11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الر قف یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں خوب محکم کی گئی ہے پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں وہ کتاب ایک صاحب حکمت با خبر کی جانب سے نازل ہوئی ہے

1 الر قف، یہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں دلائل وبراہین سے محکم و مضبوط کی گئی ہیں پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں وہ ایک صاحب حکمت با خبر کی جانب سے نازل ہوئی ہے۔ یعنی حچی تلی استوار اور محکم آیتیں جن میں نہ کوئی تناقص نہ حکمت اور نہ واقع کے خلاف پھر اسی کے ساتھ مفصل یہ نہیں کہ دلائل کی وجہ سے مغلق ہوگئی ہوں پھر ایسے حکم و باخبر کی جانب سے آئی ہے جس میں قیامت تک کے احوال و حوادثات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

مقصد یہ ہے کہ تم لوگ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہ کرویقین کرو کہ میں تم کو خدا کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں

2 اس کتاب کے مقاصد میں سے بڑا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی عبادت نہ کرو یقین جانو ! کہ میں خدا کی طرف سے نافرمانوں کو ڈرانے والا اور فرمانبرداروں کو بشارت دینے والا ہوں یعنی حکیم با خبر نے جو کتاب بھیجی ہے وہ اصلاح انسانی کے بیشمار مقاصد کو مشتمل ہے منجملہ ان کے بڑا مقصد اصلاح عقائد ہے یعنی خدا کی عبادت میں کسی کی شرکت نہ ہو میں اس کی طرف سے بھیجا گیا ہوں میرا کام یہ ہے کہ ایمان نہ لانے والوں کو خدا کے عذاب سے ڈرائوں اور ایمان لانے والوں کو ثواب کی بشارت دوں۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور نیز یہ مقصد ہے کہ تم لوگ اپنے رب سے اپنے گناہ معاف کر ائو پھر آئندہ بھی اسی کی جانب متوجہ رہو اس پر وہ تم کو منافع حسنہ سے ایک وقت مقرر تک بہرہ مند کرے گا اور وہ ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا اور اگر تم لوگ رو گردانی کرو گے تو میں تمہارے متعلق ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہو

3 اور نیز مقصد یہ ہے کہ تم لوگ اپنے رب سے اپنے شرک و کفر کے گناہوں کی مغفرت طلب کرو پھر توبہ کرنے اور ایمان لانے کے بعد بھی اسی کی جانب متوجہ رہو اور اس کی عبادت کرتے رہو اس پر وہ تم کو ایک وقت مقررہ تک خوشی عیشی اور منافع حسنہ سے بہرہ مند رکھے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا فرمائے گا اور اگر تم رو گردانی اور اعراض ہی کئے جائو گے تو اس صورت میں میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر تو آوے اور زیادتی والوں کو اپنی زیادتی دیوے یعنی ایمان لائو تو دنیا کی زندگی اچھی طرح گزرے اور جو کوئی اس سے زیادہ قدم رکھے وہ زیادہ درجہ پائے 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ فضلہ کے دو طرح معنی کئے گئے ہیں۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم لوگوں کو اللہ کی طرف واپس جانا ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے

4 تم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا اور اسی کی طرف واپس جانا ہے اور وہ ہر شے پر پوری طرح قادر ہے یعنی عذاب کو دو طرح سمجھو جانا بھی اسی کی طرف اور اس کو پوری پوری قدرت بھی حاصل پھر نجات کی کیا صورت ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

آگاہ رہو وہ لوگ اپنے سینوں کو جھکا کر دوہرا کرلیتے ہیں تاکہ اپنی باتوں کو خدا سے چھپا سکیں سن لو جب یہ لوگ اپنے کپڑے اپنے اوپر اوڑھا کرتے ہیں وہ اس وقت بھی ان سب باتوں کو جانتا ہے جو چھپا کر کرتے ہیں اور جو یہ علانیہ کرتے ہیں بالیقین وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں سے خوب واقف ہے

5 خبردار رہو وہ لوگ اپنے سینوں کو جھکا کر دوہرا کرلیتے ہیں تاکہ اپنی باتوں کو خدا تعالیٰ سے چھپائیں یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت دوھرے ہوکر اپنے کپڑے اپنے ا وپر اوڑھا کرتے ہیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لیتے ہیں وہ اس وقت ان سب باتوں کو جانتا ہے جو چھپا کر کرتے ہیں اور جو علانیہ کرتے ہیں یقینا سینوں کی تمام پوشیدہ باتوں سے خوب واقف ہے یعنی منکرین دین حق کی یہ عادت رہی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف چھپ چھپ کر سازشیں کیا کرتے تھے اور جس قدر وہ چھپا کر باتیں کرتے تھے وہ سب وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر ظاہر ہوجاتی تھیں یہ چھپا کر بات کرنے کی مختلف ہیتیں اختیار کرتے تھے انہی ہئیتوں میں ایک یہ ہیئت بھی ہے کہ سینوں کو جھکا کر اور اوپر کپڑا اوڑھ کر باتیں کریں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس پیغمبر کے آدمی ادھر ادھر لگے رہتے ہیں اور یہی ہماری خفیہ باتیں پہونچاتے ہیں اس لئے یہ ہیئت اختیار کی تھی ہم نے سینے کو جھکا کر کپڑا اوڑھنے کو ایک ہی ہیئت قرار دیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کچھ مخالفت کی بات گھر میں کہتے اس کا جواب قرآن کریم میں اترتا سمجھتے کہ کوئی کھڑا سنتا ہے جاکر رسول خدا سے کہہ دیتا ہے تب سے ایسی بات کہتے تو کپڑا اوڑھ کر جھک کر دوہرے ہوکر اللہ تعالیٰ نے یہ تب نازل کیا 12 واضح رہے کہ آیت کے کئی شان نزول بیان کئے گئے ہیں ہم نے وہی طریقہ اختیار کرلیا جو حضرت شاہ صاحب نے اختیار فرمایا تھا اگرچہ بعض شان نزول روایتاً اس سے اوثق تھے۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور کوئی ذی روح روئے زمین پر چلنے پھرنے والا ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو اور وہی اس کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ہر ایک چیز کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے

6 اور کوئی غذا کھانے والا ذی روح اور جاندار زمین پر چلنے پھرنے والا ایسا نہیں جس کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر نہ ہو اور وہی اس کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ہر ایک چیز کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہے یعنی لوح محفوظ میں موجود مرقوم ہے مستقر اور مستودع کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں ٹھہرنا ہے بہشت اور دوزخ جہاں سونپا جانا ہے اس کی قبر اور روزی اس کی سو دنیا میں 12 مستقر سے رحم مادر اور مستودع سے صلب پدر بھی مجاہد نے مراد لی ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہ خدا وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ار اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا اس تخلیق عالم کا مقصد یہ ہے کہ خدا تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون شخص اچھے عمل کرنے والا ہے اور اے پیغمبر اگر آپ ان سے کہتے کہ تم سب مرنے کے بعد زندہ کئے جائو گے تو یہ کافر قرآن کریم کی اس بات کو سن کر کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم تو صرف ایک کھلا جادو ہے

7 وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا اس تخلیق عالم کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو آزمائے اور تمہارا امتحان لے کہ تم میں سے کو نساشخص آزروئے عمل کے اچھا ہے اور تم میں سے عمل کرنے میں کون اچھا ہے اور اے پیغمبر اگر آپ ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ تم مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائو گے تو جن لوگوں کی روش کافرانہ ہے وہ قرآن کریم کی اس بات کو سن کر کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم تو صرف ایک کھلا اور صریح جادو ہے یعنی چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا عرش پانی پر تھا یعنی زمین و آسمان پانی کی شکل میں تھے آزمائش یہی ہے کہ ان چیزوں کو دیکھ کر توحید اور اسلام کون اختیار کرتا ہے اور کون گمراہی کے طریقہ پر رہتا ہے جب آپ بعث کا ذکر کرتے ہیں اور یہ قرآن کریم کی تعلیم سنتے ہیں تو قرآن کریم کو جادو بتاتے ہیں۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم ان سے ایک محدود معین مدت تک کے لئے عذاب کو موخر کردیں تو یوں کہنے لگتے ہیں کو کون سی چیز نے اس عذاب کو روک رکھا ہے آگاہ رہو جس دن وہ عذاب ان پر آجائے گا تو پھر ان پر سے وہ کسی طرح واپس ہونیوالا نہیں اور وہ عذاب ان کو گھیرلے گا جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے

8 اور اگر ہم ان سے تھوڑے دنوں کے لئے مقررہ اور موعودہ عذاب کو ملتوی کردیں اور موخر کردیں تو کہنے لگتے ہیں اگر ہم مستحق عذاب ہیں تو کس چیز نے اس عذاب کو روک رکھا ہے سن لو جس دن وہ عذاب مقررہ ان پر آپڑے گا تو پھر ان پر سے وہ کسی طر ح واپس ہونیوالا نہیں اور وہ عذاب کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور وہ عذاب ان کو گھیر لے گا جس عذاب کا یہ مذاق اور استہزاء کیا کرتے تھے یعنی اگر کسی کی مصلحت سے ایک مدت معینہ تک عذاب موخر کردیاجائے تو اپنی بےگناہی پر استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم مستحق عذاب ہیں تو عذاب کیوں نہیں آتا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کا وعدہ ناقابل اعتماد تھا اس سے خبر دار کیا کہ دیکھو جس دن وہ آجائے گا تو پھر کسی کے پھیرے پھیرا نہ جائے گا اور جس عذاب کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور جھوٹا بتاتے تھے وہی عذاب ان کو گھیر لے گا۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان اپنی کسی نعمت سے لطف اندوز کریں پھر اس نعمت کو اس سے سلب کرلیں تو وہ مایوس اور ناشکر ہوجاتا ہے

