6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس میں سے نہ کھائو اور بلاشبہ اس کا کھانا کھلی نافرمانی ہے اور بیشک شیاطین اپنے رفقاء کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بیکار جھگڑا کریں اور اگر تم ان کی اطاعت کرنے لگو تو یقین جانو کہ تم مشرک ہو جائو گے۔

-121 اور جس جانور پر ذبح کرتے وقت صرف اللہ تعالیٰ کا نام نہ لای جائے اس ذبیحہ میں سے تم کچھ نہ کھائو یقینا اس کا کھانا کھلی نافرمانی اور کھلا ہوا فسق ہے اور بلاشبہ شیاطین اپنے رفقاء اور دوستوں کے دلوں میں وسوسے اور شکوک و شبہات ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ رفقاء تم سے بیکار جھگڑا کریں اور اگر تم ان انسان نما شیطانوں کا کہا ماننے لگو اور تم ان کی اطاعت کرنے لگو تو یقین جانو ! کہ تم مشرک ہو جائو گے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں دوسروں کے احکام کو ترجیح دوں گے اور حلال اور حرام جو منصب خداوندی ہے اس منصب میں کسی دوسرے کو شریک کرنا کھلا شرک ہے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا ایک ایسا شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی بخشی اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور عطا کیا جس کو لئے ہوئے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے بھلا کیا یہ شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو مختلف تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور ان تاریکیوں سے نکل نہ سکتا ہو اسی طرح کافروں کے وہ کام جو وہ کر رہے ہیں ان کی نظر میں خوشحال کردیئے گئے ہیں

-122 کیا ایک ایسا شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی عطا فرمائی اور اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور عطا کیا اور اس کے لئے ایک ایسی روشنی مقرر کی جس کول یکر وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہو کہیں یہ شخص اس شخص کی مثل ہوسکتا ہے جو مختلف تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے اور تاریکیوں میں ایسا مبتلا ہے کہ ان سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح کافروں کے وہ اعمال جو وہ کر رہے ہیں ان کے لئے آراستہ اور خوش نما کردیئے گئے ہیں ، یعنی مردہ وہ جو کفر و گمراہی کی موت مرا ہوا ہو اور زندہ وہ جس کو ایمان عطا کیا ہو اور وہ ایمان کی روشنی ہر طرف لوگوں میں لئے پھرتا ہو تاریکیاں کفر وشرک کی دلدل جس میں پھنسا ہوا ہے جس طرح مسلمان کو اپنے کام مستحسن نظر آتے ہیں اسیطرح کافر کی نظر میں اس کے اعمال مزین آراستہ اور خوش نما کردیئے گئے ہیں۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور جس طرح مکہ کے رئوسا جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس پستی کے رئیسیوں ہی کو مخالف اور مجرم بنایا تاکہ وہ اس بستی میں مخالفانہ سازشیں کیا کریں اور جو سازش اور مکرو فریب کرتے ہیں وہ حقیقت میں صرف اپنے ہی ساتھ کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کا احساس نہیں کرتے

-123 اور جس طرح مکہ کے سردار اور رئوسا قریش اپنے اثر کو اسلام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اسیطرح ہم نے ہر بستی کے بڑے بڑے لوگوں کو مجرم بنایا اور وہاں کے مجرم اور فساقکو سردار اور پارٹی کا لیڈر بنایا تاکہ وہ مخالفانہ تدابیر اور جارحانہ سازشیں کیا کریں اور وہ جو سازش اور مکرو فریب کرتے ہیں وہ درحقیقت صرف اپنے ہی ساتھ کرتے ہیں اور ان رئوسا کی حالت یہ ہے کہ ان کو ان کا احساس اور شعور نہیں ہوتا۔ یعنی بڑے لوگوں کو مجرم بناتے ہیں یا مجرموں کو سردار بناتی ہیں تاکہ ان کی مخالفت اور پر فریب تدابیر زور دار اور موثر ہوں اور ان کی ان تدابیر کا وبال انہی پر لوٹتا ہے اور حق روز بروز مقبول ہوتا رہتا ہے اور کمزور و ماتحت لوگوں ک اجر وثواب میں زیادتی ہوتی ہے اور ان مجرم سرداروں کو شعور نہیں ہوتا اور نہ انہیں مصالح خداوندی کا احساس ہوتا ہے ہر بستی میں صحیح بات کی مخالفت بڑے ہی لوگ کیا کرتے ہیں۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کو کوئی نشانی پہونچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک خود ہم کو ویسی ہی چیز نہ دی جائے جیسی اللہ کے رسولوں کو دی جا چکی ہے اللہ ہی اپنے پیغام بھیجنے کے محل اور موقع کو خوب جانتا ہے عنقریب اب ان مجرموں کو خدا کے ہاں ان حیلہ سازیوں کی پاداش میں جن کے یہ مرتکب ہوا کرتے تھے بڑی ذلت اور سخت ترین عذاب ہوگا

-124 اور جب ان رئوسا وفاق کو کوئی نشانی اور کوئی آیت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم توحید و رسالت پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم کو بھی ویسی ہی چیز نہ ملے جس قسم کی چیز اللہ کے رسولوں کو م لتی رہی ہے۔ یعنی نبوت کتاب صحیفے اللہ تعالیٰ ہی اس موقع پر اور محل کو خوب جانتا ہے جہاں وہ اپنا پیغام بھیجے ، عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے یہ گستاخانہ جرم کیا ہے خدا کے ہاں ان کو سخت ذلت و رسوائی پہنچے گی اور ان حیلہ سازیوں کی پاداش میں جو یہ کیا کرتے تھے سخت عذاب ہوگا۔ یعنی یہ مطالبہ کہ جب تک ہم کو نبوت نہ ملے گی ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہ کتنی بڑی گستاخی اور جرأت ہے نبوت بھی کوئی ایسی چیز ہے کہ جس نے مانگی اس کو دے دی بندوں کو خدا کا پیغام پہنچانا اور تبلیغ کرنا کوئی ایسا کام ہے کہ ہر اہل اور نااہل کے سپرد کردیا جائے اس بات کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کون شخص اس کام کا اہل ہے اور کون اس خدمت کو مناسب طریقہ پر ادا کرسکتا ہے ایسی آن ہوئی شرطوں پر ایمان کو موقوف کرنا انتہائی گستاخی اور ایک پر فریب چال ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

