5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کے مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی بات کہنے اور حرام کا مال کھانے سے کیوں نہیں منع کرتے جو چشم پوش وہ کر رہے ہیں وہ یقینا بہت ہی بری ہے۔2

ف 2 اور جب یہ یہود تمہاری مجلس میں آتے ہیں تویوں کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لے آئے حالانکہ یہ کفر ہی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور کفر ہی لے کر تمہاری مجلس سے نکل جاتے ہیں اور جو نفاق یہ پوشیدہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور اے پیغمبر آپ ان یہود میں سے اکثر ایسے لوگوں کو ملاحظہ کرتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر گناہ اور ظلم و سرکشی اور حرام کے مال کھانے پر گرتے ہیں وہ کام جو یہ کر رہے ہیں یقینا بہت ہی برے ہیں۔ آخر اس کے مشائخ اور ان کے علماء گناہ کی بات کہنے اور حرام کا مال کھانے اور اڑانے سے ان کو کیوں نہیں روکتے۔ یہ اہل علم اور مشائخ جو چشم پوشی اور مداہنت برت رہے ہیں وہ واقعی جو کچھ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں۔ (تیسیر) پہلی آیت میں بعض منافقین یہود کا ذکر ہے کہ یہ جب تمہاری مجالس میں شریک ہوتے ہیں تو اپنے ایمان کا یقین دلاتے ہیں جیسا کہ پہلے پارے میں گذر چکا ہے۔ واذا القوا الذین امنوا قالوا امنا جب مجلس میں تو چاپلوسی کے طور پر کہہ دیا کرتے کہ ہم ایمان لا چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے کہ یہ لوگ کفر ہی لے کر آئے اور اسی کفر کو لے کر مجلس سے باہر نکل گئے اور یہ بھی فرمایا کہ جو خفیہ کارروائی یہ لوگ کرتے ہیں اس سب سے اللہ باخبر ہے۔ ہم نے نفاق سے تعبیر کیا ہے تاکہ وہ تمام کارروائیاں جو ایک منافق کرتا رہتا ہے ان سب کو تیسیر شامل ہوجائے آگے دو آیتوں میں یہود کے عوام اور ان کے خواص کی بددیانتی اور حرام خوری کا ذکر فرمایا۔ یعنی اے پیغمبر ! یہ بات تو آپ کے مشاہدے میں ہے کہ یہ گناہ میں مبتلا ہونے میں جلدی کرتے ہیں اور دوڑ کر گناہ میں جا گرتے ہیں اور سرکشی اور ظلم اور حرام خوری میں انجام سے بےپرواہ ہو کر جا گرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ اثم سے مراد معاصی اور عدوان سے مراد ظلم اور سمت اور مراد رشوت ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اثم سے مراد توریت کے احکام میں تحریف کرنا اور عدوان سے مراد ان احکام میں اضافہ کرنا ہو۔ بہرحال اوپر کی آیت میں اعتقاد کی خرابی مذکور تھی اور اس آیت میں اعمال کی خرابی مذکور ہے خواہ وہ ان کی کذب بیانی ہو۔ تحریف ہو حقوق اعلباد کا اتلاف ہو، رشوتیں لے کر غلط فتوے دینا اور غلط فیصلے کرنا ہو یا سود کھانا ہو آیت ہر قسم کے اعمال سیہ کی خرابی بیان کرتی ہے یہ تو ان کے عوام کی حالت تھی کہ ان میں نہ اکل حلال اور نہ صدق مقال۔ اب آگے ان کے خواص کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے صوفی اور مشائخ اور علماء کی مداہنت کا یہ حال ہے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں۔ گناہ کو نہ روکنا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جی چرانا یہ بھی نہایت قبیح اور بدترین ہے۔ صاحب معالم نے فرمایا سخت رشوت، سود، غصب، خیانت، چوری، اجرت حرام، بیوع فاسدہ، جوا، دغا فریب سب کو شامل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان آیتوں میں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں نازل ہوئی ہیں سب سے زیادہ سخت آیت ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ابن ماجہ نے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ جب آدمی دوسروں کو گناہ کرتے دیکھیں اور انہیں نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ اپنا عذاب عام کر دے گا حضرت جریر بن عبداللہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس قوم میں گناہ کئے جاتے ہوں اور لوگ باوجود قدرت کے ان گناہوں کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ نہ روکنے والوں کو بھی مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ ترمذی میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم اچھی باتوں کا حکم کرو اور بری باتوں سے منع کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب بھیج دے گا پھر تم دعائیں بھی مانگو گے تو قبول نہ ہوں گی۔ اوپر کی آیتوں میں یہود کی بد اعتقادی اور ان کے اعمال قبیحہ کا ذکر تھا اب آگے ان کے اور ایک قول قبیح کا ذکر فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:64–65

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے باندھے جائیں ہاتھ ان کے اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو کلام آپ کے پاس آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور باطل پرستی میں اضافہ کا سبب بن گیا ہے اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لئے باہم عداوت اور بغض ڈال دیا ہے جب کبھی یہ لڑائی کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو خدا اس کو بجھا دینا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ یہ ملک میں فساد برپا کرنے کو مارے مارے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فساد کرنیوالوں کو پسند نہیں فرماتا۔1

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوے کی روش اختیار کرتے تو ہم یقینا ان سے ان کی برائیاں زائل کردیتے اور ہم ضرور ان کو عیش و عشرت کے باغوں میں داخل کرتے

