11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

وہ مہمان کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) ہم تو تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تجھ تک نہ پہونچ سکیں گے تو اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کسی حصہ میں یہاں سے نکل جا اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر ہاں ت یری بیوی واقعہ یہ ہے کو جو عذاب قوم کے لوگوں پر آنے والا ہے ویہ عذاب کو کو بھی پہونچنے والا ہے انکے عذاب کے وعدے کا وقت صبح کا وقت ہے کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے

81 وہ فرشتے جو مہمان تھے لوط سے کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) ہم آدمی نہیں ہیں آپ اس قدر کیوں گھبراتے ہیں ہم تو آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ آپ تک ہرگز نہیں پہونچ سکیں گے اب آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیے اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر ہاں آپ کی بیوی چونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اس لئے وہ نہیں جائے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی پر وہی عذاب اور آفت آنے والی ہے جو آفت قوم کے لوگوں پر آنے والی ہے ان لوگوں کے عذاب کے وعدے کا وقت صبح کا وقت ہے کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی زیادتی یہاں تک پہونچ چکی تو ان فرشتوں نے بتایا کہ گھبرانے کی بات نہیں ہم تو عذاب ہی لیکر آئے ہیں آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر باہر چلے جائیے اور جانے والوں میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا استثنیٰ کرو یا کر وہ کافروں ہی کے ساتھ رہے گی اور جس عذاب میں قوم گرفتار ہوگئی اسی میں وہ بھی مبتلا ہوگی فرشتوں نے عذاب کا وقت بھی بتادیا کہ صبح ہوتے ہی عذاب شروع ہوجائیگا اور صبح کون سی دور ہے آیا ہی چاہتی ہے۔ موعدھم الصبح میں کئی قول ہیں اس لئے رات کے کسی حصہ سے ترجمہ کیا ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہمارے حضرت کو مکہ فتح ہوا صبح کے وقت شاید وہی اشارہ ہو 12
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آ پہونچاتو ہم نے ان بستیوں کو الٹ کر ان کے بالائی حصہ کو نیچے کا حصہ کردیا اور الٹنے کے بعد ان بستیوں پر ہم نے لگا تار کھنگر کے پتھر برسائے

82 پھر جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا تو ہم نے ان بستیوں کو الٹ کر ان کے بالائی حصہ کو نیچے کا حصہ کردیا اور الٹنے کے بعد اس سرزمین پر ہم نے کھنگر کر پتھر برسائے۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر آپ کے رب کی طرف نشان کئے ہوئے تھے اور بستیاں تو ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں ہیں

83 جن پر آپ کے رب کی طرف سے خاص نشان کئے ہوئے تھے اور یہ بستیاں کفار مکہ کے ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) تورات کو نکل گئے صبح ہوتے عذاب آیا تو سدوم کی بستیاں الٹ پلٹ کردی گئیں نیچے کا حصہ اوپر اور اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا پھر اوپر سے پتھر برسے نشان کئے ہوئے پتھر پر کوئی ایسا نشان ہوگا جو عام پتھروں کے اعتبار سے ممتاز تھے یعنی عذاب کے پتھر دوسرے پتھروں سے ممتاز تھے بعض نے کہا ہر پتھر پر مجرم کا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی غیبی نشان جسے ہرش خص نہ دیکھ سکتا ہو کفار مکہ سے بستیاں دور نہیں با اعتبار زمانہ یا با اعتبار مسافت یہ بستیاں ملک شام کو جاتے وقت راستے میں پڑتی تھی منضود کے کئی طرح معنی کئے گئے ہیں تہ برتہ یا لگا تار۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبواد نہیں اور تم پیمانہ بھرنے اور تولنے میں کمی نہ کیا کرو میں تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور میں تم پر ایک ایسے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو ہر قسم کے عذاب کا جامع ہوگا

84 اور اہل مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود بننے کیل ائق نہیں اور تم پیمانہ بھرنے اور تولنے میں کمی نہ کیا کرو یعنی باپ میں اور تول میں کمی نہ کیا کرو نہ کم ماپو نہ کم تولو ! کیونکہ میں تم کو آسودہ حال اور فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں اور میں تم پر ایک ایسے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو ہر قسم کے عذاب کا جامع ہوگا اور وہ دن گھیر لینے والا ہوگا یعنی توحید کو اختیار کرکے عقیدے کی اصلاح کرو یہ تو ایک بنیادی چیز ہے پھر معاملات کی اصلاح کرو جو چیز پیمانہ سے دی جاتی ہے یعنی کیلی اس میں پیمانہ پورا بھرو اور جو تول سے دی جاتی ہے یعنی وزنی اس میں تول پوری رکھو میں تم کو خوشحال دیکھتا ہوں اگرچہ تنگی میں بھی معاملات صحیح ہونے چاہئیں چہ جائے کہ فراخی بھی میسر ہو پھر معاملات میں بےایمانی کی جائے۔ دنیا میں گھیرنے والا عذاب یہ کہ سب ہلاک ہوجائو اور آخرت میں یہ کہ مختلف عذابوں میں گھر جائو اور کوئی جگہ اس دن عذاب سے بچنے کی نہ ہو۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! تم انصاف کے ساتھ پیمانہ پورا بھرا کرو اور پورا تولا کرو اور لوگوں کو ان کی اشیاء میں نقصان نہ پہونچایا کرو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو

85 اور اے میری قوم تم انصاف کے ساتھ ماپ اور تول کو پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہونچایا کرو اور نقصان مت دیا کرو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو یعنی شرک و کفر کرکے اور لوگوں کو نقصان پہنچا کر توحید اور عدل کی حدود سے تجاوز نہ کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نقل ہے کہ امانت کے روپے کتر لیتے 12 کہتے ہیں کہ امانت میں خیانت اور رہرنی وغیرہ بھی کرتے تھے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

جو اللہ کا دیا ہوا نفع تم کو بچ رہا کرے وہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے بشرطیکہ تم مومن ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں

86 لوگوں کے حقوق ادا کرنے کے بعد جو اللہ کا دیا ہوا نفع بچا رہا کرے وہ تمہارے لئے بدرجہا بہتر اور حلال ہے اگر تم کو یقین آوے اور تم مومن ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان اور پہرہ دار نہیں ہوں یعنی حلال سے جو بچ رہے بدرجہا بہتر ہے حرام مال سے خواہ حلال کم ہو حرام سے تم کو یقین ہو تو مان لوورنہ تم جانو میں کوئی تم پر نگہبان نہیں ہوں۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

یہ سن کر قوم کے لوگ کہنے لگے اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیری نماز نے تجھ کو ہمارے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان معبودوں کی عبادت ترک کردیں جن کی عبادت ہمارے بڑے بوڑھے کرتے چلے آئے یا یہ حکم دیا کہ ہم اپنے مال میں اپنے حسب دل خواہ تصرف کرنا چھوڑ دیں بیشک آپ ہی تو بڑے حلیم الطبع اور نیک چلن ہیں

87 یہ سن کر قوم کے لوگوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیرے نماز پڑھنے اور تیری عبادت نے تجھ کو یہی سکھایا ہے کہ جن کو ہمارے بڑے بوڑھے اور باپ دادا پوجا کرتے تھے اور جن چیزوں کی پرستش کیا کرتے تھے ان چیزوں کی پرستش ہم چھوڑ دیں اور ان معبودوں کی عبادت کو ترک کردیں یا تمہاری نماز نے تم کو یہ سکھایا ہے کہ ہم اپنے مال می اپنے حسب دل خواہ تصرف کرنا چھوڑ دیں اور جس طرح ہم چاہیں اپنے مال میں تصرف کرنے سے باز آجائیں۔ بے شک آپ ہی تو بڑے باوقار اور نیک چال والے تھے یعنی آپ کی عبادت نے آپ کو اچھا سبق پڑھایا ہے کہ جو بات قدیم سے ہوتی چلی آرہی ہے اس کو چھوڑ بیٹھیں اور جو ہمارا مال ہے اس میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں کیا خوب آپ ہی تو بڑے عقلمند اور دین دار واقع ہوئے ہیں۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم بھلا یہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے بہترین دولت یعنی نبوت عطا کی ہو تو کیا اس کی تبلیغ نہ کروں اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے تم کو منع کرتا ہوں تمہارے برخلاف میں انہیں خود لگوں میں تو اپنی حسب استطاعت تمہاری اصلاح چاہتا ہوں اور ان اصلاحی کاموں میں مجھے توفیق کا ملنا مخض خدا کی تائیڈ سے ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں

88 حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کے اے میری قوم تم چاہتے ہو کہ میں تم کو توحید اور عدل کی تبلیغ نہ کروں تو بھلایہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی جانب سے ایک بہترین دولت اور اچھی روزی عطا فرمائی تو کیا اس کی تبلیغ نہ کروں اور میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ جن باتوں سے تم کو منع کرتا ہوں اور جو باتیں تم سے چھڑاتا ہوں تمہارے برخلاف میں انہیں خود کرنے لگوں میں تو صرف اپنی حسب استطاعت تمہاری اصلاح کرنا اور تم کو سنوارنا چاہتا ہوں اور ان اصلاحی کاموں میں مجھے توفیقکا ملنا محض اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی مدد سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہو اور اسی کی طرف ہر ایک معاملہ میں رجوع کرتا ہوں یعنی تم روکنا چاہتے ہو تبلیغ سے حالانکہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں تبلیغ پر رزق حسن سے مراد یا تو حلال کی روزی ہے یا نبوت ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی روحانی دولت نہیں جو تم کو نصیحت کرتا ہوں اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یہ نہیں کہ تم سے جو کچھ کہوں اس کے برخلاف عمل کروں اور میں یہ جو کچھ کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے کر رہا ہوں اسی پر میرا تو عمل ہے اور اسی کی ذات میرا مرجع ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ خصلت ہے خدا کے لوگوں کی کہ چڑانے سے برانہ مانا اور اپنے مدقور بھر سمجھاتے رہے 12
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم کو میری مخالف کہیں ایسے کاموں پر آمادہ نہ کردے کہ تم پر بھی اسی طرح کے مصائب نازل ہوں جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم یا ہود (علیہ السلام) کی قوم یا صالح (علیہ السلام) کی قوم پر نازل ہوچکے ہیں اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کا زمانہ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔

89 اور اے میری قوم تم کو میری مخالفت کہیں ایسے کاموں پر آمادہ نہ کردے اور تمہارے لئے میری ضد اس کا باعث نہ ہوجائے کہ تم پر بھی اسی طرح کی مصائب نازل ہوجائیں اور تم پر اسی طرح کی مصیبتیں آپڑیں جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم یا ہود (علیہ السلام) کی قوم یا صالح (علیہ السلام) کی قوم پر پڑی تھیں اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کا زمانہ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں یعنی تم نے مجھ سے ضدباندھ لی ہے اور میری مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی قسم کی آفتیں نازل ہوجائیں جس قسم کی آفتیں تم سے پہلوں پر نازل ہوچکی ہیں۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور تم اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو پھر آئندہ اسی کی جانب متوجہ رہو بیشک میرا رب نہایت مہربان بڑی محبت کرنیوالا ہے

90 اور تم اپنے رب سے انے گناہ بخشوائو اور کفرو شرک سے توبہ کرو پھر آئندہ بھی عبادت کے ساتھ اسی کی طرف متوجہ ہو بلاشبہ میرا رب نہایت مہربان بڑی محبت کرنے والا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا اے شعیب تو جو کچھ کہتا ہے اس میں سے اکثر باتیں ہم نہیں سمجھتے اور ہم تجھ کو اپنی قوم میں بہت کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے خاندان والوں کا لحاظ نہ ہتوا تو ہم تجھ کبھی کا سنگسار کرچکے ہوتے اور تو ہم پر کسی طرح بھی غالب اور ذی اقتدار نہیں ہے

91 قوم کے لوگوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) تو جو کچھ کہتا ہے تیری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور ہم تجھ کو اپنی قوم میں بہت کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے خاندان والوں کا لحاظ اور پاس نہ ہوتا تو ہم تجھ کو کبھی کا سنگسار کرچکے ہوتے اور تو ہم پر کسی طرح بھی غالب اور ذی اقتدار نہیں ہے یعنی تمہاری باتیں جب سمجھ میں نہیں آتیں اس لئے قابل توجہ نہیں تیرے خاندان کا خیال ہے ورنہ اب تک تجھ کو ہم قتل کر ڈالتے اور تیرا سر پتھروں سے کچل دیتے کیونکہ تیری توقیر اور کچھ عزت تو قوم میں ہے نہیں نہ تیرے پاس کوئی حکومت اور اقتدار ہے۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیب نے جوا ب دیا اے میری قوم کیا میرا خاندان تمہاری نظر میں بھی زیادہ غالب اور ذی اقتدار ہے اور خدا کو تم نے بھلا کر پس پشت ڈال دیا ہے یقینا جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب میرے رب کے احاطہ عمل میں ہے

92 حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا اے میر قوم کیا میرا خاندان تمہاری نظر میں اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت دار اور صاحب توقیر ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کو ب ھلا کر پس پشت ڈال دیا ہے یقینا تم جو عمل کرتے ہو وہ سب میرے رب کے احاطہ علم میں ہے۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم اپنے حال پر عمل کرتے رہو میں بھی اپنی حالت پر عمل کرر ہا ہوں تھوڑے دنوں میں تم کو معلوم ہوجائیگا کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور وہ کون ہے جو جھوٹا ہے تم انتظا کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

