور تکیہ لگایا اور ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری دے دی اور یوسف (علیہ السلام) سے کہا ذرا ان کے سامنے نکل کر آپھر جب ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو ششدر اور محو حیرت ہوکر رہ گئیں اور انہوں نے ان چھریوں سے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بےساختہ بولیں ماشا اللہ یہ آدمی نہیں ہے بس یہ تو کوئی ذی مرتبہ فرشتہ ہے

31 پھر جب عزیر کی بیوی نے ان عورتوں کی پُر فریب اور طعن آمیز باتیں سنیں تو ان کو کسی کے ہاتھ بلا بھیجا اور ان کے واسطے مسند بچھائی اور تکیہ لگایا اور ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری پھل کاٹنے کو دے دی جب یہ عورتیں آئیں اور کھانے میں مشغول ہوگئیں تب حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا ذران کے سامنے نکل کر آا پھر جب عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو حیران و ششد رہ گئیں اور ایسی سٹ پٹائیں کہ بجائے پھل کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بےساختہ ان عورتوں نے کہا ما شا للہ ! یہ شخص آدمی نہیں ہے ہو نہ ہو یہ تو کوئی ذی مرتبہ فرشتہ ہے۔ یعنی جب ذلیخا کو عورتوں کی یہ باتیں معلوم ہوئیں تو اس نے ان کو کھانے پر بلا بھیجا اور کھانے کی مجلس آراستہ کرکے دستر خوان پر سب چیزیں چن دیں جو چیزیں چنی گئیں ان میں پھل بھی تھے جو چاقو سے کاٹ کر کھائے جاتے ہوں گے جب عورتیں کھانے میں مشغول ہوئیں تو زلیخا نے کمرے میں سے یوسف (علیہ السلام) کو بلا لیا یوسف (علیہ السلام) آئے تو عورتیں محو حیرت ہوگئیں اور انہوں نے پھل کی جگہ چھری سے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہنے لگیں یہ آدمی نہیں ہے یہ تو کوئی ذی مرتبہ فرشتہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چھریاں دی تھیں میوہ کھانے کو ان کا حسن دیکھ کر بےحواس ہوگئیں چھری سے ہاتھ کٹ گئے 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ طعن کا جواب یوسف (علیہ السلام) کو دکھا کردیا اور ان کو مکروفریب کے لئے استعمال کرنے کی بات آگے آتی ہے۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

عزیر کی بیوی نے کہا یہی تو وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں اور واقعی میں نے اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اس کو پھسلایا تھا مگر اس نے اپنے کو بالکل محفوظ رکھا اور جو کام میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر آئندہ بھی اس کی تعمیل نہیں کرے گا تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ ضرور بےعزت ہوگا

32 زلیخا کہنے لگی یہی تو وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھ کو ملامت کر رہی تھیں اور برا بھلا کہہ رہی تھیں اور واقعی میں نے اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اس کو پھسلایا اور پانی طرف مائل کرنا چاہا تھا مگر یہ بالکل محفوظ رہا اس نے اپنے کو بالکل پاک صاف رکھا اور جو کام میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر آئندہ بھی اس کی تعمیل نہ کرے گا تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ ضرور بےعزت ہوگا۔ زلیخا نے بہت سمجھداری سے بات کی پہلے تو یہ سمجھایا کہ اگر میں اس پرفریقتہ ہوئی تو کچھ دیکھ بھال کر ہوئی ہوں پھر یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامی اور اپنی ارادت کا اقرار کیا آخر میں دھمکی دی کہ جیل خانے بھیجاجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے روبرو یہ بات کہی تاکہ وہ بھی سمجھادیں اور حضر ت یوسف (علیہ السلام) قبول کریں۔ بعض اہل تحقیق نے کہا ہے کہ سب ان عورتوں کی ملی بھگت تھی مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں یہ بات نہ تھی اور ہاتھ کاٹنے میں کوئی بنی ہوئی بات نہ تھی البتہ بعد میں جوڑ لگ گیا ہوگا اور انہوں نے بھی یوسف (علیہ السلام) کو سمجھایا ہوگا کہ آخر تمہاری آقا ہے اس کا کہنا کردو ورنہ بلاوجہ جیل خانہ جائو گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ یہ عورتیں جیل کی دھمکی دے رہی ہیں اور مجھ پر یورش کر رہی ہیں تو وہ حضرت حق کی جانب متوجہ ہوئے۔
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے دعوت دے رہی ہیں اس بات سے قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے اگر تو نے ان کی فریب کاریوں کو مجھ سے دور نہ کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں ان کی طرف مائل نہ ہوجائوں اور پھر میں جاہلوں میں سے ہوجائوں

