9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

یہ اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ان مشرکوں سے بری الذمہ ہونا ہے جن سے تم نے عہد کررکھا تھا۔

سورة توبہ مدنی ہے اور یہ ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں۔ 1 حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ سورة براۃ ہے حضرت نے بیان نہیں فرمایا کہ یہ جدا سورت ہے یا اور سورت میں کی آیتیں ہیں سورة کا نشان تھا بسم اللہ نازل نہیں ہوئی اس واسطے اس پر بسم اللہ نہیں اور کسی سورت میں داخل بھی نہیں۔ 12 ۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب ان مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کررکھا تھا بری الذمہ ہونا ہے۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

سو اب اے مشرکو ! تم اس ملک میں چار مہینے اور خوب چل پھر لو اور یہ جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ بھی یقین کرو کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے۔

2 لہٰذا اے مشرک ! تم اس ملک میں چار مہینے اور خوب چل پھر لو اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اس کو ہرا نہیں سکتے اور یہ بھی یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ منکینِ دین حق کو رسوا کرنے والا ہے۔ قریش سے نبی کریم ﷺ کا 6 ہجری میں معاہدہ ہوا تھا معاہدہ کے بعد بعض قبائل قریش کے ساتھ ہوگئے بعض نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوگئے بعض نے آپ سے خود معاہدہ کرلیا چناچہ ان سب لوگوں کی تقسیم اس طرح ہے اول قریش کا معاہدہ قریش کے ہمراہ قبیلہ بنی بکر اور حضور ﷺ کے ہمراہی خزائ۔ دوسرے بنی کنانہ کے دو قبیلے بنی ضمرہ اور بنی مدلج ان کا معاہدہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوگیا تھا۔ تیسرے وہ قبائل جن سے عہد تو ہوا تھا مگر مدت کوئی متعین نہیں ہوئی تھی۔ چوتھے وہ قبائل عرب جن سے کوئی معاہدہ نہ تھا ان چار صورتوں میں سے پہلی صورت یعنی قریش نے تو عہد کو توڑ ہی دیا تھا اور بنی بکر سے خزاء پر حملہ کرادیا تھا اسی بنا پر قریش پر حملہ کیا گیا اور مکہ معظمہ کو مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ بہرحال ! اس صورت میں انہی لوگوں کے احکام بیان فرماتے ہیں چار مہینے کی مہلت دی گئی تاکہ یہ لوگ لڑائی کا سرانجام کرلیں یا وطن سے نکل جائیں یہ چار مہینے اشہر حرم ہیں۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کی تاریخوں میں اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے سب لوگوں کے روبرو یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی پھر اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر اب بھی تم نے توبہ سے روگردانی کی تو اس بات کا یقین کرو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکوگے۔ اور اے پیغمبر ﷺ ! ان منکرینِ حق کو ایک درد ناک عذاب کی خبر دیدیجئے۔

3 اور حج اکبر کے دنوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے عام لوگوں کے روبرو یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اب امن کی ذمہ داری نہیں لیتے پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ توبہ کرلینا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر اب بھی تم نے توبہ سے اعراض کیا اور روگردانی کی تو یہ جان لو اور یہ بات سمجھ لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اس کو ہرا نہیں سکتے اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان لوگوں کو جنہوں نے کافرانہ روش اختیار کررکھی ہے ایک دردناک عذاب کی بشارت اور خبر دے دیجئے۔ قریش کی بات کہی اور ان سے امن اٹھائے جانے کا اعلان کیا اور امان سے دست برداری فرمائی کیونکہ یہلوگ نقض عہد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چھٹے برس حضرت ﷺ کو مکہ کے لوگوں سے صلح ہوئی تھی اور بھی کئی فرقوں سے جو انا فتحنا میں بیان ہے اور عرب کی بہت قوموں سے صلح تھی جب مکہ فتح ہوا اس سے بعد ایک برس حکم نازل ہوا کہ کسی مشرک سے صلح نہ رکھو اور یہ بات حج کے دن یعنی عید قربان کو سب حج کے قافلوں میں پکار دو کہ سب کو خبر پہنچے اور صلح کا جواب دیکر چار مہینے فرصت دی کہ اس میں خواہ لڑائی کا سرانجام کریں یا وطن چھوڑ جائیں یا مسلمان ہوں۔ 12
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر ہاں وہ مشرک مستثنا ہیں جن سے تم نے کوئی عہد کرلیا ہو پھر انہوں نے تم سے ایفائے عہد میں کوئی کوتاہی نہ کی ہو اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی کی مدد کی ہو تو ایسے مشرکوں کے ساتھ ان کے عہد کو ان کی مدت تک پورا کرو۔ بیشک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

4 مگر ہاں وہ مشرک اس برأت امان سے مستثنا ہیں جن سے تم نے کوئی عہد لیا پھر انہوں نے اپنے عہد کے پورا کرنے میں تم سے کوئی کمی اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی مخالفت کی مدد کی تو ایسے مشرکوں سے ان کے عہد کو اس مدت تک پورا کرو جو ان سے طے ہوئی ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بد عہدی سے احتیاط رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یعنی ان لوگوں سے مراد بنی ضمرہ اور بنی مدلج ہیں انہوں نے اپنے عہد کی پابندی کی اس لئے ان کو اعلان برأت سے مستثنا کردیا گیا اور مدت عہد کو پورا کرنے اور بدعہدی نہ کرنے کا حکم دیا گیا اور بدعہدی سے بچنے والوں کو پسند فرمایا۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو پھر ان مشرکوں کو جہاں پائو قتل کرو اور ان کو گرفتار کرو اور ان کو بند کرو اور ہر کمین گاہ میں ان کی تاک کے لئے بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