93 اور اے میری قوم ! اگر تم کو موجودہ عذاب کا یقین نہیں آتا تو تم اپنے حال پر عمل کرتے رہو میں بھی اپنی حالت پر عمل کررہا ہوں تھوڑے دنوں میں تم کو معلوم ہواجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسکو رسوا کردے گا اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا تھا اور کذاب بیانی کیا کرتا تھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں یعنی میر بات کا تو تم کو یقین نہیں آتا میں تم کو آنے والے عذاب سے ڈرتا ہوں تم مجھ کو جھوٹا کہتے ہو اب سوائے اس کے کیا چارئہ کار ہے کہ تم اپنا کام کرتے ہو میں اپنا کام کرتا رہوں اب بہت جلد تم کو معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کن عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 11:94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آ پہونچا تو ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو اس کے ہمراہی ایمان والوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو ایک ہولناک آواز نے آپکڑا سو وہ سب اپنے اپنے گھروں میں منہ کے بل اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

94 اور جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا تو ہم نے شعیب اور اس کے ہمراہی مسلمانوں کو اپنی رحمت و عنایت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو ایک ہولناک آواز نے آپکڑا لہٰذا وہ اپنے گھروں کے اندر منہ کے بل اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔
Ayah 11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا وہ لوگ کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے خوب سن لو مدین بھی رحمت سے اسی طرح دور کئے گئے جس طرح ثمود رحمت سے دور کئے گئے تھے

95 اور ایسے مرے جیسے وہ لوگ کبھی ان گھروں میں بسے اور رہے ہی نہ تھے خوب سن لو اور عبرت حاصل کرو مدین بھی رحمت سے اسی طرح دور کئے گئے جس طرح ثمود رحمت سے دور کئے گئے تھے۔
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے معجزات اور واضح دلیل دے کر فرعون اور اس کے روسا کی طرف بھیجا

96 اور بلاشبہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنے معجزات اور واضح دلیل اور کھلی سند دے کر
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

سو وہ لوگ فرعون ہی کے کہنے پر چلتے رہے حالانکہ فرعون کی بات کوئی صحیح بات نہ تھی

97 فرعون اور اس کے روسا کی طرف بھیجا سو وہ لوگ فرعون ہی کے کہنے اور اسی کیرائے پرچلتے رہے حالانکہ فرعون کی بات اور اس کی رائے صحیح نہ تھی موسیٰ (علیہ السلام) کو جو معجزات دیتے وہ تو نشانیاں تھیں جس کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے اور ان نشانیوں میں عصا اور ید بیضا کو مخصوص طورپرسلطان مبین فرمایا ہو یا سلطان مبین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل وبراہین مراد ہوں یا یہ غلبہ اور قہر کے معنی ہوں اور اس سے مراد وہ قدرتی ہیبت ہو جسکو فرمایا ہے ویجعل لکما سلطانا
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

قیامت کے دن وہ فرعون اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا پھر ان کو دوزخ میں جا اتارے گا اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس گھاٹ وہ اتارے گئے

98 فرعون قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا پھر ان سب کو دوزخ میں پہونچا دے گا اور دوزخ میں جا اتارے گا اور وہ بہت بڑا گھاٹ ہے جس گھاٹ وہ اتارے گئے اور وہ بہت بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے گئے۔ یعنی جس طرح یہاں قوم کے گمراہ کرنے کی پیشوائی کیا کرتا تھا اور غرق کے وقت بھی آگے آگے تھا اسی طرح قیامت کو عذاب میں لے جانے کی پیشوائی کرے گا۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی وہ بہت ہی برا انعام ہے

99 اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی اور قیامت کے دن بھی وہ بہت ہی برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یعنی لعنت ایسے پیچھے لگی کہ نہ دنیا میں ساتھ چھوڑا نہ آخرت میں یہاں بھی رحمت خداوندی سے محروم اور وہاں بھی محروم۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

جو ان کو دیا گیا اے پیغمبر یہ چند بستیوں کے بعض حالات ہیں جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک موجود ہیں اور بعض بستیاں معدوم ہوچکی ہیں

100 اے پیغمبر ! یہ چند تباہ شدہ بستیوں کے حالات تھے جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک موجود ہیں اور بعض بستیاں بالکل ہی کٹ گئیں اور معدوم ہوچکیں یعنی یہ ان بستیوں کے حالات تھے جن کے رہنے والوں نے تکذیب کا شیوہ اختیار کر رکھا تھا سو بعض تو ان میں سے اب بھی موجود ہیں جیسے مصر اور بعض کے کچھ نشانات پڑے ہیں جیسے سدوم کی چھوٹی چھوٹی بستیاں اور بعض بالکل ہی معدوم ہوگئیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قائم ہے اور کٹ گیا یعنی آباد ہے اور اجاڑ 12
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان بستیوں کے لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا پھر جب آپ کے رب کا حکم آ پہونچا تو ان کے وہ معبود ان کے کچھ بھی کام نہ آئے جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے اور یہ جھوٹے معبود ان لوگوں کی تباہی میں اضافہ ہی کے موجب ہوئے

