6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ تم تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنے لگو گے جیسا کہ تمہارا روز مرہ کا معمول ہے پھر جس مصیبت کے لئے اس کو پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے تو ایسے حالات میں تم ان سب کو بھول جاتے ہو جن کو تم خدا کا شریک

-41 بلکہ تم تو اپنی عادت کے موافق صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو گے جیسا کہ روزہمرہ کسی بڑی اور اہم مصیبت کے موقعہ پر اسی کو پکارا کرتے ہو پھر جس مصیبت کے لئے اس کو پکارتے ہو اگر وہ چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور ایسے موقعہ پر ان سب کو بھول جاتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے ہو اور جن کو خدا کا شریک قرار دیتے ہو یعنی عذاب آجائے یا قیامت تو پھر کس کو پکارو گے کیا ایسے خطرناک موقعہ پر اپنے دیوتائوں کو پکارو گے نہیں بلکہ خدا ہی کو پکارو گے جیسا روزمرہ کشتی وغیرہ میں خالص خدا کو پکارا کرتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس طوفان وغیرہ کی مصیبت کو تم سے دور کردیتا ہے اور ایسے نازک وقت میں ان سب دیوتائوں کو بھول جاتے ہو لہٰذا ہر وقت اسی کو پکارا کرو اور یہ غیر اللہ کو نظر انداز کردو۔
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

قرار دیا کرتے ہو اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلی قوموں کی طرف بھی پیغامبر بھیجے تھے پھر ہم نے ان قوموں کو تنگدستی اور بیماری میں مبتلا کیا تاکہ وہ زاری اور عاجزی اختیار کریں

-42 اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سی قوموں کی طرف جو آپ سے پہلے ہو گذری ہیں رسول بھیجے تھے پھر ان قوموں نے پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اس تکذیب کے باعث مختلئف مصائب و آلام میں مبتلا کیا اور ان کو فقر و تنگ دستی اور بیماریوں میں ڈالا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کریں اور خدا کے روبرو عاجزی اور نیاز مندی کا اظہار کریں۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر جب ن پر ہمارا عذاب پہنچا تو وہ ہمارے سامنے کیوں نہ گڑ گڑائے لیکن بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوچکے تھے اور شیطان نے ان کے برے اعمال بھلے کر دکھائے تھے

-43 سو جب ان کو ہمارا عذاب پہونچا تو وہ کیوں نہی جھکے اور انہوں نے عاجزی اور نیاز مندی کی روش کیوں نہ اختیار کی لیکن بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل سخت ہوچکے تھے اور وہ اپنی سختی پر قائم رہے اور شیطان ان کے سابقہ برے اعمال کو ان کے سامنے بنا سنوار کر دکھلاتا رہا یعنی عاجزی اور نیاز مندی کی راہ اختیار کرنے اور پیغمبروں پر ایمان لانے سے ان کے دلوں کی خشکی اور سختی مانع ہوئی نیز یہ کہ ان کے برے اعمال شیطان نے خوش منظر بناکر ان کو دکھلائے اور اپنے کافرانہ طریقہ کو اچھا سمجھ کر اسی پر قائم رہے۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی بالکل فراموش ہی کردیا تو ہم نے ان پر ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش اور مگن ہو گئیتو ہم نے ان کو بیخبر اچانک پکڑ لیا پھر وہ ناامید ہو کر رہ گئے ۔

-44 پھر جب ان لوگوں نے تمام نصیحتوں کو جو پیغمبروں کی جانب سے ان کو کو کی جاتی ھتیں بالکل ہی فراموش کردیا اور اپنی ہٹ دھرمی کے باعث انبیاء کی نصائح کو نظر انداز کرتے رہے تو ہم نے ان پر ہر قسم کے عیش و عشرت کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی ان پر فراوانی اور بہتایت کردی گئی یہاں تک کہ جب وہ اس سامان عیش و طرب پر جوان کو دیا گیا تھا خوب مگن ہوگئے اور اترا گئے اور خوشایں منانے لگے تو ہم نے اچانک ان کو پکڑ لیا اور سخت عذاب میں مبتلا کردیا پھر تب ہی وہ مایوس اور بےآس ہو کر رہ گئے یعنی ابتداء تھوڑی سی تنبیہہ کی گئی جب باز نہ آئے تو بھلا وا دیکر سامان عیش کی فراوانی کردی گئی پھر جب خوب گناہوں میں غرق ہوگئے تو اچانک اور دفعتہ بیخبر پکڑے گئے۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پھر ان ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام کائنات کا پروردگار ہے۔

-45 اور یہ گرفت ایسی ہوئی کہ اس کے بعد ان ظالم اور ناانصاف لوگوں کی جڑ ہی کاٹ دی گئی اور اس اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام کائنات اور تمام مخلوقات کا پروردگار ہے یعنی سب ہلاک کردیئے گئے۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

