7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور وہ زمانہ یاد کرو جب ان کو کہا گیا کہ اس بستی میں جاکر رہو اور اس بتی میں جہاں سے چاہو کھائو اور زبان سے حطۃ یعنی بخش دے کہتے ہوئے جانا اور عاجزی سے کمر کو جھکائے ہوئے دروازے میں داخل ہونا ایسا کرو گے تو ہم تمہاری خطائیں بخش دے گے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو مزید فضل سے بھی نوازیں گے۔

161 اور وہ زمانہ بھی قابل ذکر ہے جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں جاکر رہو اور اس بتی میں جہاں سے چاہو کھائو اور جب اندر جانے لگو تو زبان سے حطۃ کہتے ہوئے جانا اور عاجزی سے کمر کو جھکائے ہوئے دروازے میں داخل ہونا اگر تم نے حکم کی تعمیل کی تو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دیں گے۔ یعنی بیابان کی زندگی سے جب تنگ آئے تو بستی میں جانے کا حکم ہوا۔ جانے کے آداب بتائے دروازے میں داخل ہونے کا طریقہ سکھایا تعمیل ارشاد پر زیادہ عطا کا وعدہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا ۔ 12 عام طور سے اس بستی کا نام اریحا بتایا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ بیت المقدس ہو زیادتی سے مراد ملک کی زیادتی یا اجر وثواب کی زیادتی یا دونوں ہوسکتے ہیں۔
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جو ان کو تلقین کیا گیا تھا دوسرے لفظ سے بدل دیا اس پر ہم نے ان پر آسمانی عذاب نازل کیا اس شرارت کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے

162 مگر ان لوگوں نے جو ان میں سے ناسپاسی کے خوگر ہوچکے تھے اس لفظ کو جو بستی میں جاتے وقت کہنے کو ان سے کہا گیا تھا دوسرے لفظ سے بدل دیا اس پر ہم نے آسمان سے ان پر عذاب نازل کیا اس شرارت و نافرمانی کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے یعنی حطۃ کی بجائے حنطۃ کہا جس کے معنی گیہوں کے ہیں اور بجائے سر کو اور کمر کو جھکانے کے پائوں پھیلا کر سرین کے بل داخل ہوئے تب ان پر طاعون پڑا ان واقعات کی مزید تفصیل سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں دیکھئے۔ یہ ارض تیہ سے نکلنے کا واقعہ ہے۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ ! ان بنی اسرائیل سے ذرا اس بستی کا حال تو دریافت کرو جو سمندر کے قریب ہی آباد تھی کہ جب وہاں کے لوگ ہفتہ کے احکام میں حد سے تجاوز کررہے تھے جس دن ان کا ہفتہ ہوتا تو ان کی مچھلیاں پانی پر نمایاں ہوکر ان کے قریب آجاتیں اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا تو مچھلیاں نہ آتیں ہم اسی طرح ان کو اس نافرمانی کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے آزمائش میں مبتلا کرنے لگے۔

163 اے پیغبران بنی اسرائیل سے اس بستی کے لوگوں کا حال تو دریافت کیجئے جو بستی سمندر کے کنارے آباد تھی کہ جب اس بستی کے باشندے ہفتہ کے دن کے احکام میں حد سے آگے بڑھ رہے تھے جب ہفتہ کا دن ہوتا تو ان کے دریا کی مچھلیاں پانی پر نمایاں ہوکر ان کے سامنے آجاتی تھیں اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا تو مچھلیاں ان کے سامنے نہ آتی تھیں ہم اسی طرح ان لوگوں کی اس نافرمانی کے باعث جس کے وہ خوگر تھے آزمائش کرتے تھے اور اس طرح ان کو آزماتے تھے۔ یعنی ہفتہ کے روز یہود پر مچھلیاں کا شکار ممنوع تھا یہ مذکورہ بستی غالباً ایلہ تھی اس میں اکثر ماہی گیر رہتے تھے چونکہ یہ بےحکمی اور نافرمانی کے عادی تھی اس لئے ان کو اس آزمائش میں مبتلا کیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی سمندر میں خوب اٹھتی اور ہفتہ نہ ہوتا تو مچھلی غائب ہوجاتی مچھلیوں کو روبرو پھر وتا دیکھ کر ان کا دل للچاتا آخر دریا کے کنارے حوض بنائے اور نالیاں بنائیں لیکن جو مچھلیاں آتیں وہ ہفتہ کی شام نکل جاتیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں یہ قصہ ہوا ہے یہود پر ہفتہ کے دن شکار کرنا منع تھا اللہ نے اس شہر والے بےحکم دیکھنے لگا آزمانے ہفتہ کے دن مچھلیاں اوپر پھریں اور دنوں غائب رہیں ان کا جی نہ رہ سکا آخر ہفتہ کو شکار کیا اپنی دانست میں حیلہ کیا کہ کنارہ دریا کے پانی کاٹ لائے کہ مچھلیاں وہاں بند ہور ہیں تو بھی مچھلیاں ہاتھ نہ آئیں ہفتہ کی شام کو نکل جائیں آخر ہفتہ کے دن راہ بھاگنے کی بند کی اتوار کو پکڑ لیا پھر وہ لوگ بندر ہوگئے اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو حلال روزی نہ ملے اور حرام چاہے تو ملے تو اس کو آزمائش ہے آخر وہ روزی وبال ہوگی اور معلوم ہوا کہ حیلہ اللہ پاس کام نہیں آتا۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور اس وقت کا حال بھی پوچھئے جب ان میں سے ایک جماعت نے جو نافرمانی نہیں کرتی تھی ان لوگوں سے کہا جو نصیحت کیا کرتے تھے کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کئے جاتے ہو جن کو خدا تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت عذاب کرنے والا ہے انہوں نے جواب دیا اس لئے کہ تمہارے رب کے روبرو اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکیں اور اس توقع پر بھی کہ شاید یہ باز آجائیں۔