سو جس شخص کو خدا تعالیٰ راہ راست پر چلانا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس کو بےراہ رکھنا چاہتا ہے اس کے سینے کو بہت ہی تنگ کردیتا ہے اور اس کو ایمان لانا واپسی مصیبت معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر لعنت و پھٹکار کو مسلط کردیتا ہے

-125 پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح راستے پر چلانا چاہتا ہے اس کے سینے کو سالام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس کو بےراہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو اس کے سینے کو بہت ہی تنگ کردیتا ہے اور اس کو ایمان لانا ایسی مصیبت معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے ۔ اسی رطح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے لعنت و پھٹکار اور عذاب کو مسلط کردیتا ہے۔ یعنی اسلام سے گھبراتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چڑھ جائے یا اس طرح جیسے کوئی آسمان پر چڑھنا چاہے اور چڑھ نہ سکے اور دل تنگ ہو ۔ بہرحال ! مشیت الٰہی جس کا ساتھ دستی ہے وہ کشادہ دلی اور طیب خاطر کے ساتھ ایمان کو قبول کرلیتا ہے اور مشیت الٰہی جن کی رہنما نہیں ہوتی وہ اسلام قبول کرنے سے دل تنگ اور بھچے بھچے پھرتے ہیں۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ دین اسلام ہی آپ کے رب کا بنایا ہوا سیدھا راستہ ہے اور ہم نے دلائل کو ان لوگوں کے لئے مفصل بیان کردیا ہے جو نصیحت قبول کرتے ہیں

-126 اور یہ راستہ جس کو قرآن کریم بیان کرتا ہے یعنی اسلام ! اے پیغمبر آپ کے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے ہم نے ان لوگوں کے لئے اپنے دلائل کو مفصل بیان کیا ہے جو نصیحت قبول کیا کرتے ہیں۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

اور ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختیار کیا ان کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست اور مددگار ہے۔

-127 جو لوگ اس سیدھے راستے کو اختیار کرتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں امن و سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار ہے ان اعمال حسنہ کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے یعنی ان کو جنت اور رضائے الٰہی میسر ہوگی اس سبب سے کہ انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کیا اور اس راستے کے پابند رہے اور اچھے کام کرتے رہے۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو جمع کرے گا ارشاد ہوگا اے گروہ جنات تم نے انسانوں میں سے بہت بڑی تعداد حاصل کرلی وہ لوگ جو انسانوں میں سے ان کے دوست بنے ہوئی تھے وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا اور بالآخر ہم اپنی اس مقررہ میعاد کو پہنچ گئے جو میعاد تو نے ہمارے لئے معین کی تھی اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم سب کا ٹھکانا آگ ہے اسی میں تم ہمیشہ رہو گے مگر ہاں جو خدا چاہے تو دوسری بات ہے بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے

-128 اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ تمام جنات اور انسانوں کو جمع کرے گا اور خاص کو جنات کو خطاب فرمائے گا اے گروہ جنات تم نے انسانوں میں سے بہت بڑی اکثریت کو حاصل کرلیا یعنی تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس پر ان جنات کے وہ رفیق و مددگار اور دوست جو انسانوں میں سے تھے کہیں گے یعنی وہ انسان جو جنات کے دنیا میں دوست تھے وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے آپس میں ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا اور جو میعاد تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی ہم اس کو پہنچ گئے یعنی ہم کو اپنے اپنے مقرر ہ وقت پر موت آگئی یا قیامت آگئی۔ اللہ تعالیٰ سب جنات اور انسان کفار سے فرمائے گا تم سب کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے جس میں تم ہمیشہ ہو گے مگر ہاں اللہ تعالیٰ چاہے تو دوسری بات ہے یعنی اللہ تعالیٰ کسی کو نکالنا چاہے تو وہ الگ بات ہے بشلابہ آپ کا پروردگار بڑی حکمت اور بڑے علم والا ہے۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور جس طرح دنیا میں سب گمراہوں کا تعلق تھا اس طرح ہم بعض ظالموں کو بعض کے ساتھ ملا دیں گے ان کی اس کمائی کے سبب جو وہ کیا کرتے تھے

-129 اور جس طرح دنیا میں سب گمراہوں میں باہمی تعلق تھا اسی طرح بعض ظالموں کو بعض کے ساتھ ملا دیں گے اس کمائی کے سبب اور ان کے ان اعمال کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے یعنی جس طرح دنیا میں ایک ظالم دوسرے ظالم کا ساتھ دیتا ہے اسی طرح ہم آگ میں بھی ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ساتھ ملا جلا کر جہنم میں ڈال دیں گے۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے گروہ ! جس و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو میرے احکام کو سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے وہ سب کہیں گے کہ ہاں ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سب اپنے خلاف اس امر کا اعتراف کریں گے کہ بلاشبہ وہ کافر تھے

-130 اے جماعت جن و انس اور اے گروہ جنات و انسان کا کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے پیغمبر نہیں آئے جو تم پر میرے احکام بیان کرتے تھے اور تم کو میرے احکام بتایا اور سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے یعنی قیامت اور حشر کے دن سے اس پر وہ سب جنات و انسان کہیں گے ہ ہاں ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں اور اقرار جرم کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان ک دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنے خلاف گواہی دیتے ہوئے کہیں گے کہ بیشک وہ کافر تھے ۔ یعنی رسولوں کا آنا اور سمجھانا اور میدان حشر سے ڈرانا سب صحیح ہے لیکن ہم نے ان کا کہا نہ مانا اور وہ مانتے بھی کی سے ان کو تو دنیا کی زندگی نے دھوکہ اور فریب دے رکھا تھا آخر کار ان کو یہ کہنا ہی پڑا کہ بیشک وہ کافر تھے۔ رسل منکم میں کل مجموعہ مکلفین مخاطب ہیں جنات میں سے کسی کا پیغمبر ہونا ثابت نہیں۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ رسولوں کا بھیجنا اس لئے ہے کہ آپ کے رب کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے تباہ کر دے اور ان کو احکام الٰہی کی خبر بھی نہ ہو

-131 یہ رسولوں کا بھیجنا اور احکام الٰہی کا پہنچانا اس بنا پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کے باشندوں کو ایسی حالت میں ہلاک نہیں کیا کرتا کہ وہ احکام الٰہی سے بیجز ہوں۔ یعنی جب تک کسی بستی کے رہنے والوں کو پیغمبروں کی معرفت احکام الٰہی پہنچا دیئے جائیں اور ان کی جانب سے انکار نہ ہوجائے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کسی بستی کے رہنے والوں کو عذاب سے ہلاک نہیں کیا کرتا۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے مقرر ہیں اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے

-132 اور سب لوگوں کے اچھے برے اعمال کے لحاظ سے مختلف درجات اور مراتبمقرر ہیں اور آپ کا پروردگار ان لوگوں کے کردار اور اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ یعنی ہر عمل کا خواہ وہ اچھا ہو یا برا ایک درجہ مقرر ہے جیسا عمل ویسا درجہ۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا رب بےنیاز اور صاحب رحمت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا کہ تم کو دوسرے لوگوں کی اولاد سے پیدا کیا ہے

-133 اے پیغمبر ! آپ کا پروردگار غنی اور بےنیاز اور صاحب رحمت ہے یعنی خود کسی کا محتاج نہیں اور اس کا شیوہ مہربانی اور رحم و کرم ہے وہ اگر چاہے تو تم سب کو اس عالم سے اٹھا لے اور یہاں سے لے جائے اور تمہارے بعد جس مخلوق کو چاہے تمہارا جانشین کر دے اور جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کر دے جس طرح تم کو دوسرے لوگوں کی نسل سے اور اولاد سے پیدا کیا ہے۔ یعنی وہ تمہارے بڑے موجود نہیں اور تم ان کی جگہ موجود ہو اسی طرح ہم اگر چاہیں تو دفعتاً الٹ پلٹ کردیں جیسا کہ انقلاب کے وقت بھی ایسا ہوا کرتا ہے وہ اگر چاہے تو بڑے پیمانہ پر سارے عالم میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ یقینا ضرور آنے والی ہے اور تم خدا کو عاجز کردینے کی طاقت نہیں رکھتے

-134 جس چیز کا تم سے رسولوں کی معرفت وعدہ کیا جاتا ہے یعنی عذاب یا قیامت وہ چیز یقینا آنیوالی ہے اور تم کہیں بھاگ کر اس کو ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو۔ یعنی قیامت ضرور آ کر رہے گی اور اگر تم چاہو کہ کہیں بھاگ کر روپوش ہو جائو اور چھپ جائوتو یہ بھی نہیں ہوسکتا اور خدا کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے میری قوم ! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی اپنا کام کر رہا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس دنیا کا انجام کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے

-135 اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اے میری قوم ! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو اور اپنی جگہ اپنا کام کئے جائو میں بھی اپنا کام کر رہا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا اور تم جان لو گے کہ اس عالم کا انجام کس کے حق میں بہتر اور مفید و نافع ہوتا ہے ہاں یہ امر واقعی اور ایک سچی حقیقت ہے کہ ظالم اور بےانصاف لوگوں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی۔ یعنی ان کے کاموں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور یہ کافر اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور اس کے پیدا کئے ہوئے مویشیوں میں سے اللہ کا ایک حصہ مقرر کردیتے ہیں۔ پھر یہ کافر اپنے خیال فاسد کی بنا پر یوں کہتے ہیں کہ اتنا حصہ خدا کا اور اتنا حصہ ہمارے مقرر کردہ معبودوں کا پھر جو حصہ ان کے مقرر کردہ معبودوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں پہونچنا اور جو حصہ اللہ کے لئے ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہونچ جاتا ہے کیا ہی برا ہے وہ انصاف جو یہ کرتے ہیں۔

-136 اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان میں سے یہ منکرین اسلام کچھ حصہ تو اللہ کے لئے مقرر کردیتے ہیں پھر اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یوں کہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اتنا حصہ تو اللہ کے لئے ہے اور یہ اتنا حصہ ہمارے ان معبودوں کا ہے جو اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں پھر ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو حصہ ان کے معبودوں کا ہوتا ہے وہ خدا کی طرف نہیں پہونچتا اور جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں تک پہونچ جاتا ہے کیا ہی برا فیصلہ ہے اور کیا ہی برا وہ انصاف ہے جو یہ کرتے ہیں یعنی اول تو کھیتی اور مویشی میں یہ تقسیم کہ اتنا حصہ خدا کے نام پر دیا جائے اور اتنا بتوں کے نام پر چڑھایا جائے پھر جب دونوں کے حصے الگ الگ کئے جائیں اور ایک میں سے دوسرے کے حصہ میں کچھ چلا جائے تو اگر خدا کے حصہ میں سے کچھ غیر اللہ کی طرف چلا جائے تو جانے دیں لیکن بتوں کے ڈھیر میں سے کچھ حصہ خدا کی طرف آجائے تو اس کو اسی وقت واپس کریں اسی کو فرمایا کہ یہ فیصلہ برا ہے جو یہ کیا کرتے ہیں۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح اکثر مشرکوں کی نگاہ میں ان کے مقرر کردہ معبودوں نے ان کی اولاد کے قتل کو خوش نما کر رکھا ہے تاکہ وہ ان مشرکوں کو ہلاکت میں مبتلا کردیں اور اس لئے کہ ان کے دین کو ان پر مشتبہ کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو یہ مشرک ایسا نہ کرتے لہٰذا آپ ان کو اور ان کی افترا پر دازیوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے

-137 اور جس طرح یہ شرکیہ تقسیم ان مشرکوں کی نظر میں مستحسن ہے اسی طرح ان کے معبود ان باطلہ یعنی جنات و شیاطین نے ان منکروں کی نظر میں اولاد کو قتل کرنا اور بتوں کے نام پر چڑھانا ناخوش نما اور مستحسن و مزین بنا رکھا ہے تاکہ وہ جنات ان مشرکین کو عذاب کی ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو مخلوط و مشتبہ کردیں یعنی دین ابراہیمی جو ان کا اصل دین تھا اس کو بدعات و محرمات کے ساتھ ایسا گڈ مڈ کردیں کہ حق و باطل کا امتیاز باقی نہ رہے اور اگر خدا چاہتا اور اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ مشرکین ایسا نہ کرتے پس اے پیغمبر آپ ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور وہ اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مخصوص مواشی اور یہ مخصوص کھیت ممنوع ہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا مگر وہی جس کو ہم چاہیں اور بعض مخصوص مواشی ہیں جن کی پیٹھ پر سوار ہونا ممنوع قرار دیا ہے اور بعض مواشی اس طرح مخصوص ہیں کہ ذبح کرتے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے یہ سب باتیں محض اللہ پر افترا پردازی کی غرض سے کہتے ہیں بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کو ان بہتان طرازیوں کی سزا دے گا جو بہتان یہ باندھا کرتے تھے