ان سے فرمائیے ذرا یہ تو بتائو اگر اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت اور تمہاری بصارت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود ہے جو یہ چیزیں تم کو دوبارہ دیدے آپ دیکھیے تو ہم کس طرح مختلف پہلوئوں سے دلائل بیان کرتے ہیں اس پر بھی یہ لوگ اعراض کئے جاتے ہیں

-46 اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے بھلا یہ تو بتائو اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کانوں کی سماعت اور آنکھوں کی بینائی تم سے سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے یعنی نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود ہے جو یہ چیزیں تم کو واپس لا دے اور یہ چیزیں تم کو پھیر دے آپ دیکھیے ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنے دلائل بیان کرتے ہیں اور اس پر بھی یہ لوگ اعراض اور روگردانی کئے جاتے ہیں۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

آپ ان سے فرمائیے ذرا سو جو تو کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے خواہ اچانکا ٓئے یا اطلاع دے کر تو کیا سوائے ظالم لوگوں کے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا

-47 آپ ان سے فرمائیے ذرا یہ تو بتائو اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے خواہ وہ عذاب غفلت اور بیخبر ی میں آجائے جیسا کہ رات کو آجائے یا کھلم کھلا باخبر کے ساتھ آجائے تو کیا سوائے ظالم اور منکروں سے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا یعنی ہلاک تو بہر حال منکر ہی ہوں گے لہٰذا کفر و انکار سے باز آ جائو۔
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لئے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو کوئی ایمان لے آئے اور اپنی اصلاح کرے تو ان پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

-48 اور ہم پیغمبروں کو محض اس لئے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ فرماں برداروں اور اطاعت گذاروں کو رضائے الٰہی کی بشارتدیں اور نافرمانوں اور منکرین دعوت حق کو غضب خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ڈرائیں پھر اس کے بعد جو شخص ایمان لے آئے اور پیغمبر کی بات مان لے اور اپنے اعتقاد و عمل درست کرے اور سنوار لے تو ایسے لوگوں ک و قیامت کے دن نہ کسی قسم کا خوف و ہراس ہوگا اور نہ وہ مغموم ہوں گے اور نہ آزردہ ہوں گے۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کریں گے ان کو ان کی نافرمانیوں کے باعث عذاب لپٹ کر رہے گا۔

-49 اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور تکذیب کی خواختیار کریں گے تو ان کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب لپٹ کر رہے گا اور وہ عذاب کی لپیٹ میں ضرور آ کر رہیں گے۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزنے ہیں اور نہ میں اس امر کا مدعی ہوں کہ میں تمام غیب کی باتوں کا علم رکھتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے آپ کہہ دیجیے کہیں اندھا اور دیکھنے والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں کیا تم اتنا بھی نہیں سوچتے۔

-50 جب یہ بات صاف ہوگئی کہ آپ کا کام خوشی اور ڈر سنانا ہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے قبضہ میں مقدورات الٰہی کے خزانے ہیں اور نہ میں اس امر کا مدعی ہوں کہ تمام مغیبات الٰہیہ کو میں جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور تمام حوائج بشریہ سے پاک ہوں میں تو ایک رسول ہوں اور صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے آپ فرما دیجیے کہیں نا بینا اور بینا دونوں برابر ہوسکتے ہیں کیا تم اتنا نہیں سمجھتے اور صحیح نظر و فکر سے کام نہیں لیتے یعنی جو حق سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کرلے وہ اندھا اور جو عقل و نظر سے کام لے کر حق کو مان لے وہ بینا۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ اس قرآن کے ذریعہ سے ان لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے خائف ہیں کہ وہ اپنے رب کے روبرو اس حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارشی تاکہ یہ لوگ پرہیز کریں۔

-51 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے روبرو اس حال میں جمع کئے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارش … کرنے والا ہوگا اس قرآن کے ذریعہ سے ایسے لوگوں کو ڈراتے رہا کیجیے تاکہ وہ عذاب الٰہی سے ڈریں اور پرہیز کریں یعنی قیامت پر ایمان رکھتے ہوں تو گناہوں سے بچیں اور اگر محض گمان و خیال رکھتے ہوں تو کفر سے بچیں کیونکہ اس دن سوائے اذ الٰہی کے کوئی نہ کسی کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی کسی کا سفارشی بنے گا۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کی یاد صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی چاہتے ہیں آپ ان کو اپنے سے علیحدہ نہ کیجیے نہ تو ان لوگوں کے حساب کی کوئی جواب دہی آپ پر ہے اور نہ آپ کے حساب کی کوئی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے۔ کہیں آپ ان مخلصین کو اپنے پاس سے ہٹا دیں اور آپ بھی نا انصافوں میں سے ہوجائیں۔