ف 1 اور جماعت یہود نے اللہ تعالیٰ کو بخل کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا ہاتھ اور اس کا دست عطا بندھا ہوا ہے انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور جو بےہودہ بات انہوں نے کہی اس کی وجہ سے یہ معلون قرار پائے اور اللہ کی رحمت سے دور کئے گئے واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور اے پیغمبر جو مضمون آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب نازل کیا جاتا ہے وہ ان یہود میں سے بہت سوں کے لئے سرکشی اور نافرمانی کے اضافے اور زیادتی کا سبب بن جاتا ہے اور ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لئے عداوت ار بغض ڈال دیا ہے اور یہ جب جب بھی مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی آگ کو بھڑکاتے اور ہوا دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس آگ کو بجھا دیتا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ یہ ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں اور فساد برپا کرنے کو مارے مارے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا اور اہل فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ یہود میں بولنا رواج تھا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا یعنی ہم پر روزی تنگ ہوئی یہ کفر کا لفظ ہے اللہ کا ہاتھ کبھی بند نہیں دونوں ہاتھ کھلے ہیں قہر کا اور مہر کا تم پر اب قہر کا ہاتھ کھلا مہر کا اوروں پر فرمایا اللہ نے ان میں اتفاق نہیں رکھا جب آگ سلگاتے ہیں لڑائی کو یعنی ہفتنہ انگیزی کرتے ہیں کہ آپس میں سب کو بلا کر مسلمانوں سے لڑیں وہ اللہ بجھا دیتا ہے آپس میں پھوٹ جاتے ہیں۔ (موضح القرآن) ہاتھ بندھا ہوتا بخل کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ پندرہویں پارے میں ارشاد ہے۔ (ولا تجعل) یدک مغلولہ انی عنقک ہوسکتا ہے کہ یہود نے اپنی خانگی تنگی اور عسرت کی وجہ سے یہ کہا ہو کہ اللہ تعالیٰ بخیل ہوگیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ منورہ کے بعض اصلاحی کاموں کے لئے جب مسلمانوں نے آپ س میں چندہ کیا ہو تو ان سے بھی شرکت کی خواہش کی ہو تو اس پر بجائے چندے میں شریک ہونے کے یہ طعن کیا ہو، کہتے ہیں فخاص ابن عازدرانے یہ الفاظ کہے تھے اور ہوسکتا ہے کہ نباش بن قیس نے کہا ہو اور چونکہ کسی نے اس قائل پر انکار نہیں کیا اور کہنے والوں کو ملامت نہیں کی اس لئے وقالت الیھود فرمایا بندش اور کشادگی سے مراد بخل اور عطاوجود ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بخیل نہیں ہے یہ خود بخل میں مبتلا ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ اور ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ جب مسلمانوں کے ساتھ ان کی بدسلوکی بڑھی تو ان پر عسرت نازل ہوئی رزق کی تنگی سے تنگ ہو کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بخیل کہا۔ بد دعا اور لعنت کے بعد جو ان کے قول کی سزا تھی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی جو دوسخا کے دروازے ہر وقت کھلے ہوئے ہیں اور مخلوق اس سے ہر وقت بہرہ مند ہوتی رہتی ہے۔ پھر فرمایا جو مضامین اور احکام آپ پر نازل ہوتے رہتے ہیں وہ ان کے اکثر لوگوں میں بجائے اطاعت و فرمانبردای کے ان میں سرکشی اور نافرمانی کو بڑھا دیتے ہیں جس طرح امراض مختلفہ میں گھرے ہوئے مریض کو بہتر سے بہتر دوا مضر ہوجاتی ہے یہی ان کی حالت ہے اللہ تعالیٰ نے ان یہود اور نصاریٰ کے مابین یا صرف یہود کے مابین ایسی عداوت اور کینہ ڈال دیا ہے جو قیامت تک ختم ہونے والا نہیں یہ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش کرتے ہیں اور لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس آگ کو بجھا دیتا ہے اور ان کی سازش کو ناکام کردیتا ہے اور یہ تو ان کی عاد عادت ہے کہ خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے کی غرض سے مارے مارے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا یہاں تک ان کے اعمال سیہ اور قبیحہ کی مذمت تھی اب آگے پھر ان کو سمجھاتے ہیں کہ جو رویہ تم نے اختیار کیا ہے وہ فلاح و بہبود کی راہ نہیں ہے اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو کتبب سماویہ کا احترام کرو اور بغیر کسی تحریف و تبدیل اور بغیر تاویلات اور توجیہات بعیدہ کے ان پر عمل کرو تو تم پر فوراً فلاح کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب ان کے لئے ان کے رب کی جانب سے بھیجی گئی ہے اس کی پوری پوری ب پابندی کرتے تو وہ یقینا اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی خوب رزق حاصل کرتے اگرچہ ان میں سے کچھ لوگ میانہ رو بھی ہیں لیکن اکثر ان میں سے وہ ہیں جن کے کام بہت ہی برے ہیں۔2

ف 2 اور اگر یہ اہل کتاب لے آتے اور تقویٰ اور پرہیز گاری کی روش اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی گزشتہ برائیاں ان سے دور کردیتے اور ان کے گناہ معاف کردیتے اور ہم ضرور ان کو چین و آرام اور عیش و عشرت کے باغوں میں داخل کرتے اور اگر یہ اہل کتاب توریت اور انجیل اور اس کتاب کی جواب ان کی ہدایت کے لئے ان کے رب کی جان بسے نازل ہوئی ہے پوری پابندی کرتے تو یقینا یہ لوگ اوپر سے بھی یعنی آسمان سے اور نیچے سے بھی یعنی زمین سے خوب رزق حاصل کرتے کچھ لوگ ان میں سے درمیانہ و یعنی سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور بہت سے ان میں ایسے ہیں جن کے کام بہت برے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کھاویں اوپر اور نیچے سے یعنی آسمان میں سے ان کو رزق فراخ آوے۔ (موضح القرآن) اوپر کی آیت میں ایمان اور تقویٰ کا ذکر فرمایا جس کا فائدہ یہ ہوتا کہ گناہ معاف ہونے کے بعد جنت ملتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ان الاسلام یھدم ما کان قبلہ یعنی اسلام قبول کرنے سے پہلیت مام گناہ زائل ہوجاتے ہیں اور تقویٰ کی شرط اس لئے لگائی کہت قویٰ میسر نہ ہو تو جنت ملنے میں تاخیر ہو اور دوزخ کا منہ دیکھنا پڑے۔ سورئہ مریم میں ہے تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیا یعنی جنت کا وارث ہم اس شخص کو بنائیں گے جو پرہیز گار اور متقی ہوگا دوسری آیت میں دنیوی برکات کا بھی وعدہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایمان وتقویٰ اختیار کرتے یعنی تمام کتب سماویہ پر جس میں قرآن کریم بھی داخل ہے ایمان لے آتے تو آسمان سے خوب بارشیں ہوتیں اور زمین سے خوب پیداوار ہوتی اور یہ بافراغت کھاتے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ولوانھم امنواتقوا الفتحنا علیھم برکات من السمآء والارض یعنی اگر ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پھل اور کھیتی کی طرفاشارہ ہو کیونکہ پھل اوپر کی سمت ہوتے ہیں اور کھیتی زمین کے قریب ہوتی ہے۔ امۃ مقتصدہ سے مراد یہود ہیں۔ عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی ہوسکتے ہیں اور نصاریٰ میں نجاشی اور ان کے اصحاب ہوسکتے ہیں لیکن عام طور سے اکثریت انہی لوگوں کی ہے جن کے اعمال و کردار بہت ہی برے اور ناپسندیدہ ہیں چونکہ برے لوگوں کی اکثریت عام طور سے حوصلہ شکن ہوتی ہے اور جب مذمت کرنیوالوں اور برا کہنے والوں کی کثرت ہو اور ہر پہلو سے تبلیغ اسلام میں مزاحمت کی جاتی ہو بلکہ بدبخت انسان تبلیغ میں ہر قسم کی رکاوٹ پیدا کر رہے ہوں تو ایسے موقع پر نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ تم اپنا کام جاری رکھو اور اعدائے اسلام سے بےنیاز ہو کر تبلیغ کرتے رہو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اس سب کو لوگوں تک پہنچا دیجیے اور اگر بالفرض آپ نے یاسا نہ کیا تو سمجھئے کہ آپ نے خدا کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے گروہ کو راہ نہیں دکھائے گا1

ف 1 اے پیغمبر جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا آپ لوگوں کو وہ سب پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے خدانخواستہ بفرض محال ایسا نہ کیا یعنی کچھ حصہ پہنچایا اور کچھ نہیں پہونچا یا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے خدا کا کوئی پیغام بھی نہیں پہونچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ اس گروہ منکرین کو ایسا موقع نہیں دے گا اور ان کی رہنمائی نہیں فرمائے گا۔ (تیسیر) خلاصہ یہ ہے کہ منکرین اسلام کی کوشش یہ ہے کہ وہ آپ کے تبلیغی کاموں میں رکاوٹ پیدا کریں وہ آپ کو قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں تو آپ اس قسم کی قتل آمیز دھمکیوں کی پروا نہ کیجیے اور تمام احکام کی تبلیغ کرتے رہئے اس مجموعہ فرض کو بجا لائیے اگر خدانخواستہ کسیا یک حصہ کو بھی ترک کیا تو مجموعہ فرض بیکار ہوگیا۔ جیسے ارکان صلوۃ یا ارکان حج کہ ایک رکن کے ترک سے تمام نماز اور پورا حج اکارت ہوجاتا ہے اسی طرح یہ فریضہ تبلیغ ہے ایک حصہ ترک ہو تو پورا فریضہ ترک ہو۔ باقی ان قتلک ی دھمکیوں سے بےنیاز رہو ہم تم کو ان اعدائے اسلام سے محفوظ و مصئون رکھنے کی ذمہ داری کا اعلان کرتے ہیں اور تم کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گروہ کافرین کی اس بارے میں کہ یہ تم کو قتل کر ڈالیں اور ہلاک کردیں کوئی رہنمائی نہیں کریں گے مفسرین نے شان نزول کے سلسلے میں بہت سے واقعات ذکر کئے ہیں ابن مردویہ اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حفاظت کے لئے کچھ پہرہ دار مقرر تھے جو باری باری پہر ہ دیتے تھے لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے کھڑکی میں سے آواز دے کر سب کو بھیج دیا اور فرمایا کہ تم جائو اب حفاظت کی ضرورت نہیں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ نبی کریم ﷺ پر کئی بار حملے کئے گئے آپ کو زہر دیا گیا غزوئہ احد میں آپ کو گزند پہنچا لیکن جس طرح ہم نے تفسیر کی ہے اس پر یہ شبہ نہیں ہو ہوسکتا کیونکہ وعدہ قتل سے محفوظ رکھنے کا تھا اور یہ وعدہ پورا کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کے اعتقاد اور اعتماد کا یہ حال تھا کہ آیت کے نازل ہوتے ہی چوکیداروں اور پہریداروں کو رخصت کردیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہ اگلی بات کہ صاف اہل کتاب کو گمراہ کہو جب تک وہ کلام اللہ کا قبول نہ کریں گرچہ دے دشمن ہوں تو تم بےفکر پہنچائو اور خطرہ نہ کرو۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب نے خوب بات فرمائی اس تقدیر پر ربط آیات پر کچھ کہنے کی گنجائش نہیں اور نہ کسی نئی توجیہہ کی ضرورت ہے جیسا کہ بعض حضرات نے ایک نئی الجھن اختیار کی ہے بات یہ ہے کہ یہود کے تذکرے میں تبلیغ کی آیت کچھ بےجوڑ سی معلوم ہوتی تھی لوگوں نے ربط پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن شاہ صاحب نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بہت ہی بہتر اور بہت ہی محفوظ ہے تمام بحث کے لئے تفسیر مظہری کی طرف رجوع کرنا چاہئے تب شاہ صاحب کے کمال کا اندازہ ہو سکے گا اب آگے وہ مضمون ہے جس کی تبلغی کا نڈر ہو کر حکم دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب جب تک تم توریت کی اور انجیل کی اور اس کتاب کی جو تمہارے لئے تمہارے رب کی جانب سے نازل ہوئی ہے پوری پوری پابندی نہ کرو گے اس وقت تک تم کسی راہ پر بھی نہیں ہو اور جو کلام آپ کے پاس آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا جاتا ہے وہ ان میں سے اکثر کی سرکشی اور باطل پرستی میں اضافہ کا موجب ہوگیا ہے سوائے پیغمبر آپ اس منکر قوم کی حالت پر افسوس نہ کیجیے۔2

ف 2 اے پیغمبر آپ ان اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجیے کہ تم اس وقت تک کسی قابل اعتماد اور قابل نجات راہ پر نہیں ہو جب تک توریت اور انجیل کی اور اس کتاب کی جواب تمہاری ہدایت کے لئے تمہارے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یعنی قرآن کریم کیپ وری پوری پابندی نہیں کرو گے اور اے پیغمبر جو کلام اور جو مضمون آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا جاتا ہے وہ کلام ان میں سے اکثر کی سرکشی اور نافرمانی کی زیادتی اور ترقی کا سبب ہوجاتا ہے تو آپ اسقسم کے متعصب اور نافرمان لوگوں کی حالت پر افسوس اور غم نہ کیجیے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب تم دین الٰہی کی کسی مقبول اور معتبر راہ پر نہیں ہو اور اگر کوئی غیر مقبول راہ اختیار کرے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کسی راہ پر نہیں اور بالکل بےراہ ہے اگر توریت کے پورے پابند ہوتے یا انجیل کے پابند ہوتے تو ضرور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لاتے تو نہ توریت کے پابند ہو نہ انجیل کے اور قرآن کریم کے خلاف تو تم نے محاذ بنا ہی رکھا ہے لہٰذا تم کسی قابل نجات راہ پر نہیں ہو اور چونکہ ان کیضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے تو جو حکم اے پیغمبر آپ کی جانب آپ کے پروردگار کی جانب سے اترتا ہے وہ ان کے کفر و سرکشی کی ترقی کا موجب ہوجاتا ہے اگر پہلے فرض کرو سو آیتوں کے منکر تھے تو پھر ایک سو ایک کے منکر قرار پائے۔ غرض ! جس قدر مضامین نازل ہوتے جاتے ہیں ان کی سرکشی اور کفر بڑھتا جاتا ہے۔ لہٰذا آپ اس قسم کے کافر لوگوں پر غم اور افسوس کا اظہار نہ کیجیے۔ لستم علی شئی یہود و نصاریٰ آپس میں بھی ایک دوسرے کو کہتے تھے جیسا کہ پہلے پارے میں گذر چکا ہے۔ وقالت الیھو دلیست النصاریٰ علی شئی و قالت النصاریٰ لیست الیھود علی شئی ۔ اب آگے اس راہ کا ذکر فرماتے ہیں جو مقبول اور معتبر ہے اور حقیقی نجات کی راہ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:69–70

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ جو مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی اور صائبین اور نصاریٰ جو دل سے اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے1

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان کی طرف بہت سے پیغمبر بھیجے لیکن جب کبھی بھی ان کے پاس کوئی رسول ایسا حکم لایا جس کو ان کے دل پسند نہ کرتے ہوں تو بعض رسولوں کی انہوں نے تکذیب کی اور بعضوں کو یہ قتل ہی کر ڈالتے تھے ،

ف 1 یہ امر واقعی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمان ہوئے اور وہ لوگ جو یہود ہیں اور جو صائبین ہیں اور وہ جو نصاریٰ یعنی کوئی بھی ہو جو دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور قیامت کو مانتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔ (تیسیر) یہ آیت پارئہ الم میں گذر چکی ہے اور وہاں ہم نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے خلاصہ یہ ہے کہ جس کا شرعاً اعتقاد صحیح ہے اللہ تعالیٰ کی ذات صفات پر اس کا اعتقاد ٹھیک اور پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جو قیامت بتائی ہے اس پر بھی اس کا ایمان ہے اور شریعت کے بتائے ہوئے اعمال صالحہ کا پابند ہے تو وہ لوگ یقینا قیامت کے دن ہر قسم کے خوو غم سے محفوظ ہوں گے یہ مطلب نہیں کہ ظاہری طور پر مسلمان ہوجانا اور نفاق کو سینے میں چھپائے رکھنا یا قرآن کریم سے منکر ہونا اور پیغمبر اسلام کو نہ ماننا اور شریعت اسلامیہ کی بتائی ہوئی قیامت کو نہ ماننا اور اپنے من مانے اعمال کو نیک سمجھ لینا یہ باتیں بھی نجات کے لئے کافی ہیں تو ایسا سمجھنا غلط ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی امتوں کے ساتھ مسلمانوں کا بھی ذکر فرمایا ہو کہ خواہ پہلی امتیں ہوں یا امت محمدیہ ﷺ ہو جو اپنے اپنے پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقوں کا پابند رہا وہ نجات یافتہ ہے اس آیت سے پیغمبر کی رسالت یا قرآن کریم کے انکار کے ساتھ نجات یافتہ ہونا ایسا ہی شخص کہہ سکتا ہے جو اسلام کو نہ سمجھتا ہو، ورنہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے طریقہ کو چھوڑ کر پانی من مانی توحید اور اپنی من مانی قیامت اور اپنے من مانے اعمال صالحہ نجات اخروی کے لئے نہ مفید ہیں نہ نافع۔ اب آگے پھر یہود و نصاریٰ کی عہد شکنی کا تذکرہ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:71–73

