7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 7:1–2

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

الٓمٓصٓ

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے جو اس غرض سے آپ پر نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈرائیں لہٰذا اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہ ہونی چاہئے اور یہ کتاب ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

2 یہ قرآن کریم ایک کتاب ہے جو اے پیغمبر ﷺ ! آپ کی جانب نازل کی گئی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہ ہو یہ اس لئے نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈرائیں اور اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی سے لوگوں کو سزا اور عذاب کا خوف دلائیں اور یہ کتاب خاص طور پر ایمان والوں کے لئے نصیحت ہے۔ یعنی اس کتاب کے متعلق منزل من اللہ نصیحت تو سب کے لئے ہے لیکن جو لوگ نصیحت مانتے ہیں انہی کیلئے نصیحت ہے۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

اے لوگو ! تم اس کتاب کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے نازل کی گئی ہے اور خدا کا چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کے پیچھے نہ چلو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

3 اے وہ لوگو ! جو مکلف ہو تم اس کتاب یعنی قرآن کریم کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہاری ہدایت کے اتاری گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کے کہنے پر نہ چلو یعنی شیاطین کی خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے جن کو تم نے اپنا رفیق اور دوست بنارکھا ہے ان کے کہنے پر نہ چلو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے اور قبول کرتے ہو۔
Ayah 7:4

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا پھر ہمارا عذاب ان پر یا تورات کو پہنچایا ایسے وقت پہنچا جبکہ وہ دوپہر کو قیلولہ کررہے تھے۔

4 اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور تباہ و برباد کرڈالا یعنی ان کی نافرمانی کے سبب پھر ہمارا عذاب ان پر یا تو رات کو ان کے سوتے میں آیا یا دوپہر کو آیا جبکہ وہ آرام کررہے تھے یعنی کسی بستی پر رات کو عذاب نازل ہو اور کسی بستی پر دوپہر کو قیلولہ کے وقت آیا۔
Ayah 7:5

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر جس وقت ہمارا عذاب پہنچ گیا تو اس وقت ان کی چیخ و پکار سوائے اس کے کچھ اور نہ تھی کہ وہ یوں کہتے تھے بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔

5 پھر جب ہمارا عذاب ان پر آپہنچا تو پھر ان کے منہ سے سوائے اس کے کچھ نہ نکلتا تھا اور ان کی چیخ و پکار بجز اس کے کچھ نہ تھی کہ وہ کہتے تھے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ یعنی اپنے جرم کا اقرار کرنے لگے۔
Ayah 7:6

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے تھے ضرور سوال کریں گے اور ہم پیغمبروں سے بھی ضرور دریافت کریں گے

6 پھر اس سزا کے بعد ہم قیامت میں ان لوگوں سے بھی باز پرس کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے اور خود رسولوں سے بھی پوچھیں گے اور ضرور دریافت کریں گے۔ یعنی امتوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے رسولوں کا کہنا مانا یا نہیں اور رسولوں سے یہ کہ تمہاری امتوں نے تمہیں کیا جواب دیا اور تمہاری دعوت کو سن کر قبول کیا یا نہیں۔
Ayah 7:7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر وہ تمام احوال جن سے ہم بخوبی واقف ہیں ان سب کے سامنے بیان کردیں گے اور ہم کہیں غائب تو تھے ہی نہیں۔

7 پھر ہم چونکہ ان کے ظاہری اور باطنی احوال و اعمال کو بخوبی جانتے ہیں اس لئے ان کے تمام احوال و اعمال ان کے روبرو بیان کردیں گے اور ہم ان کے احوال سے کچھ بیخبر تو تھے ہی نہیں اور ہم ان کے کسی عمل کے وقت غائب تو تھے ہی نہیں جو ہم سے کوئی بات مخفی ہوتی۔
Ayah 7:8

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس دن وزن اعمال ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے پھر جن کا پلہ بھاری ہوگا تو وہی لوگ کامیاب ہوں گے

8 اور اس دن یعنی قیامت کے دن اعمال کا وزن ایک امر واقعی اور غیر مشتبہ حقیقت ہے پھر جن کا پلہ بھاری ہوگا تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں یعنی مومن ہو اور ایمان کا پلہ بھاری ہو اور ایمان اسی کا بھاری ہوگا جس کے علم صالح ہوں گے اور اعمال میں خلوص ہوگا۔
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کا پلہ ہلکا ہوگا تو یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اس بنا پر ک وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظالمانہ برتائو کیا کرتے تھے