9 اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا مزہ چکھائیں اور اس کو اپنی نعمت اور مہربانی سے لطف اندوز کریں پھر وہ نعمت اس سے سلب کرلیں اور چھین لیں تو وہ ناامید اور ناسپاس ہوجاتا ہے یعنی جب کوئی نعمت سلب ہوجاتی ہے تو نا امیدی اور ناشکری کا اظہار کرتا ہے۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی ایسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچ چکی ہو راحت سے لذت اندوز کریں تو کہنے لگتا ہے اب تمام مصائب مجھ سے دور ہوگئے سو وہ اترانے والا شیخی مارنے والا ہوجاتا ہے

10 اور اگر ہم اسی کو کسی تکلیف کے بعد جو اس پر واقع ہوئی تھی راحب و نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں اور راحت سے لطف اندوز کردیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے اب تمام مصائب اور درد دکھ مجھ سے دور ہوگئے پس دو اترانے والا شیخی مارنے والا ہوجاتا ہے۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر ہاں ! وہ لوگ جو ثابت قدم ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہوتے تو ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا ثواب ہے

1 1 مگر ہاں وہ لوگ جو ثابت قدم اور مستقل مزاج ہوتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہوتے ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجر وثواب ہے یعنی کافر کی یہ حالت ہے کہ مصیبت پر صبر نہیں اور نعمت پر شکر نہیں نعمت چھن جائے تو پھر دوبارہ آنے کی توقع نہ رکھے اور دکھ کے بعد سکھ آجائے تو آپے سے باہر ہوجائے لیکن وہ لوگ جو صبر کے خوگر اور نیک کاموں کے پابند ہیں وہ ایسے چھچھورے اور ناسپاس نہیں ہوا کرتے بلکہ مصیبت پر صبر اور راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے اور وہی بڑے اجر و مغفرت کے مستحق ہوتے ہیں۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

سو شاید جو چیز آپ کی جانب وحی کے ذریعہ بھیجی گئی ہے کیا اس میں سے آپ کچھ چھوڑ دیناچاہتے ہیں اور آپ کا دل کافروں کی اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اس پیغمبر پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا اس کے ہمراہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا اے پیغمبر ! آپ تو صرف ڈرانیوالے ہیں اور ہر شی پر مختار کار تو اللہ ہی ہے

12 سو شاید جو احکام آپ کی جانب وحی کے ذریعہ بھیجے گئے ہیں کیا ان میں سے آپ بعض احکام کی تبلیغ کو چھوڑ دیناچاہتے ہیں اور آپ کا دل کافروں کی اس بات سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہے تو اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوا اے پیغمبر آپ تو ان کفار کو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر شئی پر مختار کار اور پورا اختیار رکھنے والا تو اللہ ہی ہے یعنی کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ کفار کی باتوں سے تنگ ہوکر احکام کی تبلیغ یا احکام کے کچھ حصے کی تبلیغ ترک کردیں تو آپ ایسا نہیں کرسکتے پھر ان کے لغو اعتراضات سے تنگ دل نہ ہوا کیجئے کوئی فرشتہ ان کے ہمراہ کیوں نہیں نازل ہوا یعنی ایسا فرشتہ جس کو ہم بھی دیکھتے اور ہماری اس سے بات چیت ہوتی آپ کام ڈرانا ہے یعنی آپ کا جو کام ہے وہ کیجئے خزانہ کا اتارنا یا فرشتے کا ان کو دکھانا ان باتوں سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا یہ یوں کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو پیغمبر نے ازخود بنا لیا ہے آپ فرما دیجئے اچھا تو تم بھی اس قرآن کریم جیسی دس سورتیں بنائی ہوئی لے آئو اور خدا کے سوا جس جس کو تم بلا سکتے ہو بلا لو اور اگر تم اپنے وعدے میں سچے ہو

13 کیا یہ منکریوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو پیغمبر نے خود ہی بنا لیا ہے آپ فرما دیجئے اگر میں نے بنا لیا ہے تو تم اس قرآن کریم جیسی دس سورتیں جو تمہاری بنائی ہوئی ہوں لے آئو اور اللہ تعالیٰ کے سوا جس جس کو تم بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو یعنی اگر یہ خدا کا کلام نہیں اور محض میری من گھڑت ہے تو تم اس جیسی دس 10 سورتیں من گھڑت کرکے لے آئو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس جس سے مدد حاصل کرسکتے ہو کرلو۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر اگر وہ تمہار کہنا نہ کرسکیں تو یقین کرو کہ یہ قرآن کریم اللہ ہی کی وحی سے نازل کیا گیا ہے اور جان لو کہ سوائے اس کے کوئی اور معبود نہیں ہے سو تم اب بھی مسلمان ہوتے ہو یا نہیں۔

14 پھر اگر وہ تمہارا کہنا نہ کرسکیں اور قرآن کریم کی مثل دس 10 سورتیں نہ لاسکیں تو ان سے کہو کہ تم یقین کرو اور اس بات کو جان لو کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی وحی سے نازل کیا گیا ہے اور اس کا بھی یقین کرو کہ اس سے سوا کوئی اور حقیقی معبود نہیں ہے سو تم اب بھی مسلمان ہوتے ہو یا نہیں یعنی اگر قرآن کریم کی مثل لانے سے عاجز ہوجائیں تب تو اس قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا یقین کریں اور اس کو پیغمبر کی من گھڑت نہ کہیں۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ محض دنیا کی زندگی اور حیات دنیوی ہی کی بہار چاہتے ہیں تو ہم ان کے اعمال کی جزا ان کو دنیا ہی میں پوری کردیتے ہیں اور دنیا میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی

15 جو لوگ اپنے نیک اعمال کے صلہ میں محض دنیا کی زندگی کا نفع اور حیات دنیو ی کی رونق اور بہار چاہتے ہیں تو ہم ان کے اعمال کا صلہ ان کو دنیا ہی میں پورا پورا دے دیتے ہیں اور دنیا میں ان کی حق تلفی اور ان کے لئے کمی نہیں کی جاتی اور ان کو دنیا میں کچھ نقصان نہیں یعنی بعض لوگ اچھے اور بھلے کام کرتے ہیں مگر ان کا مقصدآخرت کا اجر وثواب نہیں ہوتا بلکہ دنیا کی شہرت اور طلب جاہ اور دنیا میں مال کی کثرت وغیرہ کے لئے بھلے کام کرتا ہے تو ہم ان کی یہ خواہشات دنیا میں پوری کردیتے ہیں بشرطیکہ بھلے اعمال زیادہ ہوں اور اگر بھلے کام کم ہوں اور برے کام زیادہ ہوں تو پھر ایسا اثر مرتب نہیں ہوتا البتہ بھلے کام زیادہ ہوں اور نیت آخرت کی نہ ہو تو ان اعمال کا صلہ اور ان کی جزا یہیں مل جاتی ہے اور اس صلہ میں کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ بھرپور ملتا ہے۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش دوزخ کے سوا اور کچھ نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے تھے وہ سب نیست و نابود ہوگئے اور وہ جو کچھ کرتے رہے وہ سب بیکار ہوا

16 سو یہ ایسے لوگ ہیں کہ آخرت میں ان کے لئے بجز و دوزخ کے اور کچھ نہیں اور جو اعمال انہوں نے کئے وہ سب اکارت اور ناکارہ ہوگئے اور جو کچھ یہ کیا کرتے تھے وہ سب بیکار ثابت ہوگا یعنی یہ آگ منکروں کے لئے ابدی طورپر ہوگی اور مسلمان ریا کاروں کے لئے محدود اور معین وقت تک۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا وہ شخص ان دنیا پرستوں کے برابر ہوسکتا ہے جو اپنے رب کی صاف اور کھلی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو اور اس گواہ سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہو جو مقدم ہونے کے اعتبار سے امام اور رہنمائی کی حیثیت سے رحمت تھی ایسے ہی لوگ تو قرآن کی تصدیق کرتے ہیں اور تمام جماعتوں میں سے جو شخص قرآن کا منکر ہوگا تو آتش دوزخ اس کے وعدہ کی جگہ ہوگی سوائے مخاطب تو قرآن کی طرف سے کسی شک و شبہ میں نہ پڑ بلا شبہ وہ تیرے رب کی جانب سے آئی ہوئی سچی کتاب ہے لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے

17 بھلا وہ شخص کہیں ان دنیا پرستوں اور قرآن کریم کے منکروں کے برابر ہوسکتا ہے جو اپنے رب کی صاف اور کھلی دلیل پر قائم ہو اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو اور اس گواہ سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہو جو مقدم ہونکے اعتبار سے امام اور رہنمائی کی حیثیت سے رحمت تھی ایسے ہی لوگ تو اس قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں اور تمام فرقوں اور جماعتوں میں سے جو شخص قرآن کریم کا منکر ہوگا اس کے لئے دوزخ آخری ٹھکانا اورا سکے وعدے کی جگہ ہوگی لہٰذا اے مخاطب تو قرآن کریم کی طرف کسی شب و شبہ میں نہ پڑوہ تیرے رب کی جانب سے آئی ہوئی سچی کتاب ہے لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے یعنی دنیا پرست اور آخرت پر نظر رکھنے والے برابر نہیں قرآن کریم پر ایمان رکھنے والا منکر قرآن کے برابر نہیں۔ مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں بینۃ سے مراد قرآن کریم یا فطرت سلیمہ، شاہد سے مراد خود قرآن کا اعجاز اور اس کی حلاوت یا نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس یا انجیل موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت کو امام فرمایا اور رحمت ان تمام شواہد و اعجاز کے باوجود قرآن پر ایمان نہ لانے والے کس قدر بدنصیب اور محروم القسمت ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں گواہی پہونچتی ہے یعنی دل میں اس دین کا نور اور مزا پاتا ہے اور قرآن کی حلاوت 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور اس کا معجزہ ہونا خود اس کے حق ہونے کی دلیل ہے پھر اس دلیل عقلی کے ساتھ توریت کی شہادت یہ نقلی دلیل ہے تو قرآن کریم کی حقانیت پر چونکہ دلیل عقلی اور نقلی موجود ہے اس لئے ارباب بصیرت اور حق پسند اس قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں آیت کے مفہوم کو ترجمے اور تیسیر میں ہم نے بڑی حد تک واضح کردیا ہے۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون شخص ظالم ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یہ لوگ اپنے رب کی پیشی میں حاضر کئے جائیں گے اور گواہی دینے والے یوں گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا سن لو کہ ایسے ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

