8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو چیز بھی جنگ میں تم کو غنیمت کے طور پر حاصل ہو اس میں سے کل کا پانچواں حصہ اللہ کا اور اس کے رسول کا ہے اور رسول کے قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور مساکین کا اور مسافروں کا ہے اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے بندے یعنی محمد ﷺ پر فیصلے کے دن نازل کی تھی وہ دن وہ تھا جس دن دونوں جماعتیں باہم مقابل ہوئی تھیں اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے۔

41 اور یہ بات جان لو کہ جو چیز بھی تم کو جنگ میں کافروں سے بطور غنیمت حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں سے کل پانچواں حصہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے ہے۔ اور رسول کے قرابت داروں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے محمد ﷺ پر فیصلے کے دن نازل کی تھی وہ دن وہ تھا جس دن بدر میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مقابل ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی سورت کے شروع میں جو مال غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے تھے اس کا حکم جان لو۔ جنگ لڑکر دشمنوں سے جو مال حاصل ہو اس کے پانچ حصے کئے جائیں ان پانچ میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے اور رسول کے لئے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی نیاز کا جو نبی کریم ﷺ کو دیا جائے گا حضور ﷺ اس پانچویں حصہ کو حسب ضرورت پانچ جگہ خرچ کرسکتے ہیں۔ ایک اپنی ذات پر دوسرے اپنے قرابت داروں پر تیسرے یتیموں پر چوتھے مساکین پر اور پانچویں مسافروں پر یوم الفرقان میں جو چیز نازل ہوئی اس سے مراد فتح و نصرت، ملائکہ کا ارسال، بارش تنبیت اقدام وغیرہ ہیں یعنی یوم بدر میں جو حق و باطل کے فیصلے کا دن تھا اس دن تائید غیبی سے جو تمہاری مدد کی گئی اس پر ایمان رکھتے ہو تو غنیمت کے احکام کی تعمیل کرو۔ دونوں جماعتیں یعنی مسلمانوں اور کفار مکہ کا مقابلہ ہوا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ نے اپنے رسول پر فتح و نصرت اتاری جس سے تم غالب ہوئے اور اللہ قادر ہے کہ آگے اور فتحیں دیوے جو مال کافروں سے لڑکر لیویں وہ غنیمت ہے اس میں پانچواں حصہ نیاز اللہ کی ہے واسطے خرچ رسول کو کہ رسول کو خرچ ہے اپنی ذات کا اور قرابت والوں کا اور حاجت مند مسلمانوں کا اور بعد حضرت کے بھی خرچ ہوتے ہیں سردار کو اور جو مال صلح سے لیا۔ وہ سارا خرچ مسلمانوں کا پھر غنیمت میں چار حصے رہے سو لشکر کو تقسیم کرنا سوار کو دو حصے پیادہ کو ایک۔ 12
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

یہ وقت تھا کہ جس وقت تم میدان کے درلے کنارے پر تھے اور وہ دشمن میدان کے پرلے کنارے پر تھے اور وہ قافلہ تم سے نیچے کی جانب اتر چکا تھا اور اگر تم اور کافر باہمی جنگ کا وقت مقرر کرتے تو تم میں مقررہ معیاد پر اختلاف ہوجاتا۔ لیکن جو کچھ ہوا وہ اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو پورا کردے جس کا ہونا مقرر ہوچکا تھا تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہے وہ روشن دلیل آنے کے بعد ہلاک ہو اور جس کو جینا ہو وہ روشن دلیل آنے کے بعد جئے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔

42 یہ وہ وقت تھا جس وقت تم میدان کے ورلے کنارے پر تھے اور وہ کافر میدان کے پرلے کنارے پر تھے اور وہ قریش کا قافلہ تم سے نیچے کی جانب اتر چکا تھا اور تم سے نشیب میں تھا اور اگر تم اور کافر باہمی جنگ کا وقت مقرر کرتے تو تم میں مقررہ میعاد پر اختلاف ہوجات لیکن ہوا یہ کہ بغیر میعاد کے مڈبھیڑ ہوگئی تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو پورا کردے جس کام کا ہونا اس کے علم ازلی میں مقرر ہوچکا تھا اور جو کام طے شدہ تھا یہ اس لئے ہوا کہ جس کو گمراہی کی موت مرنا ہے وہ قیام حجت اور روشن دلیل آجانے کے بعد مرے اور جس کو ہدایت یافتہ ہو کر جینا ہے وہ بھی قیام حجت اور روشن دلیل آنے کے بعد جئے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی مدینہ کے مسلمان ابو سفیان کے قافلہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے اور ابو جہل کی فوج قافلہ کی مدد کو آئی تھی قافلہ تو نشیب میں اتر گیا اور مدینہ کے مسلمانوں کا اور مکہ کے کافروں کا مقابلہ ہوگیا اس کا سبب بیان فرمایا کہ یہ بد دن وقت مقرر کئے جو لڑائی ٹھن گئی تو اس میں مصلحت یہ تھی کہ اگر وقت مقرر کیا جاتا تو ممکن تھا کہ مسلمانوں میں باہم اختلاف ہوجاتا یا مسلمانوں اور کافروں میں وقت کے تقرر پر اختلاف ہوجاتا یا مسلمان اپنی بےسرو سامانی کے باعث اور کافر مسلمانوں کی حق پرستی کے رعب کے باعث ایک دوسرے سے بھڑتے ہوئے گھبراتے اس لئے خلاف توقع دونوں کے ہاتھ مل گئے تاکہ ایک دفعہ اہل باطل کی کمرٹوٹ جائے اور امر حق ظاہر ہوجائے پھر کوئی ہلاک ہوتا ہے اور کفر کی موت مرتا ہے تو وہ حق کا نشان آجانے کے بعد مرے اور جو زندہ رہنا چاہتا ہے وہ قیام حجت اور دلیل آجانے کے بعد روحانی زندگی اختیار کرے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قریش اپنے قافلہ کی مدد کو آئے تھے اور تم قافلہ کے غارت کو قافلہ بچ گیا اور دونوں فوجیں ایک میدان میں دو کناروں پر آپڑیں ایک کو دوسرے کی خبر نہیں یہ تدبیر اللہ کی تھی اگر تم قصداً جاتے تو ایسا بروقت نہ پہنچتے اور اس فتح کے بعد کافروں پر صدق پیغمبر کا کھل گیا جو مرا وہ بھی یقین جان کر مرا جو جیتا رہا وہ بھی حق پہچان کرتا اللہ کا الزام پورا۔ 12
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اے پیغمبر ! وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ نے آپ کو آپ کے خواب میں ان کافروں کو تھوڑا دکھایا اور اگر آپ کو وہ ان کی کثرت دکھاتا تو اے مسلمانو تم ہمتیں ہار دیتے اور جنگ کے بارے میں تم کو ان باتوں سے محفوظ رکھا بیشک وہ سینوں د کی پوشیدہ باتوں سے خوف واقف ہے۔