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ ان پر کوئی آفت نہیں آئے گی اس لئے یہ اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی پھر ان میں سے اکثر لوگ توبہ کے بعد دوبارہ اندھے اور بہرے بن گئے اور جو کچھ یہ کرتے رہتے ہیں وہ سب اللہ کے پیش نظر ہے۔2

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے یوں کہا کہ مسیح (علیہ السلام) ابن مریم ہی میں خدا ہے حالانکہ خود حضرت مسیح نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے یقین جانو ! کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہوگئے جنہوں نے یوں کہا کہ خدا تین میں کا ایک تیسرا ہے حالانکہ بجز ایک معبود کے اور کوئی معبود نہیں ہے اور اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو جو لوگ ان میں سے کفر پر قائم رہیں گے ان کو ضرور درد ناک عذاب ہوگا

ف 2 بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے توریت میں عہد لیا تھا اور بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم توریت کے تمام احکام مانیں گے اور ہر پیغمبر پر ایمان لائیں گے چناچہ ہم نے ان کی طرف لگاتار بہت سے رسول بھیجے مگر باوجود عہد و پیمان کے ان کے پاس جب کوئی رسول ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا دل نہ چاہتا تھا اور ان کی نفسانی خواہشات کے وہ حکم خلاف ہوتا تھا تب ہی یہ اس قسم کے احکام لانے والے پیغمبروں میں سے بعض کو جھوٹا بتاتے تھے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے اور ان بنی اسرائیل نے یہ گمان کرلیا تھا اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان ناشائستہ حرکات کے باعث ان پر کوئی آفت اور کوئی عذاب نہیں آئے گا اور اس غلط گمان کی وجہ سے یہ اور بھی اندھے اور بہرے بن گئے یعنی نہ راہ راست کو دیکھا اور نہ پیغمبروں کی بات کو سنا پھر اللہ تعالیٰ نے ا ن کی توبہ کو قبول کرلیا اور ان پر نظر عفو کے ساتھ توجہ فرمائی مگر اس کے بعد پھر ان میں بہت سے دوبارہ اندھے اور بہرے بن گئے اور جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے اور جو کچھ آپ کے زمانے میں کر رہے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہیں۔ (تیسیر) توریت میں ان بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ توحید الٰہی کے قائل رہنا اور نیک اعمال کی پابندی کرنا اور جو رسول تمہارے پاس میرے فرستادہ آئیں ان سب پر ایمان لانا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پاس رسول آنے شروع ہوئے تاکہ ان سے توریت کی پابندی کرائیں اور ان کی غلط کاریوں سے ان کو روکیں انہوں نے اپنے عہد کے خلاف حرکات شروع کردیں جب کوئی رسول ان کو بری باتوں کے خلاحکم دیتا تو یہ ایسے رسول کی تکذیب کرتے اور اس کو جھوٹا بتاتے اور بعض انبیاء کو قتل بھی کر ڈالتے اور چونکہ یہ سمجھتے کہ ہم خود انبیاء زادے ہیں اس لئے بےدھڑک اور بےباک ہو کر یہ گمان کرتے تھے کہ ہم پر تو کوئی فتنہ اور عذاب آئے گا نہیں اس لئے اندھے اور بہروں کی طرح نہ دین حق کو تلاش کرتے تھے نہ انبیاء کی بات سنتے تھے پھر تنبیہہ کے طور پر کچھ سزا ملتی تھی تو توبہ استغفار کرتے تھے اللہ تعالیٰ نظر عفو و کرم سے ان کی جانب متوجہ ہوتا تھا پھر ان میں سے اکثر بہک جاتے تھے اور اندھے بہرے بن کر وہی شیوہ اختیار کرلیتے تھے ان کی ناشائستہ حرکات کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی تکذیب حضرت زکریا اور یحییٰ نبی کا قتل یہ ایسے واقعات ہیں کہ تمام مفسرین کا ان پر اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کے تمام اعمال شنیعہ سے واقف ہے اور باخبر ہے اور ان کے تمام اعمال اس کے پیش نظر ہیں اب نصاریٰ کی اس عہد شکنی کا ذکر ہے جو انہوں نے توریت اور انجیل کے احکام کے ساتھ کی چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 5:74–76

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیا پھر بھی یہ لوگ خدا کے سامنے اپنے ان عقائد سے توبہ نہی کرتے اور اس سے بخشش نہیں ماگنتے حالانکہ اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔1

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے اور بھی بہت سے رسول ہوچکے ہیں اور مسیح کی والدہ بڑی راست باز تھی وہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے غور تو کیجیے ہم کس طرح اپنے دلائل ان کے لئے واضح طور پر بیان کر رہے ہیں پھر ذرا ان کو دیکھیے کہ وہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کیا تم خدا کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نفع کا حالانکہ اللہ ہی سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

