6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزا وار ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے تاریکیوں کو اور نور کو بتایا پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کر رکھی ہے اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو مساوی درج دیتے ہیں

-1 تمام تعریفیں اور ہر قسم کی حمد وثناء کا وہی اللہ تعالیٰ سزا وار ہے اور مستحق ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے اندھیرے اور تاریکیاں روشنی اور نور بنایا یعنی دونوں کا خالق وہی ہے مجوسی جو کہتے ہیں وہ غلط ہے پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کافرانہ روش اختیار کر رکھی ہے اپنے پروردگار کے ساتھ دوسرے معبود ان باطلہ کو برابری کا درجہ دے رہے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ وہی تو ہے جس نے تم سب کو مٹی سے پیدا کیا پھر موت کا ایک وقت مقرر کردیا اور ایک اور میعاد بھی اس کے ہاں متعین ہے پھر بھی تم شک کر رہے ہو

-2 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی اور مٹی کے نچوڑے سے پیدا کیا یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے اور تم کو اسی مٹی کے سلالہ اور مٹی کے جوہر اور مٹی کے ست سے پیدا کیا پھر تمہاری موت اور تمہارے مرنے کا ایک وقت اور معیاد مقرر کردی اور ایک اور وقت بھی اس کے علم میں مقرر اور معین ہے یعنی ایک وقت انسان کے مرنے کا اور ایک وقت مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا پھر بھی تم شک کر رہے ہو اور شکوک و شبہات میں مبتلا ہو۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی معبود برحق ہے آسمانوں میں اور زمین میں وہ تمہارے چھپے اور کھلے سب احوال کو جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کر رہے ہو اس کو بھی جانتا ہے

-3 اور وہی معبود برحق ہے آسمانوں میں اور وہی معبود برحق ہے زمین میں وہ تمہارے پوشیدہ اور چھپے احوال کو بھی جانتا ہے اور تمہارے کھلے اور ظاہر احوال کو بھی خوب جانتا ہے اور جو کچھ تم عمل کرتے رہتے ہو خواہ وہ پوشیدہ عمل ہوں یا علانیہ ہوں ان سب کو بھی جانتا ہے۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور کوئی دلیل ان کے پروردگار کی دلیلوں میں سے ان تک نہیں پہونچتی مگر یہ کہ اس سے روگردانی ہی کیا کرتے ہیں

-4 اور کوئی دلیل اور کوئی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں ان تک نہیں پہونچتی اور ان کو نہیں دکھائی جاتی مگر یہ کہ یہ اس سے روگردانی ، اعراض اور تعافل کا برتائو کرتے ہیں یعنی کوئی دلیل بتائو یا کوئی نشانی دکھائو یہ کسی بات سے متاثر نہیں ہوتے۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو انہوں نے اس حق کی بھی تکذیب کی جب وہ حق ان کے پاس آیا تو اب بہت جلد ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہو جائیگی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے کیا ان کافروں نے

-5 سو انہوں نے اپنی عادت کے موافق اس سچی کتاب یعنی قرآن کریم کی بھیجب وہ ان کے پاس آیا تکذیب ہی کی اور قرآن جیسی سچی کتاب کا بھی کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ اس سچی کتاب کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا پس ان کو عنقریب اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی اور ان کو اس بات کا بہت جلد پتہ لگ جائے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور جس کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کردیا جن کو ہم نے ملک میں وہ زور دیا تھا جو تم کو ابھی تک دیا بھی نہیں اور ہم نے ان پر آسمان سے پے در پے بارشیں برسائیں تھیں اور ہم نے ان کے نیچے نہریں جاری کی تھیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا اور ان کے بعد ان کی جگہ ہم نے اور جماعتوں کو پیدا

-6 کیا ان منکرین حق اور سچی کتاب کے ساتھ مذاق کرنے والوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں اور قوموں کو ہلاک کردیا اور عذاب سے ان کو برباد کردیا جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت اور زور دے رکھا تھا اور ان کو زمین میں ایسا مضبوط جما رکھا تھا کہ اے منکرو ! تم کو ابھی تک ویسا زور اور قوت اور ان کا سا جمائو نہیں دیا گیا اور ان قوموں کی طرح کا مال اور جسمانی زور تم کو ابھی تک عطا نہیں ہوا اور ہم نے ان امم سابقہ پر آسمان سے پے در پے پانی برسایا اور آسمانوں کو ان پر بارشوں کے لئے چھوڑ دیا یعنی آسمان سے ان پر خوب بارشیں کیں اور ہم نے ان کے مکانوں اور باغوں اور کھیتوں کے نیچے نہریں جاری کر رکھی تھیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور ان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی جگہ ہم نے دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

کردیا اور اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب آپ پر نازل کرتے پھر یہ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب بھی جو لوگ کافر ہیں وہ یہی کہتے کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو ہے

-7 اور اے پیغمبر ! اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کوئی کتاب آپ پر نازل بھی کردیتے پھر یہ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے اور کوئی گنجائش انکار کی باقی نہ رہتی تب بھی جن لوگوں نے منکرانہ روش اختیار کر رکھی ہے وہ یہی کہتے کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو ہے یعنی جادو سے ہم کو کتاب معلوم ہو رہی ہے۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اور اگر ہم کوئی فرشتہ نازل کردیتے تو سب قصہ ہی ختم ہوجاتا پھر ان کو ذرا بھی ڈھیل نہ دی جاتی

-8 اور یہ منکرین حق یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کی مدد کے لئے کوء فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اور اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا یعنی جس کو ہم بھی دیکھتے اور اگر ہم کوئی فرشتہ نازل کردیتے یعنی فرشتہ تو اب بھی آتا ہے مگر اس طرح کا فرشتہ جس کو یہ بھی دیکھتے اور وہ ان سے گفتگو کرتا تو پھر سب قصہ ہی ختم ہوجاتا اور پھر ان کو بالکل ڈھیل نہ دی جاتی کیونکہ یہ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث جب بھی ایمان نہ لاتے اور منہ مانگا نشان دیکھنے کے بعد ایمان نہ لانا عذاب کا موجب ہے۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم بشر کی بجائے فرشتہ ہی کو رسول بناتے تو اس کو بھی ہم لازمی طور پر آدمی ہی شکل و صورت دیتے اور ہم ان کو انہی شبہات میں پھر مبتلا کردیتے جن شہادت میں وہ اب پھنسے ہوئے ہیں

-9 اور اگر ہم بجائے بشر کے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے تو ہم اس کو بہرحال آدمی ہی کی شکل و صورت دے کر بھیجتے کیونکہ فرشتے کو اصلی حالت میں دیکھنا تو ان کی طاقت سے باہر ہوتا اور جب ہم اس کو آدمی کی شکل دیتے تو ہمارے ایسا کرنے سے یہ پھر انہی شبہات میں مبتلا ہوجاتے جن میں وہ اب مبتلا ہیں اور جن شبہات میں اب پھنسے ہوئے ہیں وہی اشکال ان کو اس وقت بھی درپیش ہوتا یعنی فرشتہ کو اس کی اصل صورت میں دیکھ نہ سکتے لا محالہ اس کو انسان کی صورت شکل دے کر بھیجتے تو پھر یہی کہتے کہ ہمارے سمجھانے کو بشر کیوں آیا فرشتہ کیوں نہیں آیا۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا جا چکا ہے پھر ان مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے

-10 اور اے پیغمبر ! بلا شبہ آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاقاڑایا جا چکا ہے اور ان کی بھی ہنسیاڑائی گئی ہے پھر ان ہنسی اڑانے والوں کا یہ انجام ہوا کہ جس عذاب کا وہ مذاق اور ہنسی اڑاتے تھے اسی عذاب نے ان کو گھیر لیا یعنی پیغمبروں کی جن باتوں کا مذاق اڑاتے تھے انہی باتوں نے ایک دن عذاب الٰہی بن کر آگھیرا اور سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔

-11 آپ ان سے فرمائیے کہ تم لوگ بطور سیاحت ذرا زمین پر چلو پھر و پھر خود ہی دیکھ لو کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرنے والوں اور دین حق کے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے یہ کس کی ملک ہے آپ ہی فرما دیجیے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی ملک ہے ۔ اس نے رحم و کرم کا برتائو اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے تم سب کو قیامت کے دن وہ ضرور جمع کرے گا اس میں ذرا بھی شک نہیں ہاں جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود ہی نقصان میں ڈال لیا ہے سو وہ ماننے والے نہیں۔