164 اور ان سے اس وقت کا حال بھی دریافت کیجئے جب ان میں سے ایک جماعت نے جو ان ماہی گیروں کو سمجھاتے سمجھاتے تنگ آگئی تھی اور آخر کار اس نے مایوس ہوکر سمجھانا اور نصیحت کرنا چھوڑ دیا تھا ان لوگوں سے کہا جو ان کو برابر سمجھانے اور نصیحت کرنے میں شغول تھے کہ آخر تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کئے جاتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو کسی سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے ان نصیحت کرنے والوں اور سمجھانے والوں نے جواب دیا اس لئے ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ تمہارے پروردگار کے روبرو اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکیں اور نیز اس توقع پر کہ شاید یہ باز آجائیں اور ہفتہ کے دن شکار کرنا چھوڑ دیں۔ یعنی ان میں کئی فرقے ہوگئے تھے ایک فرقہ وہ جو شکار ممنوعہ کا ارتکاب کرتا تھا اور دوسرا فرقہ وہ جو ان کو نصیحت کرتے کرتے مایوس ہوکر نصیحت کرنا چھوڑ بیٹھا تھا۔ تیسرا وہ جو برابر نصیحت کرنے میں مشغول تھا۔ چوتھا وہ جو نہ خود مرتکب جرم ہوتا تھا نہ جرم کرنے والوں سے کوئی تعارض کرتا تھا۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب ان لوگوں نے ان تمام نصیحتوں کو جو ان کو کی گئی تھیں فراموش کردیا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچالیا جو اس بری بات سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو نافرمان تھے ان کو ان کی اس نافرمانی کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے شدید عذاب میں مبتلا کردیا

165 پھر جب ان ماہی گیروں نے ان تمام نصیحتوں کو جو ان کو کی گئی تھیں فراموش کردیا اور جملہ نصائح کو نظرانداز کردیا تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو اس بری بات یعنی ارتکاب جرم سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو نافرمان تھے ان کو ان کی اس نافرمانی کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ یعنی جو برابر سمجھاتے رہے اور جنہوں نے تھک کر سمجھانا چھوڑ دیا تھا یہ دونوں فریق بچ گئے۔ تیسرے کے ذکر سے حضرت حق نے سکوت فرمایا چوتھا فریق جو مجرم تھا اس کی گرفت کا ذکر فرمادیا۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے تو ہم نے ان کو کہا کہ تم ذلیل و خوار بندر ہوجائو

166 پس جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے تو ہم نے ان کو کہا اور حکم دیا کہ تم ذلیل ہونے والے بندر ہوجائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منع کرنے والوں نے شکار کرنے والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھالی ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی دیوار پر سے دیکھا ہر گھر میں بندر وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت داروں کے پائوں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔ 12
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور وہ وقت ان کو یاد دلائو جب آپ کے رب نے ان یہود کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ قیامت تک ان پر ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین قسم کی تکلیف پہنچایا کرے گا بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دیتا ہے اور بیشک وہ غفور الرحیم بھی ہے۔

167 اور وہ وقت بھی یاد دلائو جب آپ کے پروردگار نے ان یہود کو آگاہ کردیا تھا اور ان کو یہ بات بتادی تھی کہ وہ قیامت تک ان پر کسی نہ کسی ایسے شخص کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت سزا کی تکلیف پہنچاتا ہے گا بلاشبہ آپ کا پروردگار بہت جلد سزا دیتا ہے اور یقین جانو کہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان بھی ہے۔ یعنی یہود ہمیشہ مقہور و مغلوب رہیں گے اور اگر کبھی کوئی عارضی اقتدار مل بھی جائے تو اس کا اعتبار نہیں گناہگاروں کے لئے جس طرح کبھی عذاب میں جلدی ہوجاتی ہے اسی طرح توبہ کرنے والوں کے ساتھ رحمت و مغفرت کا برتائو بھی ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں توریت میں فرمایا تھا کہ جب حکم توریت چھوڑو گے تو تم پر اور بندے مسلط ہوں گے پھر قیامت تک تم ذلیل رہوگے اب یہود کو کہیں کی حکومت نہیں غیر کی رعیت ہیں۔ 12 ۔ فلسطین کی حکومت سے شبہ نہیں ہونا چاہئے وہ حکومت نہیں بلکہ یورپین طاقتوں کی ماتحت ایک معمولی ریاست ہے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو گروہ گروہ کرکے زمین میں تقسیم کردیا بعضے ان میں سے نیک تھے اور کچھ ان می سے اس کے برعکس تھے اور ہم نے ان کو آرام و آسائش سے بھی آزمایا اور رنج و مصائب سے بھی کہ شاید وہ باز آجائیں۔