43 اے پیغمبر ﷺ ! وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے خواب میں ان کافروں کی تعداد کم دکھائی اور خواب میں کافر تھوڑے دکھائے اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی تعداد زیادہ دکھاتا اور ان کی کثرت آپ کو دکھاتا تو اے مسلمانو ! تمہاری ہمتیں پست ہوجاتیں اور تم ہمتیں ہار دیتے اور جنگ کے بارے میں تم آپس میں جھگڑنے لگتے اور تم میں اختلاف ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کم ہمتی اور اختلاف سے محفوظ رکھا بلاشبہ وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں سے بخوبی واقف ہے۔ یعنی خواب میں پیغمبر کو کافر کم دکھلائے اگر زیادہ تعداد میں دکھاتے اور آپ مسلمانوں سے اپنا خواب ذکر کرتے تو مسلمانوں میں سے کوئی لڑنے کی جرأت کرتا کوئی نہ کرتا آپس میں اختلاف ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے تعداد کم دکھائی اور ان باتوں سے مسلمانوں کو بچا لیا وہ سب کے دلوں کی کمزوریوں اور بزدلیوں سے باخبر ہے۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو کہ جب تم بالمقابل ہوئے تو تمہاری آنکھوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہ میں تم کو کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ اس کام کو پورا کردے جس کا ہونا طے شدہ تھا اور تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائے گے۔

44 اور وقت یاد کرو جس وقت اے صحابہ ؓ کی جماعت تم کافروں کے مقابل ہوئے اور دشمنوں سے بھڑے تم کو تمہاری آنکھوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی آنکھوں میں تم کو کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ تعالیٰ کو جو کام کرنا تھا اور اس کے علم ازلی میں جو کام طے شدہ تھا وہ پورا ہوجائے اور تمام کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جملہ امور کا مرجع اسی کی ذات ہے۔ مسلمانوں کا تھوڑا دکھائی دینا تو ظاہر ہے کہ مسلمان کم ہی تھے اور کافروں کا باوجود زیادہ ہونے کے کم دکھائی دینا شاید اس بنا پر ہو کہ وہ مغلوب و مقہور ہونے والے تھے۔ سورة آل عمران میں تفصیل گزر چکی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پیغمبر کو خواب میں کافر تھوڑے نظر آئے اور مسلمانوں کو مقابلے کے وقت تاجرأت سے لڑیں پیغمبر کا خاوب غلط نہیں ان میں کافر رہنے والے کم ہی تھے اکثر وہ تھے جو پیچھے مسلمان ہوئے۔ 12
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم کافروں کی کسی جماعت سے نبرد آزما ہو تو مضبوطی سے جمے رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو

45 اے ایمان لانے والو ! جب تم جہاد میں کافروں کی کسی جماعت سے نبرد آزما ہو اور تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور مضبوطی سے جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو تاکہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو یعنی جہاد کے یہ آداب ہیں کہ جب مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور خدا تعالیٰ کا خوب ذکر کرو کیونکہ خدا تعالیٰ کی یاد سے دل مضبوط ہوتے ہیں اور جنگ میں دوہی چیزوں سے کامیابی ہوتی ہے ایک قدم کی جمائو دوسرے دل کی ہمت۔ حدیث میں ہے دشمن کے مقابلہ کی تمنا نہ کیا کرو اور اگر مقابلہ ہوجائے تو صبر کرو اور ثابت قدم رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مدد اللہ کی چاہو تو اسباب ظاہری سے نہیں دل کی استقامت اور یاد اللہ کی اور حکم برداری سردار کی اور ایک مصلحت چاہنی۔ 12
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم سست اور بزدل ہوجائوگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور ایسے حالات میں صبر سے کام لیا کرو بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

46 اور جملہ امور میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم کم ہمت اور بزدل ہوجائوگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور اگر کوئی بات طبیعت کے خلاف پیش آجائے تو ایسی حالت میں برداشت سے کام لیا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ صبر اور سہار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لڑائی میں جو حالات پیش آئیں ان میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو اور باہمی منازعت میں نہ پڑو ورنہ باہمی خانہ جنگی سے تمہاری مہتیں پست ہوجائیں گی اور دشمن کی نظر میں تمہاری ہوا بگڑ جائے گی اور اگر کوئی امر ناگوار طبع پیش آجائے تو صبر سے کام لو اللہ تعالیٰ کی معیت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بائو جاتی رہے گی یعنی اقبال سے ادبار آوے گا۔ 12
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے گھروں سے شیخی مارتے اور لوگوں کے دکھانے کو نکل آئے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور ان کے تمام اعمال اللہ کے احاطۂ علم میں ہیں۔