-138 اور یہ مشرکین مکہ اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خاص کھیتی اور یہ خاص مویشی حرام اور ممنوع ہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا ہے جس کو ہم چاہیں یعنی جو لوگ بتوں کی خدمت وغیرہ کرتے ہیں ان کے لئے کوئی کھیت اور کوئی جانور مخصوص کرلیا کرتے تھے اور کچھ مویشی یعنی بحیرہ سائب اور حواری وغیرہ خاص ہیں اور ان کی پیٹھ پر سوار ہونا اور ان پر سواری لینا حرام و ممنوع قرار دیدیا اور بعض مواشی اس طرح مخصوص ہیں کہ ان کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے یعنی خاص طور پر وہ مویشی جو بتوں کی منت کے ہوتے ہیں کہ ا ن کے ذبح پر بتوں ہی کا نام لیتے ہیں یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ پر محض افترا پردازی کی غرض سے کہتے ہیں بہت جلد اللہ تعالیٰ ان بہتان طرازیوں کی جو یہ بہتان اس پر باندھا کرتے تھے سزا اور بدلہ دے گا۔
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان مواشی کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ خالص ہمارے مردوں ہی کے لئے ہے اور اس کا کھانا ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ بچہ پیٹ سے مرا ہوا نکلے تو اس کے کھانے میں سب مرد و عورت برابر ہیں خدا ان کو عنقریب ان کی ان غلط بیانیوں کی سزا دے گا بیشک وہ بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے

-139 اور وہ مشرکین مکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان مواشی کے پیٹ میں جو کچھ ہے خواہ دودھ ہو یا بچہ وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر اس کا کھانا حرام ہے اور اگر وہ پیٹ کا بچہ مرا ہوا ہو اور مردہ نکلے تو اس کے کھانے میں سب مرد و عورت برابر کے شریک ہیں یعنی مردہ بچہ ہو تو مردوں کی خصوصیت ختم ہوجاتی ہے اور عورتیں بھی کھا سکتی ہیں خدا تعالیٰ عنقریب ان کو ان کی غلط بیانیوں کی سزا دے گا وہ بڑی حکمت والا اور بڑے علم کا مالک ہے۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ سخت خسارے میں پڑگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بےجانے بوجھے قتل کر ڈالا اور اللہ نے جو روزی ان کو دی تھی اس کو محض خدا پر بہتان باندھ کر حرام کرلیا بلاشبہ یہ لوگ گمراہی میں مبتلا رہے اور کبھی سیدھی راہ نہ چلے

-140 بلاشبہ وہ سخت خسارے میں پڑے اور بڑے گھاٹے اور ٹوٹے میں پڑگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی کے سبب بےجانے بوجھے بغیر علم کے قتل کر ڈالا اور جو روزی اللہ تعالیٰ نے ان کو کھانے کو دی اور اس کو ان کے لئے حلال کیا تھا انہوں نے محض خدا تعالیٰ پر بہتان باندھ کر اس حلال رزق کو حرام کرلیا یقینا یہ لوگ گمراہی میں مبتلا رہے اور یہ کبھی راہ یافتہ نہ ہوئے اور سیدھی راہ نہ چلے۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے ایسے باغات پیدا کئے جن کی بیلیں ٹیٹوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور ایسے باغ بھی جن کی بیلیں ٹیٹوں پر نہیں چڑھائی جاتیں اور کھجور کے درخت بھی پیدا کئے اور کھیتی بھی ان سب کے پھل مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور زیتون اور انار کو پیدا کیا جو ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی ان سب چیزوں کے پھل کھائو جب یہ پھل لائیں اور ان میں سے کٹائی کے دن مقررہ حق اد ا کردیا کرو اور حد سے نہ بڑھو یقین جانو کہ وہ حد سے پڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

-141 اور اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس ذات ہے جس نے ایسے باغات پیدا کئے جن کی بیلیں ٹیٹوں اور چھتریوں وغیرہ پر پھیلائی جاتی ہیں جیسے انگور اور ایسے باغ بھی جن کی بیلیں ٹیٹوں وغیرہ پر نہیں چڑھائی جاتیں یعنی یا تو کوئی بیل ہی نہیں سب تنے دار درخت ہیں یا بیل ہو لیکن اس کے چڑھانے کا قاعدہ نہ ہو جیسے خربوزہ اور ککڑی وغیرہ کی بیلیں اور اس اللہ تعالیٰ نے کھجور کے درخت بھی پیدا کئے اور کھیتی بھی پیدا کی ان سب کے پھل مختلف قسم کے ہوتے ہیں یعنی رنگ بو اور مزے وغیرہ میں اور اسی نے زیتون اور انار کو پیدا کیا ان درختوں کے پھلآپس میں ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور غیر مشابہ بھی یعنی زیتون کے پھل آپس میں ایک دور سے سے مزے میں رنگ میں مقدار میں ملتے جلتے ہوتے ہیں اور بعض ایک دوسرے سے نہیں بھی ملتے اسی طرح انار باہم ایک دوسرے سے رنگ اور مزے وغیرہ میں مشابہ ہوتے ہیں اور غیر مشابہ بھی ان سب چیزوں کے پھل کھائو جب یہ پھل لائیں یعنی ان میں کوئی چیز حرام نہیں ہاں ! جس دن ان کے پھل اور غلہ وغیرہ کاٹ کر جمع کیا کرو اس دن مقررہ حق ادا کرو یعنی جس دن پھل وغیرہ کاٹو اس دن جو شرعی حق مقرر ہو وہ مقررہ حق مساکین کو دے دیا کرو اور اتنا خیال رکھو کہ حد شرعی سے تجاوز نہ کیا کرو اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں اور حد سے آگے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی خیر خیرات میں حد سے تجاوز نہ کیا کرو یا عاملین عشر و زکوۃ کو حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے بلکہ بیت المال کا جو حق مقرر ہوتانا ہی وصول کرنا چاہئے امام کا حق وصول کرنے میں تعدی اور ظلم نہیں کرنا چاہئے۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے چوپایوں میں سے ایسے چوپائے بھی پیدا کئے جو بار برداری کے قابل ہیں اور ایسے بھی جو زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قد کے ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو روزی عنایت کی ہے اس میں سے کھائو اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

