11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم اس کشتی میں سوار ہو جائو کہ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا سب اللہ کے نام کی برکت سے ہے بالیقین میرا رب بڑا بخشنے والا مہربان ہے

41 حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم اس کشتی میں سوار ہوجائو اور ڈوبنے کا اندیشہ نہ کرو اس کشتی کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا سب اللہ تعالیٰ ہی کے نام کی برکت ہے یقینا میرا پروردگار بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی سب مسلمان کشتی میں سوار ہوگئے۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی ا ن سب کو لے کر پہاڑ جیسی بلند موجود میں چلنے لگی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے یعنی کنعان کو پکارا اور وہ بیٹا ایک علیحدہ مقام پر تھا اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو

42 اور وہ کشتی ان سب کو لے کر پہاڑ جیسی اونچی اونچی موجوں میں چلنے لگی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کنعان کو پکارا وہ کشتی سے علیحدہ مقام پر کھڑا تھا اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو اور کافروں میں سے مت ہو۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے جواب دیا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو اس پانی سے بچا لے گا نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ آج اللہ کی پکڑ سے کوئی بچانے والا نہیں مگر ہاں وہ بچ سکتا ہے جس پر خدا ہی رحم کرے اتنے میں دونوں باپ بیٹوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ لڑکا ڈوبنے والوں میں ہوگیا

43 بیٹے کنعان نے جواب دیا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو اس پانی سے بچا لے گا حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا آج اللہ کے قہر اور اس کی گرفت سے کوئی بچانے والا نہیں مگر ہاں وہ بچ سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اور دونوں باپ بیٹوں کے درمیان اتنی دیر میں ایک موج حائل ہوگئی اور وہ لڑکا غرق شدگان میں سے ہوگیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دن بلند پہاڑ کے بلند درخت بھی ڈوب گئے تھے کہ پرندے کا بچائو نہ تھا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان رک جا اور پانی کم کردیا گیا اور کام پورا کردیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہا گیا کہ کافر لوگ رحمت سے دور ہوں

44 جب سب لوگ غرق ہوچکے تب حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور جذب کرلے اور اے آسمان تھم جا اور پانی کم کردیا گیا اور گھٹ گیا اور جو کام ہونے والا تھا وہ پورا ہوچکا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہا گیا کہ کافر لوگ رحمت سے دور ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چالیس دن پانی آسمان سے برسا اور زمین سے ابلا پھر چھ مہینے کے بعد پہاڑوں کے سر کھلے کہ کشتی جودی پہاڑ سے وہ پہاڑ ملک شام میں ہے 12
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح اپنے رب کو پکارا اور یوں کہا اے میرے رب یہ میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں کا بڑا حاکم ہے

45 اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اے میرے پروردگار یہ میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں کا بڑا حاکم اور بڑی قدرت والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک عورت تو ہلاکت میں آچکی اب تو چاہے بیٹے کو ہلاکت میں گن یا نجات میں 12 خلاصہ ! یہ کہ کنعان کے بارے میں دو احتمال تھے یا تو نوح (علیہ السلام) اس کو مسلمان سمجھتے تھے یا مسلمان نہ سمجھتے تھے مگر اہل کے مستثنیٰ ہونے کو یہ سمجھتے ہوں کہ اہل کو نجات ہوگی خواہ وہ کوئی بھی ہو مسلمان سمجھتے تھے اور غرق کے بعد دعا کی تو محض تحقیق مطلوب تھی اور اگر مسلمان نہیں سمجھتے تھے تو پکار کا یہ مطلب ہوگا کہ اس کا غرق تو اپنی جگہ صحیح ہے لیکن تو چاہتا تو اس کو ایمان دے دیتا اور وہ بھی نجات پانے والوں میں سے ہوجاتا بہر حال جو کچھ فرمایا وہ ظاہر ہے کہ بیٹے کی بحث میں عرض کیا اور اصل معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کی اس پر ارشاد ہوا۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے کہا اے نوح یہ بیٹا تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کے کام ناشائستہ ہیں مجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست نہ کر جس کی تجھ کو خبر نہ ہو میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں تو نادانوں میں شامل نہ ہوجائے

