8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ! لوگ آپ سے غنیمت کے مال کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ مال غنیمت اللہ کا اور اس کے رسول کا ہے سو تم اللہ سے ڈرتے رہو اور تم آپس میں صلح و آتشی رکھو اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم اہل ایمان ہو۔

سورة الانفال مدنی ہے اور پچھتر 75 آیتیں اور دس رکوع ہیں 1 اے پیغمبر ! لوگ آپ سے مال غنائم کی تقسیم کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ مال غنیمت اللہ کا اور اللہ کے رسول کا ہے تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور تم آپس میں صلح جویانہ رویہ رکھو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہامانو اگر تم اہل ایمان اور فرماں بردار ہو۔ یعنی جہاد میں دشمنوں کا مال ہاتھ آئے اس کو غنیمت کہتے ہیں۔ جنگ بدر کے بعد اس مال غنیمت کی تقسیم کا سوال پیش آیاتولوگوں نے پیغمبر سے سوال کیا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اس جنگ کے اصول وقواعد تعلیم فرمائے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جنگ میں بعضے آگے بڑھے اور بعضے پشت پر رہے جب غنیمت جمع ہوئی بڑھنے والوں نے کہا یہ حق ہمارا ہے فتح ہم نے کی ہے اور پشی والوں نے کہا تم ہماری قوت سے لڑے حق تعالیٰ نے دونوں کو خاموش کیا فتح اللہ کی مدد سے ہے اور زور کسی کا پیش نہیں جاناسومالک مال کا اللہ ہے اور نائب اس کا رسول ہے پھر آگے بہت دور تک یہی بیان فرمایا کہ فتح اللہ کی مدد سے ہے اپنی قوت سے نہ سمجھو۔
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

بس ایمان والے تو وہی ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب خدا کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو قوی تر کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔

(2) بس حقیقی اہل ایمان تو وہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جب ان کے روبرو اللہ کا نام لیاجاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور ان کے قلوب خائف ہوجاتے ہیں اور جب اللہ کی آییتں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور خدا کی آیتیں ان پر تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو مضبوط کردیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار ہی پر توکل کرتے ہیں۔
Ayah 8:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

وہ ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہمارے دیئے میں سے کچھ خرچ بھی کیا کرتے ہیں۔

(3) یہ حقیقی مومن ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات بھی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دنیا ہے اس میں سے خرچ بھی کرتے ہیں۔
Ayah 8:4

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے ہاں بڑے بڑے درجے ہیں اور عفو و بخشش ہے اور باعزت روزی ہے

(4) یہی لوگ سچے ایمان والے اور حقیقی اہل ایمان ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے بڑے بڑے درجے ہیں اور ان کے رب کے پاس ان کے لیے مغفرت و بخشش اور باعزت روزی یعنی مال غنیمت کی تقسیم پر جھگڑے کا اندیشہ تھا اسلیے دین کا خلاصہ اور مسلمانوں کو اخلاق سکھایا مثلا دین کے احکام کی دو قسمیں ہیں حقوق اللہ ، اور حقوق العباد، اصلحوا، سے حقوق العباد کو سمجھایا حقوق اللہ میں مالی حق کا ذکر، ینفقون، میں اور بدنی کا ذکر ، یقیمون الصلوۃ مال غنیمت کی زیادہ فکر نہ کرو اور اس کی وجہ سے آپس میں دست و گریبان نہ ہو، بلکہ اعتقاد اور اعمال اور اخلاق کی اصلاح کرو یہی چیز اللہ کے نزدیک مقبول اور موجب درجات ہیں۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

اے پیغمبر غنیمت کی تقسیم کا حال بھی ویسا ہی ہے جیسے آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر سے ایک امر حق کیلئے نکالا تھا حالانکہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے نکلنے کو ناپسند کرتی تھی۔

(5) اے پیغمبر مال غنیمت کی تقسیم کا حال بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے پروردگار نے ایک امر حق کے لیے آپ کو آپ کے گھر سے نکالا تھا حالانکہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے نکلنے اور بدر کی طرف خروج کرنے کو ناپسند کرتی تھی ، یعنی یہ اختلاف بھی اسی قسم کا ہے جب مدینے سے ہم نے بدر کی طرف جانے کا حکم ایک مصلحت کے ماتحت دیا تھا اور چونکہ ہماری مصلحت کا علم عوام کو نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنی سمجھ کے موافق اس میں اختلاف کرتے ہیں جب مصلحت کے ماتحت نتیجہ سامنے آتا ہے تب مطمئن ہوتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی غنیمت کا جھگڑا بھی ایس اہی ہے جیسا نکلتے وقت عقل کی تدبیریں کرنے لگے اور آخر کار صلاح وہی نکلا جو رسول نے ہر کام میں فرمایا یہی تدبیر اختیار کرو حکم برداری میں اپنی عقل کو دخل نہ دو ۔
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ باوجود حق ظاہر ہوجانے کے پھر بھی آپ سے صحیح بات میں اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جارہے ہیں۔

(6) وہ لوگ جو آپ کے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے اس امر حق کے ظاہر ہوجانے کے باوجود آپ سے اس حق بات میں اس طرح جھگڑا کررہے تھے جیسے وہ اپنی آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہنکائے جارہے ہیں ۔ یعنی پیغمبر کی زبانی یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ بدر میں جا کر جہاد کرنا اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہوگا، پھر بھی وہ لوگ جو قریش سے نبرد آزماد ہونے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے پیغمبر کو یہی سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ قریش سے مقابلہ نہ کیا جائے اور ان کی حالت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بدر کی طرف جانے کو ایسا سمجھ رہے ہیں جیسا کہ کوئی موت کی جانب ہنکارہا ہو ، اور موت بھی سامنے نظر آرہی ہو۔ بہرحال بدر کے موقعہ پر مسلمانوں میں دو خیالات کے لوگ تھے ان میں ایک گروہ کی طرف اشارہ فرمایا ہو یہ چاہتا تھا کہ اس وقت جہاد کرنا مناسب نہیں کیونکہ سامان کی قلت ہے اور مسلمانوں کی تعداد بھی کم ہے وہ پیغمبر کو یہ مشورہ دیتے تھے۔
Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو کہ جب خدا تم سے یہ وعدہ کررہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم یہ چاہتے تھے کہ تم کو غیر مسلح جماعت یعنی قافلہ ہاتھ لگ جائے مگر اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر پھینک دے۔