18 اور اس سے بڑھ کر کون شخص ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یہ جھوٹ باندھنے والے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کئے جائیں گے اور گواہی دینے والے فرشتے یوں گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا اور افترار کیا تھا سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت ہو۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی راہ سے روکا کرتے تھے اور اس تلاش میں رہتے تھے کہ خدا کی راہ کو ٹیڑھا ثابت کریں اور یہی ہیں جو آخرت کے بھی منکر تھے

19 یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی راہ سے روکا کرتے تھے اور اس تلاش اور کوشش میں رہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی راہ کو ٹیڑھا ثابت کردیں اور یہی ہیں جو آخرت کے بھی منکر تھے یعنی خدا پر جھوٹے جھوٹے بہتان باندھنے والوں کا قیامت میں یہ حشر ہوگا کہ سب کے روبرو ان کے کارناموں کو ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا جائے کہ یہ ظالم اللہ کی راہ یعنی دین اسلام سے روکتے تھے اور اس فکر میں لگے رہتے تھے کہ دین اسلام میں کجی اور شکوک و شہبات پیدا کرکے لوگوں کو اس دین کی اطاعت سے روکیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گواہی والے آخرت میں فرشتے ہوں گے جو عمل لکھتے ہیں اور نیک بخت آدمی جن کو خبر تھی خدا پر جھوٹ بولنا کئی طرح سے ہے عمل میں غلط نقل کرنا خواب بنا لینا یا عقل سے حکم کرنا دین کی بات میں یا دعویٰ کرنا کہ کشف رکھتا ہوں یا اللہ کا مقرب ہوں 12
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں کہیں بھاگ کر خدا کو عاجز نہیں کرسکتے تھے اور نہ ان کا خدا کے سوا کوئی حمایتی ہوا ان لوگوں کو دگنا عذاب دیا جائے گا یہ لوگ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے

20 یہ لوگ تمام روئے زمین پر کہیں بھاگ کر خدا کو تھکا نہیں سکتے اور عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حمایتی اور مددگار ہوا ان لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں دوگنی سزا دی جائے گی یہ لوگ تعصب کی وجہ سے نہ حق بات سن سکتے ہیں نہ بغض وعناد کی وجہ سے راہ حق کو دیکھ سکتے تھے یعنی جتنی شرارت زیادہ اتنا ہی عذاب زیادہ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ پر جھوٹ بولنا کہاں سے لائے غیب سے سن آتے تھے نہ غیب کو دیکھتے تھے 12
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو تیار کرلیا اور ان سب کی افترا پروازیاں ان سے گم ہوگئیں

21 یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو تباہ و برباد کرلیا اور ان کی سب افرار پردازیاں ان سے گم اور غائب ہوگئیں یعنی نقصان ہی نقصان ہوا اور وہ معبود ان باطلہ کہ جن کی پرستش کیا کرتے تھے وہ سب کہیں غائب ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ جھوٹے دعوے آخرت میں گم ہوگئے 12
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

لازمی امر ہے کہ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے یہی لوگ ہوں گے

22 لازمی امر ہے کہ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اور نقصان اٹھانے والے یہی لوگ ہونگے ۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کرتے رہے تو ایسے ہی لوگ جنتی ہیں اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے

23 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور اپنے رب کی طرف دل سے جھکے رہے اور عاجزانہ روش اختیار کی توای سے ہی لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

ان دونوں مذکورہ فرقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرہ ہو اور ایک دیکھتا اور سنتا ہو کیا دونوں کی حالت مساوی ہے پھر کیا تم نصیحت نہیں پکڑے

24 ان دونوں مذکورہ فریقوں کا فر اور مومنوں کی مثال ایک ادھا بھی اور بہرہ بھی اور ایک دیکھتا بھی اور سنتا بھی کیا دونوں حالت میں برابر ار مساوی ہیں کیا تم اس فرق اور تفاوت سے نصیحت نہیں پکڑتے یعنی اندھے اور کھجا کے بہرے اور سننے میں بڑا فرق ہے بس یہی فرق دین حق کے منکر اور دین حق کو قبول کرنیوالے میں ہے۔
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا اس نے کہا میں تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں

25 اور بلاشبہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا انہوں نے اپنی قوم سے کہا میں تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں یعنی واضح اور صاف طورپر ڈراتا ہوں۔
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

اور یہ سمجھاتا ہوں کہ تم سوائے خدا کے کسی کی عبادت نہ کرو بلاشبہ میں تمہارے متعلق ایک درد ناک عذاب سے ڈرتا ہوں

26 کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے تم کسی کی عبادت نہ کرو یقین جانو ! کہ میں تمہارے متعلق ایک دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں یعنی اگر شرک سے باز نہ آئو گے تو تم پر مجھے ایک دردناک دن کے عذاب کا ڈر ہے خواہ وہ قیامت کا دن ہو یا دنیا میں طوفان کے عذاب کا دن ہو۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