46 اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح (علیہ السلام) یہ بیٹا تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے اس کے عمل ناشائستہ میں مجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست نہ کر جس کی تجھ کو خبر نہ ہو میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ تو نادان نہ بن اور کہیں تو نادانوں میں شامل نہ ہوجائے یعنی تیری اہل نہیں کہ اس کے اعمال صحیح نہ تھے بلکہ کفر یہ تھے یا یہ بات کہ وہ من سبق علیہ القول میں داخل ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ایمان نہیں تو نجات نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی پوچھتا ہے جو معلوم نہ ہو لیکن مرضی معلوم چاہئے یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ ہو دیکھنے پوچھنے کی پھر پوچھے 12
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں کہ میں آئندہ کسی بات کی درخواست کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہ ہو اور اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں بڑے زیاں کاروں میں سے ہوجائوں گا

47 نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آئندہ کسی ایس بات کی درخواست کروں جس کی حقیقت کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں بڑے نقصان اٹھانے والوں اور زیاں کاروں میں سے ہوجائوں گا یعنی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جس کی مجھ کو خبر نہ ہو وہ طلب کروں یا جس کی حقیقت معلوم نہ ہو ایسا سوال کروں میری مغفرت کردے اور رحم فرما اگر تو بخشش نہ فرمائے گا اور رحم نہیں کرے گا تو میں کہیں کا بھی نہ رہوں گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) نے توبہ کی لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہیں کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے بندے کیا مقدور ہے چاہئے کہ اس کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر نہ ہو۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم دیا گیا اے نوح (علیہ السلام) ہماری سلامتی اور ہماری وہ برکتیں لیکر پہاڑ سے نیچے اتر جو تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو تیرے ساتھ ہیں نازل ہوتی رہیں گی اور بہت جماعتیں ایسی بھی ہوں گی جس کو ہم تھوڑے دنوں سود مند رکھیں گے پھر ہماری جانب سے ان پردرد ناک عذاب واقع ہوگا

48 نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اے نوح (علیہ السلام) ہماری سلامتی اور وہ برکتیں لے کر پہاڑ سے نیچے اتر جو تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو تیرے ساتھ ہیں نازل ہوتی رہیں گی اور بہت سی جماعتیں ایسی بھی ہوں گی کہ ہم ان کو دنیا میں چند روزہ سومند اور خوش عیش رکھیں گے پھر ہماری جانب سے ان پر سخت عذاب واقع ہوگا اور ان کو دردناک سزا پہنچے گی یعنی طوفان ختم ہونے کے بعد جب زمین چلنے پھرنے کے قابل ہوئی تو حکم دیا گیا جو دی پہاڑ سے نیچے اترو اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور اس کی برکتیں آئندہ بھی مسلمانوں پر اترتی رہیں گی اور بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کو دنیا میں ہم کچھ دنوں فائدہ اٹھانے کا موقع دیں گے لیکن آخرت میں ہماری جانب سے دردناک سزا ان کو ملے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے تسلی فرمادی کہ پھر ساری قوم نوع انسان پر ہلاکت نہ آوے گی قیامت سے پہلے مگر بعض فرقے ہلاک ہوں گے 12
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے بعض خبریں ہیں جن کو ہم آپ کی جانب وحی کے ذریعہ سے پہونچاتے ہیں ان واقعات کو ہمارے بتانے سے پہلے نہ تو آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم ان سے واقف تھی سو آپ صبر کیجئے اور یقین جانئے کہ پرہیز گاروں کا ہی انجام بہتر ہے

49 اے پیغمبر یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے بعض خبریں ہیں جن کو ہم آپ کی جانب وحی کرتے ہیں اور وحی کے ذریعہ آپ کو پہنچاتے ہیں ان واقعات کو ہمارے بتانے سے قبل نہ تو آپ ہی جانتے تھے نہ آپ کی قوم ہی ان کو جانتی تھی اور نہ ان واقعات سے واقف تھی آپ منکروں کے مقابلہ میں صبر اور برداشت سے کام لیجئے اور یقین رکھئے کہ پرہیز گاروں ہی کا انجام بہتر ہے اور آخر ڈرانے والوں ہی کا بھلا ہے ۔ آخر میں نبی کریم کا صاحب وحی ہونا جو دلیل ہے نبوت کی اور آپ کو انجام میں کامیابی کا اظہار فرمایا گویا آپ کی نبوت کا اعلان بھی اور آپ کو تسلی بھی۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم اللہ کی ہی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے تم سب خدا پر محض بہتان باندھ رہے ہو

