10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الٓرٰ قف یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت و دانش کی باتوں سے لبریز ہے۔

سورة یونس (علیہ السلام) مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں ایک سو نو آیتیں ہیں اور گیارہ رکوع ہیں۔ 1 الٓرٰ قف یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت و دانش کی باتوں سے لبریز اور پر ہے۔ یعنی قرآن مجید کی آیتیں ہیں۔ حکیم سے مراد ہے حکمت والی یا محکم یا و مضبوط یا حاکم یعنی حکم دینے والی کتاب یا محکوم یعنی جس میں احکام دیئے گئے ہیں۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں کے ایک مرد پر اس مضمون کا حکم بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیے اور جو لوگ ایمان لے آئیں ان کو یہ بشارت دے دیجئے کہ ان کے لئے ان کے رب کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے ایسے شخص کے متعلق کافروں نے یہ کہا کہ یہ تو کھلا جادوگر ہے۔

2 کیا ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں کے ایک آدمی پر یہ وحی بھیجی اور اس مضمون کا حکم بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو ڈرا دیجئے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو ڈرائیے اور جو جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان کو یہ بشارت اور خوشخبری دے دیجئے کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس بہت بلند مرتبہ ہے ایک آدمی پر وحی بھیجنا جو انہی جیسا بشر ہے کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی مگر ان کو اس پر بڑا تعجب ہوا اور کافہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔ یعنی اول تو بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے اور علیٰ سبیل التنزل مانتے بھی تھے تو کہتے محمد ﷺ بن عبداللہ پر یہ قرآن کریم کیوں نازل ہوا۔ طائف یا مکہ کے کسی سردار پر کیوں نہ اترا۔ لولا نزل ھذا القران علیٰ رجل الخ قدم صدق کی تفسیر میں بہت سے قول ہیں۔ اعمالِ صالحہ کا ذخیرہ۔ اجرحسن۔ وہ اعمال جو آگے بھیجے ہیں پائیگاہ رفیع۔ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس۔ نبی کریم ﷺ کی شفاعت وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ ایک آدمی کا نبی ہونا اور وہ بھی محمد ﷺ بن عبداللہ کا مہبط وحی ہونا کافران مکہ کے نزدیک … قابلِ اعتراض تھا اس لئے آپ کو کھلا جادوگر بتایا۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا رب تو اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر اپنی شان کے موافق قائم اور جلوہ گر ہوا۔ وہی جملہ امور کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی شخص سفارش کرنے والا نہیں۔ مگر اس کی اجازت کے بعد یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ سو تم اسی کی عبادت کرو کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے۔

3 بلاشبہ تمہارا رب تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو تدریجاً چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر اپنی شان کے لائق قائم اور جلوہ گر ہوا وہی ہر کام کی مناسب تدبیر کرتا ہے کوئی شخص اس سے سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو یا تم اس بات پر غور اور سچ بچار نہیں کرتے۔ یعنی چھ روز کی جس عرصہ میں مقدار پوری ہو اتنے عرصے میں تدریجاً پیدا کیا ہوسکتا ہے کہ ہزار برس کا ایک دن ہو اور ہوسکتا ہے یہی معمولی دن ہوں۔ اس کے روبرو کسی کو بدون اس کی اجازت کے شفاعت کا بھی حق نہیں۔ چہ جائے کہ تم عبادت میں شریک کرلو۔ یہ دلائل توحید و رسالت سننے کے بعد بھی تم نہ سمجھتے ہو نہ سوچتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جتنی دیر لگے چھ دن کو اتنے وقت میں بنائے آسمان اور زمین اور اس ملک کا دربار بنوایا عرش پر۔ سب کام کی تدبیر وہاں سے ہو۔ 12
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب کو اسی خدا کی طرف واپس جانا ہے یہ وعدہ کیا ہے اللہ نے وعدہ سچا۔ بیشک وہی پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے اور وہی اس کو دوبارہ بھی پیدا کردے گا تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ان کا صلہ انصاف کے ساتھ عطا فرمائے اور جو لوگ دین حق سے منکر ہوئے ان کو پینے کے لئے سخت کھولتا ہواپانی ملے گا اور ان کو دردناک عذاب ہوگا اس کفر کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

4 تم سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف واپس جانا ہے اور تم سب کی جائے رجوع اسی کے پاس ہے یہ وعدہ کیا ہے اللہ نے وعدہ سچا۔ بلاشبہ وہی مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور وہی اس کو دوبارہ بھی قیامت میں پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ پورا صلہ عطا فرمائے اور جو لوگ کفر کرتے رہے ان کو سخت کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور ان کو سخت دردناک عذاب ہوگا۔ اس کفر و انکار کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی واپس ہونا خدا کی طرف ضروری ہے۔ اول تو وہی پہلی بار اور دوسری بار پیدا کرنے والا ہے پھر اس کا وعدہ حق ہے نیز یہ کہ نیکودں کو ان کے اعمال کا صلہ اور منکروں کو ان کے انکار کی سزا ملنی ہے اور اس کے لئے حقیقی طور پر قیادت کا دن مقرر ہے۔ لتجزیٰ کل نفس بما تسعیٰ ط
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور چاند کو روشن بنایا اور چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کا شمار اور اوقات کا حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ چیزیں نہیں پیدا کیں مگر کمال حکمت کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنے دلائل ان لوگوں کے لئے مفصل بیان کرتا ہے جو لوگ اہل علم و دانش ہیں۔