47 اور تم ان کافروں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے اور شیخی مارتے ہوئے اور لوگوں کے دکھانے کو نکل آئے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ان لوگوں کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہیں۔ بدر میں ابوجہل نہایت مفرورانہ انداز میں پہنچا اور باوجود ابو سفیان کے بچکر نکل جانے پر بھی جشن منانے کو ٹھہر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے مغرور، ریاکار اور شیخی خورو (رح) ں کا طرزعمل اختیار کرنے سے مسلمانوں کو روکا ان ریاکاروں کا مقصد نیک نہیں تھا بلکہ یہ لوگ ایک طرف ریاکاری کرتے اور اتراتے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور غلبہ حاصل کرکے دین حق پر چلنے والوں اور دین حق کی راہ کو تلاش کرنے والوں کی گمراہی کے درپے ہوتے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ ایسے بدکاروں کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ ان کی تمام جارحانہ کارروائیوں سے پوری واقفیت رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاد عبادت ہے عبادت پر اتراوے یا دکھانے کو کرے تو قبول نہیں۔ 12
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! اس وقت کو یاد دلائیے کہ جب شیطان نے ان کافروں کو ان کے اعمال خوشنما کرکے دکھائے تو ان سے کہا کہ آج لوگوں میں کوئی بھی تم پر غالب نہیں آسکتا اور میں تمہارا محافظ ہوں۔ پھر جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوئیں تو وہ شیطان اپنی ایڑیوں کے بل الٹا بھاگا اور کہنے لگا میں تم سے بری الذمہ ہوں۔ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے بیشک میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔

48 اور اے پیغمبر ﷺ ! اس وقت کو یاد دلائیے جب کہ شیطان نے ان کافروں کو ان کے اعمال مزین اور خوش نما کرکے دکھائے اور ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا اور کہا کہ آج بدر کے دن ان مخالف مسلمان لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب آنے والا اور غلبہ پانے والا نہیں ہے اور میں تمہارا حمایتی اور تم کو پناہ دینے والا ہوں پھر جب دونوں جماعتیں اور کفار و مسلمانوں کی دونوں فوجیں بالمقابل ہوئیں تو وہ شیطان اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھرا اور الٹا بھاگا اور کہنے لگا میں تم سے بری الذمہ ہوں اور میں تمہارے ساتھ نہیں کیونکہ میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے میں خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔ یعنی شیطان نے پہلے ہمت بندھائی جب فرشتوں کو دیکھا تو بھاگا کہ کہیں دنیا ہی میں فرشتوں کے ہاتھوں گزند نہ پہنچ جائے۔ انی اخاف اللہ کہا۔ لیکن بغیر ایمان کا ڈر نافع نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب کافر جمع ہوکر نکلے لڑائی پر راہ میں ایک شخص ملا بوڑھا کہا میں بھی مسلمانوں کا دشمن ہوں تمہاری رفاقت کو آیا ہودں اور جنگ کا بڑا ماہر ہوں پھر جب لڑائی ہونے لگی ابو جہل سے ہاتھ چھڑا کر بھاگا وہ شخص نہ پہلے کسی نے دیکھا نہ پیچھے دیکھا وہ شیطان تھا جب اس نے جبرئیل اور میکائیل دیکھے فرشتوں کی طرف تب بھاگا۔ 12
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے حالانکہ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔

49 وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے مغرور کررکھا اور ان کو دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے حالانکہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے یعنی اوس و خزرج کے منافق اور ضعیف الاعتقاد مسلمان یا وہ غیر مہاجر مسلمان جن کو ابو جہل زبردستی مدینہ والوں سے لڑنے کے لئے لے آیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی اس بےسروسامانی کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ حالت جنگ کنے کے قابل نہ تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمان دھوکہ میں ہیں اور ان کو ان کے دین نے بھول میں ڈال دیا ہے کہ قریش کی مسلح فوج سے مقابلہ کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس کا جواب ہے کہ ان مسلمانوں کو دھوکہ اور غرور نہیں ہے بلکہ ان کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور جو شخص اس پر صحیح توکل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق اس طرح طعن کرنے لگے تھے سو اللہ نے فرمایا کہ یہ غرور نہیں توکل ہے۔ 12
Ayah 8:50

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش ! آپ ان کافروں کی حالت کو اس وقت دیکھ سکتے کہ جب فرشتے ان کی اس طرح جان قبض کرتے ہیں کہ ان کے مونہوں پر اور پیٹھوں پر سخت مار مارتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔

50 اور اگر آپ ان کافروں کی حالت کو اس وقت دیکھیں جب فرشتے ان کافروں کی اس طرح جان قبض کرتے ہیں کہ ان کے مونہوں پر اور ان کی پیٹھوں پر سخت مار مارتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ آتش سوزاں کا مزہ چکھو۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عام کافر مراد ہیں ہوسکتا ہے کہ بدر میں جو کافر مرگئے ان کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے۔ آتش اور عذاب محرق کا یہ مطلب ہے کہ ابھی کیا ہے آگے جلانے والے عذاب کا مزہ چکھنا شرط کی جزا مخدوف ہے یعنی اگر آپ دیکھتے تو بڑاہی ہولناک منظر دیکھتے۔
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ عذاب ان اعمال کا بدلہ ہے جن کو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ورنہ یہ یقینی امر ہے کہ خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔

51 اور یہ عذاب ان اعمال شرکیہ اور کفریہ کا بدلہ ہے اور ان اعمال کی وجہ سے ہے جن کو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ورنہ یہ امر واقعی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔ یعنی جان قبض کرتے وقت جو مار پڑرہی ہے اور جہنم کے عذاب کی جو اطلاع دی جارہی ہے یہ ان اعمال بد کی پاداش ہے جو تم کرچکے ہو۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

ان لوگوں کا حال ایسا ہے جیسے فرعون والوں کا اور ان سے پہلے لوگوں کا کہ انہوں نے آیات خداوندی سے انکار کردیا پھر خدا نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا یقیناً اللہ بڑا زور آور اور سخت سزا دینے والا ہے

52 ان کی حالت کفر پر سزا ملنے میں ایسی ہے جیسے فرعون والوں کو اور ان سے پہلے لوگوں کی حالت کہ انہوں نے آیات الٰہی سے انکار کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور ان کی گرفت فرمائی یقیناً اللہ تعالیٰ بڑی قوت کا مالک سخت سزا دینے والا ہے۔ یعنی آل فرعون اور ان سے پہلے کفار کا جو حال ہوا وہی ان کا ہوا کیونکہ گناہوں میں یہ تمام مشترک تھے عذاب میں بھی مشترک ہوئے اور جو ان کا حال ہوا وہی ان کا حال کیا گیا۔
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو اس نعمت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں اور یقیناً اللہ بڑا سننے والا جاننے والا ہے۔