5 پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو پھر ان مشرکوں کو جہاں پائو قتل کرو اور ان کو گرفتار کرو اور ان کو بند کرو اور گھیرو اور ہر کمین گاہ پر ان کی تاک کے لئے بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے کوئی عہد نہیں تھا یا انہوں نے عہد کرکے نقض عہد کیا اور بنی بکر سے خزاء پر حملہ کرایا مارنا، گھیرنا، تاک میں بیٹھنا غرض ! لڑائی میں جو کچھ ہوتا ہے اس سب کے کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جن سے وعدہ ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح قائم رہی اور جن سے وعدہ کچھ نہ تھا ان کو فرصت ملی چار مہینے اور حضرت نے فرمایا دل کی خبر اللہ کو ہے ظاہر میں جو مسلمان ہو وہ سب کے برابر امان میں ہے اور ظاہر مسلمانی کی حد ٹھہرائی ایمان لانا کفر سے توبہ اور نماز اور زکوٰۃ اسی واسطے جب شخص نماز چھوڑ دے یا زکوٰۃ پھر اس سے امان اٹھ گئی۔ حضرت صدیق ؓ نے زکوٰۃ کے منکروں کو برابر کافروں کے قتل فرمایا۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ طلب کرے تو آپ اس کو پناہ دے دیجئے تاکہ وہ خدا کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دیجئے یعنی اپنی حفاظت میں یہ حکم اس لئے ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو علم نہیں رکھتے۔

6 اور اگر ان مشرکوں میں سے کوئی شخص آپ سے امان طلب کرے تو آپ اس کو پناہ دے دیجئے تاکہ وہ حقانیت اسلام معلوم کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ میں حفاظت کے ساتھ پہنچا دیجئے یہ حکم اس لئے ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو صحیح علم اور پوری خبر نہی رکھتے یعنی اس قتل و قتال کے زمانے میں کوئی مشرک اس بات کا طالب ہو کہ میں قرآن سن کر اسلام کی حقانیت کو سمجھنا چاہتا ہوں آپ مجھ کو امان دیں تو آپ اس قسم کے طالب حقانیت کو موقع دیجئے اور اس کو امان دیکر اس وقت تک اس کی حفاظت کیجئے جب تک وہ اطمینان کے ساتھ کلام اللہ سنے پھر اس کو اپنی حفاظت میں اس جگہ پہنچا دیجئے جہاں وہ بےخوف اور نڈر ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اتنی امان کا مضائقہ نہیں کہ کچھ پوچھا سنا چاہے وہ سن لے پھر بھی جہاں وہ نڈر ہو وہاں تک پہنچا دینا بعد اس کے سب کافروں کے برابر ہے۔ 12
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان مشرکوں کے کسی عہد کا کیسے اعتبار ہوسکتا ہے مگر ہاں وہ لوگ جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا تھا سو جب تک وہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں تم بھی ان سے اپنے عہد پر قائم رہو بیشک اللہ پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے۔

7 بھلا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک ان مشرکوں کے کسی عہد کا اعتبار کیونکر ہوسکتا ہے اور یہ لوگ اپنے عہد پر کیونکر قائم رہ سکتے ہیں مگر ہاں وہ لوگ جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس عہد کیا تھا لہٰذا جب تک وہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں تم بھی ان سے اپنے عہد پر قائم رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدعہدی سے بچنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں صلح والے تین قسم کے فرمائے ایک جن سے مدت نہیں ٹھہری ان کو جواب دیا مگر جو مکہ کی صلح میں شامل تھے جب تک وہ دغا نہ کریں یہ ادب ہے مکہ کا اور تیسرے جن سے مدت ٹھہری وہ صلح قائم رہی۔ لیکن آخر سب مشرک عرب کے ایمان لائے۔ 12
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

ان لوگوں کی رعایت کیسے ہوسکتی ہے جن کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کسی وقت تم پر غلبہ حاصل کرلیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی عہدو پیمان کا وہ تم کو اپنی زبانی باتوں سے خوش کرنا چاہتے ہیں اور ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر بدعہد ہیں۔

8 بھلا ان لوگوں کی رعایت کیوں کر ہوسکتی ہے اور ان سے عہد کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جن کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ کسی وقت تم پر غلبہ پالیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی عہدو پیمان کا وہ تم کو محض اپنی زبانی باتوں سے خوش کرنا چاہتے ہیں اور صرف اپنے منہوں سے تم کو راضی کرتے ہیں اور ان کے دل ان کی باتوں کو نہیں مانتے اور ان میں سے اکثر بدعہد ہیں۔ یعنی جو عہد کا پابند نہیں رہنا چاہتے جب دل کسی بات سے متفق نہ ہو اور خوف کی وجہ سے ظاہری طور پر اقرار کرلیں تو اس اقرار کا ایسا ہی حشر ہوتا ہے۔
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

ان لوگوں نے احکامِ الٰہی کے مقابلہ میں معمولی قیمت اختیار کی اور خدا کی راہ سے روکا یقیناً وہ اعمال بہت ہی برے ہیں جو یہ کررہے ہیں۔