اس پر اس کی قوم کے ان سرداروں نے جو کافر تھے یوں کہا ہم تو تجھ کو اپنا ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو لوگ تیرے پیرو ہوئے ہیں وہ صرف ہمارے ہاں کے چند رذیل ہیں جو سطحی رائے سے تیرے پیرو ہوگئے ہیں اور ہم تم لوگوں میں اپنے سے کوئی برتری بھی نہیں پاتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں

27 اس پر اس کی قوم کے ان سرداروں نے جو کفر کے خوگر تھے اور کافرانہ روش رکھتے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہنے لگے ہم تو تجھ کو اپنا ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو لوگ تیرے پیرو ہوگئے ہیں وہ صرف ہمارے ہاں کے چند رذیل اور کمین لوگ ہیں جو بلا غور و فکر کئے محض سطحی رائے سے تیرے پیرو ہوگئے ہیں اور ہم تم لوگوں میں اپنے سے کوئی برتری اور اپنے سے کوئی بات زیادہ بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں یعنی قوم کے چودھریوں نے تین اعتراض کئے۔ ایک یہ کہ تم ہی جیسے بشر ہو اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ دوسرے یہ کہ اگر پیرو اور متبعین کی کثرت کو دلیل ٹھہرائو تو کوئی شریف اور سمجھدار تمہارا پیرو نہیں صرف غیر شریف اور کمین لوگ تمہارے پیرو ہیں رذیل لوگ اول تو پہلے ہی موٹی عقل کے ہوتے ہیں غور و فکر کا مادہ کم ہوتا ہے پھر وہ بھی بغیر سوچے سمجھے ظاہری رائے سے تم پر ایمان لے آئے ہیں محض چند بیوقوفوں کا پیرو بن جانا کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ تم مسلمانوں میں کوئی بات ہم اپنے سے زیادہ نہیں دیکھتے تم میں کوئی خاص امتیاز نہیں اس لئے تمہاری رائے کو صحیح نہیں مانتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا اور کاذب سمجھتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر کی عقل سے یعنی پہلی ہی نظر میں 12
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت یعنی نبوت عطا فرمائی ہو پھر اسکی حقیقت تمہاری آنکھ سے پوشیدہ کردی گئی ہو تو کیا ہم زبردستی اس رحمت کو تم سے چمٹا دیں گے اور تم اس سے نفرت کرتے رہو

28 حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتلائو کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن اور واضح دلیل پر قائع ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت یعنی نبوت عطا فرمائی ہو اور مجھ کو اپنی نبوت سے نوازا ہو پھر وہ نبوت تمہاری آنکھ سے پوشیدہ اور اوجھل ہوگئی ہو ار تم کو کہ نہ سوجھتی ہو تو کیا ہم زبردستی اس رحمت کو تم سے چمٹا دیں اور تمہارے گلے منڈھ دیں حالانکہ تم اس سے نضرت ہی کرتے رہو اور اس کو برا ہی سمجھے ہو یعنی تم مال و دولت اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کو نبوت کی دلیل سمجھتے ہو حالانکہ نبوت بلندیٔ اخلاق اعلیٰ تعلیم اور خدا کی رحمت کا نام ہے وہ تم کو دکھائی نہیں دیتی کیونکہ غور نہیں کرتے تو اس نبوت کا اقرار زبردستی تو نہیں کرایا جاسکتا اور اقرار نبوت کو تمہارے گلے تو نہیں منڈھا جاسکتا۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم میں تم سے اس تبلیغ پر کچھ مال نہیں طلب کرتا میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور نہ میں ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اپنے پاس سے ہٹانے والا ہوں کیونکہ وہ سب اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں مگر میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جاہلانہ باتیں کر رہے ہو

29 اور اے میری قوم اتنا تو سوچو کہ میں تم سے اس دین کی تبلیغ پر کچھ مال طلب نہیں کرتا میرا اجرو ثواب تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور نہ میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اپنے پاس سے نکالنے والا اور ہٹانے والا ہوں کیونکہ وہ سب اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے اور پروردگار کی حضور میں حاضر ہونیوالے ہیں لیکن میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جاہلانہ باتیں کرتے ہو اور خواہ مخواہ کی جہالت کرتے ہو یعنی اس دعوائے نبوت سے اگر دنیا کمانی ہوتی تو میں تم سے مال طلب کرتا رہا ان لوگوں کو اپنے پاس ہنکانا اور نکالنا یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم اگر میں ان غریب ایمان والوں کو ہٹادوں تو خدا کی گرفت کے مقابلہ میں میری کون مدد کرے گا کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

30 اور اے میری قوم اگر میں ان غریب ایمان والوں کو اپنے پاس سے ن کال دوں اور ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلہ میں میری کون مدد کرے گا اور مجھ کو خدا کی گرفت سے کون بچائے گا کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافروں نے مسلمانوں رزالا ٹھرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں بات سنیں فرمایا کہ دل کی بات اللہ تحقیق کرے گا جب اس سے ملیں گے میں اگر مسلمانوں کو ہانکو تو اللہ تعالیٰ سے کون چھڑوائے مجھ کو اور رذالا ٹھہرایا اس پر کہ دے کسب کرتے تھے کسب سے بہتر کمائی نہیں اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو 12
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کی تمام باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور جو لوگ تمہاری نگاہ میں حقیر ہیں ان کے متعلق میں تمہاری طرح یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اللہ ان کو کوئی بھلائی نہیں دے گا ان کے ما ضی الضمیر کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسی کوئی بات کہوں تو یقینا میں اسوقت بےانصافوں میں سے ہوجائوں

