7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اہل تقویٰ ہیں جب کبھی ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ اسی وقت ہوشیار ہوجاتے ہیں اور یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں

201 بلاشبہ جو لوگ صاحب تقویٰ اور خدا ترس ہوتے ہیں جب کبھی ان کو کوئی خطرہ اور وسوسہ شیطان کی طرف سے محسوس ہوتا ہے اور شیطانی خیال ان کے قلب کو چھوتا ہے تو وہ چونک جاتے ہیں اور ہوشیار ہوجاتے ہیں اور خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اور یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹ جاتا ہے۔ یعنی عام طور سے لوگ شیطانی وسوسوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن اہل تقویٰ پر جب اس قسم کا کوئی وسوسہ گزرتا ہے تو وہ خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں یا گناہ کے انجام کو یاد کرکے چونک جاتے ہیں اور ان کو صحیح راہ نظر آنے لگتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) سمیع علیم پر فرماتے ہیں یعنی نیک کام کو کہئے اور جاہلوں سے پرے رہئے لڑنے نہ لگئے نہیں تو آپ بھی جاہل بنا اور کار رحمان میں کار شیطان آیا اور اگر ایک وقت شیطان جھڑپ کرادے تو جب یاد آوے شتاب پناہ پکڑے اللہ کی اور سنبھل جاوے اپنے جہل میں چلے نہ جائے۔ 12
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور رہے وہ جو شیاطین کے بھائی ہیں ان کو شیاطین گمراہی میں کھینچے لئے جاتے ہیں اور وہ ان کو کھینچنے میں کوتاہی نہیں کرتے

202 اور وہ جو شیاطین کے بھائی یعنی شیاطین کے تابع اور فرمانبردار ہیں۔ ان کو شیاطین گمراہی میں کھینچے لئے چلے جاتے ہیں اور کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کرتے۔ یعنی شیاطین ان کو گمراہی کی طرف گھسیٹنے اور لے جانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور وہ تابع شیاطین کی فرمانبرداری میں کوئی کمی نہیں کرتے۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب آپ ان کے پاس کچھ دنوں کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تو نے خود وہ آیت کیوں نہیں بنالی۔ آپ کہ دیجئے میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے مجھ پر بھیجی جاتی ہے یہ قرآن کریم بصیرت افروز دلائل ہیں تمہارے رب کی جانب سے اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں

203 اور جب آپ ان کے پاس کچھ دنوں کوئی آیت ہیں لاتے یا ان کا کوئی منہ مانگا معجزہ ان کی خواہش کے مطابق ان کو نہیں دکھاتے تو یہ کہتے ہیں تو خود کوئی آیت کیوں نہیں بنا لاتا یا اپنے خدا سے کہہ کر ہمارا منہ مانگا معجزہ کیوں نہیں چھانٹ لاتا آپ فرما دیجئے میں تو فقط اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے مجھ پر بھیجی جاتی ہے۔ یہ قرآن کریم تمہارے رب کی جانب سے بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ایک… مخصوص ہدایت و رحمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی وقت نزول قرآن کریم میں تاخیر ہوجاتی یا جو معجزہ منکر طلب کرتے اور وہ حکمت ِ الٰہی اور منشائے خداوندی کے خلاف ہوتا تو معاندانہ طور پر کہتے کہ جب تمام قرآن کریم تم ہی گھڑتے ہو ت پھر تاخیر کیوں ہوتی ہے۔ تم کوئی آیت گھڑ کیوں نہیں لیتے یا ہماری خواہش کے مطابق اپنے خدا کے نشانات میں سے ہمارا نشان اور معجزہ چن کیوں نہیں لاتے اس کا جواب دیا گیا کہ قرآن کریم کی ہر آیت ایک مستقل معجزہ ہے میرا بنایا ہوا نہیں ہے اور اس کھلی ہوئی دلیل کے بعد نئے نئے معجزات کا طلب کرنا بےمعنی ہے یہ قرآن کریم سراسر ہدایت و رحمت ہے اہل ایمان کے لئے اور میں خود بھی اس قرآن کریم کے احکام کا تابع فرمان ہوں۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن کریم پڑھا جایا کرے تو اس کو پوری توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو شاید کہ تم پر رحم کیا جائے

204 اور جب قرآن کریم پڑھا جایا کرے تو اس کو پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے۔ یعنی … قرآن کریم کے ادب اور اس کے معانی و مطالب پر غور کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جب اس کی تلاوت کی جائے تو خاموش رہو اور اس کو متوجہ ہوکر سنو جس سے امید ہے کہ تم پر خدا کی رحمت ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب کوئی قرآن کریم پڑھے تو اوروں پر واجب ہے کہ باتیں نہ کریں دھیان سے سنیں شاید دل میں ہدایت پڑے لیکن پڑھنے والا باتوں کی مجلس میں پڑھنے لگے پکار کر تو اس کی خطا ہے۔ 12 مدعا یہ ہے کہ قرآن کریم کا ادب تو یہی ہے کہ جب وہ پڑھا جائے تو لوگ خاموشی کے ساتھ اس کو سنیں لیکن پڑھنے والے کو بھی مجالس کی رعایت ملحوظ رکھنی چاہئے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اے مخاطب صبح و شام اپنے رب کی اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کیا کرو اور اتنی آواز کے ساتھ جو پکار کر بولنے سے کم ہو اور غفلت شعار لوگوں میں سے نہ ہو جائیو

205 اور اے مخاطب اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ گڑگڑاکر اور خوف کے ساتھ صبح اور شام اور اتنی آواز کے ساتھ جو بلند آواز کی نسبت سے ہلکی ہو یاد کرتا رہ اور غفلت کرنے والوں اور غافل رہنے والوں میں سے نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مداومت رہنی چاہئے اور ذکر الٰہی میں عاجزی اور خوف ہو اور آہستہ آہستہ ہو جو پکار کو بولنے کی نسبت سے کم ہو البتہ اگر کوئی ضرورت داعی ہو تو جہر کے ساتھ بھی ذکر کرنے میں مضائقہ نہیں۔ ذکر کے آداب و فضائل کا یہ موقع نہیں یہاں اتنی ہی بات یاد رکھنی چاہئے کہ ترک ذکر کو غفلت فرمایا ہے اور غفلت روحانی موت کا نام ہے۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

بیشک جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے سرتابی اور گردن کشی نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

206 بلاشبہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے استکبار اور سرتابی اور گردن کشی نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کے لئے سجدہ ریز رہتے ہی۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مخلوق ہے وہ سب خدا کی یاد میں مشغول ہیں حضرت حق کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ خدا کی عبادت کو موجب عزت سمجھتے ہیں اور صرف اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مقرب فرشتے بھی اس کی یاد سے غافل نہیں تو انسان کو اور بھی ضرور ہے اور اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کرے اس جا پر سجدہ آتا ہے۔ 12 مختصراً تم تفسیر سورة اعراف