5 وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور چاند کو روشن اور نورانی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ ان اجرام علویہ کے ذریعے برسوں کی گنتی اور اوقات کے حساب معلوم کرسکو اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں کمال حکمت اور اپنی قدرت کے اظہار کے لئے پیدا کی ہیں عبث اور بیکار نہیں پیدا کیں اللہ تعالیٰ اپنی توحید کے دلائل ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے جو لوگ صحیح سمجھ رکھتے ہیں۔ چاند کے لئے منزلیں مقرر ہیں ہر روز ایک منزل طے کرتا ہے چاند اور سورج کی اس گردش سے جہاں اور بیشمار فوائد ہیں منجملہ ان کے برسوں کا شمار اور حساب کے اوقات وغیرہ معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت کے ساتھ اس نظام کو قائم کیا ہے۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم۔ بہرحال ! یو توحید الٰہی کے دلائل جو مفصل بیان کئے جاتے ہیں یہ ان ہی کے لئے مفید ہوسکتے ہیں جو عقل و دانش سے کام لیتے ہیں۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بلاشبہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو ڈرتے ہیں۔

6 بلاشبہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کی ہیں۔ ان لوگوں کے بڑے دلائل ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اس کا ڈر مانتے ہیں۔ یہ رات دن کا اختلاف اور یکے بعد دیگرے آنا اور آسمان و زمین کی تمام مخلوق میں توحید الٰہی کے ہزاروں دلائل مضمر ہیں لیکن ان دلائل سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اس کی جستجو رکھتے ہیں۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہمارے روبرو پیش ہونے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں اور اسی زندگی پر مطمئن ہیں اور جو لوگ ہمارے دلائل سے غفلت برتتے ہیں

7 جن لوگوں کو ہمارے رو برو پیش ہونے کا ڈر نہیں ہے اور وہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی زندگی پر مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہمارے دلائل اور ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں یعنی آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں صرف دنیا اور یہاں کی زندگی کو ہی جانتے ہیں۔
Ayah 10:8

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہوگا اس کمائی کے بدلے میں جو وہ کمایا کرتے تھے۔

8 ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے یہ آگ اس کمائی کی جزا ہے جو وہ کمائی کیا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے پر اعتقاد نہ ہوگا اور حضرت حق کی ملاقات کا خطرہ نہ ہوگا اور اس کی سرکار میں جواب دہی کا خوف نہ ہوگا تو ظاہر ہے کہ جو کمائی اور جو عمل کریں گے وہ عمل اور کسب شریعت کے موافقن نہ ہوگا کیونکہ اعتقاد کا فساد اعمال کی خرابی اور فساد کو مستلزم ہے۔ اس لئے فرمایا اولٰئک ماوٰھم النار بما کانوا یکسبون۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے تو ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کے مقصد تک پہنچا دے گا ان کی شان یہ ہوگی کہ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔

9 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک عمل بھی کرتے رہے ان کا پروردگار ان کو ان کے مومن ہونے کی وجہ سے ان کے مقصد تک پہنچا دے گا ان کے مکانات کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے یعنی ایمان کی برکت اور مومن ہونے کی وجہ سے مقصد میں کامیابی ہوگی یعنی جنت مل جائے گی جو بہت بڑا مقصد ہے۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان باغوں میں داخل ہوتے ہی وہ بےساختہ پکار اٹھیں گے اے اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے اور ان کی باہمی ملاقات کا سلام ان باغوں میں السلام علیکم ہوگا اور اس وقت ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو جملہ مخلوقات کا رب ہے

10 ان باغوں میں داخل ہوتے ہی اور جنت کی نعمتوں کا معائنہ کرتے ہی بےساختہ پکار اٹھیں گے اے اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے اور ان کی باہمی ملاقات کا سلام ان باغوں میں السلام علیکم ہوگا اور ان باتوں میں ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو جملہ مخلوقات کا پروردگار ہے۔ یعنی جنت کو اور اس کی نعمتوں کو دیکھتے ہی کہیں گے ” سبحان اللہ “ آپس میں ملاقات کرتے ہی سلامتی کی دعادیں گے جیسے دنیا میں السلام علیکم کہا کرتے تھے اور جب اطمینان سے بیٹھ کر دنیاوی مصائب اور زندگی کی تکالیف کو یاد کریں گے تو دائمی عیش اور نعمتوں پر پڑھیں گے۔ الحمد للہ رب العالمین ط حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول عجائب نعمتیں دیکھ کر کہیں گے سبحان اللہ پھر اس کی لذتیں پاکر کہیں گے الحمد للہ ! اور جنت میں ملاقات کا طور یہی ہے۔ السلام علیکم جو دنیا میں مسلمان کرتے ہیں۔ 12 خلاصہ یہ کہ تسبیح وتحمید کے بارے میں الحمد للہ رب العالمین آخری بات ہوگی یہ مطلب نہیں کہ الحمد کے بعد کوئی بات ہی نہیں کریں گے۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور جس طرح لوگ بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اسی طرح اگر لوگوں پر اللہ برائی بھیجنے میں جلدی کیا کرتا تو ان کا مقررہ وقت کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا سو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا ڈر نہیں ہے ان کے حال پر چوڑے رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران سرگرداں رہیں۔

1 1 اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر برائی بھیجنے میں اسی طرح جلدی کیا کرتا جس طرح وہ لوگ بھلائی مانگنے میں جلدی کیا کرتے ہیں تو ان کا مقررہ وقت کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ سو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے روبرو پیش ہونے کا کوئی کھٹکا اور خوف نہیں ہے ان کی حالت پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں رہیں اور بھٹکتے پھریں یعنی انسان کا قاعدہ ہے کہ جو دعا مانگتا ہے خواہ وہ خیر کی ہو یا شر کی۔ چاہتا ہے کہ وہ جلدی پوری ہوجائے اللہ تعالیٰ خیر کی دعا کو اگر مصلحت ہوتی ہے جلد واقع کردیتا ہے لیکن شر کی دعا کا اثر جلدی ظاہر نہیں کرتا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ شر کی دعائوں کو بھی خیر کی دعائوں کی طرح جلدی پورا کرنے لگے تو لوگوں کا قضیہ ہی چک جائے اور سب ہلاک ہوجائیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آدمی چاہتے ہیں کہ نیکی کا بدلہ شتاب ملے یا نیک دعا شتاب برآوے سو اگر حق تعالیٰ شتابی کرے تو اپنی بدی کے وبال سے فرصت نہ پاویں گے مگر دونوں میں تحمل ہے تانیک لوگ تربیت پاویں اور بدلوگ غفلت میں پڑے رہیں۔ 12 ۔ خلاصہ یہ کہ کبھی دونوں میں تاخیر ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کے تمام امور غایت حکمت پر مبنی ہوتے ہیں خوہ وہ تاخیر ہو یا تعجیل۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہر حال میں ہم کو پکارا کرتا ہے۔ پھر جب ہم اس انسان سے اس کی تکلیف کو زائل کردیتے ہیں تو وہ ایسا گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر کبھی ہم کو پکارا ہی نہیں تھا اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کی نظر میں ان کے وہ اعمال جو وہ کررہے ہیں خوشنما کردیئے جاتے ہیں۔