-12 اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان منکرین توحید سے فرمائیے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے یہ کس کی ملک ہے اور ان سب کا مالک کون ہی آپ جواب میں کہہ دیجیے یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے یعنی اول تو وہ خود ہی اس کا اعتراف کریں گے اور اگر خوف وغیرہ کی وجہ سے جواب میں پہلوتہی کریں تو آپ ہی کہہ دیجیے کہ یہ سب کچھ اس کی ملک ہے او ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم و مہربانی کا برتائو اپنے ذمہ الزم کرلیا ہے یعنی مہربانی اور رحم اس کا عام شیوہ ہے وہ اپنے بندوں پر عذاب میں جلدی نہیں کرتا یقینا وہ تم سب کو قیامت کے دن قبروں سے زندہ کر کے جمع کرے گا اور قیامت کے دن کی حالت یہ ہے کہ اس کے واقع ہونے میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہیں مگر ہاں جنہوں نے اپنی فطرت اور اپنی عقل سلیم کو ضائع کر کے اپنے آپ کو خسارے اور گھاٹے میں ڈال دیا ہے تو وہ ماننے والے نہیں یعنی وہ صحیح عقل سے کام ہی نہیں لیتے تو ایمان کس طرح لائیں گے۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور رات اور دن میں جو بھی سکونت پذیر ہے وہ سب اسی کی ملک ہے اور وہی سب سنتا اور جانتا ہے

-13 اور رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں جو بھی رہتا ہے اور جو بھ سکوتن رکھتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور وہ ہی بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی رات اور دن جس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جن پر رات و دن کا گذر ہوتا ہے وہ سب خدا تعالیٰ کی مملوک ہیں۔
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ کیا میں اس خدا کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنا لوں جو آسمانوں کا اور زمین کا خالق ہے اور وہی سب کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا آپ فرما دیجیے مجھ کو تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبرداری قبول کروں اور نیز یہ کہ تم بہرحال مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوتا

14 اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیں کیا میں اس اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جو سب کو خوراک دیتا اور سب کو کھانا کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا کسی اور کو اپنا معبود اور مددگار بنالوں یعنی وہ سب کو غذا دیتا ہے اور کھانے کو دیتا ہے اور چونکہ وہ غذا کا محتاج نہیں اس لئے اس کو کوئی نہیں کھلاتا آپ فرما دیجیے مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں سب لوگوں سے پہلے اسلام لائو اور فرمانبردار بنوں اور مجھ کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ آپ شرک کرنے والوں میں سے اور اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں میں سے ہرگز نہ ہوں ینی جن لوگوں کو قرآن کریم کے ذریعہ توحید پہونچائی جائے ان سب میں سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں اور میں ہرگز ہرگز مشرک نہ بنوں۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجیے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

-15 اے پیغمبر آپ ان منکرین سے کہہ دیجیے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایسا کس طرح کرسکتا ہوں کیونکہ میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں ینی قیامت کے عذاب کا جس کو ڈر ہو وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان کس طرح ہوسکتا ہے۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس پر سے اس دن وہ عذاب ٹل گیا اس پر یقینا خدا نے بڑا رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے

-16 اس دن جس کے سر سے وہ عذاب ٹ گیا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بڑا رحم اور اس پر بڑی مہربانی فرمائی اور یہ کھلی اور نمایاں کامیابی ہے یعنی جس پر سے اس دن عذاب ٹل گیا اور وہ اس دن کے عذاب سے محفوظ رہا تو اس کو حقیقت کامیابی نصیب ہوئی۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اے مخاطب اگر اللہ تجھ کو کوء سختی پہونچائے تو اس سختی کو سوائی اس کے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ کسی بھلائی سے تجھ کو بہرہ ور کرے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

-17 اور اے انسان اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کوئی سختی اور تکلیف پہونچائے تو اس کو سوائے اس کے کوئی اور دور کرنے والا اور کھولنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تجھ کو کوئی بھلائی پہونچائے اور کس فائدے سے تجھ کو نوازے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے یعنی کوئی اس کے فضل کو رد نہیں کرسکتا۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے غالب ہے اور وہی ہے بڑی حکمت والا اور بڑا باخبر،

-18 اور وہی اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے غالب اور قادر ہے اور بڑی حکمت والا اور اپنے بندوں کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کہ کون سی چیز گواہی دینے کے اعتبار سے سب سے بڑی ہے آپ ہی فرما دیجیے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور یہ قرآن میری طرف اس لئے بطور وحی کے بھیجا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ پہنچ سکے ان سب کو خبردار کردوں کیا تم لوگ واقعی اب بھی اس امر کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں آپ کہہ دیجیے کہ میں تو کبھی ایسی شہادت دوں گا نہیں آپ کہہ دیجیے کہ وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور جن چیزوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے قطعی بیزار ہوں۔

-19 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے کہئے کہ گواہی دینے کے لحاظ اور اعتبار سے کو نسی چیز سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر ہے ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہوگا کہ خدا سے بڑھ کر کون سی چیز ہوسکتی ہے آپ فرما دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور یہ قرآن میری جانب اسی لئے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہونچے ان کو ڈرا دوں اور یہ بات بتادوں کہ جو شخص توحید و رسالت کا منکر ہ گا اس کا انجام کیا ہوگا کیا اللہ تعالیٰ کی اس صاف وصریح شہادت کے بعد تم لوگ واقعی اب بھی اس بات کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور دوسرے معبود بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات کے ساتھ کوئی دوسرا بھی قابل عبادت اور لائق پرستش ہے آپ فرما دیجیے میں تو کبھی ایسی شہادت نہیں دے سکتا اور میں تو ان تمام چیزوں سے جن کو تم حضرت حق تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو ان سب سے قطعی بیزار اور بری الذمہ ہوں۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس پیغمبر کو ایسا پہنچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر جن لوگوں نے آپ کو خود ہی نقصان میں ڈال لیا ہے وہ کبھی مان کردینے والے نہیں

-20 جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے یعنی یہود و نصاریٰ جن کو تم سے پہلے کتابیں دی تھیں وہ اس پیغمبر کو غیر مشتبہ طور پر ایسا جانتے اور پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے اور نقصان میں ڈال رکھا وہ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرے یقینا ایسے ظالموں کو قلاح نصیب نہ ہوگی

-21 اور اس شخص سے زیادہ اور بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان لگائے یا اس کی آیات اور اس کی نشانیوں کی تکذیب کرے اور اللہ تعالیٰ کیآیات کو جھلائے واقعہ یہ ہے کہ ایسے ظالم اور ناانصاف فلاح نہیں پاتے اور اس قسم کے ظالموں کو فلاح نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کیا کرتے تھے

-22 اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جو شرک کے مرتکب ہوئے تھے تمہارے وہ معبود اور وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم بزعم خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے مدعی تھے اور یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ معبود خدا کے شریک ہیں۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کے شرک کا انجام سوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا کہ وہ یوں جواب دیں گے قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم مشرک نہیں تھے

-23 پھر ان کے کفر کا انجام سوائے اس کے کچھ نہ ہوگا کہ یہ مشرک یوں کہیں گے اور یہ جواب دیں گے قسم اللہ تعالیٰ کی جو ہمارا پروردگار ہے ہم نے شرک کا ارتکاب نہیں کیا اور ہم مشرک نہیں تھے یعنی یہ عذر کریں گے کہ ہم نے کبھی شرک ہی نہیں کیا۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

ذرا دیکھو تو انہوں نے کیسا جھوٹ گھڑا اپنے اوپر اور تمام افترا پردازیاں ان سے گم ہوگئیں جو وہ کیا کرتے تھے۔

-24 ا ے پیغمبر ﷺ ! ذرا دیکھو تو انہوں نے اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا اور وہ تمام افترا پردازیاں اور وہتمام باتیں جو یہ گھڑا کرتے تھے سب ان سے گم ہوگئیں اور کھوئی گئیں یعنی بالکل چوکڑی بھول جائیں گے اور سوائے جھوٹ بولنے کے کوئی بات بن نہ پڑے گی۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان مشرکوں میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگا کر قرآن کو سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ وہ اس کلام کو سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے اور اگر یہ لوگ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں۔ تب بھی ان پر ایمان لانیوالے نہیں ان کا عناد تو اب اس حد کو پہنچ گیا ہے جب آپ کے پاس آپ سے جھگڑا کرنے کو آتے ہیں تو وہ کافریوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کچھ نہیں محض پہلے لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں

-25 اور ان منکرین میں کچھ ایسے ہیں جو آپ کی طرف جب آپ قرآن کریم پڑھتے ہیں تو کان لگا کر سنتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ وہ اس کلام کو سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں ثقل اور گرانی پیدا کردی ہے یعنی ان کی بد اعمالی کے باعث صحیح فہوم اور سننے کی صحیح صلاحیت ہی سلب کرلی گئی ہے۔ اب اگر یہ لوگ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان نشانیوں پر ایمان نہ لائیں گے ان کی مخالفت اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ سے جھگڑا کرنے لگتے ہیں تو قرآن کریم کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کچھ نہیں صرف پہلے لوگوں کے قصے اور گزشتہ لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور وہ کافرامر حق پر ایمان لانے سے دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں اور یہ لوگ ان باتوں سے اپنے ہی کو ہلاک کر رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کو اپنی تباہی کا شعور

-26 اور یہ منکر امر حق پر ایمان لانے سے اور قرآن کریم کو ماننے سے دوسروں کو بھی روکتے اور منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں اور یہ لوگ ان حرکات سے اپنے آپ کو ہی تباہ اور ہلاک کر رہے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اپنی تباہی اور بربادی کا شعور اور احساس تک نہیں ہے۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

بھی نہیں اور اے پیغمبر کاش آپ ان کی وہ حالت دیکھ سکتے کہ جب یہ لوگ دوزخ کے کنارے پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش کوئی ایسی صورت ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور ہم ایمان لانیوں میں شامل ہوجائیں

-27 اور اے پیغمبر کاش آپ ان کی وہ حالت دیکھ سکتے جس وقت یہ منکر جہنم کی آگ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گیت و اس وقت کہیں گے ہائے کسی طرح ہم کو دنیا میں پھر واپس بھیج دیا جائے اور دوبارہ واپس ہونے کے بعد ہم اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور ہم ایمان لانے والوں میں شامل ہوجائیں۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

اصل واقعہ یہ ہے کہ جن باتوں کو وہ اس سے پہلے چھپایا کرتے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہوگئیں اور اگر ان کو پھر واپس بھی بھیج دیا جائے تو یہ پھر وہی کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقینا وہ جھوٹے ہیں

-28 درحقیقت یہ تمنا محض الئے کریں گے کہ جن حقائق کو وہ اب سے پہلے چھپایا کرتے تھے اور جن باتوں کا انکار کیا کرتے تھے وہ سب باتیں ان پر کھل گئیں اور ظاہر ہوگئیں اور اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں واپس بھی بھیج دیا جائے تو یہ پھر وہی کام کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور منع کیا گیا تھا اور یقین جانو یہ بالکل جھوٹے ہیں۔
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے

-29 اور یہ منکر اسلام یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ہے اور ہماری زندگی صرف یہی دنیا کی زندگانی ہے اور اس کے بعد ہم دوبارہ نہیں اٹھائیں جائیں گے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! ﷺ کاش آپ اس وقت کو دیکھ سکتے کہ جب یہ اپنے رب کی پیشی میں کھڑے کئے جائیں گے تو ان سے اللہ پوچھے گا کیا یہ وہ دوبارہ زندہ ہونا امر واقعی نہیں ہے وہ کہیں گے قسم ہمارے رب کی یہ ضرور امر واقعی ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اب تم اس کفر کے سبب جو تم کیا کرتے تھے عذاب کا مزہ چکھو ۔

-30 اور اے پیغمبر کاش آپ اس وقت کو دیکھ سکتے جب یہ دوبارہ زندہ ہونے کے منکر اپنے پروردگار کے حضور کھڑے کئے جائیں گے اور وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ دوسری زندی اور دوبارہ زندہ ہونا حق اور امر واقعی نہیں ہے ؟ وہ منکر جواب دیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم یہ زندگی ضرور حق اور امر واقعی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو اب تم اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے اس کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

یقینا ان لوگوں نے سخت خسارہ اٹھایا جنہوں نے اللہ کے روبرو پیش ہونے کی تکذیب کی یہاں تک کہ جب ان پر اچانک وہ گھڑی آپہنچے گی تو یوں کہیں گے ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو ہم سے اس دن کے بارے میں ہوئی اور ان کی حالت اس وقت یہ ہوگی کہ وہ اپنی پیٹھوں پر بارگراں اٹھائے ہوئے ہوں گے آگاہ ہو وہ بوجھ بہت ہی برا ہے