33 حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار جس بری بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں اس سے تو جیل خانہ جانہ ہی مجھ کو زیادہ پسند یدہ ہے اور اگر تو نے ان کی فریب کاریوں کو مجھ سے دفع نہ کیا اور نہ ان کے دائوں پیچ کو دور نہ رکھا تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ان کی طرف مائل نہ ہوجائو اور پھر میں جاہلوں میں سے ہوجائو یعنی ان عورتوں کے کید کو اگر مجھ سے دور نہ کیا تو میں نادانوں جاہلوں کا سا کام نہ کر بیٹھوں اگر مجھے قید خانے بھی جانا پڑے تو میں کسی معاصی کے مرتکب ہونے سے قیدکو بہتر سمجھتا ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو خطرہ ظاہر کیا وہ عصمت کے منافی نہیں ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانے جانے کی دعا نہیں کی بلکہ صرف گناہ کے مقابلہ میں قید خانے کو بہتر بتایا ہے۔
Ayah 12:34

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے اسکی دعاقبول فرمالی اور ان عورتوں کے دائو پیچ کو اس سے دور کردیا بیشک خدا بڑا سننے والا جاننے والا ہے

34 پھر اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمالی اور ان عورتوں کے فریب اور دائوں پیچ کو حضر ت یوسف (علیہ السلام) سے دور کردیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانگے سے قید میں پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی قبول فرمایا کہ ان کا فریب رفع کیا اور قید ہونا تھا قسمت میں آدمی کو چاہئے کہ گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہ مانگے پوری بھلائی مانگے کہ وہی ہوگا جو قسمت میں ہے۔
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

عزیر اور اس کے متعلقین کو باجود یوسف (علیہ السلام) کی صداقت کے نشانات دیکھنے کے یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کو ایک مدت تک قید میں رکھیں

35 پھر عزیر اور اس کے متعلقین کو باوجود صداقت کے نشان دیکھ لینے کے یہی مصلحت ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کو ایک زمانہ خاص تک جیل خانہ میں رکھاجائے یعنی یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی اور بےگناہی دیکھ لینے کے بعد پھر بھی سیاسی مصلحت یہی معلوم ہوئی کہ ایک بےگناہ کو جیل میں ڈال دیاجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگرچہ نشان سب دیکھ چکے کہ گناہ عورت کا ہے تو بھی ان کو قید کیا تاکہ بد نامی خلق میں عورت سے اترے یا اس واسطے کہ اس کی نظر سے دور رہیں 12
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اتفاقات اور بھی دو جوا ن قید خانہ میں داخل ہوئے ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹیاں اٹھا رکھی ہیں اور ان میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اے یوسف (علیہ السلام) ہم کو ہمارے اس خواب کی تعبیر بتادے کیونکہ ہم تجھ کو نیک آدمیوں میں سے دیکھتے ہیں

36 ۔ اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اتفاقا ً اور بھی دو نوجوان قید خانے میں داخل ہوئے ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے کو دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹیاں اٹھا رکھی ہیں اور ان روٹیوں میں سے پرندے نوچ نوچ کر رکھا رہے ہیں ۔ اے یوسف (علیہ السلام) ! ہم کو ہمارے خواب کی تعبیر بتا دیجئے ہم آپ کو نیکو کاروں میں دیکھتے ہیں۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل خانے بھیجا گیا تو اسی زمانے میں دو اور نوجوان جو بادشاہ کے غلام تھے وہ بھی ایک الزام کے ماتحت جیل خانے میں داخل کئے گئے ان دونوں میں سے ایک تو بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا اور ایک بادشاہ کا نانبائی تھا جو بادشاہ کو کھانا کھلایا کرتا تھا دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے سازش کر کے بادشاہ کو کھانے میں اور شراب میں زہر دیا ہے ان دونوں کا معاملہ زیر تحقیق تھا۔ ان دونوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معتقد ہوگئے اور ان دونوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنا خواب بیان کر کے تعبیر طلب کی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس نے شراب دیکھی وہ بادشاہ کا شراب ساز تھا اور دوسرا نانبائی تھا لیکن خلاف عادت دیکھا کہ سر پر سے جانور نوچتے ہیں زہر کی تہمت میں دونوں قید تھے آخر نان بائی پر ثابت ہوئی۔ 12 حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کو سن کر ان کی خوش عقیدگی کو دیکھ کر موقع کو غنیمت سمجھا کہ لائو خواب کی تعبیر سے پہلے ان کی اصلاح کر دوں اور ان کو اسلام کی خوبیاں سمجھا دوں تا کہ شاید یہ مسلمان ہوجائیں۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ جو کھانا تم کو روزمرہ کھانے کو ملتا ہے وہ کھانا تمہارے پاس آنے سے پہلے پہلے میں اس خواب کی تعبیر تم کو بتادوں گا یہ تعبیر کا بتادینا اس علم کی وجہ سے ہے جو میرے رب نے مجھ کو سکھایا ہے میں نے ان لوگوں کا مذہب اختیار نہیں کیا ہے جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں ،