(7) اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تم سے یہ وعدہ کررہا تھا یعنی رسول کے واسطے سے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت تمہارے قابو میں آجائے گی ، اور تمہارے ہاتھ لگ جائے گی ، یعنی یا تو لشکر سے مقابلہ ہوگا، اور وہ مغلوب ہوجائے گا یا کفار قریش کے قافلہ پر قبضہ کرلو گے اور تم یہ چاہتے تھے اور تمہاری خواہش یہ تھی کہ تم کو غیر مسلح اور بےکانٹے والی جماعت ہاتھ لگ جائے، یعنی قافلہ قبضہ میں آجائے جس میں مقابلہ کرنے کی طاقت ہی نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے احکام سے اور اپنی باتوں سے سچ کو سچ کردکھائے اور حق کو ثابت کردے اور منکرین حق کی جڑ کاٹ دے اور ان کی بنیادیں ہلا دے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت نے فرمایا قافلہ یا مدد ہمارے ہاتھ لگے گی لوگ چاہنے لگے کہ قافلہ ہاتھ لگے اور بہر ہوا یہی کہ کفر کا زور ٹوٹا۔ مطلب یہ ہے کہ قافلہ پر قبضہ کرلو گے اور اگر مقابلہ لشکر سے ہوا تو خدا تعالیٰ کی مدد تم کو میسر ہوگی۔
Ayah 8:8

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ کافروں کی جڑ کاٹ دینے سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ظاہر کردے خواہ گناہ گر کتنا ہی برا مانیں۔

(8) مطلب یہ کہ یا تو قافلہ پر قبضہ کرلو گے اور اگر مقابلہ لشکر سے ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد تم کو میسر ہوگی، تاکہ کافروں کی جڑ کاٹ دینے سے حق کا حق اور ناحق کاناحق ہونا ثابت کردے خواہ اس بات سے مجرم اور گناہ گار کتنا ہی برا مانیں۔ یعنی مجرموں کو یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے لیکن ایسا ہی ہوگا۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے پھر اللہ نے تمہاری دعا کو قبول کرلیا کہ میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا، جن کے پیچھے دوسرے فرشتے ہوں گے

9 وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا اور تمہاری فریاد کو قبول کرلیا اور یہ وعدہ کیا کہ میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا جن کے پیچھے دوسرے فرشتے ہوں گے۔ یعنی یا تو یہ ایک ہزار لگاتار آئیں گے یا یہ کہ ہزار کے بعد اور مزید فرشتے آئیں گے تفصیل چوتھے پارے میں گزر چکی ہے۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ فرشتوں کی امداد اللہ نے محض تمہارے خوش کرنے کیلئے کی اور اس لئے کی کہ تمہارے دل اس بشارت سے مطمئن ہوجائیں ورنہ حقیقت میں مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے بیشک اللہ کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔

10 اور یہ فرشتوں کی مدد جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی وہ محض تمہارے خوش کرنے کے لئے فرمائی اور اس لئے بھی فرمائی کہ تمہارے دل اس بشارت اور خوش خبری سے مطمئن ہوجائیں اور تمہارے دلوں کو چین ہو ورنہ حقیقت میں تو مدد اور نصرت و کامرانی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہوا کرتی ہے بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ یعنی جب تک حضرت حق کی امداد شامل حال نہ ہو اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب اللہ نے تمہیں تسکین دینے کو اپنی طرف سے تم پر غنودگی اور اونگھ طاری کی اور تم پر آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا تاکہ اس پانی سے تم کو پاک کردے اور تم سے شیطانی وسوسہ کی آلودگی کو زائل کردے اور تاکہ تمہارے دلوں کو تقویت عطا کرے اور اس بارش کی وجہ سے تمہارے قدموں کو جمادے۔

1 1 وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری تسکین اور چین کے لئے اپنی طرف سے غنودگی اور اونگھ طاری کردی اور تم پر آسمان کی جانب سے بارش نازل فرمائی تاکہ اس پانی سے تم کو پاک کردے اور تم سے شیطانی نجاست اور شیطانی وسوسوں کی آلودگی کو زائل کردے اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے قلوب کو تقویت عطا فرمائے اور اس پانی کی وجہ سے تمہارے قدموں کو جمادے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب دو لشکر مقابل ہوئے رات کو مسلمانوں کو حاجتِ غسل ہوگئی اور پانی پینے کا بھی نہ تھا اور زمین ریت تھی جہاں پائوں نہ ٹھہریں صبح کو لڑائی درپیش یہ چیزیں دیکھ کر مسلمان ڈرے کہ آثار شکست کے ہیں اس وقت بارانِ کامل برسا کہ غسل اور پیاس کو کافی ہو اور زمین جم گئی اور ایک اونگھ آپڑی اس سے چونکے تو دل کا خوف جاتا رہا۔ 12 مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان جنگ بدر میں نکلے تو مختلف پریشانیاں دامن گیر تھیں اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور باطنی طریقوں سے ان پریشانیوں کو دور فرمایا۔ پانی کی قلت کو بارش سے دفع کردیا غسل اور وضو کے لئے پانی مل گیا۔ زمین کا ریت جم گیا دل کا خوف غنودگی سے دور ہوگیا۔ ربط قلب سے ہمتیں بڑھ گئیں شیطان اور اس کی ذریت جو کافروں کی مدد کو جمع ہوئی تھی اس کا علاج فرشتوں کی آمد سے ہوا۔ یہ سب حضرت حق تعالیٰ کے احسان تھے جن کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

