6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور جن چیزوں کو تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے بھلا میں ان سے کیونکہ ڈر سکتا ہوں حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے ان چیزوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے جن کے شریک بنانے پر خدا نے تم پر کو ئیدلیل نہیں اتاری اب ان دونوں فریق میں سے کونسا امن و اطمینان کا زیادہ حق دار ہے جواب دو اگر تم کچھ جانتے ہو

-81 اور جن چیزوں کو تم نے خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان معبودان باطلہ سے میں کس طرح ڈر سکتا ہوں حالانکہ تم کو اس بات سے ڈر نہیں معلوم ہوتا اور تم خوف نہیں کھاتے کہ تم نے ان چیزوں خدا کا شریک قرار دے رکھا ہے جن کے شریک خدائی قرار دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی دلیل اور سند نہیں۔ نازل فرمائی اب تم ہی بتائو کہ ان دونوں فریق میں سے یعنی مشرک اور موحد میں سے کون سا فریق امن و اطمینان کا زیادہ حقدار اور مستحق ہے اگر تم کچھ جانتے ہو یعنی اگر استدلال توحید اور ابطال شرک کے دلائل سے کچھ سمجھے ہو تو بتائو کہ محتاج اور بیخبر معبودوں کے پرستار زیادہ مطمئن ہیں یا اس قادر مطلق اور عالم کل کے پرستش کرنے والے زیادہ امن و اطمینان کے مستحق ہیں۔
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کی آمیزش نہیں کی تو ایسے ہی لوگ پر اس ہیں اور یہی لوگ راہ یافتہ ہیں

-82 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کی آمیزش نہیں کی اور اپنے ایمان کے ساتھ شرک کو مخلوط نہیں کیا تو یہی لوگ صاحبان امن ہیں اور انہی کے لئے بےخوفی اور دل جمعی ہے اور یہی لوگ راہ یافتہ اور سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں یعنی آخرت میں کوئی خوف و خطر نہیں اور دنیا میں سیدھی راہ اختیار کرنے والے اور صحیح راہ یافتہ ہیں۔
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری وہ دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں بنائی تھی ہم جس کے چاہتے ہیں مرتبے بلند کردیتے ہیں بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے۔

-83 اور توحید باری پر جو حجت اور دلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کی اس کی حالت یہ ہے کہ یہ حجت اور یہ طریقہ استدلال ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا اور سکھایا تھا اور یہ ہماری وہ دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے علم و عمل کے درجے بلند کردیتے ہیں بلاشبہ آپ کا پروردگار کمال حکمت اور کمال علم کا مالک ہے یعنی ہر ایک کی صلاحیت اور استعداد کو جانتا ہے اور اسی کے موافق اس کو علمی اور عملی کمالات سے نوازتا ہے اور اس کے مرتبے بلند وبالا کرتا ہے۔
Ayah 6:84

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحق (علیہ السلام) اور یعقوب علیہ الطلام عطا کئے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت سے نوازا اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت عطا کی تھی اور ہم نے اس کی اولاد میں سے دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی ہدایت عطا کی اور نیک کام کرنے والوں کو ہم اس طرح صلہ دیا کرتے ہیں

-84 اور ہم نے ابراہیم کو بیٹا اسحاق (علیہ السلام) نامی اور پوتا یعقوب (علیہ السلام) نامی عطا فرمائے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہدایت اور توفیق ہدایت عطا کی اور ہم نے اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی ہدایت سے نوازا تھا اور جس طرح ہم نے ان لوگوں پر اپنی نواز فرمائی تھی ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو اپنے صلہ سے نوازا کرتے ہیں اور نکو کاروں کو صلہ دیا کرتے ہیں۔
Ayah 6:85

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور نیز اس کی والاد میں سے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو ہدایت سے نوازا یہ سب کے سب نیک لوگوں میں سے تھے

-85 اور نیز ہم نے اس کی اولاد میں سے زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ ابن مریم اور الیاس کو ہدایت سے نوازا تھا اور ان میں سے ہر ایک شائستہ اور نیک لوگوں میں سے تھا۔
Ayah 6:86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور نیز اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع (علیہ السلام) اور یونس علیہ ال سلام اور لوط (علیہ السلام) کو ہدایت عطا کی اور ان سب کو ہم نے اپنے اپنے زمانہ میں اقوام عالم پھر فضیلت دی تھی

-86 اور نیز ہم نے اس کی اولاد میں سے اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو ہدایت عطا فرمائی تھی اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے زمانے میں اقوام عالم پر فضیلت اورب ڑائی عطا کی تھی۔
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان مذکورہ حضرات کے بعض باپ داداوں کو اور ان کی اولاد میں سے بعض کو اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بعض کو ہدایت عطا فرمائی اور ہم نے ان سب کو برگزیدہ کیا اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔

-87 اور ہم نے ان مذکورہ حضرات کے بعض باپ دادوں کو جیسے حضرت شیث اور حضرت آدم اور حضرت ادریس کو اور اور ان کی اولاد میں سے بھی بعض کو جیسے اولاد یعقوب کو اور ان مذکورہ حضرات کے بھائیوں میں سے بعض کو ہدایت عطا فرمائی تھی ہم نے ان سب کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ اور منتخب فرمایا اور ہم نے دین کی سیدھی راہ کی جانب ان سب کی رہنمائی فرمائی۔
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ ہے اللہ کی ہدایت میں وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس پر چلاتا ہے اور اگر بالفرض یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے وہ سب اعمال جو یہ کیا کرتے تھے

-88 یہ ہدایت و رہنمائی اللہ تعالیٰ کی ہدایت و رہنمائی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جس کی چاہتا ہے اس کی ہدایت کے ساتھ رہنمائی فرماتا ہے اور اگر یہ انبیاء باوجود اپنی علوشان اور مراتب علیا کے خدانخواستہ بالفرض شرک کرتے اور مشرکانہ رویہ اختیار کرتے تو ان کے وہ تمام اعمال صالحہ اور پسندیدہ نیست و نابود ہوجاتے جو یہ کیا کرتے تھے یعنی اگر نیک لوگ بھی شرک کے مرتکب ہوں تو ان کی سب نیکیاں برباد اور اکارت ہوجائیں۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

غارت اور نابود ہوجاتے یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب آسمانی اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی اب اے پیغمبر اگر یہ کافر ان چیزوں کے ماننے سے منکر ہوں تو ہم نے بہت سے ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو ان چیزوں کا انکار کرنے والے نہیں ہیں

-89 یہی وہ حضرات ہیں جن کو ہم نے کتاب آسمانی اور حکمت اور نبوت عطا فرمائی تھی یعنی یہی وہ چیزیں ہیں جو تم کو بھی عطا ہوئی ہیں کچھ نئی باتیں نہیں ہیں پھر اگر یہ لوگ جنہوں نے کافرانہ روش اختیار کر رکھی ہے ان چیزوں پر ایمان لانے کو نہیں مانتے اور ان کے ماننے سے انکار کرتے ہیں تو ہم نے ایسے بہت لوگ مقرر کردیئے ہیں جو ان چیزوں کے منکر نہیں ہیں بلکہ ان پر ایمان رکھتے ہیں یعنی انصار و مہاجرین ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم اور آپ کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اگر یہ منکر انکار کر رہے ہیں تو ان کی پروا نہ کیجیے انصار و مہاجرین ان چیزوں کے منکر نہیں ہیں۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ جملہ ابنیاء وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت کی تھی تو اے پیغمبر آپ بھی ان ہی کی روش پر چلئے آپ کفار سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے قرآن منانے پر کچھ اجرت نہیں مانگتا یہ قرآن تو تمام اقوام عالم کے لئے صرف ایک نصیحت ہے

-90 یہ تمام انبیاء وہ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنی رہنمائی سے بہرہ مند کیا تھا اے پیغمبر ! آپ بھی ان ہی کی ہادیانہ روش پر چلئے اور جس طرح یہ لوگ دین حق کی تبلیغ پر کسی مال و جاہ کے طالب نہیں ہوتے تھے آپ بھی ان منکرین سے کہہ دیجیے کہ میں اس قرآن کریم کی تبلیغ پر تم سے کچھ اجرت اور مزدوری طلب نہیں کرتا یہ قرآن کریم تو جملہ اقوام عالم کے لئے صرف ایک پندو نصیحت ہے۔
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور منکروں نے اللہ کی وہ قدر نہ پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا جبکہ انہوں نے یوں کہا کہ خدا نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھئے وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لایا تھا جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی اور جس کا حال یہ ہے کہ تم نے اس کو مختلف اوراق میں لکھ رکھا ہے تم ان اوراق میں سے کچھ کو تو ظاہر کرتے ہو اور بہت سے اوراق کو چھپائے ہوئے ہو اور اسی کتاب کے ذریعہ سے تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو یہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا آپ فرمایئے۔ اس کتاب کو اللہ نے نازل کیا تھا نہیں آپ ان کو چھوڑیئے کہ یہ اپنی بیہودہ خرافات میں مشغول رہیں

-91 اور منکرین یہود نے اللہ تعالیٰ کو اس قدر نہ پہنچاتا جس قدر اس کو پہچانتا واجب تھا اور اس کے پہچاننے کا حق تھا جبکہ انہوں نے بےساختہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کتاب کی قسم میں سے کوئی چیز نازل نہیں کی اور اس نے کوئی کتاب نہیں اتاری آپ ان سے دریافت کیجیے کہ وہ کتاب کس نے نازل فرمائی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) تھے یعنی توریت جو نور کی طرح روشن اور واضح تھی اور لوگوں کے ذریعہ ہدایت تھی اور جس کا حال یہ ہے کہ تم نے اس کو علیحدہ علیحدہ اوراق میں لکھ رکھا ہے جو تمہارے مطلب کا مضمون ہوتا ہے اور جو احکام تمہارے موافق ہوتے ہیں ان کو تم ظاہر کرتے ہو اور ہر ایک کو دکھاتے پھرتے ہو اور بہت سے مضامین جو تمہارے خلاف ہوتے ہیں اور جو احکام تمہاری بےعملی کی وجہ سے تم کو ناپسند ہوتے ہیں ان کو چھپالیتے ہو اور اس کتاب کے ذریعہ تم کو وہ وہ باتیں سکھائی گئیں اور تعلیم کی گئیں جن کو نہتم پہلے جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا ان امور سے واقف تھے یعنی یہ کلیتاً انکار کر رہے ہیں کہ خدا نے کسی بشر پر کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی ان کے باطل دعویٰ کو توڑنے کے لئے صرف ایک ہی کتاب کا ذکر کافی ہے جس کو یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ بشر پر نازل ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے آپ ان کو جواب … دیجیے کہ جو کتاب توریت موسیٰ لائے تھے وہ اللہ تعالیٰ ہی نے تو نازل فرمائی تھی بس اب آپ ان کو چھوڑیئے کہ یہ اپنی بےہودہ خرافات میں پڑے رہیں اور بےہودہ مشاغل اور مباحث میں مشغول اور الجھے رہیں یعنی آپ نے اپنا فرض منصبی ادا کردیا اب ان کو ان کی حالت میں پڑا رہنے دیجیے ہم جانیں اور یہ جانیں۔
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ قرآن بھی ایک کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی بابرکت ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنیوالی ہے اور اس لئے نازل کی تاکہ آپ آل مکہ کو اور مکہ کے چاروں طرف بسنے والوں کو ڈرا دیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں سے پوری طرح باخبر رہتے ہیں۔