-52 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اپنے رب کی یاد کرتے ہیں اور اس ذکر الٰہی اور پکار سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی خوشنودی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو آپ اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے اور ایسے مخلصین کو روسائے قریش کے کہنے سے ہٹایئے نہیں اور آپ … ان کو اپنے سے علیحدہ نہ کیجیے ان لوگوں کے حساب کی جواب دہی آپ کے ذمہ پر نہیں ہے اور نہ آپ کے حساب کی کوئی ذمہ داری ان پر ہے یعنی جو فقراء اور مخلصین خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہمیشہ عبادت کرتے ہیں اور جن کی تفتیش و تحقیق کی ذمہ داری پر نہیں اور نہ آپ کے ذمہ داری ان پر ہے ایسے لوگوں کو محض سرمایہ داروں کی رعایت سے ہٹانا نہیں چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ان مخلصین کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تو اے پیغمبر آپ ان کو اپنی مجلس سے نہ ہٹائیے ور نہ آپ نا انصافوں اور نامناسب کام کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے یعنی اگر ایسا کیا کہ ان مخلصین کو روسائے قریش کی خاطر ہٹایا تو آپ بےانصاف قرار پائیں گے۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح بعض انسانوں کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے ات کہ وہ کافروں کہیں کیا یہی کم درجہ کے لوگ اس قابل تھے کہ خدا نے ہم سب میں سے انہی پر اپنا احسان کیا ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اللہ اپنے شکر گذار بندوں کو خوب جانتا ہے۔

-53 اور جس طرح ہم نے مئومنین کا ملین کو تنگدستی میں اور منکرین کو فراخی میں رکھا ہے اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو بعض کے لئے ذریعہ آزمائش بنادیا ہے اور بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے یعنی مسلمانوں کو کفار کی وجہ سے اور کفار کو مئومنین کی وجہ سے ایک آزمائش اور ابتلا میں ڈال ہے تاکہ یہ منکر سرمایہ داران مسلمان فقراء کے متعلق یوں کہیں کیا یہی کم مایہ اور بےحقیقت لوگ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ہم سب میں سے اپنے فضل و احسان کے لئے چن لیا یعنی کیا ہم سب میں یہی فقراء اس قابل تھے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا اور اپنے فضل سے نوازا اور ہم سب کو نظر انداز کردیا کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے شکر گذار بندوں اور حق شناسوں کو خوب جانتا ہے یعنی کون احسان اور فضل کا مستحق ہے اور کون نہیں ہے۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

جب وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں آپ کے پاس آئیں تو ان کو سلامتی کا پیغام دیکر فرما دیجیے کہ تمہارے رب نے رحم و کرم کا برتائو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے وہ یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص نادانی سے کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھے پھر وہ اس برائی کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔

-54 اور اے پیغمبر جب یہ لوگ جو ہماری آیتوں پر کامل طور پر ایمان رک تھے ہیں آپ کے پاس آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو ان ک ہماری جانب سے سلامتی کا پیام پہونچا دیجیے اور ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے پروردگار نے رحمت و فضل کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور رحم و کرم کا برتائو اختیار کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص تم میں سے جہالت و نادانی کی حالت میں کوئی برا عمل کر بیٹھے اور کسی برے کام کا مرتکب ہوجائے پھر وہ اس برے عمل کے بعد توبہ کرے لے اور اپنی اصلاح کرلے اور اپنے کو درست کرلے تو اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے یعنی توبہ کے وقت ترک گناہ کا عزم ہو خواہ بدقسمتی سے پھر برائی کا ارتکاب ہ جائے اور توبہ ٹوٹ جائے تب بھی اس کی مغفرت اور رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہئے بلکہ پھر فوراً توبہ کر لینی چاہئے۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو مفصل بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ سمجھیں اور نیز اس لئے تاکہ گناہ گاروں کی راہ سب پر واضح ہوجائے

-55 اور جس طرح ہم نے یہاں فقراء اور مئومنین اور روسائے منکرین کا حال بیان کیا ہے اسی طرح ہم اپنے دلائل اور اپنی آیات تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ کامل مومنین کا طریقہ بھی معلوم ہوجائے اور تاکہ گناہگاروں اور مجرموں کا راستہ بھی سب پر آشکارا اور واضح ہوجائے۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

آپ کفار سے کہہ دیجیے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے ہو ان کی عبادت سے مجھ کو منع کیا گیا ہے آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا کیونکہ میں نے اگر ایسا کیا تو گمراہ ہو جائوں گا اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل نہ رہوں گا۔

-56 اے پیغمبر آپ کفار سے کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان معبود ان باطلہ کی عبادت کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ اے پیغمبر ! آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں تمہاری اس قسم کی خواہشات فاسدہ کی اور تمہارے باطل خیالات کی پیروی اور اتباع نہیں کروں گا کیونکہ اگر میں نے ایسا کیا تو میں بےراہ اور گم کردہ راہ ہو جائوں گا اور میں ہدایت یافتہ اور صحیح راہ چلنے والے لوگوں میں شامل نہ رہوں گا۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب کی ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو ! جس چیز کو تم جلدی چاہتے ہو وہ میرے بس میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا وہ حق بات بیان کردیتا ہے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنیوالا ہے۔

-57 آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب کی بھیجی ہوئی ایک روشن دلیل اور حجت پر قائم ہوں یعنی قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کی وحی اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو اور اس کو جھوٹا بتاتے ہو اور مجھ سے بار بار عذاب کا تقاضا کرتے ہو کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لائو جس چیز کی تم جلدی کرتے ہو اور مجھ پر تقاضا کرتے ہو وہ میرے بس اور میری قدرت میں نہیں ہے اصل حکم تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا اور جب تک اس کا حکم نہیں ہو میں عذاب کس طرح اور کہاں سے لاسکتا ہوں وہی حق بات اور امر واقعی کو بنا دیتا ہے اور وہی فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے الا ہے یعنی تمہارے عذاب کا فیصلہ بھی اسی کے اختیار میں ہے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہیں وہ چیز میرے اختیار کیا ہوتی جس چیز کی تم جلدی کر رہے ہو تو میرے اور تمہارے مابین کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور ظالموں کا حال اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے۔

-58 آپ ان سے کہہ دیجیے اگر کہیں وہ چیز جس کی تم جلدی کیا کرتے ہو میرے اختیار میں ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور میرا تمہارا قصہ کبھی کا ختم ہوچکا ہوتا اور ظالموں کے احوال تو اللہ تعالیٰ ہی خوب جاتا ہے ینی میں نہیں کہہ سکتا کہ تم کو مہلت دینے میں اس کی کیا مصلحت ہے ۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور غیب کے تمام خزانے خدا ہی کے پاس ہیں اور خزانوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کو جانتا ہے اور درخت سے کوئی پتہ گرنے والا ایسا نہیں جس کو وہ نہ جانتا ہو اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں پڑتا اور کوئی خشک و تر چیز نہیں گرتی مگر یہ کہ وہ کتاب واضح میں لکھی ہوئی ہے

-59 اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس تمام اشیائے مخفیہ کے خزانے ہیں اور ان اشیائے مخفیہ کے خزانوں کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا یعنی جملہ اشیائے ممکنہ کے خزانوں کا بھی وہی مالک ہے اور ان جملہ اشیاء کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور وہ ان تمام اشیاء کو بھی جانتا ہے جن کو خشکی اور تری کے دونوں دامن سمیٹے ہوئے ہیں یعنی خشکی اور تری کی ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی پتہ تک درخت سے نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں پڑتا مگر یہ کہ وہ اس کو بھی جانتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز گرتی ہے مگر یہ کہ وہ کتاب واضح ینی لوح محفوظ میں موجود و مرقوم ہے یعنی خزانہ ہائے غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور ان خزانہ ہائے مغیبات کا علم سوائے اس کے کسی کو نہیں اور تری اور خشکی کی تمام اشیاء کا علم بھی اسی کو ہے خواہ کوئی چیز بیاباں میں ہو یا دریا میں اور سمندروں میں ہو درخت سے کوئی پتہ تک نہیں گرتا اور زمین کے اندر کوئی بیج نہیں پڑتا مگر اس سب کو بھی جانتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز لوح محفوظ میں مرقوم اور مکتوب ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہ خدا ہی تو ہے جو رات میں تم کو سلا دیتا ہے اور جو کچھ تم دن کو کرچکے ہو اس ک جانتا ہے پھر تم کو دن میں جگا اٹھاتا ہے تاکہ زندگی کی مدت معینہ پوری کی جائے آخر کار تم سب کو اسی کی طرف واپس جانا ہے پھر وہ تم کو ان اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دے گا جو تم کیا کرتے تھے

-60 اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو رات میں تم کو سلا دیتا ہے اور تمہاری روح نفسانی کو معطل کردیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کیا کرتے ہو وہ اس کو جانتا ہے پھر وہ تم کو دن میں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ مقررہ مدت حیات پوری کردی جائے پھر تم سب کی بازگشت اور واپسی اسی کی طرف ہے پھر وہ تم کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دے گا اور تم کو بتادے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجاتی ہے تو اس کی جان ہمارے دوسرے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے

-61 اور وہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے پوری طرح غالب ہے اور وہ تمہاری نگہداشت کرنے کو تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے وہ فرشتے جو اس کام کے لئے مقرر ہیں اس شخص کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے یعنی روح قبض کرنے کے متعلق ان کو جو حکم ہوتا ہے اس کی بجا آوری میں ان سے کوتاہی سر زد نہیں ہوتی۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے خوب سن لو فیصلہ اسی کا ہے اور وہ سب حساب کرنے والوں سے جلدی حساب کرنے والا ہے ۔