وہ وقت یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم ایمان والوں کے دلوں کو بڑھائو میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم ان کی گردنوں پر خوب ضرب لگائو اور ان کافروں کی ہر ایک پور اور جوڑ پر چوٹ مارو۔

12 وہ وقت یاد کیجئے جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں کو یہ حکم کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں دل بڑھائو اور اہل ایمان کی ہمتیں مضبوط رکھو میں عنقریب ان کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دوں گا سو تم ان منکرین کی گردنوں پر خوب ضرب لگائو اور ان منکرین کی ہر ایک پور اور جوڑ پر چوٹ مارو۔ یعنی حضرت حق نے فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارا مدد گارہوں تم اہل ایمان کے قلوب میں تثبیت القاکرو اور ان کے دلوں د کو بڑھائو میں کفار کے قلوب کو مرعوب کردوں گا۔ گردنوں پر مارنے کو فرمایا یعنی قتل کرو اور ان کے اعضاء کو بیکار کردو تاکہ حملہ کی طاقت باقی نہ رہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافروں کے دل قابل نہیں فرشتوں کے الہام کے سو رعب ڈالنا اپنے طرف لیا اور مسلمانوں کے دل ثابت کرنے کو حکم فرمایا اس جنگ میں فرشتے ہاتھوں سے بھی لڑے ہیں۔ 12
Ayah 8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے

13 یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دینے والا ہے۔
Ayah 8:14

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ تمہاری سزا ہے اس کا مزہ یہاں بھی چکھو اور یقین جانو کہ کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب بھی مقرر ہے۔

14 یہ تمہارے کئے کی سزا ہے اس کا مزہ چکھو اور یقین جانو کہ منکروں کے لئے جہنم کا عذاب بھی مقرر ہے۔ یعنی دنیا میں بھی سزا اور آخرت میں بھی عذاب۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو ! جب تم میدانِ جنگ میں کافروں کے مقابل ہوجائو تو ان کو پیٹھ نہ دکھائو

15 اے ایمان والو ! جب تمہارا ایسے لوگوں سے مقابلہ ہوجائے جنہوں نے راہ کفر و انکار اختیار کررکھی ہے اور تم ان سے بھڑجائو کہ میدانِ نجگ میں آمنے سامنے آجائو تو پھر ان منکروں کو پشت نہ دکھائو اور پیٹھ دکھا کر ان کو لوٹو نہیں۔ یعنی بھاگو نہیں۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص اس دن ان کافروں کو پیٹھ دکھائے گا ماسوا اس بات کے کہ یا تو وہ کوئی جنگی پینترا کرنے والا ہو یا وہ اپنی جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہو تو ان دونوں صورتوں کے علاوہ جو ایسا کرے گا تو وہ یقیناً خدا کا غضب لیکر لوٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ جہنم بہت ہی بری جگہ ہے لوٹنے کی۔

16 اور جو شخص ان منکروں کو پیٹھ دکھا کر لوٹے گا بجز اس بات کے کہ یا تو وہ کوئی جنگی پیترا کرنے والا ہو یا وہ اپنی جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہو۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ وہ شخص لوٹے گا تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ جہنم لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی دشمن کے مقابلے سے ہٹنے کی صرف دو صورتوں میں اجازت ہے ایک تو یہ کہ کوئی لڑائی کا دائو ہو۔ مثلاً پیچھے ہٹ کر دشمن کو آگے آنے کا موقعہ دینا یا اس کو مطمئن کرنے کی غرض سے پیچھے ہٹنا اور پھر ایک دم حملہ کرنا وغیرہ۔ دوسری صورت یہ کہ مثلاً کوئی شخص لڑتے لڑتے آگے بڑھ گیا اور اس کی جماعت پیچھے رہ گئی یہ چاہتا ہے کہ اپنی جماعت میں مل جائے اور اس لئے پیچھے ہٹ جائے ان دو ۔ حالتوں کے علاوہ جو ناگزیر ہیں اگر کوئی بزدلی اور کمزوری سے بھاگے گا اور پیٹھ دکھائے گا تو وہ اللہ کا غضب اور اس کی ناراضگی لیکر لوٹے گا اور دوزخ اس کا ٹھکانا ہوگا اور و کبیرہ گناہ کا مستحق ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب مقابلہ میدان میں ہو تو بھاگنا اشد گناہ ہے اور جو دور ہو یا غارت تو بھاگنا ہنر ہے۔ 12 ۔ ان صورتوں کے علاوہ ایک اور شکل بھی ہے ۔ جو آگے مذکور ہوگی۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پس تم نے ان کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور جس وقت آپ نے ان کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو وہ آپ نے نہیں پھینکی بلکہ وہ اللہ نے پھینکی تھی تاکہ کافروں کو شکست ہو اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بہترین اجر عطا فرمائے۔ بلاشبہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

