5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! قول وقرار کو پورا کرو چوپایوں کی قسم کے تمام جانور تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی فرت تم کو سنا دی جائے گی مگر ایسی حالت میں جب کہ تم احرام میں ہو شکار کو کسی وقت بھی حلال نہ سمجھنا بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔1

ف 1 اے ایمان والو ! اپنے قول وقرار اور عہد و پیماں کو پورا کرو چوپایوں کی قسم کے تمام جانور تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ہیں یعنی اونٹ گائے بھیڑ بکری سے ملتے جلتے جانور جیسے ہرن اور نیل گائے وغیرہ سوائے ان چوپایوں کے جن کی حرمت آگے تم کو سنا دی جائے گی کہ وہ باوجود بہیمتہ الانعام ہونے کے حرام ہیں مگر ان میں سے جو شکار ہوں ان کو تم احرام کی حالت میں کسی وقت بھی حلال نہ سمجھو یعنی تم جب احرام باندھے ہوئے ہو تو جنگل کے کسی شکار کو حلال نہ جانو بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ (تیسیر) عقد کے معنی ہیں دو چیزوں کو اس طرح ملانا اور ربط دینا کہ ان کو جدا کرنا مشکل ہوجائے۔ یہاں مراد ہے مضبوط عہد، عقد عام طریق پر استعمال ہوتا ہے۔ عقد نکاح، عقد یمین ، عقد بیع، عقد شرکت، عقد حلف، وغیرہ وفا اور ایفا ہم منی ہیں لیکن ایفا میں مبالغہ زیادہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ عقود سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حرام فرمائی ہیں۔ بعض نے کہا ان عہود سے وہ عہود مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے یوم میثاق سے لے کر آخری شریعت تک اپنے بندوں سے لئے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا وہ عہود ہیں جو اہل کتاب سے نبی کریم ﷺ اور آپ کی شریعت کے بارے میں وقتاً فوقتاً لئے گئے ۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان عقود سے مراد وہ عہد و پیمان ہیں جو لوگ آپس میں کیا کرتے ہیں وہ امانات ہوں یا معاملات ہوں۔ غرض ! آیت اپنی جامعت کے اعتبار سے ہراس عہد کو شامل ہے جن کا وفا کرنا ضروری ہے۔ خواہ وہ بندے اور خدا کے درمیان ہو، خواہ آپس میں ایک بندے کا دوسرے بندے کے ساتھ ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ اور بندے کے عہد کو پہلے سمجھا چکے ہیں کہ ہر بندہ فطرتاً اور طبعاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کا عہد کرچکا ہے جیسے ہر انسان فطرتاً جانتا ہے کہ ماں کی خدمت کرنا اس کے ذمہ ضروری ہے خواہ اس نے اپنی ماں سے خدمت کا عہد کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اسی طرح تمام مخلوق سمجھتی ہے کہ خلاق کے احکام کی تعمیل کرنا ضروری ہے یہی وہ فطری عہد ہے جس کی جانب قرآن جگہ جگہ ارشاد کرتا ہے۔ اب خواہ ہم کو یوم میثاق کے الست بربکم کا جواب یاد ہو یا نہ یاد ہو اور اسی طرح جب ایک بندہ اسلام قبول کرتا ہے اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے سالام کے تمام حلال و حرام کو قبول کرنے کا عہد کرتا ہے خواہ کوئی عہد نامہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے بلکہ اس کلمہ کی توثیق ہی اس امر کی شاہد ہوتی ہے کہ بندہ اپنے رب سے عہد کر رہا ہے کہ جو چیزیں آپ میرے لئے حلال کریں گے ا ن کو حلال سمجھوں گا اور جو چیزیں آپ حرام کردیں گے ان کو حرام سمجھوں گا۔ بہیمہ ہر اس ذی روح کو کہتے ہیں جو غیر ذوی العقول ہو۔ انعام ان چوپایوں کو جو چار ہاتھ پائوں پر چلتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بہمیہ سے مراد وہ جانور ہوں جو قوائم اربع پر چلتے ہوں اور انعا م سے مراد اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ہو ۔ کیونکہ عام طور پر قرآن کریم میں انعام انہی چار قسموں پر بولا گیا ہے جیسا کہ انشاء اللہ آٹھویں پارہ میں آجائے گا۔ بہمیہ کی اضافت انعام کی جانب عام مطلق کی اضافت خاص کی طرف ہے۔ پھر کسی نے بمعنی لام رکھا اور کسی نے بمعنی من رکھا ہے۔ صاحب کشاف اور بیضاوی کا رجحان یہی ہے کہ یہ اضافت خاتم فضتا اور ثوب خز کے اسی قبیل سے ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ اضافت مشبہ بالمشبہ بہ کے قبیل سے ہو جیسا کہ ہمارے ترجمہ اور تیسیر میں ہے اور یہ طریقہ آسان ہے ۔ سمجھنے کے اعتبار سے بھی اور ترکیب کے اعتبار سے بھی اور چونکہ بہیمہ اور انعام میں قول مختلف ہوگئے اس لئے اضافت میں بھی اختلاف ہوگیا ہے اگرچہ مطلب میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہم نے آسان اور سہل صورت اختیار کرلی ہے۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ وہ بہائم جو کچلیاں نہیں رکھتے اور جگالی کرتے ہیں اور چار پائوں سے چلتے پھرتے اور چرتے ہیں وہ مراد ہیں اور انہی کا حکم بیان کرنا ہے لہٰذا درنددے اور کچلیوں والے جانور شامل نہیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور شعبی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ بہیمتہ الانعام سے جنین مراد ہے یعنی وہ بچہ جو مادہ کے پیٹ میں ہو۔ لیکن یہاں ہم اس سے بحث کرنا نہیں چاہتے اگر اس کو معلوم کرنا ہو تو فقہ سے معلوم کیجیے الا مایتلی علیکم سے مراد آگے کی آیت ہے۔ حرمت علیکم المیتۃ والدم اور اس کا مطلب انحصار ہے بلکہ قرآن کریم کی اس آیت کو ان جانوروں کی حرمت بھی شامل ہے جو حدیث اور اجماع اور قیاس سے ثابت ہو، جیسے گدھا اور خچر وغیرہ گویا مراد یہ ہے کہ بہائم میں سے وہ جانور حلال نہیں ہیں جو ہم قرآن کریم میں بیان کردیں یا ہمارا پیغمبر ان کی حرمت بیان کر دے اور اس کی شریعت سے ان بہائم کی حرمت ثابت ہوتی ہو ان کے علاوہ باقی سب بہائم حلال ہیں اور چونکہ ان بہائم میں سے بعض وہ بھی ہیں جو جنگل میں رہتے ہیں اور جن کو لوگ کو شکار کیا کرتے ہیں آگے ان کو فرمایا کہ ان بہائم میں جو شکار ہیں تو ان کو احرام کی حالت میں شکار نہ کرنا اور اسی طرح اگر یہ شکار حرم میں ہو تو حرم میں بھی شکار نہ کرنا۔ البتہ دریائی شکار حلال ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ ساتویں پارے میں آجائے گا اور احرام بھی حج کا ہو یا عمرے کا دونوں حالتوں میں جنگل کا شکار ممنوع ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ۔ یعنی آدمی جب مسلمان ہوا تو سب حکم اللہ کے قبول کرنے ٹھیرا چکا اب آگے حکم فرمائے ان کو قبول کرو۔ فائدہ۔ مواشی یہ جانور ہیں جن کو لوگ پالتے ہیں کھانے کو جیسے گائے بکری پھر جنگل کے ہرن جیسے نیل گائے وغیرہ اسی میں داخل ہیں کہ جنس ایک ہے ان کو احرام کے وقت اور اسی طرح کے مکان میں حرام فرمایا اس کے ساتھ حرم کے آداب اور بھی فرما دئیے۔ (موضح القرآن) آیت کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے اہل ایمان تم اپنے عہد و پیمان کو پوری طرح پورا کرو خواہ یہ عہد و پیمان تمہارے آپس میں ہوا ہو یا وہ عہد ہو جو تم نے اللہ تعالیٰ سے کر رکھا ہے اور فطرتاً تم اس کو پورا کرنے کے پابند ہو اور دیکھو ہم نے تمہارے لئے تمام بہائم جو چار پائوں سے چلتے اور جگالی کرتے ہیں اور جن کے کچلیاں نہیں ہوتیں وہ سب بہائم حلال کردیئے ہیں البتہ بہائم میں سے وہ بہائم حرام ہیں جن کو ہم تمہیں پڑھ کر سنا دیں گے اور وہ بہائم بھی حرام سمجھو جن کو ہمارا رسول تم کو وقتاً فوقتاً بتاتا رہے اور اس کی شریعت کے اصول سے جن بہائم کی حرمت ثابت ہوتی ہو لیکن حالت احرام میں یا حرم میں شکار کرنا حرام ہے اور اسی طرح احرام کی حالت میں کئے ہوئے شکار اور حرم کے شکار کا گوشت کھانا بھی حرام ہے اور دیکھو اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دے دیتا ہے وہ جس جانور کو چاہے حرام کر دے اور جس کو چاہے ہمیشہ کے حلال کر دے اور جس حرام کو چاہے حالت اضطرار میں حلال کر دے۔ غرض ! وہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے تم کو ہر حال میں اس کے حکم کی تعمیل کرنی چاہئے اس کا ہر حکم حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے جو چیزیں حرام کی ہیں ان میں سے کوئی انسانی صحت کے لئے مضر ہے۔ کوئی انسانی اخلاق کو بگاڑنے والی ہے۔ لہٰذا تم ان چیزوں سے جن کو اس نے حرام کیا ہے پرہیز کرو۔ اس آیت میں حلال پرندوں کا ذکر نہیں ہے اور دوسرے اولہ شرعیہ سے معلوم ہو سکیں گے۔ اسی طرح جو پرندے حرام ہیں ان کا حکم بھی دوسرے دلائل شرعیہ سے معلوم ہو سکے گا۔ آیت ترکیب کے اعتبار سے اور اپنے مفہوم کے اعتبار سے عجیب و غریب آیت ہے۔ ایک قصہ اس آیت کے سلسلے میں یاد آگیا کہ کسی صاحب نے ایک فلسفی کو قرآن شریف دے کر کہا کہ اے حکیم ہم کو اس کتاب کا جواب لکھوانا ہے۔ اس طبیب نے کہا رکھ جائو جواب لکھ دیا جائے گا۔ چند دن کے بعد وہ صاحب اس فلسفی کے پاس گئے اور ان سے کہا جناب نے اس کا جواب لکھ دیا ہو تو دے دیجیے۔ اس فلسفی نے کہا بھائی میں اس کے جواب کی قدرت نہیں رکھتا اور میرے خیال میں کوئی بھی اس کا جواب نہیں لکھ سکتا میں نے اس کو کھولا تو میری نظر سورة مائدہ پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ دو سطروں میں عہد کا پورا کرنا اور نقض عہد سے بچنا بھی ہے عام تحلیل بہائم کا اعلان بھی ہے استثنا بھی ہے پھر حالت احرام میں شکار کی حرمت بھی ہے پھر آخر میں اپنی قدرت اور حکمت کا اظہار بھی ہے۔ دو سطروں میں اس قدر مضامین اور مسائل کا بیان و اظہار کسی انسان کے لئے ناممکن ہے ہم نے تیسیر اور تسہیل میں اس امر کی رعایت رکھی ہے کہ آیت کی ترکیب آسانی سے ہو سکے۔ حنفیہ نے اوفوا بالعقود سے استدلال کیا ہے کہ عقد بالبیع کا پورا کرنا ضروری ہے اگرچہ تفرق بالا بدان نہ ہو۔ (واللہ اعلم) اب آگے حرم اور دوسرے شعائر کے اور آداب بیان فرمائے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

ترجمہ :- اے ایمان والو اللہ کے مقرر کردہ نشانات کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ اس قربانی کی جو حرم میں لیجائی جا رہی ہو اور نہ ان قربانیوں کی جن کے گلے میں قلاوہ پڑا ہوا ہو اور نہ ان لوگوں کی جو اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی طلب کرنے کعبہ کے ارادے سے جا رہے ہوں ۔1 اور جب تم حلال ہو جائو تو پھر شکار کرلیا کرو۔ اور وہ لوگ جن سے تم کو اس بنا پر دشمنی ہے کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا یہ دشمنی تم کو اس پر برانگیختہ نہ کردے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی آپس میں مدد کیا کرو اور گناہ اور فلم کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے ۔2

ف 1 اے ایمان والو ! شعائر الٰہی کو حلال نہ کرلو، یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نشانات کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی بےحرمتی کرو۔ یعنی رجب، ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم ان مہینوں کا ادب ملحوظ رکھو اور نہ اس قربانی کے جانور کی بےحرمتی کرو جو حرم میں قربانی کرنے کے لئے لے جایا جا رہا ہوں اور نہ ان قربانی کے جانوروں کی بےحرمتی کرو جن کے گلے میں قلاوہ یعنی چمڑے کے پٹے یا کوئی اور چیز علامت کے طور پر پڑی ہوئی ہو اور نہ ان لوگوں کی بےحرمتی کرو جو بیت الحرام یعنی کعبہ کی زیارت کے ارادے سے جا رہے ہوں اور ان کی حالت یہ ہو کہ وہ اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا مندی کے طالب ہوں۔ (تیسیر) شعائر یا تو شعیرہ کی جمع ہے یا شعارہ کی جیسا کہ ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں۔ یہاں مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ادب قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ احکام مقرر فرمائے ہیں۔ یہ چیزیں خواہ زمان سے تعلق رکھتی ہوں جیسے اشہر حرم اور خواہ مکان سے تعلق رکھتی ہوں جیسے صفا اور مروہ یا اعمال سے تعلق رکھتی ہوں جیسے مناسک حج وغیرہ ان چیزوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو احاکم مقرر کئے ہیں ان احکام کی خلاف ورزی ان چیزوں کی بےادبی ہے۔ اوپر کی آیت میں احرام اور حرم کا ادب سکھایا تھا کہ شکار نہ کرو اب بعض اور شعائر کے احترام کی جانب تو جہ دلائی ۔ شھرحرام سے وہی چار مہینے مراد ہیں جو ہم نے تیسیر میں عرض کردیئے ان مہینوں کی حرمت کا یہ مطلب ی ہے کہ ان میں بلا وجہ کافروں کے ساتھ قتال کی ابتدا نہ کرو۔ جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اگرچہ اب ان مہینوں کی حوہ حرمت باقی نہیں رہی لیکن پھر بھی ابتدا بالقتال کرنے میں احتیاط کرنا چاہئے۔ ہدی سے مراد وہ جانور ہے جو اللہ تعالیٰ کی نذر کے لئے حرم کی طرف لے جایا جا رہا ہو خواہ وہ اونٹ ہو یا گائے یا بکری اور بھیڑ وغیرہ ہو اس ہدی کی حرمت سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسی ہدی کو جو حرم کی جانب لے جاتی جا رہی ہو۔ مزاحمت نہ کی جائے قلاوہ کی جمع قلائد ہے قلاوہ اس چیز کو کہتے ہیں جو گلے میں لٹکائی جائے۔ خواہ وہ کوئی زیور ہو یا تعویذ ہو، یا کوئی اور چیز ہو۔ ہدی کی دو صورتیں ہیں ایک وہ جس کے گلے میں قلاوہ نہ ہو اور ایک وہ جس کے گلے میں قلاوہ پڑا ہوا ہے یہ قلاوہ چمڑے کا ہو یا کسی اور چیز کا پٹہ پڑا ہوا ہو۔ یہاں مراد وہ ہدی ہے جس کے گلے میں پٹہ پڑا ہوا ہو۔ یا ہوسکتا ہے کہ وہ پٹے ہی مراد ہوں اور یہ بھی کہ پٹے والی ہدی کو لے جانے والے مراد ہوں۔ بہرحال تینوں معنی کی گنجائش ہے اور ہر تقدیر پر بےادبی کے الگ الگ معنی ہوسکتے ہیں۔ مثلاً پٹے کی بےحرمتی یہ کہ پٹے کا ڈالنا ترک نہ کرو اور اس سے تمہاری ہدی مامون رہے گی نیز قلاوہ دیکھ کر دوسروں کو بھی ہدی لے جانے کا شوق ہوگا اور اگر ہدی مراد ہو تو اس کی حرمت کا یہ مطلب ہے کہ ہدی کو نقصان نہ پہنچائو وہ قلادے والی ہو یا بےقلادے کی ہو اور اگر ہدی لے جانے والے لوگ ہوں تو ان کی حرمت کا یہ مطلب ہے کہ ان کے راستے میں مزاحمت نہ کرو اور ان کو اپنی ہدی کو حرم میں لے جا کر قربان کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالو اور چونکہ بعض لوگ بغیر ہدی کے بھی جاتے تھے۔ اس لئے آگے فرمایا جو لوگ کعبہ کی زیارت کے ارادے سے جا رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا کے جو یاں ہوں ان سے بھی مزاحمت نہ کرو خواہ وہ کافر ہی ہوں یہ حکم اس وقت تھا جب تک سورة توبہ نازل نہیں ہوئی تھی اور مشرکین کا داخلہ حرم میں بند نہیں ہوا تھا یہ قلاوہ ڈالنے کا پرانا دستور تھا عرب کے لوگ اشہر حرام میں اپنے گلے میں بھی کوئی چیز لٹکا لیا کرتے تھے تاکہ محفوظ اور مامون رہیں اور کوئی ان کو قتل نہ کرے بعض لوگ حرم کے درختوں کی چھال کا ہار بنا کر گلے میں ڈال لیا کرتے تھے اور یہ امن کی علامت ہوتی تھی اور اہل حرم ہونے کا نشان ہوتا تھا اور اس وجہ سے ان پر کوئی حملہ نہ کرتا تھا۔ پھر یہی قلاوہ ان جانوروں کے لئے بھی استعمال ہونے لگا جو حرم میں قربان کرنے کو لے جاتے تھے جو جانور بڑا ہو جیسے اونٹ یا گائے تو اس کا تھوڑا سا خون نکال کر اس قلادے کو اس خون میں رنگ لیا جائے اس کو شعار کہتے ہیں امام ابوحنیفہ نے ایسے شعار کو من کیا ہے جس سے جانور کو زیادہ تکلیف پہونچتی ہو۔ اسی لئے ہم نے عرض کیا ہے کہ تھوڑا سا خون نکالے اور قلاوہ پر اس خون کا نشان لگا دے ۔ کہتے ہیں یہ آیت خطیم بن ہند بکری جس کا اصلی نام شریح بن ضبیعتہ الکبری ہے اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے مدینہ کی چراگاہ میں سے مویشی لوٹ لئے تھے۔ حضور ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا لقددخل بوجہ کافرو خرج بقضا غادر۔ یعنی ہمارے پاس کافر ہی داخل ہوا اور واپس ہوتے وقت بد عہدی اور غدر کر کے گیا۔ پھر وہ دوسرے سال حج یا عمرہ کرنے نکلا تو اس کے ہمراہ ہدی کے جانور بھی تھے جن کے قلادے پڑے ہوئے تھے لوگوں نے حضور ﷺ سے اس کے لوٹنے کی اجازت طلب کی مگر حضور ﷺ نے مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا اور ہر قسم کی مزاحمت سے روک دیا اس پر ہی یہ آیت نازل ہوئی۔ فضل سے مراد بعض لوگوں نے تجارتی سامان لیا ہے اور رضوان سے مراد بعض نے حج یا عمرہ لیا ہے بہرحال آیت میں ہر قسم کی گنجائش ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو حرم محترم کے لئے سفر کرتا تھا اس کا مقصد حضرت حق کا فضل اور اس کی رضا جوئی ہوتا تھا۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو ! جن مقامات اور جن دنوں کی ہم نے جو عظمت رکھی ہے اور ان کے ادب و احترام کے بارے میں جو احکام ہم نے مقرر کردیئے ہیں ان کو بجا لائو اور ان کی خلاف ورزی نہ کرو کیونکہ یہ احکام کی خلاف ورزی کرنا ہی ان شعائر کی بےادبی اور بےحرمتی ہے۔ لہٰذا شعائر اللہ کی بےحرمتی اور بےادبی سے بچو اور اشہر حرم کی بےحرمتی نہ کرو کہ ان میں خوامخواہ کفار سے لڑنے لگو اور نہ اس جانور کو جو اللہ کے لئے قربانی کرنے کو حرم کی جانب لے جایا جا رہا ہو اور نہ اس جانور کو روکو جس کے گلے میں اس غرض کے لئے کسی قسم کا پٹہ وغیرہ ڈال رکھا ہو تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ جانور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کیا جانے والا ہے اور نہ ان لوگوں کی راہ میں کوئی مزاحمت کرو جو بیت الحرام یعنی خانہ کعبہ کی زیارت اور حج و عمرے وغیرہ کے ارادہ سے جا رہے ہوں اور اپنے پروردگار کی مرضی اور اس کے فضل کے جویاں اور متلاشی ہوں اب آگے اس سلسلے میں چند اور احکام کا بیان ہے۔ (تسہیل) 2 اور جب حلال ہو جائو اور احرام سے باہر آ جائو تو تم کو اختیار ہے اگر چاہو تو حرم سے باہر شکار کرلو اور دیکھو وہ لوگ جن سے تم کو اس بنا پر دشمنی ہے کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا اور عمرہ کرنے نہیں دیا تھا اور حدیبیہ میں روک دیا تھا تو وہ دشمنی تم کو اس امر پر برانگیختہ نہ کر دے کہ تم ان پر زیادتی نہ کرنے لگو اور جو احکام ہم نے تم کو دیئے ہیں ان کی خلاف ورزی کر کے حد سے آگے بڑھ جائو اور دیکھو نیکی اور تقوے کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا کرو اور ایک دوسرے کی آپس میں مدد کیا کر ہاں ! گناہ اور زیادتی کی باتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کیا کرو اور ایک دوسرے کی اعانت نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کا یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ (تیسیر) جرم، اجرام آمادہ کرنا برانگیختہ کرنا، ابھارنا، شنآن، بغض ، دشمنی ، عداوت کسب، صد، روکنا مسجد حرام بیت اللہ، حرم کعبہ، اعتداء حد سے بڑھ جانا تعاون باہم ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ۔ حلال نہ سمجھو یعنی ہاتھ نہ ڈالو اللہ کے نام کی چیزوں پر یعنی کافر بھی اگر نیاز کعبہ لاویں تو لوٹ مت لو اور ماہ حرام میں ان کو نہ مارو اور لٹکنے والیاں بھی وہی قربانی کے جانور ہیں کہ مکہ کو لے جاتے ہیں نشان کر اور فرمایا کہ کافروں نے تم کو روکا تھا مسجد سے تم زیادتی نہ کرو یعنی آنے کو نہ روکو۔ باقی آگے سے منع کرو کہ کافر نہ آوے تو یہ روا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر جس کام میں اللہ کی تعظیم کرے اس کام کو فضیحت نہ کرے مگر جو بت کی تعظیم کرے تو البتہ اہانت کرے۔ (موضح القرآن) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے بعض حصہ کا علق حطیم کندی کے ساتھ ہے اور بعض حصہ دوسرے مشرکین کے بارے میں ہے، جیسا کہ ابن جریر نے کہا ہے کہ 6 سنہ میں جب مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے حدیبیہ میں روکا تھا تو اس پر مسلمانوں کو بہت غصہ اور رنج تھا چناچہ اہل مشرق کے کچھ کافر عمرہ کرنے جا رہے تھے۔ مدینہ کے مسلمانوں نے چاہا کہ ہم بھی ان کو روکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے ہ اگر کافروں نے تم کو مسجد حرام میں جانے سے روکا تھا اور تم کو اس بنا پر ان سے دشمنی ہے تو یہ دشمنی تم کو اس امر پر آمادہ نہ کر دے کہ تم بھی ان پر زیادتی کرو بہرحال آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم حلال ہو جائو اور احرام سے نکل جائو تو تم کو اجازت ہے کہ تم چاہو تو شکار کرو۔ البتہ حرم میں شکار کرنا بدستور ممنوع ہے اور اس بغض کی وجہ سے کہ تم کو کافروں نے مسجد حرام میں جانے سے روکا تھا اور حدیبیہ کے سال میں تم کو عمرہ ادا کرنے نہیں دیا تھا اس لئے یہ دشمنی اس کا سبب نہ بن جائے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے تجاوز کر بیٹھو اور کسی کی ہدی چھین لو۔ یا کسی کو مکہ جانے سے روک دو اور اپنا انتقام لینے پر تیار ہو جائو اور اگر کوئی شخص بر اور تقویٰ کا کام کرے تو اس میں تعاون اور ایک دوسرے کی امداد کیا کرو۔ خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ گناہ اور ظلم و زیادتی پر باہم ایک دوسرے کی اعانت نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تمام احکام کی پابندی آسان اور سہل ہوجاتی ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے الم اور عدوان ہر قسم کے مہیات کو شامل ہے جس طرح بر اور تقویٰ تمام اوامر کو شامل ہے۔ سبحان اللہ ! کیا تعلیم ہے اور کیا جامع الفاظ ہیں اور کس قدر بلند اخلاق سکھائے گئے ہیں۔ عام طور پر انسانی طبیعت غصہ اور دشمنی میں حد سے تجاوز کرنے پر مجبور کردیتی ہے اور عام طبائع کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ چاہے کچھ ہوجائے ہم اپنا بدلہ لے لیں ایک طرف کفار کی تعدی ہے اور دوسری طرف اسلامی اخلاق ہے خطیم مدینہ میں آتا ہے اور جاتے وقت مدینہ والوں کے جانور لے کر چلا جاتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ارشاد ہوتا ہے کہ تم ان کے جانوروں کو نہیں چھین سکتے کیونکہ اگر چہ وہ کافر ہیں لیکن ایک نیک مقصد کے لئے جانور لے جا رہے ہیں تاکہ حرم میں اللہ کے نام پر قربان کریں اس لئے تم کو مداخلت کا حق نہیں۔ اسی طرح کفار مکہ مسلمانوں کو حدیبیہ میں روکتے ہیں اور ان کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیتے اور مسلمانوں کو مجبوراً حدیبیہ میں احرام کھولنا پڑتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ تم مکہ جانیوالوں کو روکو اور مدینہ کے پاس سے جو کافر مکہ جا رہے ہوں ان کو تکلیف پہنچائو۔ یہ ہے وہ عدل و انصاف کی تعلیم جو قرآن کریم میں تو موجود ہے لیکن مسلمان اس سے نا آشنا ہیں پھر ایک ضابطہ مقرر کردیا کہ بھلا کام اور پرہیز گاری کی بات بہرحال بھلی ہے وہ کوئی بھی کرے اس میں تعاون کرو اور یہ کہہ کر الگ نہ ہو جائو کہ یہ بھلا کام کرنے الا کافر ہے ہم اس سے تعاون کیوں کریں اور برا کام اور ظلم و گناہ بہرحال برا ہے اس میں کسی سے تعاون نہ کرو خواہ اس اثم اور عدوان کا مرتکب کوئی مسلمان ہی کیوں نہ ہو اس سے یہ کہ علیحدہ ہو جائو کہ ہم گناہ اور ظلم میں تعاون نہیں کرسکتے اور چونکہ ان تمام بےاحتیاطیوں اور بد اخلاقیوں کی اصل وجہ تقویٰ کا فقدان ہے اس لئے فرمایا کہ خدا سے ڈرتے رہو اگر دل میں خدا کا خوف ہوگا تو کسی نا مناسب بات کا اور کسی اخلاق سے گری ہوئی بات کا وقوع تم سے نہیں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی سخت گیری اور سزا کی شدت سے ڈرایا کہ اگر ظلم وعدوان کی حمایت کرو گے تو عدل و انصاف کو کسی دشمنی کے باعث نظر انداز کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی گرفت بڑی سخت ہے جب وہ اس قسم کی نامناسب اور نازیبا حرکات پر کسی کو پکڑتا ہے تو اپنی گرفت کو ڈھیلا نہیں کرتا۔ حدیث شریف میں آتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے بر وہ ہے جس سے قلب کو اطمینان حاصل ہو اور نفس اس سے مطمئن ہو اور اثم وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور سینہ میں اس سے تردد اور بےچینی ہو نو اس بن سموان کی روایت میں ہے میں نے حضور ﷺ سے بر اور اثم کو دریافت کیا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اخلاق کی خوبی اور بلند ی کا نام بر ہے اور اثم وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور جس سے جی میں کھٹک پیدا ہو اور تو اس پر لوگوں کے مطلع ہونے کو ناپسند رکھے، یعنی دل میں چبھے اور ساتھ ہی یہ خیال آئے کہ کسی کو اس کام کی خبر نہ ہوجائے ابو امامہ کی روایت میں ہے میں نے پوچھا حضور ! اثم یعنی گناہ کیا ہے فرمایا جو بات دل میں کھٹکے اسے چھوڑ دیا کہ پھر میں نے عرض کیا ایمان کیا ہے فرمایا جب نیکی کر کے دل خوش ہو اور برائی کر کے دل ملول ہو تو بس تو مومن ہے کلمات نبوت کس قدر جامع کہ ان کی تعریف کے لئے بہت سے اوراق کی ضرورت ہے۔ اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ وہ بہائم حلال نہ ہوں گے جن کی حرمت ہم تم کو پڑھ کر سنا دیں گے۔ چنانچہ آگے ان جانوروں کا اور ان کے ساتھ بعض اور چیزوں کی حرمت کا اعلان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مرا ہوا جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے وہ وہ جانور بھی (جو تقرب کی نیت سے) اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نامز د کیا گیا ہو اور وہ بھی جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور جو کسی چوٹ سے مرجائے اور جو بلندی سے گر کر مرا ہو اور جو کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جو کسی درندے کے کھانے سے مرجائے مگر یہ کہ تم ان کے مرنے سے پہلے ان کو ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو بتوں کے کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی حرام ہے کہ تم فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرو یہ فال کے تیروں سے فیصلہ کرانا گناہ ہے آج کافر تمہارے دین کی طرف سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو1 آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دای ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کردی ہے اور میں نے تمہارے لئے پسند کیا اسلام کو دین پھر جو شخ سخت بھوک کی وجہ سے مجبور ہوجائے بشرطیکہ وہ گناہ کی طرف مائل ہونیوالا نہ ہو تو یقینا اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے2

ف 1 اے مسلمانو ! تم پر وہ مرا ہوا جانور جو بغیر ذبح کے اپنی موت سے مرجائے اور بہتا ہوا خون اور سئور کا گوشت حرام کردیا گیا ہے اور وہ جانور بھی جو تقرب کی نیت سے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نامزد کردیا گیا ہو اور وہ جانور بھی جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور نیز وہ جو کسی ضرب اور چوٹ سے مرجائے اور وہ بھی جو بلندی سے گر کر مرجائے اور وہ جانور بھی جو کسی دوسرے جانور کی ٹکر اور سینگ مارنے سے مرجائے اور وہ جانور بھی جس کو کوئی درندہ کھالے اور وہ مرجائے مگر ہاں وہ جانور اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کو تم ان کے مرنے سے پہلے پہلے شرعی طریقہ پر ذبح کرلو۔ یعنی منخنقہ سے لیکر ما اکل السبع تک جان جانوروں کو مرنے سے پہلے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرلو تو ان کا کھانا جائز ہے اور وہ جانور بھی تم پر حرام کیا گیا ہے جو بتوں یعنی غیر اللہ کے کسی تھان اور کسی پرستش گاہ پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی حرام ہے کہ تم فال کی تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرو اور گوشت کی تقسیم قرعہ اندازی کے تیروں کے ذریعہ کرو یہ فال کے تیروں سے فصلہ اور استسقام گناہ اور حرام کام ہے آج کافر لوگ تمہارے دین کے کمزور اور مغلوب ہونے سے مایوس ہوگئے لہٰذا تم ان کفار سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرتے رہو۔ (تیسیر) میتۃ جو اپنی طبعی موت سے مرجائے یا کسی بیماری کی وجہ سے مرجائے یعنی بغیر ذبح کے جو جانور اپنی موت سے مرجائے خون سے مراد دم سائل ہے جس کو آٹھویں پارے میں دم مسفوح فرمایا ہے یعنی بہنے والا خون سئور کے گوشت سے مراد اس کے تمام اجزاء ہیں چونکہ گوشت کو غذا میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے اس لئے گوشت کا ذکر فرمایا۔ اھلال کے معنی پر دوسرے پارے میں بحث ہوچکی ہے۔ اھلال کے معنی ہیں رفع الصوت اس معنی کی مناسبت سے ہم نے ترجمہ کیا ہے آواز بلند کرنے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے یا اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام شریک کیا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ جانور کو تقرب کی نیت سے کسی غیر اللہ کے نام زد کردیا اجئے۔ جیسے شیخ سدو کے نام کا مرغا یا بکرا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بلا نیت تقرب محض ملکیت کی وجہ سے کسی شخص کے ساتھ منسوب کردیا جائے مثلاً عبداللہ کی بکری یا حافظ جی کا بکرا۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ ایصال ثواب کی غرض سے کسی شخص کے ساتھ منسوب کردیا جائے مثلاً اس جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کا ثواب فلاں شخص کو پہونچائے گا اسی طرح ذبح کرتے وقت یہ کہہ دینا ۔ اللھم تقبل منی یا اللھم تقبل من فلان غرض ! یہ کہ ان تمام صورتوں میں پلہی صورت بالاتفاق حرام ہے کہ ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے اور دوسری صورت یہ کہ تقرب کی نیت سے غیر اللہ کے نامزد کیا جائے خواہ ذبح کرتے وقت بس اللہ اللہ اکبر ہی کہا جائے یہ صورت علمائے محققین کے نزدیک بالاتفاق حرام ہے اور اس جانور کا گوشت کھانا حرام ہے اور یہی اپنے اکابر کا مسلک ہے ۔ البتہ اس زمانہ کے بعض مبتدعین نے علماء محققین سے اختلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس جانور کا گوشت کھانا حرام نہیں ہے۔ باقی سب صورتیں بالاتفاق جائز ہیں، بشرطیکہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیکر ذبح کیا اجئے۔ تقرب اور اس کی نیت وغیرہ کی مفصل بحث دوسرے پارے میں دیکھ لی جائے۔ گلا گھونٹنے کا مطلب یہ ہے کہ جانور کا گلا کسی طرح گھٹ جائے یا کوئی گھوٹ دے موقوذہ کسی جانور کو لاٹھی وغیرہ ماری جائے اور وہ اس ضرب سے مرجائے متردیہ کا یہ مطلب ہے کہ پہاڑ پر سے گر کر مرجائے یا کسی اور مقام سے گرپڑے اور مرجائے نطیحہ جانور آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کے ٹکر مار دی یا سینگ مار دیا اور وہ مرگیا۔ نطح کے معنی سینگ مارنا سبع کچلیوں والا درندہ جو بہائم اور انسان کے پیچھے دوڑتا ہے اور حملہ کر کے پھاڑ ڈالتا ہے اس درندے نے کسی جانور کو پھاڑ ڈالا یا اس میں سے کوئی حصہ نوچ کر کھا گیا اور وہ جانور اس صدمہ سے مرگیا۔ تذکیہ کے معنی ہیں اتمام یہاد مراد ہے۔ اتمام الحیات یعنی کسی کی حرارۃ غریز یہ کو ختم کردینا اور شرعی طریقہ سے ذبح یا نحر کر کے اس کی زندگی کو ختم کردینا۔ صحیح طریقہ ذبح کا یہ ہے کہ گلے کی چار رگیں کٹ جائیں ایک حلقوم جس میں سانس آتا جاتا ہے ایک مری جس میں سے چارہ اور پانی اترتا ہے اور دو دو جان جن میں خون کی آمد و رفت رہتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک زکوۃ میں ان چاروں کا کٹنا ضروری ہے۔ امام شافعی کے نزدیک دو کا کٹ جانا کافی ہے یعنی حلقوم اور مری ان دونوں نالیوں کا کٹ جانا زکوۃ کے لئے کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا ضروری ہے خواہ وہ تین کوئی سی ہوں امام ابو یوسف کا قول ہے کہ تین رگوں کا کٹ جانا کافی ہے لیکن وہ تین رگیں یہ ہوں۔ حلقوم مری اور وہ جان میں سے ایک مزید تفصیلات ذبح کی کتب فقہ میں تلاش کیجیے نصب یا تو جمع ہے نصاب کی یا انصاب کا واحد ہے۔ بہرحال یہ وہ پتھر ہیں جہاں زمانہ جاہلیت میں جانوروں کو ذبح کیا کرتے تھے اور اس مقام کی عظمت کا خیال رکھ کر وہاں ذبح ضروری خیال کرتے تھے یہ پتھر کعبہ کے آس پاس گاڑ رکھے تھے اور ہوسکتا ہے کہ بتوں کے آگے ذبح کرنا آج کل بھی بتوں کے تھان اور مڈھی پر کافر جانور ذبح کرتے ہیں اور اسی طرح جاہل مسلمان بعض بزرگوں کے مزار پر یا تو سیتلا کے تھان پر یا بعض بزرگوں کے مکان پر لے جا کر جانوروں کو ذبح کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مقصود ان مقامات پر ذبح کرنے سے مقامات کی تعظیم ہوتی ہے اور اوپر جو ما اھل فرمایا تھا اس میں اور اس شکل میں تھوڑا سا فرق ہے۔ وہاں تو تقریب کی نیت سے غیر اللہ کے نام سے نامزد کرنا تھا اور یہاں اگرچہ غیر اللہ کے نام پر نامزد نہ کیا جائے تب بھی غیر اللہ کے کسی مقام کی عظمت کا لحاظ رکھ کر جانور قربان کرنا موجب حرمت ہے۔ استسقام زمانہ جاہلیت میں تیروں کے فال کھولنے کا ایک طریقہ تھا چند تیر ایک تھیلی میں رکھ چھوڑے تھے ایک پر لکھا تھا کہ اس کام کو کرلو ۔ دوسرے پر لکھا تھا نہ کرو تیسرا خالی تھا جب کوئی اہم کام پیش آتا تھا تو ان تیروں کو استعمال کرتے تھے۔ ہبل جو مکہ والوں کا بڑا بت تھا اس کے آگے بیٹھ جاتے تھے اور ان تیروں کو جن میں دھار وغیرہ نہیں ہوتی تھی تھیلی میں سے ناکل کر استعمال کرتے تھے اور جو بات معلوم ہوجاتی تھی اس پر عمل کرلیا کرتے تھے اور اس کی کچھ فیس بھی مقرر کر رکھی تھی جو اس مجاور کو دیا کرتے تھے جو یہ تیر تھیلی میں سے نکال کر پھینکا کرتا تھا۔ غرض یہ ایک طریقہ فال کا تھا اور ہوسکتا ہے کہ گوشت کی تقسیم کا یہ طریقہ ہو۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے اور ان تیروں کو پانسو کی طرح اس کا استعمال کرتے ہوں جس کے نام پر جو حصہ نکل آیا وہ اس کو دے دیا اور جس کا پانسہ خالی نکلا اس کو کچھ نہیں دیا۔ غرض ! یہ ایک جوئے اور قمار کی صورت تھی جس کو حرام کیا گیا ہم نے دونوں قول تیسیر میں اختیار کر لئے ہیں اگرچہ تفاسیر سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ کفار مکہ کا یہ عام طریقہ تھا کہ وہ اپنے معاملات میں ان لکھے اور بےلکھے تیروں سے فیصلہ کیا کرتے تھے اور اس فیصلہ کو ایک یقینی اور حتمی فیصلہ سمجھ کر اس پر عمل کیا کرتے تھے خواہ سفر میں جانا وہ نکاح کرنا یا کسی چیز کی تقسیم ہو تمام موقعوں پر ان تیروں سے فال لیکر اس کام کو کرتے تھے ۔ زلم سے مراد یہاں وہ تیر ہیں جو اس کام کے لئے رکھے تھے سعید بن جبیر کا قول ہے کہ یہ سفید رنگ کی کنکریاں تھیں مجاہد نے کہا یہ پانسے تھے شعبی نے کہا عجم میں اس کو کعاب کہتے ہیں۔ عرب اس کو از لام کہتے ہیں۔ (واللہ اعلم) بعض حضرات نے ان تیروں کی تعداد سات بتائی ہے اور یہ صورت بہرحال قرعئہ شرعی کی صورت سے بالکل مفائر تھی ذلکم فسق کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا یعنی یہ استسقام فسق اور حرام ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو باتیں اوپر حرام فرمائی ہیں ان سب کی طرف اشارہ ہو اور یہ مطلب ہو کہ یہ سب مذکورہ چیزیں فسق اور حرام ہیں چونکہ سورة مائدہ سن 9 ھ میں نازل ہوئی ہے اور وہ مسلمانوں کی پوری ترقی کا دور تھا اور عرب میں پوری دھاک بیٹھ چکی تھی اس لئے احکام کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ کافروں کو اب اپنے غلبہ کی کوئی توقع باقی نہیں رہی سو تم ان کا خوف نہ کرو اور میرے خوف سے بےخوف نہ ہو کیونکہ جو نعمت ہم نے عطا فرمائی ہے وہ سب تقویٰ کی برکت سے میسر ہوئی ہے اگر ناشکری کرو گے اور مجھ سے بےخوف ہو جائو گے جو نافرمانی کی دلیل ہے تو میں اپنی نعمت کو سلب کرلوں گا۔ الیوم جس کا ترجمہ ہم نے آج کیا ہے اس سے مراد زمانہ ہے جس میں تم آج گزر رہے ہو ایک ایسا دور ہے۔ آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مسلمانو ! جن چیزوں کی حرمت کے بیان کا ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا وہ یہ ہیں سن لو ! تم پر اس جانور کا کھانا حرام کردیا گیا ہے جو بغیر ذبح کے اپنی موت سے خود مرجائے اور بہتا خون یعنی تلی اور کلیجی نہیں اور سئور کا گوشت یعنی اس کے تمام اجزا بھی تم پر حرام کردیئے گئے اور وہ جانور بھی حرام کردیا گیا جو غیر اللہ کے نام پر تقرب کی نیت سے ذبح کرو اور وہ جانور بھی جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور وہ بھی حرام کردیا جو کسی ضرب سے مرجائے اور وہ بھی جو گر کر مرجائے اور وہ بھی جو کسی کے سینگ مارنے سے مرجائے اور وہ بھی جس کو درندہ پھاڑ ڈالے اور اس کا کچھ حصہ کھالے اور وہ جانور اس صدمہ سے مرجائے مگر ہاں ! ان میں سے جن جانوروں کو تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو اور قواعد شرعیہ کے مطابق تکبیر پڑھ کر گلے پر چھری پھیر دو یا اونٹ ہو تو اس کو نحر کرلو تو وہ اس حرمت سے مستثنیٰ ہے اور اسی طرح غیر اللہ کی پرستش گاہوں پر جو جانور ذبح کیا جائے اس کا کھانا بھی حرام ہے اور تیروں سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرنا یہ بھی تم پر حرام کردیا گیا یہ سب چیزیں فسق اور گناہ کے کام ہیں۔ اب کافر تمہارے مغلوب اور کمزور ہونے سے ناامید ہوچکے ہیں لہٰذا تم ان سے بالکل خوف نہ کھائو اور میرے سے ڈرتے رہو جن چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ انسانی صحت کے لئے اور انسانی اخلاق کے لئے اور انسانی عقائد کے لئے سخت مضر اور نقصان دہ ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو اپنے بندوں پر حرام فرما دیا جن کا اثر یا تو انسان کی صحت پر پڑتا ہے یا ان کا اثر انسان کے اخلاق پر پڑتا ہے جیسا سئور کھانیوالوں میں انتہائی بےغیرتی اور بےشرمی نمایاں ہے۔ اسی طرح بعض چیزوں کا عقائد پر اثر پڑتا ہے اور غیر اللہ کی تعظیم کا عقیدہ اللہ کی تعظیم سے مل جاتا ہے اس لئے ان سب باتوں کو حرام فرما دیا اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں کفار استعمال کرتے تھے اور آج کل بھی ہمارے بلاد کے کفار اس میں مبتلا ہیں اور یا وہ مسلمان مبتلا ہیں جو علم سے بےبہرہ اور کفار کے ہم صحبت ہیں اور اپنی جہالت کی وجہ سے اسلامی احکام اور کفار کی رسوم میں کوئی فرق نہیں کرتے اب آگے اپنے مزید احسانتا کا اظہار فرماتے ہوئے ان محرمات کی بعض صورتوں میں حسب ضرورت اجازت کا اظہار فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل) 2 آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو ہر اعتبار سے کامل کردیا یعنی باعتبار قوت و شوکت کے بھی اور با عتبار احکام کے بھی اور میں نے تم پر اپنا انعام پورا کردیا اور تمام ادیان میں سے میں نے تمہارے لئے اسلام کا دین ہونا پسند کیا پھر جو شخص سخت بھوک کی وجہ سے مذکورہ بالا اشیاء محرمہ میں سے کسی چیز کے کھانے پر مجبور ہوجائے بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو یعنی نہ ضرورت سے زیادہ کھائے اور نہ طالب لذت ہو تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) مخمصہ ، پیٹ کا غذا سے خالی ہونا۔ خمیص البطن ، بھوکا، جنف، میلان، مدعا یہ ہے کہ دین کے احکام و قواعد پوری طرح بیان کردیئے گئے اور اسلام کی قوت و شوکت پوری طرح نمایاں ہوگئی اس حالت کو دیکھ کر کفار عرب اپنے غلبہ سے مایوس ہوگئے اور اب ان کو اپنی حکومت کے واپس ہونے کی کوئی توقع نہیں رہی اور یہی وہ اکمال دین ہے کہ باعتبار غلبہ بھی کمال میسر ہوگیا اور مسائل و احکام کے اعتبار سے بھی دین کو کامل کرایا ، لہٰذا ! ایک طرف دین کی تکمیل ہوگئی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے انعام کی تکمیل فرما دی کیوں کہ دین کامل ہو اور دین پر عمل کرنے اور اس کے احکام کے اجرا کی طاقت ہو اس سے بڑھ کر اور کیا انعام ہوسکتا ہے دین ایسا جو کلیات و جزئیات کے اعتبار سے مکمل اور اقتدار ایسا کہ کوئی مخالف اب آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکتا۔ اسی کو فرمایا الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی مفسرین اور محدثین نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حجتہ الوداع کے موقعہ پر عصر کی نماز کے بعد نویں ذی الحجہ س 10 ھ کو نازل ہوئی اس دن جمعہ تھا اور نبی کریم ﷺ اس آیت کے نازل ہونے پر تقریباً اکیاسی دن یعنی کوئی تین مہینے زندہ رہے اور تقریباً تین ماہ کے بعد سکار دو عالم ﷺ کا وصال ہوگیا اور جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا تھا کہ آج سے مراد زمانہ ہے صرف دن نہیں ہے، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر اس آیت کے آگے پیچھے کوئی اور حکم نازل ہوا ہو اور کوئی آیت اتری ہو تو وہ اس اکمال کے منافی نہیں ہے کیونکہ الیوم کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا۔ ورضیت لکم الاسلام دینا کا مطلب یہ ہے کہ تمام ادیان مروجہ میں سے میں نے تمہارے لئے صرف اسلام کا دین ہونا پسند کیا یعنی تمہارے لئے یہ بات پسند کی کہ تمہارا دین اسلام ہی ہو جو صحیح اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ سعید بن جبر اور قتادہ نے کہا اکمال کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دین کو تمام ادیان پر غالب کردیا اور تم کو دشمنوں سے محفوظ کردیا یہود میں سے کسی شخص نے حضرت عمر سے کہا تھا کہ ایک آیت تمہارے قرآن میں ایسی ہے کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں ہوتی تو ہم اس دن عید منایا کرتے۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا وہ کون سی آیت ہے اس نے کہا ، الیوم اکملت لکم حضرت ؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ہے جمعہ کے دن عرفہ تھا حضور ﷺ اونٹنی پر سوار تھے عصر کے بعد کا وقت تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی اونٹنی پر اس وقت اتنا بوجھ تھا کہ اس کے بازو ٹوٹے جاتے تھے بعض روایت میں آتا ہے کہ آخر اونٹنی بیٹھ گئی اونٹنی کا نام عضبا تھا۔ غرض ! ہمیں عید منانے کی کیا ضرورت ہے آیت ہی عید کے دن نازل ہوئی ہے بلکہ اس دن دو عیدیں تھیں ایک عرفہ اور ایک جمعہ۔ ہارون بن غزہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر رونے لگے میں نے پوچھا۔ اے عمر ! کیا بات ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا اب تک ہمارے دین میں زیادتی ہو رہی تھی لیکن اب جب کہ وہ دین کامل ہوگیا تو جوشی کامل ہوجاتی ہے وہ گھٹنی شروع ہوجاتی ہے اس بات کو خیال کر کے رو رہاہوں۔ میرے والد نے کہا آپ کا رونا سچا ہے چناچہ اس آیت کے اکیاسی دن بعد نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی۔ فمن اضطر کا تعلق اوپر کے مضمون سے ہے کہ جن بہائم کی حرمت مذکور ہوئی ہے اگر کسی شخص پر ایسا وقت پڑے کہ سوائے مردار کے اور کچھ میسر نہ آئے اور بھوک کی وجہ سے بیقرار ہوجائے تو اس قدر کھا سکتا ہے کہ اپنی زنگدی کو باقی رکھ سکے اور محض لذت مقصود نہ ہو یعنی دو شرطیں ہیں ایک ضرورت کی مقدار سے زائد نہ ہو اور دوسرے طالب لذت نہ ہو حد رفت سے تجاوز کرنا بھی گناہ کی جانب مائل ہونا ہے اور مزے کو کھانا بھی گناہ کی طرف مائل ہونا ہے اس لئے ہم نے متجانف لاثم میں دونوں باتیں رکھی ہیں یہ مسئلہ دوسرے پارے میں بھی گذر چکا ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ غفور رحیم کا مطلب یہ ہے کہ کھانے میں کچھ کوتاہی ہوجائے گی جیسا کہ یہ ممکن ہے کہ بھوک میں صحیح اندازہ نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ صاحب مغفرت اور اس قسم کا حکم دینا اور بھوک کی حالت میں حرام ک و اس قدر کھا لینا کہ زندگی بچ جائے یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور شفقت ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ۔ مواشی میں یہ چیزیں حرام فرما دیں سئور اور ہر چیز کا لہو اور آپ سے مرا یا کسی طرح بغیر ذبح کے اور جو خدا کے بجائے کسی کے نام پر ذبح کیا اور جو کسی مکان کی تعظیم پر ذبح کیا سوائے خانہ خدا کے مگر یہ چیزیں مضطر کو معاف ہیں اور بانٹا کرنا پانسوں سے یہ کافروں کا ایک جوا تھا کہ شرط بدکر ایک جانور اس شخص نے خریدا اور ذبح کیا اور دس پانسے تھے کسی پر لکھا آدھا کسی پر پائو کم زیادہ کوئی خالی پھر بانٹنے لگے تو ہر ایک کے نام پر جو پانسا آیا وہی حصہ اس کو ملایا خالی نکل گیا۔ شرط بدنی تمام حرام ہے۔ یہ بھی اسی میں داخل ہے۔ (فائدہ) اس سے معلوم ہوا کہ غیر خد ا کے نام پر جانور ذبح ہوا یا غیر خدا کی تعظیم پر وہ مردار ہے ۔ فائدہ ! یہ جو فرمایا آج پورا دین تمہارا دے چکا یہ آیت آخر کو اتری ہے کہ سب احکام اللہ کے نازل ہوچکے تھے اس کے بعد تین مہینے حضرت زندہ رہے ہیں۔ (موضح القرآن) یہ ہوسکتا ہے کہ جوئے کے مختلف طریقے ہوں۔ ابن کثیر نے کئی روایتیں نقل کی ہیں بعض میں یہ بھی ہے کہ ان تیروں پر امرنی ربی اور نھانی ربی لکھا ہوا تھا امرنی کا تیر آیا تو اس کام کو کرلیا اور نھانی کا نکلا تو اس کام کو ترک کردیا۔ ہم نے ترجمہ میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ اور مولانا شاہ رفیع الدین کا قول اختیار ہے۔ حضرت شاہ صاحب کی عبارت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ سوائے خانہ خدا کے کسی مکان کی تعظیم کے خیال سے جو جانور ذبح کیا جائے اس کا کھانا بھی حرام ہے اور جو کسی غیر اللہ کے نام کی تعظیم کے خیال سے ذبح کیا جائے اس کا کھانا بھی حرام ہے۔ عام مفسرین نے جو ذبح کے وقت غیر اللہ کے نام کی قید لگائی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور سے کفار مکہ ذبح کے وقت لات اور عزی کا نام لیا کرتے تھے ، غیر اللہ کا نام دھر کر کسی جانور کو ذبح کرنا اگرچہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیا جائے اس کا کھانا بھی حرام ہے۔ نام دھرنے کا مطلب وہی ہے کہ غیر اللہ کے تقرب کی نیت ہو اور یہ تقرب الی غیر اللہ کی بات اس طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے نذر کے طور پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس میں نیت کیا ہوتی ہے۔ بس وہی نیت غیر اللہ کے بارے میں کرنی یہ حرام ہے کیونکہ تقرب الی اللہ کی نیت سے کوئی کام کرنا عبادت ہے اور عبادت غیر اللہ کی حرام ہے اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لو۔ جو جانور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے خواہ وہ غیر زندہ ہو یا مردہ ہو۔ یا کوئی بات ہو۔ یا دیوی ہو۔ اس کا کھانا حرام ہے۔ اگرچہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیکر اس کو ذبح کیا ہو اور یہ جو فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے اسلام کا دین ہو ناپسند کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک تمہارا یہی دین رہے گا کیونکہ اس کے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کوئی نئی شریعت آئے گی جو اس کو مسنوخ کرسکے۔ اب آگے بعض اور سوالات کا جواب ہے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے دریافت کیا تھا کہ ان جانوروں کے شکار کا کیا حکم ہے جن کو سدھا کر ان سے شکار کرایا جائے۔ اوپر کی آیت میں بعض محرمات کا ذکر تھا پھر ان میں اضطراری حالت کو مستثنا فرما دیا تھا باقی اصل بحث محرمات میں تھی اب انہی کی مناسبت سے بعض اشیاء کی حلت کا بیان فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال کی گئی ہے آپ کہہ دیجیے تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے شکار پر دوڑانے کو سدھایا ہو جب کہ تم نے ان کو وہ طریقے تعلیم کردیئے ہوں جو خدا نے تم کو بتا دیئے ہیں تو ایسے شکاری جانور جس شکار کو تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور شکاری جانور کو دوڑاتے وقت اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔3

ف 3 اے پیغمبر لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کیا چیز حلال کی گئی ہے آپ فرما دیجیے کہ تمہارے سب پاکیزہ ستھری اور حلال چیزیں حلال رکھی گئی ہیں اور ان شکاری جانوروں کا شکار بھی تمہارے لئے حلال ہے جن شکاری جانوروں کو تم نے شکار پر دوڑانے کو خاص طور پر سدھایا ہو ، جس کی شکل یہ ہے کہ تم ان شکاری جانوروں کو اس طریقہ پر شکار کرنا سکھائو جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تعلیم کردیا ہے ۔ یعنی شریعت کے موافق ان کو شکار کرنا سکھائو اور شکار پر سدھائو تو ایسے شکاری جانور جس شکار کو تمہارے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور شکاری جانور کو شکار پر دوڑاتے اور چھوڑتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر شکاری جانور کو شکار پر چھوڑ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلدی حساب لینے والا ہے۔ (تیسیر) جرح کے معنی ہیں کسب جیسا کہ فرمایا ویعلم ماجر حتم بالنھار ۔ اجتراح گناہ کمانا انسانی اعضا اعضا کو اسی بنا پر جوارح کہتے ہیں کہ وہ کا سب ہوتے ہیں جرح کے معنی ہیں جلد میں دوا کا اثر پہنچ جانا بولا کرتے ہیں جرحہ جوجاً فھو جریح و مجروح حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔ والجروح قصاص شکار کرنے والے کتے ، چیتے، باز اور شاہین وغیرہ کو بھی جارحہ کہتے ہیں کیونکہ یہ شکار کو زخمی کر کے مارتے ہیں مکلب کتوں کو شکار کرنے کے لئے سدھانے والا اور شکار کرنے کا طریقہ بتانے والا کثرت استعمال سے کتے کے علاوہ چیتے وغیرہ کو سدھا کر شکاری بنانے والے کو بھی مکلب کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ۔ مواشی کا حکم تو فرما دیا پھر لوگوں نے اور چیزوں کو پوچھا تو فرمایا کہ ستھری چیزیں تم کو حلال ہیں سو حضرت نے جو چیزیں منع فرمائیں معلوم ہوا کہ وہ ستھری نہیں جیسے پھاڑنے والا جانور چو پائے یا پرندہ مثلا ً شیر یا چیتا یا باز یا چیل اور اس میں داخل ہوئے مردار خوارسارے کوا وغیرہ اور جیسے گدھا اور خچر اور جیسے کیڑے زمین کے چوہا وغیرہ۔ (فائدہ) اور پہلے حرام فرمایا جس کو پھاڑنے والے نے کھایا اب اس میں سے شکار سے سدھے جانور کا مارا ہوا حلال کیا، جب اس نے آدمی کی خوسیکھی تو گویا آدمی نے ذبح کیا لیکن سدھرنا شرط ہے سدھا وہ کہ پکڑ کر رکھ چھوڑے آپ نہ کھاوے اور اللہ کا نام لینا شرط ہے دوڑانے کے وقت کہ اس کے بغیر درست نہیں مگر بھولے تو معاف ہے۔ (موضح القرآن) یہ آیت اصل میں عدی بن حاتم اور زید بن مہلل کے سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگ قبیلہ طے کے رہنے والے تھے اور اکثر شکار کیا کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا کرتے تھے کبھی ان کے سوال کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کون کون سے جانور حلال ہیں اور کبھی ان کا مطلب یہہوتا تھا کہ کس طرح سے مارا جائے تو حلال ہوگا ، مثلاً تیر مارا مگر تیر ٹیڑھا ہوگیا اور اس کی لکڑی سے چوٹ کھا کر مرگیا اور شکار زخمی نہیں ہوا یا کبھی چھری نہیں ملی تو بانس کی کھیچی کی کرر سے ذبح کرلیا یا شکار پر کتا دوڑا دیا اور کتن یاس کو مار ڈالا یا باز اور شکرا کسی پرند اور چرند پر چھوڑا اور اس کے ذریعہ سے شکار کیا۔ غرض ! اسی قسم کے سوالات کا یہ جواب ہے اور جو شان نزول میں متعدد روایات آئی ہیں اس لئے بعض لوگوں نے تو یوں تفسیر کی ہے اور سوال کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ یا رسول اللہ ہمارے لئے کیا کیا جانور حلال کئے گئے ہیں یعنی جو شکار ذبح سے حلال ہوجاتا ہے وہ کتے اور باز وغیرہ کے شکار کرنے سے بھی حلال ہوتا ہے یا نہیں یا شکاری جانوروں کے شکار سے کچھ مخصوص جانور حلال ہوتے ہیں کچھ حرام رہتے ہیں اور شکاری جانوروں کے ذریعہ اگر حلال ہوجاتے ہیں تو ان کی شرائط وغیرہ کیا ہیں۔ سوال کی یہ تقریر کرنے کے بعد اسی ڈھنگ پر جواب کی تقریر کی ہے یعنی تمہارے لئے تمام و ہ حلال جانور جو شکار کی قسم سے ہیں اور جو پہلے سے حلال ہیں وہ کتے اور باز وغیرہ کے شکار کرنے سے بھی حلال رہتے ہیں پھر آگے شکار کی شرطوں کا بیان ہے۔ بعض حضرات نے احل لکم الطیبات کو سوال کے جواب سے زائد اور تمہید کے طور پر بیان کیا ہے۔ ہماری رائے میں ان تکلفات اور توجیہات کی ضرورت نہ تھی اس لئے ہم نے عام روایات کا لحاظ رکھتے ہوئے اس آیت کو متعدد سوالوں کا جواب سمجھا ہے اور اس بنا پر ترجمہ اور ترجمہ کا خلاصہ کیا ہے اور اکثر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے ہمیں اس سے انکار نہیں وما علمتم سے لے کر واذکروا اسم اللہ علیہ تک شکار کی شرائط ہوں لیکن احل لکم الطیبات کو صرف حلال جانوروں کے ساتھ مخصوص کردینا اور ابن کثیر کی دوسری روایات کو نظر انداز کردینا ہم کو کچھ بھلا نہیں معلوم ہوتا۔ (واللہ اعلم) عام مفسرین نے آیت کی تفسیر میں جو ڈھنگ اختیار کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ سے لوگ یہ دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں جیسا کہ عدی بن حاتم اور مہلل نے دریافت کیا کہ مروہ جانور تو حرام ہوچکا اب حلال کیا ہے اور انہی عدی نے پوچھا کہ باز سے جو شکار کیا جائے اس کا کیا حکم ہے تو آپ ان کو جواب دے دیجیے کہ وہ تمام چیزیں جو پاکیزہ اور لذیذ ہوں اور قواعد اور اصول شرعیہ کے مطابق حلال ہوں وہ سب تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں اور ان جانوروں کا کیا ہوا شکار بھی تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے جو شکاری ہیں اور جانوروں کو اپنے منہ سے یا پنجوں سے زخمی کر کے شکار کیا کرتے ہیں اور تم نے ان کو خاص طور پر شکار کرنے اور شکار پر دوڑانے اور شکار پر چھوڑنے کی تعلیم دی ہو اور یہ تعلیم اسی طور پر دی ہو جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے یعنی اس کی بھیجی ہوئی شریعت نے تم کو تعلیم کردیا ہے، وہ یہ کہ مثلاً کتے اور چیتے کو یہ تعلیم دی جائے کہ شکار کو پکڑ کر روک رکھے اور خود نہ کھاوے اور شکاری پرندوں کو یہ تعلیم دی جائے کہ اس کو جب آواز دی جائے تو وہ پلٹ آئے اور شکار کو چھوڑ دے۔ ان شکاری جانوروں کا شریعت نے یہی طریقہ تادیب مقرر کیا ہے پس یہ سدھے ہوئے شکاری درندے اور پرندے جو جانور تمہارے لئے روک رکھیں اور خود نہ کھانے لگیں تو تم ان کو کھالو اگر زندہ مل جائیں تو ذبح کرلو اور اگر شکاری درندے یا پرندے کے زخمی کرنے سے وہ شکار مرجائے تو بھی کھالو اور سدھے ہوئے شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کبھی ایسا نہ ہو کہ شکار کے شوق میں حرام حلال کا خیال ترک کردو۔ سریع الحساب کا مطلب ہم سورة آل عمران میں بتا چکے ہیں کہ اس کے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی ادھر شروع ہوا ادھر ختم جس کو اردو میں بولا کرتے ہیں کہ فلاں شخص جلدی حساب کردیتا ہے یا یہ کہ حساب کا وقت بہت جلد آ رہا ہے اور موت یا قیامت بہت جلدی آنے والی ہے۔ (واللہ اعلم) طیبات کی تفسیر ہم تیسرے پارے میں کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیں … نبی کریم ﷺ کے متعلق نویں پارے میں فرمایا ہے یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث خبیث وہ جس کو عقل سلیم پسند نہ کرے اور جسمانی یا روحانی صحت کے لئے مضر ہو۔ حضرت مقاتل کا قول ہے ہر حلال رزق طیبات میں داخل ہے ہم نے ابھی عرض کیا تھ ا کہ یہ تمام قیود جو اس آی ت میں مذکور ہیں قائم مقام شرط کے ہوسکتی ہیں اسی طرح ایک شرط یہ ہے کہ شکاری جانوروں کو خواہ وہ کتا اور چیتا ہو یا باز شاہین اور شکر ! وغیرہ ہو تم خاص طور پر تعلیم دو اور دوسری شرط یہ ہے کہ تم ان کو جانوروں پر چھوڑو بھی تیسری شرط یہ ہے کہ شکار کو تمہارے پکڑ رکھیں خود نہ کھانے لگیں چوتھی شرط یہ ہے کہ چھوڑتے وقت اللہ کا نام لے کر چھوڑو، پانچویں شرط یہ ہے کہ وہ شکاری جانور شکار کو زخمی بھی کر دے، جیسا کہ لفظ جوارح سے سمجھا جاتا ہے اور بعض ائمہ نے اس شرط کو اختیار کیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس آیت میں شکار کا حکم ہے جو وحشی ہوتے ہیں پالتو حلال جانور بدون ذبح کے حلال نہیں ہوتے اسی طرح اگر وحشی جانور کو شکاری درندہ زندہ پکڑ رکھے تو اس کا حلال کرنا بھی ضروری ہے ۔ ورنہ وہ حلال نہ ہوگا اس موقع پر چند ضروری باتیں عرض کر دینی ضروری ہیں۔ (1) اس آی ت میں جو لفظ مکلبین آیا ہے چونکہ اس میں بھی تعلیم کا مفہوم ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں خاص طور کا لفظ بڑھا دیا ہے اور یعنی وصیدما علتم معلمین کی رعایت رکھ کر تیسیر میں خلاصہ کیا ہے۔ یعنی وما علتم ماھرین فی تعلیم الجوارح حاذقین فیہ مشتھرین بہ۔ (2) تعلمونھن مما علمکم اللہ جملہ مستانغہ بھی ہوسکتا ہے اور حال متداخلہ بھی ہوسکتا ہے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں کی رعای کردی ہے۔ (3) جس شکاری درندے کو شکار پر چھوڑا جائے وہ شکار کو کھائے نہیں اگر اس نے شکار کو کھانا شروع کردیا تو اس کا کھانا جائز نہ ہوگا جیسا کہ امسکن سے ظاہر ہے اور یہی عدی بن حاتم کی اس روایت میں ہے جس کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کلب معلم نے جو شکار پکڑا اور وہ مرگیا تو اس کا کھانا جائز ہے بشرطیکہ کلب معلم نے اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو اور اگر کچھ کھالیا تو اس کو مت کھائو کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لئے کیا ہے۔ (4) اگر کسی باز یا شکرے وغیرہ کو شکار پر چھوڑا اور سا نے پرندے کو پکڑ کر اس میں سے کچھ نوچ کر کھالیا تو اس کا کھانا جائز ہے حضرت امام مالک نے یہ فرق نہیں کیا ہے بلکہ ان کے نزدیک درندے اور پرندے دونوں کے کھائے ہوئے شکار کا کھانا جائز ہے۔ (5) اگر کلب معلوم جس کو بسم اللہ پڑھ کر شکار پر چھوڑا تھا اس کے ساتھ کوئی اور تکاب بھی شامل ہوگیا اور دونوں نے مل کر شکار پکڑا اور وہ شکار مرگیا تو اس کا کھانا جائز نہ ہوگا۔ مزید مسائل کتب فقہ سے معلوم کرنے چاہئیں اسی سلسلہ میں بطور تاکید پھر طیبات کی حلت کا اعلان فرماتے ہیں اور چونکہ اب تک ان چیزوں کی حلت کا اظہار فرمایا تھا جن کی حلت اور پاکیزگی یا خباثت اور کراہت محسوس تھی مثلاً کسی جانور کا اپنی موت سے مرجانا یا سئور کا گوشت یا دوسرے درندے یا مردار جانور یا حشرات الارض یعنی زمین کے کیڑے مکوڑے وغیرہ لیکن بعض حلال اور حرام کا معاملہ ایسا ہے کہ بظاہر اس میں کوئی خباثت یا نجاست معلوم نہیں ہوتی۔ مثلاً حلال چوپایوں میں سے کسی چوپائے کو باقاعدہ ذبح کیا گیا لیکن ذبح کرنے والا مسلمان نہیں ہے۔ بلکہ کوئی کتاب یا مشرک ہے۔ اسی طرح طرح ایک پاک دامن اور عفیف عورت جس میں بظاہر کوئی خرابی نہیں معلوم ہوتی اس سے ایک مسلمان نکاح کرنا چاہتا ہے لیکن وہ عورت مسلمان نہیں ہے تو اس سے نکاح کرنے کا معاملہ۔ غرض ! ایسی چیزوں کی حلت و حرمت کا بیان مقصود ہے جن میں ظاہری طور پر تو کسی خرابی کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا مگر شرعی طور پر وہ ممنوع اور روح کے لئے مضر ہیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی شرائع میں عام طور پر قلب اور رو ح کی اصلاح کا سامان مہیا کیا گیا ہے اور جو چیزیں انسانی روح کے مضر ہیں ان سے منع کیا گیا ہے۔ غرض ! جس طرح حکماء اور فلاسفہ کے نزدیک مادیات بہت زیادہ قابل توجہ ہیں اسی طرح آسمانی شرائع میں روحانیت کا معاملہ بہت اہم اور قابل توجہ ہے اس امر کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے کی آیت کا مطلب سمجھنا چاہئے۔ (تسہیل)