101 اور ہم نے ان کو سزا دینے میں ان بستیوں کے لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خو د ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا پھر جب آپ کے رب کا حکم عذاب آ پہونچا تو جن معبود ان باطلہ کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پرستش کیا کرتے تھے اور ان کو پکارا کرتے تھے وہ ان کے معبود ان کے کچھ کام نہ آئے اور یہ معبود ان باطلہ ان کو بچاتے تو کیا الٹے ان لوگوں کی تباہی میں اضافہ کا موجب ہوئے۔ یعنی ان کے کام تو کیا آتے الٹا ان کو نقصان پہونچایا کیونکہ یہی تو ان کی تباہی اور بربادی کا سبب بنے۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور جب آپ کا رب ان بستیوں کو جن کے رہنے والے ظالم ہوتے پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوا کرتی ہے یقینا اس کی پکڑ بڑی دردناک اور بڑی سخت ہے

102 اور جب آپ کا پروردگار ان بستیوں کو جن کے رہنے والے ظالم ہوتے ہیں پکڑتا ہے تو اس کی داروگیر ایسی ہی ہوا کرتی ہے یقینا اس کی پکڑ اور اسکی داروگیر بڑی دردناک اور بڑی سخت ہے یعنی جن بستیوں کے باشندے ظلم اور کفر کے خوگر ہوجاتے ہیں اور باز نہیں آتے اور تیرا رب ان کی گرفت کرتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوا کرتی ہے کہ پھر ان کو تباہ و برباد ہی کرکے چھوڑتا ہے کیونکہ اس کی گرفت دردناک اور سخت ہے۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

بلاشبہ ان واقعات میں اس شخص کیلئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یوم آخرت وہ دن ہے جس دن سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور یہی سب کے حاضر کئے جانے کا دن ہے

103 بلاشبہ ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یوم آخرت وہ دن ہے جس روز سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہی دن سب کے لئے پیش ہونے اور سب کی حاضری کا دن ہے ینی عبرت تو ظاہر ہی ہے کہ دنیا کے عذاب کا یہ حال ہے تو آخرت میں عذاب کیا کیا ٹھکانہ ہوگا آگے یوم آخرت کا بیان ہے کہ اس دن سب میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے اور سب حضرت حق تعالیٰ کے روبرو پیش کئے جائیں گے۔
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس دن کو ملتوی نہیں کیا ہے مگر صرف تھوڑی مدت

104 اور ہم نے اس دن کو موخر اور ملتوی نہیں کیا ہے مگر صرف ایک وعدے کیلئے جو مقرر ہے یعنی قیامت کے دن کا وقوع بعض مصالح کی بنا پر ایک وقت معلوم و محدود کے لئے ملتوی کر رکھا ہے اور اس وقت کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ دن آجائے گا تو کوئی متغفس بلا اذن خداوندی بات تک بھی نہ کرسکے گا پھر اسوقت لوگوں میں سے بعض بدبخت نیک بخت ہوں گے

105 جب وہ دن آجائے گا تو کوئی متنفس بلا اذن و اجازت خداوندی بات تک بھی نہیں کرسکے گا پھر اسوقت لوگوں میں سے بعض بدبخت اور بعض نیک بخت اور سعادت مند ہوں گے یعنی اس دن کی ہیبت ایسی ہوگی کہ کسی کو مجال دم زدن نہ ہوگا مگر ہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہی کوئی بول سکے گا اور اس دن لوگ دو حصہ میں منقسم ہوں گے کوئی شقی اور کوئی سعید۔
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو لوگ بدبخت ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان کو وہاں چیختا اور چلاتا ہے

106 سو جو لوگ بدبخت ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے انکی حالت یہ ہوگی کہ انکو وہاں چیخنا اور چلانا ہے۔
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

وہ اس دوزخ میں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے مگر ہاں جس کو آپ کا رب چاہے تو اور بات ہے بیشک آپ کا رب جو چاہتا ہے اسکو کر گزرتا ہے