9 ان لوگوں نے احکام الٰہی کے مقابلہ میں معمولی قیمت اختیار کی اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکا بلاشبہ جو اعمال یہ کررہے ہیں وہ بہت ہی برے ہیں۔ یعنی احکام الٰہیہ کے عوض دنیا کی معمولی متاع اختیار کررکھی ہے اللہ کی راہ اختیار کرنے سے خود بھی رکے اور دوسروں کو بھی روکا ایسے لوگوں کے عہد کا کیا بھروسہ۔
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ قرابت کا پاس کرتے ہیں اور نہ عہدو پیمان کا اور یہ لوگ بڑی زیادتی کرنے والے ہیں۔

10 یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ قرابت کا پاس اور لحا ظ کرتے ہیں اور نہ کسی قول وقرار اور عہدو پیمان کا اور یہ لوگ اس بارے میں بڑی زیادتی کرنے والے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کے بارے میں ان کا جارحانہ رویہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو یہ لوگ دین کے اعتبار سے تمہارے بھائی ہیں اور ہم تفصیل کے ساتھ احکام بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ دار ہیں۔

1 1 لہٰذا اب اگر یہ لوگ اپنے اس کافرانہ رویہ سے توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو یہ لوگ دین کے اعتبار سے تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم سمجھ دار لوگوں کیلئے اپنے احکام خوف مفصل بیان کرتے ہیں۔ یعنی پہلی خطائیں معاف ہوجائیں گی اور اسلامی برادری میں شامل ہوجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا بھائی ہیں حکم شریعت میں اس سے سمجھ لیں کہ جو شخص قرائن سے معلوم ہو کہ ظاہری مسلمان سے دل سے یقین نہیں رکھتا اس کو حکم ظاہری میں مسلمان گنیں اور معتمد اور دوست نہ پکڑیں۔ 12
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن وتشنیع کریں تو تم اس توقع پر ان کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کہ شاید وہ باز آجائیں

12 اور اگر وہ لوگ اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن وتشنیع کریں اور تمہارے دین میں عیب لگائیں تو تم اس ارادے اور اس مقصد سے ان کفر کے سرداروں سے جنگ کرو اور لڑو کہ شاید وہ اپنی ناشائستہ حرکات سے باز آجائیں کیونکہ اس حالت میں ان کی قسمیں باقی نہیں ہیں، جیسا کہ بنی بکر نے قریش کی امداد سے خزاء پر حملہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان لوگوں نے اپنا عہد توڑ دیا اس لئے مسلمانوں کو حکم ہوا جہاد کا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر ثابت ہوا ہو ایک کافر عیب دیتا ہے ہمارے دین کو وہ ذمی نہ رہا۔ 12
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیونکہ ان کی قسمیں باقی نہیں رہیں تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں جنگ کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ہی پہلی مرتبہ تم سے عہد شکنی کی ابتداء کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو ! سو اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم مومن ہو۔

13 تم ایسے لوگوں سے جنگ کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (علیہ السلام) کو جلا وطن کرنے اور نکالنے کی تجویز کی اور انہوں نے ہی پہلی مرتبہ تم سے عہد شکنی کی ابتداء کی کیا تم ان عہد شکنی کافروں سے لڑنے میں ڈرتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی جب قریش کی جانب سے نقض عہد ہوگیا اور ابتداء ان کی طرف سے ہوچکی پھر جنگ سے کیا چیز مانع ہے۔ رہا خوف اور ڈر تو اللہ تعالیٰ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی پکڑ سے ڈرو۔
Ayah 9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب کھل کر جنگ کرو کہ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے اور خدا ان کو رسوا کرے اور تم کو ان پر غلبہ دے اور بہت سے مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے اور مسلمانوں تمہارے دلوں کا غصہ دور کرے

14 ان عہد شکن کافروں سے خوب جنگ کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں سے سزا دے اور خدا ان کو رسوا کردے اور تم کو ان پر غالب کردے اور بہت سے مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈا کردے اور مسلمانوں کے قلوب کو شفا بخشے۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور اللہ جس کو چاہے گا اسے توبہ کی توفیق دے گا اور اللہ بڑے عل بڑی حکمت کا مالک ہے

15 اور مسلمانوں کے دلوں کا غیظ و غضب دور کردے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اسے توبہ کی توفیق بخشے اور اس کی حالت پر توجہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ جب دشمن پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور دشمن محکوم ہوجاتا ہے تو قدرتی طور پر غم و غصہ میں کمی ہوجاتی ہے اور دل کو جو صدمے پہنچے تھے اس سے شفا میسر ہوتی ہے ان آیتوں میں اسی کا بیان ہے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یوں ہی چھوڑ دیئے جائوگے حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو ظاہر نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا خصوصی راز داں نہ بنایا ہو اور اللہ کو تمہارے سب کامو کی پوری خبر ہے۔

16 کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم بلا کسی امتحان و آزمائش کے یوں ہی چھوڑ دیئے جائوگے حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو معلوم نہیں کیا اور ان کو بھی ظاہر نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو اپنا بھیدی اور خصوصی راز دار نہ بنایا ہو اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی پوری پوری خبر ہے۔ یعنی جہاد اور جہاد میں جو باتیں پیش آتی ہیں مثلاً رازداری وغیرہ ان سب باتوں کی آزمائش نہ ہوجائے تو تم کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اس کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔ اگر امتحان میں کمزور ثابت ہوگے تو سزا ملے گی اور اگر کامیاب ثابت ہوگے تو اجر وثواب سے نوازے جائوگے۔
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرک اس امر کے اہل نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد کو آباد کریں جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود اپنے اعمال سے اپنے اوپر کفر کی شہادت دے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال برباد ہوگئے اور وہ لوگ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں

17 مشرکین کا یہ کام نہیں اور مشرک اس کے اہل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کریں جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود اپنے کردار اور اپنے اعمال سے اپنے اوپر کفر کی شہادت دے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال ضائع اور خراب ہوئے اور وہ لوگ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کفر و شرک کی حالت میں جو بھلے کام بھی کئے جائیں ان پر کوئی اجر مرتب نہیں ہوتا بعض لوگ خانۂ کعبہ کی مجاوری پر فخر کرتے تھے یہ ان کا جواب ہے۔
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کو تو صرف وہی لوگ آباد کرسکتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور سوائے اللہ کے کسی اور سے نہ ڈریں سو انہی لوگوں کی نسبت خدا سے امید ہے کہ یہی لوگ راہ یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے

18 اللہ کی مسجدوں کو تو بس وہی شخص آباد کرسکتا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کرتا رہا اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور سے نہیں ڈرا پس ایسے لوگوں کی نسبت خدا سے توقع ہے کہ یہ لوگ صحیح راہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی مساجد الٰہی کی آباد کاری کے وہی لوگ مستحق ہیں جو اہل ایمان ہوں زکوٰۃ و نماز کے پابند ہوں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کا دل میں خوف نہ رکھتے ہوں۔
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد کرنے کو اس شخص کے عمل کے مساوی قرار دے رکھا ہے۔ جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں اس نے جہاد کیا خدا کے نزدیک یہ دونوں قسم کے لوگ برابر نہیں ہیں اور اللہ بےانصافوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔

19 کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد کرنے کو اس شخص کے عمل کے برابر سجھ رکھا ہے اور اس شخص کے مساوی تجویز کررکھا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس نے جہاد کیا تو یہ دونوں عمل کرنے والے لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں نہ دونوں عمل برابر نہ عمل کرنے والے برابر اور اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا اور ان کو سمجھ نہیں دیتا۔ یعنی جو لوگ پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی خدمت پر ان لوگوں کے روبرو فخر کررہے ہیں جو دل سے ایمان رکھتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں تو ان کا یہ فخر بےسود اور لاحاصل ہے۔
Ayah 9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ترک وطن کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا وہ لوگ درجہ کے اعتبار سے خدا کے نزدیک بہت بڑے ہیں اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

20 جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے لئے ترکِ وطن کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا تو یہ لوگ درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے خدا کے نزدیک بہت بڑے ہیں اور یہی لوگ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہونے والے ہیں۔ یعنی مہاجرین اور مجاہدین کا مقابلہ کہاں ہوسکتا ہے۔
Ayah 9:21

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان لوگوں کا رب اجن کو اپنی رحمت اور رضامندی اور ایسے باغوں کی خوش خبری دیتا ہے کہ جن میں ان کے لئے دائمی آسائش ہوگی

21 ان لوگوں کو ان کا پروردگار اپنی رحمت اور بڑی رضامندی اور ایسے باغات کی خوش خبری اور بشارت دیتا ہے جن میں ان کے لئے دوامی نعمت اور آسائش ہوگی۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

ان باغوں میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بلاشبہ اللہ کے پاس بہت بڑا صلہ موجود ہے۔

22 ان باغات میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ سکونت پذیر ہوں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا صلہ موجود ہے۔ رحمت و رضامندی اللہ تعالیٰ کی جانب سے حصول مقصد کی بہت بڑی بشارت ہے اور روحانی مدارج اور روحانی منازل کی بہت اونچی پائیگاہ ہے جو نصیبوں والوں کو میسر آتی ہے۔ وما یلقھا الاذو حظ عظیم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر سے یہاں تک پانچ آیتیں نازل ہوئیں اس پر کہ کچھ گفتگو ہوئی۔ حضرت علی ؓ میں اور حضرت عباس ؓ میں حضرت عباس ؓ نے آخر کو ہجرت کی ہے۔ حضرت علی ؓ نے کہا اگر تم اول ہجرت کرتے اور جہاد میں حاضر ہوتے تو مرتبے بلند پاتے جیسے ہم نے پائے حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی خدا کے کام میں تھے یعنی خدمت حاجیوں کی اور آبادی مسجد الحرام کی۔ سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کام ان کے برابر نہیں اور مشرکوں کی خدمت قبول نہیں کوئی مسلمان خدمت کرے تو قبول ہے۔ فائدہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ پیغمبر کی قرابت سے عمل کا درجہ بڑا ہے کہ حضرت عباس ؓ قرابت میں قریب تھے اور حضرت علی ؓ عمل میں زیادہ۔ 12
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفرکو پسند کریں تو تم ان کو اپنا رفیق نہ بنائو اور جو لوگ تم میں سے ایسے باپ بھائیوں سے رفاقت رکھیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

23 ایمان والو اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو پسند کریں تو ایسے باپ اور بھائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو اور جو لوگ تم میں سے ایسے باپ اور بھائیوں کے ساتھ رفاقت رکھیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم اور ناانصاف۔ بعض صحابہ ؓ ان تعلقات کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے اور ہجرت سے رک گئے ان کو تنبیہہ کی گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعضے شخص دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے توڑ نہیں سکتے کہ ظاہر مسلمان ہوجاویں ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ 12
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

اے پیغمبر مسلمانوں سے کہہ دیجئے کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے والے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کی نکاسی کا وقت نکل جانے سے ڈرتے ہو اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب چیزیں تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کی رہبری نہیں فرماتا۔