12 اور جب انسان کو کوئی تکلیف اور ضرر پہنچ جاتا ہے تو وہ لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی غرض ! ہر حال میں ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم انسان سے اس کی تکلیف اور ضرر کو دور اور زائل کردیتے ہیں تو پھر اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے اور ایسا چلا جاتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہم کو پکارا ہی نہیں تھا اسی طرح حد سے بڑھ جانے والے لوگوں کی نظر میں ان کے وہ اعمال جو وہ کررہے ہیں خوشنما اور مستحسن کردیئے جاتے ہیں۔ یعنی انسانوں میں سے وہ انسان جو کفر و انکار کی روش اختیار کرچکے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ مصیبت کے وقت اپن معبودان باطلہ کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہر حال میں پکارتے ہیں پھر جب وہ بلا اللہ تعالیٰ ٹلا دیتا ہے اور اس بلا کو دور کردیتا ہے تو پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتے ہیں اور شرک کرنے لگتے ہیں اور ایسے ہوجاتے ہیں کہ گویا خدا کو کبھی اپنی مصیبت کو ہٹانے کے لئے پکارا ہی نہ تھا یعنی خدا سے بالکل بےتعلق ہوجاتے ہیں اور اس قسم کی حرکاتِ قبیحہ کو اچھا سمجھتے ہیں یعنی ایسی حالت پر پہنچ چکے ہیں کہ برائی کو بھلائی جانتے ہیں۔.
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم تم سے پہلے بہت سی قوموں کو جب انہوں نے ظالمانہ رویہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں حالانکہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے جو مان کردیتے ہم گنہگاروں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

13 اور یقیناً ہم تم سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو جب انہوں نے ظالمانہ اور مشرکانہ رویہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل بھی لے کر آئے لیکن وہ لوگ ایسے نہ تھے جو مان کردیتے۔ ہم مجرموں اور گناہ گاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ یعنی اپنے ظالمانہ رویہ پر ایسے مغرور تھے کہ رسولوں کی باتوں پر ایمان ہی نہیں لائے اور دلائل کی پروا نہ کی بالآخر ان کو ہلاک کرڈالا۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ان قوموں کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو

14 پھر ان قوموں کے بعد ہم نے تم کو ان کا جانشین اور نائب بنایا تاکہ ظاہری طور پر ہم دیکھ لیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو ہماری واضح آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جن کو ہماری پیشی میں حاضر ہونے کا خوف نہیں ہے اے پیغمبر آپ سے یوں کہتے ہیں کہ یا تو اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لے آیا اس میں ہی ترمیم کردے آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی جانب سے اس قرآن میں کوئی ردوبدل کرسکوں میں تو صرف اسی حکم کا اتباع کرتا ہوں جو میری جانب وحی کیا جاتا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

15 اور جب ان لوگوں پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں اور ہمارے دلائل ان کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں توہ وہ لوگ جن کو ہمارے روبرو حاضر ہونے کا کوئی کھٹکا اور ڈر نہیں ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ سے یوں کہتے ہیں یا تو اس پورے قرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن کریم ہی لے آیا اس میں کچھ ترمیم ہی کردے اور اس کو کچھ بدل ہی دے۔ آپ ﷺ ! کہہ دیجئے مجھ کو یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی جانب سے اس قرآن کریم میں کوئی ردوبدل کرسکوں میں تو صرف اسی حکم کی پیروی اور اتباع کرتا ہوں جو میری جانب وحی کیا جاتا ہے اگر خدانخواستہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یعنی مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے معبودوں کی برائی اس میں سے نکال دو یا ایسا قرآن کریم لے آئو جس میں شرک کی مذمت اور برائی نہ ہو اس کا جواب دیا گیا کہ یہ کلام معجز نظام اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میری کیا مجال ہے کہ میں اس میں کچھ ردوبدل کرسکوں یا اس کو چھوڑ کر کوئی اور قرآن کریم لے آئوں۔ میں وحی الٰہی کا پابند ہوں تم قیامت کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ مگر میں خدانخواستہ نافرمانی کی جرأت کیسے کرسکتا ہوں میں تو قیامت پر ایمان رکھتا ہوں اور اس دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس قرآن کریم کا پندو نصیحت تو پسند کرتے اور بتوں کا باطل کرنا نہ مانتے تو کہتے اتنا بدل ڈال تو یہ کلام ہم سب قبول کریں۔ 12
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم کو نہ تو یہ قرآن پڑھ کر سناتا اور نہ خدا تم کو اس قرآن کی خبر دیتا آخر اس قرآن سے پہلے بھی تو میں تم میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکا ہوں تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔

16 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو میں یہ قرآن کریم نہ تو تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ خدا تم کو اس کی خبر دیتا آخر اس قرآن کریم سے پہلے بھی تو میں تم میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکا ہوں اور عمر کے بڑے حصے تک تم میں رہ چکا ہوں تو کیا تم کو اتنی بھی عقل نہیں۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ میں تم کو یہ قرآن کریم نہ سنائوں اور میرے ذریعہ سے تم کو اس کی اطلاع نہ دے تو وہ یہ قرآن کریم مجھ پر نازل نہیں کرتا یہ دلیل ہے اس کی کہ یہ کلام معجز میرا بنایا ہوا نہیں ہے آخر اس سے پہلے بھی تو میں تم میں رہتا تھا پھر تم نے آج تک میرے منہ سے ایسا کلام سنا یا میرے منہ سے کوئی ایسی بات سنی اتنا تو سمجھ سے کام لو کہ اگر میری یہ عادت ہوتی یا میرے دل میں کوئی ایسی بات ہوتی تو اس کا اظہار کبھی تو ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی میں اپنی طرف سے بناتا تو چالیس 40 برس کی عمر میں بناتا یا اسی قسم کا خیال رکھتا۔ 12
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

سو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کی تکذیب کرے۔ بلاشبہ ایسے مجرموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی۔

17 لہٰذا اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر جھوٹ باندھے اور کسی کلام کا منزل من اللہ ہونا افتراء کے طور پر بیان کرے یا اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان کی تکذیب کرے یقینا ایسے مجرموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی اور ایسے گناہ گار فلاح کو نہیں پہنچتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر میں بناتا ہوں تو مجھ سا ظالم نہیں اور اگر میں سچا ہوں تو جھٹلانے والوں پر بھی یہی بات ہے۔ 13
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ مشرک خدا کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ان کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ معبود اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز سے آگاہ کرنا چاہتے ہو جس کے موجود ہونے کا علم خدا کو نہ آسمانوں میں ہے اور نہ زمین میں ہے خدا ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بالا تر ہے

18 اور یہ مشرک اللہ کی عبادت اور توحید کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو کوئی نقصان پہونچا سکتی ہیں نہ ان کا کچھ بھلا کرسکتی ہیں اور یہ مشرک یوں کہتے ہیں کہ یہ معبود اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز سے آگاہ کرنا چاہتے ہو جس کے موجود ہونیکا علم نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں۔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بالاتر ہے۔ یعنی ان کی عبادت نہ کرو تو کچھ تمہارا بگاڑ نہ کرسکیں اور ان کی عبادت کرو تو کچھ فائدہ نہ پہونچا سکیں اور یہ سفارشی والی بات ایسی ہے کہ اول تو سفارشی کی عبادت لازم نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقرر نہیں کیا بلکہ اس کے امکان اور و قوع کا اللہ تعالیٰ کو علم نہیں تم اس کو بتانا چاہتے ہو تو ایسے شرک سے اللہ تعالیٰ پاک ہے جس کا یہ مشرک ارتکاب کرر ہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو مشرک ہے سو یہی کہتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور یہ شریک اسکی طرف سے ہم پر مختار ہیں سو فرمایا اگر اس نے مختار کئے ہوتے تو آپ ان سے کیوں منع کرتا اور جو کہیں ہمارے دین میں منع نہیں کیا تم کو منع کیا ہوگا تو اگلی آیت میں اس کا جواب ہے کہ دین اللہ کا ایک ہے جب لوگ بچل گئے پھر ان کو بتادیا ہے اعتقاد میں کچھ فرق نہیں اور جو کہیں اگر تم سچے ہو تو ہم پر دنیا میں عذاب آتا اور اس کا جواب بھی آگے ہے کہ فیصلے کا دن آتا ہے۔ 12
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور تمام انسان پہلے ایک ہی طریقہ پر تھے پھر وہ جدا جدا ہوگئے اور اگر آپ کے رب کی ایک طے شدہ بات پہلے سے نہ ہوتی تو یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کررہے ہیں ان کے مابین کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔

19 اور تمام انسان پہلے ایک ہی طریقہ پر تھے پھر وہ اپنی غلط رائے کی وجہ سے جدا جدا ہوگئے اور انہوں نے اختلاف پیدا کرلیا اور اگر آپ کے رب کی پہلے سے ایک طے شدہ بات نہ ہوتی تو یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کر رہے ہیں ان کے درمیان کبھی کاف یصلہ ہوچکا ہوتا۔ یعنی یہ کہ آخری فیصلہ اور آخری عذاب قیامت میں ہوگا یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جا چکی ہے اگر یہ فیصلہ نہ ہوتا تو دنیاہی میں آخری عذاب بھیج کر فیصلہ کردیاجاتا۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور یہ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا تو آپ فرما دیجئے کہ غیب کی خبر تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے سو تم بھی انتظار کرو می بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔

20 اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر ہماری حسب منشاء اور ہمارا منہ مانگا کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا تو آپ فرما دیجئے کہ غیب کی خبر تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے لہٰذا تم بھی منتظر ہو اور بعد میں تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں ۔ یوں تو بیشمار معجزات پیغمبر سے ظہور میں آئے لیکن فرمائشی معجزہ نہیں دکھایا گیا اگر فرمائشی معجزے کے بعد بھی کوئی قوم ایمان نہ لائے تو اس کا بالکل استیصال کردیاجاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر کہیں کہ ہم کیوں کر جانیں کہ تمہاری بات سچ ہے فرمایا کہ آگے دیکھو حق تعالیٰ اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل ہوں گے برباد ہوجائیں گے سو ایسا ہی ہوا سچ کی نشانی ایک بات بات کافی ہے اور ہر بار مخالف ذلیل ہوں فیصلہ ہوجائے فیصلہ کا دن دنیا میں نہیں 12
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو کوئی دکھ پہنچنے کے بعد اپنی مہربانی اور سکھ کا مزہ چکھاتے ہیں تو اسی وقت وہ ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اللہ اس شرارت کی سزا دینے میں بہت جلدی کرنے والا ہے بلاشبہ ہمارے فرشتے تمہاری سب مکاریاں لکھتے رہتے ہیں۔