107 وہ اس دوزخ میں جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے مگر ہاں جس کو آپ کا رب چاہے تو دوسری بات ہے بیشک آپ کا رب جو چاہتا ہے وہ کرسکتا ہے۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور رہے وہ لوگ جو نیک بخت ہیں سو وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے مگر ہاں جس کو آپ کا رب چاہے یہ خدا کا ایسا عطیہ ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا

108 اور رہے وہ لوگ جو نیک اور سعادت مند ہیں وہ جنت میں ہوں گے اور اس میں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں ہمیشہ ہمیں رہیں گے مگر ہاں جس کو آپ کا رب چاہے تو اور بات ہے یہ خدا کا ایسا عطیہ ہے جو کبھی سطح نہیں ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس میں دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ رہیں گے آگ میں جتنی دیر رہ چکے ہیں آسمان و زمین دنیا میں مگر جتنا اور چاہے تیرا رب وہ اسی کو معلوم ہے۔ دوسرے یہ کہ رہیں آگ میں جب تک رہے آسمان و زمین میں اس جہان کا یعنی ہمیشہ مگر جو چاہے رب تو موقوف کر دے لیکن چاہ چکا کہ موقوف نہ ہو اس کہنے میں فرق نکلا اللہ کے ہمیشہ رہنے اور بندے کے کہ بندہ گوہمیشہ رہے پر ساتھ یہ بات لگی ہے کہ اللہ چاہے تو دفنا کردے 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ اگر دنیا کے زمین و آسمان مراد ہے تو مطلب یہ ہے کہ اس مدت تک دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں رہیں گے اگر تیرا رب چاہے تو اس مدت کو اور بڑھا دے اور اگر آسمان وز مین آخرت کے مراد ہیں تو مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ رہیں گے مگر تیرا رب چاہے تو موقوف کردے اور عذاب کو ختم کردے لیکن چونکہ دوام کا وعدہ ہے اس لئے ایسا ہوگا نہیں نہ دوزخی دوزخ سے نکلیں گے نہ اہل جنت جنت سے۔ آیت میں مشیت کا اعلان ہے کہ تیرا رب جو چاہتا ہے کرسکتا ہے سب چیزیں تحت القدرت ہیں کسی معیاد کا گھٹانا یا بڑھانا سب قدرت میں ہے مگر ایسا ہوگا نہیں ہوگا وہی جو فرمادیا ہے البتہ فنا اور بقا قدرت کے ماتحت ضرور ہیں فافہم و تدبر
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

سوائے مخاطب جن بتوں کو یہ کافر پوجتے ہیں ان کے متعلق تو کسی شک و شبہ میں نہ پڑ یہ لوگ بھی اسی طرح ان کی پرستش کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ داد ا پرستش کیا کرتے تھے اور یقین جان کہ ہم ان کافروں کو ان کے عذاب کا حصہ بےکم وکاست پورا پورا دینے والے ہیں

109 سوائے مخاطب جن بتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں تو ان کے متعلق کسی شک و شبہ میں ذرا نہ پڑیہ لوگ بھی اسی طرح ان بتوں کی پرستش کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے بڑے اور باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے اور یقین جان کہ ہم ان کافروں کو ان کے عذاب کا حصہ بےکم وکاست پورا پورا دینے والے ہیں یعنی بت پرستی کے باطل ہونے میں شک و شبہ نہ کر جس طرح ان کے بڑے بلا دلیل شرک کے مرتکب ہوتے تھے اسی طرح بلا دلیل و حجت یہ اپنے بڑوں کی پیروی کر رہے ہیں۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے یقینا موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی پھر اس کتاب میں بھی اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر آپ کے رب کی بات پہلے سے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان کے مابین فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ کفار مکہ اس کی طرف بڑے تردد انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

110 اور ہم نے یقینا موسیٰ کو کتاب دی تھی سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی ایک بات پہلے سے مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو اب تک ان میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ کافر اس کی طرف سے بڑے تردد انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں یعنی جس طرح قرآن کریم کے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف ہورہا ہے اسی طرح جن کو توریت دی گئی تھی ان کی امت نے بھی اختلاف کیا تھا اور اگر آپ کے پروردگار کی ایک بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی کہ کامل اور فیصلہ کن عذاب آخرت ہی میں دیا جائے گا تو یہ جس بات میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ دنیا ہی میں کردیا جاتا اور یہ کفار مکہ اس عذاب کی جانب سے ایسے شک میں مبتلا ہیں کہ ان کو اطمینان ہی نہیں ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کتاب دی تھی راہ بتانے کو لوگ اس کے سمجھنے میں اختلاف کرنے لگے اور لفظ آگے ہوچکا کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ صاف نہ ہو 12
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بیشک وقت آنے پر ان سب کو آپ کا رب انکے اعمال کا پورا بدلہ دے گا بلاشبہ خدا ان سب کے اعمال سے باخبر ہے