168 اور ہم نے بنی اسرایئل کو زمین میں متفرق جماعتوں میں تقسیم کردیا کچھ ان میں نیک بھی تھے اور بعضے ان کے برعکس یعنی نیک بھی تھے اور بد بھی اور ہم نے ان کو آرام و آسائش اور خوش حالیوں سے بھی آمای اور رنج و مصائب، بیماری اور فقر سے بھی ان کو آزمایا یعنی مختلف طریقوں سے ان کی آزمائش ہوئی تاکہ شاید وہ باز آجائیں۔ کیونکہ کبھی راحت و عیش سے بھی ترغیب ہوتی ہے جس طرح آلام و مصائب سے خوف و ترہیئت ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مذہب مختلف پیدا ہوئے۔ یہ احوال اس امت کو سنایا کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہوگا۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعضے بندر اور سور ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ گمراہی سے پناہ دے۔
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین ہوئے جو کتاب یعنی توریت کے وارث تو بنے مگر اس دنیائے فانی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ کوتاہی ہماری ضرور بخش دی جائے گی اور اگر اسی جیسا کوئی اور مال ان کے سامنے آجائے تو اسے بھی حاصل کرلیتے ہیں کیا ان لوگوں سے توریت کے اس مضمون پر عہد نہیں لیا گیا کہ وہ سوائے امر حق کے اللہ کی طرف کوئی اور بات منسوب نہیں کریں گے اور جو کچھ اس توریت میں ہے اس ک یہ پڑھ بھی چکے ہیں اور آخرت کا گھر انہی کے حق میں بہتر ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

169 پھر ان گزشتہ لوگوں کے بعد کچھ ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے کتاب یعنی توریت کو تو ان سے حاصل کیا اور ان گزشتہ لوگوں کے بعد توریت کے تو وارث بنے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ احکام الٰہی کی عوض اس دنیائے دنی کا مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اس دنیائے دنی کے فائدے حاصل کرتے ہیں یعنی بجائے اس کے کہ اللہ کے لئے تبلیغ کرتے اور خدا کے احکام اس کے بندوں تک حض لوجہ اللہ پہنچاتے انہوں نے احکامِ الٰہی اور توریت کی تبلیغ کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنالیا اور اس پر دلیر ایسے کہ اگر کوئی ان کو ٹوکے تو کہتے ہیں کہ ضرور ہماری مغفرت ہوجائے گی اور یہ دین فروشی ہم کو معاف کردی جائے گی اور باوجود اس کے اگر پھر ان کے پاس ایسا ہی کوئی مال آجائے تو اسے بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ یعنی دین فروشی کے عادی ہیں اور اس گناہ کو ہلکا اور خفیف سمجھتے ہیں کیا ان لوگوں سے کتاب الٰہی کے اس مضمون پر عہد نہیں لیا گیا کہ وہ سوائے امر حق اور واقعی بات کے اور کوئی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کریں اور جو کچھ اس توریت میں ہے اس کو یہلوگ پڑھ بھی چکے ہیں یعنی توریت میں یہ حکم موجود تھا اور یہ اس کو پڑھ بھی چکے تھے اور جب یہ کتاب پر ایمان لائے تو ہر حکم کے پابند ہوئے اور آخرت کا گھر اور دار آخرت ان لوگوں کے لئے بہتر ہے اور اس گھر کی بھلائی کے وہ لوگ مستحق ہیں جو اس قسم کی معصیت اور عہد شکنی سے پرہیز کرتے ہیں۔ کیا اے یہود ! تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پچھلے لوگ رشوت لے کر غلط مسئلے لگے کہنے اور امید رکھتے کہ ہم بخشے جاویں حالانکہ پھر اسی کام کو حاض ہیں امید بخشنے کی ہے جب باز آویں یہ اسباب زندگی مال دنیا کو فرمایا۔ 12
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ توریت کے صحیح پابند ہیں اور نماز کی بھی پابندی کرتے ہیں تو یقیناً ہم ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کریں گے

170 اور جو لوگ توریت کے صحی پابند ہیں اور اس کے تمام احکام پر عامل ہیں اور نماز کی بھی پابندی کرتے ہیں تو یقیناً ہم ایسے نیک کردار لوگوں کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کریں گے۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جس وقت بنی اسرائیل پر ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر اس طرح معلق کردیا گویا وہ ایک سائبان ہے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ پہڑ ان پر گرا ہی چاہتا ہے اور حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو پوری قوت سے لو اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو توقع ہے کہ تم بچ جائو۔

171 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جس وقت بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کو اس طرح معلق کردیاد جیسے وہ ایک سائبان ہے یعنی پہاڑ ان کے سروں پر چھت کی طرح معلق ہوگیا اور وہ بنی اسرائیل یہ سمجھ گئے کہ وہ پہاڑ ان پر گراہی چاہتا ہے اور ان کو حکم دیا گیا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو پوری قوت اور کامل عزم کے ساتھ لو اور مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور جو کچھ اس کتاب میں مذکور ہے اس کو یاد رکھو توقع ہے کہ تم بچ جائو۔ یعنی جس طرح کوئی سائبان یا چھت ہوتی ہے اس طرح پہاڑ کا ایک ٹکڑا ان پر معلق کردیا گیا اور سمجھے اور ان کو یقین ہوگیا کہ یہ پہاڑ ہم پر گرپڑے گا۔ اس وقت ان کو حکم ہوا کہ جو توریت ہم نے تم کو دی ہے اس کو قبول کرو اور اس کے احکام کو یاد رکھو تاکہ تم گناہوں سے بچ کرمتقی بن جائو واقعہ کی تفصیل پہلے پارے میں گزر چکی ہے۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور ان کے سامنے اس وقت کا ذکر کیجئے جبکہ آپ کے رب نے بنی آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو خود ان ہی کی ذات پر گواہی بنایا اور پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ان سب نے جواب دیا بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ہم سب اس پر گواہ ہیں یہ اقرار اس وجہ سے لیا ہے تاکہ تم قیامت کے دن کبھی یوں نہ کہہ دو کہ ہم اس بات سے بالکل بیخبر تھے