50 اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں اور نہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود ہونے کے قابل ہے تم غیر اللہ کو اس کی عبادت میں شریک کرکے محض اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہو۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت نہیں مانگتامیرا اجر تو صرف اس اللہ ہی پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

51 اے میری قوم میں تم سے اس دین حق کی تبلیغ پر کوئی اجرت اور معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اس اللہ تعالیٰ پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے اور بالکل ہی عقل سے کام نہیں لیتے حضرت ہود (علیہ السلام) نے توحید کی تبلیغ فرمائی تو عام کفار کی طرح ان کی قوم نے بھی جواب دیا ہوگا اس پر ہود (علیہ السلام) نے اجرت کی نفی فرمائی اور اجر کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ بتایا اور فطرنی کہہ کر اللہ تعالیٰ کی خالقیت کا اظہار کیا کہ اس نے عدم محض سے مجھ کو پیدا کیا۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو پھر آئندہ کیلئے اس کی بارگاہ میں رجوع کرو وہ تم پر لگاتار مینہ برسائے گا اور تمہیں قوت دے کر تمہاری طاقت میں مزید اضافہ کرے گا اور گنہگار بن کر ایمان سے روگردانی نہ کرو

52 اور اے میری قوم تم اپنے پروردگار سے بخشش اور مغفرت طلب کرو پھر آئندہ کے لئے بھی اس کی بارگاہ میں رجوع کرو تم پر وہ خوب مینہ برسائے گا اور لگاتار بارشیں آسمان سے برسائے گا اور تمہیں قوت دے کر تمہاری طاقت و قوت میں ترقی دے گا اور گنہگار رہ کر ایمان سے روگردانی نہ کرو یعنی شرک و کفر سے توبہ کرو اور ایمان لے آئو اور عبادت کے ساتھ متوجہ رہو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے رزق کی کشائش بھی ہوگی اور جسمانی قوت کے ساتھ روحانی قوت بھی پیدا ہوگی اور مجرم رہ کر پیٹھ پھیرو گے تو سز ا کے مستحق ہوگے۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ہود (علیہ السلام) تو ہمارے پاس کوئی دلیل لیکر تو آیا نہیں اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ تجھ پر ایمان لانے والے ہیں

53 قوم کے لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کی تقریر سن کر جواب دیا اے ہود (علیہ السلام) تو نے ہمارے سامنے توحید اور اپنی رسالت پر کوئی دلیل تو پیش نہیں کی اور ہم فقط تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ تجھ پر ایمان لانے والے ہیں یعنی انہوں نے عناداً کہا کہ دلیل تو کوئی تیرے پاس ہے نہیں اب فقط تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کی عبادت نہ تو ترک کریں گے اور نہ تیرے رسول ہونے کو مانیں گے۔
Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود نے تجھ کو بری طرح جنوں میں مبتلا کردیا ہے ہود (علیہ السلام) نے کہا میں خدا کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی اس بات پر گواہ رہو جن کو تم خدا کے سوا عبادت میں شریک کرتے ہو میں ان سے سخت بیزار ہوں

54 ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود نے تجھ کو بری طرح جھپٹ لیا ہے اور کسی خرابی میں مبتلا کردیا ہے ہود (علیہ السلام) نے فرمایا تم جو یہ کہتے ہو کہ تمہارے معبودوں میں سے کسی نے مجھ کو جنون میں مبتلا کردیا ہے تو میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتا ہوں اور تم کو بھی اس بات پر گواہ رہو کہ ان تمام چیزوں میں بالکل بیزار ہوں جن کو تم نے خدا کے سوا عبادت میں شریک کر رکھا ہے یعنی مجھ کو جھپٹایا جنون یا آسیب کا اثر ہوگیا تو تم سے صاف طورپر کہتا ہوں اور خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی سن کر گواہ ہو جائو کہ میں ان معبودوں سے بالکل بیزار ہوں جن کو تم خدا کے سوا اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو۔
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

سو تم سب مل کر میرے حق میں جو برائی کرسکتے ہو وہ کر گزرو اور مجھ کو ذرا مہلت نہ دو

55 اب اگر ان بتوں میں کچھ قوت ہے تو تم اور وہ سب مل کر میرے ساتھ جو برائی کرسکتے ہوا اور جو دائوں میرے خلاف کرسکتے ہو وہ کر گزرو اور مجھ کو ذرا مہلت نہ دو ۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