31 اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کی تمام باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور جو غریب مسلمان تمہاری نگاہ میں حقیر ہیں اور جن کے اخلاص پر تم کو شبہ ہے ان کے متعلق تمہاری طرح یہ بھی نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز کوئی بھلائی اور ثواب نہیں دے گا ان کے دل میں جو کچھ ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے اگر میں ایسی کوئی بات کہوں تو یقینا میں اس وقت بےانصافوں میں سے ہوجائوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وے جو کہتے تھے کہ تم میں ہم آپ سے برائی نہیں دیکھتے سو فرمایا کہ میں فرشتہ نہیں غیب کی خبر نہیں رکھتا اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں نہیں اور وہ جو اللہ نے مہر کی ہے مجھ پر وہ تمہاری آنکھ سے چھپی ہے 12 خلاصہ یہ کہ جس کو تم بڑائی سمجھتے ہو وہ میرے پاس نہیں اور جو حقیقی بڑائی ہے وہ تم کو دکھائی نہیں دیتی۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

اس پر انہوں نے کہا اے نوح (علیہ السلام) تو نے ہم سے جھگڑا اور بحث و مباحثہ تو بہت کچھ کرلیا بس اب تو جس دھمکی آمیز چیز کا ہم سے وعدہ کیا کرتا ہے اس کو ہم پر لے آگ اتر تو اپنی بات میں سچا ہے

32 اس پر انہوں نے کہا اے نوح (علیہ السلام) تو نے ہم سے جھگڑا اور بحث و مباحثہ تو بہت کچھ کرلیا اور ابس اب تو جس دھمکی آمیز چیز کا ہم سے وعدہ کیا کرتا ہے اور جس چیز سے ہم کو ڈرایا کرتا ہے اس کو ہمارے سامنے لے آ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے اور اپنی بات کا سچا ہے یعنی عذاب کی جو وعید سنایا کرتے ہو وہ عذاب لے آئو۔
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا اس کو تو خدا ہی تم پر لائے گا اگر اس نے چاہا اور تم کہیں بھاگ کر اس کو تھکا نہ سکو گے

33 نوح (علیہ السلام) نے کہا اس عذاب کو وہی تم پر لادے گا اور اللہ تعالیٰ ہی اگر اس کو منظور ہوگا تو وہ لائے گا اور تم کہیں بھاگ کر اس کو تھکا نہیں سکو گے یعنی میں تو تبلیغ کرتا ہوں عذاب کا مجھ سے کیا تعلق وہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میں خواہ تمہاری کتنی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں میری خیر خواہی تم کو نفع نہیں پہونچا سکتی اگر اللہ ہی کو یہ منظور ہو کہ وہ تم کو بےراہ رکھے وہی تمہارا مالک ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے

34 اور میں خواہ تمہاری کتنی ہی خیر خواہی کروں میری خیر خواہی تم کو نفع نہیں پہونچا سکتی اگر اللہ ہی کو یہ منظور ہو کہ وہ تم کو بےراہ رکھے وہی تمہارا مالک ہے اور تم سب کی اسی کی طرف بازگشت ہے کسی کی خیر خواہی اور نصیحت جب ہی نافع ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی شامل حال ہو تمہاری نافرمانیوں کے باعث اگر حضرت حق کو تمہاری راہ روی اور ہدایت منظور نہ ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں تک جتنے جواب سوال اس قوم کے تھے وہی تھے حضرت کی قوم کے گویا یہ سب جواب ان کو ملے ایک ان کا نیا دعویٰ تھا وہ آگے فرمایا 12
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم پیغمبر نے گھڑ لیا ہے آپ کہہ دیجئے اگر میں نے قرآن کریم کو از خود بنایا ہے تو میرا گناہ مجھ ہی پر واقع ہوگا اور میں ان جرائم سے جن کا تم ارتکاب کرتے رہتے ہو بری الذمہ ہوں

35 کیا کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم پیغمبر نے گھڑ لیا ہے آپ ان سے فرما دیجئے اگر اس قرآن کو میں نے خود بنالیا ہے اور می نے خود گھڑ لیا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہی واقع ہوگا اور میں ان جرائم سے جن کے تم مرتکب ہو بری الذمہ ہوں یعنی یہ تو کوئی ایسی بات نہیں اگر میں اپنی من گھڑت کو خد کی طرف منسوب کروں گا تو میں ذمہ دار ہوں گا اور تم بلا وجہ سچ کو جھوٹ کہو گے تو تم ذمہ دار میں تمہارے گناہوں سے بری الذمہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضر ت نوح (علیہ السلام) کتاب نہ لائے تھے جو ان کی قوم ان سے ایسی بات کہتی 12 خلاصہ ! یہ کہ رکوع کی آخری آیت کا تعلق نبی کریم ﷺ کی قوم سے ہے۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی بھیجی گئی کہ اب تیری قوم میں سے کوئی شخص ہرگز ایمان نہیں لائیگا مگر ہاں جو ایمان لا چکے وہ لا چکے یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اس پر تو غمگین نہ ہو