53 اس گرفت کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو اس کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ ارباب نعمت خود اپنی حالت کو نہ بدل دیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ بلاجرم کسی کو سزا نہیں جب جرم واقع ہوتا ہے تو سزا دی جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اعتقاد اور نیت جب تک نہ بدلئے تو اللہ کی بخشی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ 12
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

ان کا حال ایسا ہے جیسے فرعون والوں کا اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا اور وہ سب کے سب ظالم تھے۔

54 ان لوگوں کا حال سلب نعمت میں ایسا ہی ہے جیسے فرعون والوں کا اور ان لوگوں کا حال جوان سے پہلے تھے انہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کو جھٹلایا اور آیات الٰہی کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا اور ڈبو دیا اور وہ سب کے سب ظالم تھے۔ یعنی یہ بات بتائی تاکہ منکروں کو تنبیہہ ہو اور وہ ڈریں کہ کہیں ہمارا بھی وہی حال ہو جو آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کا ہوا۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بیشک سب جانداروں میں خدا کے نزدیک بدترین وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور وہ کسی طرح ایمان نہیں لاتے۔

55 بے شک سب جانداروں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین خلائق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر و انکار کا شیوہ اختیار کیا پھر وہ ایمان نہیں لائے۔ یعنی ان کی بداعمالیوں کے سبب توفیق ہی نہیں ملتی جو ایمان لائیں۔
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن کی حالت یہ ہے کہ آپ ان سے بارہا عہد لے چکے ہیں مگر وہ ہر مرتبہ اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور وہ عہد شکنی سے ذرا نہیں ڈرتے۔

56 یہ بدترین خلائق وہ لوگ ہیں جن کی حالت یہ ہے کہ آپ ان سے بارہا عہد لے چکے ہیں مگر وہ ہر بار اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور وہ عہد شکنی سے بالکل نہیں ڈرتے۔ یعنی وہ کافر بھی آل فرعون کی طرح نقض عہد کے خوگر اور عادی تھے اسی طرح یہ بھی بار بار آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اب ایسا نہیں ہوگا اور ہم آپ کے خلاف کوئی سازش نہیں کریں گے لیکن ہر بار عہد شکنی کرتے ہیں اور آپ کے خلاف سازشیں شروع کردیتے ہیں اور یہ نقص عہد سے ذرا پرہیز نہیں کرتے غالباً بنی قریضہ کے یہود کی عہد شکنی کا ذکر ہے۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پس اگر لڑائی میں ایسے عہد شکن آپ کے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو ایسی سزا دیجئے کہ آپ اس سزا کی وجہ سے ان کافروں کو جو ان کے پیچھے ہیں منتشر کردیں تاکہ وہ عبرت حاصل کریں

57 لہٰذا اگر آپ لڑائی میں ایسے عہد شکن کافروں پر قابو پالیں تو آپ ان کو ایسی سزا دیجئے کہ آپ اس سزا کے باعث ان لوگوں کو منتشر کردیں اور بھگا دیں جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں اور عبرت پکڑیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بار بار نقض عہد کرتے ہیں ان پر اگر آپ لڑائی میں قابو پالیں اور ان سے مقابلہ ہوجائے اور ایسے لوگ آپ کے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو ایسی سزا دیجئے کہ اس سزا کی وجہ سے آپ ان کافروں کے پائوں بھی اکھیڑ دیں جو ان کے علاوہ ہیں اور ان کی پشت پناہی کررہے ہیں وہ بھی منتشر ہوجائیں ان میں سے بھی کسی کی ہمت نہ پڑے کہ وہ آپ کے مقابلہ میں آسکے اور ان کو ایسا سبق دیجئے جس سے آئندہ نسلیں بھی عبرت پکڑیں۔ من خلفھم کا ترجمہ تین طریقہ سے کیا گیا ہے آئندہ نسلیں پیچھے رہنے والے۔ علاوہ۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر آپ کو کسی قوم معاہد کی طرف سے نقض عہد کا اندیشہ ہو تو ان کے عہد کو ان پر واپس کردیجئے تاکہ عہد سے سبکدوش ہونے میں آپ اور وہ دونوں برابر ہوجائیں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

58 یہ تو ذکر تھا ان کا جو نقض عہد کرنے کے خوگر ہیں اور اگر آپ کو کسی قوم معاہد کی جانب سے نقض عہد کا اندیشہ ہو تو آپ ان کے عہد کو ان پر واپس کردیجئے درآنحالیکہ آپ اور وہ عہد سے سبکدوش عہد توڑنے والے تو سزا کے مستحق ہی ہیں لیکن جس معاہد قوم کی طرف سے تم کو خیانت اور نقض عہد کا اندیشہ ہو تو ان پر حملہ کرنے سے پیشتر ان کو اطلاع دے دو تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں نے معاہدہ ختم کردیا تم اور وہ دونوں اس اطلاع میں برابر ہوجائیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر ایک قوم نے کافروں سے صلح کی ہو پھر ان کی طرف سے دغا ہوچکے اب ان کو بیخبر ماردیئے اور جو دغا نہیں ہوئی لیکن اندیشہ ہے تو خبردار کر کر جواب دیئے برابر کے برابر یعنی جو سرانجام کا صلح سے پہلے کرسکتے ہو اب بھی کرسکتے ہو لڑائی کا اس میں کچھ بدقولی نہیں۔ 12 خلاصہ یہ کہ عہد میں خیانت کرنا حرام ہے اگر تم عہد توڑنے کو مناسب سمجھو تو جس قوم سے معاہدہ ہے اس کو پہلے اطلاع دیدو تاکہ دشمن کو بھی دفاع کا موقعہ ملے اور اپنا سرانجام کرسکے۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ وہ بچ نکلے بیشک وہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے

59 اور جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کررکھی ہے وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ وہ بچ گئے بلاشبہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ممکن ہے کہ غدر و خیانت سے بچنے کی تاکید سن کر یہ سمجھے ہوں کہ اب ہم مسلمانوں کے قبضے میں نہ آسکیں گے جب یہ اطلاع دیکر حملہ کریں گے تو ہم بچ جائیں گے شاید اس کا جواب دیا کہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے نہ اس کو ہرا سکتے ہو۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور اے مسلمانو تم سے جس قدر ہوسکے کافروں کے مقابلہ کے لئے ہر قسم کے سامانِ جنگ سے اور پلے ہوئے گھوڑوں کے باندھے رکھنے سے تیاری کرتے رہو تاکہ اس آمادگی اور تیاری کے باعث تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو اور ان کے علاوہ اور دوسرے کافروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے پر اللہ ان کو جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کروگے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہاری کوئی حق تلفی نہ کی جائے گی