-92 اور جب یہود کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا اور یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر کتابیں نازل کرتا رہا ہے تو یہ قرآن بھی ایک کتاب ہے جس کو ہم نے ہی اتارا ہے یہ کتاب بڑی بابرکت ہے اور اپنے سے پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرنے والی ہے اور یہ کتاب اس لئے نازل فرمائی ہے تاکہ اے پیغمبر ! ﷺ آپ مکہ والوں کو اور اس کے چاروں طرف بسنے والوں کو ڈرا دیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو قرآن کریم پر ایمان لے ہی آتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت اور نگہداشت کرتے ہیں اور اپنی نمازوں سے پوری طرح باخبر رہتے ہیں یعنی آسمانی کتابوں کی اس طرح تصدیق کرتی ہے کہ ان کو سچا اور آسمانی کہتی ہے یا اس طرح کہ ان کتابوں میں نزول قرآن کا ذکر ہے قرآن نے آ کر ان کی تصدیق کردی کہ جو بات ان کتابوں میں کہی گئی تھی وہ واقعی سچ تھی آخرت پر اگر کوئی پوری طرح ایمان رکھتا ہے اس کو تو قرآن کریم پر ایمان لانے اور نماز کی پابندی کرنے کے سوا چارہ نہیں اور جو لوگ محض آخرت کا خیال رکھتے ہیں اور اتنا سمجھتے ہیں کہ حساب کتاب کا کوئی دن ہوگا تو ان کا مآل بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اس قرآن کریم پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی ہیں کی گئی اور اسی طرح جو یہ کہئے کہ جو کلام اللہ نے نازل کیا ہے میں بھی اس جیسا کلام بنا سکتا ہوں اور اے پیغمبر کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھ سکتے جبکہ یہ موت کی سختیوں میں پڑے ہوں گے اور موت کے فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا لیں کہ ان سے کہتے ہوں گے لائو اپنی جانوں کو نکالو آج تم کو ان جھوٹی باتوں کے سب جو تم اللہ پر کھڑا کرتے تھے اور اس سرکشی کی پاداش میں جو تم اللہ کی آیتوں کے مقابلہ میں کیا کرتے تھے سخت ذلت آمیز سزا دی جائیگی

-93 اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم اور ناانصاف ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور جھوٹی تہمتیں لگائیں اور جھوٹی باتیں اس کی طرف منسوب کرے یا یوں کہے کہ میری جانب وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی جانب کچھ بھی وحی نہیں کی گئی یعنی خد کی طرف سے اس پر کوئی وحی نہیں آئی اور وہ وحی کا مدعی ہے اور اسیر طح اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کلام نازل کیا ہے میں بھی اسی جیسا کلا بنا سکتا ہوں اور لاسکتا ہوں اور اے پیغمبر ! ﷺ آپ اگر ان ظالموں اور نا انصافوں کو اس وقت دیکھتے تو بہت ہولناک اور خطرناک حالت میں دیکھتے جبکہ یہ ظالم موت کی سختیوں اور تکلیفوں میں پڑے ہونگے اور موت کے فرشتے اپنے ہاتھ پھیلا پھیلا کر اور بڑھا بڑھا کر ان سے کہتے ہونگے کہ اپنی جانوں کو نکالو آج مرتے ہی تم کو ان جھوٹی باتوں کے سبب جو تم اللہ پر گھڑا کرتے تھے اور اللہ کے ذمے ناحق کی باتیں لگا یا کرتے تھے اور اس سرکشی کی وجہ سے جو تم اللہ کی آیتوں کے مقابلہ میں کیا کرتے تھے سخت ذلیل کن اور توہین آمیز سزا دی جائے گی یعنی اگرچہ جان تو فرشتے ہی نکالیں گے لیکن ڈرانے اور مزید سختی کے لئے یہ کہتے جائیں گے کہ لائو نکالو اپنی جان کو بڑی سرکشی کرتے پھرتے تھے۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور ہم کہیں گے کہ بلاشبہ تم اسی طرح اکیلے اور تن تنہا ہمارے حضور میں آ حاضر ہوئے جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور جو ساز و سامان ہم نے تم کو عطا کیا تھا تم وہ سب اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم یہ خیال کیا کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں ہمارے شریک ہیں بلاشبہ اب تمہارے باہمی علاقے سب منقطع ہوگئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم کیا کرتے تھے وہ سب تم سے گم ہوگئے

-94 یہ ہولناک منظر تو مرتے وقت ہوگا اور قیامت میں جب ہمارے سامنے پیش ہوں گے تو ہم کہیں گے جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح تم آخر کار تن تنہا ہمارے حضور آ حاضر ہوئے یعنی جس طرح ماں کے پیٹ سے ننگے غیر مختون اور امراض سے پاک صاف پیدا ہوئے تھے اسی طرح ہماری پیشی میں حاضر ہوگئے اور جو ساز و سامان ہم نے تم کو دیا تھا جس پر تم فخر و غرور کا اظہار کیا کرتے تھے وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ آج تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق یہ سمجھتے اور خیال کرتے تھے کہ وہ تمہاری پرورش اور استحقاق عبادت نیز تمہارے دیگر معاملات میں ہمارے شریک ہیں یعنی وہ تمہارے خود ساختہ شریک بھی آج تمہاری امداد کو تمہارے ساتھ نہیں آئے یقینا اب تمہارے اور ان کے باہمی رابطے اور علاقے سب ٹوٹ پھوٹ گئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم دنیا میں کیا کرتے تھے وہ آج سب تم بھول بھال گئے اور وہ سب گئے گزرے ہوگئے یعنی بت پرستی اور اصنام کو ہمارا شریک ٹھہرانا اور ہماری عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرنا۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی بیج کو اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے وہی جان دار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کو جان دار سے نکالنے والا ہے یہی تو اللہ ہے پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو

-95 بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے یعنی بیج ہر قسم کے اور ہر قسم کی گٹھلیاں جب زمین میں دبا دی جائیں تو ان کو شگاف دیکر اگانا یہ اسی کا کام ہے وہی جان دار کو بےجان سے نکالنا ہے اور بےجان کو جاندار سے نکالنے والا ہے یعنی انڈے سے مرغی اور مرغی سے انڈا یا نطفہ سے انسان اور انسان سے نطفہ یہی تو اللہ تعالیٰ ہے جو عبادت کا حقیقی مستحق ہے پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو یعنی غیروں کی عبادت کے لئے
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی صبح کی روشنی پھاڑ نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو ہو جب آرام بنایا اور حساب کے لئے سورج اور چاند کو مقرر کیا یہ ان دونوں کا تقرر ایک اندازہ یعنی ضابطہ ہے اس کا جو بڑا زبردست ہے بڑے علم والا ہے

-96 وہ رات کی تاریکی میں سے صبح و صادق کو پھاڑ نکالنے والا اور صبح کو نمودار کرنے والا ہے اور اسی نے رات کو سکون اور موجب آرام و راحت بنایا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو معیار حساب بنایا اور سورج و چاند کی گردش کو حساب سے رکھا یہ ان دونوں کا ذریعہ حساب بنایا ان دونوں کو حساب سے رکھنا اور چلانا اس اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ایک نظام اور ضابطہ ہے جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو پیدا کیا تاکہ ان کی وجہ سے تم جنگل اور دریا کی تاریکیوں سے راستہ معلوم کرسکو بیشک ہم دلائل کو بہت مفصل بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو اہل علم ہیں

-97 اور اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس ذات ہے جس نے تمہارے نفع کے لئے تاروں کو بنایا اور پیدا کیا تاکہ تم خشکی او تری کی ان تاریکیوں میں جو رات کو پیش آتی ہیں ان تاروں کی وجہ سے رائو پائو اور راستہ معلوم کرسکو بلاشبہ ہم اپنے دلائل کو ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم کو شخص واحد سے پیدا کیا پھر تم کو کسی مقام پر ٹھہرنا ہے اور کسی جگہ سپرد ہونا ہے بیشک ہم نے دلائل کو بہت مفصل بیان کردیا ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھے ہیں

-98 اور وہی ہے جس نے تم کو ایک شخص یعنی آدم سے پیدا کیا پھر تم کو کسی جگہ ٹھہرائو ہے اور کسی مقام پر سپرد ہونا ہے باپ کی پشت میں استقرار اور ماں کے رحم میں استیداع یا زمین کے اوپر ٹھہرائو اور قبر میں سپردگی بلاشبہ ہم نے اپنے دلائل کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے جو صحیح سمجھ رکھتے ہیں اور سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ ہر قسم کے اگنے والی چیز کو نکالنا پھر ہم نے اس میں سبز رنگ کی شاخ نکالی پھر ہم اس شاخ میں سے ایسے دانے نکالتے ہیں جو باہم اوپر تلے گتھے ہوئے ہوتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے ہم ایسے خوشے اور گچھے نکالتے ہیں جو لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور اسی پانی سے ہم نے انگوروں کے باغ اور زیتو ن و انار کے درخت پیدا کئے جن کے پھل آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور غیر مشابہ بھی ذرا ہر درخت کے پھل پر غور کرو جب وہ پھل لاتا ہے اور نیز اس پھل کے پکنے پر غور کرو بلاشبہ اہل یقین یقین کے لئے ان چیزوں میں بڑے بڑے دلائل ہیں۔

