7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کی غرض سے جاتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔

81 تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو یعنی غیر فطری افعال کے مرتکب ہوتے ہو نہیں بلکہ تم تو حد انسانیت سے نکل جانے والے لوگ ہو۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے پاس سوائے اس کے کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک و صاف بننا چاہتے ہیں

82 لوط (علیہ السلام) کی قوم کا اس کے علاوہ کوئی جواب ہی نہیں تھا اور آخر کار وہ اس ہی فیصلہ پر پہنچے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں کو یعنی لوط (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہرکرو کیونکہ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

آخرکار ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے سب متعلقین کو بجز اس کی بیوی کے بچالیا اس کی بیوی رہ گئی رہ جانے والوں میں۔

83 آخر کار ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام متعلقین کو بجز اس کی بیوی کے نجات دے دی کہ اس کی بیوی باقی ماندہ عذاب شدگان میں رہ گئی۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ان پر ہم نے ایک خاص قسم کا مینہ برسایا۔ یعنی پتھروں کا سو اے مخاطب دیکھ تو سہی ان گناہ گاروں کا انجام کیسا ہوا۔

84 پھر ہم نے ان بستیوں پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا یعنی پتھروں کی ان پر بارش برسائی پس اے مخاطب دیکھو تو سہی گناہ گناروں کا انجام کیسا ہوا۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ بیشک تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس کھلی دلیل آچکی ہے لہٰذا تم پیمانہ اور تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچایا کرو اور زمین کی اصلاح ہوجانے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلائو یہ باتیں تمہارے لئے بہتر ہیں۔ بشرطیکہ تم کو یقین ہو

85 اور ہم نے اہل مدین کی طرف ان کے بھائی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیغامبر بناکر بھیجا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم فقط اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی اور پوجا کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی اور واضح دلیل آچکی لہٰذا اب تم سیدھی تول تولا کرو اور پورا پیمانہ بھر کردیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصن نہ پہنچایا کرو اور دیکھو زمین کی اصلاح اور درستی اور امن قائم ہوجانے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلائو یہ باتیں تہارے لیے بہتر ہیں اگر تم میں ایمان ہو اور تم مومن ہو۔ یعنی یہ مدین والے کم تولتے اور ناپ میں کم ناپتے تھے ان کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مقرر فرمایا کھلی دلیل سے مراد نبوت ہے یا کوئی اور معجزہ ہوگا جس کو کھلی دلیل فرمایا ہے۔ زمین کی اصلاح یہی کہ جب آسمانی قانون کے مطابق احکام آجائیں تو پھر زمین میں کافرانہ نظام قائم کرنے کی کوشش نہ کی جائے کم تولنے اور کم ناپنے سے خریداروں کو نقصان پہنچتا ہے اس کی ممانعت فرمائی۔
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور تم ہر ایک شارع عام پر اس غرض سے نہ بیٹھا کرو کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لانے والے ہیں ان کو دھمکیاں دو اور ان کو اللہ کی راہ سے روکو اور خدا کی سیدھی راہ میں کجی تلاش کرنے کے درپے ہو اور اس حالت کو یاد کرو کہ جب تم قلیل تھے پھر تم کو اللہ نے کثیر کردیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

86 اور تم ہر راستے پر اس غرض سے نہ بیٹھا کرو کہ جو شخص دین حق کو قبول کرنے کی غرض سے آئے اس کو ڈرائو اور قتل کی دھمکیاں دو اور لوگوں کو اللہ کے صحیح راستے سے روکو اور اس صحیح راہ اور سیدھے راستے میں شکوک و شبہات پیدا کرو اور اس راہ میں ٹیڑھا پن اور کجی تلاش کرنے کے درپے ہو اور دیکھو اس موقعہ کو یاد کرو جب تمہاری تعداد کم تھی پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری اکثریت کردی اور تم کو بڑھا دیا اور اس بات کو دیکھو کہ فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیا ہوا اور کیسا ہوا۔ یعنی مدین والوں کی یہ حرکت بہت ہی بری تھی کہ جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں دین حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے آتے ان کو راستے میں روک کر ڈراتے دھمکاتے اور مسلمانوں کے روبرو جاہلانہ شکوک و شبہات پیش کرتے دین حق میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں نکالنے کی کوشش کرتے ان باتوں سے منع فرمایا اور ترغیب و ترہیب کے طور پر فرمایا کہ تم شمار میں یا مال میں کم تھے پھر خدا تعالیٰ نے تم کو تعداد میں یا مال میں زیادہ کردیا اور یہ بھی فرمایا کہ اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہ آئوگے تو پھر فسادیوں کا انجام پیش نظر رکھو۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں ایک گروہ اس حکم پر جو مجھ کو دیکر بھیجا گیا ہے ایمان لے آیا ہے اور دوسرا گروہ ایمان نہیں لایا تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

87 اور اگر میں ایک جماعت اس دین پر ایمان لے آئی ہے جو مجھ کو دیکر بھیجا گیا ہے اور ایک جماعت اور ایک گروہ ایسا ہے جو اس دین پر ایمان نہیں لایا تو تم گھبرائو نہیں اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مابین فیصلہ کردے اور وہی بہترین حاکم اور فیصلہ کرنے والا ہے یعنی اگر ظاہری طورپر مومن اور غیر مومن میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ذرا صبر سے کام لو اور وقت کا انتظار کرو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کا وقت آئے گا اس وقت تم کو ایمان کی برکت اور کفر کی شقادت معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرکش متکبر رئوسا نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) ہم تجھ کو اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں سب کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہماری ملت میں چلے آئو شعیب (علیہ السلام) نے کہا خواہ ہم تمہاری ملت کو برا ہی سمجھتے ہوں

88 حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے متکبر اور سرکش رئوسا اور بڑے بڑے سرداروں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) ہم یقیناً تجھ کو اور تیرے ساتھ جو ایمان لائے ہیں اور تیرے ساتھی مومنین کو اپنی بستی سے باہر نکال دیں گے یا تم ہماری ملت اور ہمارے طریقہ پر واپس آجائو شعیب (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ ہم تمہارے طریقہ کو برا سجھتے اور ناپسند کرتے ہوں تب بھی واپس آجائیں یعنی جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے وہ واقعی ملت کفریہ کو چھوڑ کر موافق سمجھتے تھے کہ شعیب (علیہ السلام) بھی ہماری ملت میں شامل تھا اور ہم سے کٹ کر الگ ہوگیا ہے۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

تب بھی اس میں آجائیں۔ اگر ہم تمہارے مذہب میں چلے جائیں باوجود اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے بچالیا ہے تو واقعی ہم خدا پر بڑا افترا کریں گے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ ہم تمہاری ملت میں چلے آئیں الّا یہ کہ اللہ ہی کو جو ہمارا رب ہے ایسا منظور ہو تو دوسری بات ہے ہمارے رب کا علم ہر شیٔ سے وسیع ہے۔ ہم نے اللہ ہی پر توکل کررکھا ہے اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

89 اگر ہم تمہارے مذہب میں آجائیں اور پھر رسوم کفر یہ کا ارتکاب کرنے لگیں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس ملت باطلہ سے نجات دی ہے تو یقیناً ہم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھنے والے اور جھوٹا طوفان اٹھانے والے ہوں گے اور ہم خدا پر افترا کریں گے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں اور ہم کو ہرگز یہ زیبا نہیں کہ ہم اس ملت باطلہ میں واپس آئیں مگر اللہ تعالیٰ جو ہمارا پروردگار اور مالک ہے اسی کو ہمارا مرتد ہونا منظور ہو اور اسی کی مصلحت کا تقاضہ ہو تو بات دوسری ہے ہمارے پروردگار کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے اور ہمارے پروردگار کا علم ہر شئے سے وسیع ہے ہم نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کررکھا ہے اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے مابین ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمادے اور تو تمام فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے یعنی ایک دفعہ جب اللہ تعالیٰ نے غلط راہ سے ہم کو بچالیا تو اب یہ توقع کرنا اور ہم سے یہ مطالبہ کرنا کہ ہم اس دین باطل میں پھر لوٹ آئیں محض ایک غلط بات ہے ہاں ! اگر خدا تعالیٰ کی مصلحت اور اس کی مشیت کا تقاضا ہو تو بات دوسری ہے اگر ہم خدا نخواستہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا طوفان ہوگا کہ ایک دفعہ توحید کے قائل ہوکر پھر شرک کو اچھا کہنے لگے۔ اس لغو مطالبہ پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اہل باطل اور اہل حق کے مابین حق حق اور ٹھیک ٹھیک حق کے موافق فیصلہ فرما دے کیونکہ تو ہی تمام فیصلہ کرنے والوں میں بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور شعیب کی قوم کے کافر رئوسا نے کہا اگر تم لوگ شعیب (علیہ السلام) کے پیچھے چلے تو یقیناً تم سخت نقصان اٹھانے والے ہوگے

90 اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم ان رئوسا اور سرداروں نے جنہوں نے کفر کی راہ اور کافرانہ روش اختیار کررکھی تھی ان غیر مسلموں سے کہا جو ابھی شعیب (علیہ السلام) کی تعلیم کے بارے میں کوئی آخری فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی اور شعیب کے کہنے پر چلے تو یقیناً اس وقت تم سخت نقصان اٹھانے والے ہوجائو گے اور بڑے ہی خسارے میں پڑجائوگے۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

آخر کار ان کو بھی زلزلہ نے آپکڑا پھر وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے

91 جب متکبر سرداروں نے یہاں تک مزاحمت اختیار کی تو آخر کار ان کو بھی زلزلہ نے دفعتہً آپکڑا پھر وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے اور اوندھے منہ گرے کے گرے رہ گئے۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی ایسے ہوگئے جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی وہی ہوئے نقصان اٹھانے والے۔

92 وہ لوگ جو شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کے خوگر تھے وہ ایسے ہوگئے گویا کبھی ان گھروں میں سے بسے ہی نہ تھے وہ لوگ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے اور وہی خسارے میں پڑے یعنی جو شعیب (علیہ السلام) کو بستی سے نکالنا چاہتے تھے انہی کو بستی میں رہنا نصیب نہ ہوا اور جو شعیب (علیہ السلام) کی اتباع کو موجب خسارہ کہتے تھے انہی کو نقصان اٹھانا پڑا اور وہی خسارے میں پڑے۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے یہ کہتا ہوا الٹا پھرا اے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی پھر اب میں ان لوگوں پر جنہوں نے قبول حق سے انکار کیا کیونکر افسوس کروں۔

93 اس وقت حضرت شعیب (علیہ السلام) ان بدبختوں سے یہ کہتے ہوئے واپس تشریف لے گئے اے میری قوم ! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے تھے اور تمہاری ہمیشہ خیر خواہی کرتا رہا پھر اب میں ان لوگوں پر کیوں کر اظہارِ افسوس کروں جنہوں نے دین حق کے قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا یعنی ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے جن کی طبیعت میں اسلام دشمنی ہو یہ مرنے والوں کو بطور عبرت خطاب کیا خطاب کے لئے سماع ضروری نہیں۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کبھی کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس بستی کے لوگوں کو ہم نے تنگ دستی اور بیماری میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوگ عاجزی اختیار کریں۔

94 اور ہم نے کسی بستی اور شہر میں کبھی کوئی نبی نہیں بھیجچا مگر یہ کہ ہم نے شروع شروع ان کے انکار اور نبی کی تکذیب کرنے پر ان بستی والوں کو فقر و تنگدستی اور امراض و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں یعنی رسول کی تکذیب سے باز آجائیں اور ڈر کر گریہ وزاری کریں۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی بداحلی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ اس طرح کا دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پیش آیا کرتا تھا آخرکار ہم نے ان کو اچانک پکڑلیا اور ان کو اس پکڑ کی خبر تک نہ تھی

95 پھر جب وہ باز نہ آئے تو اس کے بعد ہم نے ان کی تکلیف کو راحت سے بدل دیا اور ان کی تنگدستی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ بکثرت پھلے پھولے اور بےفکر ہوکرکہنے لگے اس طرح کا دکھ سکھ اور تکلیف و راحت ہمارے باپ دادوں کو بھی پیش آتی تھیں آخرکار ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور ان کو اس گرفت کی خبر تک نہ تھی یعنی ابتدائی تکذیب کے بدلے میں کچھ تکلیف پہنچی باز نہ آئے پھر آرام دیا کہ شاید اب سمجھ جائیں اور احسان مانیں لیکن پھر بھی پیغمبر کی تعیلم کو قبول نہ کیا اور پیغمبر کے معاملہ میں ڈھیلے نہ پڑے اور یہ نہ سمجھے کہ وہ آزمائش میں مبتلا ہیں بلکہ اس تمام دکھ سکھ کو اتفاقی سمجھے اور زمانے کا ہیر پھیر خیال کیا اور اس غلطی میں پڑ کر کہنے لگے کہ اس قسم کی تکلیف و راحت تو زندگی کے ساتھ وابستہ ہے ہمارے آبائو اجداد بھی اس قسم کے دکھ سکھ سے دوچار ہوتے رہتے تھے یہ معمولی بات ہے جب مرض اس درجہ پر پہنچ گیا تو اچانک عذاب نے آلیا اور ایسی حالت میں آلیا کہ ان کو بالکل خبر نہ تھی۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے نبیوں پر ایمان لے آتے اور ان کی مخالفت سے پرہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کشادہ کردیتے لیکن انہوں نے تو پیغمبروں کی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا لہٰذا ہم نے ان کو ان کی کردار کے باعث پکڑلیا۔

96 اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ان نبیوں پر جن کو ہم نے بھیجا تھا ایمان لے آتے اور خدا سے ڈرتے اور ان نبیوں کی مخالفت سے پرہیز کرتے تو ہم ان پر بجائے آفات ارضی و سماوی کے آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تو پیغمبروں کو تکذیب کا شیوہ اختیار کیا اور ہمارے فرستادوں سے بغاوت کی لہٰذا ہم نے ان کے کرتوتوں کے سبب اور اس کمائی کے باعث جو وہ کمایا کرتے تھے ان کو پکڑ لیا یعنی ہماری گرفت محض دین حق کی مخالفت کے سبب تھی ورنہ اگر وہ راہ راست پر آجاتے اور انبیاء کی اطاعت قبول کرلیتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے آسمان سے خوب بارش ہوتی اور زمین سے خوب پیداوار ہوتی۔ آخرکار جو کردار وہ کرتے تھے اس کی وجہ سے ان پر عذاب آگیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بندے کو دنیا میں گناہ کی سزا پہنچتی رہے تو امید ہے کہ توبہ کرے اور اگر گناہ راست آگیا تو یہ اللہ کا بھلاوا ہے پھر ڈر ہے ہلاکت کاجی سے زہر کھایا اگل دیا تو امید ہے اور اگر بچ گیا تو کام آخر ہوا۔
Ayah 7:97

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا اے پیغمبر ! یہ موجودہ بستیوں کے لوگ اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات میں آپہنچے جبکہ وہ پڑے سوتے ہوں۔

97 کیا اے پیغمبر یہ موجودہ بستیوں کے لوگ یعنی مکہ اور اس کے پاس کی بستیوں کے رہنے والے اس امر سے نڈر اور بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آجائے جبکہ ان کی حالت یہ ہو کہ پڑے سو رہے ہوں۔
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر چاشت کے وقت آپہنچے جب کہ وہ بیکار کاموں میں مشغول ہوں

98 اور کیا اے پیغمبر ! یہ موجودہ بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب دن چڑھے چاشت کے وقت آپہنچے اور ان کی حالت یہ ہو کہ وہ کھیل کود اور بےکار کاموں میں مشغول ہوں یعنی سابقہ لوگوں کے حالات سن کر عبرت حاصل کرنی چاہئے پہلی امتوں پر عام طور سے رات کو سوتے میں عذاب آیا ہے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت یا کاروبار میں جب لگے ہوں اور یا کھیل کود میں مشغول ہوں اس لئے رات دن میں کسی وقت عذاب کے آجانے سے خوف دلایا اور عذاب الٰہی سے بےخوف ہونے کو منع فرمایا۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