ف 1 بلاشبہ وہ لوگ کفر کے مرتکب ہوئے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ تو یہی مسیح مریم کے بیٹے ہیں اور مسیح ابن مریم عین خدا ہے حالانکہ مسیح (علیہ السلام) تو خود بنی اسرائیل سے کہہ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کسی دوسرے کو شریک کرے گا تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہوگا اور ایسے مشرکوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہوچکے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا تیسرا ہے اور تین معبود میں سے ایک وہ بھی ہے حالانکہ بجز ایک معبود برحق کے اور کوئی معبود نہیں ہے اور اگر یہ لوگ ان مشرکانہ اور کافرانہ اقوال سے باز نہ آئیں گے تو یہ سمجھ رکھیں کہ جو لوگ ان میں سے کفر پر قائم رہیں گے ان کا یقینا درد ناک عذاب ہوگا کیا یہ لوگ ان تمام باتوں کو سن کر پھر بھی اپنے عقائد باطلہ سے توبہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع اور اپنے عقائد شرکیہ اور اعمال کفریہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بخشش طلب نہیں کرتے اور معافی خواہ نہیں ہوتے حالانکہ اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنیوالا ہے۔ (تیسیر) ان آیتوں میں نصاریٰ کی مختلف جماعتوں کے عقائد باطلہ کا رد فرمایا ہے بعض فرقے ان میں اس بات کے قائل ہوئے جیسے یعقوبیہ اور ملکانیہ کہ حضرت مریم نے جو بچہ جنا وہی الہ تھا یعنی حضرت عیسیٰ میں اللہ تعالیٰ حلول کر گیا تھا اور حضرت مسیح جن کو کہا جاتا ہے وہ عین خدا ہے اور بعض فرقوں کا عقیدہ یہ تھا جیسے مرقوسیہ اور نسطور یہ کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم یہ بھی دونوں معبود ہیں اور اللہ تعالیٰ کیا لوہیت کے خواص میں اس کے شریک ہیں اور الوہیت تینوں میں مشترک ہے اور جب ان تینوں میں مشترک ہے تو اللہ تعالیٰ ان تینوں میں سے ایک ہے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ نہ الہ ہیں اور نہ الوہیت میں کس طرح ذات باری کے شریک ہیں نہ مستقل الہ ہیں اس عقیدحے کو وما من الہ الا الہ واحد کہہ کر رد فرمایا۔ ہماری اس تقریر سے معیت یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ ہونا اور الوہیت میں شریک ہنے کا فرق سمجھ میں آگیا ہوگا اسی لئے با اعتبار علم اللہ تعالیٰ کی معیت جیسا کہ سورة مجادلہ میں فرمایا۔ مایکون من نجوی ثلاثۃ الاھور ابعھم ولاخمسۃ الاھوساد سھم یعنی کوئی تین آدمی کہیں سرگوشی نہیں کرتے مگر چوتھا ان کا خدا ہوتا ہے اور کہیں پانچ آدمی بیٹھ کر سرگوشی نہیں کرتے مگر چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ کا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا غار ثور میں یہ فرمانا ما ظنک باثنین اللہ ثالثھا یعنی اے ابوبکر ان دو شخصوں کے متعلق تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہو یہ معیت خداوندی اور چیز ہے اور خواص الوہیت میں شرکت یہ اور چیز ہے پہلا عقیدہ ایمان اور دوسرا کفر ہے عیسائیوں کے بعض فرقے اس اشتراک کی توجیہہ اس طرح کرتے ہیں کہ یہ تینوں اقانیم ہیں، باپ ، بیٹا اور روح القدس یعنی روح حیات اور یہ تینوں مل کر ایک معبود ہیں اور یہ تینوں علیحدہ علیحدہ بھی معبود ہیں جس طرح آفتاب آفتاب کی ٹکیا اور شعاع اور حرارت سب کے مجموعہ کا نام ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی تینوں اقانیم ک مجموعہ کا نام ہے۔ ذات اور کلمہ اور حیات ان تینوں کے مجموعہ کا نام الہ ہے ۔ کلمہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح مل گیا جس طرح دودھ میں پانی مل جاتا ہے۔ پس باپ الہ اور کلمتہ اللہ یعنی بیٹا الہ اور روح یعنی حیات الہ اور ان تینوں کا مجموعہ الہ نصاریٰ کے ان عقائد باطلہ کا تذکرہ فرمایا درمیان میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول بھی ذکر کیا تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ نصاریٰ کا یہ عقیدہ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم کے بھی خلاف ہے اللہ تعالیٰ حلول سے بھی پاک ہے اور اس سے بھی پاک و بالاتر ہے کہ اس کی الوہیت میں کوئی اس کا شریک نہ ہو۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگر باز نہ آئیں گے اور اپنے اقوال باطلہ پر قائم رہیں گے تو اس کا فرانہ قول کی وجہ سے ان پر درد ناک عذاب واقع ہوگا ۔ پھر تیسری آیت میں ان کو توبہ اور استغفار کی جانب متوجہ فرمایا کیا ان عقائد کفریہ اور شرکیہ پر جمے رہنا کوئی دانشمندی اور سمجھدار ی کی بات ہے ، یا جن عقائد کا باطل ہونا دلیل عقلی اور نقلی سے ظاہر ہے ان سے توبہ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا ضروری ہے۔ انسان کے لئے یہی مناسب ہے کہ کسی بات کی غلطی معلوم ہوجائے تو فوراً اس سے رجوع کرلے۔ اسی لئے فرمایا کیا اب بھی اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو کر اس سے معافی نہیں چاہتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے اگر یہ ایسا کریں اور سچائی کے ساتھ اس سے معافی چاہیں اور بخشش مانگیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کر دے گا اور ان کو بخشدے گا وہ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نصاریٰ میں دو قول ہیں بعضے کہتے ہیں اللہ ہی تھا جو صورت مسیح میں آیا بعضے کہتے ہیں تین حصے ہوگیا۔ ایک اللہ رہا اور ایک روح القدس اور ایک مسیح یہ دونوں باتیں صریح کفر ہیں کاملوں سے حق میں یہی کہئے جو آگے فرمایا۔ (موضح القرآن) اب آگے حضرت مسیح اور ان کی والدہ کی صحیح حقیقت بیان فرماتے ہیں ات کہ یہ بات صاف ہوجائے کہ حضرت مسیح اور حضرت مریم نہ تو معبود ہیں اور نہ الوہیت باری تعالیٰ میں کسی حیثیت سے شریک ہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فرستادے اور صرف اس کے پیغمبر ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:77–78

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق کا غلو نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشات پر نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور اداروں کو بھی بہت سوں کو گمراہ کرچکے اور وہ لوگ جو آج بھی سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔2

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی ان پر دائود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان لعنت کی گئی اس لعنت کا سب یہ ہوا کہ وہ نافرمانی کے خوگر تھے اور حد سے نکل جاتے تھے

ف 2 سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسیح مریم کے بیٹے ایک رسول ہیں بلاشبہ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول ہوچکے ہیں اور ان کی ماں بہت راست باز عورت تھی یہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے اور جو کھانا کھائے وہ خدا کس طرح ہوسکتا ہے ۔ اے پیغمبر ذرا دیکھیے ہم کس طرح ان کے لئے اپنے دلائل صاف اور واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور باوجود توضیح دلائل کے پھر ان کو ملاحظہ کیجیے کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں آپ ان سے دریافت کیجیے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کی مالک ہیں اور نہ تمہارے نفع کا کچھ اختیار رکھتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق کے غلو اور مبالغہ آمیزی اور افراط سے کام نہ لو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشات پر نہ چلو جو گزشتہ دور میں خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنے اثر سے اور بھی بہت سوں کو انہوں نے گمراہ کیا اور آج بھی جبکہ اسلام آگیا وہ سیدھی راہ سے بہکے ہوئے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مسیح ابن مریم جس کو تم نے الوہیت یا خواص الوہیت میں شریک کر رکھا ہے وہ تو محض ایک پیغمبر ہیں اور ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ پیغمبری کو خدائی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا پھر ان کی ماں بھی تھیں جو بڑی راست باز اور صدیقیت کے مرتبہ پر فائز تھیں اور جب وہ ماں سے پیدا ہوئے تھے تو خدا کے ہمسر کس طرح ہوسکتے ہیں خدا تو لم یلد ولم یولد ہے مزید برآں یہ دونوں عام انسانوں کی طرح کھانا بھی کھاتے تھے اور کھانا کھانے والے دوسرے حوائج بشریہ کے بھی محتاج ہوتے ہیں یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کھانا کھائیں پانی پئیں اور دوسرے حوائج کی ان کو ضرورت نہ ہو یہی دلائل ان کی الوہیت کے ابطال کے لئے کافی ہیں چناچہ فرمایا کہ اے پیغمبر ! دیکھو ہم کس طرح ان کے لئے صاف طور پر دلائل بیان کرتے ہیں اور پھر ان کو دیکھو کہ یہ کہاں لوٹے جا رہے ہیں اور گمراہی کی طرف پھرے جا رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس سے زیادہ کیا نشانی کہ جو شخص کھانا کھاوے اسے سب حاجت بشری لگے اللہ کی ذات پاک اس لائق کب ہے ۔ (موضح القرآن) اس کے بعد پھر ابطال الوہیت مسیح پر ایک اور دلیل فرمائی کہ ان سے دریافت کیجیے کیا تم ایسی چیز کی اور ایسے اشخاص کی عبادت اور بندگی کرتے ہو جو تمہارے ضرر اور تمہارے نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اور جو اپنے ہی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہو اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہو وہ کسی کو کیا نقصان یا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور اللہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ سمیع علیم کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر مانگنے والے کی سنتا ہو اور ہر شخص کی حالت کو جانتا ہو یہ سماعت و علم کا کمال بجز اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں لہٰذا معبود ہونے کے اس کے سوا کوئی قابل نہیں اور اس کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں اور سمیع علیم کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری ان مشر کانہ باتوں کو سنتا بھی ہے اور تمہاری ان مشرکانہ حرکات کو جانتا بھی ہے لہٰذا تم کو اس شرک کی سخت سزا دے گا۔ اس کے بعد تیسری ایٓت میں پھر پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنے دین میں ناحق کی مبالغہ آمیزی سے کام نہ لو اور ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلو جو گزشتہ دور میں حضرت مسیح کے متعلق گمراہانہ عقیدے پھیلا گئے اور تمہارے دین میں نئی نئی باتیں جاری کر گئے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ بنایا اور اسیطرح ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلو جو آج بھی اسلام اور قرآن کریم کے آجانے کے بعد سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور پرانی لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور جو گمراہی ان کے بڑے پھیلا گئے ہیں اسی گمراہی پر اڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضلواعن سواء السبیل قوم قد ضلوا ہی کی وضاحت ہو جیسا کہ بعض نے اسی طرح تفسیر کی ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے ان لوگوں کے متعلق جو دین میں نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے حضرت دائود اور حضرت مسیح ابن مریم کے دور میں لعنت کا تذکرہ ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:79–80