-142 اور اللہ تعالیٰ نے پھل اور کھیت اور مواشی بھی پیدا کئے ہیں ان مویشیوں میں سے بعض تو بار برداری کے لئے اونچے قد کے ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قد کے ہیں یعنی اونٹ، خچر ، ہاتھی اور جیسے بھیڑ بکری ، اللہ تعالیٰ نے جو رزق تم کو دیا ہے اس میں سے کھائو اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو اور اس کے نقش ہائے قدم کی پیروی نہ کرو بلاشبہ وہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے یعنی اس نے جو کچھ تمہارے باپ کے ساتھ کیا وہ ظاہر ہے۔
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

خدا نے آٹھ نر اور مادہ پیدا کئے بھیڑ میں سے دو نر اور مادہ ار بکریوں میں سے دو نر اور مادہ آپ پوچھئے کیا خدا نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہوں تم مجھے کسی صحیح دلیل کے ساتھ جواب دو اگر تم سچے ہو۔

-143 اللہ تعالیٰ نے ان مواشی میں جن کے حلال و حرام ہونے پر افتراء کرتے رہتے ہیں آٹھ نر اور مادہ پیدا کئے ہیں بھیڑ میں سے دو خواہ وہ چکنی والے ہوں یا بےچکنی کے اور بکری میں سے دو نر اور مادہ اے پیغمبر آپ ان سے پوچھئے کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کو حرام کیا ہے یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جس کو دونوں ماوائیں اپنے پیٹ میں لئے ہوئی ہیں تم مجھے صحیح دلیل سے بتائو اگر تم سچے ہو یعنی نر اور مادہ کا حساب لگائو تو ایک بھیڑ کی مادہ اور ایک نر اور ایک بکری میں سے مادہ اور ایک نر تواب بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں میں سے کس کو حرام کیا ہے یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جو مادہ کے رحم میں ہوتا ہے اور اگر ان میں سے خدا تعالیٰ نے کسی کو حرام نہیں فرمایا تو تم کو ن ہو اور تمہارے معبود ان باطلہ کو کیا حق ہے کہ کسی کو حرام اور کسی کو حلال کرتے پھرتے ہیں اس حق کا تو وہی سزا وار ہے جس نے ان مویشیوں کو پیدا کیا ہے یہ کیا انصاف ہے کہ حق تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی بھیڑ بکریوں پر تم حرام یا حلال کا حکم لگائو۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اونٹ میں سے دو نر اور مادہ اور گائے میں سے دو نر اور مادہ آپ پوچھئے کیا خدا نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب تم کو خدا نے ان کے حرا م ہونے کا حکم دیا تھا پھر اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے بغیر کسی تحقیق کے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا

-144 اسی طرح اونٹ میں سے دو نر اور مادہ اور گائے میں سے دو نر اور مادہ آپ ان سے کہئے کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو یعنی اونٹ اور گائے کا نر حرام کیا ہے یا دونوں مادینوں کو حرام کیا ہے یا اس بچہ کو اونٹ کے یا گائے کے حرام کیا ہے جس کو دونوں مادینیں اپنے رحم میں لئے ہوئے ہوتی ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب تم کو خدا نے اس کے یعنی ان چیزوں میں سے کسی کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا پھر اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے بغیر کسی تحقیق کے اور بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور افترا پردازی محض اس عرض سے ہو کہ لوگوں کو گمراہ کرے یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ناانصاف لوگوں کی رہنمائی نہیں فرمایا کرتا۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجیے جو احکام مجھ پر وحی کے ذریعہ نازل ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایسی چیز حرام نہیں پاتا جس کو کوئی کھانے والا کھائے الایہ کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیوں کہ وہ بالکل ناپاک ہے یا وہ جانور جو معصیت کا موجب ہو غیر اللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو پھر جو کوئی بھوک سے مضطر و مجبور ہوجائے بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور حد سے تجاوز کرنے والا بھی نہ ہو تو آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

-145 اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ جو احکام مجھ پر بذریعہ وحی نازل ہوئے ہیں ان میں تو میں کوئی ایسی چیز حرام نہیں پاتا جس کو کوئی کھانے والا کھائے یعنی جن حیوانات کو تم حرام کہتے ہو ان میں سے کوئی حیوان یا جس کھیتی کو تم حرام کہتے ہو اس میں سے کوئی کھیتی اس وحی میں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے ان میں سے کوئی بھی کھانے کے لائق چیز جس کو کوئی کھانا چاہے مجھ کو حرام نہیں ملتی اور جب قرآن میں ا ن کی حرمت و ممانعت کا حکم نہیں ہے تو معلوم ہوتا ہے تمہاری خانہ ساز باتیں اور تمہارا افترا ہے قرآن کریم نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں مگر ہاں قرآنی احکام کے بموجب وہ مرا ہوا جانور حرام ہے جو بغیر ذبح کے مرگیا ہو یا دم سائل یعنی بہتا ہوا خون حرام ہے یا خنزیر کا گوشت حرام ہے کیونکہ وہ خنزیر بالکل ناپاک ہے یعنی خنزیر اور اس کے تمام اجزاء ناپاک ہیں اور خنزیر نجس العین ہے یا وہ جانور جو معصیت اور فسق و شرک کا سبب ہو اور تقرب کی نیت سے غیر اللہ کے نام پر نامزد کیا ہو یعنی کسی جانور کو غیر اللہ کے لئے نامزد کردیا ہو اور نیت بھی تقریب کی ہو ایسا جانور بھی حرام ہے خواہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے یا اللہ کا پھر بھی اگر کوئی شخص بھوک سے مضطر و بےقرار ہوجائے تو وہ اپنی زندگی کو بچانے کے لئے کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ طالب لذت نہ ہو اور حاجت و ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا اور تجاوز کرنے والا نہ ہو تو واقعی آپ کا پروردگار بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے یعنی اگر بھوک سے مرنے لگے تو جن چیزوں کو حرام فرمایا ہے ان میں سے کچھ کھا کر جان بچا لے البتہ یہ اجازت دو شرطوں کے ساتھ مقید ہے ایک تو کھانے میں لذت او چٹخارے کا قصد نہ کرے اور ایک ضرورت سے زیادہ نہ کھائے صرف اتنا کھائے کہ بھوک سے مر نہ جائے۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کردیا تھا اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ہم نے ان پر حرام کردی تھیں مگر وہاں ان دونوں کی وہ چربی جو گائے اور بکری کی پیٹھ پر یا ان کی آنتوں پر لگی ہوئی ہو یا ان کی ہڈی سے ملی ہوئی ہو وہ حرام نہیں تھی یہ ہم نے ان کو ان کی شرارت و سرکشی کی وجہ سے سزا ہی تھی اور یقینا ہم راست گو ہیں