ہاں تو کیا یہ لوگ اللہ کی گرفت سے بیخوف ہوگئے ہیں حالانکہ اللہ کی پکڑ سے تو صرف وہی لوگ بیخوف ہوتے ہیں جو تباہ و برباد ہونے والے ہوں

99 ہاں تو کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اچانک گرفت سے بےخوف اور پرامن ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ڈھیل اور استدراج کے باعث ان کو کسی قسم کا خوف نہیں رہا ہے اگر ایسا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک گرفت سے صرف وہی لوگ بیخوف ہوا کرتے ہیں جو خسارہ اٹھانے والے اور تباہ و برباد ہونے والے ہوتے ہیں یعنی اس قسم کی بےخوفی اور نڈر پن کے وہی لوگ مرتکب ہوتے ہیں جو انجام کار تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

اور کیا وہ لوگ جو گزشتہ ہلاک شدہ لوگوں کے بعد آج کل زمین کے وارث ہیں ان کے لئے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیں مگر ہم نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے لہٰذا وہ سنتے تک نہیں

100 اور کیا وہ لوگ جو گزشتہ ہلاک شدہ لوگوں کی جگہ آج کل زمین کے وارث بنے ہوئے ہیں ان کے لئے ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی اور ان پر یہ امر ظاہر نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان نئے وارث شدگان کو بھی ان کے جرائم کے باعث پکڑلیں اور ان کو عذاب میں مبتلا کردیں اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اس لئے یہ سنتے تک نہیں اور ان کو سماع قبول میسر نہیں جو بات سن کر دل میں نہ اترے اس کا سننا نہ سننا برابر ہے۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

اے پیغمب ! یہ چند بستیاں تھیں جن کے بعض واقعات ہم آپ کو سنا رہے ہیں اور بلاشبہ ان بستیوں کے لوگوں کے پاس ان کے رسول واضح معجزات لے کر آئے مگر وہ جن باتوں کو پہلی دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر یہ نہ ہوا کہ وہ ان باتوں کو مان لیتے اللہ تعالیٰ اسی طرح منکرین حق کے قلوب پر مہر کردیا کرتا ہے۔

10 1 اے پیغمبر ! یہ چند بستیاں تھیں جن کے بعض احوال و واقعات آپ کو ہم نے سنائے ہیں اور ان بستیوں کی بعض خبروں سے آپ کو آگاہ کررہے ہیں ان بستیوں کے رہنے والے لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے معجزے اور واضح دلائل لے کر آئے تھے مگر ان کی ضد کا یہ عالم تھا کہ جس چیزکو ابتدائً جھٹلا چکے تھے اور پہلے ہی مرتبہ جس چیز پر منہ سے نہیں نکل چکی تھی اس کو آخر تک مان کر ہی نہیں دیا اور آخر تک اپنی ہٹ پر قائم رہے جس طرح یہ لوگ نافرمانی میں سنگ دل تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ نہ ماننے والوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں میں سے اکثر کو عہد کا پورا نہ پایا اور ہم نے تو ان میں سے اکثر کو نافرمان ہی پایا

102 اور ہم نے ان منکرین کو اکثر وفائے عہد کا پابند نہ پایا اور عہد کا پورا نہ پایا اور ہم نے تو ان میں سے اکثر کو بےحکم اور نافرمان ہی پایا یعنی جب ان پر کوئی بلائے ناگہانی آجاتی ہے تو یہ لوگ اس وقت اطاعت و فرماں برداری کا عہد کرلیتے ہیں اور پھر ان میں کے اکثر اس عہد کو توڑ دیتے ہیں ہوسکتا ہے کہ عہد الست کا مراد ہو اگر وہ عہد مراد ہو تب بھی اکثریت نے اس عہد کو توڑا ہے۔ بہرحال عہد کو پورا کرنے والی سعید روحیں بہت کم ہیں۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ہم نے ان مذکورہ پیغمبروں کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دلائل دیکر فرعون اور ان کے مشیرکار امرا کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے ان دلائل کے ساتھ ظالمانہ برتائو کیا تو اے پیغمبر ﷺ ! ذرا دیکھئے ان فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