-62 پھر مرنے کے بعد یہ مرنے والے اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے یعنی آخرت میں مولائے حقیقی کے روبرو پیش کئے جائیں گے آگاہ رہو اور خوب سن لو اس دن حکم اسی کا ہے اور تمام حساب کرنے والوں سے بہت جلد حساب کرنے والا ہے یعنی آخرت میں اس کے حکم میں کسی کو دخل نہیں ہوگا اور وہ بیشمار مخلوق کا حساب بہت جلد کر دے گا۔
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے وہ کون ہے جو تم کو جنگل اور دریا کی تاریکیوں سے بچا لاتا ہے جس کو تم گڑگڑا کر اور چپکے چپکی پکارا کرتے ہو اگر وہ ہم کو اس بلا سے نجات دیدے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔

-63 اے پیغمبر آپ ان سے پوچھئے بھلا وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کی تاریکیوں سے بچا کر نکال لاتا ہے جس کو تم انتہائی گڑ گڑا کر کبھی پکارتے ہو اور کبھی چپکے چپکے پکار کر یوں کہا کرتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اس بلا سے نجات دیدے تو ہم یقینا اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے اور آئندہ ہمیشہ اس کا حق مانیں گے یعنی کبھی جنگل میں تاریک آندھی آگئی یا سمندر کے طوفان میں گھر گئے تو اس وقت گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہو تو اس مصیبت سے تم کو کون نجات دیتا ہے۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی تم کو ان تاریکیوں سے بلکہ ہر بےچینی سے نجات دیتا ہے مگر تم پھر شرک کرنے لگتے ہو۔

-64 ظاہر ہے کہ اس کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ہی نجات دیتا ہے اس لئے آپ اے پیغمبر خود ہی فرما دیجیے کہ اللہ ہی ان تاریکیوں سے تم کو نجات دیتا ہے بلکہ وہ تم کو ہر غم اور بےچینی سے نجات بخشتا ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم نجات پانے کے بعد پھر حق تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہو۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

۔ آپ فرما دیجیے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا کوئی عذاب تمہارے پائوں کے نیچے سے برپا کر دے یا تم کو کئی فرقے کر کے آپس میں بھڑا دے اور تم میں سے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے اور پیغمبر ذرا دیکھیے تو ہم کس طرح مختلف پہلوئوں سے دلائل کا اظہار کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ لیں ۔

-65 چونکہ یہ لوگ صرف پانی کے طوفان اور جنگل کی آندھی کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سمجھتے ہیں اس لئے آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ اللہ اس پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر مسلط کر دے جیسے پتھرائو یا طوفانی بارش یا زلزلہ یا زمین می دھنس جانا وغیرہ اور وہ اللہ تعالیٰ یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم کو کئی فرقے اور کئی گروہ بنا دے اور باہمی اختلاف کے باعث تم کو آپس میں ہی بھڑا دے اور تم کو باہمی جنگ میں مبتلا کر کے ایک دوسرے کو لڑائی کا مزہ چکھا دے یعنی تم میں پھوٹ پڑجائے اور تم آپس میں ایک دوسرے سے لڑ مرو اے پیغمبر آپ ذرا دیکھیے تو ہم کس طرح مختلف پہلوئوں سے اپنے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں یعنی کبھی وعد اور کبھی وعید کا اظہار کرتے ہیں اور مختلف وجوہ سے ان کو سمجھایا جاتا ہے۔
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور آپ کی قوم اس عذاب کی تکذیب کرتی ہے حالانکہ وہ ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے آپ کہہ دیجیے میں تم پر کوئی مختار کار نہیں ہوں ۔

-66 اور آپ کی قوم اس عذاب کی یا اس قرآن کریم کی تکذیب کرتی ہے حالانکہ یہ ایک غیر مشتبہ حقیقت اور ایک امر حق اور سچی بات ہے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم پر کوئی مختار کار اور اجارہ دار بن کر نہیں آیا ہوں۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب ہی معلوم ہوجائے گا۔

-67 ہر خبر کی تصدیقف اور ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک مقرر وقت ہے اور عنقریب ہی تم کو تھوڑے دن میں میرے کہے کی حقیقت معلوم ہو جائیگی۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور اے مخاطب جب تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں بےہودہ لفظ چینی کر رہے ہوں تو تو ان لوگو سے کنارہ کش رہ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں بحث شروع کردیں اور اگر شیطان تجھ کو کبھی یہ حکم بھلا دے تو یاد آنے پر پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھ

-68 اور اے مخاطب جب تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں عیب جوئی اور بیہودہ نکتہ چینی کر رہے ہوں اور انہوں نے یہ مشغلہ تیار کر رکھا ہو تو ایسے لوگوں سے کنارہ کش رہ اور ان کے پاس سے ٹل جا یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی اتفاقاً ایسی مجلس سے اٹھنا تجھ کو شیطان یہ حکم بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھ یعنی ایسے ظالموں کا ہم صحبت نہ بن اول تو جب اس قسم کی سوقیانہ باتیں شروع ہوں تب ہی وہاں سے ٹل جا اور اگر کبھی شیطان بھلا دے تو یاد آتے ہی اس قسم کے ظالم اور ناسپاس لوگوں کے پاس سے کھڑا ہوجا اور ان کے پاس نہ بیٹھ۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیز گار ہیں ان پر ان نکتہ چینیوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں البتہ پرہیز گاروں کے ذمہ ان کو سمجھانا ہے تاکہ وہ بیہودہ گوئی سے باز رہیں

-69 اور جو لوگ محتاط اور پرہیز گار ہیں ان پر اس قسم کے عیب جو اور نکتہ چینیوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے البتہ ان محتاط لوگوں کے ذمہ ان بدقماش لوگوں کو نصیحت کرنا اور سمجھانا ہے تاکہ اس قسم کے طعن وتشنیع اور لغو نکتہ چینی سے باز آجائیں یعنی ہرچند کہ ایمان داروں پر کوئی ذمہ داری سوائے نصیحت اور سجھانے کی نہیں ہے اور وہ بھی بشرط قدرت و استطاعت … لیکن پھر بھی ایسی مجالس کی شرکت سے بچنا چاہئے اور گناہگاروں کی مجلس میں جبکہ وہ گناہ کی باتیں کر رہے ہوں خصوصیت کے ساتھ نہیں شریک ہونا چاہئے۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اپنا دین کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ان کی حالت پر چھوڑ دے ہاں ان کو قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتا رہے تاکہ کوئی شخص اپنے کردار کی وجہ سے ہلاکت میں اس طرح نہ پھس جائے کہ اس کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی ہو اور نہ کوئی سفارشی اور اس کی یہ کیفیت ہو کہ اس کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی ہو اور نہ کوئی سفارشی اور اس کی یہ کیفیت ہو کہ اگر وہ ہر ایک چیز اپنے فدیہ میں دیکر رہائی حاصل کرنا چاہے تو بھی اس کی جانب سے وہ فدیہ قبول نہ کیا جائے یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی کمائی کے باعث ہلاکت میں پھنسے رہ گئے ان کے لئے نہایت تیز گرم پانی پینے کو ہوگا اور ان کو اس کفر کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے درد ناک عذاب ہوگا۔

-70 اور اے مخاطب تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا اور لہو و لعب بنا رکھا ہے یعنی ان کا دین ہی یہ ہے کہ امر حق کا مذاقاڑائیں اور اپنی تفریح کا مشعلہ بنائیں اور ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے یعنی دنیوی زندگی کو اصلی زندگی سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کے بعد دوسری زندگی پر ایمان نہیں رکھتے ایسے لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دے مگر ہاں ان کو اس قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتا رہ اور حتی الامکان ان کو سمجھاتا رہ تاکہ کوئی شخص اپنے کردار اور اپنی کمائی اور اپنے اعمال کے باعث ہلاکت و تباہی میں نہ پھنس جائے اور اس طرح ہلاکت کا تابع اور فرمانبردار نہ بن جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا نہ کوئی حمایتی ہو اور نہ اس کے لئے کوء سفارش کرنے والا ہو اور اس کی یہ حالت ہوجائے کہ اگر وہ ہر چیز اپنے فدیہ میں دے کر عذاب اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے رہائی حاصل کرنا چاہے تب بھی اس کی جانب سے کوئی فدیہ اور کو ئیم عاوضہ قبول نہ کیا جائے یعنی فی الجملہ قرآنی نصیحت اور تذکیر کچھ نہ کچھ مفید ہی ہوگی اگر نصیحت سے بھی محروم ہوجائیں گے تو بالکل ہی ہلاکت کے تابع فرمان ہوجائیں گے اور پھر یہ صورت پیش آئے گی کہ نہ کوئی حمایتی نہ کوئی سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی معاوضہ اور فدیہ قبول کیا جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال اور اپنی کمائی کے باعث ہلاکت میں پڑگئے ایسے لوگوں کے لئے سخت کھولتا ہوا پانی پینے کو ہوگا اور ان لوگں کو اس کفر کے بدلے جس کے وہ مرتکب ہوا کرتے تھے درد ناک عذاب ہوگا یعنی ایسے لوگوں کے لئی اس کفر و انکار کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور انواع و اقسام کا درد ناک عذاب ہوگا۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ فرمائیے کیا ہم خدا کو چھوڑ کر ان کی عبادت کریں جو ہم کو نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ ہم کو نقصان پہنچا سکیں اور کیا ہم باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو ہدایت سے بہرہ مند کرچکا ہے اپنی ایڑیوں کے بل اکٹھے پھرجائیں اور ہماری ایسی مثال ہوجی سے کسی کو جنات نے جنگل میں راہ سے بےراہ کردیا اور اس کی حالت یہ ہو کہ وہ حیران و سرگرداں مارامارا پھرتا ہو حالانکہ اس کے ساتھی اس کو یہ ہے راستے کی طرف پکار رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ جا آپ ان سے کہہ دیجیے یقین مانو سیدھی راہ تو وہی ہے جو اللہ کی بتائی ہوئی راہ ہے اور ہم کو تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے فرمانبر رہیں