36 اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی جانب یہ وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں اب کوئی نیا شخص ایمان نہیں لائے گا مگر ہاں جو ایمان لا چکے وہ لا چکے لہٰذا جو کچھ وہ کررہے ہیں اور جن افعال کے یہ لوگ مرتکب ہورہے ہیں اس پر غمگین نہ ہو اور کچھ غم نہ کرو یعنی غم تو جب ہو جب امید کے خلاف کوئی بات ہو اور جب کسی اچھی بات کی امید ہی نہیں رہی پھر غم کیوں کرو۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہماری حفاظت میں اور ہمارے حکم سے تیار کرلے اور ان نافرمان لوگوں کے بارے میں مجھ سے کوئی گفتگو نہ کر کیوں کہ یہ سب غرق کئے جائیں گے

37 اور ایک کشتی ہمارے روبرو اور ہماری نگرانی میں ہمارے حکم سے تیار کرلو اور ان نافرمانوں اور ظالم لوگوں کی نجات کے بارے میں مجھ سے کوئی گفتگو نہ کرنا کیونکہ یہ سب غرق کئے جائیں گے۔ یعنی جب ایمان کی توقع ہی ان سے ختم ہوگئی تو اب سفارش بیکار ہے کیونکہ ان کے غرق کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانے کا کام شروع کردیا اور جب کبھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو نوح (علیہ السلام) پر ہنستے نوح (علیہ السلام) جواب دیتا کہ اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو

38 اور نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانے کا کا م شروع کردیا اور کشتی بنانے لگے اور جب بھی ان کی قوم کے سرداروں کا کوئی گروہان پر گزرتا تو وہ سردار نوح (علیہ السلام) پر ہنستے حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنستے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنستے ہو یعنی جب کبھی کوئی جماعت قوم کے روساء کی گزرتی تو کشتی بناتا ہوا دیکھ کر مذاق اڑاتی تو یہ فرماتے ہم کو بھی تمہارے حال پر اسی طرح ہنستی آتی ہے جس طرح تم ہنستے ہو ترجمہ میں ہے ہم بھی ایک د ن تم پر ہنسیں گے وہ ترجمہ ابن کثیر کی رعایت سے کیا گیا مطلب یہ ہوگا کہ تم آج ہم پر ہنستے ہو ہم کل تمہارے غرق ہوتے وقت تمہاری بےوقوفی پر ہنسیں گے۔
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے

39 سو عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ کس پردہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے یعنی دنیا میں رسوا کن عذاب اور مرنے کے بعد دائمی عذاب کا مستحق کون ہے۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ پہونچا اور تنور سے پانی ابلنے لگا تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلے اور اپنے گھر والوں کو بھی مگر جس کی نسبت پہلے سے ہمارا حکم جاری ہوچکا ہے اور ان کو بھی سوار کرلے جو ایمان لا چکے ہیں اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سوائے قلیل آدمیوں کے کوئی ایمان نہیں لایا تھا

40 یہاں تک کہ جب ہمارا حکم عذاب آ پہونچا اور تنور سے پانی ابلنے لگا تو ہم نے اس وقت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے نر مادہ کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلے اور اپنے گھر والوں کو بھی رسوا کرلے مگر ان کو رسوا نہ کرنا جن کی نسبت پہلے سے ہمارا حکم نافذ ہوچکا ہے اور ان کو رسوا کرلے جو ایمان لا چکے ہیں اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ بجز قلیل آدمیوں کے کوئی ایمان نہلایا تھا یعنی جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا اور طوفان شروع ہونے کی جو علامت مقرر تھی وہ ظاہر ہونی شروع ہوئی تو اس وقت ہم نے نوح سے کہا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے جو کارآمد ہیں اور پانی میں زندہ نہ رہ سکتے ہوں ان کا ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ یعنی دو عدد کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی باستشاء ان کے جن کے غرق ہونے کا حکم ہوچکا ہے یعنی اہل میں سے جو کافر ہیں ان کو سوارنہ کرنا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی سوار کرلو۔ فارالتنور کے مختلف معنی کئے گئے ہیں ہم نے عام معنی لے لئے ہیں بعض نے وجہ ارض کیا ہے یعنی ہر جگہ سے پانی ابلنے لگا اور آسمان سے پانی برسنا شروع ہوگیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر جانور کا جوڑا رکھ لیا کشتی میں جس کی نسل رہنی مقدر تھی اور گھر والوں میں سے جس پر بات پڑچکی ایک بیٹا کنعان اور اس کی ماں سو ڈوبے اور تین بیٹے بچے جن کی اولاد ساری خلقت ہے اور تنور تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کے گھر میں طوفان کا نشان بنا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشتی میں سوار ہو جائو۔