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

جس برائی کے وہ مرتکب تھے اس سے آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے واقعی ان کا دو طرز عمل ہو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا بہت ہی برا تھا1

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

آپ ان یہود میں سے اکثر لوگوں کو ملاحظہ کریں گے کہ وہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں یقینا وہ چیز جو یہ لوگ اپنے لئے آگے بھیج رہے ہیں وہ بہت ہی کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ ان سے ناخوش ہوا اور وہ لوگ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے

ف 1 بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کی تھی وہ لوگ دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ملعون قرار دیئے گئے یعنی زبور اور انجیل میں ان پر لعنت کی گئی یہ لعنت اس لئے کی گئی کہ وہ نافرمانی کرنے کے عادی تھے اور شریعت الٰہی کی مخالفت کیا کرتے تھے اور اس نافرمانی میں حد سے بہت دور نکل جاتے تھے انہوں نے جو برے کا م اختیار کر رکھے تھے اس سے آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے اور اس برے کام سے باز نہ آتے تھے واقعی ان کا یہ فعل جس کے وہ مرتکب تھے بہت برا تھا۔ (تیسیرا) خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اور بد اعمالی کو اپنا شیوہ بنا لیا تھا ان پر زبور اور انجیل میں لعنت کی گئی اور چونکہ یہ دونوں کتابیں حضرت دائود (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی زبان سے ظاہر ہوئیں اس لئے لعنت کا ظہور بھی انہی کی زبان سے ہوا اس لعنت کا سبب بھی بتادیا کہ آسمانی دین کی مخالفت کے خوگر ہوگئے تھے اور حد سے بہت دور نکل گئے تھے عقائد کی خرابی کو کفر فرمایا پر اس کفر میں بھی بہت سخت تھے اور حد سے بہت تجاوز کر گئے تھے اور جس برے کام کے وہ مرتکب تھے اس سے آپس میں ایک دوسرے کو منع بھی نہیں کرتے تھے اور یہ بات بہت ہی بری تھی جو وہ کر رہے تھے کہ برائی سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ کانوا الایتناھون کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ باز نہ آتے تھے ہم نے تیسیر میں دونوں معنی کردیئے ہیں۔ ذلک بما عصراوکانوایعتدون کا ایک مطلب تو یہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے اور بعض مفسرین نے دوسری طرح کیا ہے ینی وہ نافرمانتھیا ور حدود شرعیہ سے تجاوز کر گئے تھے ۔ (واللہ اعلم) اب آگے پھر ان یہود کی مشرکین سے دوستی کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی مخالفت مزید واضح ہوجائے اور ان کی نافرمانی اور ان کے اعتدا پر دلیل ہو سکے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور نبی پر اور جو کتاب نبی کی طرف بھیجی گئی ہے اس پر ایمان رکھتے تو ان مشرکوں کو کبھی دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر لوگ خارج از ایمان ہیں2

ف 2 اے پیغمبر آپ ان یہود میں سے اکثر لوگوں کو ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہ منکرین یعنی مشرکین سے مسلمانوں کے خلاف دوستی کرتے ہیں البتہ یہ چیز جو وہ آگے بھیج رہے ہیں بہت ہی بری ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے اور اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور پیغمبر پر ایمان رکھتے اور جو کتاب اس پیغمبر پر نازل کی گئی اس پر ایمان رکھتے تو ان مشرکین کو سمجھی دوست نہ بناتے اور مسلمانوں کے خلاف کبھی ان سے مل کر سازش نہ کرتے لیکن ان میں اکثر لوگ ایمان سے خارج اور کافر ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جو ولگ اسلام قبول کرچکے ہیں ان کو چھوڑ کر کہ وہ تھوڑے سے ہیں باقی ان کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ مشرکین سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں اور مشرکین کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہیں ان کی یہ حرکت بہت ہی بری ہے کیونکہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آگے بھیج رہے ہیں اور وہی ان کے لئے ذخیرہ ہو رہا ہے وہ اور ناشائستہ حرکات اس لئے بری ہیں کہ وہ حرکات ہی اللہ تعالیٰ کے دائمی غصے اور ناراضگی کا سبب ہیں اور جس سے اللہ تعالیٰ دائمی طور پر ناراض ہو جائیتو اس کی دائمی ناراضگی دائمی عذاب کا موجب ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے۔ آیت کا ہر ایک ٹکڑا مستقل دعویٰ بھی ہے اور پہلے ٹکڑے کی دلیل بھی ہے پھر آگے فرماتے ہیں اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور پیغمبر پر اور کتاب پر ایمان رکھتے ہوتے تو مشکین کو کبھی دوست نہ بناتے لیکن ان میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں۔ نبی سے مراد اگر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ ہیں تو کتاب سے مراد قرآن کریم ہے یعنی اگر یہ مسلمان ہوجاتے تو پھر ان کا یہ شیوا نہ ہوتا اور اگر نبی سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہوں تو پھر کتاب سے مراد توریت ہوگی یعنی اگر یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم پر عمل کرتے ہوتے تب بھی ان کا یہ فرض ہوتا کہ یہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی مدد کرتے اور مشرکین کے مقابلہ میں ان کے معاون ہوتے نہ کہ آخری پیغمبر کے مقابلہ میں مشرکین سے ساز باز کرتے۔ (تسہیل)
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

اے پیغمبر ! یقینا آپ مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا یہود کو اور مشرکوں کو پائیں گے اور مسلمانوں کے ساتھ باعتبار دوستی کے آپ ان لوگوں کو قریب تر پائیں گے جنہوں نے یوں کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علماء اور گوشہ نشین زاہد ہیں اور نیز یہ کہ یہ لوگ تکبر نہیں کرتے۔3

