12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsکشف الرحمٰن
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader
اے قید خانہ کے رفیقو ! تم میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانا کرے گا اور دوسرا تم میں کا سولی دیا جائے گا اور بندے نوچ نوچ کر اس کے سر میں سے کھائیں گے جو بات تم دریافت کرتے تھے اس کا فیصلہ کیا جا چکا ،
وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader
اور ان دونوں میں سے یوسف (علیہ السلام) نے جس کو یہ سمجھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے کہا کہ بادشاہ کے روبرو میرا تذکرہ کرویجو پھر شیطان نے اس کو اپنے بادشاہ یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانہ میں ہی رہا
وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader
اور بادشاہ نے دربار کے لوگوں سے کہا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات گائیں ہیں خوب موٹی ان موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور دیکھتا ہوں سات بالیں ہیں سبز اور دوسری سات بالیں خشک ہیں ، اے دربار والو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کی تعبیر بتائو ،
قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader
درباریوں نے کہا یہ تو یوں ہی پریشان خیالات سے ہیں اور ہم اس سم کے خواب پریشان کی تعبیر سے واقف نہیں ہیں
وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader
اور ان دو قیدیوں میں سے جو رہا گیا تھا اس نے کہا اور ایک مدت کے بعد اسکو یوسف (علیہ السلام) کی بات یاد آتی میں تم کو اس خواب کی تعبیر بتائے دیتا ہوں تم ذرا قید خانہ تک مجھے جانے کی اجازت دو ۔
یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader
اے یوسف (علیہ السلام) اے صدیق اس خواب کی تعبیر تو ہم کو بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں سبز اور دوسری سا ت بالیں خشک ہیں تا کہ میں تیرا جواب لے کر ان لوگوں کی طرف واپس جائوں اور تا کہ وہ بھی واقف ہوجائیں
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا تم سات سال برابرخوب محنت سے زراعت کرنا پھر جو فصل کاٹنا اس کو بالوں ہی میں رہنے دینا الا یہ کہ تھوڑی سی مقدار جو تم کھائو بالوں میں سے نکال لینا
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader
پھر ان سات سال کے بعد ایسے سخت سال آئیں گے کہ جو کچھ تم نے ان برسوں کے لئے جمع کر رکھا ہوگا اس سب کو یہ سخت سال کھا جائیں گے الا یہ کہ تھوڑا سا غلہ بیچ جائے گا
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader
جس کو تم احتیاط سے بچا لو گے پھر ان سات برس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کے لئے خوب بارش کی جائے گی اور لوگ اس سال میں پھلوں کو نچوڑیں گے
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader
اور بادشاہ نے تعبیر سن کر کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لائو اور پھر جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس شاہی قاصد آیا تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا تو اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کر ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے چھریوں سے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بیشک میرا رب ان کی پر فریب کارروائیوں سے خوف واقف ہے
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader
بادشاہ نے ان عورتوں سے کہا کہ جب تم یوسف (علیہ السلام) کو اپنی خواہش کے لئے آمادہ کر رہی تھیں تو تمہارے اس واقعہ کی صحیح حقیقت کیا ہے عورتوں نے کہا خدا پا ک ہے ہم کو یوسف (علیہ السلام) میں ذرا سی بھی کوئی برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی اس پر عزیز کی بیوی نے کہا اب تو سچی بات سب پر کھل ہی گئی واقعہ یہ ہے کہ میں نے ہی اس کو اپنے لئے آمادہ کرنا چاہا تھا اور بلا شبہ وہ راست باز ہے
ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے اس خبر کو سن کر کہا اس تحقیقات سے میری غرض یہ تھی کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اسکی پیٹھ پیچھے اس کی کوئی خیانت نہیں کہ اور نیز اس معلوم ہوجائے کہ خیانت کرنیوالوں کے فریب کو خدا چلنے نہیں دیتا۔
وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader
اور میں کوئی انپے نفس کی برأت نہیں کرتا بیشک تو بری ہی باتوں پر ابھارا کرتا ہے مگر وہ نفس جس پر میرا رب رحم کرے بلا شبہ میرا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader
اور بادشاہ نے کہا یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لے آئو میں اس کو اپنے کام کے لئے مخصوص کرلوں گا پھر جب یوسف (علیہ السلام) سے بادشاہ نے گفتگو کی تو کہا آج سے تو ہمارے یہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہے،
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مامور کر دے کیونکہ میں ایک اچھا محافظ اور واقف کار ہوں
وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader
اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک میں ذی اقتدار اور با اختیار کردیا کہ اس ملک میں وہ جہاں چاہے سکونت پذیر ہو ہم جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرتے ہیں اور ہم نیک روش اختیار کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتے ،
وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader
اور آخرت کا اجر وثواب ان لوگوں کے لئے بدر جہا بہتر ہے جو ایمان لائے اور تقویٰ کے پابند رہے ،
وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader
اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور وہ یوسف کو نہیں پہچان سکے
وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader
اور جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کی روانگی کے وقت ان کا سامان تیار کردیا تو ان سے کہا آئندہ میرے پاس اپنے علاقی بھائی کو بھی لے کر آتا کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں پیمانہ بھی پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں بہترین مہربان نواز بھی ہوں ،
فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader
پھر اگر آئندہ تم میرے پاس اس بھائی کو لے کر نہ آئے تو تمہارے لئے نہ میرے ہاں غلہ ہوگا اور نہ تم میرے پاس آنا،
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader
برادران یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہم اس کو اس کے باپ سے ترکیب کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یقین مان کہ ہم اس کام کو ضرور کریں گے
وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader
اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گاروں کو حکم دیا کہ ان کی پونجی ان ہی کے سامان و اسباب میں رکھ دو تا کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں واپس جائیں تو اس پونجی کو پہچان لیں اور عجب نہیں کہ یہ دوبارہ پھر آئیں،
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader
الغرض جب یہ بھائی اپنے باب کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے اے ہمارے باپ آئندہ کے لئے ہم پر غلہ کی بندش کردی گئی ہے سو آپ ہمارے ہمراہ آئندہ ہمارے بھائی بن یامین کو بھیجے تا کہ پھر ہم غلہ لاسکیں اور ہم اس کی پوری حفاظت رکھیں گے ۔
قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader
باپ نے جواب دیا میں بن بامین کے بارے میں تمہارے اعتبار نہیں کرسکتا مگر ہاں ویسا ہی جیسا اب سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں پس خدا سب بہتر نگہبان ہے اور وہی سب مہربان سے زیادہ مہربان ہے
وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader
اور جب انہوں نے اپنے اسباب کو کھولا تو انہوں نے اپنی پونجی جوں کی توں رکھی پائی جو انہی کو واپس کردی گئی ہے پونجی کو دیکھ کر بولے اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہئے یہ ہمارے غلہ کی قیمت بھی تو ہمیں واپس کردی گئی ہے اب کی دفعہ اپنے گھر والوں کے لئے اور غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی پوری خبر رکھیں گے اور اس بھائی کے لئے مزید ایک اونٹ کا غلہ لائں ی گے یہ غلہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے تھوڑا ہے
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader
باپ نے کہا میں بن یامین کو اس وقت تک تمہارے ساتھ نہیں بھیج سکتا جب تک تم خدا کی قسم کھا کر مجھ کو اس بات کا پختہ قول نہ دو کہ تم ضرور بن یامین کو میرے پاس لے ہی آئو گے الایہ کہ تم خود ہی گھیر لئے جائو تو مجبوری ہے پھر جب انہوں نے باپ کو پختہ قول دے دیا تو باپ نے کہا جو عہد و پیماں ہم کر رہے ہیں ا س پر خدا شاہد ہے ،
وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader
اور باپ نے چلتے وقت ان سے کہا اے میرے بیٹو ! تم سب کے سب شہر کے ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا اور میں قضا الٰہی میں سے کسی شے کو تم پر سے دفع نہیں کرسکتا، حکم تو بس خدا ہی کا چلتا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور سب توکل کرنے والوں کو خدا ہی کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہئے
وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader
اور جب یہ لڑکے شہر میں اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے ان کو کہہ دیا تھا تو یہ احتیاطی تدبیر حکم الٰہی میں سے کسی شے کو بھی ان لڑکوں پر سے ٹال نہیں سکتی تھی مگر ہاں یعقوب کے دل میں ایک ارمان اور خواہش تھی جسے اس نے پورا کرلیا اور بلا شبہ یعقوب (علیہ السلام) بڑا عالم تھا کیوں کہ ہم نے اسے تعلیم دی تھی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ،
وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader
اور جب یہ بھائی دوبارہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بن یامین کو اپنے پاس ٹھہرایا اور اس سے کہا میں بڑا بھائی ہوں یہ علاقی بھائی جو کارروائیاں کرتے رہے ہیں ان پر اندوہ گیں نہ ہو
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader
پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی روانگی کے وقت ان کا سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا جب قافلہ روانہ ہوا تو پھر شاہی خدمت گاروں میں سے ایک پکارنے والے نے کہا اے قافلہ والو یقینا تم لوگ چور ہو
قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader
قافلہ والوں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا کیوں تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader
خدمت گاروں نے کہا ہم کو بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اس پیمانہ کو لے آئے اس کو ایک بار شتر غلہ انعام دیا جائے گا اور میں اس انعام کا ضامن ہوں
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader
وہ بولے بخدا تم جانتے ہو ہم اس ملک میں فساد کرنے کی غرض سے نہیں آئے اور نہ کبھی چوری کرنا ہمارا شیوہ تھا ،
قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader
خدمت گاروں نے کہا اچھا اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو چور کی کیا سزا ہوگی ؟
قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader
انہوں نے جواب دیا اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ برتن پایا جائے وہی اس کا بدلہ ! ہم لوگ چوروں کو اس قسم کی سزا دیا کرتے ہیں
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader
پھر یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کی بوری سے پہلے اپنے علاقی بھائیوں کی بوریوں میں تلاش کرنا شروع کیا پھر اس برتن کو اپنے بھائی کی بوری میں سے برآمد کرلیا اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی ورنہ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون سے ہرگز نہ حاصل کرسکتا الا یہ کہ خدا ہی کو منظور ہوتا ہم جس کو چاہتے ہیں اس کو مخصوص درجات تک بلند کردیتے ہیں اور ہر صاحب علم سے اوپر ایک اوعالم موجود ہے
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader
اس پر ان بھائیوں نے کہا اگر بن یامین میں نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا حقیقی بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے یہ سن کر یوسف (علیہ السلام) نے ان سے تو کوئی بات ظاہر نہیں کی مگر اپنے جی میں چپکے سے یوں کہا کہ تم تو چوروں سے بھی بدتر میں ہو اور خدا اس اتہام کو خوب جانتا ہے جو تم بیان کر رہے ہو
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader
ان بھائیوں نے کہا اے عزیز اس بن یامین کا باپ بہت بوڑھا ہے سو اس کی جگہ تو ہم میں سے کسی ایک کو روک لے ہم تجھ کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے کہا پناہ بخدا کہ ہم اس کو چھوڑکر جس کے پاس ہم نے اپنا مسروقہ مال پایا ہے اس کی جگہ کسی اور کو گرفتار کرلیں ایسا کریں تو ہم بڑے بےانصاف قرار پائیں گے
فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader
پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے تو الگ بیٹھ کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں سے جو سب سے بڑا بھائی تھا اس نے کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے اللہ کی قسم کھلوا کر تم سے پختہ قول لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ایک سخت کوتاہی کرچکے ہو سو میں تو اس سر زمین سے اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک میرا باپ مجھ کو اجازت نہ دے یا خدا میرے لئے کوئی فیصلہ نہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے