7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے آگ ہی کا بچھونا ہوگا اور ان کے لئے آگ ہی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

41 ان لوگوں کے لئے آگ ہی کا بچھونا ہوگا اور ان لوگوں کے لئے آگ ہی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں یعنی سب طرف ان کے آگ ہی آگ ہوگی، ظالم فرمایا مکذبین اور متکبرین کو یا ان کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف بےاصل باتوں کو منسوب کریں اور آیات الٰہی کی تکذیب کریں۔ جیسا اوپر گزرا ہے۔ فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے تو یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے

42 بروں کے ذکر کے بعد اب نیکوں کا ذکر فرماتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور یہ واقعہ ہے کہ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت و قوت اور برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یعنی اتنا بوجھ رکھتے ہیں جس کی وہ برداشت کرسکتا ہے اس لئے نیک کاموں کا عامل بن جانا کچھ مشکل نہیں تو ایسے ہی حضرات اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے یعنی عقائد صحیح ہوں دلائل توحید پر ایمان ہو اور نیک کردار کے پابند ہوں تو وہی جنتی ہیں۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ہم ان اہل جنت کے دلوں سے باہمی دنیاوی رنجش کو سلب کرلیں گے ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ کہیں گے خدا کا شکر ہے جس نے یہاں تک پہنچانے میں ہماری رہنمائی کی اور ہم کبھی بھی راہ یافتہ نہ ہوتے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا بیشک ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے اور ان اہل جنت سے پکار کر کہا جائے گا کہ ان اعمال کے صلے میں جو تم کیا کرتے تھے تم اس جنت کے وارث کردیئے گئے ہو

43 اور ہم ان اصحاب جنت کے دلوں میں سے باہمی دنیوی رنجش اور خفگی سلب کرلیں گے ان اہل جنت کی حالت یہ ہوگی کہ ان کے پائیں نہریں بہ رہی ہوں گی اور وہ یوں کہیں گے اس خدا کا شکر ہے اور سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچانے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہم کو ایمان اور نیک اعمال کی تعلیم اور توفیق دے کر ہمیں یہاں تک پہنچایا اور اگر اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی نہ فرماتا تو ہم کبھی بھی راہ یافتہ نہ ہوتے اور ہم کو اس مقام تک پہنچنا نصیب نہ ہوتا بیشک ہمارے پروردگار کے فرستادے ہمارے پاس سچی اور حق باتیں لے کر آئے تھے اور جو کچھ وہ پیغمبر فرماتے تھے وہ سب سچ ثابت ہوا اور ان اہل جنت کو آواز دی جائے گی کہ یہ جنت ہے اس کے تم وارث بنادیئے گئے ہو ان نیک اعمال کے صلہ میں جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے یعنی دنیا میں جو بعض دفعہ آپس کی کہن سن کی وجہ سے نیک بندوں کے دلوں میں کچھ رنجش رہ جاتی ہے اس کو جنت میں داخل ہوتے وقت سلب کرلیا جائے گا اور ان کی حالت اہل جہنم کی سی نہ ہوگی کہ باہم طعن وتشنیع اور لعنت و ملامت ہورہی ہے یہ لغویت یہاں نہیں ہوگی۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں میں اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی باہمی رنجشیں سلب ہوجائیں گی اور سینہ بےکینہ اور دل صاف ہوکر جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آیت میں حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عمار بن یاسر ؓ ، حضرت سلمان ؓ اور حضرت ابو ذر ؓ کی طرف اشارہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ عام اہل جنت کی حالت کا اظہار مقصود ہو کہ وہاں کسی پر کسی کو حسد نہیں ہوگا اور نہ آپس میں کوئی جھگڑا ہوگا آواز دی جائے گی یعنی فرشتے یا کوئی خاص فرشتہ اہل جنت سے کہے گا۔ ورثہ اس لئے فرمایا کہ بہرحال جنت آدم کی میراث ہے جو ان کی مسلمان اولاد کو میراث میں دی جائے گی اور نیز اس لئے کہ تملیک کے لئے مضبوط اور بےکھٹکے طریقہ میراث ہی کا ہے۔
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے جہنم والوں سے پکار کر پوچھیں گے کہ ہمارے رب نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا ہم نے تو اس کو بالکل سچا پایا مگر تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو سچا پایا وہ جواب دیں گے ہاں سچا پایا تب ایک پکارنے والا ان دونوں کے درمیان پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ان ظالموں پر

44 اور اہل جنت اہل جہنم سے پکار پکار کر کہیں گے کہ ہمارے پروردگار نے جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو بالکل حق پایا اور وہ واقع کے مطابق نکلا اور جو کچھ اللہ کے پیغمبروں نے فرمایا تھا وہ حرف بہ حرف صحیح نکلا اور نیک اعمال کے صلہ میں ہم کو جنت مل گئی مگر تم بتائو تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو واقع کے مطابق پایا اور کفر و انکار کی پاداش میں تم کو بھی جہنم میں جانا پڑا۔ اہل جہنم کہیں گے ہاں ! سچا پایا اور وہی ہوا جو خدا کے پیغمبروں نے کہا تھا تب کوئی پکارنے والا خاص فرشتہ ان اہل جنت اور اہل جہنم کے مابین پکار کر کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو ان ظالموں پر
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے تھے اور اس تلاش میں رہتے تھے کہ خدا کی راہ کو ٹیڑھا ثابت کریں اور وہ آخرت کے بھی منکر تھے

45 جو اللہ تعالیٰ کے دین حق کی راہ سے لوگوں کو روکا کرتے تھے اور اس دین حق میں ٹیڑھ اور کجی اور زیغ کی تلاش میں لگے رہتے تھے اور جن کو یہ فکر لگی رہتی تھی کہ کسی طرح دین حق میں شکوک و شبہات نکالیں اور لوگوں کو راہ مستقیم سے روکیں اور وہ ظالم آخرت کے بھی منکر تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا بھی انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور اہل جنت اور اہل جہنم کے مابین ایک دیوار ہوگی یعنی اعراف اور اس اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جوہر ایک جنتی اور دوزخی کو اس کی علامت سے پہچانیں گے اور اہل جنت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو ان اعراف والو کی حالت یہ ہوگی کہ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور ہاں دخول جنت کے امیدوار ہوں گے

46 اور اہل جنت اور اہل جہنم کے مابین ایک آڑ اور دیوار ہوگی اس دیوار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے اور اس اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم میں سے ہر ایک کو اس کی نشانی اور علامت سے پہچانتے ہوں گے چونکہ یہ اعراف کے لوگ بلندی پر ہوں گے اس لئے دونوں فرقوں کو آسانی سے دیکھ لیں گے اور اہل جہنم اور اہل جنت کے چہرے صاف صاف پہچانے جاتے ہوں گے کیونکہ ایک فریق کے چہرے پر پھٹکار برستی ہوگی اور دوسرے فریق کے چہرے پر آثار مسرت نمایاں ہوں گے اور یہ اعراف کے لوگ اہل جنت کو پکار کر سلام علیک کریں گے اور اعرانی ابھی خود جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے ہاں جنت میں داخل ہونے کے امیدوار ضرور ہوں گے یعنی اعراف کے لوگ وہ ہوں گے جن کی حسنات و سیئآت دونوں برابر ہوں گے اگر نیکیاں زیادہ ہوں تو جتنی ہوجائیں اور اگر برائیاں زیادہ ہوں تو جہنم میں چلے جائیں چونکہ دونوں برابر ہوگئے اس لئے ایک جانب کو ترجیح نہ ہوگی اور یہ لوگ اس دیوار پر جس کا ذکر سورة حدید میں انشاء اللہ آئیگا۔ جمع ہوجائیں گے مشہور یہ ہے کہ آخر میں ان کو بھی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نگاہیں دوزخیوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجئو۔

47 اور جب ان اعراف والوں کی نگاہیں اہل جہنم کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجئو یعنی بلندی کی وجہ سے پہلے جنتیوں کو دیکھ کر سلامتی کی دعا کریں گے ان سے نگاہیں ہٹاکر جب اہل جہنم کو دیکھیں گے اور ان کے چہروں سے یہ جان لیں گے کہ یہ جہنمی ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ ان ظالموں کی شمولیت سے ہم کو بچائیو اور ان کے ساتھ شامل نہ کیجئو۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر یوں کہیں گے کہ تمہاری جمعیت اور تمہارا متکبرانہ برتائو جو تم کیا کرتے تھے آج تمہارے کچھ کام نہ آیا

48 اور اہل اعراف بہت آدمیوں کو جن کے وہ ان کے چہروں کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے کہ یہ لوگ اہل جہنم سے ہیں ان سے یہ اعرافی یوں کہیں گے کہ تمہاری جمعیت تمہارے جتھے اور تمہارا تکبر آمیز برتائو جو تم مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ہر قسم کی دھمکیاں ان کو دیا کرتے تھے وہ جتھے اور وہ تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آئے اور عذاب خداوندی سے تم کو بچانہ سکے۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ جنتی وہی ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان پر اپنی رحمت نہیں کریگا حالانکہ ان کو حکم دیدیا گیا کہ تم سب جنت میں چلے جائو تم پر نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے

49 اور کیوں جی کیا یہ جنتی لوگ وہی نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان ذلیل لوگوں پر اپنی رحمت نہیں کرے گا حالانکہ ان کو حکم دیدیا گیا کہ تم سب جنت میں داخل ہوجائو تم پر نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے یعنی ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور فضل سے جنت میں جانے کا حکم دیدیا یہ وہی تو ہیں جن پر دنیا میں تم پھبتیاں کسا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں سے پکار کر یوں کہیں گے کہ تھوڑا سا پانی ہی ہم پر ڈال دو یا جو کچھ تم کو اللہ نے رزق دیا ہے اس ہی میں سے کچھ دیدو جنتی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں ان کافروں پر بند کردی ہیں

50 اوراہل دوزخ جنت والوں سے پکار کر یوں کہیں گے کہ اے اہل جنت ہم آگ میں جھلس رہے ہیں تم ہم پر کچھ پانی ہی ڈال دو یا تم کو اللہ تعالیٰ نے جو روزی عطا فرمائی ہے اس میں سے کچھ ہم کو دیدو اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں بند کردی ہیں اور ممانعت فرمادی ہے اور ان منکروں کے لئے ان دونوں چیزوں کی بندش کردی گئی ہے۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنارکھا تھا اور جن کو دنیا کی زندگی نے مبتلائے فریب کررکھا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح ان کافروں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو فراموش کررکھا تھا اور جس طرح یہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے ہم بھی آج ان سے بھول جانے والوں کا سا معاملہ کریں گے

5 1 یہ منکر وہ ہیں جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنارکھا تھا کھیل کود کا نام انہوں نے دین رکھ لیا تھا اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا تھا اللہ تعالیٰ اہل جنت کی تصدیق فرمائے گا کہ جس طرح ان منکروں نے اپنے اس دن کے ملنے اور آنے کو فراموش کر رکھا تھا اور قیامت کا نام سننا ان کو گوارہ نہ تھا اور جیسا کہ یہ ہماری آیات اور دلائل توحید کا انکار کرتے تھے اسی لئے ہم بھی ان سے آج ایسا برتائو کریں گے جیسے فراموش کردہ اور بھولے ہوئے لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی جس طرح ان منکروں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلارکھا تھا اور اس دن کا نام بھی سننا نہیں چاہتے تھے یہی برتائو تو ان کے ساتھ کیا جائے گا اور ہم بھی ان کا نام نہیں لیں گے اور بھولے ہوئے آدمی کا سا برتائو کریں گے۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے نہایت واضح بیان کردیا ہے وہ کتاب اہل ایمان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

52 اور بالتحقیق ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لائے ہیں اور ہم نے ایک ایسی کتاب ان کو پہنچادی ہے یعنی قرآن کریم جس میں ہم نے اپنے کمال علم کے ساتھ عقائد و اعمال کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے اور اپنے علم کی بنا پر خوب واضح اور مفصل بیان کیا ہے اور یہ قرآن کریم ان لوگوں کے لئے جو اہل ایمان ہیں پوری ہدایت اور رحمت ہے یعنی جو سن کر قبول کرلے اسی کے لئے سودمند ہچے ورنہ یوں تو تمام لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

اب یہ لوگ صرف اس قرآنی وعدے کے وقوع کا انتظار کررہے ہیں جس دن اس وعدے کا مصداق متحقق ہوجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے فراموش کئے ہوئے تھے یوں کہنے لگیں گے واقعی ہمارے رب کے رسول سچی باتیں لے کر آئے تھے تو کیا اب سفارش کرنے والوں میں سے کچھ ایسے سفارشی ہمارے لئے ہوں گے جو ہماری سفارش کردیں یا ہم پھر دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تاکہ ہم لوگ جو عمل کیا کرتے تھے ان کی بجائے اب کی دفعہ دوسرے عمل کریں بیشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو تباہ کرلیا اور وہ سب افترا پردازیاں جو وہ کیا کرتے تھے ان سے گم ہوگئیں۔

53 یہ منکر اب صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قرآن کریم نے جو وعدے اور وعید کئے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے جس دن قرآنی وعدے یا وعید کا انجام ظاہر ہوجائے گا تو اس دن وہ لوگ جو پہلے سے اس وقت کو فراموش کئے ہوئے بیٹھے ہیں یوں کہیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے فرستادے سچے اور حق لے کر آئے تھے اور وہ جو کچھ کہتے تھے واقع کے مطابق تھا تو پھر اب سفارش کرنے والوں میں سے کچھ ایسے سفارشی ہیں جو ہماری سفارش کردیں اور آج ہم کو عذاب سے بچالیں یا ہم دنیا کی طرف دوبارہ لوٹا دیئے جائیں تاکہ ہم اب تک جو عمل کرتے رہے تھے ان کی بجائے اور ان کے علاوہ اب کی دفعہ دوسرے عمل کریں بلاشبہ ان لوگوں نے اپنے کو سخت نقصان میں ڈال لیا اور اپنے آپ کو تباہ کرلیا اور جو افتراء پردازیاں وہ کیا کرتے تھے وہ سب آج ان سے گم ہوگئیں اور وہ سب غائب ہوگئیں یعنی ان منکرین کے طرز عمل سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بس اب اسلام قبول کرنے سے ان کو صرف یہی بات مانع ہے کہ یہ قرآن کریم کے وعدئہ حشر ونشر اور جہنم کے عذاب کی وعید کے انجام کا انتظار کررہے ہیں اور اس دن کو بھلا چکے ہیں اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جو باتیں یہ پیغمبر کہتا ہے ان کا انجام دیکھو کہ کیا ہوتا ہے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ دن جب آئے گا اور پروردگار کے نشانات ظاہر ہوجائیں گے تو وہ لوگ جو ان باتوں کو پہلے بھلائے بیٹھے تھے وہ بھی پیغمبروں کی باتوں کو حق کہنے لگیں گے اگرچہ ان کا یہ ایمان لانا ان کے لئے مفید اور نافع نہ ہوگا اور یہی نہیں بلکہ سفارشی ڈھونڈھتے پھریں گے جو اپنی سفارش سے ان کو سزا سے بچالیں اور یہ بھی خواہش کریں گے کہ ان کو دنیا ہی میں واپس کردیا جائے تاکہ جو ناشائستہ عمل اب تک کرتے رہے تھے ان کو چھوڑ کر نیک اعمال اختیار کریں۔ ربنآ اخرجنانعمل صالحاً غیر الذی کنا نعمل حالانکہ اس وقت یہ خواہشات اور تمنائیں بالکل بےکار ہوں گی۔ ایمان اب لانا چاہئے نہ کہ قرآن کریم کی باتوں کا انجام دیکھ کر ایمان لائوگے۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

در حقیقت تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں کو اور زمین کو چھ 6 روز میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر اپنی شان کے موافق متمکن ہوا وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اس طور پر کہ وہ رات دن کے پیچھے دوڑی چلی آتی ہے اور اس نے سورج اور چاند اور تاروں کو پیدا کیا جن کا حال یہ ہے کہ وہ سب اس کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں آگاہ ہو تخلیق اور فرماں روائی کا حق اسی کو سزاوار ہے اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جو جملہ خلوقات کا رب ہے۔

54 فی الحقیقت تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ 6 دن کی مدت اور میعاد میں پیدا کردیا پھر وہ عرش پر اپنی شان کے لائق متمکن و متصرف اور جلوہ گر ہوا وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یہ ڈھانکنا اور اڑاھنا اس طور پر ہوتا ہے کہ وہ رات دن کے پیچھے دوڑی چلی آتی ہے اور رات دن کو جلدی سے آلیتی ہے اور دن پر رات چھا جاتی ہے اور اسی اللہ تعالیٰ نے سورج کو اور چاند کو اور تاروں کو اس طور پر پیدا کیا کہ یہ سب اس کے تابع فرمان اور مسخر ہیں سن لو اور آگاہ ہو تخلیق اور حکمرانی کا وہی سزاوار ہے پیدا کرنا اور حاکم ہونا اسی کے لئے خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت بابرکت اور بڑی بلندو باعظمت ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور جملہ مخلوقات کا رب ہے یعنی عرش کو تمام امور کی تدبیر کا مرکز اور اجرائے احکام اور حکومتِ الٰہی کا مظہر مقرر کیا رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یا دن کو رات پر اڑھا دیتا ہے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ دن گیا رات آئی رات گئی دن آیا ایک دوسرے کے پیچھے دوڑے چلے آتے ہیں مگر ایک سے دوسرا بڑا نہیں سکتا۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے گڑگڑا کر بھی دعا کیا کرو اور چپکے چپکے بھی بیشک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

55 لوگو ! اپنے پروردگار سے گڑگڑا کر تذلل اور انتہائی عاجزی کے ساتھ بھی دعا کیا کرو اور چپکے چپکے بھی بیشک اللہ تعالیٰ حد سے آگے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ جملہ مخلوقات کا خواہ وہ مجردات ہوں یا مادیات اللہ تعالیٰ ہی مالک ہے تو تم سب اپنی حاجات اور ضروریات اس ہی سے مانگا کرو۔ مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ نہایت خشوع و خضوع اور الحاح وزاری اور خلوص کے ساتھ مانگا کرو اور چپکے چپکے آہستہ آہستہ مانگا کرو۔ کیونکہ نہ تو وہ غائب ہے اور نہ وہ بہرا ہے دعا میں اصل اخفا ہے حد سے بڑھ جانے والے وہ ہیں جو دعا میں ریاکاری کریں یا بلاوجہ غل مچائیں یا مبالغہ سے کام لیں یا دعا کے الفاظ میں قافیہ بندی کریں یا غیر اللہ سے حاجتیں مانگیں یا محال عقلی یا محال شرعی کی دعا کرنا وغیرہ۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت برپا کرو اور عذاب کا ڈر اور رحمت کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو یقیناً اللہ کی رحمت مخلصین سے بہت ہی قریب ہے

56 اور زمین کی درستی اور اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ کرو اور عذاب کا خوف اور اس کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے اس کی عبادت کیا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ کی رحمت مخلصین کے بہت قریب اور بہت ہی نزدیک ہے یعنی جب دنیا میں حالات معتدل ہوں تو گڑ بڑی نہ پیدا کرو اور اسلام کی صحیح تعلیم آجانے کے بعد اور دلائل توحید اور اصلاح معاملات کے بعد پھر کفر و شرک کی طرف نہ دوڑو اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم میں کفر کی رسمیں نہ داخل کرو اور اسلام کے بعد کفر کو ترویج نہ دو ۔ عبادت کرتے وقت دو باتوں کا لحاظ ضروری ہے ایک خدا تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا کہ یہی دو باتیں اصل ایمان ہیں۔ نہ عذاب سے بےخوف ہو اور نہ رحمت سے ناامید ہو اس بات کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت مخلصین اور نکوکاروں کے بالکل ہی قریب ہے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جو بارانِ رحمت کے آگے آگے خوش خبری لانے والی ہوائوں کو بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی مردہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر ہم اس سے پانی اتارتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو بھی نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم غور کرو۔

57 اور وہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جو بارش اور بارانِ رحمت کے آگے آگے خوشخبری اور بشارت کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی مردہ شہر اور بلدہ جس کی زمین خشک ہو اور زمین مری پڑی ہو ایسی زمین کی طرف ہانگ لے جاتے ہیں پھر اس بادل سے پانی برساتے اور اتارتے ہیں پھر ہم اس پانی سے ہر قسم زمین سے نکالتے اور اگاتے ہیں جس طرح ہم مری ہوئی زمین سے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم قیامت میں مردوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر غور کرو اور نصیحت پکڑو یعنی بارش کے لئے بادلوں کو اکھیڑنے اور چلانے کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے اور جب وہ ہوائیں بادلوں کو سمیٹ لاتی ہیں تو پھر جہاں ضرورت ہوتی ہے اور جہاں کی زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے بادلوں کو وہاں پہنچا کر برسا دیتے ہیں اور ہر قسم کا سامان ضرورت وہاں پیدا کرتے ہیں اسی طرح مرے ہوئے انسان بھی قیامت کے دن پیدا ہوجائیں گے
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو زمین عمدہ ہوتی ہے تو اس کی پیداوار بھی خدا کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے تو اس میں ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ہم اسی طرح مختلف پہلوئوں سے دلائل بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو شکر گزار ہیں

58 اور جو زمین اچھی اور عمدہ ہے اور اس میں استعداد ہے تو اس کا سبزہ اور اس کی پیداوار اپنے پروردگار کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو زمین خراب ہتی ہے تو اس میں سے سوائے ناقص اور نکمی چیز کے اور کچھ نہیں نکلتا اور اس کی پیداوار ناقص ہی ہوتی ہے ہم اسی طرح مختلف پہلوئوں سے اپنے دلائل بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو شکرگزار ہیں یعنی ایک جاہل قوم میں اپنا پیغمبر بھیجا جو روحانی بارش سے لوگوں کو سیراب کرتا ہے جن کی استعداد ستھری ہوتی ہے وہ کمال کو پہنچ جاتے ہیں اور جن کی استعداد خراب ہوتی ہے ان کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچتا ہی ہے اگرچہ وہ ناقص ساہی ہوتا ہے۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو پیغمبر بناکر اس کی قوم کی طرف بھیجا سو نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں تمہارے لئے ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

59 بالتحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے پاس رسول بناکر بھیجا پھر اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم فقط اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں ہے میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں یعنی اگر تم غیر اللہ کی پرستش سے بازنہ آئوگے اور بتوں کی پوجا کو ترک نہ کروگے تو مجھ کو تم پر قیامت کے دن عذاب کا ڈر ہے۔
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے رئوسا نے کہا ہم تو تجھ کو صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔

60 اس پر نوح (علیہ السلام) کی قوم کے رئوسا اور بڑے بڑے آدمیوں نے جواب دیا ہم تو تجھ کو کھلی گمراہی اور صریح غلطی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں تو اس طریقہ عبادت کو بند کرنا چاہتا ہے جو ہمارے بڑوں سے چل آرہا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا گمراہی ہوسکتی ہے۔
Ayah 7:61

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم گمراہی تو میرے پاس ذرا بھی نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

61 نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے برادرانِ قوم گمراہی میں تو میں ذرا بھی مبتلا نہیں ہوں البتہ یہ ضرور ہے کہ میں رب العالمین کا فرستادہ اور اس کا پیغامبر ہوں۔ یعنی جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے اس نے مجھ کو اپنا پیام دیکر بھیجا ہے۔
Ayah 7:62

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری ہی خیر خواہی کرتا ہوں اور میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

62 کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو اور اس معاملہ کو تعجب آمیز نگاہ سے دیکھتے ہو کہ تم ہی میں سے ایک شخص کی معرفت اور ایک مرد کی وساطت اور ذریعہ سے تم کو تمہارے پروردگار کی جانب سے کوئی نصیحت کی بات پہنچ گئی تاکہ وہ شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے انجام سے ڈرائے اور عذاب الٰہی سے خوب دلائے تاکہ تم اس کے ڈرانے سے ڈر جائو اور پرہیزگار بن جائو اور تاکہ تم پر اس تقویٰ اور پرہیزگاری کے باعث رحم کیا جائے یعنی تم کو اس پر تعجب نہ ہونا چاہئے کہ تمہاری ہی برادری کے ایک بھائی کو اللہ تعالیٰ اپنی نصیحت کے لئے ذریعہ بنائے اور تمہارے پاس اس کی معرفت اپنی نصیحت پہنچائے جس کا فائدہ یہ ہو کہ وہ تم کو احکام خداوندی سنائے اور تم کو نافرمانی اور مخالفت کے عواقب سے ڈرائے اور تم ڈر کر متقی بن جائو اور تم پر رحم کیا جائے۔
Ayahs 7:63–64

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہو کہ تم ہی میں سے ایک آدمی کی معرفت تم کو تمہارے رب کی جانب سے نصیحت کی بات پہنچ گئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈر جائو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر باوجود اس کے ان لوگوں نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب ہی کی تو ہم نے نوح کو اور اس کے ان ساتھیوں کو جو کشتی میں سوار تھے بچالیا اور باقی ماندہ ان سب لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا غرق کردیا بیشک وہ لوگ اندھے ہورہے تھے

64 باوجود ان تما فہمائشوں کے نوح (علیہ السلام) کی قوم باز نہ آئی اور نوح (علیہ السلام) کی تکذیب ہی کرتی رہی اور ان کو جھٹلاتی رہی تو آخرکار ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ان ساتھیوں کو جو اس کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے مرنے سے بچالیا اور ان تمام لوگوں کو جو ہمارے دلائل کی تکذیب کرے اور ہماری آیات کو جھٹلانے کے عادی اور خوگر ہوچکے تھے سب کو ڈبو دیا اور غرق کردیا بلاشبہ وہ لوگ کفر و معاصی اور تکذیب و تکفیر کے ہاتھوں اندھے ہورہے تھے۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں

65 اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت اور پوجا کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود حقیقی نہیں ہے کیا تم اس کی نافرمانی اور شرک سے ڈرتے نہیں یعنی بھائی فرمایا ہود (علیہ السلام) کو اس وجہ سے کہ ہود (علیہ السلام) خود قوم عاد میں سے تھے یا وطنی بھائی کی وجہ سے۔
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم میں جو کافر رئوسا تھے انہوں نے کہا ہم تجھ کو بےوقوفی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور یقیناً ہم تجھ کو جھوٹ بولنے والوں میں سے خیال کرتے ہیں

66 اس کی قوم میں سے جو لوگ منکر تھے ان منکرین کے رئوسا اور بڑے لوگوں نے جواب دیا۔ اے ہود (علیہ السلام) ہم تو تجھ کو بیوقوف اور کم عقل سمجھتے ہیں اور تجھ کو بےوقوفی میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تجھ کو جھوٹ بولنے والوں میں سے سمجھتے ہیں۔
Ayah 7:67

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم مجھ میں بےوقوفی کا تو شائبہ بھی نہیں مگر ہاں میں رب العالمین کا ایک فرستادہ رسول ہوں۔

67 حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم مجھ میں ذرا بھی بےوقوفی اور سفاہت نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ میں کائنات کے پروردگار اور مالک کا فرستادہ اور اس کا پیغام برہوں۔
Ayah 7:68

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا ایک قابل اطمینان خیر خوا ہوں

68 میں تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور اس کے احکام تم تک پہنچانے کی خدمت انجام دیتا ہوں اور میں تمہارا سچا اور امین اور قابل اطمینان خیر خواہ اور نصیحت کرنے والا ہوں۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم اس بات کو تعجب کی نظر سے دیکھتے ہو کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص کی معرفت جو تم ہی میں سے ہے کوئی نصیحت کی بات تم کو پہنچ گئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈرا دے اور یہ بات یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین کا خلیفہ بنایا اور تم کو قوت اور قدو قامت کے پھیلائو میں اوروں سے زیادہ کیا سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پائو۔

69 کیا تم کو اس بات پر کوئی تعجب ہے اور تم اس پر تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے ہی میں سے ایک مرد کی معرفت اور وساطت سے تم کو کوئی نصیحت کی بات پہنچ گئی اور اس کے احکام اس شخص کے ذریعہ تم تک آگئے تاکہ وہ تم کو نافرمانی اور شرک کے انجام سے ڈرا دے اور خوف دلائے اور اللہ تعالیٰ کا تم لوگ وہ احسان یاد کرو کہ اس نے تم کو نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد زمین کا خلیفہ اور جانشین بنایا اور روئے زمین پر تم کو آباد کیا اور قدو قامت اور قوت و طاقت اور ڈیل ڈول کے پھیلائو میں تم کو اوروں سے زیادہ کیا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات کو یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو اور کامیابی حاصل کرو۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

ان رئوسا نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ بس ہم ایک اور تنہا خدا کی عبادت کیا کریں اور جن کو ہمارے بڑے بوڑھے پوجا کرتے تھے ان کو چھوڑ دیں اچھا اگر تو سچا ہے

70 ان منکر رئوسا نے کہا کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے پاس دادا اور بڑے بوڑھے پوجا کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اگر تو سچا ہے تو ہم کو جس عذاب کا ڈراوا دیا کرتا ہے اور روزمرہ اس کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے وہ عذاب ہمارے پاس لے آ اور اس عذاب کو ہمارے لئے منگادے۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

تو اس عذاب کو ہمارے پاس لے آ جس کی تو ہم کو دھمکی دیا کرتا ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا بلاشبہ تم پر تمہارے رب کی جانب سے عذاب اور غضب مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے چند ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے بڑوں نے رکھ لیا ہے حالانکہ خدا نے ان کے معبود ہونے کی کوئی سند نہیں نازل کی اچھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔

71 حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تمہاری سرکشی کا یہ حال ہے تو بس اب تم پر تمہارے رب کی جانب سے عذاب اور غضب مقرر ہوچکا ہے اور واقع ہونا چاہتا ہے یعنی عذاب اور غضب کو آیا ہی سمجھو کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے اور بڑوں نے خود ہی گڑھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کوئی سند اور دلیل نہیں نازل فرمائی۔ بلاوجہ ایسی بات پر بحث کرتے ہو جس پر نہ کوئی دلیل عقلی تمہارے پاس ہے نہ نقلی۔ لہٰذا اب بحث مباحثہ بند کرو اور جس عذاب کے طالب ہو اس کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور میں بھی انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

آخر کار ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے ان کی جڑ کاٹ کر پھینک دی اور وہ کبھی ایمان لانے والے نہ تھے

72 آخرکار جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ہم نے حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان کو نجات دی اور جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کیا کرتے تھے اور ہماری نشانیوں کو جھوٹا بتایا کرتے تھے ان کی جڑ تک کاٹ کر رکھ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے اور ان کے لچھن ایمان لانے والوں کے سے نہ تھے یعنی ہود (علیہ السلام) اور ہود (علیہ السلام) کے ساتھی بچالئے گئے اور عاد کی تمام قوم کو ایسا برباد کردیا کہ ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ صالح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اس کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے چھونا بھی نہیں ورنہ ایک دردناک عذاب تم کو آلے گا۔