ف 3 اے پیغمبر ! یقینا آپ غیر مسلموں میں مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور عداوت کے اعتبار سے یہود کو اور مشرکین کو بہت سخت پائو گے یعنی یہود اور مشرکین مسلمانوں کے ساتھ بڑی دشمنی اور عداوت کا برتائو کر رہے ہیں اور بلاشبہ آپ غیر مسلموں میں سے مسلمانوں کی دوستی کے اعتبار سے قریب تر ان لوگوں کو پائوں گے جنہوں نے یوں کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ نصاریٰ کہنے والوں کا دوستی قریب تر ہونا اور یہود اور مشرکین کا عداوت میں سخت تر ہونا اس کی وجہ یہ ہے کہ الذین قالوا انا نصاری میں بہت سے علماء اور گوشہ نشین زاہد و راہب ہیں اور نیز اس سبب سے کہ یہ لوگ تکبر نہیں کرتے۔ (تیسیر) ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو تین قسم کے طبقوں سے واسطہ پڑا۔ جاہل مشرکین جو صدیوں سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مبارک تعلیم سے نا آشنا تھے اور محض سوسائٹی کے طریقوں کو مذہب سمجھتے تھے والاد ابراہیم ہونے کی وجہ سے سب کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے بنی اسرائیل میں جو پیغمبر ہوئے ان میں سے کسی کے قائل نہ تھے خود پرستی اور شرک میں مبتلا تھے ۔ نیز جاہلانہ رسوم کے پابند بلکہ خوگر تھے دوسرا طبقہ یہود کا تھا جو بظاہر موسیٰ علیہالسلام کی نبوت کا قائل تھا لیکن حضرت مسیح (علیہ السلام) کو مامون سمجھتا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی نبوت کا قائل نہ تھا۔ تیسرا طبقہ نصاریٰ کا تھا جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہالسلام دونوں کو مانتا تھا اگرچہ حضرت عیسیٰ ابن مریم اور ان کی والدہ کو الوہیت میں شریک کرتا تھا۔ پھر بھی ان میں بڑے بڑے عالم اور زاہد راہب تھے اور عام طور سے ان کے قلوب میں نرمی اور شفقت کا مادہ تھا یہ لوگ یہود کی طرح تکبر اور سرکش نہ تھے ان تینوں طبقوں کے سامنے جب نبی کریم ﷺ کی دعوت پیش کی گی اور قرآن کریم سنایا گیا اور خدا کی توحید پیش کی گئیتو مشرکین مکہ اور یہود نے ایذا رسانی اور عداوت و دشمنی کی انتہا کردی اور اس دشمنی کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ یہ لوگ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کے خوگر تھے اور کفرنی النبوت میں مبتلا تھے مشرکین تو نبوت کے قائل ہی نہ تھے اور یہود نے انبیاء سابقین کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کے متعلق سخت توہین آمیز رویہ رکھتے تھے اس لئے ان دونوں طبقوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کی تعلیم کے ساتھ انتہائی معادنانہ برتائو کیا اور حضور اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ چلے جانے کے بعد بھی مشرکین اور یہود کا گٹھ بندھن بنا رہا اور یہ دونوں فریق برابر ریشہ دوانیاں کرتے رہے اور آخر تک ان دونوں کی عداوت ضرب المثل رہی البتہ جب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی یہ دعوت نصاریٰ کے مراکز میں پہنچی تو انہوں نے فی الجملہ اسلام کے سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کی اور قرآن کریم کو سن کر متاثر ہوئے۔ ہر چند کہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کا عروج ان کو بھی ناپسند تھا اور وہ بھی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے دشمن تھے لیکن باوجود اس دشمنی کے نسبتاً کچھ مسلمانوں سے قریب تھے اور چونکہ ان میں تعلیم و تدریس اور زہد و رہبانیت کا سلسلہ تھا اس وجہ سے ان کے اخلاق زیادہ خراب نہ تھے پھر یہ بھی کہ وہ تمام انبیاء کے ساتھ حضرت مسیح کو مانتے تھے اور صرف محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اس لئے وہ کفر میں بھی یہود و مشرکین سے کم درجہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حق بات کو سن کر جلدی متاثر ہوتے تھے عوام تو عوام بعض خواص پر بھی اس صلاحیت کا اثر تھا چناچہ اسی زمانہ میں نجاشی، مقوقس اور ہرقل کے واقعات اور اسلام دوستی مشہور ہوئی اور ان ہی لوگوں کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے ۔ حبشہ کے عیسائی قرآن کریم سن کر روئے اور مسلمان ہوئے اور ستر نو مسلم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور انہوں نے قرآن کریم سن کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا ذکر آگے کی آیتوں میں مذکور ہے۔ دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اس آیت کا تعلق ہر زمانہ کے نصاریٰ سے نہیں جو لوگ اس کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر دور کے نصاریٰ کو اقرب الی المودۃ ثابت کریں وہ قرآنی ذوق اور قرآنی فہم سے محروم ہیں نصاریٰ نے اپنے دور میں جو سلوک مسلمانوں سے کیا ہے وہ بربریت اور ستم گری میں دوسری اقوام سے کسی طر ح بھی کم نہیں ہے اس لئے ان آیات کا تعلق ان نصاریٰ سے ہے جن میں قبول حق کی صلاحیت موجود تھی اور وہ حضرت عیسیٰ کی شریعت کے صحیح پیرو تھے اور انجیل کی پیشین گوئی کے موافق نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کے منتظر تھے اور تثلیث وغیرہ کے عقیدے سے پاک تھے اور جب ان تک قرآن کریم کی آواز پہنچی تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اسی طرح یہود کی حالت ہے کہ ان میں بھی بعض وہ حضرات جو توریت کی صحیح تعلیم پر عمل کرنے والے تھے انہوں نے اسلام کی روشنی سے فائدہ اٹھایا اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی کم تھی دشمنی اور عداوت سے وہ یہود مراد ہیں جو عام طور سے جب جاہ اور حب مال میں مبتلا تھے اور نصاریٰ سے وہ نصاریٰ مراد ہیں جو علم اور زہد کے ساتھ انجیل کے صحیح پیرو تھے اور حق و صداقت کے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے رہی یہ بات کہ یہ کون تھے نجاشی اور اس کے اصحاب تھے یا اہل نجران تھے یا ہرقل اور اس کے اصحاب تھے۔ تو اس کے متعلق ابن جریر نے ایک اچھا فیصلہ کردیا ہے ۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف موجود ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا اور کہیں کے ہوں اس بحث میں ہم نے تفسیر مظہری کی تحقیق کو ترجیح دی ہے اس سلسلے میں حضرت ابوبکر حصاص رازی حنفی نے خوب بات فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں ومن الجھال من یظن ان فی ھذہ الایۃ مدحاً للنصاری و اخبارابانھم خیرمن الیھود ولیس کذلک یعنی جاہلوں میں سے بعض لوگ یوں خیال کرتے ہیں کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف ہے اور اس بات کو بتانا ہے کہ نصاریٰ یہود سے بہتر ہیں حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ انتہی بہرحال ! تواضح اور علم و عمل کی طرف بڑھنا اور نفسانی خواہشات سے روگردانی اور رقت قلب وغیرہ اوصاف قابل تعریف ہیں اگرچہ یہ اوصاف کافر ہی میں ہوں اب آگے ان لوگوں کے اسلام قبول کرنے اور قرآن کریم سن کر رونے اور ان کے ثواب آخرت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:83–86

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور نیز یہ کہ جب یہ لوگ اس کتاب کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوئی ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو ملاحظہ کرتے ہیں کہ وہ آنسوئوں سے بد نکلتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے لہٰذا ہم کو بھی تصدیق کرنیوالوں کے ساتھ لکھ دیجیے

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا جو ہم اللہ پر اور اس حق بات پر جو ہم تک پہونچ چکی ہے ایمان نہ لائیں اور توقع یہ رکھیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر دے گا۔

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اس قول کے صلے میں ایسے باغ عطا کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو یہی صلہ عطا ہوتا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے تو وہی لوگ جہنمی ہیں