-71 اے پیغمبر آپ ان مشرکین سے فرمائیے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم سب مسلمان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے سوا اور ایسے معبودوں کی عبادت کرنے لگیں جو نہ ہم کو نفع پہنچانے کی کچھ قدرت رکھتے ہیں اور نہ کچھ ہمارا بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہم کو نقصان پہونچانے کی قدرت رکھتے ہیں اور کیا تمہاری خواہش یہ ہے کہ باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت سے نوازا ہے اور وہ ہم کو صحیح راہ دکھا چکا ہے اور ہم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے ہی پائوں پھرجائیں اور ہماری مثال اس شخص کی طرح ہ جائے جیسے کسی کو جنات اور غول بیابانی نے جنگل میں راہ سے بےراہ کردیا ہو اور اس کی یہ حالت ہوجائے کہ وہ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائے حالانکہ کچھ اس کے ساتھی بھی ہوں جو اس کو پکار پکار کر صحیح راستہ کی جانب بلا رہے ہوں کہ آ ہمارے پاس آ جا یعنی خدا کے سوا ان معبودان باطلہ کی عبادت کریں جو عبادت پر نہ کچھ نفع پہنچا سکیں اور نہ ان کی عبادت چھوڑ دینے پر وہ اپنے منکروں کو کوئی نقصان پہنچا سکیں اور کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم پھر مرتد ہو ائیں اور ہماری حالت اس گم کردہ راہ کی سو ہوجائے جو کہیں جنگل میں ہو اور اس کو صحرائی شیاطین اور غول بیانی صحیح راہ سے بےراہ کردیں اور وہ حیرانی و سرگردانی کی حالت میں مارا مارا پھرے اور اس کے ساتھی اس کو پکاریں بھی کہ آ جا ہمارے پاس آ جا بھگٹکتا نہ پھر مگر وہ اور حیرانی و تحیر کی حالت میں کچھ نہ سمجھے اور جانوروں کی طرح صرف آواز سنے اور سن کر سمجھ نہ سکے۔ اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے یقین جانو کہ ہدایت تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت ہو اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی ہی صحیح رہنمائی ہے اور ہم کو تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس پروردگار کے تابع فرمان رہیں جو تمام عالموں کا رب ہے۔
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ تم نماز کی پابندی کرو۔ اور یہ بھی کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور وہی ذات ہے جس کی طرف تم سب سمیٹے جائو گے۔

-72 اور ہم کو یہ بھی حکم کیا گیا ہے کہ تم نماز قائم رکھو اور نماز کی پابندی کرو اور یہ بھی ہم کو حکم کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ وہی ہے جس کے پاس تم قبروں سے نکل کر سب کے سب جمع کئے جائو گے ینی حساب دینے کی غرض سے۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک بنایا اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے تو حشر برپا ہوجائے گا اس کا کہنا حق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن صرف اسی کی سلطنت ہوگی وہ پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے اور وہی ہے بڑی حکمت والا سب سے باخبر

-73 اور اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بنایا اور جس دن اللہ تعالیٰ نے حشر کو فرمائے گا کہ ہوجا اس کے اتنا فرماتے ہی حشر برپا ہوجائے گا اس کا فرمانا حق ہے جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن صرف اسی کی بادشاہت ہوگی وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی ہے بڑی حکمت والا اور پورے خبر رکھنے والا ۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے یقینا میں تجھ کو اور تیری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں

-74 اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے اور ان اصنام کو اپنا معبود ٹھیراتا ہے یقینا میں تجھ کو اور تیری تمام قوم کو جو اس باطل عقیدے کی پیرو ہے صریح گمراہی میں مبتلا سمجھتا ہوں اور صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح ابراہیمکو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ اس کا اطمینان زیادہ ہو اور اس لئے کہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔

-75 اور ہم نے اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات و مملوکات اور بصیرت افروز حقائق دکھائے تاکہ اس کو معرفت کامل طور پر حاصل ہوجائے اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے یعنی معرفت الٰہی تو انہیں پہلے ہی سے حاصل تھی ان کی معرفت کو قوی تر کرنے اور ان کے ایقان کو کامل کرنے کے لئے ہم نے اپنی مخلوقات اور اپنی سلطنت کے عجائبات کی معرفت عطا کی تاکہ ان کو عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوجائے اور وہ راسخین فی الایقان میں شامل ہوجائیں۔
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

