7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 7:121

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور کہنے لگے ہم اس رب العالمین پر ایمان لائے

121 اور پکار کر کہنے لگے ہم اس رب العالمین پر ایمان لائے۔
Ayah 7:122

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے

122 جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا بھی رب ہے یعنی فرعون بھی اپنے کو رب العالمین سمجھتا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے نام بڑھائے تاکہ یہ بات صاف ہوجائے کہ ہمارا مومن یہ وہ رب ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ایمان لانے کو کہتے ہیں۔
Ayah 7:123

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے جادوگروں سے کہا تم میری اجازت سے قبل ہی اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ ایک سازش ہے جو تم نے اس شہر میں کی ہے تاکہ تم اس شہر کے لوگوں کو یہاں سے بےدخل کردو لہٰذا اب تم کو اس کا نتیجہ معلوم ہوا جاتا ہے

123 فرعون نے اپنی حکومت کو بچانے اور عام بغاوت کو دبانے کے لئے جادوگروں سے کہا کہ تم میری اجازت دینے سے پہلے ہی اس موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے یہ ایک سازش ہے جو تم سب نے مل کر کی ہے تاکہ تم اس ملک مصر کے حقیقی باشندوں کو اور مصر کی حکمران قوم کو اس ملک مصر سے نکال دو اور حاکم قوم کو یہاں سے بےدخل کرکے اپنا راج قائم کرلو لہٰذا عنقریب تم کو اس کا نتیجہ اور انجام معلوم ہوا جاتا ہے۔
Ayah 7:124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

یقیناً میں تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹوں گا پھر تم سب کو سول پرچڑھائوں گا

124 میں ضرور تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹوں گا اور قطع کردوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا یعنی یہ سخت سزادوں گا تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت حاصل ہو۔
Ayah 7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

نو مسلم جادوگروں نے جواب دیا بلاشبہ ہم سب تو اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

125 ان نو مسل جادوگروں نے جواب دیا یقیناً ہم سب تو اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں یعنی تیری سزا کا ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے آخر تو ہم مرکر اپنے پروردگار ہی کی طرف جائیں گے پھر ہمیں اندیشہ کیا ہے۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو نے ہم میں سوائے اس کے اور کونسا عیب دیکھا ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر جب کہ وہ نشانیاں ہم تک پہنچ گئیں ایمان لے آئے ہیں اے ہمارے رب ہم پر بہ کثرت صبر کا فیضان فرما اور ایسی حالت میں ہماری روح قبض کر کہ ہم مسلمان ہوں

126 اور تو نے ہم میں سوائے اس کے اور کون سا عیب دیکھا ہے اور تجھ کو سوائے اس کے ہم سے کیا بیر اور دشمنی ہے اور تو ہم سے سوائے اس کے اور کس بات کا انتقام لینا چاہتا ہے کہ ہم اپنے رب کے احکام اور اس کی نشانیوں پر جب وہ احکام اور نشانیاں ہمارے پاس آئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہم پر بکثرت صبر کا فیضان فرما اور ہم کو اسلام اور مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے یعنی اس سخت سزا کی وجہ اس کے علاوہ نہیں معلوم ہوئی کہ ہم کو صرف اس جرم میں تو قتل کرنا چاہتا ہے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان کیوں لائے جبکہ وہ احکام ہمارے پاس پہنچ گئے اچھا اب تجھ کو جو کچھ کرنا ہے وہ کر اور ہم جس رب پر ایمان لائے ہیں اس سے دعا کرتے ہیں۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے رہیں اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اور تیرے تجویز کردہ معبودوں کو نظر انداز کرتا رہے فرعون نے کہا ہم بہت جلد ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور بلاشبہ ہم ان پر پورا غلبہ رکھتے ہیں۔

127 اورفرعون کی قوم کے امراء اور سرداروں نے فرعون سے کہا کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھیں گے اور ان کی مفسدانہ حرکات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے رہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو اور آپ کے تجویز کردہ معبودوں کو نظرانداز کرتا رہے اور ان معبودوں کی توہین ہوتی رہے فرعون نے کہا۔ ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔ بلاشبہ ہم ان پر پوری طرح زور اور غلبہ رکھتے ہیں یعنی فرعون کے بت یہ تھے کہ اپنی صورت بنادیتا تھا لوگوں کو کہ اس کو پوجا کریں اور بیٹے مارنے اور بیٹیاں چھوڑنی پہلے بھی کرتا تھا درمیان میں چھوڑ دیا تھا اب پھر قصد کیا فرعون نے اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی غرض سے قتل کی تجویز کو دوبارہ بروئے کار لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو یہ زمین اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث کردیتا ہے اور آخر میں انہی لوگوں کا بھلا ہوتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔

128 جب یہ خبر بنی اسرائیل کو پہنچی تو انہوں نے گھبرا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توجہ دلائی تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور اسی سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو اور صبر سے کام لو یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور حضرت حق کی ملک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زمین کا مالک اور حاکم بنادے اور وہ جس کو چاہتا ہے ملک کا وارث بنادیتا ہے ہاں یہ بات یاد رکھو کہ انجام کار اور آخرکار انہی کا بھلا ہوتا ہے جن کا شیوہ تقویٰ اور پرہیزگاری ہے یعنی ملک کا حاکم کرے جو حق ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کا۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں آخرکار انہی کو کامیابی میسر ہوتی ہے۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

ان کی قوم نے کہا ہم تو آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی ایذا دیئے جاتے رہے اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا وہ وقت نزدیک ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو ان کی بجائے اس ملک کا مالک بنائے پھر دیکھئے کہ تم کیسے عل کرتے ہو۔

129 بنی اسرائیل نے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی ستائے جاتے رہے اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ وقت قریب ہے تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تم کو اس ملک کا مالک بنادے پھر وہ دیکھے کہ تم کیا کرتے ہو اور تمہارا طرز عمل کیا ہوتا ہے یعنی یہ کلام نقل فرمایا مسلمانوں کے سنانے کو یہ سورت مکی ہے اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے یہ بشارت پہنچی پردے میں۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل فرعون کے مظالم سے بہت تنگ تھے وہ بنی اسرائیل سے بیگار لیتا تھا اور ان کے بچوں کو قتل کرتا تھا اور مختلف قسم سے ان کو سزائیں دیتا تھا بچوں کے قتل کی پھر دوسری تجویزکا اعلان کردیا تھا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکوہ کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے امید دلائی کہ تمہارے دشمن کا ظلم حد کو پہنچ گیا اب خدا کی مدد آنے ہی والی ہے یہاں انقلاب ہوجائے گا تم مصر کے حاکم ہوجائوگے اس انقلاب میں بھی تمہارا امتحان ہوگا تاکہ تمہارا طرز عمل دیکھا جائے اور تم آسمانی قانون کے موافق حکومت کرتے ہو یا سوسائٹی کے قانون پر عمل کرکے محکوموں کو پریشان کرتے ہو۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون والوں کو قحط سالمیوں اور پھلوں کے نقصانات میں مبتلا کیا کہ شاید وہ نصیحت پکڑیں

130 اور یقیناً ہم نے آل فرعون اور فرعون والوں کو خشک سالی اور قحط سالیوں میں اور پھلوں کے نقصانات اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور غور و فکر اور سوچ بچار کریں یعنی تنبیہہ کے طور پر ان کی گرفت بھی کی اور ان کو مختلف سزائیں بھی دیں کہ وہ دین حق کی مخالفت سے باز آجائیں اور نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب ان کو کوئی آسودگی میسر آتی تو کہتے کہ یہ ہمارا حق ہے اور جب کبھی ان کو کوئی سختی پہنچتی تو اس کو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے یاد رکھو ان کی نحوست و بدشگونی تو اللہ ہی کے علم میں ہے لیکن ان میں کے اکثر لوگ بےعلم تھے

131 چونکہ یہ سزائیں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ملتی تھیں اس لئے ان کی حالت یہ تھی کہ جب کبھی ان کو کوئی بھلائی اور آسودگی پہنچتی تو کہتے یہ ہمارا حق ہے اور یہ فائدہ تو ہم کو ملنا ہی چاہئے تھا اور جب کبھی ان کو کوئی سختی پہنچتی اور بدحالی پیش آجاتی تو اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے اور بدشگونی بتاتے اور یاد رکھو ان کی نحوست اور اس نحوست کا سبب تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے لیکن ان میں کے اکثر بےعلم ہیں اور اس بات کو نہیں جانتے یعنی شومی قسمت جو ہے سو اللہ کی تقدیر سے ہے بھلائی اور برائی کا اثر ہوگا آخرت میں اس کا جواب یہ نہ فرمایا کہ شومی ان کے کفر سے تھی کیونکہ کافر بھی دنیا میں عیش کرتے ہیں اصل حقیقت تھی سو فرمائی کہ دنیا کے احوال موقوف بر تقدیر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں سے یہ فال لینا اور ان کو پیرے کو نحس بتانا ان لوگوں کی غلطی اور بےعلمی تھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبرکو منحوس بتانا اور اس کی تعلیم سے منکر ہونا یہی بڑی جہالت ہے اگر یہ اپنے گریبان میں منہ ڈالتے تو ان کو خود ہی معلوم ہوجاتا کہ اصل نحوست خود انہی کی تھی۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور فرعون والے موسیٰ (علیہ السلام) سے یوں کہتے کہ تو ہمارے پاس خواہ کوئی نشانی بھی اس غرض سے لائے کہ تو اس کی وجہ سے ہم کو مسحور کرلے لیکن ہم تجھ کو ماننے والے نہیں

132 اور فرعون والوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا خواہ تو کوئی نشانی اور کیسی ہی عجیب بات ہمارے پاس اور ہمارے روبرو اس لئے لے آئے کہ تو اس نشانی کی وجہ سے ہم کو مسحور کردے لیکن پھر بھی ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں اور ہم تجھ کو ہرگز نہ مانیں گے یعنی آپ کوئی معجزہ بھی دکھادیں مگر ہم آپ کی مخالفت سے باز نہ آئیں گے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ان پر پانی کا طوفان بھیجا اور ٹڈیاں بھیجیں اور جوئیں اور مینڈک بھیجے اور خون کا عذاب بھیجا کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے اس پر بھی وہ سرکشی ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار۔

133 پھر ہم نے ان پر پانی کا طوفان بھیجا یعنی سیلاب اور ہم نے ان پر ٹڈیاں مسلط کیں اور جوئیں یا چیچڑیاں یا غلہ کو خراب کرنے والا کیڑا پیدا کردیا اور مینڈک یعنی بکثرت مینڈکیاں ان پر بھیجیں اور ان پر خون کا عذاب بھیجا کہ یہ سب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کھلے کھلے اور الگ الگ معجزے تھے جو ان پر یکے بعد دیگرے بھیجے گئے مگر وہ پھر بھی تکبر اور سرکشی ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی مجرم اور گنہ گار۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے چالیس برس مقابلہ رہا اور اس پر کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن جانے دے اس نے نہ مانا ان کی بددعا سے یہ بلائیں آئیں۔ دریائے نیل چڑھ گیا کھیت اور باغ اور گھر بہت تلف ہوئے اور ٹڈی سبزی کھاگئی اور آدمیوں کے بدن میں اور کپڑوں میں چیچڑیاں پڑگئیں اسی طرح ہر چیز میں مینڈک پھیل گئے اور ہر پانی لہو بن گیا آخر ہرگز نہ مانا۔ مطلب یہ ہے کہ بطور تنبیہہ ابتدا میں قاعدے کے مطابق یہ عذاب آتے رہے۔ سیلاب آئے، ٹڈیاں آئیں، کھیت اور سبزیاں تباہ ہوگئیں اور پھر جوئیں پیدا ہوگئیں، چیچڑیاں لپٹیں یا پھلوں اور غلوں کو خراب کرنے والے کیڑے پیدا ہوگئے مینڈکیاں ہی مینڈکیاں ہوگئیں نہ پانی محفوظ نہ کھانا محفوظ نہ خواب گاہ محفوظ اور آخر میں پانی کو خون بنادیا گیا جب کبھی کوئی نشانی آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کرتے کہ یہ عذاب ٹل جائے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے لیکن جب وہ عذاب ہٹ جاتا تو پھر انکار کردیتے۔
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تجھ سے کررکھا ہے ہمارے لئے دعا کر اگر تو نے اس عذاب کو ہم سے دور کردیا تو یقیناً ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی تیرے ہمراہ بھیج دیں گے۔

134 اور ان فرعونیوں پر جب کوئی بلا نازل ہوتی اور کوئی عذاب واقع ہوتا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے پروردگار سے اس عہد کے سبب جو اس نے تجھ سے کررکھا ہے دعا کردے اگر تو نے یہ بلا اور عذاب ہم پر سے ہٹادیا تو ضرور ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ہم تیرے ہمراہ بھیج دیں گے یعنی وہ عہد یا تو یہ ہوگا کہ جب گناہ گار توبہ کریں اور گناہ کو ترک کردیں تو ہم واقع شدہ بلاکو دور کردیں گے یا یہ کہ آپ کو اس نے نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور آپ اس کی نبوت کے حامل ہیں اس لئے بحیثیت نبی کے دعا کردیجئے۔ اور ہوسکتا ہے کہ ہر نبی سے خدا کا وعدہ ہے کہ ایک دعا ضرور قبول کروں گا اس کی طرف اشارہ ہو کہ اس دعا کو ہمارے لئے صرف کردیجئے اور ہم کو اس بلا سے نجات دلوائیے۔ واللہ اعلم
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

مگر ہم جب ان سے اس مقررہ وقت تک کیلئے جس تک وہ پہنچنے والے تھے اس عذاب کو ہٹا لیتے تو وہ فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے

135 پھر جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان سے ایک وقت متعین تک کے لئے جس تک وہ پہنچنے والے تھے اس بلا اور عذاب کو ہٹا لیتے تب ہی وہ اپنے عہد کو توڑ دیتے۔ یعنی ان کے غرق ہونے کی جو مدت مقرر تھی اس تک ان کو پہنچانا ہی تھا ہم جب ان پر سے ان عارضی بلائوں کو ہٹا لیتے تو وہ فوراً ہی اس عہد کو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باربار کرتے تھے توڑ دیا کرتے۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو دریا میں غرق کردیا کیوں کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان آیتوں سے غفلت برتتے تھے

136 الغرض ! ہم نے ان سے پوری طرح انتقال لیا اور ان کو دریا میں غرق کردیا کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کی تکذیب اور ہمارے احکام کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان آیات خداوندی سے غفلت و بےپروائی برتا کرتے تھے۔ یعنی یہ سب بلائیں ان پر آئیں ایک ایک ہفتہ کے فرق سے اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو کہہ آتے کہ اللہ تم پر یہ بلا بھیجے گا وہی بلا آتی پھر مضطر ہوتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خوشامد کرتے ان کی دعا سے دفع ہوتی پھر منکر ہوجائے آخرکار وبا پڑی نصف شب کے سارے شہر میں ہر شخص کا پہلا بیٹا مرگیا وہ لگے مردوں کے غم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لیکر شہر سے نکل گئے۔ پھر کئی روز کے بعد فرعون پیچھے لگا دریائے قلزم پر جاپکڑا وہاں یہ قوم سلامت گزر گئی اور فرعون ساری فوج سمیت غرق ہوا۔ 12 یہ بلائیں سات 7 نشانیاں تھیں ان کو اور دو نشانیاں عصا اور ید بیضا یہ سب نو 9 نشانیاں تھیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئیں تھیں جس کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو ملک میں انتہائی کم زور سمجھے جاتے تھے اس پورے ملک کی مشرق و مغرب کا مالک بنادیا جس ملک کو ہم نے بابرکت کیا تھا اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کرنے کی وجہ سے پورا ہوگیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا اور انگور کے جو باغات ٹیمٹوں پر چڑھا رکھے تھے ہم نے ان سب کو تباہ و برباد کردیا۔

137 اور ہم نے ان لوگوں کو جو ملک میں بہت ہی کمزور اور ضعیف سجھے جاتے تھے یعنی بنی اسرائیل ان کو اس ملک کی مشرق ومغرب اور پورب و پچھم کا مالک بنادیا جس ملک میں ہم نے اپنی مادی اور روحانی برکتیں رکھی ہیں اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کرنے اور ثابت قدم رہنے کی وجہ سے پورا ہوگیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو بڑے بڑے محلات اور باغات بنارکھے تھے اور انگور کی جو بیلیں ٹیٹوں پر پھیلا رکھی تھیں ان سب کو تباہ و برباد کردیا۔ یعنی زمین شام اس میں ظاہر و باکن کی برکت بہت ہے۔ 12 مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے حکومت کے مظالم پر صبر کیا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کا ساتھ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کردیا۔ فرعون اور اس کے حمایتی غرق ہوئے اور بنی اسرائیل ملک مصر کے حاکم بنائے گئے مصر میں مادی برکتیں تو ظاہر ہی ہیں روحانی یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) وہاں مدفون تھے۔ بعض حضرات نے ملک شام کی زمین مرادلی ہے جیسا کہ شاہ صاحب نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور بعض مفسرین نے مصر اور شام دونوں مراد لیا ہے اور زیادہ صحیح اور راحج یہی ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا پھر ان بنی اسرائیل کا کچھ ایسے لوگوں پر گزر ہوا جو اپنے بتوں کی پرستش میں لگے ہوئے تھے ان کو دیکھ کر یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود مقررکردے جیسے ان کے یہ معبود ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا واقعی تم لوگ بڑے ہی جاہل ہو۔

138 اور ہم نے بنی اسرائیل کو صحیح سالم دریا سے پار کردیا اور سمندر سے نکل دیا تب ان کا ایک ایسی قوم پر گزر ہوا جو اپن چند بتوں کی پوجا میں لگے ہوئے تھے اور ان کے روبرو جمے بیٹھے تھے بنی اسرائیل نے ان بت پرستوں کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود مقرر کردے جیسے ان کے معبود ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ! تم بڑی جہالت میں مبتلا ہو یعنی جاہل آدمی نرے بےصورت کو عبادت کر کر تسکین نہیں پاتا۔ جب تک سامنے ایک صورت نہ ہو وہ قوم دیکھ کر کہ گائے کی صورت پوجتے تھے اور ان کو بھی یہ ہوس آئی آخر سونے کا بچھڑا بنایا اور پوجا۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا جہل ہوگا کہ اس قدر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کی عنایات کے بعد بھی غیر اللہ کی پرستش کی خواہش ظاہر کی اور وہ بھی اللہ کے پیغمبر سے۔
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس دین میں ہیں وہ یقیناً برباد کیا جانے والا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔

139 بلاشبہ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ لوگ جس دین میں ہیں وہ تباہ و برباد کیا جانے والا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ بےبنیاد اور باطل ہے۔ یعنی فطرتاً باطل کو دوام نہیں باطل پھلتا پھولتا نہیں۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میں تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو اس زمانے میں جملہ اقوام عالم پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔

140 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میں تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس معبود حقیقی نے تم کو اس زمانے میں تمام اقوام ِ عالم پر برتری اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یعنی بجائے شکر بجالانے کے شرک کی ہوس اور خواہش کرتے ہو۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب کرنے کی جستجو میں رہتے تھے تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس بات میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی

141 اور اے بنی اسرائیل تم اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں سے نجات دی اور فرعون والوں کے مظالم سے بچا نکالا جو تم پر بدترین عذاب کرنے کی تلاش میں رہتے تھے اور تمہیں سخت ایذاء دیتے تھے وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو قتل کردیا کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس بات پر تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی یعنی بیٹوں کو اس لئے قتل کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کی تعداد نہ بڑھے اور ان میں زور نہ آئے یا موسیٰ (علیہ السلام) نہ پیدا ہوجائے۔ لڑکیوں کو خدمت گزار بنانے کی غرض سے چھوڑ دیتے تھے۔ عذاب کی تلاش یہ کہ سخت سے سخت سزا دیکر بھی دل ٹھنڈا نہ ہوتا تھا اور اس جستجو میں رہتے تھے کہ کوئی اور طریقہ عذاب ایجاد کریں۔ بلاکے معنی احسان کے ساتھ بھی کئے گئے ہیں جیسا کہ ہم پہلے پارے میں عرض کرچکے ہیں یعنی ایسے سخت حکمران سے تم کو نجات دی یہ پروردگار کا تم پر بڑا احسان ہے۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتوں کا اور اضافہ کرکے ہم نے ان کی تکمیل کی پس موسیٰ (علیہ السلام) کے رب کی مقررہ مدت پوری چالیس راتیں ہوگئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ تو میری قوم میں میری نیابت کیجئو اور ان کی اصلاح کرتا رہیو اور مفسدین کی راہ نہ چلیو۔

142 جب بنی اسرائیل کو اطمینان ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کتاب طلب کی تاکہ اس کتاب پر عمل شروع کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ن جناب باری کی خدمت میں عرض کی اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا یعنی ابتدائً کم از کم تیس رات کوہ طور پر آکر اعتکاف کرو اور پورے مہینے کے روزے رکھو تو ہم تم کو تمہاری امت کے لئے کتاب تورات عنایت کردیں گے بشرطیکہ آداب عبودیت اور صلاحیت و استعداد کی تکمیل ہوگئی ورنہ اس مدت میں اضافہ کردیا جائے گا چناچہ ان تیس راتوں میں ہم نے دس راتوں کا اضافہ کرکے ان راتوں کو پورا کردیا لہٰذا اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتیں پوری ہوگئیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر جاتے وقت اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا تو میری قوم میں میری نیابت یعنی وہی خدمت انجام دیجئو جو میں دیا کرتاہوں اور ان کی اصلاح اور عقائد و اعمال کی درستی کرتا رہیو اور شرارت پسندوں کا راستہ اختیار نہ کیجئو اور مفسدین کی راہ نہ چلیئو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے وعدہ دیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہ پہاڑ پر تیس رات خلوت کرو کہ تمہاری قوم کو تورات دوں اس مدت میں انہوں نے ایک دن مسواک کی فرشتوں کو ان کے منہ کی بو سے خوشی تھی وہ جاتی رہی اس کے بدل میں دس رات اور بڑھاکر مدت پوری کی۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آئے اور ان کا رب ان سے ہم کلام ہوا تو انہوں نے کہا اے میرے رب آپ مجھے اپنا جمال دکھا دیجئے تاکہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتا مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ پھر اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا غرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے اس پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گرپڑے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ہوشیار ہوئے تو کہنے لگے آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی خدمت میں معذرت کرتاہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں

143 اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وعدے کے مطابق اور ہمارے مقررہ وقت پر حاضر ہوئے اور ان کا پروردگار ان سے ہم کلام ہوا تو انہوں نے عرض کی اے میرے پروردگار ! آپ مجھ کو اپنا جمال دکھا دیجئے تاکہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتا مگر ہاں ایسا ہی شوق ہے تو اس پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا اور اپنی حالت پر قائم رہا تو تو مجھ کو دیکھ لے گا یعنی پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ گیا تو تو بھی مجھ کو دیکھ سکے گا۔ غرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی الٰہی نے اس پہاڑ کو ڈھاکر ریزہ ریزہ اور چکنا چور کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر اور غش کھاکر گرپڑے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہوشی سے افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی پاکی بیان کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں معذرت پیش کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور میں اپن زمانے کے سب لوگوں سے پہلے ایمان لانے والا ہوں یعنی اس بات پر کہ مجھ کو اس مادی عالم میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے بزرگی دی کہ فرشتے بغیر خود کلام کیا ان کو شوق ہوا کہ دیدار بھی کروں اس کی برداشت نہ ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو دیکھنا ہوسکتا ہے کیونکہ نمود ہوا تھا پہاڑ کی طرف لیکن دنیا کے وجودکو برداشت نہ ہوئی پہاڑ ٹوٹ گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش گرے تو آخرت کے وجود کو برداشت ہوگی وہاں دیکھنا تحقیق ہے۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تجھ کو اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے لئے تمام لوگوں پر ایک خاص امتیاز دیا ہے پس جو کچھ میں نے تجھ کو عطا کیا ہے اسے حاصل کر اور شکر کرتا رہ

144 اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تجھ کو اپنی پیغامبری اور اپنی ہم کلامی سے عام لوگوں پر شرف و امتیاز بخشا ہے لہٰذا جو کچھ میں نے تجھ کو دیا ہے اس کو حاصل کر اور اس کو لے اور شکر ادا کرتا رہ اور ان لوگوں میں شامل رہ جن کا شیوہ شکر گزاری ہے۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ضروری شئے کی تفصیل موسیٰ (علیہ السلام) کو لکھ دی اے موسیٰ (علیہ السلام) ان تختیوں یعنی توریت کو پورے عزم کے ساتھ سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے اس کے بہترین احکام پر قائم رہیں میں عنقریب تم کو نافرمانی کرنے والوں کا گھر دکھائوں گا۔

145 پھر ہم نے چند تختیوں پر موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی نصیحت اور ہر ضروری چیز کی تفصیل لکھ دی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ان تختیوں کو سنبھال اور پورے عزم اور پوری قوت کے ساتھ خود بھی اس پر عمل کر اور اپنی قوم کو بھی حکم دے کہ وہ اس کے احکام پر جو بہترین ہیں عمل کرتے رہیں اور اس کے بہترین احکام کو پکڑے رہیں میں عنقریب تم کو نافرمانی اور بےحکمی کرنے والوں کا گھر دکھائوں گا۔ یعنی ان تختیوں پر کتاب تورات لکھی ہوئی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اور حکم ہوا کہ اس پر مضبوطی کے ساتھ عمل کرو اور دوسروں سے اس کی اچھی اور بہترین باتوں پر عمل کرائو۔ نافرمانوں کے گھر دکھلانے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں جہنم اور دنیا میں ذلت و رسوائی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کی بہتر باتیں یعنی جن کے کرنے کا حکم ہے اور بری باتیں جنکے نہ کرنے کا حکم ہے اور دکھائوں گا گھر بےحکموں کا یعنی اگر تم حکم پر نہ چلو گے تو تم کو اسی طرح ذلیل کریں گے جس طرح شام کا ملک ان سے چھین کر تم کو دیا۔ 12 اس آیت میں ترغیب بھی ہے اور ترہیب بھی مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے فرمانبرداری کی تو تم کو مصر و شام کی حکومت ملے گی اور نافرمانودں کے ملک پر قابض ہوجائوگے اور اگر بےحکمی کروگے تو حکومت سے محروم کردیئے جائو گے اور بےحکموں کی طرح ذلیل و رسوا ہوگے۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں ایسے لوگوں کو جو زمین میں ناحق تکبر کا اظہار کیا کرتے ہیں اپنی آیتوں سے برگشتہ رکھوں گا اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں تو بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ پائیں تو اس پر چل کھڑے ہوں یہ کجروی ان میں اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹا بتایا اور ان آیتوں سے غفلت برتتے رہے

146 میں عنقریب ایسے لوگوں کو اپنی آیات سے برگشتہ رکھوں گا اور اپنی آیات کو سمجھنے کی توفیق نہ دوں گا جو بلاوجہ زمین میں متکبرانہ برتائو کرتے ہیں اور ایسا ناحق تکبر کرتے پھرتے ہیں جس تکبر اور بڑائی کا ان کو حق نہیں ہے اس تکبر اور اس کی پاداش میں برگشتہ کرنے کا ان پر یہ اثر ہوگا اور ان کی یہ حالت ہوجائے گی کہ اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ صاف اور واضح طور پر دیکھ لیں تب بھی اس راہ کو اختیار نہ کریں اور اس سیدھی راہ کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اس پر چلنے کو آمادہ نہ ہوں اور اگر گمراہی اور کج روہی کا کوئی راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں اور اس گمراہی کے راستہ پر چل کھڑے ہوں۔ یہ کج روی اور قسادت قلبی ان میں اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو ازراہ ِ تکبر جھوٹا بتایا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور ہماری ان آیتوں سے غفلت کا برتائو کرتے رہے۔ یعنی جب کوئی مجرمانہ حرکات کا خوگر اور عادی ہوجاتا ہے تو اس کا انجام اور اس کی قسادت قلبی کا یہی حال ہوجاتا ہے۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور یوم آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال نیست و نابود ہوگئے اور ایسے لوگوں کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے

147 اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات اور یوم آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال اکارت ہوئے اور ان کی سب محنتیں اور کوششیں برباد ہوئیں اور ان لوگوں کو وہی سزا دی جائے گی اور وہی بدلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی چونکہ آخرت کو مانتے نہ تھے اس لئے کوئی عمل ثواب کی امید پر نہ کرتے تھے اگر کوئی عمل اچھا کیا بھی تو اس کا پھل دنیا میں مل چکا وہاں کچھ بھی نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں الواح دیکر یہ بھی فرمایا کہ قوم کو تقلید کرو کہ عمل کریں اور یہ بھی فرمایا جو بےانصاف ہیں اور حق پرست نہیں ان کے دل میں پھیر دوں گا اس پر عمل نہ کریں گے یعنی ہدایت اور ضلالت دونوں اس کی طرف سے ہے اسی طرح بہشت و دوزخ۔ 12 اعمال کے بارے میں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان حکموں کی توفیق نہ ہوگی اور جو اپنی عقل سے کریں گے وہ قبول نہ ہوگا۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر جانے کے بعد اپنے زیورات کو گلا کر ان سے ایک بچھڑا بنالیا جو محض ایک مجسمہ تھا جس میں بچھڑے کی آواز تھی کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ نہ تو وہ ان سے کوئی کلام کرسکتا ہے اور نہ ان کو کوئی راستہ بتاسکتا ہے اس پر بھی بنی اسرائیل نے اس بچھڑے کو معبود بنالیا اور وہ سخت ناانصاف تھے

148 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ان زیورات کو جو وہ قبطیوں کے مصر سے لیکر نکلے تھے گلاکر ایک گائے کا بچھڑا بنالیا جو محض ایک مجسمہ تھا اور اس میں سے صرف بچھڑے کی آواز نکلتی تھی انہوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ یہ بچھڑا نہ تو ان سے کوئی کلام کرسکتا ہے نہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے۔ نہ ان کو کوئی راہ بتاسکتا ہے۔ نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے باوجود اس کے انہوں نے اس مجسمہ کو معبود ٹھہرالیا اور اس کو خدا بناکر پرستش شروع کردی اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے ہی بےانصاف۔ یعنی اس سے بڑھ کر کیا ناانصافی اور ظلم ہوگا کہ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کو اپنا معبود اور خدا بناکر اس کی پوجا شروع کردی۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہم کو نہ بخشا تو بیشک ہم بڑے نقصان میں پڑجائیں گے

149 اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قو م کے لوگ اپنی اس حرکت پر سخت نادم ہوئے اور وہ یہ سمجھ گئے کہ وہ صحیح راہ سے بھٹک گئے تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم کو نہ بخشا تو یقیناً ہم بڑے زیاں کار ہوں گے اور بڑے نقصان میں پڑجائیں گے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لے کر آئے تب ان لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور شرمندہ ہوکر معافی خواہ ہوئے۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف نہایت غصے اور رنج کی حالت میں واپس ہوا تو کہا تم لوگوں نے میرے بعد بہت ہی بری میری نمائندگی کی کیا تم لوگ اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلد ی کر بیٹھے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے توریت کی تختیاں تو ایک طرف رکھ دیں اور اپنے بھائی کا سر یعنی سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا اس پر ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میری ماں کے جائے ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالتے سو تو دشمنوں کو مجھ پر خوش ہونے کا موقع نہ دے اور مجھے ظالم لوگوں میں شمار نہ کر

150 اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت غصے اور رنج و افسوس کی حالت میں طور سے واپس آئے تو اپنی قوم سے مخاطب ہوکر فرمایا تم نے میرے جائے پیچھے یہ بہت بری اور ناشائستہ حرکت کی ہے اور وہ نمائندگی بہت بری ہے جو تم نے میرے جانے کے بعد میری نمائندگی کی ہے کیا تم لوگ اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے ہی جلدی کر بٹیھے اسی حالت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جلدی سے وہ تختیاں تو ایک طرف رکھ دیں اور وفور جوش میں اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال پکڑ کر اپنے بھائی کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اس پر کہا اے میری ماں کے بیٹے اور میری ماں جائے ان لوگوں نے مجھ کو کمزور اور بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ یہ لوگ مجھ کو مار ڈالتے پس اے موسیٰ (علیہ السلام) تو مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقعہ نہ دے اور مجھ کو ان ظالم اور ناانصاف لوگوں میں شمار نہ کر یعنی میں نے تو ان کو بہت سمجھایا لیکن یہ باغی ہوگئے اور فساد پر آمادہ ہوگئے لہٰذا نہ تو ان کو مجھ پر ہنسوا اور نہ مجھ کو ان جیسا سمجھ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان کی اولاد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں امام تھے لیکن جب ان کی جگہ خلیفہ ہوئے تو امت حکم میں نہ رہی خلافت اور کی قسمت میں تھی خلیفہ وہ جو امت کو دین اور دنیا کے بندوبست میں رکھے جس طرح پیغمبر سنوارا گیا تاکہ نصرت حق ان کے ساتھ رہے اور امام وہ کہ پیغمبر کا یادگار ہو جو خدمت اور نیاز پیغمبر سے منظور ہو سو امت ان سے کرے تا قبولیت اور برکت کا درجہ ملے۔ تورات میں امام کے لوازم دیکھئے تو معلوم ہوں۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر کہا اے میرے رب میری اور میرے بھائی کی کوتاہی کو معاف کردے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو ہی سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

151 حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی اے میرے رب ! میرے اور میرے بھائی کی مغفرت اور بخشش فرما اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ یعنی اس واقعہ میں جو خطا مجھ سے اور میرے بھائی سے سرزد ہوگئی ہو اس کو درگزر فرما دے اور ہم کو اس خاص رحمت میں داخل فرما جو انبیاء کے لئے تو نے مخصوص کررکھی ہے۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے گوسالہ کو معبود بنایا عنقریب ان کو ان کے رب کی جانب سے غضب پہنچے گا اور دنیا کی زندگی میں انہیں ذلت حاصل ہوگی اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

152 بلاشبہ جو لگ گئو سالہ پرستی کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نیح بچھڑے کو معبود بنایا ہے ان کو ان کے پروردگار کی جانب سے غضب پہنچے گا اور اسی دنیوی زندگی میں ذلت حاصل ہوگی اور ہم اسی طرح افتراء پردازوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ یعنی اگر ان لوگوں نے توبہ نہ کی تو ان پر ہمارا غضب پڑے گا اور ان پر ذلت و رسوائی نازل ہوگی اور ایسا ہونا کچھ ان کی خصوصیات نہیں بلکہ ہم اسی طرح افترا پردازوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا پھر وہ ان گناہوں کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً آپ کا رب اس توبہ کے بعد معاف کردینے والا نہایت مہربان ہے