9 اور وہ لوگ جن کا پلہ تول میں ہلکا ہوگا تو یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا بہ سبب اس کے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو کیا کرتے تھے۔ یعنی منکر اس دن خسارے میں پڑجائیں گے اور ان کو سخت ٹوٹا ہوگا۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اپنے آپ کو خسارے میں ڈال لیا اور بیشک ہم نے تم کو زمین میں رہنے کو جگہ دی اور اس میں تمہار لئے ہم نے اسبابِ معیشت و زندگانی مہیا کئے مگر تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو

10 اور بلاشبہ ہم نے تم کو زمین پر بسنے اور رہنے کو جگہ دی اور زمین میں ہم نے تمہارے لئے اسبابِ زندگی اور سامانِ معیشت پیدا کئے لیکن باوجود اس کے تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔ یعنی بجائے شکر کی بجاآوری کے کفرانِ نعمت کرتے ہو اور شکر کثیر کی جگہ بہت کم شکر بجا لاتے ہو۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے تم کو پیدا کیا پھر ہم نے تمہاری شکل و صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

1 1 اور بالتحقیق ہم ہی نے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو بنایا۔ پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت بنائی پھر ہم نے تمام فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا۔ یعنی ابتداً حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور مٹی سے ان کی لگدی بنائی گئی پھر اس لگدی میں آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت بنائی گئی پھر آدم (علیہ السلام) کو اشیاء کے نام کی تعلیم دینے کے بعد ان کی اشرفیت اور ان کی فوقیت کے اظہار کے لئے سجدے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم کی سوائے ابلیس کے سب نے تعمیل کی مگر وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا۔
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

حضرت حق نے فرمایا تجھ کو کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں تجھ کو سجدہ کرنے کا حکم دے چکا تھا ابلیس نے کہا میں آدم سے بہتر ہوں کیوں کہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔

12 اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میں نے تجھ کو سجدہ کرنے کا حکم دے دیا تھا اور آدم (علیہ السلام) کی تعظیم و تکریم کا امر کرچکا تھا پھر تجھے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے کس نے باز رکھا اور کیا چیز تیرے لئے مانع ہوئی ابلیس نے جواب دیا میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا ہے۔ یعنی آگ مٹی سے بہتر اور روشن اور بلند ہے تو نے بہتر کو کمتر کے آگے جھکنے کا حکم دیا تھا اس لئے میں نے اس غیر معقول حکم کی تعمیل نہیں کی۔
Ayah 7:13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا نیچے اتر یہاں سے ! تجھ کو یہ حق حاصل نہیں کہ تو یہاں رہ کر تکبر کرے لہٰذا باہر نکل یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے

13 اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا یہاں سے نیچے اتر جا تجھ کو کوئی حق نہیں اور تیرے لئے اس امر کی بالکل گنجائش نہیں کہ تو یہاں رہ کر تکبر کرے لہٰذا یہاں سے نکل جا یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے اور تیرا شمار ذلیلوں میں ہونے لگا یعنی اس ادعا کے اور اظہار تکبر کے بعد تو عالم بالا کی مخلوق کے ہمراہ نہیں رہ سکتا اس عالم بالا سے مراد ظاہر تو یہی ہے کہ آسمان مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ جنت ہو اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتراض کرنے اور تکبر کے ارتکاب کے بعد تیرا شمار ذلیل لوگوں میں ہوگیا۔
Ayah 7:14

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

ابلیس نے کہا مجھ کو اس دن تک کے لئے مہلت دے جس دن کہ مردے زندہ کرکے اٹھائے جائیں۔

14 ابلیس نے کہا مجھ کو اس دن تک کے لئے موت سے مہلت دیجئے جس دن کہ مردے قبروں سے اٹھائے جائیں اور مردے زندہ کئے جائیں۔
Ayah 7:15

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

خدا نے فرمایا اچھا تجھ کو مہلت دی گئی

15 حضرت حق نے ارشاد فرمایا بلاشہ تجھ کو اس دن تک کے لئے موت سے مہلت دی گئی۔
Ayah 7:16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

ابلیس نے کہا جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھویا ہے میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر بیٹھ جائوں گا

16 ابلیس نے کہا جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھویا ہے اور اس سبب سے کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں تیری سیدھی راہ پر ان کی تاک میں بیٹھ جائوں گا یعنی وہ سیدھی راہ جو تجھ تک پہنچتی ہے اس راہ پر ان کے گمراہ کرنے کو بیٹھ جائوں گا۔
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس بہکانے کے لئے آئوں گا اور تو ان میں سے بہت سوں کو شکر گزار نہ پائے گا

17 پھر ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے پاس بہکانے کے لئے آئوں گا اور ان پر حملہ آور ہوں گا اور تو اولادِ آدم (علیہ السلام) میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا یعنی عبادت کرنے والا اور حق ماننے والا نہ پائے گا اور اکثریت نافرمانوں کی ہوگی۔
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے خوار و مردود ہوکر نکل ! بنی آدم (علیہ السلام) میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو میں بلاشبہ تم سب سے دوزخ کو بھردوں گا۔