-146 اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان یہود پر حرام کردی تھیں مگر ہاں وہ چربی اس حکم سے مستثنیٰ تھی جو ان دونوں کی پیٹھ پر یا ان دونوں کی آنتوں اور انتڑیوں میں لگی ہوئی ہو یا جو چربی ان کی ہڈی سے ملی ہوئی ہو یہ حرام کرنا ان یہود کو ان کی شرارت اور سرکشی کی وجہ سے سزا دی تھی اور یقینا ہم سچے اور راست گو ہیں یعنی ناخن والے جانوروں سے مراد وہ ہیں جن کے انگلیاں ہوں خواہ ان انگلیوں کے درمیان فرجہ ہو جیسے درندے مثلاً کتا بلی وغیرہ یا درمیان میں فرجہ نہ ہو جیسے شتر مرغ ، مرغابی اور ربط گائے اور بکری کی چربی بھی سوائے تین مقامات کے باقی جگہ کی حرام کردی گئی تھی یہ ان کی سرکشی کا نتیجہ اور بطور سزا کے حکم دیا گیا تھا اور حرمت کو عام کردیا گیا تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ نعمتوں کی بےقدری کرنے والوں سے نعمت سلب کرلی جاتی ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر یہ اس پر بھی آپ کی تکذیب کریں تو آپ فرما دیجیے کہ تمہارا رب بڑی ہی وسیع رحمت والا ہے اور ہاں اس کا عذاب گناہ گناروں سے ٹلنے والا نہیں،

-147 پھر اے پیغمبر اگر اس تحلیل و تحریم کو بیان کرنے کے بعد بھی یہ یہود اور مشرکین آپ کی تکذیب کریں اور آپ کو جھٹلائیں تو آپ فرما دیجیے کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے یعنی یہ اس کی وسعت رحمت ہے کہ نافرن اور گناہ گار بھی اس کی رحمت سے محروم نہیں ہیں اور باوجود تکذیب رسل کے عذاب میں جلدی نہیں ہوتی ہاں ! جو وقت عذاب کا مقرر ہے اسی وقت آئے گا اور گناہگار لوگوں سے اس کا عذاب جب آجائے گا تو ٹالے سے نہیں ٹلے گا اور آئے پیچھے واپس نہیں ہوگا۔
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

قریب ہے کہ مشرکین یوں کہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے حرام کرلیا ہے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا آپ ان سے فرمائیے کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تاکہ تم اس کو ہمارے سامنے پیش کرسکو لوگو ! تم تو محض گمان کی پیروی کرتے ہو اور تم تو محض تخمینی باتیں کرتے ہو

-148 جو لوگ شرک میں مبتلا ہیں وہ بہت جلد یہ کہیں گے یعنی اپنے پر سے الزام اتارنے کو یوں کہنے والے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور اس فعل قبیح کے مرتکب نہ ہوتے اور جن چیزوں کو ہم نے حرام ٹھہرا رکھا ہے نہ ان میں سے ہم کسی چیز کو حرام کرتے یعنی ہمارے اس ارتکاب شرک و کفر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ان حرکات قبیحہ کو پسند کرتا ہے اور ہماری ان باتوں سے راضی ہے گویا ان افعال کے صدرور پر قدرت دنیا اس کی رضا کو مستلزم ہے آگے نقلی اور عقلی جواب ہے۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوگذرے ہیں وہ بھی پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا آپ ان سے فرمائیے کیا تمہارے پاس کوئی سند اور دلیل ہے ؟ تو تم اس کو ہمارے روبرو پیش کرو لوگو تم تو صرف گمان کی پیروی کرتے ہو اور تم تو محض تخمینی اور قیاسی باتیں کرتے ہو یعنی تم لوگوں نے ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی تکذیب کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے تمہارے پاس نہ تو کوئی سند ہے نہ تم کو صحیح علم ہے محض وہم و گمان میں مبتلا ہو اور اٹکل پچو باتیں کرتے ہو ان ہی باتوں کی وجہ سے تمہارے پہلوں نے عذاب کا مزہ چکھا اور انہی معاندانہ باتوں کی وجہ سے تم کو ایک دن عذاب کا منہ دیکھنا ہوگا۔
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجیے کہ صاف اور محکمہ دلیل اللہ ہی کے لئے ہے پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ پر لے آتا۔

-149 اور جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ ان کے پاس کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے تو اے پیغمبر ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ انتہائی واضح پوری اور مضبوط دلیل تو اللہ ہی کے لئے پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ ہدایت دکھا دیتا اور تم سب کو راہ پر لے آتا یعنی ایک طرف کوئی سند نہیں اور دوسری طرف مضبوط دلائل موجود ہیں تو اللہ تعالیٰ کا الزام ان پر پورا ہوگیا۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

آپ ان سے فرمائیے کہ اچھا تم اپنے ان گواہوں کو لائو جو اس امر کی گواہی دیں کہ اللہ ہی نے ان کو حرام کیا ہے پھر اگر ان کے گواہ اس قسم کی شہادت دے بھی دیں تو آپ ان کی تصدیق نہ کیجیے اور ایسے لوگوں کی خواہشات پر نہ چلئے جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو مساوی درجہ دیتے ہیں۔

-150 اے پیغمبر ! ﷺ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو مذکورہ حیوانات کی حرمت پر ہے نہیں ! اب آپ ان سے فرمائیے اچھا تم کوئی نقلی دلیل پیش کرو اور اپنے ان گواہوں کو لائو اور پیش کرو جو یہ گواہی دیں کہ جن چیزوں کو تم حرام کہتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو حرام کیا ہے پھر اگر ان کے گواہ اس قسم کی فرضی شہادت دے بھی دیں تو آپ ان کی گواہی تسلیم نہ کیجیے اور ان گواہوں کی تصدیق نہ کیجیے اور آپ ان لوگوں کی خواہشات باطلہ کی پیروی نہ کیجیے جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں اور دوسروں کو اپنے رب کے برابر کا درجہ دیتے ہیں۔ یعنی ظاہر ہے کہ عینی گواہ تو ہوں گے نہیں جو گواہ آئیں گے وہ محض سخن پروری کی غرض سے آئیں گے تو آپ ایسے جھوٹے گواہوں کی گواہی تسلیم نہ کیجیے اور نہ جھوٹوں کی تصدیق کیجیے اور آپ ان کی خواہشات باطلہ اور اقوال کا ذبہ پر نہ چلئے کیوں کہ ان کا شیوہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے آخرت پر ان کا ایمان نہیں اور خدا کے ساتھ دوسروں کو برابری کا درجہ دیتے ہیں۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