1 1 1 اور بیشک وقت آنے پر ان سب کو آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلے دے گا بلاشبہ خدا تعالیٰ ان کے سب اعمال سے باخبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں یعنی جب سب اعمال کا علم ہے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے تو بدلہ بھی سب ہی کا ملنا ہے۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سوا اے پیغمبر جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ راہ راست پر قائم رہئے اور آپ کے وہ ساتھی بھی قائم رہیں جو کفر سے توبہ کرچکے ہیں اور مقررہ حد سے آگے نہ بڑھو یقینا تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو

112 سوائے پیغمبر ! جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ راہ راست پر جو دین کی راہ ہے قائم رہیے اور سیدھے چلے جائیے اور آپ کے وہ ہمراہی بھی جو کفرو شرک سے توبہ کرکے آپ کے ساتھی ہوئے ہیں وہ بھی قائم رہیں اور دین کی مقررہ حد سے آگے نہ بڑھو یقینا تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو وہ خدا کی نگاہ میں ہے اور وہ خوب دیکھ رہا ہے۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

وہ خدا کی نگاہ میں ہے تم ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ذرا بھی مائل نہ ہونا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو دوزخ کی آگ چمٹ جائے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہ ہو اور تم کو کہیں سے مدد بھی نہ پہونچائی جاسکے

113 تم ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ذرا بھی مائل نہ ہو اور ان کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا کہیں ایسا نہ ہو کہ دوزخ کی آگ چمٹ جائے اور تم کو آگ لگ جائے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہ ہو اور تم کو کہیں سے مدد بھی نہ پہونچائی جاسکے یعنی دین کے معاملہ میں ذرا نہ جھکو اور جو لوگ ظالم ہیں ان کی طرف ذرا سا میلان اور جھکائو نہ ہو اور رسوم کفریہ سے علی الامکان احتراز کیا جائے۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز کی پابندی کیجئے بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں یہ باتیں ایک مکمل نصیحت ہیں ان کیلئے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں

114 اور اے پیغمبر آپ دن کے دونوں سروں اور دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ ٹکڑوں اور حصوں میں نماز کی پابندی کیا کیجئے بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیا کرتی ہیں یہ باتیں ایک مکمل نصیحت ہیں ان لوگوں کے لئے جو نصیحت ماننے والے ہیں۔ دونوں کنارے صبح و شام یا دن کے دو حصے ایک صبح سے دوپہر تک اور ایک دوپہر سے شام تک رات کے حصوں سے مغرب اور عشاء اور بعض علماء کے نزدیک اس آیت سے مراد پانچوں نماز ہیں اور بعض نے کہا چار نمازیں مراد ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ رات کی نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح جونی کیا ں کرلے اس کی برائیاں معاف ہوں اور جو نیکیاں پکڑ سے اس سے خو برائیوں کی چھوٹے اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت بڑھے اور گمراہی مٹے لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہئے جتنا میل اتنا صابون 12 یہ نماز کا قائم رکھنا خدا کی یادگار ہی ہے یا یہ نیکیوں سے برائیوں کا دور ہونا ایک نصیحت ہے۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور اے پیغمبر برداشت کرتے رہیے بیشک اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا

115 اور اے پیغمبر ان منکرین کی طرف جو تکلیف دہ معاملات پیش آئیں ان پر صبر کیا کیجئے اور ان کو برداشت کرتے رہیے بیشک اللہ تعالیٰ ان کو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

سو جو قومیں تم سے پہلے ہلاک ہوچکی ہیں ان میں ایسے اہل خیر اور سمجھ دار لوگ کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے مگر ہاں چند اشخاص ایسے تھے جو فساد سے روکتے تھے ان کو ہم نے ان میں سے بچا لیا اور جو لوگ ظالم تھے وہ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جس عیش و آسودگی میں وہ تھے اور وہ جرائم کے عادی ہوچکے تھے