18 اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے ذلیل و مردود ہوکر نکل بنی آدم میں سے جو تیری پیروی کرے گا اور تیرا کہنا مانے گا تو میں یقیناً تم سب سے دوزخ کو بھردوں گا یعنی تجھ سے اور تیرے نقش قدم پر چلنے والوں سے سب سے جہنم کو پُر کیا جائے گا۔
Ayah 7:19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم (علیہ السلام) تم اور تمہاری بیوی دونوں اس جنت میں رہو سہو پھر جس جگہ سے چاہو تم دونوں کھائو اور ہاں اس مخصوص درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ تم گناہ گاروں میں سے ہوجائو گے

19 اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے آدم (علیہ السلام) تم اور تمہاری زوجہ اس جنت میں سکونت اختیار کروا ور اس میں رہو سہو پھر جس جگہ سے چاہو تم دونوں کھائو لیکن دیکھو اس مخصوص درخت کے قریب نہ جانا اور نہ تم ظالم اور نامناسب کام کرنے والوں میں شمار کئے جائو گے اور تم نافرمان قرار دیئے جائوگے۔ یعنی گیہوں یا انگور کے درخت میں سے کچھ نہ کھانا ورنہ خطا کاروں میں تمہارا شمار ہوجائے گا اور نامناسب کام کرنے والے قرار دے دیئے جائوگے۔
Ayah 7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان دونوں کو بہکایا تاکہ ان دونوں کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں ان کے سامنے آشکارا کردے اور ان دونوں سے شیطان نے کہا کہ اس مخصوص درخت سے تم کو تمہارے رب نے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دونوں فرشتے بن جائو یا تم دونوں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجائو

20 پھر شیطان نے آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) کی بیوی دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا اور دونوں کو بہکایا تاکہ ان کو شجر ممنوعہ کا پھل کھلا دے اور ان دونوں کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے جنت کے لباس کی وجہ سے پوشیدہ تھیں اور ایک دوسرے سے چھپی ہوئی تھیں ان شرمگاہوں کو دونوں کے سامنے آشکارا کردے یعنی ان کے ستر جو ایک دوسرے سے پوشیدہ اور چھپے ہوئے تھے ان کی خطا کے باعث ایک دوسرے کے سامنے ہوجائیں اور جنت کا لباس ان سے چھین لیا جائے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو برہنہ ہوجائیں اور ابلیس نے ان دونوں سے یہ کہا کہ تمہارے پروردگار نے تم کو اس درخت سے نہیں روکا مگر محض اس غرض سے روکا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم فرشتے بن جائویا تم دونوں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجائو یعنی یہ ممانعت تو صرف اس وقت کے لئے تھی جب تمہارا رب تم کو فرشتہ بننے سے یا دائمی زندگی کے حصول سے روکنا چاہتا تھا اور اب تم میں صلاحیت پیدا ہوگئی ہے اس وقت یہ ممانعت ہی نہیں اس لئے اب اس مخصوص درخت کا پھل کھا لینے سے کوئی مضائقہ نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور قسم کھاکر شیطان نے ان سے کہا کہ یقیناً میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔

21 اور ابلیس نے ان دونوں سے قسم کھا کر یہ بھی کہا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں۔
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرض ان دونوں کو دھوکہ دے کر شیطان نے مائل کر ہی لیا پھر جیسے ہی انہوں نے اس درخت کو چکھا تو اسی وقت ان کی شرمگاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے ملا ملا کر کے رکھنے لگے اور اس وقت ان کو ان کے رب نے پکارا کیوں ! کیا میں تم کو اس درخت کے قریب جانے سے منع نہ کرچکا تھا اور میں نے تم سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ دیکھو شیطان تمہارا صریح دشمن ہے

22 چنانچہ ان دونوں میاں بیوی کو فریب آمیز باتوں سے دھوکہ دے کر مائل کر ہی لیا اور نیچے جھکا لیا پھر جب ان دونوں نے اس درخت کے پھل کو چکھا تو اسی وقت ان دونوں کی شرم گاہیں اور ستر کے مقامات ایک دوسرے کے لئے کھل گئے اور آشکارا ہوگئے اور یہ دونوں اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے ملاملاکر رکھنے لگے۔ یعنی برہنہ ہوگئے اور سترکو شجرہائے جنت کے پتوں سے چھپانے لگے اور ان دونوں کے پروردگار نے ان کو پکارا کیوں کیا میں تم کو اس خاص درخت کے پھل کھانے اور اس کے قریب جانے سے منع نہیں کرچکا تھا اور کیا میں نے تم کو یہ نہیں بتادیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