اور یہ کہ جب یہ لوگ اس قرآن کو سنتے ہیں جو محمد ﷺ کی طرف بھیجا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو ملاحظہ کرتے ہیں کہ وہ آنسوئوں سے بہہ رہی ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے دین حق کو پہچان لیا اور وہ اسلام سے واقف ہوگئے وہ اس حالت میں متاثر ہو کر یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم مسلمان ہوگئے اور ایمان لے آئے لہٰذا ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجیے اور ان کے ساتھ شامل کر لیجیے جو دین حق کی تصدیق کرنے اور دین حق کی گواہی دینے والے ہیں اور ہمارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس دین حق پر ایمان نہ لائیں جو ہم کو پہنچا ہے اور ہمارے پاس آیا ہے اور امید یہ رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر دے گا اور ہم کو صالحین کے ہمراہ بہشت میں داخل ہونے کی اجازت دیدے گا۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اس قول کے بدلے میں ایسے باغات عطا فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور نکو کار اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ ملا کرتا ہے اور جو لوگ منکر رہے اور کافرانہ روش اختیار کی اور ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے اور جھٹلاتے رہے تو یہی لوگ اہل جہنم ہیں۔ (تیسیر) حضرت عبداللہ بن زبیر کا قول ہے کہ یہ آیتیں نجاشی اور اس کے اصحاب کی شان ہیں نازل ہوئی ہیں کیونکہ جب انہوں نے مہاجرین سے سورة مریم سنی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات معلوم کئے تو وہ بہت روئے اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اعتراف کیا۔ سعید ابن جبیر کا قول یہ ہے کہ ان آیتوں میں اس وفد کی جانب اشارہ ہے جو نجاشی نے چالیس آدمیوں کا حضرت جعفر ؓ کے ہمراہ حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا اور انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن کریم سنا تھا اور وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے تھے۔ بعض مفسرین نے ارکان وفد کی تعداد چالیس سے زیادہ بتائی ہے اور بعض نے اس وفد کو اہل نجران کا وفد کہا ہے۔ (واللہ اعلم) تفیض من الدمع ۔ کا مطلب یہ ہے کہ رقت قلب کے باعث بکثرت رونے والے اہل ایمان کی مناسبت کے باعث آخیر میں منکرین کا انجام بھی بیان فرما دیا ۔ چونکہ اوپر سے احکام شرعیہ کا بیان چلا آتا ہے بیچ میں یہود و نصاریٰ کا ذکر تھا اب پھر احکام کو بیان فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مکہ میں کافروں نے جب مسلمانوں پر ظلم کیا تو حضرت نے اذن دیا کہ اور ملک میں نکل جائو قریب اسی آدمی مسلمان بعضے تنہا بعضے گھر سمیت ملک حبش میں جا رہے وہاں کا بادشاہ خوب منصف تھا پھر مکہ کے کافروں نے اس کو بہکایا کہ اس قوم کو رہنے نہ دو کہ حضرت عیسیٰ کو غلام کہتے ہیں تب بادشاہ نے مسلمانوں کو بولا کر پوچھا اور قرآن کریم پڑھوا کر سنا وہ اور اس کے علماء بہت روئیے اور کہا کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد پیش از قیامت ایک نبی اور آوے گا وہ بیشک یہی نبی ہے وہ بادشاہ خفیہ مسلمان ہوا ان کے حق میں یہ آیتیں ہیں۔ (موضح القرآن) آگے چند احکام کی تفصیل بیا ن فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے ایمان والو جو چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان میں سے لذیذ اور مرغوب طبع چیزوں کو حرام نہ کرلیا کرو اور شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے جو حلال و مرغوب ہو وہ کھائو اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

ف 1 اے ایمان والو ! جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان میں سے لذیذ اور مرغوب طبع چیزوں کو اپنے لئے حرام نہ کرلیا کرو اور مقررہ حدود سے آگے نہ بڑھو بلاشبہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان میں سے جو چیزیں حلال اور طبیعت کو مرغوب ہوں ان کو کھائو اور جس اللہ تعالیٰ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے تم ڈرتے رہو۔ (88)
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہاری ان قسموں پر جو لغو ولا یعنی ہوں تم سے مواخذہ نہیں کرتا لیکن ہاں ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے جن کو تم نے مستحکم کرلیا ہو سو کسی پختہ قسم کے توڑ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا وہ کھانا دینا جو تم اپنے گھر والوں کو دیا کرتے ہو یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنا دینا یا ایک بردہ کو آزاد کرنا پھر جو ان تینوں باتوں میں سے کسی کا بھی مقدور نہ رکھتا ہو تو تین دن کے روزے رکھے یہ حکم مذکور تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم کھا بیٹھو اور اپنی قسموں کی نگہداشت کیا کرو اسی طرح اللہ تمہارے واسطے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر بجا لائو ۔

-89 اللہ تعالیٰ نے تمہاری ان قسموں پر جو لغو دلا یعنی ہوں تم سے مواخذہ نہیں کرتا یعنی ان قسموں پر جو عادتاً منہ سے نکلتی رہتی ہیں کوئی کفارہ واجب نہیں کرتا مگر ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے یعنی کفارہ واجب کرتا ہے جن کو تم نے مستقل کے لئے مضبوط و مستحکم کردیا ہو یعنی قصداً یوں کہا ہو کہ خدا کی قسم میں ایسا کروں گا یا نہیں کروں گا۔ لہٰذا اس منعقدہ قسم کو توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا دینا جیسا معمول کھانا تم اپنے گھر میں گھر والوں کو کھلاتے ہو یا دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کپڑا پہنا دینا یا ایک غلام یا باندی کو آزاد کردینا یعنی تینوں باتوں میں سے جو چاہو وہ کرلو پھر جس شخص کو ان باتوں میں سے کسی ایک کا بھی مقدور نہ ہو اور ایک بھی میسر نہ ہو تو وہ پے در پے تین روز سے رکھ لے یہ حکم مذکور تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا بیٹھو یعنی کسی وجہ سے قسم توڑنی پڑے تو قسم توڑ کر مذکورہ بالا حکم کے مطابق کفارہ ادا کردیا کرو اور دیکھو اپنی قسموں کی نگہداشت کیا کرو اور قسموں کا خیال رکھا کرو اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ کفارے کا حکم بیان کیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے اور احکام بھی صاف طور پر کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا اس نعمت پر شکر بجالائو۔
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! واقعی بات یہ ہے کہ شراب اور جوا اور بتوں کے تھان اور فال کھولنے کے تیر یہ سب ناپاک کام شیطان کے ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو شاید کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔

-90 اے اہل ایمان ! سوائے اس کے نہیں کہ شراب اور جوا اور معبود ان باطلہ کے نشانات یعنی بت اور ان کے تھان وغیرہ اور قرعہ اندازی اور فال لینے کے نیز یہ سب گندی اور گھنائونی چیزیں ہیں جو شیطان کے کاموں میں سے ہیں اور اعمال شیطانی ہیں لہٰذا تم ان ناپاک باتوں میں سے ہر ایک ایک بات سے بچتے رہا کرو تاکہ تم فلاح پائو اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو چاہتا یہی ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے مابین دشمنی اور بغض ڈال دے اور تم کو اللہ کے ذکر سے اور نماز ادا کرنے سے باز رکھے سو تم اب بھی ان باتوں سے باز آئو گے یا نہیں۔

-91 شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تم کو دینی اور دنیاوی نقصان پہنچانے کی غرض سے تمہارے مابین شراب اور جوئے کے ذریعے عداوت اور غض واقع کر دے یعنی باہمی برتائو میں عداوت اور دلوں میں بغض ڈال دے اور تم کو خدا کی یاد اور ذکر الٰہی سے اور نماز کو وقت پر ادا کرنے سے روک دے یعنی دین کو سنوارنے سے باز رکھے۔ پس تم بھی ان ناپاک اور شیطانی کاموں سے باز آئو گے یا نہیں۔
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور تم اللہ کا اور رسول کا حکم مانو اور حکم کی خلاف ورزی سے بچتے رہو پھر اگر تم نے روگردانی کی تو یقین جانو کہ ہمارے رسول کے ذمہتو صرف احکام کو واضح طور پر پہنچا دینا ہے

-92 اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا کہنا مانو اور احکام خدا اور رسول کی خلاف ورزی اور حکم کی مخالفت سے پرہیز کرو پھر اگر تم نے امتشال امر اور حکم کی بجا آوری سے روگردانی کی اور اعراض کیا تو اس بات کو اچھی طرح جان لو اور سمجھ لو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے صرف واضح اور صاف طور پر احکام کا پہونچا دینا ہے۔