-31 یقینا وہ لوگ سخت گھاٹے اور نقصان میں پڑگئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو جھٹلایا اور اس کے روبرو پیش ہونے کی تکذیب کی یہاں تک کہ جب ان پر وہ سخت گھڑی اچانک آجائے گی اور قیامت ان پر پہونچ جائے گی تو حسرت ویاس کے عالم میں بجائے تکذیب کے یوں کہیں گے ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو ہم سے اس قیامت کے بارے میں سر زد ہوئی اور ان کی حالت اس وقت یہ ہوگی کہ وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے اپنے اعمال کا بوجھ اور بارگراں اٹھائے ہوئے ہوں گے خبردار ہو جائو اور سن لو جو بوجھ یہ اٹھائے ہوئے ہوں گے وہ بہت برا بوجھ ہے۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

جو یہ اٹھائیں گے اور دنیا کی زندگی تو تجھ بھی نہیں محض ایک کھیل اور تماشا ہے اور یقینا آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لئے بہتر ہے جو متقی ہیں کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

-32 اور دنیا کی زندگی تو محض ایک کھیل اور مشغلہ ہے اور البتہ آخرت کا گھر یقینا ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جوم حتاط متقی و پرہیز گار ہیں تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے یعنی جو شرک اور معاصی سے بچتے ہیں ان کے لئے آخرت کا گھر بہتر ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم خوب جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں آپ کے لئے رنج دہ ہوتی ہیں سو یہ لوگ حقیقتاً آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ ظالم تو خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

-33 اے پیغمبر ہم کو خوب معلوم ہے اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ منکر جو کچھ کہتے ہیں اور جو دل آزار باتیں یہ کرتے ہیں وہ باتیں آپ کے لئے رنجیدہ ہوتی ہیں اور وہ باتیں آپ کو آزردہ خاطر کرتی ہیں سو وہ منکر درحقیقت آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ ظالم تو براہ راست آیات الٰہی کا انکار کرتے ہیں یعنی ان کا مقصد ا صلی اللہ کی آیتوں کی تکذیب اور ان کا انکار ہے۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی تکذیب کا برتائو کیا جا چکا ہے پھر ان رسولوں نے ان منکرین کی تکذیب اور ایذا رسانی پر صبر کیا یہاں تک کہ ہماری مدد پہونچ گئی اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور گزشتہ رسولوں کے بعض حالات آپ تک پہونچ بھی چکے ہیں۔

-34 اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کی بھی تکذیب کی جا چکی ہے اور ان رسولوں کے ساتھ بھی تکذیب کا برتائو ہوچکا ہے پھر ان سابقہ رسولوں نے ان منکرین کے جھٹلانے اور ایذائیں پہنچانے پر صبر کیا اور ان منکرین کی تکذیب اور ایذا پر سہارا اور برداشت سے کاملیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور یقینا ان گذشتہ رسولوں کے بعض حالات آپ تک پہونچ بھی چکے ہیں۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر آپ پر ان لوگوں کی روگردانی گراں گزرتی ہے تو اچھا اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان کے لئے کوئی سیڑھی تلاش کر کے ان کو ان کی منہ مانگی نشانی لا دیں تو لے آئیے اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ان سب کو راہ راست پر جمع کردیتا لہٰذا آپ ہرگز نادانوں میں سے نہ ہوں

-35 اے پیغمبر ! اگر آپ پر ان لوگوں کا اعراض اور روگردانی اور دین حق سے منہ پھیر ناگراں اور شاق گذرتا ہے تو اچھا اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ زمین میں کوئی سرنگ لگا دیں یا آسمان کے لئے کوئی سیڑھی ڈھونڈ لائیں اور ان کو ان کے منہ مانگے معجزے اور ان کی حسب خواہش ان کو نشان لا دکھائیں تو کر لیجیے اور یہ بھی کر دیکھیے یعنی ہم تو ایسا کریں گے نہیں آپ کو ان کے اسلام کے ساتھ والہانہ شغفت ہے تو آپ کر لیجیے اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ ان سب کو ہدایت اور سیدھی راہ پر جمع کردیتا اور جب ان کا ایمان لانا ہماری مشیت اور ان کی سعادت ازلی پر موقف ہے تو آپ خواہ مخاہ ان کی خواہشات کو پورا کرنے کی فکر کرکے نادانوں میں سے نہ ہوں اور ہرگز نادان بن کر نادانوں میں شامل نہ ہوں۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