ان دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے گا اور تو ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم یقیناً تباہ و برباد ہوجائیں گے

23 اور ان دونوں میاں بیوی نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ہم نے اپنے اوپر زیادتی کی اور اگر تم ہم کو معاف نہ کرے گا اور ہماری بخشش نہ فرمائے گا اور ہم پر آپ رحم نہ فرمائیں گے تو ہم یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے اور ہم تباہ و برباد ہوں گے یعنی دونوں نے اپنی خطا کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے بخشش اور رحم کی درخواست کردی۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نیچے اترو تم سب آپس میں ایک دوسرے کے دشمن رہوگے اور تمہارے لئے زمین ایک معین وقت تک ٹھہرنا اور نفع اٹھانا ہوگا

24 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم یہاں سے یعنی جنت سے زمین پر اترو اور اس حالت میں اترو کہ تم ایک دوسرے کے یعنی تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لئے ایک وقت متعین تک زمین میں ٹھہرنا اور زمین کے اسبابِ معیشت سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ یعنی تم زمین میں جائو وہاں تمہاری اولاد آپس میں ایک دوسرے کی دشمن اور مخالف ہوگی اور تم وہاں موت کے وقت تک ٹھہرو گے اور تمہارے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام زمین کی پیداوار سے ہوگا۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

خدا نے یہ بھی فرمایا کہ تم زمین ہی پر زندہ رہوگے اور زمین ہی پر مروگے اور زمین ہی میں سے دوبارا نکالے جائوگے۔

25 اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا کہ تم کو زمین ہی میں زندہ رہنا اور اسی زمین میں مرنا اور اس ہی زمین سے نکلنا ہے یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر زمین ہی سے نکالے جائو گے۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس پیدا کیا جو تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکتا ہے اور ایسا لباس بھی جو تمہارے لئے موجب زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس تو وہ سب لباسوں سیح بہتر ہے یہ قدرت خدا وندی کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ غورکریں

26 اے اولادِ آدم (علیہ السلام) ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے جسم کے قابل شرم مقامات کو ڈھانکتا اور چھپاتا ہے اور وہ لباس تمہارے لئے موجبِ زینت و آرائش بھی ہے یعنی اس لباس سے جو ہم نے پیدا کیا ہے اور اس کے اسباب کو آسمان سے اتارا ہے دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں ستر بھی اور تزین بھی اسباب کا اتارنا یہ کہ اگر آسمان سے پانی نہ برسے تو روئی پیدا نہ ہو اور لوگوں کو لباس میسر نہ آئے اور دینداری اور پرہیزگاری کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے یعنی تقویٰ اصل مقصود ہے اور سب چیزوں کا مدار تقویٰ ہی پر ہے۔ یہ لباس کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے فضل کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر غور کریں اور اس کے اس احسان کو یاد رکھیں یعنی اس احسان کا حق ادا کیا کریں۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد ِ آدم (علیہ السلام) دیکھو شیطان تم کو اسی طرح کسی فتنہ میں مبتلا نہ کردے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو ایسی حالت کے ساتھ جنت سے نکلوایا کہ ان دونوں کا لباس بھی ان سے اتروا دیا تاکہ ان دونوں کی قابل ِ شرم چیزیں ان پر ظاہر کردے یقیناً وہ شیطن اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے بیشک ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا رفیق و ہمدم مقرر کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

27 اے اولادِ آدم (علیہ السلام) دیکھو شیطان تم کو اسی طرح کسی فتنہ میں مبتلا نہ کردے اور تم کو بہکانہ دے جس طرح اس نے تمہاری ماں اور باپ کو فتنہ میں مبتلا کردیا تھا اور ان دونوں کو جنت سے اس حال سے نکلوادیا تھا کہ ان دونوں کے جسم سے ان کے کپڑے بھی اتروادیئے تاکہ ان کی شرمگاہیں اور شرم کے مقامات ان پر ظاہرکردے اور ایک کو دوسرے کے سامنے آشکارا کردے یعنی ایک کے روبرو دوسرے کو برہنہ کردے۔ بلاشبہ وہ شیطان اور اس کی قوم اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے بیشک ہم نے شیاطین کو انہی لوگوں کا رفیق بنادیا ہے اور انہی کا دوست مقرر کررکھا ہے جو ایمان نہیں لاتے یعنی شیطان عام طور سے تم کو نہیں دکھائی دیتا مگر وہ اور اس کی ذریت تم کو دیکھتی ہے پس ایسے خطرناک دشمن سے بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ شیطان کو انہی لوگوں کا رفیق بنادیا جاتا ہے جو شیطانی رفاقت کے خواہش مند ہوتے ہیں شیطان کی رفاقت یہی ہے کہ اس کو ان پر مسلط کردیا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور وہ منکر ایمان جب کوئی فحش اور برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو اسی کا حکم دیا ہے آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہرگز کسی فحش کام کا حکم نہیں دیتا تم کیوں خدا کے ذمہ وہ باتیں لگاتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں۔