21 اور جب ہم لوگوں پر کسی مصیبت اور تکلیف پہونچنے کے بعدان لوگوں کو اپنی کسی نعمت اور مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو اسی وقت وہ ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت اور حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ اس شرارت اور مکروفریب کی سزا دینے میں بہت جلدی کرنے والا ہے بلاشبہ ہمارے فرشتے تمہاری سب شرارتیں اور مکاریاں لکھتے رہتے ہیں یعنی جب کوئی تکلیف انسان کو پہونچتی ہے اور اس کے بعداللہ تعالیٰ دکھ دور کرکے کسی نعمت سے سرفراز کردیتا ہے تو انسان پھر وہی کرنے لگتا ہے جو پہلے کرتا تھا ان ہی شرارتوں میں اور آیات قدرت کے انکار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر اللہ پر رہتی ہے جب کام بن گیا تو لگا اسباب پر رکھنے۔ سو ڈرتا نہیں کہ اللہ پھر ایک سبب کھڑا کردے اسی تکلیف کا اسی کے ہاتھ میں سب اسباب تیار ہیں ایک اسی کی صورت آگے فرمائی۔ خلاصہ یہ کہ دکھ درد دور ہوجائے اور سکھ آجانے سے یہ نہ سمجھو کہ دکھ اور تکلیف دوبارہ نہیں آسکتی۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہ خدا ہے جو تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کبھی کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ لیکر چلتی ہیں اور وہ لوگ اس ہوا سے بہت خوش ہوتے ہیں اسی حال میں یکایک ان کشتیوں پر مخالف ہوا کا ایک تیز جھونکا آجاتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر چکے ہیں تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت اختیار کرکے خدا کو پکارتے ہیں کہ اے خدا اس آفت سے بچالے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار رہیں گے پھر جب خدا ان کو اس طوفان سے نجات دے دیتا ہے تو وہ زمین میں بیجا سرکشی کرنے لگتے ہیں

22 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو تمک و خشکی اور دریا میں چلاتا ہے اور لئے لئے پھرتا ہے یہاں تک کہ جب کبھی تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ لیکر چلتی ہیں اور وہ لوگ اس ہوا سے اور کشتیوں کے چلنے سے بہت خوش ہوتے ہیں کہ یک بیک ان کشتیوں پر مخالف ہوا کا ایک تیز جھکڑ آجاتا ہے اور ہر طرف سے ان لوگوں پر موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر چکے ہیں تو اس وقت خاصل اعتقاد اور عبادت اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اے خدا اگر تو ہم کو اس آفت سے بچا لے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار ہوں گے ۔ یعنی مصیبت کے وقت معبودان باطلہ کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہو کر اسکو پکارنے لگتے ہیں اور یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اسی اعتقاد خالص پر قائم رہیں گے جو اس وقت ہے اور آئندہ کبھی شرک نہیں کریں گے۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال صرف تم ہی پر پڑنے والا ہے تم دنیاوی زندگی کے سازو سامان سے فائدہ اٹھالو پھر تم کو ہماری ہی طرف واپس آنا ہے پھر ہم تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردیں گے جو تم کیا کرتے تھے

23 پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اس طوفان اور آفت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ خشکی پر پہونچتے ہی روئے زمین پر بےجا سرکشی اور شرارت کرنے لگتے ہیں۔ اے بنی نوع انسان ! یاد رکھو کہ یہ تمہاری سرکشی شرارت اور بغاوت تمہارے ہی لئے وبال جان ہوگی اور تمہاری سرکشی کا وبال بس تم پر ہی پڑنے والا ہے تم دنیوی زندگی کے سازو سامان سے فائدہ اٹھالو پھر تم کو ہماری ہی طرف واپس آنا ہے پھر ہم تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردیں گے جو تم کیا کرتے تھے ۔ یعنی خشکی پر پہونچنے کے بعد پھر زمین پر اسی کفرو شرک کی حرکات کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں جو پہلے سے کرتے رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ان حرکات کا اثر تم ہی پر پڑنے والا ہے دنیوی زندگی سے چندے فائدہ اٹھاتے رہو پھر تم کو ہماری ہی پاس لوٹ کر آنا ہے ہم تم کو تمہارے اعمال بتادیں گے اور جتا دیں گے اور تمہارے اعمال کے موافق تم کو سزا دی جائے گی۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی حالت تو بس ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اس پانی سے زمین کی نباتات جس کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں خوب گنجان ہوکر بڑھی یہاں تک کہ جب زمین نے خوب اپنی رونق حاصل کرلی اور وہ خوب آراستہ ہوگئی اور زمین کے مالکوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس کھیتی پر پوری دسترس رکھتے ہیں تو اسی حال میں رات کو یا دن کو اسی کھیتی پر ناگہاں ہمارا فرمانِ عذاب پہونچ گیا پھر ہم نے اس پیداوار کو کاٹ کر ایسا کردیا گویا کل وہاں کچھ آگاہی نہ تھا ہم اسی طرح اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو غور و فکر کیا کرتے ہیں۔