یقینا میں نے تو اس اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں ان سب کی پیشانی کے بال اس نے پکڑ رکھے ہیں یعنی سب اس کے قبضہ میں ہیں بیشک میرا رب سیدھی راہ پر ہے

56 یقینا میں نے تو اس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے جتنے بھی روئے زمین پر چلنے والے ہیں ان سب کی چوٹی اس کے ہاتھ میں ہے اور ان کی پیشانی کے بال اس نے پکڑ رکھے ہیں بلا شبہ میرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے یعنی جو کچھ تم سے کیا جائے وہ تم بھی اور تمہارے بت بھی میرے ساتھ کر گزرو میں نے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کر رکھا ہے جس کا ہر ذی روح پر قبضہ ہے پیشانی کے بال جب کسی کے پکڑ لئے جائیں تو مراد اس سے قبضہ ہوتا ہے یہ بھی نبوت کی ایک دلیل ہے کہ ایک اکیلا شخص تمام قوم کو چیلنج کردے نبی کے علاوہ کون ایسا کرسکتا ہے سیدھی راہ اسلام ہی کی راہ ہے اس پر چلنا ہی پروردگار سے وصال کا موجب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو سیدھی راہ پر چلے وہ اس سے ملے۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

تم اگر اب بھی اغراض کرتے رہو گے تو جو پیغام تمہارے لئے دیکر مجھے بھیجا گیا ہے وہ میں تم کو پہونچا چکا ہوں اور میرا رب تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو آباد کردے گا اور تم اس کو کچھ بھی ضرر نہ پہونچا سکو گے بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے

57 پھر اگر اس صاف بیان کے بعد بھی تم دین حق سے پھرے رہو گے اور اعراض کرتے رہو گے تو میں کیا کرسکتا ہوں میں تو جو پیغام تمہارے لئے دیکر بھیجا گیا تھا وہ تم کو میں نے پہونچا دیا اور میرا کام رب تمہاری بجائے کسی اور قوم کو تمہارا قائم مقام اور جانشین کردے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے بالیقین میرا پروردگار ہر شئی پر نگہبان اور ہر چیز کی نگہداشت کرنیوالا ہے یعنی اگر تم اپنی حرکات سے باز نہ آئو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کردے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کے لئے آئے گا اور یہ نہ سمجھو کہ اس کو خبر نہیں وہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کے رسول کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے کہ اللہ نگہبان ہے 12 خلاصہ یہ کہ ضمیر کے مرجع میں دو قول تھے شاہ صاحب (رح) نے ایک کو اختیار کرلیا۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آ پہونچا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور اس کے ہمراہی ایمان والوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان کو سخت عذاب سے محفوظ رکھا

58 اور جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا اور تیزہوا کا عذاب نازل ہوا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور اس کے ہمراہی مسلمانوں کو اپنی رحمت اور عنایت سے بچالیا یعنی جو بھی تھوڑے بہت مسلمان ایمان لائے تھے وہ اور ہود (علیہ السلام) عذاب غلیط سے بچا لئے گئے ظاہر ہے کہ منکر سب ہلاک ہوگئے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ گاڑھی مار وہی جو دنیا میں آئی یا آخرت کے عذاب سے 12
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھی قوم عاد جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور خدا کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش مخالف و معاند کے کہنے پر چلتے رہے

59 اور یہ تھی قوم عاد جنہوں نے اپنے رب کے دلائل اور احکام کا انکار کیا اور خدا کے رسولوں کی نافرمانی کی اور سرکش مخالف و معاند اور ہر ظالم و ضدی کے کہنے پر چلنے رہے چونکہ ایک رسول کی مخالفت سب رسولوں کی مخالفت کو مستلزم ہے اس لئے رسول کی جمع فرمائی۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی لغت ان کے پیچھے لازم کردی گئی اور قیامت کے دن بھی آگاہ رہو قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا خوب سن لو رحمت سے دور کردئیے گئے عاد جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے

60 اس نافرمانی کا انجام یہ ہوا کہ اس دنیا میں بھی لغت ان کے پیچھے لازم کردی گئی اور ان کے ساتھ رب کی نافرمانی کا ارتکاب کیا خوب سن لو رحمت سے دور کردئیے گئے۔ عاد جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے یعنی یہ عاد جن کا ذکر ہوا یہ لوگ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے جو ہمیشہ کے لئے رحمت سے دور کردئیے گئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت کو یوں پکاریں گے 12 آٹھویں پارے میں بھی حضرت ہود (علیہ السلام) کے قصے کی تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا صالح نے کہا اے میری قوم تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا اور تم کو اس زمین میں آباد کیا سو تم اس خدا سے اپنے گناہ بخشوائو اور آئندہ بھی اسی کی جانب متوجہ رہو بلاشبہ میرا رب نزدیک ہے اور دعا کا قبول کرنے والا ہے