28 اور جب یہ ایمان کے منکر کوئی فحش اور بےحیائی کا کام کرتے ہیں اور کسی بےہودگی کے مرتکب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے آپ فرمادیجئے اللہ تعالیٰ کبھی کسی فحش اور بےحیائی کے کام کا حکم نہیں دیا کرتا تم اللہ کے ذمہ کیوں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں اور جن کو تم نہیں جانتے یعنی تم سن چکے کہ تمہارے پہلے باپ نے شیطان سے فریب کھایا پھر باپ دادوں کی سند کیوں پکڑتے ہو اور یہ کس قدر بےحیائی ہے کہ جو کام شیطان کے حکم سے ہورہا ہو اس کو خدا کے حکم سے بتاتے ہو۔ آگے وہ کام مذکور ہیں جن کا امر اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور جو اس کے حکم دینے کے لائق اور مناسب ہیں۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور نیز یہ کہ تم ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو یعنی قبلہ کی طرف اور خدا کی عبادت اس طور پر کیا کرو کہ اس کی عبادت کو خالص اسی کے لئے کرنے والے ہو جس طرح اس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر دوبارہ لوٹو گے

29 جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تو غلط ثابت ہوئیں اب جن باتوں کا وہ حکم دیتا ہے ان میں سے کچھ باتیں ان کو بتائیے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار تو انصاف کا حکم دیتا ہے اور اس نے تو افراط وتفریط سے بچ کر معتدل راہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو یعنی منہ کعبہ کی طرف اور دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھا کرو یا یہ کہ ہر عبادت میں سیدھے رہو اور شریعت کی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا کرو شارع (علیہ السلام) نے جو طریقہ بتایا ہے اسی کے موافق تمام عبادات بلالایا کرو۔ اور اس کی عبادت خالص اسی کے لئے کرنے والے ہو اور اس کے خالص فرمانبردار بن کر اس کی عبادت بجالائو یعنی عبادت کے ظاہری افعال شریعت کے مطابق اور عقیدے کے اعتبار سے خالص خدا کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اسی طرح تم دوبارہ بھی پیدا ہوگے۔ یعنی چونکہ دوسری زندگی میں اس طریقہ عبادت کے منافع حاصل ہونے والے ہیں اس لئے دوبارہ پیدا ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فریق کو اس نے ہدایت عطا کی اور ایک فریق پر گمراہی مستحق ہوچکی کیوں کہ ان گمراہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو رفیق بنایا اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ راہ یافتہ ہیں۔

30 اللہ تعالیٰ نے ایک فرقہ کو ہدایت سے بہرہ مند فرمایا اور ایک فرقہ پر گمراہی اور ضلالت متحقق ہوچکی کیونکہ اس گمراہ فرقہ نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا رفیق بنالیا اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنے کی بجائے شیاطین کی اطاعت کی اور بدبختی یہ کہ یوں سمجھتے رہے کہ ہم سیدھی راہ چل رہے ہیں۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم (علیہ السلام) ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور کھائو پیو اور خدا سے نہ بڑھو بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

31 اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہر مسجد کی حاضری کے وقت خواہ وہ عام مساجد ہوں یا کعبۂ مقدس ہو اپنی زینت کا لباس پہن لیا کرو اور برہنہ ہوکر کعبہ کا طواف نہ کیا کرو اور کھانا پینا ترک نہ کیا کرو جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کرتے رہے ہو بلکہ کھائو اور پیو اور خدا کی نعمتوں سے فادئہ اٹھائو البتہ اسراف نہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقررہ حدود سے بڑھ جانے والوں کو پسند نہیں فرماتا یعنی ایام حج میں برہنہ رہنا یا کھانے پینے میں کمی کردینا یہ سب امور جاہلیت ہیں جس طرح ہمیشہ کھاتے پیتے ہو اسی طرح کھایا کرو اور لباس پہنا کرو اور جو سامان زینت و آرائش حق تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے حج کیا کرو البتہ اسراف نہ کرو کہ ضرورت سے زیادہ کھا جائو۔ یا حلال کو نظر انداز کردو اور حرام کا استعمال کرنے لگو یہ اور اسی قسم کے دوسرے امور اسراف ہیں۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! آپ پوچھئے اللہ نے جو زینت کا سازو سامان اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کو اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے حرام کردیا ہے آپ کہہ دیجئے کہ یہ نعمتیں دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان والے ہیں اور قیامت میں تو خالص وہی حق دار ہوں گے ہم اسی طرح اپنے احکام سمجھ دار لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں

32 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے دریافت کیجئے آخر یہ تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے جو زینت کا لباس اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ اور ستھری روزی اور کھانے پینے کی چیزیں پیدا کی ہیں ان چیزوں کو حرام کس نے کردیا ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ یہ سب نعمتیں اس دنیوی زندگی میں انہی لوگوں کے لئے خاص ہیں جو صاحب ایمان و یقین ہیں یعنی جو ان نعمتوں کو استعمال کرنے کے بعد خالق کا حق مانتے اور شکر ادا کرتے ہیں اور قیامت کے دن تو ہر قسم کی نعمتیں صرف اہل ایمان ہی کے لئے مخصوص ہوں گی۔ ہم نے جس طرح یہ بات بیان کی ہے ہم اسی طرح اپنی تمام آیات و احکام کو سمجھ دار لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں یعنی جو پاکیزہ روزی اور زینت و آرائش کا لباس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کو کس نے حرام کردیا ہے کہ پیدا تو وہ کرے اور اس کو حرام کہنے والا یا حلال بتانے والا کوئی دوسرا ہو جیسا کہ اہل جاہلیت کرتے ہیں جب چاہا لباس ترک کردیا جب چاہا اللہ کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت ترک کرکے بیٹھ گئے پیدا وہ کرے اور حرام حلال کا حکم یہ کیا کریں۔ اہل ایمان کے لئے پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان نعمتوں کا پیدا کرنا اصل تو مومنین اور فرماں بردار لوگوں کے لئے ہے اگرچہ دنیوی زندگی میں منکروں اور نافرمانوں کو بھی تبعاً ان کے استعمال کا حق دے دیا گیا ہے لیکن قیامت میں یہ نہ ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں یہ نعمتیں مسلمانوں کے ہی لئے ہیں کیونکہ وہ نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور جو دوسرے نافرمان استعمال کرتے ہیں اور شکر بجا نہیں لاتے تو ان کے لئے وبال ہوگا نعمت کے شکر کی بجاآوری کے ساتھ مواخذے محاسبے اور ہر قسم کی گرفت سے پاک ہے اس لئے یہ بات اہل ایمان کو میسر ہے منکروں کو نہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

آپ فرمائیے بس میرے رب نے تو تمام فحش کاموں کو خواہ وہ علانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور ہر گناہ کی بات کو حرام کیا ہے اور ناحق کی زیادتی کو اور نیز اس بات کو حرام کیا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک قرار دو جس پر اللہ نے کوئی دلیل اور سند نازل نہیں کی اور نیز اس بات کو منع کیا ہے کہ تم اللہ کے ذمہ کوئی ایسی بات لگائو جس کو تم نہ جانتے ہو

33 آپ فرما دیجئے کہ میرے پروردگار نے تو بس تمام فحش اور بےحیائی کے کاموں کو خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ ہوں ان کو حرام فرمایا ہے اور ہر گناہ کی بات کو حرام کیا ہے اور کسی پر ناحق زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا جس کی سند اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ہو اس شرک کو حرام فرمایا ہے اور اس بات کو حرام کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی ایسی بات منسوب کرو جس کا تم کو علم نہ ہو یعنی ماکولات وغیرہ کی اباحت کا ذکر کرنے کے بعد ان باتوں کا ذکر فرمایا جو واقعی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبیح اور بری ہیں اور جن میں تم عام طور سے مبتلا ہو مثلاً بےحیائی کے کام وہ علانیہ ہوں جیسے ستر کو ظاہرکرنا اور کعبہ کا طواف کرتے وقت برہنہ ہوجانا یا چھپ کر جیسے زنا وغیرہ میں مبتلا ہونا یا کفر و نفاق کا مرتکب ہونا اور مثلاً ہر گناہ خواہ وہ صغیرہ ہو یا کبیرہ اور مثلاً کسی پر بغیر حق شرعی کے زیادتی کرنا اور مثلاً اللہ تعالیٰ کی عبادت یا اس کی ذات وصفات میں کسی کو بغیر کسی دلیل اور سند کے شریک کرنا اور مثلاً بغیر کسی علم اور واقفیت کے اللہ تعالیٰ پر کوئی بہتان باندھنا یا تہمت لگانا یا اس کے دین میں الحاد اور کج روی اختیار کرنا اور اس کی ذات وصفات میں عیب لگانا وغیرہ یہ سب باتیں میرے رب نے بیشک حرام فرمائی ہیں۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر قوم کی مہلت کے لئیح ایک میعاد مقرر ہے پھر جب ان کی وہ مقررہ میعاد آجائے گی تو اس وقت نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