چناچہ جب شب کی تاریکی ابراہیم (علیہ السلام) پر چھا گئی تو اس نے ایک تارا دیکھا اس نے کہا یہ میرا رب ہے پھر جب وہ تارا غروب ہوگیا تو ابراہیم نے کہا میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا

-76 لہٰذا جب حضرت ابراہیم علیہالسلام پر رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک تارے کو چمھکتا ہوا دیکھ کر فرمایا کیا تمہارے زعم باطل میں یہ میرا رب ہے ؟…پھر جب وہ غروب ہوگیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور ایک حالت سے دوسری حالت پر منتقل ہوجانے والوں سے محبت نہیں کرتا یعنی سیا رات میں سے کسی ایک ستارے کو خواہ وہ زہر ہ ہو یا مشتری ہو دیکھ کر ایسا فرمایا اور ظاہر ہے کہ جو محل حوادث ہو وہ خود محدث کا محتاج ہوگا اور وہ ربوبیت کے قابل نہ ہوگا۔
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر ابراہیم نے جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے پھر جب وہ غائب ہوگیا تو ابراہیم نے کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو بلاشبہ میں گمراہ لوگوں میں رہ جائوں گا

-77 پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھاتو فرمایا کیا تمہارے زعم باطل اور عقیدہ فاسدہ میں یہ میرا رب ہے ؟ …… پھر جب وہ چاند بھی غروب ہوگیا تو ابراہیم نے کہا اگر میرا پروردگار میری صحیح رہنمائی نہ فرمائے تو میں یقینا گمراہ لوگوں میں سے ہو جائوں اور تمہاری طرح میں بھی گمراہوں میں شامل ہو جائوں یعنی اگر تمہاری طرح میں چاند کو متصرف فی الاحوال مان لوں جیسا کہ تم مانتے ہو تو میں بھی تمہاری طرح گمراہ ہو جائوں۔
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم نے آفتاب کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے یہ تو سب میں بڑا ہے پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو ابراہیم نے کہا اے میری قوم بلاشبہ میں ان چیزوں سے سخت بیزار ہوں جن کو تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو ۔

-78 پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھا تو اس کو چمکتا ہوا دیکھ کر فرمایا گیا یہ تمہارے زعم باطل میں میرا رب ہے یہ تمام اجرام فلکی اور اجرام علوی میں سب سے بڑا بھی ہے پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بلاشبہ میں ان تمام چیزوں سے بیزار اور بری الذمہ ہوں جن کو تم خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو۔
Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنا رخ اسی کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

-79 اچھی طرح جان لو کہ میں تمام ادیان باطلہ اور معبود ان فاسدہ سے یک سو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کرچکا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے یعنی سب سے کٹ کر صرف اسی کا ہوچکا ہوں جس نے آسمان و زمین کو بنایا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں یعنی اجرا م علوی ہوں یا سفلی ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور اس کے حکم کے تابع ہیں اور میں اپنا رخ اس کی جانب متوجہ کرچکا ہوں جو ان سب کا خلاق اور مالک سے تو ایسی حالت میں میرے لئے شرک کی گنجائش کہاں ہے۔
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس کی قوم اس سے کنج بخشی کرنے لگیا براہیم (علیہ السلام) نے کہا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرتے ہو حالانکہ اسنے مجھے سیدھی راہ دکھا رہی ہے اور میں ان چیزوں کی ضرر رسانی سے جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو بالکل نہیں ڈرتا مگر ہاں میرا رب اگر کچھ چاہے اور میرے رب نے از روئے علم ہر چیز کو گھیر رکھا ہے تو کیا تم سوچتے نہیں

-80 اور ان دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کج بحثی اور بےہودہ حجت بازی اور جھگڑنا شروع کردیا یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بتوں سے ڈرایا اور خوف دلایا اور باپ دادا کا نام لے کر اپنے طریقہ کو درست بتایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کے بارے میں تم مجھ سے کج بحثی اور جھگڑا کرتے ہو اور مناظرہ سے شکست کھا کر اب مکابرہ اور مجادلہ پر اتر آئے ہو حالانکہ اس اللہ تعالیٰ نے مجھ کو صحیح طریقہ بتادیا ہے اور میری صحیح رہنمائی فرمائی ہے اور میں ان چیزوں کے ضرر سے بالکل نہیں ڈرتا جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو خواہ وہ بت ہوں یا ستارے میرا یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے مگر ہاں میرا پروردگار اگر کچھ چاہے اور مجھ کو کوی صدمہ پہنچانا چاہیتو وہ پہونچا سکتا ہے اور میرے رب کی وسعت علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے تو کیا تم لوگ کچھ سوچتے سمجھتے نہیں یعنی جس طرح وہ قادر مطلق نفع اور ضرر کا مالک ہے اسی طرح اس کے علم نے بھی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے تمہارے معبود نہ قدرت رکھتے ہیں نہ علم اتنی بات بھی خیال نہیں کرتے کہ ڈرنے اور خوف کھانے کے لائق کون ہے۔