37 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے فرمایا کہ جو کھانا تم کو روز مرہ کھانے کو ملتا ہے اس کھانے کے پہنچنے سے پہلے پہلے تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر بتادوں گا یہ تعبیر کا بتادینا اس علم کی وجہ سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کا مذہب نظر انداز کردیا ہے اور اختیار نہیں کیا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے قید خانہ میں یہ حکمت رکھی کہ ان کا دل کافروں کی محبت سے لوٹا تو دل پر اللہ کا علم روشن ہوا ، چاہا کہ ان کو دین کی بات سنا دیں پیچھے تعبیر خواب کہیں اس واسطے تسلی کردی تا نہ گھبرائیں کہ کھانے کے وقت تک وہ بھی بتادوں گا ۔ بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ کھانا آنے سے پہلے کھانے کی پوری کیفیت اور حقیقت بیان کر دوں گا یعنی کھانا جیل کا ہو یا حوالاتی ہونے کی وجہ سے تمہارا کھانا گھر سے آئے میں کھانے کی پوری تفصیل بیان کر دوں گا اس تقریر پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معجزے کا اظہار ہوگا ۔ یعنی معجزے کا ذکر کرنے سے نبوت کی دلیل بھی سامنے آگئی گویا توحید اور رسالت دونوں پر ایمان لانے کی تبلیغ ہوگئی۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں اپنے باپ دادا جو ابراہیم (علیہ السلام) و اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) میں ان کے مذہب کی پیروی کرتا ہوں اور ہم کو یہ بات ہرگز زیبا نہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک قرار دیں ، یہ عقید ٔ توحید ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ کا ایک بہت بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ خدا کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے ،

38 ۔ اور میں نے اپنے باپ دادا جو ابراہیم (علیہ السلام) و اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں ان کے مذہب اور ان کے طریقہ کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ہم کو یہ بات ہرگز زیبا نہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک قرار دیں ۔ یہ عقیدۂ توحید ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔ یعنی جس دین کی میں تم کو تبلیغ کر رہا ہوں یہ وہی ملت ابراہیمی اور اسلام ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہم السلام) کا مذہب تھا میں بھی اسی کا پیرو ہوں ۔ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا ہرگز زیبا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمارا اس دین پر رہنا سب خلق کے حق میں فضل ہے ک ہم سے راہ سیکھیں۔ 12
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے قید خانہ کے رفیقو ! کیا جدا جدا بہت سے معبود بہتر ہیں ؟ یا ایک اللہ جو یکتا اور سب سے زبردست ہے وہ بہتر ہے ،

39 ۔ اے قید خانہ کے رفیقو ! کیا بہت سے متفرق اور الگ الگ معبود عبادت کرنے کو اچھے ہیں یا ایک اللہ تعالیٰ جو سب سے زبردست اور یکتا ہے وہ بہتر ہے ۔ یعنی بہت سے معبود قراردینا بہتر یا اکیلا برحق معبود بہتر ۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم لوگ تو خدا کو چھوڑ کر صرف ایسے چند بےاصل ناموں کی پرستش کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے گھڑ لیا حالانکہ خدا نے ان کے معبود ہونے پر کوئی دلیل نہیں نازل کی سوائے اللہ کے اور کسی کی فرماں روائی نہیں ہے اس نے یہ حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت نہ کرو یہی صحیح اور سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

40 ۔ تم لوگ تو خدا کو چند ایسے بےاصل اور بےحقیقت ناموں کی پرستش کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادائوں نے گھڑ لیا ہے اور آپ ہی ٹھرا لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معبود ہونے پر کوئی دلیل اور کوئی سند نہیں اتاری سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی فرماں روائی نہیں اور اس کے سوا نہ کسی کو حکم دینے کا اختیار ہے اس نے یہ حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت نہ کرو یہی صحیح اور سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی وہ ٹھا کر کہ جن کے نام تم نے رکھ چھوڑے ہیں وہ تو بیکار محض ہیں ایسی حالت میں سوائے ناموں کے اور کیا رکھا ہے اور حکومت ہے اللہ تعالیٰ کی اور اسی کا حکم چلتا ہے تو اس کے حکم کی کوئی سند دکھلائو اس کا حکم تو ان ٹھاکروں کی پوجا کے خلاف ہے اس کا حکم تو یہ ہے کہ سوائے اس کے کسی کی بندگی نہ ہو یہی ایک صاف اور سیدھا طریقہ ہے لیکن اکثر لوگ خدائے تعالیٰ کی توحید کو نہیں جانتے۔