12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب اپنے باپ کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ اے باپ تیرے لڑکے بن یامین نے چوری کی ہے اور ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ ہم بیان کرتے ہیں باقی کسی پوشیدہ امر کے ہم نگہبان نہیں ہیں

81 ۔ تم سب اپنے باپ کے پاس واپس جائو اور جا کر ان سے کہو اے ہمارے باپ ! تیرے بیٹے بن یامین نے چوری کی ہے اور ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہی ہم بیان کرتے ہیں اور ہم عہد کرتے وقت غیب کی باتوں کے تو حافظ تھے نہیں اور کسی پوشیدہ امر کے تو ہم نگہبان نہیں ہیں ۔ یعنی جو واقعہ پیش آگیا اس کی ہم کو خبر نہ تھی کہ یہ چور ی کرے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم کو قول دیا تھا اپنی دانست پر اور چوری کی خبر نہ تھی یا ہم نے چور کو پکڑ رکھنا بتایا اپنے دین کے موافق معلوم نہ تھا کہ بھائی چوری ہے۔ 12
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور نیز یہ کہ تو اسی بستی کے لوگوں سے دریافت کرلے جہاں ہم تھے اور ان قافلہ والوں سے پوچھ لے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں اور یقین مان ہم بالکل سچ کہتے ہیں

82 ۔ اور نیز یہ کہ آپ اس بستی کے لوگوں سے دریافت کرلیجئے جہاں ہم مقیم تھے اور ان قافلہ والوں سے پوچھ لیجئے جن کے ساتھ ہم تھے اور شامل ہو کر ان کے ساتھ آئے ہیں اور یقین مانیے ہم بالکل سچ کہتے ہیں ۔ یعنی آپ یا تو مصر میں کسی کو بھیج کر دریافت کرلیجئے کہ یہ واقعہ ہوا یا نہیں یا دوسرے قافلوں کے لوگ جن کے ساتھ شامل ہو کر ہم آئے ہیں ان قافلے والوں سے پوچھ لیجئے غالباً قحط عام تھا اس لئے اور لوگ بھی کنعان کے آس پاس کے مصر جاتے ہوں گے اور کئی کئی قافلے مل کر چلتے ہوں گے جو آنے میں یا جانے میں ساتھ ہوجاتے ہوں گے۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سن کر کہا حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ دی ہے سو اب میرا کام صبر جمیل ہے ، مجھ کو اللہ سے امید ہے کہ وہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا بیشک وہ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے

83 ۔ بڑے بھائی کو چھوڑ کر جب بھائی واپس کنعان پہنچے تو انہوں نے تمام واقعہ بیان کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سب قصہ سنا کر فرمایا نہیں بن یامین نے چوری نہیں کی بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے لہٰذا پہلے کی طرح اس واقعہ پر بھی صبر جمیل ہی میرا کام ہے مجھ کو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا بیشک وہ بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے۔ چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ سے ان بھائیوں کی حرکات سے پوری طرح غیر مطمئن تھے۔ اس لئے فرماای بل سولت لکم صبر جمیل وہ ہے جس میں غیر خدا سے شکوہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سے شکایت صبر جمیل کے منافی نہیں اللہ تعالیٰ حقیقت حال سے بخوبی واقف ہے اور چونکہ وہ حکیم ہے اس لئے تاخیر میں بھی کوئی حکمت ہے سب کو لے آئے گا یعنی یوسف (علیہ السلام) بن یامین اور بڑا بھائی میں باوجود ان پے در پے واقعات کے بھی خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ پہلی بار کی بےاعتباری سے اب کے بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کا اعتبار نہ کیا لیکن نبی کا کلام جھوٹ نہیں بیٹوں کی بنائی ہوئی بات تھی ۔ خلاصہ ! یہ کہ لکم کا خطاب سب بیٹوں کو ہے جن میں یوسف (علیہ السلام) اور بن بامین بھی داخل ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کہ اس دفعہ یوسف (علیہ السلام) اور بن یامین نے بات بنائی نہ یہ چوری تھی نہ بن بامین چوری میں مآخوذ ہوئے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر یعقوب (علیہ السلام) ان کے پاس سے چلا گیا اور اس نے کہا ہائے افسوس ! یوسف (علیہ السلام) پر اور مارے غم کے اس کی دونوں آنکھیں سفید پڑگئیں یعنی روتے روتے اور وہ دل ہی دل میں گھٹا کرتا تھا