172 اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اے پیغمبر آپ کے پروردگار نے اولاد آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد اور ان کی اولاد کی پشت سے ان کی اولاد اسی طرح اولاد در اولاد سب کو عالم ارواح میں نکال کر جمع کیا اور ان سب کو خود انہی کی ذات پر گواہ بنایا اور ان کو خطاب کرتے ہوئے دریافت فرمایا کہ میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟… ان سب نے جواب دیا کہ بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں ہم سب آپ کی ربوبیت پر گواہ بنتے ہیں اور آپ کی ربوبیت اور آپ کے رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں یہ اقرار اولاد ِ آدم (علیہ السلام) سے اس لئے لیا گیا تاکہ قیامت میں اگر تمہارے شرک کی وجہ سے تم کو سزا دی جائے تو تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو آپ کی توحید اور آپ کی ربوبیت سے بالکل ہی بیخبر تھے۔
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یوں نہ کہنے لگو کہ شرک تو اصل میں ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد تھے جو ان کے بعد پیدا ہوئے تھے تو کیا تو ان غلط کار لوگوں کے فعل پر ہم کو ہلاک کرتا ہے

173 یا یوں نہ کہنے لگو کہ شرک تو ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد اور ان کی نسل میں سے تھے جو ان کے بعد ہوئے تھے یعنی ہم تو محض ان کے تابع تھے جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھا وہی کرنے لگے تو اے خدا ! کیا اب تو ہم کو ان غلط کار اور غلط راہ نکالنے والوں کی وجہ سے اور ان کے غلط فعل کے باعث ہم کو ہلاک کرتا ہے اور ہم کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ یعنی قیامت میں عذاب کو دیکھ کر یہ باتیں نہ کہہ سکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد نکالی سب سے اقرار کروایا اپنی خدائی کا پشت میں داخل کیا اس سے مدعا یہ ہے کہ خدا کے ماننے میں ہر کوئی آپ کفایت ہے باپ کی تقلید نہیں اگر باپ شرک کرے بیٹا چاہے ایمان لاوے اگر کسی کو شبہ ہو کہ وہ عہد تو یاد نہیں رہا پھر کیا حاصل تو یوں سمجھے کہ اس کا نشان ہر کسی کے دل میں رہا ہے اور ہر زبان پر مشہور ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے ساراجہان قائل ہے اور جو کوئی منکر ہے یا شرک کرتا ہے تو اپنی عقل ناقص کے دخل سے پھر آپ ہی جھوٹا ہوتا ہے۔ 12
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں

174 اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو مفصل اور صاف صاف بیان کرتے ہیں کہ وہ ان آیات کے مطالب کو سمجھیں اور تاکہ وہ باز آجائیں اور اصرار علی الباطل کو چھوڑ دیں اور حق کی جانب مائل ہوجائیں۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور اے پیغبر آپ ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دیجئے جس کو ہم نے اپنی آیات عطا فرمائی تھیں مگر وہ ان کو چھوڑ نکلا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گم راہو میں شامل ہوگیا

175 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو عبرت دلانے کی غرض سے اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دیجئے جس کو نے اپنی آیتیں عطا فرمائی تھیں یعنی اپنے احکام کا علم و فہم عطا فرمایا تھا مگر وہ ان آیات و احکام اور دلائل واضحہ کو چھوڑ نکلا اور ان آیتوں سے بالکل ہی نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ شخص گمراہوں میں شامل ہوگیا اور وہ گمراہ اور گم کردہ راہ لوگوں میں سے ہوگیا۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان احکام کے باعث بلند مرتبہ کردیتے مگر وہ خود ہی پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے ہولیا سو اس کی مثال کتے جیسی ہوگئی کہ اگر تو اس کو ڈانٹے تو بھی ہانپے یا تو اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی سوائے پیغمبر یہ واقعات آپ ان کو سنا دیجئے شاید کہ یہ لوگ کچھ غور کریں۔

176 اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان احکام پر عمل کرنے کے باعث اور ان آیات کے مطالب و مفاہیم کی تعمیل کرنے کے سبب بلند مرتبہ کردیتے لیکن وہ بدنصیب خود ہی پستی کی جانب اور دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھ ہولیا اور اپنے نفس کی خواہشات کا پیرو بن گیا اور ہماری آیات و احکام کو نظر انداز کردیا لہٰذا آیات و احکام کو چھوڑ کر جو ذلت و پریشانی اس کو نصیب ہوئی اس کی حالت کتے جیسی ہوگئی کہ اگر تو اس کو ڈانٹے اور اس پر حملہ کرے تو بھی ہانپے اور اگر تو اس کو چھوڑ دے تو تب بھی ہانپے یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات اور ہمارے دلائل کی تکذیب کی۔ لہٰذا اے پیغمبر ! یہ حال و واقعات آپ ان کے سامنے بیان کردیجئے اور آپ ان کو سنا دیجئے شاید کہ یہ لوگ کچھ غور و فکر سے کام لیں۔ یعنی یہود کی حالت بتانے اور سمجھانے کو بنی اسرائیل کے ایک عالم کی بات سنائی یہ کوئی بہت بڑا عالم اور مستجاب الدعوات تھا لیکن بےعمل ہوگیا اور علم کی شان کو نظر انداز کردیا۔ شیطان نے پیچھا کیا اور اس پر قابو پالیا۔ جو چیز بلند اور اونچا ہونے کے لئے عطا ہوئی تھی اس کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سے پستی میں مبتلا ہوا اور دائمی ذلت و رسوائی اور پریشانی نصیب ہوئی جیسے کتا ذلیل بھی اور پریشان بھی یہی حالت عام طور سے بد دین اور بےعمل لوگوں کی ہوتی ہے اسی طرح یہود نے بھی اگر اپنے علم کا صحیح استعمال نہ کیا اور دنیا طلبی اور زر طلبی میں لگے رہے تو ان کا انجام بھی یہی ہونا ہے کہ کتے کی طرح گھر کے نہ گھاٹ کے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا لشکر چلا ایک بادشاہ پر اس ملک میں ایک دو یش تھا۔ صاحب تصرف بادشاہ نے اس سے مدد چاہی اس کو باطن سے منع ہوا۔ پھر بادشاہ نے اس کی عورت کو مال کی طمع دی اس نے اس کو راضی کر کر بھیجا وہاں اپنے اعمال چلتے نہ دیکھے بادشاہ کو حیلہ سکھایا کہ اس لشکر میں فاحشہ عورتیں بھیجے اور لوگ بدکاری کریں تو ان پر ذلت پڑے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برکت سے حیلہ پیش نہ چلا لیکن سکھانے والا مردود ہوا شاید دنیا میں یا آخرت میں یہ عذاب ہوا۔ کہ کتے کی طرح زبان نکل پڑی۔ حق تعالیٰ نے یہ قصہ یہودکو سنادیا کہ اگرچہ علم کامل اپنے پاس ہر کام تب آوے کہ آپ اس کے تابع ہو اور اگر آپ تابع ہوحرص کا اور چاہے کہ علم میرے کام آوے تو کچھ نہیں ہوتا اور شاید ہاپنتے کتے کی مثال اس میں ہو کہ جب تک وہ حرص سے خالی تھا اس کو باطن سے صحیح معلوم ہوا جب دل میں حرص بٹھی تو باطن سے معلوم ہوا اس کو اپنی طبع کے موافق سمجھ لیا۔ نقل میں ہے کہ جب وہ چلنے لگا تو چاہا کہ پھر غیب سے کچھ معلوم ہو تب معلوم ہوا کہ جا۔ جب راہ میں پہنچا تو ایک فرشتہ ملا شمشیر ننگی ہاتھ میں اس نے التجا کی کہ اگر حکم نہ ہو تو میں نہ جائوں کہا جا لیکن یہ دعا نہ کر پھر بادشاہ پاس پہنچ کر لگا بددعا کرنے منہ سے خود بخود دعائے نیک نکلنے لگی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لشکر کو تب ناچار وہ حیلہ سکھایا۔ 12
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال بہت ہی بری ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے ہیں