24 اے پیغمبر ﷺ ! مسلمانوں سے کہہ دیجئے کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے والے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندے سے اور نکاسی کا وقت نکل جانے سے ڈرتے ہو اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب چیزیں تم کو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب اور پیاری ہیں تو اچھا تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کی رہنمائی اور رہبری نہیں فرماتا اور ان کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ یعنی سز کا انتظار کرو یا کافروں کے اخراج کا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آخر حکم بھیجا کہ اس ملک سے کافر باہر ہوں تب اکثر کافر مسلمان ہوئے۔ 12
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

بلا شبہ اللہ نے لڑائی کے اکثر مقامات پر تمہاری مدد کی ہے اور خاص کر حنین کے دن بھی جب کہ تم اپنی کثرت تعداد پر خوشی کے مارے پھول گئے تھے مگر وہ کثرت تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی وسعت کے تنگ ہوگئی پھر تم کافروں کو پیٹھ دکھاکر پیچھے ہٹے۔

25 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے اکثر مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور بہت سے میدانوں میں تم کو دشمنوں پر غالب کیا ہے اور خاص کر حنین کی لڑائی کے دن بھی جب کہ تم اپنی تعداد کی کثرت پر اترا گئے تھے اور خوشی کے مارے پھول گئے تھے پھر وہ تعداد کی کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی اور وسعت کے تنگ ہوگئی پھر تم کافروں کو پیٹھ دکھاکر پیچھے ہٹے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ یعنی شروع میں مسلمانوں کے پائوں اکھڑ گئے تھے یہ لڑائی فتح مکہ کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوئی تھی۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اپنی طرف سے تسکین اور تسلی نازل فرمائی اور ایسے لشکر بھیجے جو تو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کو سخت سزا دی اور کافروں کی یہی سزا ہے۔

26 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر تسلی اور تسکین نازل فرمائی اور ایسے لشکر آسمان سے نازل فرمائے جو تم نہیں دیکھتے تھے اور جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سخت سزا دی اور دین حق کے منکروں کی یہی سزا ہے۔ تسلی و تسکین کوئی خاص قسم کی ہمت اور اطمینان قلوب میں نازل فرمایا جس سے مسلمان ثابت قدم رہے اور جو پیچھے ہٹ گئے تھے وہ پھر آگئے لشکر سے مراد فرشتے ہیں جو غیر مرئی طور پر تقویت اور ہمت کے موجب ہوئے اور تثبیت قدم کے سبب بنے۔ سزا سے مراد کفار کا قتل اور قید ہونا ہے۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس جنگ کے بعد اللہ جس کو چاہے گا توبہ کی توفیق عطا فرمائے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

27 پھر اس جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا توبہ کی توفیق دیدے گا اور جس پر چاہے گا توجہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی باقی ماندہ کافروں میں سے جس کو چاہے گا اسلام کی توفیق دیکر اس کے گناہ بخش دے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فتح مکہ کے بعد حضرت نے سنا کہ مکہ اور طائف کے بیچ کافر جمع ہیں لڑائی کو حضرت ان پر چلے دس ہزار مسلمان ساتھ تھے اول سے اور دو ہزار مل گئے مکہ سے پہاڑوں کے بیچ گزارا فوج کا تنگی سے تھا کم کم گزرنے لگے قوم ہوازن گرد میں چھپے تھے جب مکہ ولے گزرنے لگے وہ ان پر آگرے یہ الٹے بھاگے حضرت کے ساتھ والے بھی بکھر گئے حضرت پیادہ ہوکر جنگ کو مستعد ہوئے حضرت عباس ؓ نے بلند آواز سے پکارا انصار کو اس آواز پر مہاجر اور انصار پہنچے تب لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے فتح دی اول کسی مسلمان نے کہا تھا کہ ہم تھوڑوں کو بہت جگہ فتح ملی ہے اب تو ہم ہیں دس ہزار حق تعالیٰ نے ادب دیا تا اسباب پر نظر نہ رکھیں پھر ان کافروں میں سے اکثر مسلمان ہوئے۔ 12
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو سوائے اس کے نہیں کہ مشرک ناپاک ہیں سو یہ لوگ اس سال کے بعد سے مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو بہت جلد تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

28 اے ایمان والو ! سوائے اس کے نہیں کہ مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ انے پائیں اور اگر تم کو تجارت کے بند ہوجانے کی وجہ سے مفلسی اور تنگدستی کا خوف ہو اور تم افلاس سے ڈرتے ہو اللہ تعالیٰ چاہے گا تو بہت جلد اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور ان کا محتاج نہ رکھے گا اللہ تعالیٰ بلاشبہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی مشرک اپنے عقائد فاسدہ کے باعث باطنی طور پر ناپاک ہیں اور چونکہ مکہ میں آکر برہنہ ہوکر طواف کرتے ہیں اس لئے 9؁ ھ میں ان کا حرم میں آنا بند کردیا گیا ان مشرکوں کی وجہ سے مکہ والوں کی خوب تجارت ہوتی تھی اس لئے ان کو اطمینان دلایا کہ خدا پر بھروسہ رکھو وہ تم کو نقصان سے بچائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسجد الحرام میں مشرک کو جانا منع ہے بلکہ سارے حرم میں اور مسجد میں معاف ہے اور پلیدی کے دل میں ہے بدن پر نہیں اور فقر سے ڈرتے ہو یعنی آمدو رفت موقوف ہوگی مشرکوں کی تو معاملات سوداگری بند ہوں گے سو اللہ تعالیٰ نے سارا ملک مسلمان کردیا سب کاروبار جاری ہوا۔ 12
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