84 ۔ پھر یہ کہہ کر یعقوب (علیہ السلام) ان کے پاس سے پھرے اور اپنارخ دوسری طرف کرلیا اور کہا ہائے افسوس ! یوسف (علیہ السلام) کی جدائی پر اور مارے غم کے روتے روتے یعقوب (علیہ السلام) کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں یعنی زیادہ رونے سے آنکھوں کی سیاہی گھل گئی آنکھوں کی رونق یا آنکھوں کی بینائی جاتی رہی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ غم کی بات منہ سے نہ نکالتا تھا مگر اس وقت اتنا نکلا ایسا درد اور اتنیمدت اور دبا رکھنا کس کا کام ہے سوائے پیغمبر کے ۔ 12 ۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹے کہنے لگے خدا کی قسم تو تو ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) ہی کا تذکرہ کرتا رہے گا یہاں تک کہ تو بیمار ہو کر قریب المرگ ہوجائے یا جان دیکر مرنے والوں میں شامل ہوجائے

85 ۔ بیٹے کہنے لگے خدا کی قسم تو تو ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) ہی کا تذکرہ کرتا رہے گا یہاں تک کہ تو گھل گھل کر قریب المرگ ہوجائے یا جان دے کر مرنے والوں میں شامل ہوجائے۔ بیٹوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی حالت دیکھ کر یہ کہا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس بیٹے کے جانے سے پھر یوسف (علیہ السلام) کا غم تازہ ہوا ۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں تو اپنے اضطراب اور غم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے جو باتیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے

86 ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب دیا میں تو اپنے اضطراب اور اپنے رنج و غم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم کیا مجھ کو صبر سکھائو گے لیکن بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درددیا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حدپر پہنچ کر بس ہو۔ 12
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو ! تم پھر واپس جائو اور مصر پہنچ کر یوسف اور اس کے بھائی کا پتہ لگائو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں ،

87 ۔ اے میرے بیٹو ! تم پھر ایک بار واپس جائو اور مصر پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کا پتہ لگائو اور ان کی جستجو کرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے ناامید ہوجانا کافروں کا شیوہ ہے اس لئے جائو غلہ بھی لائو اور بھائیوں کو بھی تلاش کرو۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

آخر کار جب یہ لڑکے یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ا سے کہا اے عزیز ! ہم کو اور معاف گھر والوں کو بڑی سختی پہنچ رہی ہے اور ہم یہ ناقص پہنچی لائے ہیں مگر تو ہم کو پورا غلہ دیدے اور ہم پر خیرات کر بیشک اللہ خیرات کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیتا ہے

88 ۔ چناچہ یہ لڑکے پھر سفر میں گئے اور مصر پہنچ کر عزیز مصر کے سامنے پیش ہوئے تو ان سے کہا اے عزیز ! ہم کو اور ہمارے گھروالوں کو قحط کے باعث بڑی سختی پہنچ رہی ہے اور ہم یہ ناقص اور نکمی پونجی لائے ہیں مگر آپ اس کے ناقص ہونے پر نظر نہ کیجئے اور ہم کو پورا غلہ دے دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے اور خیرات سمجھ کر دیدیئے ، یقینا اللہ تعالیٰ خیرات کرنیوالوں کو اچھا صلہ دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قحط میں سب اسباب گھر کا بک گیا اب کی بار اون ، پنیر ایسی چیزیں لائے تھے اناج خریدنے کو۔ یہ حال سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو رحم آیا اپنے آپ کو ظاہر کیا اور سارے گھر کو بلوایا ۔ 12 ۔ خلاصہ :۔ یہ کہ جب بھائیوں کی غربت اور افلاس کی نوبت تک پہنچ گئی تو یوسف (علیہ السلام) کا دل بھر آیا یا نبوت کے نور سے معلوم کیا کہ معاملہ کو چھپانا مناسب نہیں یا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا انما اشکوابثی و حزلی کہنا کام آیا ، بہر حال اظہار کا موقع آگیا۔ بعض حضرات نے تصدق علینا پر مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے مگر ظاہر یہ ہے کہ صدقہ کہ معنی یہاں مطلق احسان کے ہیں اس کے بعد کسی بحث کی گنجائش نہیں۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا کچھ تم کو وہ سلوک بھی معلوم ہے جو تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ اس زمانے میں کیا تھا جب تم جہالت میں مبتلا تھے ،