103 پھر ہم نے ان مذکورہ پیغمبروں کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دلائل اور اپنے نشان دیکر فرعون اور اس کے سردار اور مشیر کاروں کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے ان دلائل کے ساتھ سوقیانہ برتائو کیا اور معجزات و نشانات کا حق ادا نہ کیا اور بڑی ناانصافی کی۔ اے پیغمبر ﷺ ! پھر دیکھئے ان فسادیوں اور ناسپاسی کرنے والو کا انجام کیا ہوا یعنی سب شرارت کرنے والے دریائے قلزم میں غرق کردیئے گئے اور بنی اسرائیل کو ان کے مظالم سے نجات دی۔
Ayah 7:104

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں

104 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے فرعون بلاشبہ میں کائنات کے پروردگار کا فرستاد اور رسول ہوں۔
Ayah 7:105

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرے لئے یہی لائق ہے کہ میں خدا کی طرف بجز سچی بات کے اور کوئی بات منسوب نہ کردوں بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک بڑی دلیل لایا ہوں لہٰذا اے فرعون تو بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ بھیج دے۔

105 میرے لئے یہی لائق اور مناسب ہے اور مجھ کو یہی زیبا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سوائے حق اور سچ کے کوئی اور بات منسوب نہ کروں۔ بلاشبہ میں تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس ایک واضد دلیل اور بڑی نشانی لے کر آیا ہوں لہٰذا اے فرعون تو بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ اور میرے ساتھ بھیج دے یعنی جب میں خدا کا رسول ہوں تو تجھ سے صحیح بات کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردے۔
Ayah 7:106

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر واقعی تو کوئی نشان لے کر آیا ہے تو اس کو پیش کر اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے

106 فرعون نے کہا اگر واقعی تو کوئی نشانی لایا ہے تو اس کو پیش کر اگر تو واقعی سچا ہے۔
Ayah 7:107

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا اور وہ ڈالتے ہی ایک صاف وصریح اژدہا بن گیا

107 چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈال دیا اور اپنی لاٹھی پھینکی اور عصا ڈالتے ہی وہ ایک صاف وصریح اژدہا بن گیا۔
Ayah 7:108

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ جو باہر نکالا تو وہ ہاتھ اس وقت سب دیکھنے والوں کے لئے بہت ہی چمکدار ہوگیا

108 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کو جو باہر نکالا تو وہ ہاتھ اسی وقت سب دیکھنے والوں کے لئے سفید اور بہت چمکدار ہوگیا۔
Ayah 7:109

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ واقعی یہ کوئی بڑا واقف جادوگر ہے

109 اس عظیم الشان واقعہ کے بعد فرعون نے اپنے امراء اور مشیرانِ خاص سے دریافت کیا جیسا کہ دوسری سورتوں سے معلوم ہوتا ہے اس پر ان امراء اور رئوسا نے اپنی رائے ظاہر کی فرعون کی قوم کے امرا اور رئوسا نے کہا بیشک یہ موسیٰ (علیہ السلام) بڑا ماہر اور حاذق جادوگر ہے۔
Ayah 7:110

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے باہرنکال دے اب تم اس بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو

1 10 اس موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد یہ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے اور خود یہاں حکمران بن کر بیٹھ جائے اب تم بتائو بادشاہ کو کیا مشورہ دیتے ہو یعنی بادشاہ دریافت فرماتے ہیں اب تم بتائو بادشاہ کو کیا مشورہ دیں۔
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

ان سرداروں نے فرعون سے کہا کہ تو موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو اس وقت کچھ مہلت دیدے اور تو مختلف شہروں میں اپنے ہرکارے بھیج دے

1 1 1 ان سب سرداروں نے متفقہ طور پر فرعون کو یہ مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اس وقت کچھ مہلت دیدیجئے اور مختلف شہروں میں اپنے ہرکارے اور برق انداز اور سپاہی بھیج دیجئے۔
Ayah 7:112

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ وہ ہر ماہر فن جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں۔