177 ان لوگوں کی مثال اور ان کی حالت واقعی بہت بری حالت ہے جنہوں نے ہماری آیات اور ہمارے دلائل توحید و رسالت کی تکذیب کی اور اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے تو وہی صحیح راہ پانے والا ہے اور جن کو وہ گمراہ کردے تو وہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے

178 جس شخص کی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے تو وہی صحیح راہ پانے والا ہے اور جس کی رہنمائی سے وہ دست کش ہوجائے اور گمراہی میں چھوڑ دے تو ایسے ہی لوگ زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بہت سے جنات اور انسان دوزخ کیلئے پیدا کئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ان کے پاس دل تو ہیں مگر وہ ان دلوں سے سمجھ کا کام نہیں لیتے اور ان کے پاس آنکھیں ہیں پر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان بھی ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں یہ لوگ چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل ہیں

179 اور یہ حقیقت امر واقعی ہے کہ ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے جن اور انسانوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے وہ دوزخ میں رہنے والے اور دوزخ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ لوگ وہ ہیں جن کے پاس دل تو ہیں مگر وہ ان دلوں سے حق بات کو سمجھنے کا کام نہیں لیتے یعنی حق بات کو سمجھنے کا ارادہ نہیں کرتے اور ان لوگوں کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور صحیح استدلال کا ان سے کام نہیں لیتے۔ اور ان کے پاس کان تو ہیں مگر وہ ان کانوں سے حق بات کو نہیں سنتے یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ یہ لوگ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں یعنی یہ انسان اور ذوی العقول ہونے کے باوجود آخرت سے جانوروں کی طرح غافل اور بیخبر ہیں تو جانوروں سے بھی زیادہ بےراہ ہوئے یہی لوگ وہ ہیں جو بالکل غافل ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خدا اور رسول کو پہچاننا اور ان کے حکم سیکھنے ہر کسی پر فرض ہے نہ کرے تو دوزخ میں جاوے۔ 12 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے قلوب سے اور آنکھوں اور کانوں سے کام نہ لیں تو یہ سمجھو کہ یہ بدنصیب دوزخ ہی میں رہنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اچھے اچھے سب نام اللہ کیلئے خاص ہیں لہٰذا انہی ناموں سے اس کو پکارا کرو اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ایسے لوگ جو کچھ کررہے ہیں بہت جلد اس کا بدلہ دیئے جائیں گے

180 اور سب اچھے اچھے مخصوص نام اللہ ہی کے لئے خاص ہیں لہٰذا ان ہی مخصوص ناموں کے ساتھ اس کو پکارا کرو اور ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو ایسے لوگ جو کچھ کررہے ہیں ان کو ضرور ان کے کئے کی پاداش بھگتنی ہوگی اور بہت جلد ان کو ان کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ نے اپنے وصف بتائے ہیں کہ مناجات میں وہ کہہ کر پکارو کہ تم پر متوجہ ہو اور کج راہ نہ چلو کج راہ یہ کہ جو وصف نہیں بتائے وہ کہے جیسے اللہ کو بڑا کہا نفسا نہیں کہا یا قدیم کہا پرانا نہیں کہا اور ایک کج راہ یہ ہے کہ ان کو سحر میں چلا دے وہ اپنے کئے کا بدلا پار ہیں گے یعنی قرب خدا نہ ملے گا وہ مطلب ملے گا برایا بھلا۔ 12 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہی نام استعمال کئے جائیں جو کتاب و سنت سے ثابت ہوں۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوق میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتے ہیں۔