-99 اور اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس ذات ہے جس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر ہم نے اس پانی سے ہر طرح کی روئیدگی اور اگنے والی چیزوں کو نکالا پھر جو چیز ابتداء میں نکلتی ہے یعنی سوئی یا کھونٹی یا کوئے اس ابتدائی روئیدگی سے ہم نے سبز اور ہری شاخ نکالی کہ اس سبز رنگ کی شاخ سے ہم ایسے دانے نکالتے ہیں جو اوپر تلے گتھے ہوئے ہوتے ہیں یعنی وہ زرد رنگ کی سوئی جو ابتداء میں اگتی ہے وہی بڑھ کر سبز رنگ کو ٹہنی ہوجاتی ہے اور اس میں گیہوں یا جو وغیرہ کے دانے پیدا ہوجاتے ہیں جو خوب گتھے ہوئے ہوتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے ہم ایسے خوشے اور گچھے نکالتے ہیں جو مارے بوجھ کے نیچے کو لٹکے اور جھکے پڑتے ہیں اور اسی پانی سے ہم نے انگور کے باغ اور زیتون اور اناروں کے درخت پیدا کئے ان درختوں کے پھل آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ اور ملتے جلتے بھی ہوتے ہیں اور غیر مشابہ اور رنگ و بو اور مزے میں ایک دوسرے سے جدا بھی ہوتے ہیں ذرا ہر درخت کے پھل پر غور کرو جب وہ پھلتا اور پھل لاتا ہے نیز اس پھل کے پکنے پر غور کرو یعنی پھل اور درخت کی ابتدائی بھی قابل غور ہے اور اس کے پک جانے کی حالت بھی قابل توجہ ہے ۔ بلاشبہ اہل ایمان و یقین کے لئے ان چیزوں میں توحید الٰہی اور قدرت خداوندی کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور مشرکین نے شیاطین کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو بھی خدا نے ہی پیدا کیا ہے اور ان مشرکوں نے بلا جانے بوھے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں حالانکہ وہ خدا ان تمام باتوں سے جو یہ اس کی نسبت کہتے ہیں پاک اور برتر ہے۔

-100 اور ان مشرکین نے جنات اور شیاطین کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھیرا رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان جنات و شیاطین کو بھی پیدا کیا ہے یعنی جب سب کا خالق وہی ہے تو مخلوق کو خلاق کا شریک ٹھیرانا انتہائی بےوقوفی کی بات ہے اور ان مشرکین نے بلا جانے بوجھے اور بغیر سوچے سمجھے اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس کی شان میں بیان کرتے ہیں یعنی یہ مشرک اس پر جو عیب لگاتے ہیں اس کی ذات ان تمام عیوب سے پاک اور بہت بلند ہے۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہی آسمانوں کا اور زمین کا موجد ہے اس کے کوئی اولاد کہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں اور خدا نے ہی ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہی ہر چیز کو جانتا ہے۔

-101 وہی آسمانوں اور زمین کا موجد اور ان کا ایجاد کرنے والا ہے اس کے لئے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی اور زوجہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کار ساز و نگہبان ہے۔

-102 لوگو ! یہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں وہی ہر چیز کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے لہٰذا تم معبود ان باطلہ کو چھوڑ کر صرف اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کا کار ساز اور ہر چیز پر نگراں اور نگہبان ہے۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اس کو نگاہیں نہیں پا سکتیں اور وہ سب کی نگاہوں کو پاسکتا ہے وہ بڑا باریک ہیں اور بڑا باخبر ہے۔

-103 مخلوق کی نگاہیں اس کی کنہ کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور مخلوق کی آنکھیں اس کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں اور وہ سب کی نگاہوں کی کنہ اور ان کی حقیت کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کے علم نے سب کو گھیر رکھا ہے وہ بڑا باریک ہیں اور بڑا باخبر ہے ینی حضرت حق تعالیٰ کی مقدس ذات کی کنہ کا علم کسی آنکھ کو میسر نہیں آسکتا اور اس کا علم سب کی آنکھوں اور نگاہوں سے باخبر ہے اور اس کے علم ازلی نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے بصیرت افروز دلائل آ چکے ہیں پھر جس نے ان کو دیکھ لیا تو اپنے بھلے کو اور جو ان سے اندھا رہا تو اپنے برے کو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں

-104 اے پیغمبر ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس یقینا ہر قسم کے روشن اور بصیرت افروز دلائل آ چکے ہیں پھر جس شخص نے ان دلائل کو دیکھ لیا اور سمجھ کر ایمان لے آیا تو اپنے نفع کو اور بھلے کو اور اس کا فائدہ اسی کو پہونچے گا اور جو شخص ان دلائل واضح سے اندھا رہا اور اسے ان بہک گیا تو اس کا ضرر اور نقصان اسی کو پہنچے گا اور میں تمہارے اعمال کا کوئی نگہبان اور نگران نہیں ہوں۔ یعنی قرآن کریم میں ہر قسم کے دلائل عقلیہ اور نقلیہ نازل کئے گئے ہیں جو ان کو سمجھ کر ایمانلے آئے گا اور توحید و رسالت کو مان لے گا اس کو فائدہ ہوگا اور جو توحید رسالت کا باوجود ان دلائل کے قائل نہ ہوگا وہ نقصان اٹھائے گا۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم مختلف پہلوئوں سے دلائل کو بیان کرتے ہیں تاکہ منکرین پر حجت قائم ہوجائے اور یہ از راہ تعصب یوں کہیں کہ تو نے یہ کالم کسی سے سیکھ لیا ہے اور تاکہ ہم جاننے والوں کے لئے اس قرآن کے مضامین کو خوب واضح کردیں