60 اور اے مسلمانو ! تم سے جس قدر ہوسکے اور تم میں جس قدر استطاعت ہو کافروں کے مقابلے کیلئے ہر قسم کی جنگی قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں کے باندھنے سے تیاری کرتے رہو تاکہ اس تیاری اور آمادگی کی وجہ سے تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک اور ہیبت بٹھائے رکھو اور ان موجودہ کافروں کے علاوہ جن کا تم سے رات دن سابقہ پڑتا رہتا ہے اور دوسرے کافروں پر بھی ہیبت او دھاک پڑے جن کو تم نہیں جانتے پر اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہاری کوئی حق تلفی نہیں کی جائے گی اور تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جہاد کیلئے تیاری اور مستعدی کرتے رہو اور سامانِ جنگ فراہم کرو جس میں ہر قسم کے ہتھیار آگئے۔ حدیث میں قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی گئی ہے بہرحال وقتی ضرورت اور زمانے کے لحاظ سے جو کچھ بھی ہو گھوڑے باندھنا بھی سامانِ جہاد میں داخل ہے خواہ جنگ نہ بھی ہو تب بھی سامان کی کثرت اور اس کی فراہمی سے اللہ کے اور مسلمانوں کے دشمنوں پر ہیبت قائم ہوتی ہے موجودہ دشمن تو وہی کفار عرب ہیں اور جن کا تم کو علم نہیں وہ یا تو منافق ہوں گے یا کفار کی دوسری حکومتیں ہونگی جن سے صحابہ ؓ کے زمانے میں لڑائیاں ہوئیں آخر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ذکر فرمایا جس میں جہاد کا تمام خرچ اور سامان کی فراہمی کا خرچ مجاہدوں کے نان و نفقہ کا خرچ سب آگیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہی حکم فرمایا کہ جہاد کا سرانجام کرو جو ہوسکے زور فرمایا تیراندازی کو اور ہتھیار کو کسب اسی میں داخل ہے اور گھوڑے پالنے میں جو خرچ ہو اس کی خوراک میں بلکہ اس کا سب فضلہ ترازو میں چڑھے گا قیامت کو فرمایا کہ یہ واسطے رعب کے ہے تانا نہ جانیں کہ فتح ہوگی اسباب سے فتح ہے اللہ کی مدد سے اور وہ لوگ جن کو تم نہیں جانتے وہ منافق ہیں کہ ظاہر مسلمان کے پردے میں ہیں۔ 12
Ayahs 8:61–62

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر کافر صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی صلح کی طرف مائل ہوجائے اور خدا پر بھروسہ رکھئے بلاشبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا قصد کریں گے تو یقین کیجئے اللہ آپ کو کافی ہے وہ خدا وہ ہے جس نے آپ کو اپنی امداد سے اور مسلمانوں کی جماعت سے قوت عطا فرمائی

61 اور اگر کافر و منکرین دین حق صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی صلح کے لئے مائل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے بلاشبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی اگر کفار صلح کی خواہش کریں تو حسب صواب دید اگر آپ مصلحت سمجھیں تو آپ بھی صلح کے لئے جھک جائے اور خدا پر بھروسہ رکھئے کیونکہ بسا اوقات صلح کے نام پر دشمن دھوکہ دینا چاہتا ہے اس لئے آپ کا توکل خدا پر ہونا چاہئے ان کے خفیہ مشوروں کو سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی اگر دل میں دغا رکھیں گے اللہ کو معلوم ہے اس کی سزا دے گا۔ 12 اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں گے تو یقین رکھئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے وہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے اپنی امداد غیبی سے اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی مدد فرمائی۔ یعنی ملائکہ سے اور سرفروش مسلمانوں کی جماعت بڑھا کر ظاہری طور پر ان سے آپ کی مدد کی اور قوت عطا فرمائی۔
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور مسلمانوں کے قلوب میں باہمی الفت پیدا کردی اگر آپ روئے زمین کی ہر ایک چیز بھی خرچ کردیتے تو بھی ان کے دلوں میں باہمی الفت نہیں پیدا کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان میں محبت و الفت پیدا کردی بیشک وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

63 اور اس نے مسلمانوں کے قلوب میں باہمی الفت و محبت پیدا کردی اگر آپ روئے زمین کی تمام دولت بھی خرچ کردیتے تو بھی ان کے دلوں میں اتفاق اور باہمی الفت نہیں پیدا کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان میں محبت و الفت پیدا کردی اور سب میں اتفاق پیدا کردیا بیشک وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے ظاہر ہے کہ ملک عرب میں اسلام سے پہلے سخت نااتفاقی پھیلی ہوئی تھی اور پورا ملک دشمنی اور باہمی عداوت کا گہوارہ بنا ہوا تھا اگر کوئی یہ چاہتا کہ روئے زمین کی دولت خرچ کرکے اس عداوت و دشمنی کی آگ بجھا دے تو ناممکن تھا لیکن نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کی برکت سے اور اسلامی تعلیم کی بدولت سب بھائی بھائی ہوگئے اور سب کے دلوں میں اخوت و محبت اور الفت و یگانگت کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عرب کی قوم میں آگے ہمیشہ بیر رکھتے تھے اور ایک دوسرے کے خون کا پیاسا۔ پھر حضرت ﷺ کے سبب سب متفق اور دوست ہوگئے۔ 12 خلاصہ یہ کہ جس نے تمام قلوب کو ایک جاکر دیا وہی آپ کے لئے کافی اور بس ہے کفار کے دھوکہ سے اندیشہ نہ کیجئے اور صلح کے موقعہ پر آپ بھی صلح کا ہاتھ اگر قرین مصلحت ہو تو بڑھا دیا کیجئے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ کو اور ان مسلمانوں کو جو آپ کے متبع ہیں اللہ ہی کافی ہے۔