61 اور ہم نے قبیلہ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا معبود ہونے کے قابل ہے اس نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس نے تم کو زمین میں آباد کیا لہٰذا تم اپنے گناہ اس سے بخشوائو اور جو شرک تم کر رہے ہو اس کی معافی طلب کرو اور آئندہ بھی ایمان لانے کے بعد عبادت اور نیک اعمال کے ساتھ اسی کی جانب متوجہ رہو بلاشبہ میرا پروردگار قریب اور نزدیک ہے اور توبہ کرنیوالے کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یعنی شرک سے توبہ کرو اور عبادت کرتے رہو کہ یہی اس کی جانب متوجہ ہونا ہے زمین کی مٹی سے پیدا کیا یعنی مٹی اور خاک انسانی مادے میں جزو اعظم ہے پھر آباد بھی یہیں کیا یعنی وہی خالق اور وہی پروردگار ہے جو اس کی جانب متوجہ ہو تو وہ قریب ہے اور جو اس سے گناہ معاف کرائے تو وہ مجیب ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا اے صالح (علیہ السلام) اس بات سے پہلے تو تو ہم میں ایسا تھا کہ تجھ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کیا تو ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے بڑے کرتے چلے آئے ہیں اور جس دین کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اسکے متعلق ہم بڑے تردد انگیز شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔

62 ان کی قوم کے افراد نے جواب دیا اے صالح اس سے پہلے تو ایسا تو ہونہار اور ہوشیار تھا کہ ہم کو تجھ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کیا تو ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا اور بڑے بوڑھے کرتے چلے آئے ہیں اور جس دین کی طرف تو ہم کو بلا رہا ہے اس دین کی طرف ہم بڑے تردد انگیز شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تجھ سے ہم کو امید تھی یعنی ہونہار لگتا تھا کہ باپ دادا کی راہ روشن کرے گا تو لگا مٹانے 12 خلاصہ یہ کہ شروع شروع میں تو بہت اچھا معلوم ہوتا تھا اور تجھ سے امیدیں وابستہ تھیں مگر تو جوان ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور بڑوں کی رسموں کو مٹانے لگا تو ایسا نہ کر
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم بھلا یہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے رحمت یعنی نبوت عطا کی ہو پھر اگر میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں تو اس کی گرفت کے مقابلہ وہ کون ہے جو میری مدد کرسکے سو تم اس قسم کی باتوں کے سوائے اس کے نہیں کہ میرا نقصان بڑہانیکے درپے ہو

63 حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے رحمت یعنی نبوت عطا فرمائی ہے پھر اگر میں ہی تبلیغ کو ترک کرکے اس اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں جیسا کہ تم مجھ کو کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلے میں وہ کون ہے جو میری مدد کرسکے تو تم اس قسم کی باتوں سے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ میرا نقصان ہی بڑھانے کے درپے ہو یعنی توحید کی تبلیغ سے روکتے ہو حالانکہ وہ تو ایک نبی کا فریضہ ہوتا ہے اس نے مجھ کو نبوت عطا فرمائی اگر میں تمہارا کہنا مان لوں تو مجھ کو سوائے نقصان کے اور کیا ملے گا۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو کسی قسم کی برائی پہونچانے کی غرض سے چھونا بھی نہیں ورنہ تم کو فوری عذاب آلے گا

64 انہوں نے نبو ت کے ثبوت کے لئے جو معجزہ طلب یا اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے ایک معجزہ اور دلیل بنا کر ظاہر کی گئی ہے سو تم اس کو چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اس کو کسی قسم کی برائی پہنچانے کی نیت سے چھونا بھی نہیں اور ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تم کو فوری عذاب آلے گا اور دیرنہ لگے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت صالح (علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ لگا حق تعالیٰ نے ان کی دعا سے پتھر میں سے اونٹنی نکالی اسی وقت اس نے بچہ دیا اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کی تعظیم کرتے رہو تب تک دنیا کا عذاب نہ ہوگا جہاں وہ جاتی کھانے کو یا پینے کو سب جانور بھاگ جاتے اور آدمی کوئی اس کو نہ ہو ہانکتا 12
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