89 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے کہا کچھ تم کو وہ سلوک اور وہ برتائو بھی یاد ہے اور تم کو معلوم ہے جو تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ اس زمانہ میں کیا تھا جب تم جہالت میں مبتلا تھے۔ یعنی اس بات کو سن کر گھبرائے کہ عزیز مصر کو اس سے کیا بحث ! اور یہاں یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کیسا پھر سنبھل کر غور کیا ، شاید پہچانے ہوں کہ ہم نے مصری قافلہ کے ہاتھ اسکو فروخت کیا تھا کہیں یہ یوسف (علیہ السلام) ہی نہ ہو اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اذا نتم جاہلوں کہہ کر سوال جرم کو نرم کردیا۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا واقعی تو یوسف (علیہ السلام) ہے ، یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ بن یامین میرا بھائی ہے بلا شبہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا یقینا جو شخص خدا سے ڈرتا اور تکالیف پر صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا

90 ۔ وہ کہنے لگے کیا واقعی تو یوسف (علیہ السلام) ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا ہاں ! میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ بن یامین میرا بھائی ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا یقینا جو شخص گناہ کے ارتکاب سے ڈرتا ہے اور مصائب پر صبر کا شکوہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں اور نیک کام کرنیوالوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے تقویٰ اور صبر کی بات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف کیا تا کہ تکبر اور غرور کا شبہ نہ کیا جائے اور کسی بندے کو تقویٰ کی توفیق عطا فرمانا اور بلائوں پر صبر کی ہمیت دینا یہ اس کا بہت بڑا احسان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبرا وے نہیں تو آخر بلا سے زیادہ عطا ملے۔ 12
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

بھائیوں نے کہا خدا کی قسم اس میں شک نہیں کہ اللہ نے تجھ کو ہر اعتبار سے ہم پر فضلیت عطا فرمائی اور بیشک ہم ہی خطا دار تھے ،

91 ۔ بھائیوں نے کہا خدا کی قسم اس میں شک نہیں کہ تجھ کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ترجیح دی اور ہر اعتبار سے تجھ کو ہم پر فضلیت عطا فرمائی اور ہم نے جو کچھ کیا بیشک ہم اس میں خطا وار تھے ۔ انہوں نے معذرت کے طور پر کہا کہ تم جس لائق تھے تمہارے ساتھ و ہ ہوا اور ہم نے جو کچھ کیا برا کیا تو ہم کو معاف کر دے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تیرا خواب سچ تھا اور ہمارا حسد غلط ۔ 12
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کوئی سرزش اور ملامت نہیں خدا تم کو معاف کرے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

92 ۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کوئی سرزنش ملامت اور الزام نہیں تمہارا قصور اللہ تعالیٰ معاف فرمائے وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بھائیوں کے ذمہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کے دونوں قصور تھے تم پر کوئی الزام نہیں کہہ کر اپنے قصور کی معافی کا اعلان کردیا اور حقوق اللہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کردی اپنے قلب کی صفائی سے بھی مطمئن کردیا اور خدا سے دعا بھی کردی ۔ گویا یوسف (علیہ السلام) کے دل میں کچھ تھا ہی نہیں ۔ قصور واروں کو معاف کرنا اور اس قدر عجلت سے معاف کرنا یہ کام انبیاء (علیہم السلام) ہی کیا کرتے تھے۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

بس اب تم یہ میرا کرتہ لے جائو اور اس کو میرے باپ کے چہرہ پر ڈال دو وہ بینا ہوجائے گا اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آئو

93 ۔ بس اب تم میرے باپ کے لئے یہ میرا کرتہ لے جائو اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیگا اور دیکھتا ہوا چلا آئے گا اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آئو ۔ یعنی ایسی حالت میں کہ باپ کی آنکھوں کی بینائی کمزورہو گئی ہے یا بالکل روشنی جاتی رہی ہے ۔ یہاں آنے میں دشواری ہوگی اس لئے تم ان کو جا کر بشارت دو اور یہ کرتہ ان کے منہ پر ڈال دو تو بینائی ٹھیک ہوجائے گی پھر سب کو میرے پاس لے آئو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر مرض کی اللہ کے یہاں دوا ہے آنکھیں گئی تھیں ایک شخص کے فراق میں اسی کے بدن کی چیز ملنے سے چنگی ہوگئیں یہ کرامت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ۔ 12
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ مصر سے باہر نکلا تو یہاں ان کے باپ نے یہ کہنا شروع کیا کہ میں آج یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم نے میری بات کو بڑھاپے کی کم عقلی نہ سمجھا تو میری تصدیق کرو گے