17 پس اے مسلمانو ! تم نے ان کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا اور اے پیغمبر ! جب آپ نے دشمنوں کی جانب خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی اور یہ خلاف توقع اور خلاف عادت کام اس لئے ہوئے تاکہ دشمنانِ اسلام کو شکست ہو۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بہترین اور اچھا اجر دے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ یعنی اس قدر بےسروسامان اور قلیل جماعت نے جو اتنی بڑی مسلح جماعت کو شکست دی تو یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوا اور اسی نے کیا۔ اسی طرح ہجوم اعداء کے وقت نبی کریم ﷺ نے ایک خاک کی مٹھی بھر کر اعدا کی جانب پھینکی تھی اور فرمایا تھا۔ شاعت الوجوہ چناچہ وہ مٹھی بھرخاک سب دشمنوں کی آنکھوں میں پڑگئی اور اس کو بھی فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہ تھا بلکہ یہ ہمارا کام تھا۔ مطلب یہ ہے کہ تمام افعال کو اگرچہ مسلمانوں کی طرف منسوب کیا لیکن حقیقی اثرات کی وجہ سے اپنی جانب منسوب فرمایا جو نتیجہ اور اثر ان افعال پر مرتب ہوا وہ تمہارا کام نہ تھا بلکہ وہ ہمارا کام تھا اور چونکہ ظاہری جدوجہد پر اجر ملنے والا تھا۔ اس لئے فرمایا، ولیبلی المؤمنین مند بلآء حسنا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب شدت جنگ ہوئی تب حضرت نے ایک مٹھی کنکریاں اس لشکر کی طرف پھینکیں اللہ کی قدرت سے ہر کسی کی آنکھ میں خاک پہنچی اس کے بعد شکست کھائی یہ فرمایا کہ مسلمان سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں سب اللہ کی مدد سے ہے تو کسی بات میں اپنا دخل نہ کریں۔ 12
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ بات تو تم نے دیکھ لی اور یقین جانو کہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔

18 یہ بات تو ہوچکی اور یہ بات تم نے دیکھ لی یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔ یعنی یہ تو ہوا جو کچھ ہوا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کے مکرو کید کو کمزور کرنا مقصود تھا۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اگر تم کو فیصلے کی خواہش تھی تو فیصلہ تو تمہارے آگے آموجود ہوا اور اگر اب تم باز آجائو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم آئندہ یہی کروگے تو ہم بھی پھر یہی کرینگے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی او یقین مانو ! کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔

19 اے اہل مکہ اگر تم کو فیصلے کی خواہش تھی تو فیصلہ تمہارے پاس آگیا اور اب اگر تم باز آجائو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم باز نہ آئوگے اور پھر وہی کروگے تو ہم بھی پھر یہی کریں گے اور تمہاری جمعیت خواہ کتنی ہی زیادہ ہو تمہارے کچھ کام نہ آئے گی اور یقین مانو ! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ یعنی فیصلہ مانگا کرتے تھے سو فیصلہ آپہنچا۔ اب تم کو چاہئے کہ تم اسلام کی مخالفت اور مسلمانوں کی ایذا رسانی سے باز آجائو تو یہ تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم پھر وہی ناشائستہ حرکات کروگے اور مسلمانوں کو ستائوگے تو ہم پھر تم کو عذاب دیں گے اور تم کو مغلوب کردیں گے اور تمہاری جماعت اور تمہارا گروہ خواہ کتنا ہی زیادہ ہو تم کو خدا کے عذاب سے بچانہ سکے گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کی سورتوں میں ہر جگہ کافروں کا قول نقل فرمایا کہ ہر گھڑی کہتے ہیں۔ متیٰ ہذا الفتح یعنی کب ہوگا یہ فیصلہ اب جواب فرمایا کہ یہ فیصلہ آپہنچا اور اگر باز آئو۔ یعنی کفر سے اور اگر پھر کرو گے یعنی لڑائی تو ہم پھر کریں گے یعنی مدد۔ 12
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس حکم ماننے سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو۔

20 اے ایمان لانے والو ! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور اس اطاعت سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو۔ یعنی قرآن کو اعتقاد کے ساتھ سنتے ہو جس اعتقاد کے ساتھ سنتے ہو اسی طرح عمل بھی کرو کیونکہ یہی ایمان کی شان ہے آگے منافقوں اور کافروں کے طرز عمل سے بچنے کو فرمایا۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ کچھ نہیں سنتے۔

21 اور اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ کچھ نہیں سنتے۔ یعنی کافر تو اعتقاد ہی نہیں رکھتے اور منافق اعتقاد کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عمل وہ بھی نہیں کرتے اس لئے ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔ جو کچھ سنیں اس پر اعتقاد کے ساتھ عمل بھی کریں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسے یہود نے حکم توریت زور آوری سے قبول کیا اور دل سے ناقبول رکھا جیسے منافق زبان سے حکمبردار ہیں اور دل سے نہیں۔ 12
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک تمام جان داروں میں بدترین وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو اپنی عقل سے کام نہیں لیتے

22 بلاشبہ تمام روئے زمین پر چلنے والوں میں یعنی تمام مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین وہ بہرے گونگے ہیں جو بالکل نہیں سمجھتے اور اپنی عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یعنی حق کے سننے سے بہرے اور حق بات کہنے سے گونگے اور سمجھ سے کام نہ لینے والے یہ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک بدترین ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جانوروں سے بھی بدتر ہیں وہ آدمی کہ دین حق کو نہ سمجھیں۔ 12
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق عطا کرتا اور اگر وہ موجودہ حالت میں ان کو سنا دیتا تو وہ بےرخی کے ساتھ الٹے پھرجاتے۔