-105 اور اے پیغمبر ! جس طرح ہم نے یہ بات بیان کی اسی طرح ہم اپنے دلائل کو مختلف طریقوں اور مختلف پہلوئوں سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں اور ان پر حجت قائم ہوجانے اور انجام کار یہ عناد اور تعصب سے یوں کہیں کہ اے محمد ! ﷺ تو نے یہ کلام کسی سے سیکھ لیا ہے کیونکہ ایک امی اور ان پڑھ ایسا مدلل اور فصیح وبلیغ کلام پیش نہیں کرسکتا اور تاکہ ہم صاحبان علم کے لئے اس قرآن کے مضامین کو خوب واضح اور ظاہر کردیں یعنی مختلف پہلوئوں سے دلائل کا بیان کرنا اس لئے کہ لوگ عبرت پکڑیں اور ایمان لے آئیں نیز منکروں پر حجت قائم ہوجائے اور یہ منکر آخر کار عاجز ہو کر یہ کہہ دیں کہ تو دوسروں سے سیکھ سیکھ کر ہم کو سناتا اور پڑھاتا ہے خواہ اہل کتاب سے سیکھا ہو یا پرانی کتابوں سے یہ باتیں حاصل کی ہوں۔
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ اس حکم پر چلیئے جو آپ کے رب کی جانب سے آپ پر وحی کیا گیا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے اور آپ مشرکوں کی باتوں پر التفات نہ کیجیے ،

-106 اور اے پیغمبر ! آپ اس کی پروا کئے بغیر کہ قرآن کریم پر کوئی عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا آپ خود اس راہ پر چلتے رہئے جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ کی طرف وحی کی گئی ہے دیکھو اس اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور آپ مشرکوں سے اعراض کیجیے اور ان کی جانب کوئی التفات نہ کیجیے اور نہ ان کی باتوں کا کچھ خیال کیجیے یعنی آپ قرآنی احکام کی پیروی کیجیے اور مشرکوں کی پروا نہ کیجیے خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگران و نگہبان نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر مختار کار ہیں

-107 اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگہبان اور نگراں مقرر نہیں کیا ہے اور نہ آپ ان پر مختار کار ہیں کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں یعنی اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے لیکن حضرت حق جل مجدہ، ان کی بعض شرارتوں کے باعث ان کو سزا دینا چاہتا ہے اس لئے آپ ان پر افسوس نہ کیجیے اور آپ ان پر کوء نگراں نہیں مقرر ہوئے ہیں اور نہ آپ ان کے مختار کار ہیں کہ ان کو مسلمان کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپ تو صرف پہونچانے الے ہیں سو ان کو تبلیغ کرتے رہئیے۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور مسلمانو ! تم ان کو برا نہ کہو جن کی یہ سڑک خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مشرک اپنی جہالت کے باعث حد سے تجاوز کر کے خدا کی شان ہیں گستاخی کرنے لگیں ہم نے اسی طرح ہر فرقے کے اعمال اس کی نگاہ میں خوش نما کردیئے ہیں پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے اس وقت خدا ان کو ان اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

-108 اور اے مسلمانو ! تم ان معبودان باطلہ کو جن کی یہ مشرک خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں برا نہ کہا کرو اور نہ ان کو گالی اور دشنام دو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اپنی جہالت اور عدم علم کے باعث حد سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی شان بزرگ و برتر میں گستاخی کرنے لگیں ہم نے جس طرح ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں خوشنما اور خوش منظر کردیا ہے اسی طرح ہر فرقہ کے اعمال کو اس فرقہ کے لئے خوش نما اور خوش منظر بنا رکھا ہے پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے ان اعمال کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ اور خبردار کر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے یعنی مشرکین کے اوتاروں اور بتوں کے حق میں دشنام طرازی نہ کیا کرو مبادا کبھی وہ مشرک انتقام کی غرض سے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے پر نہ اتر آئیں اور اللہ تعالیٰ کو برا کہنے لگیں اور اپنی جہالت کے باعث بغیر سوچے سمجھے حد سے آگے بڑھ جائیں کیونکہ اہل باطل کی حالت ی ہے کہ ان کو ان کے اعمال اسی طرح مستحسن اور اچھے نظر آتے ہیں اور ان کی نگاہ میں خوش منظر بنا دیئے گئے ہیں جس طرح ہر فرقہ والے کو اپنا اپنا عمل اچھا معلوم ہوتا ہے اور ہم نے اس دار الامتحان میں ہر فرقہ کو اس کے اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے اس فرقہ کی نگاہ میں خوش نما بنا دیئے گئے ہیں اور اس دارالامتحان کے بعد چن کہ سب کی بازگشت ان کے رب کی جانب ہونی ہے اس لئے اعمال کی حقیقت اس وقت سب پر اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور منکر بڑی تاکید سے اس بات پر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کی فرمائش کے موافق کوئی معجزہ ان کو پہونچ جائے تو یہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے آپ فرما دیجیے کہ تمام نشانیاں اللہ کے قبضے میں ہیں اور مسلمانو ! تم کو اس کی کیا خبر ہے کہ یہ لوگ فرمائشی نشانیاں آجانے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے

-109 اور یہ منکر بڑی تاکید اور بڑے مبالغہ کے ساتھ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر حسب منشاء اور ہماری فرمائش کے موافق کوئی نشانی اور معجزہ ہمارے پاس آجائے اور کوئی نشانی ان کو پہونچ جائے تو یقینا یہ اس پر ایمان لے آئیں گے اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے کہ ہر قسم کی نشانیاں بس اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں اور صرف اسی کے قبضے ہیں اور مسلمانو ! تم کو کیا خبر کہ جس وقت نشان آجائے گا اور ان کی فرمائش کے موافق معجزہ نمایاں ہوجائے گا تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے یعنی باوجود قسموں کے نشان دیکھ کر بھی ایمان لانے سے انکار کریں گے۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے قلوب کو اور ا ن کی آنکھوں کو پلٹ دیں گے سو یہ ایمان نہ لائیں گے جیسے یہ لوگ پہلی مرتبہ سابقہ نشان پر ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا چھوڑ دیں گے۔