آپ کی دعوت کو تو بس وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ جو مردے ہیں ان کو اللہ زندہ کر کے اٹھائیگا پھر وہ اسی کی طرف واپس لائے جائیں گے

-36 دعوت حق اور دعوت الٰہی کو تو بس وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو دل سے سنتے اور سننے کی صحیح صلاحیت رکھتے ہیں اور جو مردے ہیں اور جن کے دل مرچکے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے گا پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اسی کی طرف واپس کئے جائیں گے یعنی جن میں صلاحیت ہے وہی دین حق کو قبول کرتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ ایسے ہی جیسے مردے کو اللہ تعالیٰ ان کو قیامت میں ہی اٹھائے گا اور وہ ان سے حساب لے گا اور ان کے کئے کی سزا دے گا۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور یہ منکر کہتے ہیں اس رسول پر اس کے رب کی طرف سے ہماری حسب فرمائش کوئی نشانی کیوں نہیں نازل کی گئی آپ فرما دیجیے بیشک اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ منہ مانگی نشانی نازل کر دے لیکن ان میں سے اکثر اس کے نتائج سے واقف نہیں ہیں

-37 اور یہ منکر کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے ہماری حسب خواہش کوئی منہ مانگی نشانی اور معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اور تمہاری فرماش کے موافق نشانی نازل کر دے لیکن ان میں سے اکثر اس کے نتائج سے واقف نہیں ہیں یعنی یہ اس بات کو نہیں جانتے کہ فرمائشی نشان کے بعد ایمان نہ لانے سے ہلاکت اور عذاب استیصال ہیں مبتلا ہوجاتے ہیں جیسا کہ ثمود کے ساتھ ہوچکا ہے۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور جتنے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے پرندے اپنے دونوں بازوئوں سے اڑانیوالے ہیں یہ سب کے سب بھی تمہاری طرح مخلوق کی مختلف جماعتیں ہیں ہم نے کسی چیز کے لکھ رکھتے ہیں فروگذاشت نہیں کی پھر یہ سب کے سب اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے

-38 اور جتنے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے پرندے اپنے دونوں بازوئوں سے اڑنے والے ہیں یہ سب کے سب بھی تمہاری طرح مخلوق کی مختلف جماعتیں ہیں یعنی ان کے احوال اور ارزاق بھی اسی طرح مقدر ہیں جس طرح تمہارے ارزاق وغیرہ مقدر ہیں اور یہ سب بھی تمہاری طرح جمع کئے جائں گے اور یہ محشور ہوں گے ہم نے کسی چیز کے لکھنے میں فرو گذاشت نہیں کی یعنی لوح محفوظ کے دفتر میں سب کچھ لکھ رکھا ہے یا قرآن میں ہر چیز کا اجمالاً ذکر کردیا ہے اور اس میں کوئی کوتاہی اور فروگذاشت ہم نے نہیں کی پھر یہ سب کے سب اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے یعنی تمام مخلوق خدا تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں جمع کی جائے گی۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ تو بہرے اور گونگے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ مختلف قسم کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں خدا جس کو چاہے بےراہ کر دے اور جس کو چاہے آئے راہ راست پر لگا دے

-39 اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں وہ تو ایسے ہیں جیسے بہرے اور گونگے مختلف قسم کی تاریکیوں اور اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں یعنی نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ حق کہتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ اندھیروں میں گرفتار اور گوناگوں تاریکیوں میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ جس کو چاہے راہ راست سے دور پھینک دے اور بےراہ رکھے اور جس کو چاہے راہ راست پر ڈال دے اور راہ راست پر قائم رکھے۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

آپ ان سے فرمائیے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب آجائے یا تم پر وہ آخری گھڑی آجائے تو کیا تم خدا کے سوا کسی اور پکارو گے ! اگر تم سچے ہو

-40 آپ ان سے فرمائیے بھلا مجھ کو یہ بتو بتائو اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب آجائے یا تم وہ ٓخری گھڑی یعنی قیامت آ جائیتو کیا تم پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارو گے بتلائو اگر تم سچے ہو۔