94 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرمانے کے مطابق یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لیکر قافلہ کے ہمراہ روانہ ہوئے اور جب مصر سے قافلہ نکلا اور شہری حدود سے جدا ہوا تو کنعان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہنا شروع کیا کہ میں آج یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اور مجھ کو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم نے میری بات کو بڑھاپے کی کم عقلی سے نہ سمجھا اور یہ خیال نہ کیا کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں تو تم میری صدیق کرو گے۔ یعنی قافلہ ادھر مصر سے روانہ ہوا اور یہاں ان کے باپ یعقوب (علیہ السلام) نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھ کو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے واقعہ بھی یہی ہے کہ جب امتحان کی گھڑیاں ختم ہوجاتی ہیں تو ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا معجزہ تھا لیکن معجزے کا ظہور بھی مشیت الٰہی کے ماتحت ہوا کرتا ہے۔ حضرت سعدی (رح) نے کیا خوب فرمایا ہے۔ یکے پر سید آں، گم کردہ فرزند کے اے پیر گہر روشن خردمند زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چر اور چاہ کنعانش نہ دیدی بفگتا حال ما برق جہان است دمے پیدا و دیگر دم نہانست گہے بر طارم اعلی تشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کشف اور ان کی روشن ضمیری کی حالت بھی عجیب و غریب ہے۔ کنعان کے کنوئیں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کئی دن رہے لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو معلوم نہ ہوا اور یہاں مصر سے قافلہ چلا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آنے لگی ، اسی کا جواب ہے۔ گہے بر طارم اعلیٰ نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

لوگوں نے کہا خدا کی قسم تو تو اپنی اسی پرانی غلط خیالی میں مبتلا ہے

95 ۔ ان لوگوں نے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس رہتے تھے جواب دیا خدا کی قسم آپ تو اپنی اسی پرانی غلط خیالی میں مبتلا ہیں ۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) کی محبت میں مبتلا ہیں۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب خوشخبری لانے والا آپہنچا اور اس نے یوسف کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) کے منہ پر ڈالا تو وہ اسی وقت بینا ہوگیا اور اس نے بیٹوں سے کہا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ جو باتیں خدا کی طرف سے میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے

96 ۔ پھر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب سے بشارت دینے والا آپہنچا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) کے منہ پر ڈالا تو اسی وقت بینا ہوگیا اور اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں اور اس نے اس وقت بیٹوں سے کہا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی طرف سے جو باتیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یعنی اگر بالکل نابینا ہوگئے تھے تو بینائی واپس آگئی اور اگر بینائی کمزور ہوگئی تھی تو بینائی درست ہوگئی اور آنکھیں روشن ہوتے ہی بیٹوں سے فرمایا میں نے تلاش کرنے کا حکم اسی لئے دیا کہ جو کچھ مجھے خدا کی طرف سے معلوم تھا اس سے تم واقف نہ تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کرتہ، سواری اور خرچ بھیجا اپنے غلام کے ہاتھ اس نے آ کر کرتہ منہ پر ڈالا اور خوشخبری دی اسی وقت آنکھیں کھل گئیں۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا اے ہمارے باپ ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے بشک ہم ہی خطاوار تھے

97 ۔ بیٹوں نے کہا اے ہمارے باپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے ہمارے گناہوں کی بخشش کے لئے دعا کر دیجئے بیشک ہم ہی قصوروار تھے ۔ یعنی آپ کو جو تکلیف ہم نے پہنچائی ہے۔ اس کو آپ معاف کر دیجئے اور حقوق اللہ کی معافی کے لئے دعا کردیجئے۔
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لئے بخشش کی دعا کروں گایقیناوہ بڑا بخشنے والا نہایت مہرنان ہے

98 ۔ باپ نے کہا میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش کی دعا کروں گا بلا شبہ وہ بڑی مغفرت کرنیوالا نہایت مہربان ہے۔ معلوم ہوا باپ نے اپنا حق معاف کردیا ورنہ وہ دعا کا وعدہ نہ کرتے کہتے ہیں کہ جمعہ کی شب یا تہجد کے وقت کا انتظار تھا۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب یہ سب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور استقبال و ملاقات کے بعد کا اب آپ سب شہر میں چلتے انشاء اللہ آپ ہر طرح امن وامان سے رہیں گے