34 رہی یہ بات کہ باوجود اور ان کے اس کفر وعناد اور ابتلائے فواحش اور ارتکاب معاصی کے ان منکرین کی گرفت کیوں نہیں آتی اور ان پر عذاب کیوں نہیں نازل ہوتا تو فرمایا ہر گروہ ہر جماعت اور ہر امت اور اس کے افراد کا ایک وقت متعین ہے اور جب وہ میعاد متعین اور وقت مقرر ان کا آجائے گا تو اس وقت نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکیں گے اور نہ گھڑی بھر آگے بڑھ سکیں گے یعنی جو تباہی بربادی یا مرنے کا وقت مقرر ہوچکا ہے اسی وقت یہ ہوگا اس سے پہلے نہیں ہوگا۔
Ayah 7:35

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) جب کبھی تم ہی میں سے میرے پیغمبر تمہارے پاس آئی جو میرے احکام تم کو سنائیں سو جو شخص پرہیز کرے گا اور اپنی اصلاح کرے گا تو ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

35 اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد جب تمہارے پاس میرے پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں گے یعنی بشر ہوں گے فرشتے نہ ہوں گے اور جو تم کو میرے احکام بتائیں اور میری آیات سنائیں سو جو شخص اس وقت ان کی تکذیب اور ان کے جھٹلانے سے پرہیز کرے گا اور نیک اعمال سے اپنی اصلاح کرلے گا تو ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے یعنی یہ خطاب اولاد آدم (علیہ السلام) کو فرمایا کہ جب ایسا ہو کہ میرے رسول تمہارے پاس آئیں اور وہ تم کو میرے احکام سنائیں اور وہ رسول بھی تم ہی میں سے ہوں تو جوان کا کہا مانے گا اور ان کی تکذیب نہیں کرے گا اور اپنی اصلاح اور درستی کرلے گا تو وہ پھر اپنے باپ کی میراث جنت کو حاصل کرلے گا چناچہ یہ ارسالِ رسل کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم النبیین ﷺ تک حسب وعدہ جاری رہا۔ یہ خطاب یا تو عالم ارواح میں کیا گیا جیسا کہ بعض نے کہا اور یا یہ خطاب حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمین پر اتر آنے کے بعد کیا گیا ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے۔
Ayah 7:36

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جو لوگ ہمارے احکام کی تکذیب کریں گے اور ان احکام کے مقابلے میں سرکشی کریں گے تو وہی لوگ جہنمی ہوں گے وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

36 اور جو لوگ ہمارے احکام کی تکذیب کریں گے اور ہماری آیات کے مقابلہ میں تکبر اور سرکشی کا اظہار کریں گے تو یہی لوگ اصحابِ جہنم ہوں گے۔ وہ اس جہنم کے عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا آیات الٰہی کی تکذیب کرے ایسے لوگوں کے نصیب میں جو لکھا ہے وہ انہیں ملتا رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کی جان قبض کرنے کے لئے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اب وہ کہاں ہیں جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ کافر جواب دیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کہیں غائب ہوگئے اور وہ اپنے خلاف اس امر کا اعتراف کریں گے کہ وہ فی الحقیقت کافر تھے

37 پھر اب اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر کذب اور افترا کرے اور بہتان باندھے یا اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیات کو جھٹلائیں یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے یا کسی سچے پیغمبر کی تکذیب کرے اور اس کو جھوٹا بتائے ایسے لوگوں کو وہ حصہ ملتا رہے گا جو کتاب میں لکھا ہوا ہے یعنی عمر اور رزق اور ذلت و رسوائی وغیرہ ج مقدر میں لکھا ہوا ہے وہ ان کو ملتا رہے گا یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کی جان نکالنے کو ان کے پاس پہنچیں گے تو ان ظالموں سے دریافت کریں گے وہ غیر اللہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ تعایلٰ کے سوا پکارا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کیا کرتے تھے یعنی وہ کہاں چلے گئے اس وقت تمہاری کچھ مدد نیں کرتے وہ ظالم ان فرشتوں کو جواب دیں گے کہ وہ تو کہیں گم ہوگئے اور ہم کو چھوڑ کر کہیں غائب ہوگئے اور یہ ظالم اپنے خلاف خود گواہی دیں گے اور اس امر کا اعتراف کریں گے کہ بیشک وہ کافر اور منکر تھے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی کہی ہوئی کی تکذیب کرے اور جو اس نے نہ کہی ہو وہ اس کی طرف منسوخ کردی جائے اور اس پر افترا کیا جائے بہرحال یہ لوگ اچھا برا کمتی بڑھتی جو کچھ مقدر میں لکھوا لائے ہیں اور جو لوح محفوظ میں ان کا حصہ مقرر ہوچکا ہے اس حصہ کو تو یہ لوگ حاصل ہی کریں گے اور دنیوی زندگی سے متمتع ہوتے رہیں گے لیکن برزخ میں جو مرتے وقت سے شروع ہوجاتا ہے اور محشر میں جو ان سے سلوک ہوگا وہ یہ ہے کہ جن کی پرستش کیا کرتے تھے وہ ان سے غائب ہوجائیں گے اور یہ اپنے نافرمان اور منکرہونے کا اقرار کریں گے۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم سب بھی جنات اور انسانوں کے ان فرقوں کے ہمراہ جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں آگ میں داخل ہوجائو جس وقت بھی کوئی جماعت دوزخ میں داخل ہوگی تو وہ اپنی جیسی دوسری پیش رو جماعت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب یہ سب پچھلے اور پہلے اس آگ میں جمع ہوجائیں گے۔ تو ان میں سے پچھلے لوگوں کی جماعت پہلے لوگوں کی جماعت کے لئے یوں کہے گی اے ہمارے پروردگار ہم کو تو انہوں نے ہی گمراہ کیا تھا لہٰذا آج ان کو آتش دوزخ کا دگنا عذاب کیجئو خدا تعالیٰ فرمائے گا تم میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب ہے مگر تم سمجھتے نہیں