112 کہ وہ آپ کے پاس ہر ایک ماہر فن جادوگر کو جمع کرلائیں یعنی یہ جادوگر ہے اس کا مقابلہ جادوگروں سے ہونا چاہئے لہٰذ اپنی قلم رو میں اپنے چپڑاسی بھیج کر اچھے اچھے ماہر فن جادوگروں کو جمع کرا لیجئے۔
Ayah 7:113

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ جادوگر جب فرعون کے پاس آگئے تو کہنے لگے اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے تو ہم کو کوئی بڑا انعام ملے گا

113 چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور جب سب جمع ہوگئے تو انہوں نے کہا اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب اگئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا انعام ملے گا اور ہم کسی بڑے صلہ کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 7:114

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں انعام تو ملے ہی گا اور تم شاہی مقربین میں بھی شامل کرلئے جائوگے

114 فرعون نے جادوگروں کو جواب دیا ہاں انعام تو ملے ہی گا اور تم شاہی مقربین میں بھی شامل کرلئے جائوگے اور ہمارے مقرب بن جائو گے۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

اس پر جادوگروں نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) یا تو آپ پہلے ڈال دیجئے یا ہم کو جو ڈالنا ہے وہ ہم ڈالتے ہیں

115 اس ابتدائی گفتگو کے بعد اہل شہر کا اجتماع ہوا موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگر مقابلہ میں آئے تو جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) یا تو آپ پہلے جو کچھ ڈالناہو ڈال دیجئے یا ہم پہلے ڈال دیں یعنی یا تو آپ اپنا کر تب دکھانے کی ابتداء کریں یا ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم پہل کریں۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا تم ہی پہلے ڈالو پھر جب ان جادوگروں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کردیا اور ان کو خوف زدہ کردیا اور وہ بڑا بھاری جادو بنا کر لائے

116 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا تم ہی پہلے ڈال دو اور اپنا کرتب دکھانے میں تم ہی پہل کرو پھر جب ان جادوگروں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کردیا اور انہوں نے لوگوں کو خوف زدہ کردیا اور وہ بڑا بھاری جادوبناکر لائے یعنی اول تو موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ آپ پہلے اپنا عصا ڈال دیں یا ہم اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈال دیں تو وہ دیکھنے والوں کو سانپ اور اژد ہے دکھائی دینے لگے اور ان جادوگروں نے حاضرین کی دید بند کردی اور لوگ ڈرنے لگے اور بڑا بھاری جادو پیش کیا۔
Ayah 7:117

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصا ڈال دے اس عصا کا ڈالنا تھا کہ وہ اسی وقت اس سب جھوٹے طلسم کو نگلنے لگا جو وہ بنا رہے تھے

117 اور اس وقت ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ حکم دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصا ڈال دے اور اپنی لاٹھی جس طرح پھینکا کرتا ہے پھینک دے لاٹھی کا پھینکنا تھا کہ وہ لاٹھی اس تمام کھیل اور سانگ اور جھوٹے طلسم کو نگلنے لگا جو وہ بنا رہے تھے یعنی لاٹھی کا اژدہا بنا اور اس اژد ہے نے ان کی تمام فرضی مصنوعات کو نگل لیا۔
Ayah 7:118

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ وہ جادوگر کررہے تھے وہ باطل ہوکر رہ گیا

118 اس وقت حق کا حق ہونا ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ جادوگر کررہے تھے اور جو کچھ بنا رہے تھے وہ غلط ہوکر رہ گیا اور ان کا بطلان ثابت ہوگیا۔
Ayah 7:119

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

غرض فرعون اور اس کے ساتھی اس جگہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر الٹے پھرے

119 غرض ! فرعون اور اس کے ساتھی اس موقع پر مغلوب ہوگئے اور دب گئے اور بہت ذلیل ہوئے۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ انقلاب بمعنی صیرورۃ ہو۔ جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے اور ہوسکتا ہے کہ نہ ہو جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے ترجمہ کیا ہے ہم نے شاہ صاحب (رح) کی رعایت سے متن میں ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 7:120

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور تمام جادوگر سجدے میں گرپڑے

120 اورتمام جادو سجدے میں گرپڑے۔