64 اے نبی ﷺ ! آپ کو اور مسلمانوں کو جو آپ کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس آپ کے لئے بھی کافی اور جو مسلمان آپ کے پیرو ہیں ان کی مدد کو بھی اللہ کافی ہے۔ بعض نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حمایت کے لئے کافی ہے اور ظاہری اسباب کے طور پر وہ مسلمان جو آپ کے پیرو ہیں وہ آپ کی مدد کو کافی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ نے مدینہ میں آکر مسلمان شمار کروائے مرد قابل جنگ چھ سو ہوئے سب خوش ہوئے کہ اب ہم کو کس کافر کا ڈر ہے۔ 12 یعنی مردم شماری میں چھ سو جوان لڑائی کے قابل نکلے اس زمانے کے لحاظ سے یہ تعداد قابل اطمینان سمجھی گئی۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے پیمغبر ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کیجئے اگر تم مسلمانوں میں سے بیس آدمی بھی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم مسلمانوں میں سے ایک سو ہوں گے تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کافر ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔

65 اے نبی ﷺ ! آپ مسلمانوں کو جہاد کا شوق دلائیے اور مسلمانوں کو جہاد کے لئے ابھاریئے اگر تم مسلمانوں میں سے بیس آدمی بھی صابر اور ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دشمنوں کے دو سو افراد پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی ہوں گے تو وہ دشمنوں کے ہزار افراد پر غالب ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ منکر لوگ ایسے ہیں جو دین کی کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔ مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ دس گنی تعداد کے مقابلہ میں پس پانہ ہوں اگر بیس مسلمان ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر اور اگر سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ناسمجھ ہونے کی وجہ سے کفر پر اڑے ہوئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کی تائید غیبی سے محروم ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یقین نہیں رکھتے اللہ پر اور ثواب پر اور جس کو یقین ہے وہ موت پر دلیر ہے۔ 12
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس نے جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے سو تم مسلمانوں میں سے اگر سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار آدمی ہوں گے تو خدا کے حکم سے کافروں کے دو ہزار پر غالب ہوں گے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے

66 اب اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی اور تم سے مشقت کا بوجھ ہلکا کردیا اور اس نے معلوم کرلیا اور جان لیا کہ تم میں ضعف اور کمزوری ہے لہٰذا اب حکم کیا کرتا ہے اگر تم مسلمانوں میں سے سو آدمی صابر اور ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو کافروں کے دو سو افراد پر غالب آجائیں گے اور اگر تم مسلمانوں میں ایک ہزار آدمی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں اور سہار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ابتدائی حکم دس گنے کا تھا لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بڑھی تو اعتماد اور بھروسہ میں کمزوری آگئی پہلا حکم مسلمانوں پر شاق تھا اس لئے تخفیف فرمائی گئی اور پہلا حکم ختم کردیا گیا اب یہی حکم ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول کے مسلمان یقین میں کامل تھے ان پر حکم ہوا تھا کہ آپ سے دس برابر کافروں پر جہاد کریں پچھلے مسلمان ایک قدم کم تھے تب یہی حکم ہوا کہ دو برابر پر جہاد کریں یہی حکم اب بھی باقی ہے لیکن اگر دو گنوں سے زیادہ پر حملہ کریں تو بڑا اجر ہے حضرت ﷺ کے وقت میں ہزار مسلمان اسی 80 ہزار سے لڑے ہیں۔ 12
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کی شان کے یہ بات شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی باقی رہیں جب تک کہ وہ ملک میں خوب خون ریزی نہ کرلے تم لوگ دنیوی مال و متاع کے خواہاں ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آخرت کے ثواب کا خواہاں ہے اور اللہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

67 نبی کی شان کے یہ بات شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی باقی رہیں اور زندہ رکھے جائیں۔ جب تک کہ وہ ملک میں منکرین دین حق کی خوب خوں ریزی نہ کرلے اور کفار کا زور نہ توڑ دے تم لوگ دنیوی مال و متاع اور دنیوی اسباب کے خواہاں ہوں اور اللہ تعالیٰ آخرت کی مصلحت اور آخرت کے ثواب کا خواہاں ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ بدر کی جنگ میں ستر 70 کا فرمارے گئے اور ستر 70 قیدی بنے جو کافر قید ہوکر آئے تھے ان کے متعلق مشورہ ہوا بعض کی رائے یہ ہوئی کہ ان سے فدیہ لیکر رہا کردیا جائے اور بعض کی رائے یہ ہوئی کہ ان سب کو قتل کردیا جائے تاکہ مسلمانوں کے خلاف دوبارہ سازش نہ کریں پہلی رائے حضرت صدیق اکبر ؓ کی تھی دوسری رائے حضرت عمر ؓ کی تھی پہلی رائے میں چونکہ نرمی رحم دلی اور لچک تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے اتفاق کرلیا اس پر حضرت حق کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بدر کی لڑائی میں ستر 70 کافر پکڑے آئے حضرت نے مشورہ پوچھا کہ ان کو کیا کریں اکثر مسلمانوں کی مرضی ہوئی کہ مال لیکر چھوڑ دیں اور بعضوں کی مرضی ہوئی کہ سب کو قتل کریں حضرت عمر اور سعد بن معاذ کی بھی مشورت تھی آخرمال لیکر چھوڑ دیا گیا۔ یہ آیت اتری عتاب کی یعنی نبیوں کو جہاد سے مال سمیٹنا منظور نہیں بلکہ کافروں کی ضد توڑنی وہ بات اسی میں ہے کہ قتل کرے تا اس کے خوف سے کفر کی ضدچھوڑیں۔ 12
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر وہ بات مانع نہ ہوتی جو اللہ کی طرف سے پہلے ہی لکھی جاچکی تھی تو تم پر اس فدیہ کے بارے میں جو تم نے بدر کے قیدیوں سے لیا ہے کوئی بڑا عذاب نازل ہوجاتا