181 اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو دین حق کے موافق لوگوں کو ہدایت بھی کرتی ہے اور اسی دین حق کے مطابق معاملات کے متعلق لوگوں میں انصاف بھی کرتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شرع پر مطلب یہ ہے کہ تمام مخلروق یکساں نہیں ہے جہاں بہت سے برے ہیں وہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے کردار اور ان کا انصاف شریعت اسلامی کے موافق ہے۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ہم ان کو اس طور پر آہستہ آہستہ ہلاکت و تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

182 اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب اور ان کو جھٹلانے کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ہم ان کو بتدریج آہستہ آہستہ جہنم اور ہلاکت و تباہی کی طرف اس طور پر لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ یعنی ہم ان کو غیر محسوس طریقہ پر تباہی کے گڑھے کی طرف لے جارہے ہیں۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دے رہا ہوں یقیناً میری پکڑ بڑی مضبوط ہے

183 اور میں ان کو مہلت دے رہا ہوں۔ بیشک میری تدبیر اور میری گرفت بڑی سخت ہے۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے اتنی بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق یعنی پیغمبر کو کسی قسم کا جنون نہیں ہے وہ تو صرف صاف صاف ایک ڈرانے والا ہے

184 کیا ان منکروں نے اتنی بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو کسی قسم کا ذرا سا جنون اور دیوانگی نہیں ہے وہ تو صرف ایک صاف اور واضح طور پر ڈرانے والا ہے۔ یعنی اتنی بات پر تو ضرور غور کرنا چاہئے کہ یہ پیغمبر کسی قسم کی دیوانگی میں مبتلا نہیں ہے بلکہ محض ایک ڈرانے والا ہے تم جو اس کو جنون بتاتے ہو یہ الزام غلط ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رفیق فرمایا پیغمبر کو ہمیشہ ان کے پاس ہے اور وہ اس کے حال سے واقف ہیں۔ 12
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں نظر نہیں کی اور نہ اس بات پر غور کیا کہ شاید ان کا وقت معین قریب ہی آپہنچا ہو پھ آخر اس امر حق کے بعد اب یہ اور کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔

185 اور کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کی بادشاہت میں اور نیز ان چیزوں میں جو دوسری چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں نظر نہیں کی اور نہ اس بات پر ان منکروں نے غور کیا کہ شاید ان کی اجل اور ان کا وقت معین قریب ہی آپہنچا ہو۔ پھر آخر اس امر حق اور قرآن کریم کے بعد اب یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ یعنی نہ تو پیغمبر کے معاملہ میں یہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے ہیں اور نہ عالم علوی اور نہ عالم سفلی پر نظر استدلال سے غور کرتے ہیں جو خدا کی توحید سمجھ میں آئے اور اس کا مستجمع بجمیع صفت الکمال ہونا ثابت ہو اور نہ اس پر غور کرتے ہیں کہ شاید ان کا وقت پورا ہوچکا ہو تو یہ خدا سے ڈریں اور خدا کے عذاب سے ڈر کر ایمان کے دامن میں پناہ لیں جب انہوں نے اپنے قوائے فکریہ کو اس قدر معطل کررکھا ہے تو آخر قرآن کریم اور اسلام کے بعد یہ اور کون سی چیز کی تلاش میں ہیں جس پر ایمان لائیں گے۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کسی شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی رہنمائی سے محروم کردے تو اس کو کوئی راہ بتانے والا نہیں اور خدا ان کو ان کی سرکشی ہی میں حیران و سرگرداں چھوڑے رکھتا ہے

186 جس کسی شخص کو اللہ تعالیٰ بےراہ چھوڑ دے اور اپنی رہنمائی سے محروم کردے تو اس کی کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں اور اللہ تعالیٰ ان منکروں کو ان کی سرکشی ہی میں حیران و سرگرداں چھوڑے رکھتا ہے۔ یعنی جب کسی شخص کی سرکشی حد سے تجاوز ہوجاتی ہے تو حضرت حق تعالیٰ کی توفیق دست کش ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان گمراہی میں مارا مارا پھرتا ہے اور کوئی رہنمائی میسر نہیں آتی۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کو دریافت کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب ہی کے پاس ہے صرف وہی اس قیامت کو اس کے وقت پر ظاہر کرے گا وہ قیامت کا وقوع آسمانوں اور زمین میں ایک بہت بھاری حادثہ ہوگا وہ تم پر نہیں آئے گی مگر دفعتاً اور اچانک وہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں گویا آپ اس سے پورے پورے واقف ہیں۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔

187 اے پیغمبر ! یہ منکر آپ سے قیامت کو دریافت کرتے ہیں اور اس کا سوال کرتے ہیں کہ اس قیامت کا وقوع کب ہوگا اور اس کے قائم ہونے کا وقت کیا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اس قیامت کا علم صرف میرے پروردگار ہی کے پاس ہے صرف وہی اس قیامت کو اس کے وقت پر ظاہر کردے گا وہ قیامت کا قائم ہونا آسمانوں اور زمین میں ایک بہت بھاری حادثہ اور واقعہ ہوگا یعنی اس قیامت سے تمام عال درہم برہم ہوجائے گا اس لئے اس کو ثقیل اور بھاری فرمایا وہ قیامت تم پر نہیں آئے گی مگر اچانک بیخبر ی میں آئے گی وہ لوگ آپ سے اس طرح اس قیامت کو دریافت کرتے ہیں گویا آپ اس کی تلاش میں ہیں اور آپ اس سے پورے پورے واقف ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ اس خصوصیت سے ناواقف ہیں اور قیامت کے علم کا خاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہونا اس سے واقف نہیں ہیں۔ یعنی یہ نہیں جانتے کہ بعض علوم حق تعالیٰ کے لئے خاص ہوتے ہیں جن کا علم کسی کو نہیں دیا جاتا۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات کے لئے نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی ضرر کا مگر جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر میں غیب داں ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کرلیا کرتا اور مجھ کو کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو صرف ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو میری بات مانتے ہیں۔