23 اور اگر اللہ تعالیٰ ان معاندین میں کوئی خوبی اور بھلائی جانتا یعنی کم از کم ان میں حق کی طلب ہی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو ملنے کی توفیق عطا فرماتا اور وہ اگر ان کو موجودہ حالت میں سنا دے تو وہ ضرور بےرخی کے ساتھ پیٹھ پھیر کر الٹے پھرجائیں۔ یعنی جب ان میں ہدایت کی طلب نہیں اور ان میں صلاحیت نہیں ہر بھلائی کے عاری تو ان کی دست گیری کس بنا پر کی جائے اگر موجودہ حالت میں ان کو سنایا جائے تو یہ اعراض کریں گے اور منہ پھیر کر بےرخی کے ساتھ بھاگیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ نے ان کے دل میں ہدایت کی لیاقت نہیں رکھی جن میں لیاقت رکھی ہے انہی کو ہدایت دیتا ہے اور بغیر لیاقت جو سنتے ہیں وہ انکار کرتے ہیں۔ 12
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس رسول کا حکم بجالایا کرو جب تم کو اس کا رسول ایک ایسے کام کی دعوت دیا کرے جو تم کو زندگی بخشنے والا ہے اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوجایا کرتا ہے اور یہ بھی یاد رکھو تم سب اس کی پیشی میں جمع کئے جائوگے۔

24 اے ایمان لانے والو ! تم اللہ اور رسول کا حکم بجالایا کرو جب تم کو رسول ﷺ ایسے کام کی دعوت دیا کریں اور پکارا کریں جو کام تم کو زندگی بخشنے والا اور تم کو زندہ رکھنے والا ہو اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے دل کے مابین حائل ہوجایا کرتا ہے اور آڑ بن جایا کرتا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ تم سب کو خدا کے حضور میں جمع ہونا ہے۔ یعنی اللہ اور رسول کا حکم بجالائو جب رسول تمہیں زندگی بخشنے والے کام کی طرف بلایا کرے اور پکارا کرے جیسے جہاد وغیرہ کی طرف تو امتثال امر میں جلدی کیا کرو آدمی اور اس کے دل کے مابین آڑ بن جانے کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے قلب میں طاعت کی برکت سے کفر نہیں جانے دیتا اور کافر کے قلب میں اس کی شقادت کے باعث ایمان نہیں داخل ہونے دیتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکم بجالانے میں دیر نہ کرو شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے دل اللہ کے ہاتھ ہے اور اللہ اول کسی کے دل کو روکتا نہیں اور مہر نہیں کرتا جب بندہ کاہلی کرے تو اس کی جزا میں روک دیتا ہے یا ضد کرے حق پرستی نہ کرے تو مہر کردیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کبھی شقادت و بدبختی کی مختلف حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہوتی ہے کہ حضرت حق تعالیٰ کسی بدنصیب کے لئے خود ٓڑ بن جائیں اور نیکی کی توفیق ہی سلب کرلیں۔ اعاذنا اللہ اسی لئے استجابت کا حکم دیا کہ بھلے کام میں تاخیر نہ کرو اور غفلت سے کام نہ لو مبادا قلب کی حالت بدل جائے۔ آخر میں جواب دہی اور حضور الٰہی میں پیشی کا یقین دلایا تاکہ اس دن کے خیال سے غافل نہ ہوں اور سستی اور کاہلی سے بچیں۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور تم اس وبال سے بچو جس کا اثر صرف انہی لوگوں تک محدود نہیں رہا کرتا جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں اور یہ بات خوب جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔

25 اور تم اس بلا اور وبال سے ڈرتے رہو جس کا اثر صرف ان ہی لوگوں تک محدود نہیں رہتا جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ بات خوب جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ یعنی جب کوئی وبال آتا ہے تو اس میں سب ہی مبتلا ہوجاتے ہیں مجرم بھی اور مداہن بھی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکم میں کاہلی کرنے سے ایک تو دل ہٹتا ہے دم بدم اور وہ کام زیادہ مشکل پڑتا ہے دوسرے نیکوں کی کاہلی سے گنہگار بالکل چھوڑ دیں گے تو رسم بد پھیلے گی اور اس کا وبال سب پر پڑے گا جیسے جنگ میں دلیر سستی کریں تو نامرد بھاگ ہی جاویں پھر شکست پڑے تو دلیر بھی نہ تھام سکیں۔ 12 خلاصہ یہ … کہ خود بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور دوسروں کو بھی ترغیب و تحریص دلائو خاموش نہ رہو ورنہ عا فتنہ سے محفوظ نہ رہوگے۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم قلیل التعداد تھے اور سرزمین مکہ میں کمزور سمجھے جاتے تھے تم اس بات سے ڈرا کرتے تھے کہ کہیں تم کو کفار اچک نہ لے جائیں پھر تم کو خدا نے ٹھکانا دیا اور اپنی مدد سے تم کو قوت دی اور پاکیزہ چیزیں تم کو عطا فرمائیں تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو۔

26 اور اس حالت کو اور اس وقت کو یاد کرو جب تم تعداد میں بہت تھوڑے تھے اور سرزمین مکہ میں کمزور سمجھے جاتے تھے تم اس بات سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں تم کو کفار اچک نہ لے جائیں اور تم پر حملہ اور قتل و غارتگری نہ کردیں پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو ٹھکانا دیا اور اپنی مدد سے تم کو قوت دی اور عمدہ عمدہ چیزیں تم کو کھانے کو دیں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہو۔ یعنی مکہ کی ابتدائی زندگی بہت ہی خطرناک تھی مسلمانوں کی تعداد کم تھی کوئی سیاسی اقتدار نہ تھا دشمنوں کا غلبہ تھا دشمن آسمانی تہذیب سے ناواقف تھا جاہل تھا اس لئے اس کی جہالت سے ہر وقت اندیشہ تھا کہ نہ معلوم کس وقت حملہ کردے اور مٹھی بھر مسلمانوں کو قتل کردے۔ لوٹ لے عورتوں اور بچوں کو قید کرلے اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے مدینے بھیج کر بدل دیا۔ وہاں تعداد بھی بڑھ گئی۔ جہاد کی اجازت ہوگئی مالی حالت میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی سیاسی اقتدار بھی میسر آیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ستھری چیزیں یعنی مال غنیمت۔ 12
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ اور رسول کے حقوق میں کمی نہ کیا کرو اور اپنی باہمی امانتوں میں بھی خیانت نہ کیا کرو۔ حالانکہ تم جانتے ہو۔