73 اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت اور اسی کی پوجا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ بلاشبہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس ایک واضح دلیل آچکی ہے یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کی ہے جو تمہارے لئے ایک بڑی نشانی اور معجزہ ہے لہٰذا اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور اس سے کوئی تعارض نہ کرو تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں چرتی پھرے اور برائی کی نیت سے اور تکلیف پہنچانے کی غرض سے اس کو چھونا بھی نہیں کہ تم کو کہیں درد ناک عذاب نہ آلے اگر تم نے اس اونٹنی کو گزند پہنچایا تو تم کو سخت درد ناک عذاب آلے گا۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور تم وہ وقت یاد کرو جب کہ خدا نے تم کو قوم عاد کے بعد جانشین کیا اور تم کو زمین میں بسنے کو اس طور پر ٹھکانا دیا کہ تم نرم زمین میں بڑے بڑے محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو سو خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو

74 اور تم اللہ تعالیٰ کے وہ احسانات یاد کرو کہ جب تم کو قوم عاد کے بعد اس نے جانشین مقرر کیا اور تم کو روئے زمین پر آباد کیا اور تم کو زمین میں بسنے کو اس طور پر ٹھکانا دیا کہ نرم نرم زمین پر بڑے بڑے محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو بھی تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو لہٰذا تم انعامات خداوندی اور اس کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرتے پھرو۔
Ayah 7:75

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرکش رئوسا نے ان غریب اور کمزور لوگوں سے جو اس کی قوم میں سے ایمان لے آئے تھے پوچھا کیا تم کو اس امر کا یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے اس کمزور طبقے نے جواب دیا بیشک وہ جو حکم دیکر بھیجا گیا ہے ہم اس پر کامل یقین رکھتے ہیں۔

75 حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے متکبر اور سرکش رئوسا نے ان کمزور اور غریب لوگوں سے جوان میں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تعلیم پر ایمان لے آئے تھے دریافت کیا کہ تم جانتے ہو اور کیا تم کو یقین ہے کہ یہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور یہ واقعی خدا کا فرستادہ ہے ان غریب اور کمزور لوگوں نے جواب دیا بیشک ہم ان باتوں پر اور اس حکم پر جو وہ دیکر بھیجا گیا ہے پورا یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 7:76

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

اس پر ان سرکشوں نے کہا تم جس حکم پر ایمان لائے ہو ہم یقیناً اس کے منکر ہیں

76 تب ان سرکش رئوسا نے کہا تم جس پر ایمان لے آئے ہو یقین جانو کہ ہم اس کے منکر ہیں۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخرکار انہوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے متکبرانہ سرتابی کی اور کہنے لگے اے صالح (علیہ السلام) اس عذاب کو ہمارے پاس لے آ جس کی تو ہم کو دھمکی دیا کرتا تھا اگر واقعی تو پیغمبروں میں سے ہے۔

77 آخرکار ان منکرین نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے اے صالح اگر واقعی تو پیغمبر ہے تو اس عذاب کو ہمارے پاس لے آیا جس کی تو ہم کو دھمکیاں اور ڈراوا دیا کرتا ہے اب لا وہ عذاب کہاں ہے یعنی نہ تو صالح پر ایمان لائے اور نہ اونٹنی کی حفاظت کی۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

غرض ان کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے

78 غرض ان کو زلزلے نے آپکڑا اور دفعتہً ان پر زلزلہ آگیا سو وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

چناچہ اس وقت صالح (علیہ السلام) ان سے یہ کہتا ہوا الٹا پھرا کہ اے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی مگر تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔

79 اس وقت حضرت صالح (علیہ السلام) یہ فرماتے ہوئے تشریف لے گئے اور حسرت کے ساتھ کہتے ہوئے لوٹے کہ اے میری قوم ! میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے ہر طرح تمہاری خیر خواہی کی لیکن اس کا کیا علاج کہ تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم لوگ ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے اقوام عالم میں سے کسی نے وہ کام نہیں کیا۔

80 اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہم نے ہی سدوم کی بستیوں کی جانب رسول بنااکر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم یعنی اپنی امت سے کہا کیا تم لوگ ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے اقوام عالم میں سے کسی نے نہیں کیا یعنی جہان بھر میں کسی نے ایسی بےحیائی کا کام نہیں کیا۔