آخر کا قوم کے لوگوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں صالح (علیہ السلام) نے کہا تم تین دن اپنے گھروں میں اور زندگی گزار لو یہ وعدہ ہے جس میں بالکل جھوٹ نہیں

65 آخر کار قوم کے لوگوں نے باوجود سمجھا دینے کے اس اونٹنی کے پائوں کے پائوں کاٹ ڈالے اور اسکو مارڈالا اور زندگی سے فائدہ حاصل کرلو تین دن کے بعد عذاب آنا ہے اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس لئے یہ ایسا وعدہ ہے جس میں بالکل جھوٹ نہیں یعنی اونٹنی کو مار ڈالنے کا ارتکاب کیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ معجزہ تمہارے کہنے سے تم کو دیا گیا تھا تم نے ہی اس کو ختم کردیا اب تین دن کے بعد دیکھنا کیا ہوتا ہے۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آ پہونچا تو ہم نے صالح (علیہ السلام) کو اور اس کے ہمراہی ایمان والوں کو اپنی رحمت و عنایت سے بچالیا اور اس دن کی بڑی رسوائی سے محفوظ رکھا بیشک آپ کا رب ہی کمال قوت اور کمال عزت کا مالک ہے

66 پھر جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا تو ہم نے صالح (علیہ السلام) کو اور اس کے ہمراہی ایمان والوں کو پانی رحمت و عنایت سے بچالیا اور اس دن کی بڑی رسوائی سے محفوظ رکھا یقینا آپ کا پروردگار کمال قوت اور کمال عزت کا مالک ہے یعنی قوت والا اور غلبہ والا ہے۔
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ان ظالموں کو ایک ہولناک آواز نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

67 اور ان ظالموں کو ایک ہولناک آواز ایک خوفناک چیخ نے آپکڑا جس سے وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل اوندھے پڑھے کے پڑے رہ گئے۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا یہ لوگ کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے آگاہ ہو قوم ثمود نے اپنے رب کی نافرمانی کی خوب سن لو رحمت سے دور کئے گئے ثمود

68 اور ان کی یہ حالت ہوگئی گویا یہ لوگ ان گھروں میں جیسے کبھی بسے ہی نہیں تھے اور کبھی ان گھروں میں رہنے ہی نہ تھے سن لو قوم ثمودنے اپنے رب کی نافرمانی کی خوب سن لو رحمت سے دور کئے گئے ثمود اور رحمت سے ثمود کو دوری ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان پر عذاب آیا اس طرح کہ رات کو سوتے پڑے تھے فرشتے نے چنگھاڑ ماری سب کے جگر پھٹ گئے 12 آٹھویں پارے میں رجفہ فرمایا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ بھی آیا اور ہولناک آواز بھی ہوئی۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور بیشک ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرستا وے یعنی فرشتے خوش خبری لے کر آئے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی جواب میں سلام کیا پھر ابراہیم (علیہ السلام) بغیر کسی تاخیر کے ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا

69 اور بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے خوشخبری لیکر آئے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کو سلام کیا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بغیر کسی تاخیر کے ایک تلا ہوا بچھڑا لے آئے خوشخبری لائے حضرت اسحق (علیہ السلام) کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے مہمان ہیں حالانکہ وہ فرشتے تھے انسانی شکل میں آئے تھے جیسا کہ آگے معلوم ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وے کئی فرشتے تھے قوم لوط پر جاتے تھے ہلاک لیکر اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور بشارت دی بیٹے کی ان کی بی بی سے بیٹا نہ تھا اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہچانا کہ فرشتے ہیں کھانا لے آئے 12 بچھڑا تلا ہوا تھا یا دستور کے موافق گرم پتھر پر اس کا گوشت بھونا گیا تھا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس بھنے ہوئے گوشت کی طرف نہیں بڑھتے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اجنبی سمجھا اور دل میں ان سے ڈرا انہوں نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) ڈرو نہیں ہم فرشتے ہیں جو لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لئے بھیجے گئے ہیں