اہل کتاب جو نہ اللہ پر پوری طرح ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ لے اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ مطیع اور محکوم ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا قبول کرلیں۔

29 اہل کتاب جو نہ تو اللہ تعالیٰ پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر پورا ایمان رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کہا ہے اور نہ دین حق یعنی اسلام کو قبول کرتے ہیں ان سے بھی جنگ کرو اور یہاں تک ان سے لڑو کہ وہ مطیع و محکوم ہوکر اور ماتحت و رعیت بن کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا قبول کرلیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے حکم ہوا کہ مشرکوں سے لڑو اور ملک سے نکالو اب حکم ہوا اہل کتاب سے لڑائی کا یہ بھی دین حق سے منکر ہیں اور اللہ اور آخرت کو جیسے چاہئے نہیں مانتے لیکن ان سے جزیہ قبول رکھا بشرطیکہ ادنیٰ اعلیٰ سب ذلیل ہوکر جزیہ دیا کریں عرب کے مشرکوں سے ہرگز جزیہ قبول نہیں اور جہاں کے مشرک سے حنفی پاس قبول ہے جزیہ یہ مہینے میں پانچ آنے یا دس یا سوا روپیہ موافق حال اور ذلیل رہنا یہ کہ سواری میں لباس میں راہ چلنے میں ہتھیار باندھنے میں مسلمان کی برابری نہ کریں اور بھی بہت سے بندوبست ہیں۔ 12 مطلب یہ ہے کہ مشرکین عرب کے علاوہ باقی اہل کتاب اور اہل کفر و شرک کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جزیہ کی معمولی رقم مقرر کرکے ان کو ہر قسم کی آزادی دی جائے اور ان کو ہر قسم کی مذہبی مراسم کو ادا کرنے کا موقعہ دیا جائے۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں جو باتیں ان سے پہلے کے کافر کہا کرتے تھے انہی جیسی باتیں یہ بھی کہتے ہیں خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں پھرے جارہے ہیں۔

30 اور یہود کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عزیر (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے اور نصاریٰ عام طور سے کہتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے یہ باتیں ان کے منہ کی ہیں یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرتے ہیں جوان سے پہلے کافر کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرے یہ کدھر پھرے جارہے ہیں۔ کفار مکہ کہا کرتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں یہودو نصاریٰ کا قول بھی انہی کافروں کے مشابہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اہل کتاب ہوکر مشرکوں کی ریس کرنے لگے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء کو اور اپنے زاہدوں کو رب بنا رکھا ہے اور مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو بھی حالانکہ ان کو صرف ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔

31 ان یہودونصاریٰ نے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنالیا ہے اور مسیح ابن مریم کو رب نے بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو آسمانی کتب میں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہ ان لوگوں کے شرک اور ان کے شریک کرنے سے پاک ہے۔ عالموں اور مشائخ کی ایسی اطاعت کہ خدا کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا جائے ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کے عالم یا درویش جو اپنی عقل سے ٹھہرا دیتے وہ جانتے خدا کے ہاں ہم کو چھٹکار ہوگیا اور ٹھہراتے خاطر کو یا طمع کو سو عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سے سمجھ کر کہے جب معلوم ہو کہ طمع سے کہا پھر وہ سند نہیں۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ عالم اور درویش جو دنیا کے لالچ میں یا کسی کو محض خوش کرنے کے لئے کہہ دیں وہ قابل عمل نہیں۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ اہل کتاب یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نورکو پورا کئے بغیر نہیں رہے گا اگرچہ کافر کتنا ہی برا مانیں۔

32 وہ اہل کتاب یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہوں سے پھونک مار کر بجھادیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نورکو پورے کمال تک بدون پہنچائے نہیں رہے گا اگرچہ کافر کتنا ہی برا مانیں۔ یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی روشنی کو ختم کردیں اور اللہ تعالیٰ اس سے انکار کرتا ہے وہ اپنے نور کو پورا کئے بغیر نہیں رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسا کوئی پھونک سے چراغ بجھا دے وہ چاہتے ہیں کہ اپنی جھوٹی باتوں سے دین اسلام کو نہ پھیلنے دیں۔ 12
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے اپن رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین حق کو تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ مشرک کتنا ہی برا مانیں۔

33 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دیکر بھیجا ہے تاکہ اس سچے دین کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کردے خواہ مشرک کتنا ہی برا مانیں اور اگرچہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ ہدایت سے مراد قرآن اور دین سے مراد اسلام، دین کا اتمام یہی کہ سب دینوں پر غلبہ حاصل ہو اور ادیانِ باطلہ اس کے مقابلہ میں شکست کھا جائیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دین سب سے اوپر ہے عقل کے نزدیک اور خدا کے نزدیک یعنی جو اس سے قرب ملے اور سے نہیں۔ 12
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو بیشک اہل کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال غیر مشروع طور پر کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس سونے چاندی کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو اے پیغمبر آپ ان کو ایک دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔

34 اے ایمان والو ! بلاشبہ یہودو نصاریٰ کے اکثر علماء اور مشائخ غیر مشروع طریقہ پر لوگوں کے مال کھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس سونے چاندی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو اے پیغمبر ﷺ ! آپ ایسے حریصوں اور بخیلوں کو ایک دردناک عذاب کی بشارت اور خبر دیدیجئے۔ یعنی لوگوں کو غلط فتوے اور جھوٹی باتیں بتا کر اور سنا کر اسلام سے روکتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حسب منشا مسائل بتاکر رشوتیں وصول کرتے ہیں اور ناجائز طور پر لوگوں کے مال مارتے ہیں پھر حرص کے ساتھ بخل سے بھی متصف ہیں روپیہ جمع کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دیتے تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوش خبری دیدیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا یہ کہ زکوٰۃ اور قرض اور حق دار کا حق دیتا رہے۔ 12
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں رکھ کر تپایا جائے گا پھر اس تپے ہوئے سونے چاندی سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کرکے رکھا تھا تو اس اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔

35 یہ دردناک عذاب اس دن ہوگا جس دن اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں رکھ کر پہلے تپایا جائے گا پھر اس تپے ہوئے سونے چاندی سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جع کرکے رکھا تھا تو آج اس اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو یعنی جس مال میں سے اللہ تعایلٰ کا حق ادانہ کی جائے وہی مال قیامت میں موجب وبال ہوگا۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے مہینوں کی گنتی اس کے نزدیک کتاب الٰہی یعنی لوح محفوظ میں بارہ مہینے مقرر ہیں ان مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں یہی امرمذکور سیدھا سادھا ضابطہ ہے لہٰذا ان مہینو میں معاصی کے مرتکب ہوکر اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مسلمانو ! تم سب مشرکوں سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور یقین جانو ! کہ اللہ اہل تقویٰ کے ساتھ ہے۔

36 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اسی دن سے مہینوں کی گنتی اس کے پاس کتاب الٰہی میں بارہ مہینے مقرر ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں یہی امرمذکور دین مستقیم ہے اور سیدھا سادھا ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں معاصی کے مرتکب ہوکر اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مسلمانوں تم سب مشرکوں سے اسی طرح لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑنے کو تیار رہتے ہیں اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کے ساتھ ہے۔ یعنی ابتدائے آفرینش سے مہینوں کا شمار اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتاب الٰہی یعنی لوح محفوظ میں یا احکام شرعیہ میں قمری بارہ 12 مہینے ہیں۔ محترم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ، ان بارہ مہینوں میں چار ادب والے مہینے ہیں وہ چار ذیقعدہ ذی الحجہ، محرم، رجب ہیں تین تو متوالی اور متواتر ہیں اور رجب شعبان اور جمادی الثانی کے درمیان کا مہینہ ہے ان چار مہینوں میں دشمن سے جنگ کی ابتدا نہ کرو مگر ہاں جبکہ وہ خود ابتدا کریں جیسا کہ سورة بقرہ میں تفصیل گزرچکی ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان بارہ مہینوں میں سے کسی مہینے میں بھی اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور گناہ کرکے اپنا نقصان نہ کرو آخر میں کفار سے قتال کا حکم دیا کہ جس طرح وہ تمہاری بیخ کنی کے درپے رہتے ہیں تم بھی ان سے اسی طرح لڑو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہمیشہ حکم شرع میں برس ہے بارہ مہینہ کا نہ کم نہ زیادہ اور دین ابراہیم (علیہ السلام) میں چار مہینے حرام تھے۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب کہ ان میں لڑنا حرام تھا۔ ملک عرب میں امن تھا تاکہ لوگ دور اور نزدیک کے حج وعمرہ کرسکیں۔ اب اکثر علماء پاس یہ حکم نہیں اس آیت سے بھی نکلتا ہے کہ کافروں سے لڑنا ہمیشہ روا ہے اور آپس میں ظلم کرنا ہمیشہ گناہ ہے ان مہینوں میں زیادہ لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر کوئی کافر ان مہینوں کا ادب مانے تو ہم بھی اس سے ابتدا نہ کریں لڑائی کی۔ 12
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

کسی مہینے کو ہٹاکر آگے پیچھے کردینا یہ کفر کے زمانے کی بڑھائی ہوئی بات ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کئے جاتے ہیں کہ وہ ایک سال حرام مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرمت والا قرار دے لیتے ہیں تاکہ جن مہینوں کو اللہ نے حرمت والا مقرر کیا ہے ان کی گنتی پوری کرلیں پھر جو مہینے اللہ نے حرام کئے ہیں ان کو حلال کرلیتے ہیں ان کے اعمال کی برائی ان کو خوش نما کرکے دکھائی گئی ہے اور اللہ ایسے منکرینِ حق کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔

37 کسی مہینے کو ہٹاکر آگے پیچھے کردینا کفر کے عہد میں بڑھائی ہوئی بات ہے جس سے منکرینِ دین حق گمراہ کئے جاتے ہیں کہ وہ ایک سال حرام مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور دوسرے سال اس کو حرام کرلیتے ہیں تاکہ نج مہینوں کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا مقرر کیا ہے اور جن کو ادب کے لئے تجویز فرمایا ہے ان کی گنتی پوری کردیں لہٰذا اس طرز عمل سے یہ لوگ ان مہینوں کو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے حلال کرلیتے ہیں ان کے اعمال کی برائی ان کو مزین اور خوش نما کرکے دکھائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے منکرین حق کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔ حضرت ابراہیم کی ملت میں مذکورہ چار مہینے ادب اور حرمت کے شمار ہوتے تھے اور ان مہینوں میں امن رہتا تھا جنگ بند ہوجاتی تھی لیکن دورکفرو جہالت میں جنگی مصلحتوں کے پیش نظر ان مہینوں میں ردو بدل کرنے لگے محرم کے مہینے کو کہہ دیا کہ یہ صفر کا مہینہ شمار ہوگا اور صفر کا مہینہ محرم کا شمار کیا جائے گا عام طریقہ سے محرم اور صفر کا بہت زیادہ تبادلہ کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس ردوبدل سے حرمت و حلت ہی بدل جاتی تھی جس مہینے جنگ بند ہونی چاہئے اس میں لڑائی لڑلئے اور جس میں جنگ کی اجازت تھی اس میں جنگ بند کرکے بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کی مذمت فرمائی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافروں نے ایک گمراہی نکالی تھی کہ آپس میں لڑتے اس میں آجاتا ماہ حرام اس کو ہٹا دیتے کہتے اب کے برس صفر پہلے آیا محرم پیچھے آوے گا ماہ حرام میں لڑتے اس حیلہ سے اس پر حق تعالیٰ نے فرمایا۔ 12 ۔ برے اعمال اگر کسی کو اچھے معلوم ہونے لگیں تو سمجھو توبہ کی توفیق ہوگئی۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے باہر چلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پر رضامند ہوگئے ہو سو آخرت کے فائدوں کے مقابلہ میں دنیاوی منافع تو کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم۔