-110 اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس وقت ہم ان کے قلوب کو حق کے فہم سے اور ان کی آنکھوں کو حق کی پہچان سے پلٹ دیں گے اور یہ ایمان نیں لائیں گے جیسے یہ لوگ پہلی مرتبہ سابقہ نشانات کو دیکھ کر ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی اور طغیان میں بھٹکتا چھوڑ دیں گے یعنی جب ان کی عادت ہی یہ ٹھری کہ نشان اور معجزہ دیکھتے جائیں اور ایمان سے انکار کرتے رہیں ۔ جیسے قرآن کریم جو سب سے بڑا معجزہ ان کے پاس آیا اور انہوں نے انکار کیا۔ نبی کریم ﷺ کے اور معجزات دیکھے اور انہوں نے انکار کیا اسی طرح جو نشان یہ طلب کر رہے ہیں اس کو بھی دیکھ کر انکار کریں گے نیز یہ کہ ان کی اس سرکشی کے باعث ہم سزاء ان کے قلوب اور آنکھوں کو حق فہمی اور حق بینی سے محروم کردیں گے اور ان کو ان کی سرکشی میں حیران و سرگرداں چھوڑ دیں گے۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان منکروں پر فرشتے نازل کردیں اور ان سے مردے بھی باتیں کرنے لگیں اور ہم جملہ موجودات کو بھی ان کے روبرو لا کر مع کردیں تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں الا یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے تو دوسری بات ہے لیکن ان میں اسے اکثر جاہل ہیں

-111 اور ان کے عناد اور ان کی سرکشی کی حالت یو یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ اگر ہم ان کی خواہشات کے موافق ان پر فرشتے بھی نازل کردیں اور ان سے مردے بھی زندہ ہو کر باتیں کرنے لگیں اور ہم تمام موجودات مخفیہ اور غیبیہ کو ان کے روبرو لا کر جمع بھی کردیں تب بھی یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یعنی یہ سب کچھ دیکھ لیتے تب بھی ایمان نہ لاتے مگر ہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت کا اگر تقاضا ہو تو دوسری بات ہے یعنی اگر اللہ کو منظور ہو تو ایمان لاسکتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر نادان اور جاہل و بیخیر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جاہل ہیں۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور جس طرح یہ آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم نے بہت سے شرارت پسند انسانوں اور سرکش جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا تھا وہ فریب دہی کی غضر سے ایک دوسرے کے دل میں طمع کی ہوئی خوش نما باتیں ڈالا کرتے تھے اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ اس قسم کی حرکتیں نہ کرتے پس آپ ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو ان کے حال پر چھوڑیئے

-112 اور جس طرح کفار مکہ میں سے بعض لوگ جیسے ابوجہل وغیرہ اے پیغمبر ! آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم نے ہر نبی کے بہت سے شیاطین دشمن بنائے تھے وہ شیاطین کچھ تو انسانوں میں سے تھے اور کچھ حقیقی شایطنی اور ان کی ذریت میں سے تھے ان دشمنوں کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دل میں طمع کی ہوئی فریب آمیز باتیں وسوسہ کے طور پر ڈالا کرتے تھے یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کافر انسانوں کے دلوں میں فریب آمیز باتیں ڈالا کرتے تھے جو ہر زمانہ کے پیغمبروں کو نقصان پہونچانے الی ہوتی تھیں اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ اس قسم کی ناشائستہ حرکات نہ کرتے سو آپ ان کو اور ان کی ناشائستہ افترا پردازیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور وہ اس لئے بھی ایسا کرتے تھے تاکہ وہ لوگ جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے ان کے دل ان فریب آمیز باتوں کی طرف مائل ہوجائیں اور تاکہ ان باتوں کو پسند کریں اور تاکہ جو برائیاں وہ کر رہے تھے انہی کا ارتکاب کرتے رہیں۔

-113 اور یہ لوگ اس لئے ایسا کرتے تھے تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی فریب آمیز باتوں کی طرف مائل ہوجائیں اور یہ کہ وہ ان باتوں کو پسند کریں اور جب پسند کرلیں تو جو کچھ کر رہے ہیں وہ کئے جائیں، ینی جب آخرت کا دھیان ہی نہیں آئے گا تو توبہ کی توفیق بھی نہ ہوگی اور جوبدکرداریاں کر رہے ہیں اسی میں مبتلا رہیں گے اول تو آخرت پر پورا ایمان نہیں پھر اس پر سے رنگ آمیز باتوں کے وسوسے سے تو لامحالہ ان کا نتیجہ وہی ہونا تھا جو ارشاد فرمایا۔
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

آپ کہیے کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور فیصلہ کرنیوالے کو تلاش کروں حالانکہ وہ ایسا ہے جس نے تمہاری طرف ایک کاتب نازل کی ہے جس کی حالت یہ ہے کہ وہ خوب مفصل ہے اور وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ کتاب یعنی قرآن آپ کے رب ہی کی جانب سے ٹھیک ٹھیک نازل کیا گیا ہے لہٰذا آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں

-114 یہ منکر جو آپ کی رسالت کے متعلق بعض متعصب یہود کو پنچ بنا کر فیصلہ کرانا چاہتے ہیں تو آپ ان سے کہیے کیا میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں اور خدا کے سوا کسی اور حکم کو ڈھونڈتا پھروں حالانکہ اس نے تمہارے لئے ایک مفصل اور واضح کتاب نازل فرمائی ہے یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہاری طرف قرآن کریم اتارا ہے جس میں تفصیلی طور سے میری رسالت کے دلائل موجود ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے یعنی اہل کتاب وہ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم آپ کے رب ہی کی جانب سے یقینا نازل کیا گیا ہے یعنی حق دراستی اور واقعیت کے ساتھ نازل کیا گیا ہے لہٰذا آپ کسی قسم کا شک و شبشہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں یعنی اس بات میں شک نہ کریں کہ شاید اہل کتاب اس قرآن کریم کو حق نہ سمجھتے ہوں۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور آپ کے رب کا کلام راستی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی خوب سننے والا جانے والا ہے

-115 اور آپ کے پروردگار کی بات اور اس کا کلام راستی اور اصاف کے اعتبار سے پورا اور کامل ہے اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور اس کے کالم کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا وہ خوب سننے والا جانے والا ہے یعنی قرآن کریم میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں اور جو وعدحے کئے گئے ہیں اور جو خبریں دی گئی ہیں وہ سب راست اور سچی ہیں اور جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ سب معتدل اور مبنی انصاف ہیں۔
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اگر آپ ان لوگوں کا کہنا ماننے لگیں جو روئے زمین میں سب سے زیادہ ہیں تو وہ آپ کو خدا کی راہ سے بےراہ کردیں گے یہ سب محض بےاصل خیالات کی پیروی کرتے ہیں اور وہ محض تخمینی اور قیاسی باتیں کرتے ہیں

-116 اور اے پیغمبر زمین میں بسنے والے لوگوں میں جن لوگوں کی اکثریت ہے اگر آپ اس اکثریت کا کہا ماننے لگیں تو یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بچلا دیں گے اور خدا کی راہ سے بےراہ کردیں گے کیونکہ یہ سب لوگ محض بےاصل خیالات و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف تخمینی اور قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ یعنی ان کے پاس حق نہیں ہے محض اٹکل سے باتیں بناتے ہیں اور انہی غلط باتوں پر چلتے ہیں لہٰذا ان کا کہنا مانو گے تو تم بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائو گے اور چونکہ منکرین کی تعداد زیادہ ہے اس لئے انہیں اکثریت فرمایا زمین والوں کی۔
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

درحقیقت آپ کا رب ہی اس کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بےراہ ہوتا ہے

-117 بلاشبہ آپ کا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوتا ہے اور سیدھے راستے سے ہٹکر غلط راستے پر ہو لیتا ہے اور وہی صحیح راہ چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے اور ان سے خوب واقف ہے جو راہ یافتہ ہیں۔
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ یافتہ ہیں پھر اگر تم لوگ اللہ کے احکام پر ایمان رکھتے ہو

-118 ذبیحہ کی حلت و حرمت کے بارے میں جو یہ لوگ کج بحثی کر رہے ہیں ان کا کہا نہ مانو ! اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو ان حلال جانوروں کے ذبیحہ میں سے کھائو جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو۔ یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا ہو۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

تو ان حلال جانوروں میں سے کھائو جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے لئے اس حلال جانور میں سے نہ کھانے کا کیا عذر ہوسکتا ہے جس پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی تفصیل تم کو بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا گیا ہے الا یہ کہ تم ان کے کھانے کے لئے مضطر اور مجبور ہو جائو اور یقینا بہت سے لوگ ہیں جو بلا کسی تحقیق کے محض اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو بہکاتے پھرتے ہیں بلاشبہ آپ کا رب ان حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

-119 اور تمہارے لئے اس حلال جانور کے ذبیحہ میں سے نہ کھانے کا کیا عذر ہوسکتا ہے جس پر ذبح کرنے وقت فقط اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو یعنی ایسے جانور کے کھانے کو کیوں حرام سمجھتیہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان چیزو وں کی جو تم پر حرام کی ہیں تفصیل تم کو بتادی ہے اور یہ بھی بتادیا ہے کہ یہ حرام چیزیں بھی مجبوری اور اضطرار کی حالت میں حرام نہیں رہتیں۔ یعنی جیسے سورة مائدہ میں تفصیل موجود ہے وہاں اس جانور کا ذکر نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا جائے اور منکروں میں سے بہت لوگ ایسے ہیں جو اپنی خواہشات نفسانی کی بنا پر اور اپنی خواہشات باطلہ کے سبب بلا کسی تحقیق اور علم کے لوگوں کہ بہکاتے پھرتے ہی۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار ان حد سے نکل جانے والوں اور زیادتی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور تم کھلا گناہ بھی ترک کرو اور چھپا گناہ بھی بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں ان کو عنقریب ان افعال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے

-120 اور تم کھلے گناہ اور چھپے گناہ سب چھوڑ دو اور ترک کردو بلاشبہ جو لوگ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور گناہ کما رہے ہیں عنقریب ان کو ان افعال کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