70 سو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اجنبی سمجھا اور متوحش ہوئے اور دل میں ان سے ڈرے انہوں نے کہا اے ابراہیم ہم سے ڈرو نہیں ہم آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں ان کے ساتھ جو عذاب تھا اس کا ڈر پڑا۔ خلاصہ یہ کہ دستور کے موافق جب کوئی مہمانا کھانا نہ کھاتا تھا یا کوئی مخالف بن کر آتا تھا اور وہ کھانا نہ کھاتا تھا تو کھانا نہ کھانا ایک پہچان تھی اپنے پر ائے کی اس لئے خطرہ محسوس کیا یا اپنی روحانیت کے باعث ان کے پاس عذاب کا حکم محسوس کیا اس لئے ڈرے ہوں اسی طرح فرشتوں نے ان کے دل کا ڈر سمجھا اللہ تعالیٰ کے بتانے یا روحانی کشف سے
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی جو وہیں کھڑی ہوئی تھی ان باتوں کو سن کر ہنسی تو ہم نے اس عورت کو اسحق اور اسحق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی

71 اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی جو وہیں کھڑی ہوئی تھی ان باتوں کو سن کر ہنسی تو ہم نے اس عورت کو اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کے ڈر کئے دور ہونے سے خوش ہوکر ہنس پڑی حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں سنائیں 12 خلاصہ ! یہ کہ بیٹے اور پوتے کی خوشی سنائی یہ بیوی حضرت سارہ ؓ تھیں ان کو اولاد کی بڑھاپے کے باعث امید بھی نہ رہی تھی۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس عورت نے یہ بشارت سن کر کہا اے ہے کیا میرے ہاں اولاد ہوگی حالانکہ میں بڑھیا ہوگئی اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہوچکے ہیں واقعی اس عمر میں اولاد کا ہونا بڑی عجب سی چیز ہے

72 اس عورت نے یہ بشارت سن کر کہا اے ہے کیا میرے ہاں اولاد ہوگی اور میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوچکی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں واقعی اس عمر میں اولاد کا ہونا بڑی عجیب سی شے ہے یعنی میں بڑھیا اور یہ بڈھے اس بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یقینا تعجب خیز ہے۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا کیا تو خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہے اے ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے والو ! تم پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوتی رہتی ہیں بیشک خدا جملہ صفات سے متصف اور بڑی بزرگی کا مالک ہے

73 فرشتوں نے کہا کیا تو خدا کی قدرت اور اسکے کام میں تعجب کرتی ہے اے ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے والو ! تم پر تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور انواع و اقسام کی برکتیں نازل ہوتی رہتی ہیں بیشک اللہ تعالیٰ جملہ صفات سے متصف اور بڑی بزرگی کا مالک ہے۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف زائل ہوگیا اور اس کی اولاد کی بشارت بھی پہونچ گئی تو ہم سے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا

74 پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ خوف زائل ہوگیا جو فرشتوں کے کھانا نہ کھانے سے ان کے دل میں پیدا ہوا تھا اور ان کو خوشخبری اور بشارت بھی مل گئی کہ ان کے ہاں حضرت سارہ ؓ کے بطن سے لڑکا پیدا ہوگا تو اس نے ہم سے لوط (علیہ السلام) کی قوم کیب ارے میں جھگڑا شروع کردیا یعنی جب اطمینان ہوگیا تو لوط (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق سفارش کرنے لگے یہ سفارش چونکہ اصرار کے ساتھ کر رہے تھے اس لئے اس سفارش کو مجادلہ سے تعبیر فرمایا اس سفارش پر جو اصرار تھا اس کی وجہ آگے بیان فرمائی۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑا بردبار بڑا نرم دل خدا کی طرف رجوع کرنے والا تھا

75 واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑا بردبار حلیم الطبع بڑا نرم دل اور رقیق القلب اور خدا کی طرف رجوع کرنے والا تھا یعنی چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑا رقیق القلب تھا اس لئے اس نے اس قدر مبالغہ کے ساتھ سفارش کی اور ممکن ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس قوم کے ایمان لے آنے کی امید ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت لوط انہی کے پیچھے گئے تھے اس قوم میں جب سنا کہ اس پر عذاب آیا ترس کھا کر سفارش کرنے لگے 12
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

ارشاد ہوا اے ابراہیم (علیہ السلام) تو اس بات کو چھوڑ دے واقعہ یہ ہے کہ تیرے رب کا حکم پہنچ چکا ہے اور یقینا ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو واپس نہیں کیا جاسکتا