24 دنیوی زندگی کی حالت تو بس ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے زمین کی نبانات جس کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں خوب گنجان ہوکر بڑھی یہاں تک کہ جب زمین نے اس سبزی اور نبانات سے خوب اپنی رونق حاصل کرلی اور اپنی رونق کا پورا حصہ لے لیا اور خوب سنگار پر آئی اور آراستہ ہوگئی اور اس زمین کے مالکوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس کھیتی پر پوری طرح دسترس رکھتے ہیں اور ہم اس پر بالکل قابض ہوگئے تو اسی حال میں رات کو یاد دن کو اس کھیتی کو ناگہاں ہمارا فرمان عذاب پہونچ گیا پھر ہم نے اس کو کاٹ کر ایسا کردیا گویا کل وہاں ان کے لئے کچھ موجود ہی نہ تھا اور کچھ آگاہی نہ تھا ہم اسی طرح اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کیا کرتے ہیں جو لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ پانی کے اثر سے خوب گنجان ہوکر یا پانی کے بل جانے سے خوب بڑھی یا انسانوں اور چوپایوں کی خوراک سے رلی ملی کھیتی باڑی گیہوں انسانوں کے لئے بھوسہ چوپایوں کے لئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی روح آسمان سے بدن میں آئی۔ بدن میں مل کر قوت پکڑی پھر کام کئے انسانی اور حیوانی۔ جب ہر ہنر میں پورا ہوا اور اس کے متعلقوں کو اس پر بھروسہ ہوا ناگہاں موت آپہنچی۔ فائدہ ! ہمارا حکم پہونچا یعنی پک کر زرد ہوئی پھر کٹی یا کوئی فوج آپڑی یا کچی کاٹ لی یعنی موت ناگہاں آتی 12 خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح سرسبز اور لہلاتی کھیتی آفت ارضی یا سماوی سے تباہ ہوجاتی ہے اسی طرح بہار پر آتی ہوئی زندگی کو موت ہمیشہ کے لئے ختم کردیتی ہے دہلی میں کہا کرتے ہیں فلاں شخص کی زندگی اب تو بہار پر آئی تھی اسی وقت موت نے آکر ساری بہارو خاک میں ملادی۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ دارالسلام یعنی جنت کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے

25 اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو دارالسلام اور سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ یعنی دارالسلام فرمایا جنت کو اس میں ہمیشہ کے لئے ہر آفت سے سلامتی میسر ہوگی اور یہ جو فرمایا رہنمائی کرتا ہے سیدھی راہ کی یعنی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عنایت فرماتا ہے۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے بھلے کام کیے ان کے لئے بھلی چیز ہے اور اس سے اور زیادہ بھی اور ان کے چہروں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے

26 جن لوگوں نے اچھے اور بھلے کام کئے ان کے لئے خوبی اور بھلی چیز ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے اور ان کے چہروں پر نہ تو غم اور پریشانی کی سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت یہی لوگ جنتی اور اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ بھلے کام کرنے والوں کے لئے بھلی چیز سے مراد جنت ہے یعنی جنہوں نے عبادت اچھے طور پر ادا کی ان کو اچھا بدلہ ملے گا اور فرمایا اس سے زیادہ بھی اس کے بہت سے معنی ہیں اور قول راحج یہ ہے کہ اس سے مراد دیدارِ الٰہی ہے سیاہی سے مراد وہ پھٹکار اور ذلت و رسوائی جو اہل دوزخ کے چہروں سے نمایاں ہوگی اس سے ان کے چہرے محفوظ ہوں گے بلکہ ان کے چہروں سے مسرت اور خوشی ٹپک رہی ہوگی۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اسی برائی کی مثل ہوگا اور ان پر ذلت و پھٹکار برستی ہوگی ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ان کے منہ ایسے سیاہ ہوں گے گویا اندھیری رات کے ٹکڑے ان کے چہرے پر ڈھانک دئیے گئے ہیں یہی لوگ جہنمی ہیں وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

27 اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اور برے کام کئے تو برائی کا بدلہ اسی برائی کی مثل ہوگا اور ان پر ذلت و پھٹکار برستی ہوگی اور ذلت و نکبت چھائی ہوگی ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ان کے منہ ایسے سیاہ ہوں گے گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے ڈھانک دئیے گئے ہیں اور تاریک رات کے ٹکڑوں کو ان کے چہروں پر چپکا دیا گیا ہے یہی لوگ اہل جہنم ہیں وہ اس جہنم میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ یعنی اہل کفر و شرک کے ساتھ یہ سلوک ہوگا ۔ بدی کی سزا میں کوئی زیادتی نہ ہوگی جیسی بدی ویسی سزا ، چہروں کی سیاہی کو تشبیہ اندھیری رات کے ٹکڑوں سے کیا خوب تشبیہہ ہے گویا اندھیری رات کے ٹکڑے کاٹ کر چہرے پر چپکا دئیے گئے ہیں۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن ہم ان سب کو جمع کردیں گے پھر ہم ان سے جو شرک کے مرتکب ہوئے تھے یہ فرمائیں گے کہ تم تمہارے وہ خود ساختہ شریک اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو پھر ہم ان میں اور ان کے تجویز کردہ شرکاء میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے وہ خود ساختہ شریک ان سے کہیں گے تم تو ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

28 اور وہ دن قابل ذکر ہے کہ جس دن ہم ان کو جمع کریں گے پھر ہم ان سے کہیں گے کہ جنہوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے اور جو مشرک ہیں کہ تم اور تمہارے وہ خود ساختہ شریک اپنی انی جگہ کھڑے رہو پھر ہم ان مشرکوں میں اور ان کے تجویزکردہ شرکاء اور معبودان باطلہ میں تفرقہ اور پھوٹ ڈال دیں گے اور وہ خود ساختہ شریک ان مشرکوں سے کہیں گے تم تو ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے اور تم تو ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

اب ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی شاہد ہے کہ ہم واقعی تمہاری پوجا سے بالکل بیخبر تھے۔

29 اب ہمارے تمہارے درمیان بس خدا ہی شاہد ہے کہ ہم واقعی تمہاری پرستش اور تمہاری پوجا سے بالکل باخبر تھے۔ اس تفریق اور تزئیل کا یہ اثر ہوگا کہ آپس میں جھگڑا شروع ہوجائے گا اور یہ واقعہ بھی ہے کہ مشرکین کو شیاطین بہکاتے ہیں اور وہ مشرک ان کے کہنے پر عمل کرتے ہیں تو درحقیقت شیاطین کی پوجا کیا کرتے ہیں ورنہ جن کا نام لیتے ہیں ان کو کیا خبر ؟ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنتے مشرک ہیں اپنے خیال کو پوجتے ہیں یا شیطان کو اور نام لیتے ہیں نیکوں کا ۔ اس کام سے بیزار ہیں آخرت میں معلو ہوگا 12
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس جگہ ہر شخص اپنے اعمال کو جو وہ کرچکا ہے جانچ لے گا اور یہ سب لوگ اللہ کی طرف جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جائیں گے اور جو افترا پروازیاں یہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گے