68 اگر وہ بات مانع نہ ہوتی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی لکھی جاچکی تھی تو تم پر اس فدیہ کے بارے میں جو تم نے بدر کے قیدیوں سے لیا ہے کوئی سخت سزا واقع ہوتی۔ یعنی یہ بات پہلے ہی لوح محفوظ میں ثابت ہوچکی تھی اور قضا و قدر میں لکھا جاچکا تھا کہ تم سے اجتہادی غلطی ہوگی اور اجتہادی غلطی قابل معافی ہے اگر یہ بات مقدرنہ ہوتی اور یہ امر مانع نہ ہوتا تو تم پر عذاب نازل ہوجاتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدی لوگوں میں بہتوں کی قسمت تھی مسلمان ہونا۔ 12 بہرحال قتل تھا رفع فساد کی غرض سے وہ متحمل فساد وقوع پذیر نہ ہوا اس لئے سزا سے بچ گئے۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

اب جو کچھ تم نے بطور فدیہ حاصل کیا ہے اس کو حلال اور پاکیزہ سمجھ کر کھائو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

69 اب جو کچھ تم نے بطور فدیہ حاصل کیا ہے اس کو حلال اور پاکیزہ سمجھ کر کھائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ڈرتے رہوگے اور جو کچھ خطا بھی ہوجائے گی تو بخشے گا قیدیوں کا حکم سن کر مسلمان ڈرے غنیمت سے بھی یہ ان کو تسلی فرمائی کہ وہ اللہ کی عطا ہے خوشی سے کھائو لیکن غنیمت کے واسطے جہاد نہ کرو۔ 12 خلاصہ یہ کہ جہاد کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ اور کفار کے فتنہ کا سدباب ہے اس کے علاوہ کوئی دنیاوی مقصد نہیں ہونا چاہئے۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! جو بدر کے قیدی آپ کے قبضے میں ہیں ان سے فرمادیجئے اگر اللہ تمہارے قلوب میں بھلائی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے فدیہ میں لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو دے دیگا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

70 اے نبی ﷺ ! جو بدر کے قیدی آپ کے قبضہ میں ہیں ان سے فرما دیجئے اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے فدیہ میں لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو دیدے گا اور تم کو بخش دے گا اور آخرت میں تمہاری مغفرت فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ کفار قریش بعض غیر مہاجر مسلمانوں کو بھی زبردستی اپنے ہمراہ لے آئے تھے ان میں سے کسی نے کہا ہوگا کہ ہم مسلمان ہیں یا حضرت عباس ؓ کے قصے میں یہ آیت نازل ہوئی ہو۔ جیسا کہ مفسرین کا قول ہے کہ جب ان سے ان کا فدیہ اور ان کے بھتیجوں کا زرِ فدیہ طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تم مجھ کو ہمیشہ قریش کا دست نگر رکھنا چاہتے ہو۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان قیدیوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تمہارا آئندہ طرز عمل صاف رہا اور تم سچے دل سے مسلمان رہے تو جو آج زرِ فدیہ ادا کررہے ہو اس سے زیادہ اور بہتر اللہ تعالیٰ تم کو دنیا ہی میں دیدے گا اور آخرت میں تم کو بخش دے گا۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر اے پیغمبر ﷺ ! یہ آپ سے عہد شکنی کا ارادہ کریں گے تو یہ پہلے اللہ سے بھی خیانت کرچکے ہیں پھر آپ کو خدا نے ان پر قابو یافتہ کردیا اور اللہ سب جاننے والا حکمت والا ہے

71 اور اگر آپ سے نقص عہد اور خیانت کا ارادہ کریں گے اور اسلام کی مخالفت اور مقابلہ کریں گے تو یہ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی خیانت کرچکے ہیں اور اللہ سے دغا کرچکے ہیں پھر اس نے ان کو آپ کے قبضہ میں دے دیا اور آپ کے ہاتھوں ان کو گرفتار کروایا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے دغا کرچکے ہیں اللہ سے یہی کفر و انکار اس کے حکم کایا فرمایا ہو بعض ہاشمیوں کو کہ ابوطالب کی زندگی میں سب عہد کر کر متفق ہوئے تھے حضرت کی امداد پر اور اب کافروں کے ساتھ ہوکرآئے اور یہ وعدہ تحقیق ہوا ان میں جو مسلمان ہوئے حق تعالیٰ نے بیشمار دولت بخشی اور جو نہ ہوئے وہ خراب ہوکرتباہ ہوگئے۔ 12 خلاصہ یہ کہ جو قول کے صحیح نکلے جیسے حضرت عباس ؓ کہ ان کو مالا مال کردیا اور اتنا دیا کہ ان سے اٹھ نہ سکا اور جو کفر پر قائم رہے وہ تباہ و برباد ہوئے۔ ہوسکتا ہے کہ خیانت سے مراد عہد الست کی خیانت ہو کہ یوم میثاق میں اس کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا دنیا میں آکر اس اقرار کو توڑ دیا۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا اور جن لوگوں نے مہاجرین کو جگہ دی اور ان کی مدد کی یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور رہ وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن ابھی تک انہوں نے ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں ان کی وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہاں اگر وہ تم سے دین کے بارے میں کبھی مددطلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے مگر اس قوم کے مقابلے میں نہیں جو ایسی ہو کہ اس کے اور تمہارے درمیان کوئی عہدو پیمان ہو اور اللہ کی نگاہ میں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