153 اور جو لوگ برائیوں اور بداعمالیوں کے مرتکب ہوئے اور پھر برائیاں کرنے کے بعد یہ لوگ توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں یعنی اپنے عقائد درست رکھیں تو یقیناً آپ کا پروردگار اس توبہ کے بعد معاف کردینے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی اگر گئوسالہ پرستی کرنے والے بھی توبہ کرلیں گے تو ان کو بھی معاف کردیا جائے گا تفصیل پہلے پارے میں گزر چکی ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کے غصہ کو سکون ہوا تو انہوں نے توریت کی تختیوں کو اٹھالیا اور ان میں جو مضامین لکھے گئے تھے وہ سراسر ہدایت اور رحمت تھے ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

154 اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا اور ہارون (علیہ السلام) کی معذرت سے غصہ کو سکون ہوا تو انہوں نے توریت کی تختیوں کو اٹھالیا اور ان میں لوح محفوظ سے جو مضامین نقل کئے گئے تھے اور جو مضامین لکھے گئے تھے وہ مضامین ان لوگوں کے لئے سراسر ہدایت و رحمت تھے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یعنی مضامین ہدایت و رحمت سے ڈرنے والے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر 70 آدمیوں کو اس وقت کے لئے منتخب کیا جو ہم نے مقرر کیا تھا پھر جب زلزلہ نے ان ستر کے ستر کو آلیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو یہاں آنے سے قبل ہی ہلاک کردیتا کیا تو ہم کو محض بعض ہمارے بیوقوفوں کی حرکت کے باعث ہلاک کردیگا یہ واقعہ صرف آپ کی طرف سے ایک امتحان ہے اس قسم کے امتحانات سے تو جس کو چاہے گم کردہ راہ بنادے اور جس کو چاہے صحیح راہ پر قائم رکھے تو ہی ہمارا دست گیر ہے سو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو ہی سب بخشنے والوں سے بہتر بخشنے والا ہے۔

155 اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر 70 آدمیوں کو ہمارے مقررکردہ وقت کے لئے منتخب کیا۔ یعنی توریت لانے کے بعد قوم نے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے نمائندوں کو خدا کا کلام سنوئو تب ہم ایمان لائیں گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر 70 آدمیوں کو منتخب کرکے اپنے ہمراہ طور پر لے گئے پھر جب ان ستر کے ستر کو زلزلے نے آپکڑا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو یہاں آنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتا کیا تو محض اس فعل کے باعث جو ہم میں سیح بعض بیوقوفوں نے کیا ہے ہم سب کو ہلاک کر ڈالے گا یہ واقعہ تیری طرف سے محض ایک آزمائش اور امتحان ہے اس قسم کے امتحانات سے تو جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے صحیح راہ پر قائم رکھتا ہے تو ہی ہمارا کارساز اور دست گیر ہے پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو ہی سب بخشش کرنے والوں سے بہتر بخشنے والا ہے۔ یعنی جب ان سب نے خدا کا کلام سنا تو کہنے لگے ہم جب تک کلام کرنے والے کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں تب تک ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے اس پر زلزلہ اور بجلی کی کڑک کا عذاب نازل ہوا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ساتھ لے گئے ستر آدمی سردار قوم کے جب حق تعالیٰ نے کلام کیا سنکر کہنے لگے ہم جب تک نہ دیکھیں ہم کو یقین نہیں اس سے ان پر بجلی گری وہ کانپ کر مرگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طرح دعا کی آپ کو شامل کرکے تب بخشے گئے پھر زندہ ہوئے یہ شاید بچھڑا پوجنے سے پہلے تھا یا شاید پیچھے تھا۔ واللہ اعلم
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی ہمارے لئے بہتری مقرر کردے اور آخرت میں بھی ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اپنا عذاب تو جس پر چاہتا ہوں اس کو پہنچاتا ہوں مگر میری رحمت ہر ایک چیز پر چھائی ہوئی ہے ہاں میں اس رحمت کو ان لوگوں کے لئے خاص طور پر لکھ دوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

156 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی اور اس دنیا میں بھی ہمارے لئے بہتری اور خوشحالی لکھ دے اور اسی طرح آخرت میں بھدی بہتری لکھ دے ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں یعنی ہمارے لئے دونوں عالم میں بہتری اور بھلائی مقرر کردے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں اپنا عذاب تو جس پر چاہتا ہودں اس کو پہنچاتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیاء کو محیط اور ہر ایک چیز پرچھائی ہوئی ہے البتہ میں اس رحمت کو کامل طور پر ان تمام لوگوں کے لئے مخصوص کروں گا جو نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں۔ یعنی یوں تو میری رحمت عام ہے مستحق اور غیر مستحق سب ہی فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن مستحقین کے لئے کامل طور پر اس رحمت کو خاص کردوں گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے حق میں دنیا اور آخرت کی جو نیکی مانگی مراد یہ تھی کہ سب امتوں پر مقدم رہیں فرمایا کہ میرا عذاب اور رحمت کسی فرقے پر مخصوص نہیں سو عذاب تو اسی پر ہے جس کو اللہ چاہے اور رحمت سب کو شامل ہے لیکن وہ رحمت خاص لکھی ہے ان کے نصیب میں جو اللہ کی ساری باتوں پر یقین کریں گے یعنی آخری امت کہ سب کتابوں پر ایمان لائیں گے سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے جو کوئی آخری کتاب پر یقین لائے وہ پہنچے اس نعمت کو اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ان کو لگے۔ 12
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ لوگ جو اس نبی امی رسول کی پیروی کرتے ہیں جس کی صفات کو یہ لوگ توریت و انجیل میں جو ان کے پاس موجود ہیں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ رسول ایسا ہے جو ان کو اچھی باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے منع کرتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال قرار دیتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے وہ بوجھ اور وہ بندشیں جو ان پر مقرر تھیں ان سب کو ان سے دور کرتا ہے لہٰذا جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور اس کی حمایت اور اس کی مدد کی اور اس تور کے پیرو رہے جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن تو یہی لوگ حقیقی فلاح پانے والے ہیں۔