116 سو جو امتیں تم سے پہلے ہلاک ہوچکی ہیں ان میں ایسے اہل خیر اور سمجھ دار لوگ کیوں نہیں ہوئے جو لوگوں کو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے مگر بہت تھوڑے آدمی ایسے تھے جو فساد سے روکتے تھے ان کو ہم نے ان میں سے بچا لیا اور وہ اس عذاب سے جن میں مفسدین مبتلا ہوئے بچ گئے اور جو لوگ ظالم و نافرمان تھے وہ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جس عیش و آسودگی میں وہ تھے اور جس ناز نعمت میں وہ رہتے تھے اسی ناز ونعمت کے پیچھے پڑے رہے اور وہ جرائم کے عادی ہوچکے تھے۔ یعنی الم سابقہ کی ہلاکت کے جو قصے مذکور ہوئے ان کے ہلاک ہونے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان میں ایسے سمجھ دار لوگ نہ ہوئے جو لوگوں کو کفر وشرک سے باز رکھتے اور ان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے کچھ تھوڑے اور معدود سے چند لوگ تبلیغ کرتے رہے تو وہ عذاب سے بچا لئے گئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نیک لوگ غالب ہوتے تو وہ قوم ہلاک نہ ہوتی تھوڑے تھے سو آپ بچ گئے 12 خلاصہ ! یہ کہ نافرمانی اور کفروشرک عام رہا سمجھانے والا تبلیغ کرنے والا کوئی رہا نہیں جو دو چار تھے وہ بچا لئے گئے باقی سب ہلاک کردئیے گئے۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی یہ شان نہیں کہ وہ ان بستیوں کو جن کے رہنے والے لوگ نیک ہوں ناحق تباہ و برباد کردے

117 اور آپ کے پروردگار کی یہ شان نہیں کہ وہ ان بستیوں کو جن کے رہنے والے نیک ہوں اور اصلاح کرنے والے ہوں ناحق تباہ و برباد کردے یعنی خود بھی نیک ہوں اور دوسروں کی بھی اصلاح کرتے ہو بلاوجہ زبردستی ہلاک کردے یہ اسوقت ہوتا ہے جب لوگ نصیحت ترک کردیں اور اپنی اصلاح کے درپے نہ ہوں بروں کا زور ہوجائے تو ہلاک کردئیے جاتے ہیں۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی ملت کردیتا لیکن لوگ ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتے رہیں گے

118 اور اگر آپ کے پروردگار کو منظور ہوتا تو وہ سب لوگوں کو ایک ہی طریق اور ایک ہی راستے پر کردیتا چونکہ حضرت حق کو منظور نہ ہوا اس لئے لوگوں نے مختلف طریقہ کار اختیار کرلیا اور آئندہ بھی یہ ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتے رہیں گے۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر ہاں جن پر آپ کا رب رحم کرے اور خدا نے ان کو اسی لئے پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کی وہ بات پوری ہوگی کہ میں جنات اور انسان سب سے دوزخ کو پھیر دوں گا

119 مگر جس پر آپ کا پروردگار رحم فرمائے وہ صحیح دین سے اختلاف نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے ان اختلاف کرنے والوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کی وہ بات پوری ہوگی کہ میں جنات سے اور انسانوں سے دوزخ کو بھردوں گا یعنی ہوسکتا تھا کہ سب مسلمان ہوتے لیکن حضرت حق کی حکمت تکوینی اس کی متقضی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ راہ حق کے قبول کرنے اور نہ کرنے میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا جو فطرت سلیمہ کو صحیح طور پر استعمال کرے گا وہ راہ حق کو قبول کرے گا اور جو فطرت پر نہیں چلے گا وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح دنیا میں رحم کا مظہر بھی ہوگا اور غضب کا مظہر بھی ہوگا اور وہ فرمانا بھی پورا ہوجائے گا کہ میں جنات اور انسانوں سے دوزخ کو بھردوں گا۔
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور رسولوں کے واقعات میں سے یہ تمام واقعات جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان کی وجہ سے آپ کے قلب کو تقویت دیتے ہیں اور ان واقعات کے بیان کرنے میں آپ کے پاس ایسا مضمون پہونچتا ہے جو حق اور صحیح ہے اور اہل ایمان کیلئے نصیحت اور یاد دہانی ہے

120 اور رسولوں کے واقعات میں یہ تمام واقعات جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ان کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو تقویت اور تسلی دیتے ہیں اور ان واقعات کے بیان کرنے میں آپ کے پاس ایسا مضمون پہنچا ہے جو حق اور صحیح ہے اور مسلمانوں کے لئے نصیحت اور یاددہانی ہے۔ یعنی ان قصص میں آپ کے پاس ایسا مضمون بیان ہوا ہے جو حق ہے اور مسلمانوں کے لئے برے کاموں سے بچنے کو نصیحت اور بھلے کام کرنے کی یاددہانی ہے یا یہ کہ اس سورت میں جو انبیاء و سابقین کے واقعات مذکور ہیں وہ حق ہیں اور مسلمانوں کیلئے نصیحت و یاداشت ہیں اور حضور ﷺ کو جو تقویت ان قصص سے ہوئی ہے وہ ظاہر ہے۔