76 ارشاد ہوا اے ابراہیم (علیہ السلام) تو اس بات کو چھوڑ دے یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں اسی لئے تیرے پروردگار کا حکم آچا ہے اور یقینا ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح واپس ہونے والا نہیں۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط (علیہ السلام) ان کے آنے سے غمگین اور ان کی وجہ سے تنگ دل ہوا اور کہنے لگا آج کا دن بڑا ہی سخت ہے

77 اور جب وہ ہمارے فرستادہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر غمگین ہوئے اور ان کی وجہ سے تنگ دل ہوئے اور فرمانے لگے آج کا دن بڑا ہی سخت ہے۔ یعنی یہ فرشتے حضرت ابراہیم سے فارغ ہوکر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہونچے اور حسین و جمیل نو عمر لڑکوں کی شکل میں پہونچے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی بد ذوقی کا حال معلوم تھا اس لئے وہ پریشان ہوئے لیکن مہمان نوازی کی وجہ سے انکار نہیں کرسکے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ فرشتے گئے لڑکے بن کر اس قوم کی خومعلوم تھی اس سے خفا ہوئے کہ لڑائی کرنی پڑی 12
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ اس کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ پہلے ہی سے برے کام کرنے کے خوگر تھے لوط (علیہ السلام) نے کہا اے میریقوم یہ میری بیٹیاں موجود ہیں یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ ہیں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی شخص شائستہ اور راہ یافتہ نہیں ہے

78 اور لوط کی قوم کے لوگ لوط کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ پہلے ہی سے برے کام کے عادی اور خوگر تھے لوط نے یہ پریشان کن منظر دیکھ کر کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں موجود ہیں یہ تمہارے لئے اچھی اور پاکیزہ ہیں ان سے نکاح کرلو پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی شخص بھی شائستہ اور نیک چلن نہیں ہے۔ جب قوم کے بدذوق لوگ ہجوم کرکے لوط (علیہ السلام) پر چڑھ آئے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا کہ تم حلال طریقہ پر اپنی خواہش پوری کرو اور میرے مہمانوں سے کوئی تعارض نہ کرو کہ اس میں میری رسوائی ہے اور حلال طریقہ یہ کہ میری بیٹیاں موجود ہیں ان سے نکاح کرلو اور ہوسکتا ہے کہ سدو کے باشندوں کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں فرمایا ہو اور مطلقاً عورتوں کو کہا ہو کہ یہ قوم کی بیٹیاں میری ہی بیٹیاں ہیں یعنی اپنی خواہش پوری کرو اور لڑکوں پر مت دوڑو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتے مہمان اترے ان کے گھر اور قوم دیکھ کر دوڑی یہ ان کے بچانے کو اپنی بیٹیاں بیاہ دینے قبول کرنے لگے لیکن وے کہاں مانتے تھے اس وقت کافر سے بیاہ دینے کو منع نہ تھا 12
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

قوم کے لوگوں نے کہا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں سے ہمیں کوئی رغبت اور غرض نہیں اور جو کچھ ہم چاہتے ہیں اس سے تو یقینا بخوبی واقف ہے

79 قوم کی لوگوں نے کہا اے لوط (علیہ السلام) تو جانتا ہے ہم کو تیری بیٹیوں سے کوئی دعویٰ نہیں اور تیری بیٹیوں سے ہم کو کوئی غر ض اور ہم کو کوئی حاجت نہیں اور جو کچھ ہمارا مقصد ہے اور جو کچھ ہم چاہتے ہیں اس سے تو بخوبی واقف اور باخبر ہے۔ یعنی تیری بیٹیوں سے خواہ وہ تیری اپنی ہوں یا قوم کی بیٹیاں ہوں ہمیں کوئی واسطہ اور رغبت نہیں اور جو ہمارا مطلب ہے تو اس کا خوب سمجھتا ہے۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش مجھ میں تمہارے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی زور آور مددگار کی پناہ پکڑ لیتا

80 حضرت لوط نہایت پریشان ہوکر عاجزانہ انداز میں فرمانے لگے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلہ کی قوت ہوتی اور زور ہوتا یا میں کسی زور آور مددگار کی پناہ پکڑ لیتا یا کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا یعنی انتہائی اضطراب و پریشانی میں حضرت لوط کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ میرا کوئی کنبہ قبیلہ ہوتا تا کوئی طاقتور سہارا ہوتا اور ایسا کبھی کبھی گھبراہٹ میں ہوجایا کرتا ہے۔