27 اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حقوق میں خیانت اور کمی نہ کرو اور نہ تم اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم اس کے ضرر اور نقصان کو جانتے ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے حقوق میں خیانت یہ کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے یا سستی اور کاہلی سے کام لیا جائے جس کام پر اللہ کے رسول نے مامور کیا ہو اس کے انجام دینے میں بددیانتی کی جائے یا مال غنیمت میں بددیانتی کی جائے۔ غرض خیانت خواہ حقوق اللہ میں ہو یا حقوق العباد میں ہو۔ بہرحال بری اور ممنوع ہے اس کا ضرر رساں ہونا کم و بیش ہر مسلمان جانتا ہے۔ مفسرین نے آیت کے نزول کا تعلق ابو لبابہ سے ظاہر کیا ہے مگر الفاظ بہت وسیع ہیں اور بڑی تفصیل چاہتے ہیں۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور تم یہ بات خوب جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں ایک قسم کا امتحان ہیں اور یہ یقین کرو کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔

28 اور تم یہ بات خوب جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان اور آزمائش کی چیز ہے اور یہ بھی یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑ اجر وثواب ہے۔ یعنی جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں گے اور کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے تو وہ اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چوری اللہ رسول کی یہ بھی ہے کہ چھپ کر کافروں سے ملیں اپنے مال اور اولاد کے بچائو کو جیسے مہاجرین میں اکثروں کے گھر مکہ میں تھے اور یہ بھی ہے کہ مال غنیمت چھپا رکھیں سردار پاس ظاہرنہ کریں۔ 12 مطلب یہ ہے کہ بعض مہاجرین کے بیوی بچے مکہ میں تھے بعض کے گھر اور املاک بھی مکہ میں تھے اس قسم کے مہاجرین اپنی اولاد اور املاک ک تحفظ کی وجہ سے مکہ کے کافروں کی کچھ رعایت کرتے ہوں گے یا ہمدردی کرتے ہوں گے تاکہ ان کی اولاد اور املاک محفوظ رہے اور کافر اس کو نقصان نہ پہنچائیں۔ تفصیل سورة ممتحنہ میں آئے گی۔ اس قسم کی معمولی سی فروگذاشت کو حضرت حق نے خیانت فرمایا اور مال و اولاد کو فتنہ سے تعبیر کیا اور آزمائش میں پورا اترنے والوں سے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم خدا سے ڈرتے رہوگے تو خدا تم کو ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ تم سے زائل کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔

29 اے ایمان لانے والو ! اگر تم تقویٰ اختیار کروگے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہوگے تو وہ تم کو تمہارے مخالفوں کے مقابلہ میں ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گا اور تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تمہارے گناہ تم سے زائل کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ امتیاز جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا دنیا میں غلبہ اور آخرت میں دائمی نعمتیں ! تمہارے دشمنوں کو ذلیل اور ہلاک کردے گا تم غالب ہوگے اور تمہارا دشمن مقہور ہوگا یہ تو دنیا میں ہوگا اور آخرت تو ظاہر ہی ہے کہ اہل تقویٰ نعمتوں میں ہوں گے اور ان کے دشمن عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وامتازط الیو ایھا المجرمون۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید فتح بدر میں مسلمانوں کے دل میں آیا ہو کہ یہ فتح اتفاقی ہے حضرت سے مخفی کافروں پر احسان کرے کہ ہمارے گھر بار کو نہ ستاویں سو پہلی آیت میں چوری کو منع فرمایا اور دوسری آیت میں تسلی دی کہ آگے فیصلہ ہوجائے گا تمہارے گھر بار کافروں میں گرفتار نہ رہیں گے۔ 12
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب کافر آپ کے متعلق مختلف تدبیریں کررہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو جلاوطن کردیں اور حالت یہ تھی کہ ایک طرف وہ اپنی چال چل رہے تھے اور دوسری طرف اللہ ان کے توڑ کے لئے ایک اور چال چل رہا تھا اور سب دائوں کرنے والوں سے اللہ بہترین دائو کرنے والا ہے

30 اور اے پیغمبر ! آپ اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب کافر آپ کے متعلق مختلف تدبیریں سوچ رہے تھے اور باہل مل کر تدبیریں کررہے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو نکال دیں اور جلا وطن کردیں اور حالت یہ تھی کہ ایک طرف وہ سازشیں کرکے اپنی چال چل رہے تھے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ ان کے توڑ کے لئے ایک اور چال چل رہا تھا اور سب دائوں کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بہترین دائوں کرنے والا ہے۔ یعنی اس کی تدبیر مستحکم اور مضبوط ہوتی ہے اس کی چال اور اس کے دائو کا کوئی توڑ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ فرمایا کہ جیسے اللہ نے پیغمبر کو بچالیا ہے تو تمہارے گھر بار کو بھی بچا رکھے۔ 12
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا کہہ سکتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں محض پہلے لوگوں کی بےسروپاکہانیاں ہیں۔

31 اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور ان کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں بس جی ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا کہہ سکتے ہیں اور اس جیسا قرآن بناسکتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں محض گزشتہ لوگوں کے بےسروپا قصے اور کہانیاں ہیں۔ یعنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں کہ بس جی ہم نے سن لیا یہ تو کوئی معجزہ نہیں ہم اگر چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بناسکتے ہیں یہ تو بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور پہلے لوگ بھی جنت و دوزخ اور مرکر جی اٹھنے کا ذکر کیا کرتے تھے اور پہلی ملتوں میں بھی یہ قصے سنائے جاتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ یہ کہتے تھے اب تو دیکھ لیا یہ قصے نہ تھے وعدہ عذاب تم پر بھی آیا جیسے پہلوں پر آیا تھا۔ 12
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب ان کافروں نے یوں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن کریم حق ہے اور تیری طرف سے نازل کیا ہوا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج۔