99 ۔ یہ سب لوگ کنعان سے مصر کے لئے روانہ ہوئے اور ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر سے استقبال کے لئے نکلے اور شہر سے باہر استقبال کا انتظام کیا گیا پھر یہ سب جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے پاس عزت و تعظیم کے ساتھ جگہ دی اور استقبال و ملاقات کے بعد کہا اب آپ سب شہر میں چلئے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہاں آپ ہر طرح امن وامان سے رہیں گے۔ یعنی دل جمعی اور خاطر جمعی کے ساتھ شہر میں چلئے ماں باپ کو جگہ دی ماں سے مراد ان کی خالہ ہیں جو سوتیلی ماں تھیں اور ہوسکتا ہے کہ حقیقی والدہ بھی زندہ ہوں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ شہر میں داخل ہونے کے بعد کہے یعنی بےکھٹکے ہو کر یہاں رہیے۔ واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ باہر شہر سے استقبال کو نکلے ہاں یہ کہا ۔ 12
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھایا اور اس وقت سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے باپ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس خواب کو سچا کردیا اور میرے رب نے اس وقت میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب مجھ کو قید خانہ سے نکالا اور باوجود اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے مابین جھگڑا ڈال دیا تھا پھر تم سب کو اس گائوں سے جہاں تم آباد تھے میرے پاس لے آیا میرا رب جو چاہتا ہے اسکو عمدہ تدبیر سے کرتا ہے بلاشبہ وہ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے

100 ۔ شہر میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) نے تعظیما ً اپنے والدین کو تخت شاہی پر اونچا بٹھایا اور اس وقت سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے باپ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس خواب کو سچا کردیا اور اس کی سچائی کو ظاہر کردیا اور اس عزت و شرف کے علاوہ میرے رب نے اس وقت میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب مجھ کو قید خانے سے اس نے نکالا اور باوجود اسکے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا اور فساد ڈلوایا تھا پھر تم سب کو اس گائوں سے جہاں تم تھے میرے پاس لے آیا بلا شبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کو عمدہ تدبیر سے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے ، بلا شبہ وہ بڑے علم والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی بھائیوں کا اور ماں باپ کا بڑا احترام کیا استقبال بھی بڑی شان سے کیا جب مصر میں لائے تب بھی ماں باپ کو بلند مسند پر بٹھایا ۔ یوسف (علیہ السلام) کو اس شاہانہ حالت میں دیکھ کر ماں باپ نے اور بھائیوں نے بطور محبت اور تعظیم ان کے سامنے سجدہ کیا یا صرف تھوڑے سے جھک گئے اور ہوسکتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی شان دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ شکر کیا ہو۔ ملل سابقہ میں سجدہ ٔ تعظیمی روا تھا جو حضرت آدم کے وقت سے حضرت مسیح (علیہ السلام) تک جاری رہا اور شریعت محمدیہ ﷺ میں حرام قراردیا گیا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اسی خواب کی تعبیر ہے اور اس کے ظہور کو پروردگار نے سچا کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا کسی قسم کی شکایت زبان پر نہ لائے ۔ قید خانے سے نکلنے اور گائوں سے سب کے آنے کا ذکر کیا کنویں سے نکلنے کا بالکل ذکر نہیں کیا کہ بھائی شرمندہ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر کئے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے اس کو منہ پر نہ لائے مجمل سنا دیا اگلے زمانے میں سجدہ کرنا تعظیم تھی آپس کی ۔ فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کیا تھا اس وقت کو منہ پر نہ لائے مجمل سنا دیا اگلے زمانے میں سجدہ کرنا تعظیم تھی آپس کی ۔ فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کیا تھا اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا ۔ وان المساجد للہ اس وقت پہلا رواج چلنا ایسا ہے جیسے کہ کوئی بہن سے نکاح کرے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت میں ہوا ہے۔ 12
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے رب ! تو نے مجھ کو حکومت کا ایک بڑا حصہ دیا اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمایا اے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے تو مجھ کو فرماں برداری کی حالت میں یعنی اسلام پر وفات دے اور مجھ کو مرنے کے بعد اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے

101 ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ خاندان مصر میں آباد ہوگیا یہاں تک کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا ۔ اب آگے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا ہے۔ اے میرے پروردگار تو نے مجھے سلطنت میں سے ایک بڑا حصہ عطا فرمایا اور ایک اچھے خاصے حصے کی حکومت دی اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر بتاتا بھی سکھایا اور خوابوں کی تعبیر کی کل بٹھانے کا علم بھی دیا ۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے تو مجھ کو فرمانبرداری اور اسلام کی حالت میں وفات دے اور دنیا سے اٹھا اور مجھ کو مرنے کے بعد اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے اور نیک لوگوں میں شامل کردے۔ یعنی علم ظاہری اور باطنی سے نوازا ، علم ظاہری یہ کہ حکومت کر رہا ہوں علم باطنی یہ کہ نبوت عطا فرمائی۔ جس کا ایک شعبہ خوابوں کی تعبیر بھی ہے اب لقائے الٰہی کا اشتیاق ہے اس لئے مجھ کو مسلمان ہونے کی حالت میں دنیا سے اٹھا لے اور نیکوں میں شامل کردے ، کیا مزیدار زندگی ہے۔ زلیخا کے ہاں تھے تو جیل خانہ پسند فرمایا اور تخت سلطنت پر بیٹھے تو موت مانگی۔ لمثل ھذا فلیعمل العاملون حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ علم کامل پایا ۔ دولت کامل پائی اب شوق ہوا اپنے دادے کے مراتب کا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی زندگی تک رہے دنیا کے کام میں ، پیچھے اپنے اختیار سے چھوڑ دیا ۔ 12
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

اے پیغمبر ! یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ پر وحی کے ذریعہ سے بتاتے ہیں ورنہ آپ تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ فریب آمیز تدبیریں کر رہے تھے

102 ۔ اپنے پیغمبر ! یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے بتاتے ہیں ورنہ آپ تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ فریب آمیز تدبیریں کر رہے تھے ۔ یعنی یہ قصہ بھی منجملہ اور واقعات کے غیب میں سے ہے اگر ہم وحی کے ذریعہ نہ بتاتے تو آپ کو معلوم ہی نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جس وقت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے خلاف نقصان پہنچانے کا عزم کر رہے تھے اس وقت آپ تو وہاں تھے نہیں پھر توریت اور انجیل میں بھی یہ تفصیل یہ تھی پھر تمہارے علم کا ذریعہ بجز ہماری وحی کے اور کیا ہوسکتا تھا۔ اس قصہ کا اس تفصیل کے ساتھ صحیح بیان کردینا آپ کی رسالت کی صاف اور کھلی دلیل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ مذکور تورات میں اور پہلی کتابوں میں بھی نہیں ۔ 12
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں اگر لوگ ایمان لانے والے نہیں

103 ۔ اور باوجود نبوت پر مختلف دلائل قائم ہوجانے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں خواہ ان کے ایمان لانے کی آپ کتنی ہی خواہش کریں اور آپ کا کتنا ہی جی چاہے۔ یعنی ان کے ایمان پر آپ کتنے ہی حریص کیوں نہ ہوں مگر اکثر لوگ دلائل کے باوجود ایمان لانے والے نہیں ۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

حالانکہ آپ ان سے اس قرآن کی تبلیغ پر کوئی اجرت بھی طلب نہیں کرتے ، یہ قرآن تو تمام اقوام عالم کے لئے صرف ایک نصیحت ہے

104 ۔ حالانکہ آپ ان سے اس قرآن کی تبلیغ پر کوئی اجرت بھی طلب نہیں کرتے یہ قرآن تو تمام اقوام عالم کے لئے ایک نصیحت ہے یعنی تم اس تبلیغ پر کوئی مزدوری بھی نہیں لیتے پھر بھی ان کو اس سے عناد ہے یا یہ کہ آپ اجرت تو مانگتے ہی آپ کا کام تو تبلیغ ہے آپ تبلیغ کرتے رہیے یہ نہ مانیں تو اس کی فکر آپ کو نہیں ہونی چاہئے۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں خدا کی قدرت کی بہت سی ایسی نشانیاں ہیں کہ جن پر یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ان پر توجہ تک نہیں کرتے

105 ۔ نبوت اور قرآن کے بعد توحید کا ذکر فرمایا اور آسمان اور زمین میں خدا کی قدرت کی بہت سی ایسی نشانیاں ہیں کہ جن پر یہ لوگ گزرتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے ، یعنی زمین و آسمان میں قدرت کے بیشمار دلائل توحید موجود ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور یہ ان کو دیکھتے ہیں مگر ان پر ذرا توجہ نہیں کرتے ، آسمان میں چاند ، سورج ، ستارے ، بارش وغیرہ۔ زمین میں حیوانات ، جمادات ، نباتات ہر چیز ان میں سے خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہے لیکن جب کوئی غور و فکر سے کام لے تب ہدایت ہو۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر لوگ خدا کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح مانتے ہیں کہ شرک بھی کرتے رہتے رہے