آپ ان سے فرمائیے آئو میں وہ چیزیں تم کو پڑھ کر سنائوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں وہ یہ کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور یہ کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور یہ کہ اپنی اولاد کو افلاس کے سبب سے قتل نہ کیا کرو ہم ہی تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی اور بےحیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جائو خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ اور کسی ایسے شخص کو قتل نہ کرو جس کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو مگر ہاں کسی حق شرعی کی بنا پر یہ وہ باتیں ہیں جن کا تم کو خدا نے تاکید ہی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو

-151 اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے کہئے میرے پاس آئو میں وہ چیزیں تم کو پڑھ کر سنائو اور تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ ٹھہرائو اور یہ کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو اور ان کے ساتھ احسان کرو یعنی ان کے ساتھ بدسلوکی نہ کرو اور یہ کہ اپنی اولاد کو افلاس کے باعث قتل نہ کیا کرو ہم تم کو اور ان کو دونوں کو روزی دیتے ہیں اور یہ کہ بےحیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ پھٹکو خواہ وہ بےحیائی علانیہ ہو یا پوشیدہ یعنی بےحیائی کے تمام طریقوں سے دور رہو اور یہ کہ کسی ایسے شخص کو قتل نہ کرو جس کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو مگر ہاں کسی حق شرعی کی بنا پر یعنی قصاص وغیرہ کے علاوہ کسی کا خون نہ کرو یہ وہ امور ہیں جن کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ یعنی ان باتوں پر تم کو تقید کی ہے۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر ہاں ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنی جوانی کو پہونچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے موافق اور تم جب کوئی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ وہ صاحب معاملہ اپنا قرابتدار ہی کیوں نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو یہ وہ باتیں ہیں جن کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو

-152 اور یہ کہ مال یتیم کے قریب نہ جائو مگر ہاں اییس طریقہ ہے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنی جوانی کو پہونچ جائے یعنی جب تک وہ یتیم جوان نہ ہوجائے اس کے مال میں تصرف نہ کرو مگر یہ کہ یتیم کا فائدہ ہو مثلًا یتیم کی حفاظت میں اس کے کھانے پینے کپڑے وغیرہ میں بہرحال مقصود اصلاح ہو اور یہ کہ ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو یعنی پیمانہ پوری طرح بھر کر اور ترازو سیدھی، ہم کسی شخص کو اس کے مقدور اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یعنی جو تکلیف دیتے ہیں وہ طاقت اور بساط کے موفاق ہوتی ہے اور یہ کہ جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ جس شخص کے مقابلہ میں بات کہتے ہو وہ تمہارا اپنا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو یعنی جب تم کوئی فیصلے کی بات کرو یا گواہی وغیرہ دو تو انصاف کا لحاظ کھو اگرچہ معاملہ والا اپنا قرابت دار ہی ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ سے جو عہد کرو اس کو پورا کرو یہ وہ باتیں ہی جن کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو اور غور و فکر سے کام لو۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ بھی فرما دیجیے کہ یہ بیان کردہ احکام ہی میری سیدھی راہ ہے لہٰذا تم اسی راہ پر چلو اور تم اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ وہ راستے تم کو خدا کی راہ سے جدا کردیں گے اس بات کا تم کو خدا نے تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے تاکہ تم کج روی سے بچو

-153 اور یہ بھی فرما دیجیے کہ یہ مذکورہ احکام ہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی راہ پر چلو اور تم دوسرے طریقوں پر نہ چلو ورنہ وہ مختلف طریقے تم کو سیدھی راہ سے الگ کردیں گے اور تم راہ مستقیم سے جدا ہو جائو گے اس بات کا تم کو خدا نے تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے تاکہ تم کج روی سے بچو یعنی جس دنیا کے یہ احکام مذکور ہوئے وہی دین میری سیدھی راہ ہے۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی تاکہ نکو کاروں پر ہم اپنی نعمت تمام کردیں اور ہر ضروری چیز کی تفصیل بیان کردیں اور لوگوں کے لئے وہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہو نیز اس لئے تاکہ وہ بنی اسرائیل اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں

-154 پھر ہم نے موسیٰ کو بھی آپ سے پہلے ایک کتاب دی تھی تاکہ بھلے اور نیک کام کرنے والوں پر ہم اپنی نعمت اور اپنا احسان پورا کردیں اور ہر ضروری چیز کی تفصیل بیان ہوجائے اور لوگوں کے لئے وہ کتاب سراسر ہدایت و رحمت ہو نیز اس لئے یہ کتاب دی کہ وہ بنی اسرائیل اپنے رب کے ملنے اور اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لائیں اور اس کی ملاقات کا یقین رکھیں۔ یعنی آپ کوئی پہلے اور نئے رسول نہیں ہیں جن پر کتاب اتری ہو بلکہ آپ سے پہلے حضرت موسیٰ کو بھی ہم نے کتاب دی تھی جو تمام نعمت اور تفصیل ضروریہ اور رہنمائی اور رحمت الٰہی کا سبب تھی اور بڑی غرض یہ تھی کہ توریت کی رہنمائی میں وہ آخرت پر ایمان لائیں اور ملاقات خدا وندی پر یقین رکھیں۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایک بڑی بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے پس تم اس کی پیروی کرو اور اس کی مخالفت سے ڈرو عجب نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے

-155 اور توریت کی طرح یہ قرآن کریم بھی بڑی بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے لہٰذا تم اب اس کتاب کی پیروی کرو اور قرآن کریم کی مخالفت سے بچتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے یعنی قرآن کریم کی مخالفت سے یا قرآن کریم پر عمل کرنے کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہو جو قرآن کریم پر عمل کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہوگا۔
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

ہم نے اس کتاب کو اس لئے نازل کیا کہ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب آسمانی تو صرف ان دو فرقوں پر نازل ہوئی تھی جو ہم سے پہلے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر تھے۔

-156 اور یہ کتاب ہم نے اس لئے نازل فرمائی تاکہ تم قیامت میں یوں نہ کہہ سکو کہ آسمانی کتاب تو صرف یہود و نصاریٰ کے دو فرقوں پر نازل کی گئی تھی جو ہم سے پہلے ہو گزرے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر تھے یعنی ہم پر تو کتاب نازل نہیں ہوئی یہود و نصاریٰ کے درس و تدریس کا ہم کو علم نہ تھا تو ہم کو توحید و رسالت کا پتہ کیونکر لگتا اس لئے ہم ایمان لانے سے معذور تھے۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

اور اب تم یہ عذر بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان یہود و نصاریٰ سے یقینا کہیں زیادہ راہ یافتہ ہوتے سو بلاشبہ اب تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حجت واضحہ اور ہدایت و رحمت پہنچ چکی ہے اب اس شخص ہے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو آیات الٰہی کی تکذیب کرے اور لوگوں کو ان سے روکے اور ہم عنقریب ایسے لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے روکتے ہیں اس امر کی پاداش میں کہ لوگوں کو روکا کرتے تھے بری سزا دیں گے

-157 اور کتاب آجانے کے بعد تم یہ عذر بھی نہیں کرسکتے اور قیامت میں یہ بھی نہیں سکتے کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم یقینا امم سابقہ سے زیادہ راہ یافتہ ہوتے یعنی جب کتاب والوں کوا ن کے اعمال کا ثواب ملتا تو تم یہ کہتے کہ اگر ہم کو بھی کتاب ملتی تو ہم اعمال و عقائد میں یہود و نصاریٰ سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہوتے اور پانی کتاب پر عمل کر کے بہت زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے ۔ سو بلاشبہ اب تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک ایسی کتاب جس کے دلائل روشن اور احکام واضح ہیں اور وہ ہدایت کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے پہونچ چکی ہے لہٰذا اس قدر صاف اور واضح کتاب آجانے کے بعد اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو آیات الٰہی کی تکذیب کرے اور لوگوں کو ان آیات پر ایمان لانے سے روکے اور ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے لوگوں کو روکتے ہیں اس روکنے کی پاداش میں بہت برا عذاب کریں گے اور سخت بری سزا دیں گے یعنی خود بھی نہ مانا اور دوسروں کو ماننے سے روکا اس لئے بری مار کے مستحق ٹھہرے۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کیا اب یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کا رب خود آئے یا آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی ان کے پاس آئے جس دن آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آجائے گی تو اس دن کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان رکھتا ہو مگر اس نے اپنے ایمان کی حالت میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو تو اس کو بھی اس وقت نیک بننا مفید نہ ہوگا آپ کہدیجیے اچھا تم انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں۔

-158 کیا یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کا پروردگار ان کے پاس کے پروردگار کی۔ ……… یہ بڑی نشانی ظاہر ہوگی اور آجائے گی اس دن کسی ایسے شخص کو جو ظہور نشان سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا ایمان لانا نفع نہیں دے گا اور ان کے حق میں ایمان لانا مفید نہیں ہوگا یا وہ شخص جو ظہور علامت سے پہلے ایمان لے آیا تھا مگر اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو اور باوجود مومن ہونے کے کوئی بھلائی نہ کمائی ہو تو اس کو بھی توبہ کرنا اور توبہ کرکے کوئی بھلا کام کرنا مفید اور نافع نہ ہوگا آپ کہہ دیجئے اچھا تم انتظار کرو اور ہم بھی حالات کا انتظار کررہے ہیں۔ یعنی باوجود دلائل واضحہ کے جو ایمان لانے میں پس و پیش کررہے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کے آنے کے منتظر ہیں کہ فرشتے آکر کہیں کہ یہ پیغمبر صادق ہے اور یہ قرآن کریم حق ہے یا فرشتے ان کی جان قبض کرنے آجائیں یا آپ کا پروردگار خود ان کے پاس آکر رسول کی اور قرآن کریم کی تصدق کرے یا قیامت کی کسی بڑی نشانی کے منتظر ہیں۔ مثلاً مغرب سے آفتاب کے طلوع ہونے کے منتظر ہوں لیکن جس دن قیامت کی کوئی بڑی علامت اور نشانی آجائے گی تو اس دن منکروں کو ایمان لانا اور ایمان والوں کو گناہوں سے توبہ کرکے نیک بننا کچھ مفید نہ ہوگا کیونکہ اس دن کفر اور شرک اور فسق سے توبہ کرنے کا موقعہ باقی نہ رہے گا اور قبولیت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اچھا اگر تم کو ایسا انتظار ہے تو انتظار کرتے رہو اور ہم بھی منتظر ہیں کہ تمہارا انجام کیسا ہوگا۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور مختلف فرقے بن گئے آپ کو ان سے کچھ سروکار نہیں ان کا معاملہ صرف خدا کے سپرد ہے پھر وہی ان کو بتادے گا جو وہ کیا کرتے تھے ۔

159 بلاشبہ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جدا جدا کردیا اور مختلف گروہ بن گئے۔ آپ کا ان سے کوئی تعلق اور آپ کو ان سے کوئی سروکار نہیں ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے پھر جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ہی ان کو بتادے گا اور جتلا دے گا۔ یعنی جن لوگوں نے اس دین کو جوان کو دیا گیا تھا پوری طرح قبول نہ کیا اور پورے دین پر عمل نہیں کیا یا اس دین میں شرک و بدعت کی آمیزش کردی اور اس طرح اپنے دین کو ٹکڑے کردیا اور مختلف پارٹیوں میں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے تو ایسے لوگوں سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کاموں کی حقیقت سے آگاہ فرمادے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو شخص کوئی نیکی لے کر حاضر ہوگا تو اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملے گا اور جو شخص برائی لے کر پیش ہوگا تو اس کو فقط اس برائی کی مثل سزا دی جائے گی اور ان لوگوں سے غیر منصفانہ برتائو نہیں کیا جائے گا

160 جو شخص کوئی نیکی لے کر حاضر ہوگا اس کو اس جیسی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور جو شخص کوئی برائی اور بدی لے کر پیش ہوگا تو اس کو صرف اس برائی کی مثل بدلہ دیا جائے گا اور اس برائی کے برابر ہی سزا دی جائے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا اور ان کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر اور گناہ کی سزا ایک کی ایک۔