38 یہ تو برزخ کا احوال ہوا اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرمائے گا کہ تم سب بھی جنات اور انسانوں کے ان فرقوں اور جماعتوں کے ہمراہ جہنم میں داخل ہوجائو جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں کیونکہ تمہارا اور ان کا مسلک ایک ہی ہے جس وقت بھی کوئی جماعت آگ میں داخل ہوگی تو وہ اپنی سابقہ داخل شدہ جماعت پر لعنت بھیجتی ہوگی اور جماعت لاحقہ جماعت سابقہ پر لعنت کرے گی یعنی مشرک مشرکوں پر اور یہود یہود پر اور نصاریٰ نصاریٰ پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب یہ سب پہلے اور پچھلے آگ میں جمع ہوجائیں گے تو ان میں سے پچھلے پہلوں کے لئے یوں کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ان پہلوں نے گمراہ کیا اور صحیح راستہ سے بچلایا تھا۔ اس لئے ان کو دوگنا عذاب کیجئو اور آتش دوزخ کا عذاب ان کو دو چند دیجئو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم میں سے ہر ایک کے لئے دگنا ہی عذاب ہے مگر تم نہیں جانتے اور تم کو خبر نہیں ہے کہ جہنم میں تو عذاب ہر گھڑی بڑھتا ہی رہتا ہے۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور ان میں سے پہلے لوگ پچھلوں سے یوں کہیں گے بس اب تو تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہ رہی سو اب تم اس کفر کی پاداش میں جو تم کیا کرتے تھے عذاب کا مزہ چیکھو۔

39 اور اس پر پہلے لوگ پچھلوں سے کہیں گے بس اب تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہ رہی کہ ہمارے مقابلہ میں تم کو عذاب کم دیا جائے لہٰذا تم اس کمائی کی پاداش میں جو کمایا کرتے تھے دگنے عذاب کا مزہ چکھتے رہو یعنی جہنم میں پہلے اور پچھلے سب جمع ہوجائیں گے اول تو ہر گروہ دوسرے گروہ پر لعنت ملامت کرے گا پھر پہلے پچھلوں کیلئے دگنا عذاب طلب کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم سب کو ہی دگنا عذاب ہوگا اول تو دوزخ میں عذاب بڑھتا ہی رہے گا دوسرے یہ کہ پہلوں پر اس لئے کہ انہوں نے کفر کی رسم پیدا کی اور دوسروں کو گمراہ کیا اور پچھلوں پر اس لئے کہ انہوں نے پہلوں کا انجام دیکھ کر سن کر عبرت نہیں پکڑی اور اندھا دھند ان گمراہوں کے پیچھے چل پڑے۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

یقین جانو جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور ان آیتوں سے متکبرانہ برتائو کیا تو ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل ہونے پائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

40 یقیناً جن لوگوں نے ہمارے دلائل اور احکام کی تکذیب کی اور ہماری آیات کے ساتھ متکبرانہ برتائو کیا تو ان لوگوں کے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور ان کی ارواح خبیثہ کو آسمان پر صعود نصیب نہ ہوگا اور یہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل نہ ہوجائے۔ یعنی سوئی کا ناکہ اس قدر چھوٹا اور اونٹ اتنا جسیم جس طرح یہ ناممکن ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوسکے اسی طرح ان مکذبین اور متکبرین کا جنت میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ اور ہم گناہ گاروں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں یعنی برزخ میں روح پر آسمانوں کے دروازے بند اور سجین میں ٹھکانا اور محشر میں جنت میں داخلہ ممنوع اور دوزخ میں ٹھکانا مجرموں کو ایسی ہی سزا دی جاتی ہے۔