106 ۔ اور ان میں کے اکثر لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ شرک بھی کرتے رہتے ہیں یعنی بظاہر اللہ تعالیٰ کے ماننے کا اقرار بھی کرتے ہیں تو شرک آمیز غیروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے رہتے ہیں اور زبان سے خدا کا اقرار کرتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منہ سے سب کہتے ہیں کہ خالق مالک سب کا وہی ہے پھر اوروں کو پکڑتے ہیں ۔ 12
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا ایسے لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر خدا کے عذا ب کی کوئی ایسی آفت آجائے جو ان کو ڈھانک لے یا ان پر نا گہاں قیامت آپہنچے اور ان کو خبر بھی نہ ہو

107 ۔ پھر کیا ایسے لوگ اس بات سے بےخوف اور مطمئن ہوگئے ہیں کہ ان پر خدائے تعالیٰ کے عذاب کی کوئی ایسی آفت آپڑے جو ان کو چاروں طرف سے ڈھانک لے اور ان کو گھیرلے یا ان پر نا گہاں اور اچانک قیامت آپہنچے اور ان کو پہلے سے خبر بھی نہ ہو ۔ بہرحال کفر کا انجام عذاب ہے خواہ وہ دنیا میں آجائے یا قیامت میں ان پر نازل ہو ان کو بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے میری راہ تو یہی ہے کہ میں پوری بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اور جو میرے پیرو ہیں وہ بھی اور خدا تعالیٰ ہر عیب سے منزہ ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

108 ۔ اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے میری راہ تو یہی ہے کہ میں پوری بصیرت اور سمجھ بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسکی طرف دعوت دیتا ہوں اور اس کی طرف سب کو بلاتا ہوں میں بھی یہ دعوت دیتا ہوں اور میرے پیرو بھی اور اللہ تعالیٰ پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے اور میں شرک کرنیوالوں میں سے نہیں ہوں ۔ میرا طریق یہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنے داعی اور رسول ہونے پر پوری حجت وبراہین اور بصیرت وجدان کے ساتھ قائم ہوں تمام دنیا کو میں اور میری پیروی کرنے والے اس صحیح راستے کی دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے منزہ اور مبرا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستیوں کے رہنے والوں میں سے جس قدر پیغمبر بھیجے وہ سب مرد ہی ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو کیا یہ لوگ زمین کہیں چلے پھرے نہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے ہوچکے ہیں اور یقینا آخرت کا گھر ان لوگوں کیلئے بدرجہا بہتر ہے جو پرہیز گار ہیں سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

109 ۔ اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستیوں کے رہنے والوں میں سے جس قدر پیغمبر بھیجے وہ سب آدمی ہی ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو یہ لوگ زمین میں کہیں چلے پھرے نہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کو جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انجام کیسا ہو اور البتہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بدرجہا بہتر ہے جو پرہیز گار اور صاحب تقویٰ ہیں سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ یہ کفار کے اس اعراض کا جواب ہے کہ بشر کو کیوں رسول بنا کر بھیجا فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا ۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بستیوں میں جو نبی اور صاحب وحی ہم نے بھیجے وہ سب کے سب مرد ہوتے تھے اور آدمیوں کی ہدایت کے لئے آدمیوں ہی کا بھیجنا مناسب اور صحیح ہے اگر یہاں فرشتے آباد ہوتے فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا جن لوگوں نے اس قسم کے لغو اور لا یعنی اعتراض کر کے رسولوں کی مخالفت کی تو ملک میں چل پھر کر دیکھ لو ان کا کیسا برا انجام ہوا اور یہ بھی یاد رکھو کہ دنیا کے عیش و آرام پر اترا کر کفر و شرک میں مبتلا نہ ہو آخرت کا گھر اور آخرت کا مقام ان ہی لوگوں کے لئے بہتر اور آرام دہ ہے جو شرک سے بچتے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ اس عالم کے فوائد اور وہاں کے منافع فرمان برداروں ہی کے لئے ہوسکتے ہیں ۔ نافرمانوں کے لئے نہیں ۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