188 آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو خود اپنی ذات کے لئے بھی کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا ہوں نہ کسی ضرر و نقصان کا اختیار رکھتا ہوں مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے اور کسی نقصان سے مجھ کو باخبر کردیتا ہے تو میں اس کے حکم سے بچ جاتا ہوں اسی طرح کسی نفع کی بات سے مجھ کو مطلع کردیتا ہے تو میں اس کے حکم سے وہ نفع حاصل کرلیتا ہوں اور اگر میں غیب داں ہوتا اور مجھ کو جملہ مغیبات کا علم ہوتا تو میں بکثرت منافع اور بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھ کو کوئی ضرر اور برائی نہیں پہنچتی اور میں کبھی کوئی نقصان نہ اٹھاتا میں تو صرف ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں اور میری بات مانتے ہیں ڈرانے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں۔ یعنی جملہ مغیبات الٰہیہ کا مجھ کو علم نہیں وہ جس بات سے آگاہ کردیتا ہے اس کی خبر مجھ کو ہوجاتی ہے قیامت کے واقع ہونے کی تاریخ مجھ کو نہیں بتائی اس لئے میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اسی جاندار سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ آدم (علیہ السلام) اس سے سکون و اطمینان حاصل کرے پھر جب مرد عورت سے ہم فراش ہوا تو عورت کو ہلکا سا حمل رہ گیا کہ وہ اس حمل کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی پھ جب وہ زیادہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان دونوں کا رب ہے یوں دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم بچہ عنایت کیا تو ہم تیرا بڑا ہی احسان مانیں گے۔

189 وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے اور اس کی شان ایسی ہے جس نے تم کو نفسِ واحدہ اور ایک جاندار سے پیدا کیا یعنی سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی جاندار سے اس کا جوڑا بنایا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے ان کی بیوی حواؔ کو نکالا تاکہ وہ آدم (علیہ السلام) اس سے سکون و اطمینان حاصل کرے جیسا کہ عام طور پر مردو عورت میں باہمی انس ہوتا ہے پھر جب مرد عورت سے ہم بستر اور ہم فراش ہوا تو عورت کو حمل ہوگیا جو ابتدائً ہلکا سا تھا کہ وہ اس حمل کو لئے ہوئے ہر طرف چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ زیادہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ سے جو ان کا رب ہے یوں دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم بچہ عنایت فرمایا اور صحیح اولاد عطا فرمائی تو یقیناً ہم تیرا احسان مانیں گے اور خوب شکر گزار رہیں گے۔
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

مگر جب اللہ نے ان کو صحدیح سالم بچہ عطا کردیا تو اللہ کی دی ہوئی چیزیں وہ دونوں خدا کا شریک مقرر کرنے لگے حالانکہ ان کے اس شرک سے اللہ تعالیٰ بہت پاک و بالاتر ہے۔

190 پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میاں بیوی کو صحیح سالم اولاد عطا فرمادی تو اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی چیز میں اور اس کی دی ہوئی اولاد میں یہ دونوں خدا کا شریک مقرر کرنے لگے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک سے بہت پاک و بالاتر ہے۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کوئی چیز بھی نہیں پیدا کرسکتے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود پیدا شدہ ہیں۔

191 کیا یہ لوگ ایسوں کو خدا کا شریک تجویز کرتے ہیں اور ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرسکتے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ہی مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ یعنی لوگوں کو حالت یہ ہے کہ جب حمل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ساتھ خیر کے تندرست اور صحیح سالم بچہ عنایت فرما جب بچہ حسب منشا ہوجاتا ہے تو دوسروں کی طرف اس اولاد کو منسوب کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ یا فلاں پیر یا فلاں دیوتا نے دیا ہے یا اس کے شرکیہ نام رکھتے ہیں یا غیروں کے روبرو بچہ سے ماتھارکھواتے ہیں کہ تم نے یہ اولاد دی ہے۔ یہ سب باتیں شرک ہیں جو پیر یا دیوتا خود ہی پیدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے وہ کسی کو کیا پیدا کرسکتا ہے یا کسی کو کیا اولاد دے سکتا ہے ان تمام شرکیہ اور شرک آمیز باتوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اور بلند ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس آیت میں مرد اور عورت کو فرمایا ہے آدم (علیہ السلام) اور حواؔ کو نہیں گو اول ان کا ذکر ہوچکا یا یوں کہئے کہ جو کچھ انسانوں میں ہونا مقدر تھا وہ حضرت آدم (علیہ السلام) میں اول ظہورپکڑ گیا اس میں وہ نمونہ تقدیر تھے اولاد کے گناہ ان میں نظر آئے جیسے آئینے میں صورت… چناچہ نفس کی خواہش اور اللہ کی بےحکمی اور کہہ کر بھول جانا اور دے کر منکر ہونا یہ سب اولاد کی خوئیں ان میں نظر آچکیں۔ 12 اس آیت میں مفسرین کے دو 2 قول تھے ایک یہ کہ اس قسم کا واقعہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کو پیش آیا اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کی حالت کا ذکر فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے دوسرے قول کو ترجیح دی اور پہلے قول کی توجیہہ فرمائی۔
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور وہ نہ تو ان مشرکوں کی کچھ مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں

192 اور ان معبودان ِ باطلہ کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ ان مشرکوں کی کچھ مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں یعنی غیروں کی مدد تو کیا کریں گے خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو راہ راست کے لئے بلائو تو وہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔

193 اور اگر اے مشرکین تم ان کو کوئی بات بتانے کے لئے پکارو تو وہ تمہارے کہنے اور بتانے پر نہ چلیں تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کو خواہ بھلی بات بتانے کے لئے پکارو یا تم ان سے کوئی بھلی بات حاصل کرنے کے لئے ان کو پکارو دونوں حالتوں میں وہ تمہارے کہنے پر چلنے کو تیار نہیں ان کو پکارنا نہ پکارنا دونوں باتیں برابر ہیں۔ غرض ! اپنے بھلے کو بلائو جب بےکار بلکہ ان کے بھلے کو بلائو جب بےکار نہ تمہاری مدد کی طاقت نہ اپنی مدد کی صلاحیت۔ نہ کسی کو پیدا کرنے کی قابلیت بلکہ خود دوسرے کی مخلوق یہ حقیقت ہے ان معبود ان باطلہ کی جن کے یہ مشرک پجاری بنے ہوئے ہیں۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

اے مشرکو ! بلاشبہ تم خدا کو چھوڑ کر جن کو پکارتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں اچھا تم ان کو پکار دیکھو اگر تم سچے ہو

194 بلاشبہ ! اے شرک کرنے والو ! اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کو تم پکارتے ہو اور اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے خدا کے بندے اور اس کے مملوک ہیں اچھا تم ان کو پکارو اور ان کو چاہئے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں اور تمہارا کام کردیں اگر تم سچے ہو تو ایسا کردیکھو یعنی اگر تم خدا کی الوہیت میں دوسروں کی شرکت کے مدعی ہو اور تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ان کو پکار کر دیکھو اور ان کو چاہئے کہ وہ تمہاری مانگیں پوری کردیں لیکن وہ تو ان تمام صلاحیتوں سے عاری ہیں جو ایک حاجت روا میں ہونی چاہئیں۔
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

تو ان کو چاہئے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں کیا ان کے پائوں میں جن سے وہ چل سکتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو پکڑ سکتے ہوں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھ سکتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سن سکتے ہوں۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ تم اپنے مقرر کردہ شرکاء کو بلالو اور میرے خلاف جو کارروائی کرسکتے ہو کرو اور مجھ کو ذرا مہلت نہ دو

195 کیا ان معبودان ِ باطلہ کے پائوں ہیں جن سے یہ چل سکتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو پکڑ سکتے ہیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن سے کچھ سن سکتے ہیں اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے تجویز کردہ شرکاء کو بلالو اور ان کو اکٹھا کرلو اور میرے خلاف اور مجھے نقصان پہنچانے کے لئے جو تدبیر کرسکتے ہو اور جو کارروائی کرنی چاہو وہ کرو اور مجھ کو بالکل مہلت نہ دو یعنی اگر ان معبودانِ باطلہ میں کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے تو تم ان سے فائدہ حاصل کرکے اور مجھ کو ان سے نقصان پہنچوا کر دکھائو۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

یقیناً میرا حمایتی وہ اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی حمایت کیا کرتا ہے

196 یقیناً میرا حمایتی اور میرا مددگار و محافظ وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے اس کتاب یعنی قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے اور وہی عام طور سے اپنے نیک بندوں کی مدد کیا کرتا ہے۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم بلائوگے وہ ایسے ہیں کہ نہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں

197 اور اللہ تعالیٰ کے سواجن کو تم اپنی مدد کے لئے بلائوگے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں نہ وہ اپنی ہی کچھ مدد کرسکتے ہیں یعنی بالکل بےکار ہیں۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور نہ وہ خود اپنی ہی کچھ مدد کرسکتے ہیں اور اگر تم ان کو راہ راست کے لئے بلائو تو وہ تمہاری بات نہ سنیں اور اے مخاطب تو ان کو دیکھتا ہے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ رہے۔

198 اور ان کی عاجزی اور درماندگی کی تو یہ حالت ہے کہ اگر تم ان کو کسی بھلی بات بتانے اور ان کی صحیح رہنمائی کے لئے بھی بلائو تب بھی وہ کچھ نہیں سنتے یعنی سننے سے بالکل عاجز ہیں۔ اور اے مخاطب تو ان کو دیکھتا ہے جیسے وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ رہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت پرست بتوں میں انسانی چہرہ بناتے ہیں اور کان اور آنکھیں وغیرہ تراشتے ہیں دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ دیکھنے والے کو دیکھ رہا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتا وہ ایک پتھر کا محض مجسمہ ہوتا ہے۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

اے پیغمبر درگزر کرنے کا شیوہ اختیار کیجئے اور اچھے کاموں کا حکم کرتے رہئے اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیے۔

199 اے پیغمبر ! آپ درگزر کرنے اور معاف کردینے کا شیوہ اختیار کیجئے اور بھلے کاموں کے کرنے کا حکم دیتے رہئے اور بیوقوفوں اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیے اور ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اور اغراض اختیار کیجئے۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر آپ کو شیطانی وسوسہ کسی وقت ابھارے اور آمادہ کرے تو آپ اللہ سے پناہ طلب کرلیا کیجئے بلاشبہ وہی خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

200 اور اگر آپ کو کسی وقت شیطانی وسوسہ ابھارے اور انتقام لینے پر آمادہ کرے جیسا کہ شیطان کا قاعدہ ہے کہ وہ فتنہ و فساد کو بڑھانے کے لئے غصہ دلاتا اور گد گداتا ہے تو آپ اسی وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کیا کیجئے بلاشبہ وہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ یعنی جھگڑنے کے وقت شیطان گدگداتا اور کچو کہ لگاتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے اور اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہنا چاہئے۔