157 وہ لوگ وہ ہیں جو اس رسول نبی امی کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں جس نبی کی صفات کو اور اس کے نام کو یہ لوگ توریت و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو توریت و انجیل ان کے پاس موجود ہیں وہ رسول ایسا ہے جو ان کو بھلی باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور بڑے کاموں سے منع کرتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال قرار دیتا ہے اور گندی اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے وہ بوجھ اور وہ بندشیں جو ان پر سابقہ شریعت میں مقرر تھیں ان سب بوجھ اور بندشوں کو ان سے دور کرتا ہے لہٰذا جو لوگ ان صفات مذکورہ سے متصف رسول نبی امی پر ایمان لائے اور اس کی حمایت ورفاقت کی اور اس کی امداد و اعانت کی اور اس نور کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے پیروی کی تو یہی لوگ کامل اور حقیقی فلاح پانے والے ہیں۔ یعنی نبی آخر الزماں ؐ کی رسالت اور قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور اس رسول کی جو امی لقب ہے مدد کریں گے اور صحیح خدمت انجام دیں گے اور قرآن کریم کی پیروی کرتے رہیں گے تو یہی لوگ فائز المرام ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کو پہلی کتابوں میں نبی امی بتایا تھا دو معنوں سے ایک تو بن پڑھے تھے اور دوسرے ام القریٰ سے پیدا ہوئے یعنی مکہ سے اور یہود پر احکام سخت تھے اور کھانے کی چیزوں میں تنگی تھی اس دین میں وہ سب آسان ہوئی اسے بوجھ اور پھانسی فرمایا اور نور سے مراد قرآن کریم اور شریعت ہے۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! آپ فرما دیجئے اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوکر آیا ہوں جس کی حکومت سب آسمانوں اور زمین میں قائم ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو لوگو ! اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول نبی امی پر بھی ایمان لائو جس کی شان یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہے اور تم اسی نبی امی کے تابع رہو تاکہ تم راہ یافتہ ہوجائو۔

158 اے پیغمبر ﷺ ! آپ بنی نوع انسان کو فرما دیجئے اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا رسول اور پیغامبر ہوکر آیا ہوں جس کی حکومت اور جس کا راج تمام آسمانوں میں اور زمین میں قائم ہے اور اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے لہٰذا تم سب لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور اس کے بھیجے ہوئے رسول نبی امی پر ایمان لائو جس کی شان یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہے تم اس نبی امی کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست پر آجائو اور تم راہ یافتہ ہوجائو۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو راہ حق بتاتی ہے اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتی ہے

159 اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو راہ حق بتاتی ہے اور اسی حق کے مطابق جملہ معاملات میں انصاف کرتی ہے۔ یعنی اسلام کا راستہ بتاتی ہے اور اسلام کے موافق معاملات باہمی میں انصاف کرتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہی لوگ تھے کہ جب حضرت پہنچے تو ایمان لائے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ ۔ 12
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کرکے ان کی الگ الگ جماعتیں بنادیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب اس وقت جبکہ اس کی قوم نے اس سے پانی طلب کیا یہ وحی کی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصا فلاں پتھر پر مار سو عصا کے مارتے ہی اس پتھر میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے بنی اسرائیل کے ہرا یک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا اور ہم نے ان پر بادل کو سائبان کیا اور ان پر ہم نے من اور سلویٰ اتاراکھائو ان عمدہ چیزوں کو جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اور ان نافرمانوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ وہ اپنا آپ ہی نقصان کرتے تھے۔

160 اور ہم نے بنی اسرائیل کے جدی خاندانوں کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کرکے ان کی الگ الگ جماعتیں بنادیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب اس وقت جبکہ اس کی قوم نے اس سے پانی طلب کیا اور پانی مانگا یہ وحی کی کہ اے موسیٰ تو اپنی لکڑی فلاں پتھر پر مار لہٰذا لکڑی کے مارتے ہی اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے بنی اسرائیل کے ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا اور ہم نے ان پر ابر کو سایہ فگن کیا اور بادل کو ان پر سائبان کردیا اور ان پر ہم نے من اور سلویٰ اتارا اور ان کو من وسلویٰ کھانے کی اجازت دی کہ یہ لذیذ و طیب چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں ان میں سے کھائو اور ان نافرمان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ وہ اپنا آپ ہی نقصان کرتے رہے اور اپنے آپ کو نقصان خود پہنچاتے رہے۔ یعنی نبی آخر الزماں ﷺ کے متعلق جو پیشین گوئیاں بنی اسرائیل کی کتابوں میں موجود تھیں ان کا ذکر فرماتے ہوئے ان احسانات کو بھی یاد دلایا جو وقتاً فوقتاً بنی اسرائیل پر ہوتے تھے جیسا کہ پہلے پارہ میں گزر چکا ہے انتظامی امور کے سلسلے میں قبائل کی تقسیم پھر ارض تیہ میں ترنجبین اور بٹیروں کا نزول پانی کی طلب میں پانی کے چشموں کا جاری کرنا، بارہ قبیلوں پر بارہ سردار وغیرہ مقرر کرنا۔ جیسا کہ چھٹے پارے میں بیان ہوا دھوپ کی گرمی سے بچانے کے لئے بادل کا سائبان اور ان احسانات کے باوجود ان کی کوتاہیاں اور نافرمانیاں بھی ذکر فرمائیں۔