72 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا اور جن لوگوں نے مہاجرین کے لئے رہنے اور بسنے کو جگہ دی اور ان کی ہر طرح مدد کی یہ لوگ یعنی مہاجرین و انصار سب آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور رہے وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن ابھی تک انہوں نے ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ مسلمان ہجرت نہ کریں ان کی وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ ہاں ! اگر وہ تم سے دین کے بارے میں کبھی مدد طلب کریں تو تم پر ان غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلے میں نہیں جو ایسی ہو کہ اس کے اور تمہارے درمیان کوئی عہدو پیماں ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات قائم کی تھی اور دوستی و محبت کی بنیاد رکھی تھی اس میں حق وراثت بھی قائم کردیا تھا اور جو لوگ ہجرت نہیں کرسکے تھے اور دارالحرب میں مقیم تھے ان کے تعلقات کو بھی نمایاں کردیا گیا کہ ان سے صرف اتنا تعلق ہے کہ اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کردو بشرطیکہ جن کے خلاف وہ مدد طلب کریں وہ قوم تمہاری معاہد نہ ہو اگر وہ قوم معاہد ہو تو معاہدہ کے خلاف ان غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد بھی نہ کرو۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں وراثت کی بحث نہیں کی بلکہ صرف تعلقات باہمی پر آیت کو حمل کیا ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ کے اصحاب دو فرقے تھے مہاجر اور انصار مہاجر گھر چھوڑنے والے اور انصار مدد کرنے والے۔ یعنی جتنے مسلمان حضرت کے ساتھ حاضر ہیں ان سب کی صلح و جنگ ایک ہے۔ ایک کا موافق سب کا موافق ایک کا مخالف سب کا مخالف اور جو مسلمان اپنے ملک میں ہیں جہاں کافروں کا زور ہے ان کی صلح اور جنگ میں یہاں والے شریک نہیں اگر ان کا صلحی ان سے لڑے تو یہ مدد نہ کریں اگر ان کے صلحی پر قابو پالیں تو درگزر نہ کریں اور اگر اجنبی ان پر ظلم کرے اور مدد چاہیں تو مدد کرے۔ 12 خلاصہ یہ کہ بعض حضرات نے توریث مرادلی اور بعض حضرات نے موالات و عدم موالات ہم نے توریث کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگر اس حکم کی تعمیل نہ کروگے تو ملک میں بڑا فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔

73 اور جو لوگ کافر ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگر اس حکم کی تعمیل نہ کروگے تو ملک میں بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوجائے گا۔ مدعا یہ ہے کہ کفر و اسلام کا جھگڑا تو چل ہی رہا ہے پھر وراثت کے جھگڑے بھی شروع ہوجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافر سب آپس میں ایک ہیں تمہاری دشمنی سے جہاں پاویں گے ضعیف مسلمان اس کو ستاویں گے سو تم مسلمانوں کو ستادو کہ جو ہمارے پاس ہو اس کا ذمہ ہمارا ہے اور جو اپنے گھر رہے وہ جس طرح جانے سمجھ لے۔ 12 خلاصہ یہ کہ جو دارالحرب میں رہتا ہے وہ اپنی حفاظت کا خود ذمہ دار ہے اور جو دارالاسلام میں آجاتا ہے اس کے ہم ذمہ دار ہیں۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں انہوں نے جہاد بھی کیا اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کو رہنے کے لئے جگہ دی اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی یہی سب لوگ حقیقی ایمان والے ہیں ان کے لئے بڑی مغفرت ہے اور باعزت روزی ہے۔

74 اور جو لوگ ابتدائً مسلمان ہوئے اور ہجرت کے زمانے میں ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں انہوں نے جہاد بھی کیا اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کے رہنے اور بسنے کو جگہ دی اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی یہی سب لوگ حقیقی ایمان … والے ہیں ان کے لئے بڑی مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ کچھ وہ لوگ تھے جنہوں نے اول اسلام قبول کیا اور ابتداء ہی میں ایمان لائے اور جب ہجرت کا دور شروع ہوا تو انہوں نے ہجرت نبوی ﷺ کے زمانے میں ترک وطن بھی کیا ان مہاجرین اولین اور ان کی مدد کرنے والے انصار کو بشارت دی گئی ہے اور جو لوگ بعد میں ہجرت کرکے مدینہ آئے ان کا ذکر آگے آتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سردار کے ساتھ رہنے والے مسلمان اعلیٰ ہیں گھر بیٹھنے والوں سے آخرت میں ان کو بخشش زیادہ اور دنیا میں روزی باعزت یعنی غنیمت اور نے حق ان کا ہے۔ 12 خلاصہ یہ کہ ان کے حقوق بعد کے مہاجرین سے فائق ہوں گے۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور انہوں نے تمہارے ساتھ مل کر جہاد بھی کیا تو یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں اور کتاب اللہ کے حکم کی رو سے رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے کی وراثت کے زیادہ حق دار ہیں بلاشبہ اللہ ہر ایک شئے کو خوب جانتا ہے۔

75 اور جو لوگ ہجرت ادلیٰ کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور انہوں نے تمہارے ساتھ مل کر جہاد بھی کیا تو یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں اور کتاب اللہ کے حکم کی رو سے رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے کی وراثت کے زیادہ حق دار ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ یعنی جو لوگ ہجرت نبویہ ﷺ اور ہجرتِ ادلیٰ کے بعد مسلمان ہوئے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد بھی کیا تو یہ لوگ اگرچہ مہاجرین اولین کے مرتبہ سے کم مرتبہ ہوں اور درجات میں تفاوت ہو لیکن وہ بھی تم ہی میں سے ہیں ان کی تاخیر سے تعلقات میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا وراثت ورفاقت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کسی مہاجر کے رشتہ دار بھی ہجرت کرکے آگئے ہیں خواہ وہ اول مہاجر ہوں یا ہجرت اولیٰ کے بعد کا مہاجر ہو تو اس کے ورثہ کے وہ قرابت دار زیادہ حقدار ہوں گے یعنی انصار مہاجر کی وراثت اس وقت ہے جس وقت کسی مہاجر کا رشتہ دار نہ ہو اگر رشتہ دار موجود ہوں تو بہرحال ان کا حق فائق ہوگا۔ مکہ معظمہ کے فتح ہوجانے کے بعد سورة احزاب کی آیت سے یہ سب احکام ختم ہوگئے اور وراثت صرف قرابت داروں میں رہ گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مہاجرین میں جتنے ملتے جائیں سب شریک ہیں اور ناتے والا اگر پیچھے مسلمان ہوا یا ہجرت کر آیا پہلے ناتے والے مسلمان مہاجر کا حق ہے یعنی میراث وہی لے گا اگرچہ رفاقتِ قدیم اوروں سے ہے۔ 12 ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انصار و مہاجر کا باہمی توارث ایسی صورت میں ہوگا جب کسی کا عزیز اور قرابت دار نہ ہو۔ مفسرین کے مختلف اقوال میں سے ہم نے ایک قول کو اختیار کرلیا ہے۔ واللہ اعلم تم سورة الانفال