گزشتہ اقوام کو یہاں تک مہلت ملی کہ رسول ان سے ناامید ہونے لگے اور ان کی قوم کے کافروں نے یہ یقین کرلیا کہ ان پیغمبروں سے عذاب کے وعدے میں جھوٹ بولا گیا آخر کار ہماری مدد ان پیغمبروں کو آپہنچی ، پھر جس کو ہم نے چاہا وہ بچا دیا گیا اور ہمارا عذا ب مجرموں پر آئے پیچھے واپس نہیں کیا جاسکتا

110 اگر عذاب آنے میں تاخیر ہو رہی ہے اور باوجود کفر کے تم کو مہلت دی جا رہی ہے تو اس پر دھوکہ نہ کھائو کیونکہ امم سابقہ کو تو اتنی طویل مہلتیں ملتی رہیں اور اصلاح کا اتنا موقع دیا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) مایوس ہونے لگے کہ شاید عذاب جلدی نہ آئے گا اور ان کی قوم کے کافروں نے یقین کرلیا کہ ان پیغمبروں سے عذاب کے وعدے میں جھوٹ بولا گیا اور عذاب آنے والا نہیں آخر کار ہماری مدد آپہنچی پھر ہم نے جس کو چاہا وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب آئے پیچھے مجرموں سے واپس نہیں کیا جاتا ۔ یعنی مہلت پر دھوکہ نہ کھائو پہلی امتوں کو اس قدر ملتیں ملتی رہیں یہاں تک کہ انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہ رہی ۔ ادھر کافروں نے اس کا یقین کرلیا کہ عذاب کا وعدہ محض ایک ڈھونگ تھا تو عین اس وقت جب کہ پیغمبر گھبرا گھبرا کر کہہ رہے تھے ۔ متی نصر اللہ تو ہماری مد د آپہنچی پھر ہم نے جس کو چاہا بچا لیا یعنی مسلمانوں کو نجات دی اور مجرموں پر عذاب آئے پیچھے کب ٹل سکتا ہے آثار و اسباب کی وجہ سے جو مایوسی ہو وہ مذموم نہیں البتہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا مذموم ہے۔ ہو سکتا ہے کہ واقعات کی نزاکت اور پریشان حالات کے پیش نظر رسولوں کے دل میں بھی وسوسہ کے وجہ میں یہ بات آئی ہو کہ اجمالی عذاب کا جو وعدہ ہم سے کیا گیا تھا اس کی تعیین میں ہم سے غلطی ہوئی ہو یا یہ وسوسہ آیا ہو کہ جو اجمالی وعدے ہماری مدد او کفار کی ہلاکت کے ہم سے کئے گئے تھے ہمارے زندگی میں وہ پورے ہوں گے یا نہیں اور یا یہ وسوسہ ان مسلمانوں کے دل میں آیا ہو جو پیغمبر کے ساتھی تھے تو اس قسم کا وسوسہ قابل اعتراض نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وعدہ ٔ عذاب کو دیر لگی یہاں تک کہ رسول ناامید ہونے لگے کہ شاید ہماری زندگی میں نہ آیا پیچھے آے ان کے یار خیال کرنے لگے کہ شاید وعدہ خلاف تھا اتنے خیال سے آدمی کافر نہیں ہوتا ، اگر جانتا ہے کہ یہ خیال بد ہے۔ 12 خلاصہ :۔ یہ کہ حضرت حق تعالیٰ نے جو وعدہ نصرت اور وعدہ عذاب فرمایا تھا اس کے متعین کرنے میں غلطی محسوس ہوئی اس کو فرمایا ۔ وظنوا انھم قد کذبوا ۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

بلا شبہ ان لوگوں کے واقعات میں اہل دانش کیلئے بڑی عبرت ہے یہ قرآن کوئی من گھڑت اور بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے اور ہر چیز کو تفصیل سے بیان کرنے والا ہے اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں

1 1 1 ۔ بلا شبہ پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے واقعات میں اہل دانش اور سمجھدار لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے یہ قرآن کریم جس میں یہ واقعات مذکور ہیں کوئی من گھڑت اور بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ جو کتب سماوی اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں یہ قرآن کریم ان کی تصدیق کرنیوالا ہے اور ہر ضروری چیز کی تفصیل بیان کرنے والا اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ۔ یعنی مومن جو قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے مزید ہدایت حاصل کرنے اور رحمت سے مستفید ہونے کا ذریعہ ہے واقعات میں ارباب دانش اور اصحاب غور و فکر کے لئے عبرت ہے ، اسلامی احکام ضروریہ کی تفصیل ہے۔