38 اے ایمان لانے والو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کوچ کرو اور گھروں سے نکلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو اور زمین پر ڈھیر ہوئے جاتے ہو اور زمین پر ڈھئے جاتے ہو کیا تم آخرت کے مقابلے میں اور آخرت کے بدلے میں دنیوی زندگی پر قانع اور رضامند ہوگئے ہو تو آخرت کے فوائد اور تمتع کے مقابلے میں تو دنیوی منافع کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی تھوڑے اور بہت ہی کم۔ غزوئہ تبوک کی تیاری کا حکم ملا تو سخت گرمی کا موسم تھا تبوک مدینہ سے چودہ منزل ہے کچھ لوگ شش و پنج میں پڑگئے غزوئہ تبوک کا حکم 9؁ھ میں دیا گیا۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلوگے تو خدا تم کو دردناک سزا دے گا اور تمہارے بدلے کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اللہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکوگے اور اللہ ہر شئے پر پوری طرح قادر ہے۔

39 اگر تم جہاد کے لئے کوچ نہ کرو گے اور گھروں سے نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو دردناک سزا دے گا اور تمہارے بدلے کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اللہ تعالیٰ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکوگے اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری طرح قادر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے مذکور ہے جنگ تبوک کا جب اسلام غالب ہوا اور عرب میں پھیلاشام کے رئیس تھے قوم غسان تابع شاہ روم کے اس فکر میں لگے کہ شاہ روم کو اس طرف لاویں اور جنگ مچادیں۔ حضرت کو خبر ہوئی آپ نے بھی ان پر قصد کیا اور خط لکھا روم کے شاہ کو دین اسلام کی دعوت پر۔ اس پر ثابت ہوئی حضرت کی نبوت لیکن قوم نے رفاقت نہ کی وہ بھی اسلام سے محروم رہا جب شام والوں نے خبر پائی حضرت کے ارادے کی شاہ روم سے ظاہر کیا اس نے مدد کا ذمہ لیا ان لوگوں نے اطاعت کی لیکن مسلمان نہ ہوئے پھر عنقریب حضرت کی وفات ہوئی بعد اس کے خلافت حضرت عمر ؓ میں تمام ملک شام فتح ہوا اس جنگ میں دشمن قوی نظر آیا اور سفر دراز دیکھا اور اسباب کم منافق لگے بہانے لانے حضرت نے سب کو رخصت دی جب اللہ کے فضل سے غالب و منصور پھر آئے تب منافق فضیحت ہوئے اس سورت میں اکثر منافقوں کا بیان ہے۔ 12
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم لوگ پیغمبر کی مدد نہ کروگے تو یاد رکھو کہ اللہ ان کی اس نازک وقت میں مدد کرچکا ہے جب کافروں نے ان کو اس حال میں جلا وطن کیا تھا کہ دو شخصوں میں سے وہ ایک تھے جس وقت یہ دونوں غارثور میں تھے اس وقت یہ پیغمبر اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ کچھ غم نہ کر یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے اپنے پیغمبر پر تسکین نازل فرمائی اور اپنے پیغمبر کی مدد ایسے لشکروں سے فرمائی جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ نے کافروں کی بات نیچی کردی اور سدا اللہ ہی کی بات بلند رہتی ہے اور اللہ کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔

40 اگرتم رسول اللہ ﷺ کی مدد نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا جیسا کہ وہ اپنے رسول کی اس نازک وقت میں مدد کرچکا ہے جب کافروں نے ان کو اس حال میں جلا وطن کیا تھا کہ وہ دو میں سے ایک تھے جس وقت یہ دونوں غار ثور میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے ساتھی اور اپنے صاحب سے فرما رہے تھے کہ تو کچھ غم نہ کر اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر تسکین و تسلی نازل فرمائی اور اپنے پیغمبر ! کی ایسے لشکروں سے مدد فرمائی اور ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات نیچی کردی اور ہمیشہ اللہ ہی کی بات اونچی رہتی ہے اور اسی کا بول بالا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ کافروں کی بات نیچی ہوئی یعنی حضور ﷺ صحیح سلامت غار سے نکل کر چلے گئے۔ فرشتوں کے لشکروں سے قوت دی فرشتے غار ثور کو گھیر کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رفیق غار ابوبکر صدیق ؓ ہیں ہجرت میں فقط یہی تھے حضرت کے ساتھ اور اصحاب بعضے پہلے نکل گئے تھے بعضے پیچھے نکل آئے۔ 12