32 اور وہ اقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ان منکروں نے یوں دعا مانگی تھی اے اللہ ! اگر یہ قرآن اور یہ دین آپ کی طرف سے واقعی ہے اور یہ قرآن حق ہے اور آپ ہی کا نازل کردہ ہے تو ہم پر اس کے نہ ماننے کی وجہ سے آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ یعنی کوئی خارق عادت عذاب آجائے مثلاً پتھر برس جائیں یا آگ برس جائے یا اور کوئی ایسا عذاب جس سے پہلی امتیں تباہ ہوئی ہیں ہمارا بھی استیصال کردیا جائے بعض علاء کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تکذیب اور دین کی تکذیب میں ان کی شقادت یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر دعائیں مانگتے تھے کہ اگر یہ قرآن اور یہ دین تیرا ہی بھیجا ہوا ہے تو ہم پر عذاب نازل کردے۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ابو جہل جب مکہ سے نکلنے لگا تو یہی دعا کی کعبہ کے سامنے وہی پیش آئی۔ 12 بہرحال قرآن کریم نے ان کے جواب میں دو باتیں فرمائی جو آگے مذکور ہیں۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ ان میں آپ کے موجود ہوتے ہوئے پھر ان کو ایسا عذاب کرے اور اللہ کی یہ شان بھی نہیں ہے کہ وہ استغفار کرنے والے ہوں

33 اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں اور حضرت حق تعالیٰ کو یہ مناسب نہیں کہ اے محمد ﷺ ! آپ ان میں موجود ہوں اور پھر وہ ان کو ایسا عذاب کے اور کوئی خارق عادت عذاب بھیج کر ان کا استیصال کردے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان بھی نہیں کہ وہ ان کو عذاب کرے درآنحالیکہ وہ بخشش مانگنے والے ہوں۔ یعنی سنت اللہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں پیغمبر موجود رہتا ہے اور وہ قوم بخشش طلب کرتی رہتی ہے تو اس قوم پر عذاب استیصال نہیں آتا اور وہ قوم بالکلیہ فنا نہیں کی جاتی۔ یہ مطلب نہیں کہ کفر وعناد کے باوجود کسی قسم کا عذاب ہی نہیں آتا، ادھر تو نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے۔ دوسری طرف یہ کافر طواف کے موقعہ پر غفرانک غفرانک کہتے تھے۔ شاید یہ لفظی استغفار ان کے لئے عذاب کا مانع ہوا ہو اگرچہ قیامت کے روز مفید نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مکہ میں حضرت کے قدم سے عذاب اٹک رہا تھا اب ان پر عذاب آیا اسی طرح جب تک گناہ گار نادم رہے اور توبہ کرتا رہے تو پکڑا نہیں جاتا اگرچہ بڑے سے بڑا گناہ ہو۔ حضرت نے فرمایا گناہ گار کو دو چیزیں پناہ ہیں ایک میرا وجود دوسرا استغار۔ 12
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور پھر ان کو عذاب کرے اور ان کا کون سا حق ہے کہ اللہ ان کو کچھ بھی عذاب نہ کرے جبکہ وہ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ لوگ اس مسجد کی تولیت کے اہل بھی نہیں ہیں اس کی تولیت کے حقدار تو سوائے متقی لوگوں کے دوسرے نہیں ہوسکتے لیکن ان کافروں میں سے اکثر اس حقیقت کو نہیں جانتے

34 اور جو حرکات وہ کررہے ہیں ان حرکات کے بعد کیا حق ہے اور کون سا استحقاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کچھ بھی عذاب نہ کرے یعنی غیر خارق عادت عذاب نہ کیا جائے جبکہ وہ مسلمانو کو مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ لوگ اس مسجد حرام کی تولیت کے اہل بھی نہیں ہیں اس مسجد حرام کی تولیت کے حقدار تو سوائے متقی لوگوں کے کوئی دوسرا شخص نہیں ہوسکتا لیکن ان کافروں میں سے اکثر اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ یعنی ان کافروں کی حرکات مذمومہ کی یہ حالت ہے کہ یہ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں آنے سے روکتے ہیں اور اس مسجد حرام کی تولیت کا حقدار اپنے کو سمجھتے ہیں ان حرکات مذمومہ کے بعد وہ یقیناً سزا کے مستحق ہیں پھر ان کو سزا کیوں نہ دی جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قریش آپ کو اولاد ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ کر کعبہ کے مختر ٹھہراتے تھے اور مسلمانوں کو آنے نہ دیتے سو فرمایا کہ اولاد ابراہیم جو پرہیزگار ہو اسی کا حق ہے اور بےانصافوں کا حق نہیں کہ جس سے آپ ناخوش ہوئے۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سوائے اس کے اور کچھ نہ تھی کہ وہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے سو اب عذاب کا مزہ چکھو اس کفر کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔

35 اور بیت اللہ کے پاس یعنی مسجد حرام میں ان کی نماز سوائے اس کے اور کچھ نہ تھی کہ وہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے لہٰذا اب اس کفر کی پاداش میں جو تم کیا کرتے تھے عذاب کا مزہ چکھو۔ یعنی مسلمانوں کو جو اللہ کی عبادت کرنے کی غرض سے کعبہ میں آئیں تو ان کو آنے نہ دیا جائے اور خود مسجد حرام میں سیٹیاں اور تالیاں بجائیں اور اس توہین آمیز فعل کو نماز کہیں۔ لہٰذا ان افعال شنیعہ کا یہ تقاضا تھا کہ ان کو عذاب کیا جائے خواہ وہ عذاب خارق عادت نہ ہو بلکہ محض عادی ہو۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ دین حق کے منکر ہیں وہ اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں۔ سو یہ لوگ ابھی اپنے مال اور اسی طرح خرچ کرتے رہیں گے لیکن آخرکار وہ مال ان کے لئے موجب حسرت ہوں گے اور بالآخر وہ مغلوب ہوں گے اور جو لوگ دین حق سے منکر ہوں گے وہ سب جہنم کی طرف لے جانے کے لئے جمع کئے جائیں گے۔

36 بلاشبہ جو لوگ دین حق کے منکر ہیں وہ اپنے مال لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں تو یہ لوگ اس غرض کے لئے ابھی اپنا مال خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر میں وہ اموال ان پر موجب حسرت ہوں گے اور بالآخر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کررکھی ہے اور دین حق سے انکار ان کا شیوہ ہے ان سب کو دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے جمع کیا جائے گا۔ یعنی کفر کی اشاعت کے لئے جو لوگ روپیہ خرچ کررہے ہیں وہ ابھی کرتے رہیں گے لیکن ایک دن ان کے اموال موجب حسرت و پشیمانی ہوں گے کفر مغلوب ہوگا یہ تو دنیا میں ہوگا اور آخرت میں ان کو دوزخ میں دھکیلنے کو اکٹھا کیا جائے گا۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک لوگوں سے جدا کردے پھ ناپاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر ان سب کا ایک ڈھیر بنائے اور اس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ ہیں پورا خسارہ اٹھانے والے۔

37 تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک لوگوں کو پاک لوگوں سے الگ کردے پھر ناپاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر ان کا ڈھیر بنائے اور اس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ پورے خسارے میں ہوں گے اور یہی لوگ ہر قسم کا نقصان اٹھانے والے ہیں۔ یعی جب اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جائیں گے تو اہل جنت ان سے جدا ہوجائیں گے پھر سب اہل جہنم کو ملاجلاکر جہنم کے سپرد کردیا جائے گا اور اس طرح ناپاک اور پاک میں امتیاز ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آہستہ آہستہ اللہ اسلام کو غالب کرے گا اسی بیچ میں کافر اپنا زور جان اور مال کا خرچ کرلیں گے تانیک اور بد جدا ہوجاوے یعنی جن کی قسمت میں اسلام لکھا ہے وہ سب مسلمان ہوچکیں اور جن کو کفر پر مرنا ہے وہی اکٹھے دوزخ میں جاویں گے۔ 12
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

اے نبی آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر وہ اپنے طرز عمل سے باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا وہ ان کو معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ اپنی وہی روش رکھیں گے تو گزشتہ لوگوں کے ساتھ ایک خاص روش اختیار کی جاچکی ہے۔

38 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان لوگوں سے جنہوں نے دین حق کے انکار کا شیوہ اختیار کررکھا ہے کہہ دیجئے کہ اگر وہ اپنے طرز عمل سے باز آجائیں یعنی دین حق کی مخالفت ترک کرکے اسلام کو قبول کرلیں تو جو گناہ ان سے قبل از اسلام صادر ہوچکے ہیں وہ تمام گناہ ان کے معاف کردیئے جائیں گے اور اگر انہوں نے وہی اپنی جاحدانہ اور جارحانہ روش رکھی تو اگلے لوگوں کی راہ پڑچکی ہے اور پہلوں کا طریقہ جاری ہوچکا ہے۔ یعنی اگر معاندانہ سرگرمیاں بند کردی جائیں اور اسلام قبول کرلیں تو پہلے تمام گناہ معاف اور اگر مخالفانہ سرگرمیاں جاری رہیں اور پھر انہی باتوں کا ارتکاب کیا گیا تو تم سے اگلے لوگوں کی جو راہ پڑچکی ہے اور سابقہ کافروں پر جو قانون جاری ہوچکا ہے وہ تم پر بھی لاگو ہوگا۔ یعنی دنیا میں ہلاک و مغلوب ہونا اور آخرت میں عذاب۔
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور کافروں سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ کا نام و نشان باقی نہ رہے اور دین تمام تر اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر یہ لوگ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔

39 اور اے مسلمانو ! تم ان منکرین دین حق سے اس وقت تک جنگ کرتے رہو۔ اور کفارِ عرب سے اس حد تک جنگ جاری رکھو کہ اس فتنہ کا نام و نشان باقی رہے اور دین تمام تر اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر یہ لوگ اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ یعنی منکرین عرب پر چونکہ جزیہ نہیں ہے اس لئے ان سے اس وقت تک لڑو جب تک ان کا فتنہ یعنی ان کے عقائد فاسدہ کا استیصال نہ ہوجائے اور تمام دین اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوجائے یعنی یہ شرک چھوڑ دیں اور ان کا دین اللہ ہی کے لئے خالص ہوجائے پس اگر یہ باز آجائیں اور شرک کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں تو تم ان کو چھوڑ دو اور بلاوجہ ان پر بدگمانی نہ کرو کیونکہ ان کے تمام اعمال کو اللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والا ہے باطن کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔
Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا حمایتی ہے اور وہ بہت اچھا حامی اور بہت اچھا مددگار ہے۔

40 اور اگر وہ اسلام سے روگردانی کریں تو لڑائی بند نہ کرو اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ تمہارا حمایتی ہے اور وہ بہت اچھا آدمی اور بہت اچھا مددگار ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لڑو جب تک فساد نہ رہے یعنی کافروں کا زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں۔