30 اس جگہ اور اس وقت ہر شخص اپنے ان اعمال کو اور ان کاموں کو جانچ لے گا اور امتحان کرلے گا جو اس نے کئے ہوں گے اور تمام گزشتہ اعمال سامنے آجائیں گے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جائیں گے اور جو افترا پردازیاں یہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گے اور غائب ہوجائیں گی۔ یعنی اس موقعہ پر ہر شے کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی سب اعمال اچھے ہوں یا بُرے سامنے آجائیں گے اور جن کو سہارا سمجھتے تھے اور شفیع کہتے تھے وہی مخالف میں بولیں گے اور سوائے اس مالک حقیقی کے کوئی دوسرا ٹھکانہ نہ ہوگا پھر ایسے وقت میں وہ دنیا کی افترا پردازیاں اور شرارتیں کہاں سے آئیں گی۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

آپ ان سے دریافت کیجئے کہ تم کو آسمان اور زمین سے کون رزق دیتا ہے یا وہ کون ہے جو تمہارے کان اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو جاندار کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے سو وہ بلا تامل جواب دیں گے کہ وہ اللہ ہے تو آپ ان سے فرمائیے کہ تم پھر اس سے کیوں نہیں ڈرتے۔

31 اے پیغمبر ! آپ ان سے دریافت کیجئے کہ تم کو آسمان سے اور زمین سے کون رزق دیتا ہے یا وہ کون ہے جو تمہارے کان اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے اور وہ کون ہے جو جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور بےجان کو جاندار سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے سو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہے تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ تم پھر اس کے ساتھ شرک کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے ۔ آسمان سے پانی برساتا ہے اس کی وجہ سے زمین اگاتی ہے کان اور آنکھیں جس کی چاہتا ہے لے لیتا ہے کوئی بہرا ہے کوئی اندھا جاندار کو مردے سے جیسے انڈا جاندار سے نکالتا ہے اور باوجود مردہ ہونے کے پھر اس سے جاندار نکالتا ہے۔ دنیا کے تمام امور کی تدبیر اسی کے ہاتھ ہے چونکہ کفار کو بھی اس کا اقرار تھا اس لئے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیں گے آپ ان سے کہہ سکتے ہیں کہ جب سب کچھ وہی کرتا ہے تو تم اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرنے سے ڈرتے کیوں نہیں ؟
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

پس یہی اللہ تو تمہارا حقیقی رب ہے سو امر حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا رہ جاتا ہے پھر تم صحیح راہ سے کہاں پھرے جارہے ہو ۔

32 پس یہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا حقیقی اور سچا رب ہے پھر امر حق کے ثابت اور متحقق ہوجانے کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا رہ گیا پھر حق کو چھوڑ کر گمراہی اور باطل کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو۔ یعنی امر حق ثابت ہوجانے کے بعد جو رہا وہ گمراہی ہے اب امر حق سے منہ موڑ کر جدھر جائو گے وہ گمراہی اور بطلان کے سوا اور کیا ہے۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اے پیغمبر اسی طرح ان سرکشوں کے حق میں آپ کے رب کی یہ بات ثابت ہوکر رہی کہ وہ کسی طرح بھی ایمان نہیں لائیں گے

33 اور اے پیغمبر جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات تمام سرکش اور منکرین کے حق میں ثابت ہوکر رہی کہ یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بات ازل میں طے کی تھی وہی پوری ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ازل میں ان کی قسمت میں یقین نہیں لکھا اور سبب اس کا بےحکمی ان کی 12
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کیا تمہارے خود ساختہ شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرے پھر اسکو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر دوبارہ بھی وہی پیدا کرتا ہے تو تم پھر کہاں الٹے پھرے جاتے ہو

34 آپ ان سے دریافت کیجئے کیا تمہارے تجویزکردہ اور خود ساختہ شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا کرے اور پھر اسکو قیامت میں دوبارہ بھی پیدا کرے اور دوسری مرتبہ بھی زندہ کردے آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہ ہی اس مخلوق کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا سو تم کہاں دین حق سے پھرے جاتے ہو یعنی جن کو تم نے خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے خواہ وہ اصنام اور پتھر کے بت ہوں یا جن اور ملائکہ وغیرہ ہوں کیا ان میں سے کوئی ابتداء زندگی بخشنے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا اختیار رکھتا ہے اور اگر یہ کام سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہے تو تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کدھر جارہے ہو۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کیا تمہارے بنائے ہوئے شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جو دین حق کا راستہ دکھا سکے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی امر حق کی جانب رہنمائی کرتا ہے تو کیا بھلا وہ شخص جو امر حق کی جانب رہنمائی کرتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ حقدار ہے جو بغیر کسی دوسرے کے راستہ بتائے خود بھی راستہ نہ پاسکے تو تم لوگوں کو کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو

35 اے پیغمبر آپ ان سے دریافت کیجئے کیا تمہارے بنائے ہوئے اور تجویز کردہ شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جو امر حق اور دین حق کا راستہ دکھا سکے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی امرحق کی جانب رہنمائی کرتا ہے بھلا وہ جو امر حق کی جانب رہنمائی کرتا ہے وہ پیروی اور اتباع کا زیادہ حقدار ہے یا وہ ہے جو بدون کسی دوسرے کے راستہ بتائے خود بھی راستہ نہ پا سکے تو اے مشرکو ! تم کو کیا ہوگیا تم کیسافیصلہ کرتے ہو۔ یعنی تمہارے شرکاء میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو راہ راست بتاسکتا ہو اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ راہ راست بتاتا ہے جیسا کہ پیغمبروں کو بھیجتا ہے کتابیں نازل کرتا ہے تو وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے کہنے پر چلا جائے نہ کہ وہ جو خود ہی راستہ دکھانے اور بتانے کے محتاج ہیں کسی اور کو تو کیا راستہ دکھائیں گے مراد اس سے جن اور شیاطین ہیں ورنہ بت تو نہ راستہ بتانے کے اہل ہیں نہ راستہ دکھانے کے اور اگر مراد عام ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ راستہ بتانے کے اہل تو کیا ہوں گے ان میں تو یہ صلاحیت بھی نہیں کہ ایک جگہ سے بغیر اٹھائے اور ہٹائے کسی دوسری جگہ جا بھی سکیں جو محتاج ہو اسکی عبادت کرنا اس سے مانگنا بیکار ہے۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کہ اکثر لوگ تو محض گمان اور اٹکل کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ امر حق کے مقابلہ میں گمان اور اٹکل کی باتیں ذرا بھی مفید نہیں ہوسکتیں۔ اللہ تعالیٰ یقینا ان اعمال سے باخبر ہے جو یہ کر رہے ہیں

36 اور ان کے اکثر لوگ تو محتاج محض گمان اور اٹکل اور بےاصل باتوں کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ امر حق اور یقین کے مقابلہ میں محض شک کچھ مفید نہیں ہوسکتا اور نہ یقین کے مقابلہ میں شک اور بےاصل باتیں کارآمد ہوسکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا ان اعمال سے باخبر ہے جو یہ کر رہے ہیں یعنی کہاں یقینی بات اور کہاں شک اور اٹکل کی باتیں دونوں میں کیا نسبت۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن کریم ایسا نہیں ہے کہ ان کو خدا کے سوا کوئی اپنی طرف سے بناکر لاسکے بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور احکام شرعیہ کی تفصیل بیان کرنیوالا ہے اور اس قرآن کریم میں شک کی گنجائش نہیں یہ اس کی طرف سے ہے جو تمام عالموں کا رب ہے

37 اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اس کو خدا کے سوا کوئی اور بنا کر اور گھڑ کر لاسکے لیکن یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور اپنے سے پہلے کلام کو سچا بتانے والا اور احکام شرعیہ ضروریہ کی تفصیل بیان کرنے والا ہے اس قرآن میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے یعنی یہ قرآن کریم ایسا نہیں کہ اس کو کوئی بناس کے اور غیر خدا سے صادر ہو اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کا اعجاز اس بات کا متقضی ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کا بنایا ہوا نہیں ہے اپنے سے اگلے کلام کی تصدیق کرنیوالا ہے یعنی پہلی کتابوں کو سچا بتاتا ہے یا جو اس قرآن کریم کے اوصاف کتب سابقہ میں مذکور ہیں ان کے موافق ہے جن سے ان کتب سابقہ کی تصدیق ہوتی ہے اور جو باتیں تم پر لکھی گئی ہیں اور فرض کی گئی ہیں یعنی احکام شرعیہ ضروریہ ان کی تفصیل بیان کرتا ہے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبرنے اس قرآن کو بنالیا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اگر یہ بات ہے تو تم اس قرآن کی مثل ایک چھوٹی سی سورت بنا لائو اور اللہ کے سوا جس جس کو تم بلا سکتے ہو اس کو بھی بلا لو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو

38 کیا باجود اس کے بھی یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر نے اس قرآن کو بنا لیا اور گھڑ لیا آپ کہہ دیجئے اگر یہ بات ہے کہ میں نے اس کو بنا لیا ہے تو تم بھی اس قرآن کریم کی مثل ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا لائو آخر تم بھی عربی زبان کے ماہر اور بڑے فصیح وبلیغ ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو اس کو بلا بھی لو اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کرسکے اور ابھی تک اس کی تکذیب کا مال و انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں سوائے پیغمبر آپ دیکھ لیجئے ان کافروں کا کیسا انجام ہوا

39 بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر قابو نہ پاسکے اور جس کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کرسکے اور ابھی تکذیب کا مال و انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اسی طرح جو منکر ان سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح تکذیب کا طریقہ اختیار کیا تھا جس طرح یہ کر رہے ہیں لہٰذا اے پیغمبر ﷺ ! آپ دیکھ لیجئے اُن ظالموں کا انجام کیسا ہوا یعنی مطالب قرآنی اور مفاہیم قرآنی پر غور نہیں کرتے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور جب قرآن کریم کے مطالب و مفاہیم پر قابو نہیں پاسکتے تو جھٹلانا شروع کردیتے ہیں یہ لوگ ان مواعید کا انتظار کر رہے ہیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ وہ انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اس لئے جھٹلانا شروع کردیا۔ بہرحال ! ہر زمانے کے کفار کی جو ذہنیت رہی ہے وہی ان کی بھی ہے اور جو ان ظالموں کا حشر ہوا وہی ان کا بھی ہونے والا ہے خواہ سب کانہ ہو کیونکہ بعض ایمان بھی لے آئیں گے جیسا کہ آگے کی آیت میں ارشاد ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی حقیقت نہیں آئی یعنی جو وعدہ ہے اس قرآن کریم میں وہ ظاہر نہیں ہوا۔ خلاصہ یہ کہ مفسرین نے تاویل کے کئی معنی کئے ہیں ان کی رعایت رکھی گئی ہے۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آئندہ قرآن پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ان میں ایسے ہیں جو اس پر قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے اور آپ کا رب ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے

40 اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آئندہ قرآن کریم پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو اس قرآن کریم پر ایمان نہیں لائیں گے اور آپ کا رب ان شریر اور فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